درس نمبر۔91 آگے سبق دیکھیے بھئی۔ مفعولُ ما لم یسمَّ فاعلُه، أي مفعولُ فعلٍ أو شبهِ فعلٍ لم یُذکر فاعلُه، وإنما لم یفصلْه عن الفاعلِ ولم یقلْ منه كما فصلَ المبتدأَ حیثُ قالَ: "ومنها المبتدأُ"، لشدةِ اتصالهِ بالفاعلِ حتى سماهُ بعضُ النحاةِ فاعلاً. بائی، گزشتہ سبق میں ہم نے تنازعِ فعلین کا مسئلہ مکمل کیا تھا بھئی۔ تنازعِ فعلین کے اندر بصرہ والے کہتے ہیں کہ ثانی فعل کو عامل بنانا اولیٰ ہے، جبکہ کوفہ والے کہتے ہیں پہلے فعل کو عامل بنانا اولیٰ ہے۔ اور گزشتہ سبق میں کوفہ والوں کی ایک دلیل ذکر کی تھی صاحبِ کافیہ نے اور پھر اس کو رد کیا تھا۔ کوفہ والے اپنے مذہب کے لیے دلیل کے طور پر امرؤالقیس کے شعر کو ذکر کرتے ہیں۔ امرؤالقیس کا شعر ہے: ولو أن ما أسعى لأدنى معيشةٍ كفاني ولم أطلب قليلٌ من المالِ کوفہ والے کہتے ہیں کہ دیکھو امرؤالقیس عربی زبان کا فصیح و بلیغ شاعر ہے بھئی، بلکہ تمام شعراء سے بڑا شاعر اس کو بعضوں نے قرار دیا ہے۔ اور یہاں پر شعر کے اندر كفاني اور لم أطلب دونوں میں تنازع ہے قليلٌ من المالِ کے بارے میں۔ كفاني قليلٌ من المالِ کو رفع دینا چاہتا ہے، اور لم أطلب اس کو نصب دینا چاہتا ہے، اور امرؤالقیس نے كفاني کو عامل بنایا اور قليلٌ من المالِ کو مرفوع پڑھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے فعل کو عامل بنانا اولیٰ ہے۔ تو عربی زبان کے فصیح و بلیغ شاعر نے جب پہلے فعل کو عامل بنانے کو اختیار کیا، معلوم ہوا کہ یہ طریقہ اولیٰ ہے بھئی۔ تو صاحبِ کافیہ نے اس کا جواب دیا تھا کہ امرؤالقیس کا جو شعر ہے، یہ تنازعِ فعلین کے باب سے ہی نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر آپ یہاں تنازعِ فعلین مانیں گے تو معنیٰ ہی فاسد ہو جائے گا۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ كفاني اور لم أطلب دونوں متوجہ ہیں قليلٌ من المالِ کی طرف، دونوں اس میں عمل کرنا چاہتے ہیں، پھر تو شعر کا معنیٰ ہی خراب ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہاں لو آیا، اور لو آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے بوجہِ انتفائے اول کے۔ یعنی ثانی منتفی ہے اس لیے کیونکہ اول منتفی ہے۔ لو جئتني لأكرمتك، اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے، تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا۔ معلوم ہوا میں نے آپ کا اکرام نہیں کیا بھئی۔ اور کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ آپ آئے نہیں۔ تو ثانی منتفی ہے بوجہِ انتفائے اول کے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ یہ لو جو ہے، یہ مثبت کو منفی بنا دیتا ہے اور منفی کو مثبت بنا دیتا ہے۔ تو یہاں پر لو جئتني، جئتني بھی مثبت ہے اس کے ساتھ کوئی حرفِ نفی نہیں، اور لأكرمتك یہ بھی مثبت ہے اس کے ساتھ بھی کوئی حرفِ نفی نہیں، لیکن لو نے دونوں کو منفی کر دیا۔ لو جئتني لأكرمتك، اگر آپ آئے ہوتے، تو میں نے اکرام کیا ہوتا۔ معلوم ہوا آپ آئے بھی نہیں، اور میں نے اکرام بھی نہیں کیا۔ تو لو کس لیے آتا ہے؟ مثبت کو منفی کر دیتا ہے اور منفی کو مثبت کر دیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی لو آیا۔ تو ترجمہ ہو گا: ولو أن ما أسعى لأدنى معيشةٍ، اگر میں کوشش کرتا تھوڑے سے معاش کے لیے، تھوڑی سی روزی کے لیے اگر میں کوشش کرتا، كفاني قليلٌ من المالِ، تو تھوڑا سا رزق میرے لیے کافی ہو جاتا۔ معلوم ہوا میں تھوڑے رزق کے لیے اور تھوڑے مال کے لیے کوشش بھی نہیں کرتا، اور تھوڑا مال میرے لیے کافی بھی نہیں ہے۔ اگر لم أطلب کو بھی اسی قليلٌ من المالِ کی طرف متوجہ مان لیا جائے، تو پھر معنیٰ ہو جائے گا لم أطلب نفی ہے، تو لو نے اس کو بدل دیا مثبت میں، تو معنیٰ ہو جائے گا کہ میں تھوڑے مال کے لیے کوشش کرتا۔ لم أطلب متوجہ ہے کس کی طرف؟ قليلٌ من المالِ۔ تو معنیٰ ہوتا میں تھوڑے مال کے لیے کوشش کرتا۔ تو یہ تو پہلی دونوں باتوں کے منافی ہو گیا۔ پہلے کیا کہا تھا؟ کہ میں تھوڑے مال کے لیے کوشش نہیں کرتا۔ اور اب کہہ رہا ہے ولم أطلب قليلاً من المالِ کہ میں تھوڑا مال طلب کرتا۔ پہلے کہا طلب نہیں کرتا، اب کہہ رہا ہے میں طلب کرتا۔ اور نیز پہلے کہا کہ تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں ہوتا، یہ اس کے بھی منافی ہو گیا کیونکہ جب تھوڑے مال کو طلب کر رہا ہے، معلوم ہوا تھوڑا مال اس کے لیے کافی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ شعر تنازعِ فعلین کے باب سے ہی نہیں ہے ورنہ تو یہ اجتماعِ متنافین لازم آئے گا یہاں پر بھئی۔ تو پھر اس کا مفعول کیا ہے؟ کہتے ہیں اس کا مفعول المجد المؤثل ہے بھئی، اور اس کا پتہ اگلے شعر سے چلتا ہے۔ اگلا شعر کیا تھا؟ ولكنما أسعى لمجدٍ مؤثلٍ، لیکن میں کوشش کرتا ہوں پائیدار عظمت کے لیے، دائمی عظمت کے لیے۔ وقد يدرك المجد المؤثل أمثالي، اور تحقیق دائمی عظمت کو میرے جیسے لوگ حاصل کر لیا کرتے ہیں۔ تو اس سے پتہ چلا کہ یہ کس کے لیے کوشش کرتا ہے؟ دائمی عظمت کے لیے۔ تو یہاں پر بھی لم أطلب کا مفعول محذوف ہے اور وہ کیا ہے؟ المجد المؤثل۔ أي ولم أطلب المجد المؤثلا، اور میں دیرپا اور دائمی عظمت کو طلب نہ کرتا۔ توجہ ہے؟ اب سنو شعر کا ترجمہ: "اور اگر میں کوشش کرتا تھوڑے معاش کے لیے، تو تھوڑا معاش میرے لیے کافی ہو جاتا، اور میں طلب نہ کرتا دیرپا عظمت کو۔" دیکھو اب معنیٰ صحیح ہو گیا۔ معلوم ہوا میں تھوڑے معاش کے لیے کوشش بھی نہیں کرتا، اور تھوڑا معاش میرے لیے کافی بھی نہیں ہے، اور میں دائمی عظمت کو طلب کرتا ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: مفعولُ ما لم یسمَّ فاعلُه أي مفعولُ فعلٍ أو شبهِ فعلٍ لم یُذکر فاعلُه۔ اب آگے صاحبِ کافیہ جو ہیں، وہ مرفوعات میں سے دوسرا مرفوع یعنی مفعول ما لم یسم فاعلہ کو ذکر کر رہے ہیں۔ مفعولُ ما لم یسمَّ فاعلُه، بھئی پہلے متن دیکھ لیجیے۔ دیکھیے بھئی، مفعولُ ما لم یسمَّ فاعلُه، یہ ما جو ہے اس سے مراد یاد رکھیے فعل یا شبہِ فعل ہے۔ مفعولُ ما، اس فعل یا شبہِ فعل کا مفعول، لم یسمَّ فاعلُه، جس کے فاعل کو ذکر نہ کیا گیا ہو۔ جس کے فاعل کو ذکر نہ کیا گیا ہو، بھئی دیکھیے، مثلاً جملہ ہے: ضرب زیدٌ عمراً۔ ضرب فعل، زیدٌ اس کے لیے فاعل، اور عمراً اس کے لیے مفعول۔ اور پھر کبھی کبھار فعل کو بدل دیا جاتا ہے فعلِ مجہول سے، اور فاعل کو حذف کر دیا جاتا ہے، اور مفعول کو اس کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے۔ اور پھر کیسے کہیں گے؟ ضُرب عمرٌو، عمرو کی پٹائی کی گئی۔ عمرو کی پٹائی کی گئی۔ اب یہ ضُرب فعلِ مجہول ہے، اور عمرٌو کی طرف اس کا اسناد ہے اور وہ اس کا مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے۔ تو دیکھو، ضُرب عمرٌو، عمرٌو یہ مفعول ہے، اصل میں کیا ہے؟ اس پر فعل واقع ہے۔ اور یہ مفعول ہے کس فعل کا؟ ضُرب کا۔ اور ضُرب کا فاعل کون؟ ضُرب کا فاعل، بھئی فعلِ مجہول میں فاعل کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ ضرب زیدٌ عمراً، جب فعلِ معروف تھا تو زیدٌ فاعل ذکر تھا۔ اور جب فعلِ مجہول بنایا تو فاعل کو کیا کر لیتے ہیں؟ حذف کر لیتے ہیں۔ تو فعلِ مجہول وہ فعل ہے جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ ضُرب عمرٌو کا کیا معنیٰ؟ عمرو کی پٹائی کی گئی، کس نے پٹائی کی؟ یہ ذکر نہیں ہوتا۔ تو یہ فعلِ مجہول وہ فعل ہے جس کے فاعل کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ فاعل کوئی نہ کوئی تو ہو گا لیکن اس کو ذکر نہیں کیا جاتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے مفعولُ ما لم یسمَّ فاعلُه، مفعول اس فعل یا شبہِ فعل کا جس کے فاعل کو ذکر نہ کیا گیا ہو۔ تو لم یسمَّ کا کیا معنیٰ؟ لم یذکر، جس کے فاعل کو ذکر نہ کیا گیا ہو۔ یہ کس کو کہتے ہیں؟ آگے متن میں دیکھیے۔ کہتے ہیں: کل مفعولٍ حُذف فاعله۔ یہ ہر ایسا مفعول ہے، دیکھو مفعولٍ نکرہ ہے، توجہ ہے؟ نکرہ ہے اور اس نکرہ کے بعد حُذف فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے۔ تو یہاں حُذف اس کے لیے صفت ہے بھئی۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ لاتے ہیں۔ تو حُذف یہ مفعول کی صفت ہے۔ اور آگے وُأقیم، اس کا عطف اسی حُذف پر ہے تو یہ بھی صفت ہے۔ یہ معطوف ہے صفت پر اور معطوف کا وہی حکم ہوتا ہے جو معطوف علیہ کا ہوتا ہے۔ معطوف علیہ حُذف وہ تو صفت ہے مفعول کے لیے، تو أقیم بھی صفت ہے۔ اب ترجمہ سنیے۔ کہتے ہیں: مفعول ما لم یسم فاعلہ جو ہے کل مفعولٍ، ہر ایسا مفعول ہے حُذف فاعله کہ جس کے فاعل کو حذف کر لیا جائے وُأقیم هو مقامه، اور اس مفعول کو اس کا قائم مقام بنا دیا جائے۔ مفعول ما لم یسم فاعلہ کس کو کہتے ہیں؟ ہر وہ مفعول جس کے فاعل کو حذف کر لیا جائے۔ ضرب زیدٌ عمراً، پھر اس سے کیا بنا؟ ضُرب عمرٌو۔ تو دیکھا عمرو وہ مفعول ہے جس کے فاعل کو کیا کر لیا گیا؟ فعلِ مجہول لایا گیا اور اس کے فاعل کو حذف کر لیا گیا۔ تو کہتے ہیں مفعول ما لم یسم فاعلہ جو ہے کل مفعولٍ حُذف فاعله، ہر ایسا مفعول ہے کہ جس کے فاعل کو حذف کر لیا گیا ہو وُأقیم هو مقامه، اور اس مفعول کو اس فاعل کے قائم مقام کر دیا گیا ہو۔ اسی لیے اس کو نائب الفاعل بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ نائب الفاعل۔ اور ہمارے ہاں زیادہ تر نائب الفاعل ہی بولتے ہیں کیونکہ یہ مختصر ہے۔ مفعول ما لم یسم فاعلہ ذرا الفاظ زیادہ ہیں اور نائب الفاعل مختصر ہے بھئی۔ تو بہرحال جمہور کے نزدیک اس کو مفعول ما لم یسم فاعلہ کہتے ہیں۔ اب پھر ترجمہ سنو: مفعولُ ما، مفعول اس فعل یا شبہِ فعل کا، ما سے کیا مراد ہے؟ فعل یا شبہِ فعل۔ مفعول اس فعل یا شبہِ فعل کا لم یسمَّ فاعلُه، جس کے فاعل کو ذکر نہ کیا گیا ہو۔ کہتے ہیں: کل مفعولٍ حُذف فاعله وُأقیم هو مقامه، کہ مفعول ما لم یسم فاعلہ ہر وہ مفعول ہے جس کے فاعل کو حذف کر لیا گیا ہو اور اس مفعول کو اس فاعل کے قائم مقام کر دیا گیا ہو۔ وشرطه، اور شرط اس مفعول ما لم یسم فاعلہ کی، شرط اس کی مفعول ما لم یسم فاعلہ کی شرط یہ ہے، یعنی اس کو فاعل کا قائم مقام بنانے کی شرط یہ ہے کہ أن تغیر صیغة الفعل إلى فُعل أو یُفعل، وہ یہ کہ بدل دیا جائے فعل کا صیغہ فُعل کی طرف یا یُفعل کی طرف۔ کس کی طرف؟ فُعل، دیکھا ضرب سے کیا بنایا تھا ہم نے؟ ضُرب بنایا، اور فاعل زیدٌ کو حذف کیا اور مفعول عمراً کو اب اس ضُرب کا نائب الفاعل بنا دیا، تو کیا بن گیا؟ ضُرب عمرٌو۔ اب دیکھو فعل کا صیغہ بدل دیا جائے کس کی طرف؟ شرط یہ ہے آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مفعول کو فاعل کا قائم مقام کرنا چاہتے ہیں، تو شرط یہ ہے کہ فعل کے صیغے کو فُعل یا یُفعل کی طرف بدل دیا جائے۔ فُعل سے ماضی مجہول مراد ہے، اور یُفعل سے مضارع مجہول مراد ہے۔ یعنی اگر ماضی معروف ہے تو اس کو ماضی مجہول کی طرف بدل دو، اور اگر مضارع معروف ہے تو اس کو مضارع مجہول کی طرف بدل دو۔ تو اس کو مضارع مجہول کی طرف بدل دو۔ تو فُعل سے کیا مراد؟ ماضی مجہول، اور یُفعل سے کیا مراد؟ مضارع مجہول۔ تو ماضی معروف کو بدل دو ماضی مجہول کی طرف اور مضارع معروف کو بدل دو مضارع مجہول کی طرف۔ تو فُعل بول کر ہر ماضی مجہول مراد ہے۔ ورنہ دیکھو فُعل، یہ تو صرف ثلاثی مجرد سے یہ ماضی آتی ہے۔ ضرب سے ضُرب، نصر سے نُصر، منع سے مُنع، سمع سے سُمع۔ لیکن ثلاثی مزید میں چلے جائیں، أکرم کی ماضی مجہول کیا؟ أُکرم، وہ تو فُعل وزن پر نہیں ہے، حالانکہ وہ بھی ماضی مجہول ہے۔ اسی طرح استخرج کی ماضی کیا؟ ماضی مجہول اُستخرج، یہ بھی فُعل وزن پر نہیں ہے۔ اسی طرح دحرج رباعی مجرد جو ہے اس کی ماضی مجہول کیا؟ دُحرج، وہ بھی فُعل وزن پر نہیں، اسی طرح رباعی مزید فیہ بھی ہیں۔ تو دیکھو فُعل وزن تو صرف ثلاثی مجرد میں آتا ہے، تو انہوں نے کیا ذکر کیا کہ شرط کیا ہے؟ کہ فعل کے صیغے کو بدل دیا جائے کس کی طرف؟ فُعل کی طرف۔ تو اس فُعل میں ثلاثی مجرد تو آ گئی، ثلاثی مزید فیہ بھی داخل نہیں اور رباعی مجرد بھی داخل نہیں اور رباعی مزید فیہ بھی داخل نہیں، کیونکہ وہ تو فُعل وزن پر نہیں آتے بھئی۔ تو جواب گزر گیا، میں نے بتلا دیا کہ فُعل سے ماضی مجہول مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ فُعل سے فُعل کا صیغہ نہیں مراد، اگر فُعل کا صیغہ مراد لیں پھر تو یہ صرف ثلاثی مجرد میں ماضی مجہول اس وزن پر آتا ہے باقی تو کسی میں نہیں آتا۔ تو یہ صیغہ نہیں مراد بلکہ فُعل بول کر ماضی مجہول مراد ہے، تو ہر باب میں اس کے مطابق جو ماضی مجہول ہے وہ سب اس کے اندر آ گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ أُکرم بھی اس میں داخل، اُستخرج بھی اس میں داخل، اور دُحرج وغیرہ بھی اس میں داخل کیونکہ یہ سب ماضی مجہول ہیں۔ اسی طرح یُفعل بول کر، یُفعل بول کر یہ صیغہ نہیں مراد بلکہ مضارع مجہول مراد ہے۔ ورنہ یُفعل، یہ مضارع مجہول تو صرف ثلاثی مجرد میں آتا ہے، نہ ثلاثی مزید فیہ میں آتا ہے، نہ رباعی مجرد میں آتا ہے، نہ رباعی مزید فیہ میں آتا ہے۔ تو اشکال ہوتا ہے کہ ان میں تو یہ صیغہ آتا ہی نہیں، تو جواب میں نے ذکر کر دیا کہ یُفعل بول کر یہ یُفعل کا صیغہ نہیں مراد بلکہ مضارع مجہول مراد ہے، تو ہر باب کا جو بھی مضارع مجہول ہے وہ اس کے اندر داخل ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: وشرطه، اور مفعول ما لم یسم فاعلہ کی شرط یہ ہے کہ أن تغیر صیغة الفعل إلى فُعل أو یُفعل، کہ اس فعل کا صیغہ بدل دیا جائے فُعل یا یُفعل کی طرف، یعنی ماضی مجہول یا مضارع مجہول کی طرف۔ ولا یقع المفعول الثاني من باب علمتُ ولا الثالث من باب أعلمتُ۔ ولا یقع، اور واقع نہیں ہوتا المفعول الثاني جو مفعولِ ثانی ہے من باب علمتُ، باب علمتُ سے، ولا الثالث اور نہ جو مفعولِ ثالث ہے من باب أعلمتُ، باب أعلمتُ سے بھئی۔ باب علمتُ کا مفعولِ ثانی اور باب أعلمتُ کا مفعولِ ثالث، یہ فاعل کے مقام پر واقع نہیں ہو سکتے، یعنی ان کو آپ مفعول ما لم یسم فاعلہ نہیں بنا سکتے۔ توجہ ہے؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہے باب أعطیتُ، ایک ہے باب علمتُ۔ باب أعطیتُ یہ بھی دو مفعول چاہتا ہے اور باب علمتُ یہ بھی دو مفعول چاہتا ہے۔ أعطیتُ زیداً درهماً، دیکھو زیداً ہے مفعولِ اول اور درهماً ہے مفعولِ ثانی۔ تو یہ أعطیتُ دو مفعول چاہتا ہے۔ أعطیتُ سے مراد ہر وہ فعل ہے جو دو مفعول چاہتا ہو اور جس کے دونوں مفعول کی ذات الگ الگ ہو۔ دیکھو مفعولِ اول زید ہے اور مفعولِ ثانی درہم ہے، أعطیتُ زیداً درهماً، تو زید کی ذات الگ ہے، درہم کی ذات الگ ہے، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ جبکہ باب علمتُ سے مراد وہ فعل جو دو مفعول چاہتا ہے لیکن دونوں کی ذات ایک ہی ہوتی ہے۔ جیسے علمتُ زیداً عالماً، میں نے یقین کیا زیداً عالماً کہ زید عالم ہے۔ تو دیکھو جو زید ہے وہی عالم بھی ہے۔ کس کے بارے میں میں نے یقین کیا عالم ہونے کا؟ زید ہی کے بارے میں یقین کیا، تو زید بھی وہی اور عالم بھی وہی ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ یہ جو علمتُ ہے، یہ افعالِ قلوب میں سے ہے اور یہ دو مفعول چاہتے ہیں بھئی۔ اور یہ جو دونوں مفعول ہوتے ہیں دراصل حقیقت میں یہ مبتدا خبر تھے۔ اصل میں تھا زیدٌ عالمٌ، زیدٌ تھا مبتدا، عالمٌ اس کی خبر، پھر اس پر علمتُ فعل داخل ہوا اور اس نے دونوں کو اپنا مفعول بنا لیا۔ زید اس کا مفعولِ اول بن گیا اور عالماً اس کے لیے مفعولِ ثانی۔ علمتُ زیداً عالماً، میں نے جان لیا، یعنی میں نے مان لیا، یا میں نے یقین کر لیا کہ زید عالم ہے۔ اب یاد رکھو، اب آپ علمتُ کو فعلِ مجہول لاتے ہیں کیا بناتے ہیں؟ فعل مجہول۔ فعل مجہول کے لیے کیا کرتے ہیں؟ اس کے لیے فاعل کو حذف کرتے ہیں اور مفعول کو اس فاعل کا قائم مقام کرتے ہیں۔ تو دیکھو، اب علمتُ کے آگے دو مفعول آ رہے ہیں اور یہ دونوں مفعول حقیقت میں کیا ہیں؟ مبتدا اور خبر تھے بھئی۔ تو ان میں سے پہلا مفعول مسند الیہ ہے اور ثانی کیا ہے؟ مسند ہے۔ اب آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ علمتُ کے مفعولِ ثانی کو فاعل کا قائم مقام بنانا چاہتے ہیں یعنی اس کو مفعول مالا یسمیٰ فاعلہُ بنانا چاہتے ہیں، کہتے ہیں یہ جائز نہیں۔ آپ علمتُ کے مفعولِ ثانی کو مفعول مالا یسمیٰ فاعلہُ نہیں بنا سکتے یعنی اس کو فاعل کا نائب نہیں بنا سکتے۔ بھئی کیوں، کیا وجہ؟ وجہ یہ کہ دیکھو، یہ جو مفعولِ ثانی ہے یہ کیا ہے؟ مسند ہے۔ میں نے بتایا نا کہ علمتُ زیداً عالماً اصل میں کیا تھا؟ زیدٌ عالمٌ، زیدٌ تھا مبتدا اور عالمٌ ہے اس کی خبر، تو یہ زیدٌ مسند الیہ اور عالمٌ مسند ہے۔ پھر اس پر علمتُ داخل ہوا تو کیا بن گیا کلام؟ علمتُ زیداً عالماً، تو یہ ابھی بھی آپس میں مسند الیہ اور مسند کے درجے میں ہیں۔ ہیں تو مفعولِ اول اور مفعولِ ثانی لیکن آپس میں ابھی بھی ان کا اسناد ہو رہا ہے بھئی۔ عالماً کا اسناد ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ میں نے جان لیا، کیا جانا میں نے؟ کہ زید عالم ہے، دیکھا عالم ہونے کی نسبت ابھی بھی زید کی طرف ہو رہی ہے۔ میں نے جان لیا کہ زید عالم ہے، تو معلوم ہوا یہ عالماً مسند بہِ ہے۔ کیا ہے؟ زید ہے مسند الیہ اور عالماً ہے مسند بہِ اور اب آپ اس کو نائب الفاعل بنانا چاہتے ہیں یعنی فاعل کے قائم مقام کر کے اس کو مفعول مالا یسمیٰ فاعلہُ بنانا چاہتے ہیں اور مفعول مالا یسمیٰ فاعلہُ وہ تو مسند الیہ ہوتا ہے۔ وہ تو پہلے مسند الیہ کیا تھا؟ فاعل، پھر اس فاعل کو حذف کر دیا اور فعل کو مجہول بنا دیا، پھر اس مفعول کو کیا بنا دیا؟ نائب فاعل، تو وہ مسند الیہ ہے۔ تو مفعول مالا یسمیٰ فاعلہُ تو مسند الیہ ہوتا ہے اور آپ اس عالماً کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ نائب فاعل بنانا چاہتے ہیں تو پھر تو یہ مسند الیہ بن جائے گا اور اس وقت یہ کیا ہے؟ مسند بہِ ہے، تو ایک ہی لفظ کا مسند اور مسند الیہ ہونا لازم آئے گا اور یہ جائز نہیں کہ ایک ہی لفظ کیا ہو؟ مسند بھی ہو اور مسند الیہ بھی ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ولا یقع المفعول الثاني من باب علمتُ اور واقع نہیں ہوتا مفعولِ ثانی بابِ علمتُ سے یعنی وہ فاعل کی جگہ واقع نہیں ہو سکتا۔ ولا الثالث من باب اعلمتُ اور نہ ہی تیسرا مفعول جو ہے وہ نائب الفاعل بن سکتا ہے بابِ اعلمتُ سے۔ بابِ اعلمتُ سے۔ بابِ اعلمتُ، بھئی وہی علمتُ کو لے گئے بابِ افعال میں۔ یاد رکھو، یاد رکھو کسی فعل کو متعدی بنانا ہو تو ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کو بابِ افعال میں لے جاتے ہیں، ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کو با کے ذریعے متعدی کرتے ہیں۔ توجہ ہے؟ آپ فعلِ لازم کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ متعدی۔ فعلِ لازم وہ ہے جو صرف فاعل پر بات جس میں پوری ہو جاتی ہے، جس کے لیے مفعول نہیں آتا لیکن آپ اس کے لیے مفعول لانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کو بابِ افعال میں لے جائیں یا اس کو با کے ذریعے متعدی کر دیں۔ جیسے ذہبتُ، ذہبتُ کا معنی میں گیا۔ میں چلا گیا، تو دیکھو ذہبتُ فعلِ لازم ہے، اس کے لیے مفعول نہیں چاہیے لیکن آپ اس کے لیے مفعول لانا چاہتے ہیں تو ایک طریقہ یہ کہ اس کو بابِ افعال میں لے جاؤ۔ ازہبتُ، میں لے گیا، بھئی کس کو لے گئے؟ آگے مفعول بھی چاہیے، تو ازہبتُ زیداً، میں زید کو لے گیا۔ یا با کے ذریعے متعدی کر دیں، ذہبتُ بزیدٍ۔ اسی ذہبتُ کے ساتھ کیا لے آئیں؟ با جارہ لے آئیں بھئی، ذہبتُ بزیدٍ اس کا معنی بھی یہی ہے کہ میں زید کو لے گیا۔ توجہ ہے؟ تو کسی فعل کو متعدی بنانے کے کتنے طریقے ہیں؟ دو۔ ایک طریقہ کیا؟ کہ اس کو بابِ افعال میں لے جاؤ، دوسرا طریقہ کیا؟ کہ اس کو با کے ذریعے متعدی کر دو اور پھر یاد رکھو، جب آپ فعلِ لازم کو لے کر جاتے ہیں بابِ افعال میں، توجہ ہے؟ فعلِ لازم کو جب آپ فعل بابِ افعال میں لے کر جاتے ہیں تو پہلے وہ فعلِ لازم تھا، اب بابِ افعال میں آکر وہ کیا بن گیا؟ فعلِ متعدی، اب وہ ایک مفعول کا تقاضا کرے گا اور اگر فعل پہلے سے ہی متعدی تھا، ایک مفعول کا وہ پہلے ہی تقاضا کر رہا تھا، آپ اس کو بابِ افعال میں لے جائیں تو اب وہ دو مفعولوں کا تقاضا کرے گا۔ اگر فعل پہلے ہی متعدی تھا، مثلاً رأیتُ زیداً، میں نے کس کو دیکھا؟ زید کو دیکھا، تو رأیتُ دیکھا، یہ رأیٰ یرىٰ جو ہے آپ جانتے ہیں اس کا معنی ہے آنکھوں سے دیکھنا اور یہ ایک مفعول چاہتا ہے۔ میں نے دیکھا، بھئی کس چیز کو دیکھا؟ تو آگے ایک مفعول چاہیے، رأیتُ زیداً یا رأیتُ عمراً یا رأیتُ بکراً، کوئی ایک مفعول چاہیے۔ تو یہ ایک مفعول چاہتا ہے، رأیٰ یرىٰ۔ اب آپ اس کو بابِ افعال میں لے گئے۔ أرایٰ یُری، اب یہ دو مفعول چاہے گا بھئی۔ أریتُ زیداً عمراً، أریتُ کا معنی میں نے دکھایا۔ پہلے رأیتُ کا معنی تھا میں نے دیکھا، اب أریتُ کا معنی میں نے دکھایا۔ أریتُ زیداً، میں نے زید کو دکھایا، بھئی کیا دکھایا؟ آگے عمراً مفعولِ ثانی بھی چاہیے۔ أریتُ زیداً عمراً، میں نے زید کو، میں نے زید کو عمرو دکھایا کہ وہ عمرو کھڑا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھو، وہ فعل جو ایک مفعول کی طرف متعدی ہو جب اس کو بابِ افعال میں لے جاتے ہیں تو پھر وہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر فعل دو مفعولوں کی طرف متعدی تھا اور اس کو آپ بابِ افعال میں لے جائیں تو پھر وہ تین مفعولوں کی طرف متعدی ہو جائے گا جیسے علمتُ۔ علمتُ زیداً عالماً، علمتُ کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو۔ اس کو بابِ افعال میں لے گئے، اعلمتُ، تو اب یہ تین مفعول چاہے گا۔ اعلمتُ عمراً زیداً عالماً، اعلمتُ عمراً، میں نے عمرو کو یہ بتلایا، یہ یقین دلایا، کیا یقین دلایا؟ زیداً عالماً، کہ زید عالم ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ بابِ علمتُ کو بابِ اعلمتُ میں لے گئے تو پہلے دو مفعول چاہتا تھا اب کتنے چاہتا ہے؟ تین مفعول۔ پھر اس میں یاد رکھنا کہ بابِ علمتُ کے جو دو مفعول تھے، بابِ اعلمتُ میں یہ دوسرے اور تیسرے مفعول کی جگہ چلے گئے اور پہلا مفعول اس میں زائد آ گیا۔ علمتُ زیداً عالماً، توجہ ہے؟ علمتُ کے لیے زیداً کیا ہے؟ مفعولِ اول اور عالماً کیا ہے؟ مفعولِ ثانی، توجہ ہے؟ یہی زیداً عالماً اب میں علمتُ کو بابِ اعلمتُ میں لے جاؤں گا، وہاں بھی اسی طرح یہ زیداً عالماً آئیں گے لیکن ان سے پہلے میں ایک اور مفعول لے آؤں گا۔ تو گویا علمتُ کا جو مفعولِ اول تھا، وہ اعلمتُ کا کون سا مفعول بنا؟ مفعولِ ثانی، اور علمتُ کا جو مفعولِ ثانی تھا، وہ اعلمتُ کا مفعولِ ثالث بن گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مفعولِ اول شروع میں ایک زائد آ گیا۔ پہلے کیا تھا؟ علمتُ زیداً عالماً، میں نے یقین کر لیا کہ زید عالم ہے۔ پھر اعلمتُ عمراً زیداً عالماً، میں نے عمرو کو بتلایا کہ زید عالم ہے۔ تو عمراً یہ مفعولِ اول آ گیا اور زیداً جو مفعولِ اول تھا پہلے اب مفعولِ ثانی بن چکا اور عالماً جو پہلے مفعولِ ثانی تھا اب کیا بن چکا؟ مفعولِ ثالث۔ معلوم ہوا کہ علمتُ کے مفعولِ ثانی جو ہے، اس کا حکم اور اعلمتُ کے مفعولِ ثالث کا حکم ایک ہی ہے۔ وہی مفعولِ ثانی کہاں چلا گیا ہے؟ مفعولِ ثالث کے مقام پر، اور علمتُ کے مفعولِ ثانی کو نائب الفاعل کیوں نہیں بنا سکتے تھے؟ کیونکہ وہ مسند بہِ ہے، اگر آپ اس کو نائب الفاعل بنائیں گے تو وہ مسند الیہ بن جائے گا، تو ایک ہی لفظ ایک ہی وقت میں مسند الیہ بھی ہوگا اور مسند بہِ بھی ہوگا اور یہ درست نہیں۔ یہی علت ہے اعلمتُ کے مفعولِ ثالث میں بھی۔ وہی مفعولِ ثانی اب اعلمتُ میں کہاں چلا گیا؟ مفعولِ ثالث کی جگہ، اور یہ کیا ہے اس وقت؟ مسند بہِ ہے، اگر آپ اس کو کیا بنائیں گے؟ نائب الفاعل بنائیں گے تو یہ کیا بن جائے گا؟ مسند الیہ، تو ایک ہی لفظ ایک ہی وقت میں مسند الیہ بھی ہوگا اور مسند بہِ بھی ہوگا۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں ولا یقع المفعول الثاني من باب علمتُ اور فاعل کے مقام پر واقع نہیں ہو سکتا مفعولِ ثانی بابِ علمتُ سے، ولا الثالث من باب اعلمتُ اور نہ ہی مفعولِ ثالث جو ہے بابِ اعلمتُ سے۔ والمفعول له والمفعول معه کذلك، اور مفعول لہُ اور مفعول معہُ بھی اسی طرح ہیں۔ مفعول لہُ بھئی کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے۔ توجہ ہے؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے اس کو مفعول لہُ کہتے ہیں۔ ضربتُ زیداً تادیباً، ضربتُ زیداً، میں نے زید کی پٹائی کی، تادیباً، ادب سکھانے کے لیے۔ معلوم ہوا اس پٹائی کرنے کا مقصد کیا تھا؟ ادب سکھانا، تو یہ تادیباً ماقبل کا فعل جو ضربتُ ہے، اس کی علت اور اس کا سبب بیان کر رہا ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول لہُ کہتے ہیں۔ تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ مفعول لہُ یہ بھی مفعول مالا یسمیٰ فاعلہُ نہیں بن سکتا یعنی نائب الفاعل نہیں بن سکتا۔ کیوں، کیا وجہ ہے؟ وجہ اچھی طرح سمجھ لو۔ یاد رکھو، عربی زبان میں علت کے لیے لام کو وضع کیا گیا ہے، کسی چیز کی علت بتلانے کے لیے لام استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، جئتُک للقلمِ، جئتُک، میں آپ کے پاس آیا ہوں، للقلمِ، کس لیے؟ قلم کے لیے، یعنی میں قلم لینے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔ تو علت بتلانے کے لیے دیکھو لام استعمال کیا گیا، جئتُک، میں آپ کے پاس آیا ہوں، للقلمِ، کس کی وجہ سے؟ قلم کی وجہ سے یعنی قلم لینے کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عربی زبان میں علت بتلانے کے لیے لام وضع ہے لیکن کبھی کبھار یوں کرتے ہیں کہ اس لام کو حذف کر لیتے ہیں اور پھر اس لفظ پر نصب پڑھ دیتے ہیں۔ لام تو جارّہ تھا، جر دے رہا تھا، اب کلام کو مختصر کرنے کے لیے کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے؟ اس لام کو حذف کرتے ہیں اور اگلے اسم پر نصب پڑھ دیتے ہیں، توجہ ہے؟ اور پھر اس کو مفعول لہُ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مفعول لہُ کہتے ہیں، جیسے ضربتُہُ تادیباً، اصل میں کیا تھا؟ ضربتُہُ للتادیبِ، یہاں اصل میں لام تھا بھئی، توجہ ہے؟ تو اصل علت کے لیے لام وضع ہے، پھر اس لام کو حذف کر لیتے ہیں اور پھر اس لفظ پر نصب پڑھ دیتے ہیں، اس کو مفعول لہُ بنا دیتے ہیں۔ تو ضربتُہُ تادیباً، اصل میں کیا تھا؟ ضربتُہُ للتادیبِ، پھر لام کو حذف کیا گیا اور تادیباً پر نصب پڑھا گیا اور یہ جو تادیباً کا نصب ہے اب یہ نصب ہمیں بتلا رہا ہے کہ یہ مفعول لہُ ہے۔ لام تو چلا گیا، پہلے تو لام بتلا رہا تھا کہ یہ سبب ہے، یہ علت ہے، اب تو لام چلا گیا، اب ہمیں کس چیز سے پتہ چل رہا ہے کہ یہ سبب ہے؟ یہ مفعول لہُ کا نصب۔ ضربتُہُ تادیباً، یہ جو تادیباً پر نصب آ رہا ہے، یہ نصب ہمیں بتلا رہا ہے کہ یہ کہ یہ علت ہے ماقبل والے فعل کی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اس لام کو حذف کرنا اور اس لفظ پر نصب پڑھنا، اس کی کئی شرطیں ہیں بھئی، وہ شرطیں پوری ہوں گی تو پھر آپ کے لیے جائز ہوگا کہ لام کو حذف کر کے اس لفظ پر نصب پڑھیں۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا تھا، جئتُک للقلمِ، میں آپ کے پاس آیا کس کی وجہ سے؟ قلم کی وجہ سے، قلم لینے کے لیے، تو یہاں پر اس قلم کو میں منصوب کرنا چاہتا ہوں لام کو حذف کر کے، تو اس کے لیے شرطیں پوری ہوں گی تو پھر لام کو حذف کر کے آپ نصب پڑھ سکتے ہیں ورنہ نصب نہیں، اور اس کے لیے تین شرطیں ہیں بھئی، تین شرطیں۔ پہلی شرط یہ کہ وہ لفظ مصدر ہونا چاہیے جس پر آپ نصب پڑھنا چاہتے ہیں۔ یعنی جس پر لام داخل ہے، وہ کیا ہونا چاہیے؟ مصدر۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اس کا فاعل اور ماقبل میں جو فعل ہے، دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہونی چاہیے۔ ماقبل میں جو فعل ہے، اس کو کہتے ہیں فعلِ معلل بہِ، کیا کہتے ہیں؟ فعلِ معلل بہِ، یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے اس لیے یہ لفظ بھی یاد رکھو۔ علّل یعلّل تعلیل کا معنی ہوتا ہے علت بتلانا، علت بیان کرنا۔ تو مجھے بتائیے، ضربتُہُ تادیباً، یہ تادیباً کے ذریعے کیا کیا گیا؟ تعلیل کی گئی، کیا کی گئی؟ تعلیل کا کیا معنی؟ علت بیان کرنا۔ تعلیل کے لیے عربی میں کیا وضع ہے؟ لام، لیکن یہاں ضربتُہُ تادیباً، یہ تادیباً یہ کس لیے ہے؟ تعلیل کے لیے یعنی علت بیان کر رہا ہے اور کس کی علت بیان کر رہا ہے؟ ماقبل والے فعل کی، کون سا فعل؟ ضربتُہُ، اس فعل کی یہ علت بیان کر رہا ہے، تو وہ جو ماقبل میں فعل ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں فعلِ معلل بہِ۔ کیا کہتے ہیں؟ فعلِ معلل بہِ۔ دیکھو علّل یعلّل تعلیلاً، کیا معنی؟ علت بیان کرنا، اس میں فاعل کیا آئے گا؟ اس میں فاعل، معلّل، علت بیان کرنے والا، اور اس میں مفعول کیا آئے گا؟ معلّل، تو یہ فعل معلل بہِ ہے یعنی اس کی علت بیان کی گئی ہے آگے مفعول لہُ کے ذریعے، تو یہ فعل کیا کہلاتا ہے؟ معلل بہِ، بات سمجھ میں آ گئی۔ اچھا، بات چل رہی تھی کہ لام کو کبھی حذف کر کے اس لفظ پر نصب پڑھا جاتا ہے، اس کے لیے تین شرطیں ہیں بھئی، پھر ہی آپ لام کو حذف کر کے نصب پڑھ سکیں گے۔ پہلی شرط کیا کہ وہ صیغہ کون سا ہونا چاہیے؟ مصدر کا۔ دوسری شرط یہ کہ یہ جو یہ جو مفعول لہُ ہے اور ماقبل میں جو فعلِ معلل بہِ ہے، دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہونی چاہیے۔ دونوں کو کرنے والی ایک ہی ذات ہونی چاہیے جیسے، جیسے ضربتُہُ تادیباً، میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے، دیکھو پٹائی کرنا یہ بھی متکلم کا فعل ہے اور یہ ادب سکھانا یہ بھی کس کا فعل ہے؟ متکلم کا فعل ہے، وہی ادب سکھانا چاہتا ہے۔ تو دیکھو دونوں کا فاعل ایک ہی ہے۔ تادیباً، یہ ادب بھی کون سکھانا چاہتا ہے؟ متکلم، اور یہ پٹائی بھی کس نے کی ہے؟ متکلم نے، تو دیکھو مفعول لہُ اور فعلِ معلل بہِ دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہے۔ تو پہلی شرط کیا، صیغہ کون سا ہو؟ مصدر۔ دوسری شرط یہ کہ مفعول لہُ اور اور فعلِ معلل بہِ دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہونی چاہیے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ دونوں کا زمانہ ایک ہو۔ دونوں کا زمانہ ایک ہو، دیکھو بھئی، جس زمانے میں ضرب لگ رہی ہے، اسی زمانے میں تادیب بھی ہو رہی ہے، جوں جوں ضرب لگتی جا رہی ہے، اس کی تادیب ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں کا زمانہ الگ نہیں ہے کہ ضرب پہلے ہو، تادیب بعد میں ہو، نہیں نہیں، یہ ضرب کس لیے لگ رہی ہے؟ ادب سکھانے کے لیے، تو جوں جوں ضرب لگتی جا رہی ہے، وہ ادب سیکھتا جا رہا ہے، تو دیکھو دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عربی زبان میں علت کے لیے کیا آتا ہے؟ لام، کبھی اس لام کو حذف کر کے کیا کرتے ہیں؟ اس لفظ پر نصب پڑھ دیتے ہیں اور اس کو پھر مفعول لہُ کہتے ہیں، لیکن اس کے لیے کتنی شرطیں؟ تین شرطیں۔ پہلی شرط کیا؟ کہ وہ صیغہ مصدر کا ہو۔ دوسرا کہ وہ مفعول لہُ اور فعلِ معلل بہِ دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہو، اور تیسری بات یہ کہ دونوں کا زمانہ ایک ہی ہو بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو، جئتُک للقلمِ، میں آپ کے پاس آیا قلم کے لیے۔ یہاں للقلمِ پر لام علت کے لیے داخل کیا گیا ہے، اب اس لام کو حذف کر کے میں قلم پر نصب پڑھنا چاہتا ہوں، تو میں نصب پڑھ سکتا ہوں یا نہیں پڑھ سکتا؟ نہیں پڑھ سکتا کیونکہ قلم، یہ تو مصدر نہیں ہے بھئی، تو یہاں وہ شرطیں پوری نہیں، لہذا یہاں میں نصب نہیں پڑھ سکتا۔ ہاں ضربتُہُ للتادیبِ، میں اس لام کو حذف کر کے تادیباً پڑھنا چاہتا ہوں، تو یہاں میں تادیباً نصب پڑھ سکتا ہوں کیونکہ یہاں تینوں شرطیں پوری ہیں۔ یہ تادیباً یہ مصدر ہے، نیز یہ تادیب اور ماقبل میں ضربتُ دونوں کا فاعل ایک ہی ذات ہے، اور تیسرا دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے۔ بات یہ چل رہی تھی کہ مفعول لہُ کو آپ نائب الفاعل نہیں بنا سکتے، کیوں نہیں بنا سکتے؟ وہ وجہ میں ذکر کرنا چاہتا تھا، وجہ یہ کہ یہ جو مفعول لہُ ہے یہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ علت پر، کس پر؟ علت پر دلالت کرتا ہے اور کس کی وجہ سے دلالت کر رہا ہے؟ اپنے نصب کی وجہ سے، پہلے تو دلالت کس کی وجہ سے تھی؟ لام کی وجہ سے، اب تو لام چلا گیا، اب کس کے ذریعے دلالت ہے؟ نصب کے ذریعے، تو جب آپ اس کو نائب الفاعل بنائیں گے تو نائب الفاعل پر تو رفع آتا ہے، تو اس کا نصب چلا جائے گا، تو اب اس کے مفعول لہُ ہونے کا پتہ نہیں چلے گا۔ وجه سمجھ میں آئی کہ مفعول لہٗ کے مفعول لہٗ ہونے کا پتا ہی کس سے چل رہا تھا؟ نصب سے۔ جب آپ اس کو نائب الفاعل بنائیں گے تو اس پر رفع آ جائے گا اور وہ نصب چلا جائے گا۔ تو اب اس کے علت ہونے کا پتا نہیں چلے گا۔ اس لیے مفعول لہٗ کو نائب الفاعل نہیں بنا سکتے۔ اسی طرح کہتے ہیں: والمفعول معہ کذالک۔ مفعول معہ بھی اسی طرح ہے۔ مفعول معہ بھی اسی طرح ہے۔ مفعول معہ کسے کہتے ہیں بھئی؟ سمجھ لو۔ یاد رکھو، مفعول معہ وہ ہے جو واؤ بمعنی مع کے بعد آئے۔ جو واؤ کے بعد آتا ہے لیکن وہ واؤ مع کے معنی میں ہوتا ہے۔ مثلاً اس کی مثال آپ کو نحو کی کتابوں میں ملے گی: جاء البرد والجُبّاتِ۔ جاء البرد والجُبّاتِ۔ البرد، برد کہتے ہیں سردی کو اور الجُبّات، جبّات جمع ہے جبۃ کی اور یہ یہ قمیص کپڑوں کے اوپر جو چیز پہنی جائے خاص عرب کا لباس ہوتا تھا، اس کو جبہ کہتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں آج کل کوٹ بھئی، کوٹ سمجھ لیں۔ جاء البرد، سردی آئی والجُبّاتِ، ای مع الجُبّاتِ جبوں کے ساتھ۔ سردی کس کے ساتھ آئی؟ جبوں کے ساتھ۔ یعنی لوگوں نے گرم کپڑے پہن لیے سرد تو سردی کے ساتھ گرم کپڑے بھی آ گئے، لوگوں نے گرم کپڑے پہن لیے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو یہ واؤ بمعنی مع کے ہے بھئی۔ واؤ بمعنی مع کے ہے۔ مع کا معنی ساتھ۔ جاء البرد والجُبّاتِ، ای سردی ساتھ جبوں کے۔ دیکھیے، پھر مثال سنیے۔ جاء البرد والجُبّاتِ۔ یہ والجُبّاتِ کیا ہے؟ یہ مفعول معہ ہے، کیا ہے؟ مفعول معہ۔ کسے کہتے ہیں؟ جو واؤ بمعنی مع کے بعد آئے اور یہ مفعول معہ ہے، یہ منصوب ہوتا ہے۔ تو آپ یہ نہ کہیں جاء البرد والجُبّاتِ کہ جبات تو مجرور ہے۔ نہیں بھئی، یہ مجرور نہیں ہے، یہ منصوب ہے۔ یہ مفعول معہ ہے جو واؤ بمعنی مع کے بعد آیا ہے۔ ہاں، یہ جبّات لفظ جمع مؤنث سالم ہے۔ یہ کیا ہے؟ جمع مؤنث سالم اور جمع مؤنث سالم کا نصب آتا ہی کسرہ کے ساتھ ہے۔ تو یہ منصوب ہے اس وقت۔ جاء البرد والجُبّاتِ۔ یہ نحو کی کتابوں میں یہ مثال ذکر کی جاتی ہے، اس لیے کیونکہ اس کا سمجھنا آسان ہے۔ دوسری مثال بنا لیں۔ جاء زید و عمرًا۔ دوسری مثال لے لیں بھئی، دوسری مثال: جاء زید و عمرًا۔ جاء زید و عمرًا۔ یہ عمرًا دیکھو منصوب ہے، یہ مفعول معہ ہے جو واؤ بمعنی مع کے بعد آیا۔ ترجمہ کیجیے، جاء زید و عمرًا۔ آیا زید عمر کے ساتھ۔ آیا زید عمر کے ساتھ۔ یہ واؤ کا ترجمہ مع کے کریں گے یعنی ساتھ۔ بھئی، ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس واؤ کو واؤ عاطفہ بنائیں۔ جاء زید و عمروٌ۔ توجہ ہے؟ بھئی، جاء زید و عمروٌ، ایک یہ جملہ اور ایک جاء زید و عمرًا۔ یہ واؤ کون سا؟ ایک ہے جاء زید و عمروٌ، یہ واؤ کون سا؟ یہ واؤ عاطفہ جب میں نے عمرو پر بھی رفع پڑھا۔ اور جاء زید و عمرًا، یہ کون سا واؤ؟ یہ واؤ بمعنی مع کے اور یہ عمرًا کیا ہے؟ مفعول معہ۔ دونوں میں فرق سمجھ لو۔ توجہ ہے؟ کون سے دو جملے؟ پہلا جملہ کیا؟ جاء زید و عمروٌ اور دوسرا جملہ کیا؟ جاء زید و عمرًا۔ تو ایک میں واؤ عاطفہ، ایک میں واؤ بمعنی مع کے۔ دونوں میں فرق کیا ہے؟ فرق یہ، جاء زید و عمروٌ، کیا ترجمہ؟ زید آیا و عمروٌ اور عمرو آیا۔ یہ واؤ جمع ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ اس نے بتلایا کہ زید کے ساتھ ساتھ عمرو کے لیے بھی مجیئت ثابت ہے۔ زید بھی آیا ہے اور عمرو بھی آیا ہے۔ یعنی آنا زید کے لیے بھی ثابت اور عمرو کے لیے بھی ثابت۔ لیکن اس میں مزید کوئی تفصیل نہیں کہ دونوں اکٹھے آئے یا الگ الگ آئے؟ زید پہلے آیا یا عمرو پہلے آیا؟ کوئی تفصیل نہیں۔ میں نے کیا کہا؟ جاء زید و عمروٌ۔ دیکھو لفظوں میں زید پہلے ہے اور عمرو بعد میں۔ لیکن واقع کے اندر چاہے عمرو پہلے آیا ہو اور زید بعد میں، پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں جاء زید و عمروٌ۔ اور چاہے زید پہلے ہو، عمرو بعد میں ہو، پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں جاء زید و عمروٌ۔ نیز چاہے دونوں اکٹھے آئے ہوں، تب بھی میں کہہ سکتا ہوں جاء زید و عمروٌ۔ اور اگر الگ الگ آئے ہیں تو پھر چاہے ایک کے آنے کے تھوڑی دیر بعد دوسرا آیا یا ایک کے آنے کے کئی سال بعد دوسرا آیا۔ مثلاً زید آیا تھا 10 سال پہلے اور عمرو آج آیا ہے، میں پھر بھی کہہ سکتا ہوں جاء زید و عمروٌ۔ بلکہ میں عمرو کو مقدم بھی کر سکتا ہوں، جاء عمرو و زیدٌ۔ توجہ ہے؟ کیونکہ یہ واؤ عاطفہ ہے۔ یہ صرف اتنا بتلاتا ہے کہ یہ جو ماقبل میں فعل ہے، یہ مابعد کے لیے بھی ثابت ہے۔ جاء زیدٌ، زیدٌ تو جاء کے لیے کیا ہے؟ فاعل اور یہ معطوف علیہ ہے اور واؤ حرف عطف اور عمروٌ اس پر معطوف۔ اس واؤ نے کیا بتایا؟ کہ یہ عمروٌ کا عطف کس پر ہے؟ زید پر ہے اور زید کے لیے جو حکم تھا، وہی حکم اس کے لیے بھی ہے۔ اور زید کے لیے تو مجیئت ثابت تھی، لہٰذا عمرو کے لیے بھی مجیئت ثابت ہے۔ بس، اس نے صرف اتنا بتایا اور اس میں کوئی تفصیل نہیں کہ دونوں اکٹھے آئے تھے یا الگ الگ آئے تھے یا دیکھو لفظوں میں تو زید پہلے ہے اور عمرو بعد میں، لیکن واقع میں ایسا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے واقع میں زید پہلے ہو اور عمرو بعد میں اور ہو سکتا ہے اس کا برعکس ہو، عمرو پہلے آیا ہو اور زید بعد میں آیا ہو، لیکن پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں جاء زید و عمروٌ۔ تو واؤ عاطفہ جب لائیں تو پھر وہ اشتراک تو بتا دیتا ہے کہ دونوں معطوف اور معطوف علیہ آپس میں شریک ہیں اس فعل کے اندر، لیکن تفصیل نہیں بیان کرتا کہ دونوں نے یہ فعل اکٹھا کیا ہے یا الگ کیا ہے اور دونوں نے اگر الگ الگ کیا تو درمیان میں تھوڑا زمانہ تھا یا زیادہ زمانہ تھا، کوئی تفصیل بیان نہیں کرتا یعنی یہ مطلق ہے، یہ تمام صورتوں کو شامل ہے۔ یہ تمام صورتوں کو شامل ہے۔ لیکن جب میں اس واؤ کو بمعنی مع کے بنا دوں، جاء زید و عمرًا۔ یہ عمرًا کا نصب بتلا رہا ہے کہ یہ واؤ عاطفہ نہیں۔ کیونکہ عمرًا سے پہلے کیا ہے؟ زیدٌ اور زیدٌ تو مرفوع ہے۔ تو زید پر اگر واؤ کے ذریعے عطف کیا جائے گا تو آگے عمرو کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ مرفوع۔ لیکن وہاں ہے و عمرًا۔ یہ عمرًا کا نصب بتلا رہا ہے کہ یہ معطوف نہیں ہے بلکہ یہ مفعول معہ ہے جو واؤ بمعنی مع کے بعد آیا ہے۔ اور ترجمہ کیا؟ جاء زید و عمرًا، ترجمہ ہے: جاء زید و عمرًا، آیا زید عمر کے ساتھ۔ معلوم ہوا، دونوں اکٹھے آئے ہیں۔ تو دیکھا؟ جاء زید و عمروٌ، جب میں واؤ کو عاطفہ بناتا تھا، تب یہ فائدہ حاصل نہیں تھا، یہ پتا نہیں چل رہا تھا کہ اکٹھے ہیں یا نہیں۔ لیکن جاء زید و عمرًا جب میں نے کہا، اس سے پتا چل گیا کہ یہ دونوں اکٹھے آئے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس کو مفعول معہ کہتے ہیں، جو کس کے بعد آئے؟ واؤ بمعنی مع کے بعد آئے اور یہ منصوب ہوتا ہے، یہ مفاعیل خمسہ میں سے ہے بھئی۔ اچھا، تو بات یہ چل رہی تھی کہ یہ جو مفعول معہ ہے، اس کو بھی نائب الفاعل نہیں بنا سکتے۔ اس کو یعنی اس کو مفعول ما لم یسم فاعلہ نہیں بنا سکتے۔ وجہ کیا؟ وجہ سمجھ لو۔ وجہ یہ کہ آپ مثلاً جاء زید و عمرًا، آپ و عمرًا کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ نائب الفاعل بنانا چاہتے ہیں۔ تو دو ہی صورتیں ہیں: یا واؤ کے ساتھ اس کو نائب الفاعل بنائیں گے یا واؤ کو ختم کر کے نائب الفاعل بنائیں گے۔ دو ہی صورتیں ہیں نا؟ اگر آپ اس واؤ کے ساتھ نائب الفاعل بنائیں تو پھر نہیں بنا سکتے۔ اس لیے کیونکہ واؤ میں اصل ہے کہ واؤ اصل میں عطف کے لیے آتا ہے۔ توجہ ہے؟ واؤ اصل میں کس لیے ہے؟ عطف کے لیے ہے، لیکن پھر کبھی کبھار بمعنی مع کے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ تو واؤ میں اصل ہے عطف بھئی، اور یاد رکھو عطف جو ہے وہ مغایرت کا تقاضا کرتا ہے۔ دو چیزوں کے درمیان جب واؤ آ جائے تو اس کا مطلب ہے دونوں الگ الگ ہیں۔ جاء زید و عمروٌ، زید اور عمرو کے درمیان کیا آیا؟ واؤ۔ اس واؤ نے بتایا کہ زید اور ذات ہے، عمرو اور ذات ہے۔ اس کے بجائے اگر میں یوں کہوں: جاء ابو زید عمرو۔ جاء ابو زید عمرو، درمیان میں واؤ ہے؟ نہیں، معلوم ہوا یہ ایک ہی ذات ہے۔ ابو زید اس کی کنیت ہے اور عمرو اس کا نام ہے بھئی۔ لیکن درمیان میں واؤ لے آؤ تو یہ واؤ جو عاطفہ ہے، یہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ مغایرت پر کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے غیر ہیں۔ واؤ سے جو ماقبل ہے، وہ ہے معطوف علیہ اور واؤ کے جو مابعد ہے، وہ ہے معطوف۔ تو یہ واؤ عاطفہ مغایرت پر دلالت کرتا ہے، کس پر؟ مغایرت، باب مفاعلہ ہے اور باب مفاعلہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو ایک واؤ کا ماقبل، ایک واؤ کا مابعد۔ واؤ کا ماقبل، واؤ کے مابعد سے غیر ہے اور واؤ کا مابعد، واؤ ماقبل سے غیر ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے غیر ہیں، اس لیے مغایرت لفظ بولتے ہیں یہاں کہ عطف کس کا تقاضا کرتا ہے؟ مغایرت کا کہ معطوف علیہ اور معطوف ایک دوسرے سے غیر ہیں۔ یعنی یوں کہو، واؤ انفصال کا تقاضا کرتا ہے کہ دونوں چیزیں الگ الگ ہیں۔ واؤ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ انفصال یا یوں کہو، واؤ انفصال پر دلالت کرتا ہے۔ واؤ انفصال پر۔ اب بات چل رہی ہے مفعول معہ کی، آپ اس کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ نائب الفاعل بنانا چاہتے ہیں، تو واؤ کے ساتھ بنائیں گے یا واؤ کے بغیر؟ اگر واؤ کے ساتھ نائب الفاعل بنانا چاہتے ہیں، نہیں بنا سکتے، اس لیے کیونکہ واؤ واؤ تو کس پر دلالت کرتا ہے؟ انفصال پر، کس پر؟ انفصال۔ معلوم ہوا، ادھر دیکھیے۔ واؤ کے بعد کیا آیا؟ مفعول معہ ہے۔ آپ اس کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ نائب فاعل۔ اور آپ نے پڑھا ہے فعل معروف ہمیشہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ فاعل کا اور فعل مجہول ہمیشہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ نائب فاعل۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فعل معروف آ جائے اور فاعل نہ ائے۔ اور اسی طرح ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فعل مجہول آ جائے اور نائب فاعل نہ آئے۔ تو فعل آتے ہی اگر معروف ہو تو فاعل کا تقاضا کرتا ہے اور مجہول ہو تو نائب الفاعل کا تقاضا کرتا ہے۔ اور ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ فعل آ جائے اور آگے فاعل یا نائب فاعل نہ آئے۔ تو فاعل یا نائب فاعل کا اتصال فعل کے ساتھ بڑا شدید ہے۔ یہ گویا فعل کے جز کی طرح ہے۔ کس کی طرح ہے؟ تو فاعل یا نائب فاعل فعل کے جز کی طرح ہوا کرتا ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آپ کس کو نائب الفاعل بنانا چاہتے ہیں؟ مفعول معہ کو اور واؤ کے ساتھ بنانا چاہتے ہیں۔ دو ہی صورتیں ہیں نا، یا واؤ کے ساتھ یا واؤ کے بغیر۔ پہلی صورت کہ واؤ کے ساتھ اگر آپ بنانا چاہتے ہیں تو آپ واؤ کے ساتھ اس کو نائب الفاعل بنائیں گے تو واؤ تو کس پر دلالت کرتا ہے؟ انفصال پر اور حالانکہ نائب الفاعل کا تو فعل کے ساتھ اتصال ہوتا ہے، وہ جز کی طرح ہوتا ہے۔ تو واؤ کے ساتھ آپ نہیں بنا سکتے۔ تو واؤ کے ہوتے ہوئے مفعول معہ کی طرف فعل کا اسناد نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو نائب الفاعل بنایا جائے، کیونکہ واؤ انفصال کے لیے آتا ہے۔ وجہ سمجھ میں آئی کہ واؤ کے ساتھ لائیں گے تو واؤ تو کس پر دلالت کرتا ہے؟ انفصال پر اور حالانکہ نائب الفاعل کا تو فعل کے ساتھ اتصال ہوتا ہے، وہ اس کے لیے جز کی طرح ہوتا ہے، لہٰذا واؤ کے ساتھ نائب الفاعل نہیں آ سکتا۔ یا یوں کہیں، واؤ انفصال پر دلالت کرتا ہے، لہٰذا واؤ کی موجودگی میں فعل کا اسناد کیا جائے مفعول معہ کی طرف اور اس کو نائب الفاعل بنایا جائے، یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ آپ واؤ کو ختم کر دیں اور پھر اس لفظ کو جو واؤ کے بعد تھا، وہ جو مفعول معہ تھا، اب آپ اس کو نائب الفاعل بنا دیں۔ لیکن بھئی اس صورت میں تو آپ نے واؤ ہی ختم کر دیا۔ اب کسی کو کیا پتا چلے گا کہ یہ پہلے کیا تھا؟ کہ یہ پہلے مفعول معہ تھا۔ توجہ ہے؟ واؤ تو کو ختم کریں گے تو یہ پتا نہیں چلے گا کہ یہ پہلے کیا تھا؟ مفعول معہ تھا۔ اب تو نائب فاعل بنا دیا آپ نے، لیکن پہلے کیا تھا؟ مفعول معہ تھا، یہ پتا ہی نہیں چلے گا۔ تو معلوم ہوا، مفعول لہٗ اور مفعول معہ، دونوں میں سے کسی کو بھی نائب الفاعل نہیں بنا سکتے۔ مفعول لہٗ کو کیوں نہیں بنا سکتے؟ کیونکہ اس کا نصب فوت ہو جائے گا اور اس نصب سے ہی تو پتا چل رہا تھا یہ ماقبل کی علت ہے۔ اور مفعول معہ کو کیوں نہیں بنا سکتے؟ کیونکہ یہ یا تو واؤ کے ساتھ آپ بنائیں گے یا واؤ کے بغیر۔ اگر واؤ کے ساتھ بنائیں گے تو پھر تو یہ یہ نائب الفاعل نہیں بن سکتا، کیونکہ واؤ تو انفصال پر دلالت کرتا ہے اور نائب الفاعل تو فعل سے منفصل نہیں ہوتا، وہ تو فعل کے لیے جز کی طرح ہوتا ہے۔ اور اگر آپ واؤ کے بغیر اس کو نائب الفاعل بنائیں گے، واؤ کو حذف کر دیں گے تو پھر تو پتا ہی نہیں چلے گا کہ یہ پہلے کیا تھا؟ کہ یہ پہلے مفعول معہ تھا اور اب اس کو کیا بنا دیا گیا ہے؟ نائب الفاعل، تو پتا ہی نہیں چلے گا۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: والمفعول لہٗ والمفعول معہ کذالک۔ اور مفعول لہٗ اور مفعول معہ بھی اسی طرح ہیں۔ یعنی وہ بھی باب علمتُ کے مفعول ثانی اور باب اعلمتُ کے مفعول ثالث کی طرح ہیں یعنی جیسے ان کو نائب الفاعل نہیں بنایا جا سکتا، ان کو بھی نائب الفاعل نہیں بنایا جا سکتا۔ اچھا، یہاں ذرا عبارت دیکھیے بھئی۔ صاحبِ کافیہ نے باب علمتُ کے مفعول ثانی اور باب اعلمتُ کے مفعول ثالث کو الگ ذکر کیا اور مفعول لہٗ اور مفعول معہ کو الگ ذکر کیا۔ کیا جملہ دیکھیے ان کا؟ کہتے ہیں: ولا یقع المفعول الثانی من باب علمتُ ولا الثالث من باب اعلمتُ کہ باب علمتُ کا مفعول ثانی اور باب اعلمتُ کا مفعول ثالث، یہ فاعل کی جگہ واقع نہیں ہو سکتے۔ اور پھر آگے کہا: والمفعول لہٗ والمفعول معہ کذالک۔ اور مفعول لہٗ اور مفعول معہ بھی اسی طرح ہیں۔ وہ بھی اسی طرح ہیں یعنی وہ بھی فاعل کی جگہ واقع نہیں ہو سکتے۔ تو ان دو کو الگ ذکر کیا، ان دو کو الگ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا ساروں کو اکٹھا ذکر کرتے اور یوں کہتے کہ بھئی مفعول ثانی باب علمتُ کا اور مفعول ثالث باب اعلمتُ کا اور مفعول لہٗ اور مفعول معہ، یہ سارے فاعل کی جگہ واقع نہیں ہو سکتے۔ توجہ ہے؟ لیکن صاحبِ کافیہ نے باب علمتُ اور اعلمتُ کے مفعول کو الگ ذکر کیا اور مفعول لہٗ اور مفعول معہ کو الگ جملے میں ذکر کیا۔ اس کی کیا وجہ؟ وجہ یہ، وجہ یہ کہ ان دونوں میں آپس میں فرق ہے بھئی۔ وہ جو باب علمتُ اور اعلمتُ میں، مفعول ثانی اور ثالث، وہ فاعل کی جگہ واقع نہیں ہو سکتا، اس میں جو سبب ہے، وہ معنوی ہے۔ سبب کیا ہے؟ معنوی سبب ہے۔ یوں کہیں، وہاں وہاں مانع جو ہے، وہ معنوی ہے۔ وہاں مانع معنوی سبب ہے۔ ان کو نائب الفاعل نہیں بنا سکتے، کیونکہ یہ مسند بہ ہی ہیں۔ اگر آپ ان کو نائب الفاعل بنائیں گے تو یہ مسند الیہ بھی بن جائیں گے، تو مانع کیا چیز ہے؟ معنوی سبب ہے اور جبکہ یہ جو مفعول لہٗ اور مفعول معہ، ان میں جو مانع ہے، وہ لفظ ہے بھئی۔ وہ کیا ہے؟ یا یوں کہیں مانع لفظی ہے۔ ان میں مانع معنوی تھا اور ان میں مانع لفظی ہے۔ دیکھو، کیا مانع ہے؟ مفعول لہٗ میں کیا چیز مانع ہے؟ کہ اس پر نصب آ رہا ہے۔ وہ نصب مانع ہے، کیونکہ وہ نصب کی وجہ سے ہی تو پتا چل رہا ہے کہ یہ علت ہے۔ تو جب اس کو نائب الفاعل بنائیں گے تو وہ نصب چلا جائے گا۔ تو یہاں مانع کیا ہے؟ لفظی ہے۔ اور اسی طرح مفعول معہ میں بھی مانع جو ہے لفظ ہے، کہ اس کے ساتھ واؤ ہے۔ تو واؤ کے ساتھ بھی نہیں بنا سکتے اور واؤ کے بغیر بھی نہیں بنا سکتے۔ تو دونوں میں فرق سمجھ میں آیا؟ تو اول دو میں مانع معنوی ہے اور دوسرے دو میں مانع لفظی ہے۔ یا یوں کہو کہ اول دو میں علت وہ معنوی ہے اور باقی دو میں علت لفظی ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا۔ جی دیکھیے، اب شرح کے ساتھ اس سارے کو حل کریں۔ کہتے ہیں: مفعول ما لم یسم فاعلہ۔ میں نے اس کا کیا معنی کیا؟ مفعول ما، ما سے کیا مراد ہے؟ فعل یا شبہ فعل۔ اور لم یسم فاعلہ، کیا معنی؟ کہ جس کے فاعل کو ذکر نہ کیا گیا ہو۔ آگے دیکھو صاحب جامع یہی معنی بیان کریں گے، تو کہتے ہیں: مفعول ما لم یسم فاعلہ، ای مفعول فعل او شبہ فعل لم یذکر فاعلہ کہ مفعول فعل کا یا شبہ فعل کا، لم یذکر فاعلہ۔ دیکھو متن میں آیا تھا لم یسم فاعلہ اور شارح جامع کیا فرما رہے ہیں؟ لم یذکر فاعلہ، جس کے فاعل کو ذکر نہ کیا گیا ہو۔ وانما لم یفصلہ عن الفاعل ولم یقل ومنہ کما فصل المبتداء حیث قال ومنہا المبتداء لشدۃ اتصالہ بالفاعل حتی سماہ بعض النحاۃ فاعلا۔ بھئی، دیکھیے۔ جہاں فاعل کی بات شروع کی تھی، صاحب کافیہ نے کہا تھا: ومنہ الفاعل۔ کہ جن سے مرفوع میں سے ایک فاعل ہے۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو، صاحب کافیہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اقسام کے درمیان ومنہ کے ذریعے فصل کرتے ہیں۔ صاحب کافیہ کا طریقہ یہ ہے کہ ایک چیز کی جب مختلف اقسام بیان کرتے ہیں تو وہ ومنہ کے ذریعے فصل کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی لیے جب فاعل کی بات شروع ہوئی تو انہوں نے کہا "ومنہ الفاعل"، "ومنہ الفاعل"۔ اسی طرح جب وہ منصوبات کی بات کرتے ہیں، جب منصوبات کی اقسام گنوانے لگتے ہیں، تو وہاں بھی شروع کس طرح کرتے ہیں؟ "ومنہ المفعول المطلق"۔ منصوبات میں سے ایک کیا ہے؟ مفعول مطلق ہے۔ تو صاحبِ قافیہ کا، توجہ سے سمجھ لو اس بات کو، صاحبِ قافیہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک چیز کی جب اقسام کے درمیان فصل کرتے ہیں، ان کو الگ الگ گنواتے ہیں، تو "ومنہ" لے کر آتے ہیں۔ لیکن یہ جو مرفوعات ہیں، اس کے صرف شروع میں کہا "ومنہ"، آگے بقیہ اقسام کے ساتھ وہ "ومنہ" ذکر نہیں کرتے۔ اسی طرح، توجہ ہے؟ اسی طرح منصوبات کے شروع میں انہوں نے کہا "ومنہ"۔ "ومنہ" سے بتلا دیا کہ آگے میں قسمیں گنوانے لگا ہوں، اور میں نے بتایا تھا صاحبِ قافیہ کے پاس الفاظ نہیں ہوتے، وہ کم سے کم لفظوں میں لمبی سے لمبی بات کرنا چاہتے ہیں۔ تو جب ایک دفعہ "ومنہ" کہہ دیا، آگے باقی قسموں میں وہ "ومنہ" بھی نہیں کہتے۔ کہنا چاہیے، کیونکہ ان کا طریقہ یہ ہے، لیکن باقی قسموں میں وہ "ومنہ" کہتے ہی نہیں ہیں۔ کہتے ہیں بھئی، میں نے ایک دفعہ شروع میں ذکر کر لیا، بس اسی پر اکتفا کرو، آپ خود ہی سمجھتے جائیں۔ مثلاً "ومنہ المفعول المطلق"، منصوبات میں سے ایک کیا ہے؟ مفعول مطلق۔ آگے مفعول بہ آیا، تو وہاں "ومنہ" نہیں کہا۔ آگے مفعول معہ آیا، وہاں "ومنہ" نہیں کہا۔ آگے مفعول لہ آیا، وہاں "ومنہ" نہیں کہا۔ ایک دفعہ شروع میں ذکر کر لیا اور اسی پر اکتفا کر لیا کہ باقی جگہ آپ خود سمجھتے جائیں بھئی۔ میں نے "ومنہ" سے میں نے اشارہ کر دیا، کیا اشارہ کیا؟ کہ میں قسمیں گنوانے لگا ہوں۔ میں کیا کرنے لگا ہوں؟ قسمیں گنوانے لگا ہوں۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو وہ "ومنہ" ذکر کرتے ہیں اور مجرورات میں "ومنہ" ذکر نہیں کیا کیونکہ مجرور کی ایک ہی قسم آئے گی بھئی آگے، تو مرفوعات جب گنوانے لگے وہاں بھی "ومنہ" ذکر کیا، اور منصوبات گنوانے لگے تو وہاں بھی "ومنہ" ایک دفعہ ذکر کیا، آگے ذکر نہیں کیا۔ توجہ ہے؟ تو مرفوعات میں سب سے پہلے فاعل کے لیے کہا "ومنہ الفاعل"۔ آگے آ رہا ہے "مفعول ما لم یسم فاعلہ"۔ یہاں "ومنہ" ذکر نہیں کیا، توجہ ہے؟ البتہ مبتدا اور خبر اس کے بعد آنے والے ہیں، ایک ڈیڑھ صفحے کے بعد مبتدا اور خبر آ رہے ہیں، وہاں وہ کہتے ہیں "ومنہا المبتدا والخبر"، "ومنہا المبتدا والخبر"۔ تو وہاں وہ "ومنہا" لے کر آئے۔ وہاں وہ، دیکھو مرفوعات ذکر کرتے ہیں، صرف پہلے کے لیے "ومنہ" شروع میں لاتے ہیں، بعد والوں کے لیے نہیں لائے کہ آپ خود سمجھتے جائیں۔ منصوبات میں بھی صرف پہلے کے لیے "ومنہ" لائے، بعد والوں کے لیے نہیں لائے کہ آپ خود سمجھتے جائیں۔ لیکن مبتدا اور خبر کے لیے "ومنہا" لے کر آئے۔ توجہ ہے؟ اور یہاں پر یہ دوسرا "مفعول ما لم یسم فاعلہ" آیا، یہاں بھی "ومنہ" ذکر نہیں کیا۔ توجہ ہے؟ تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ مبتدا خبر کے لیے "ومنہا" کہا، اور یہاں "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کے لیے "ومنہ" نہیں کہا۔ توجہ ہے؟ تو آپ کو صاحبِ جامی بتلائیں گے کہ بھئی، یہ جو "مفعول ما لم یسم فاعلہ" ہے، اس کا فاعل کے ساتھ بڑا شدید اتصال ہے۔ حتیٰ کہ بعض علماء نے تو اس کو بھی فاعل ہی کہا ہے، جمہور اس کو "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کہتے ہیں، نائب الفاعل کہتے ہیں، لیکن بعض علماء، بڑے علماء، جیسے علامہ زمخشری ہیں، اسی طرح شیخ عبدالقاہر ہیں جو بلاغت کے امام ہیں، تو علامہ زمخشری بھی اس "مفعول ما لم یسم فاعلہ" اس کو بھی وہ فاعل ہی کہتے ہیں۔ اور شیخ عبدالقاہر بھی اس کو کیا کہتے ہیں؟ فاعل ہی کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں بھئی، یہ فاعل ہے، حقیقتاً یہ فاعل ہے۔ وہ کہتے ہیں "مفعول ما لم یسم فاعلہ" یہ بھی فاعل ہی ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ یہ فعلِ مجہول کا فاعل ہے اور وہ جو دوسرا ہے وہ فعلِ معروف کا فاعل ہوتا ہے۔ تو دونوں فاعل ہیں، فرق صرف فعلِ معروف اور فعلِ مجہول کا ہے۔ دونوں فاعل ہیں، دونوں کے احکام بالکل ایک جیسے ہیں، جیسے آپ نے پڑھا ہے کہ فعل کے لیے ہمیشہ فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے۔ فعلِ معروف کے لیے فاعل چاہیے، تو فعلِ مجہول کے لیے نائب فاعل۔ اور فاعل یا نائب فاعل ایک ہی آ سکتا ہے، اور فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی آ سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی آ سکتا ہے، لیکن آئے گا ایک ہی، اگر ضمیر آ گئی تو اسمِ ظاہر نہیں آ سکتا، اسمِ ظاہر آئے تو ضمیر نہیں آ سکتی، دیکھا؟ تو یہ سارے احکام دونوں کے بالکل ایک جیسے ہیں۔ جو حکم فاعل کا، وہی نائب الفاعل کا۔ تو وہ کہتے ہیں یہ حقیقتاً فاعل ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کا فعل معروف ہے اور ایک کا فعل مجہول ہے، جبکہ جمہور کے نزدیک یہ حقیقتاً فاعل نہیں، یہ حکماً فاعل ہے۔ یعنی فاعل والا حکم ہم نے اس کو دے دیا، فاعل کو حذف کیا اور اس کو اس کا قائم مقام بنا دیا ہے، اس لیے فاعل والا حکم دیا ورنہ دونوں الگ الگ ہیں۔ ایک کے ساتھ فعل قائم ہے اور دوسرے پر فعل واقع ہے بھئی، دونوں الگ الگ ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا بعض علماء نے "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کو بھی فاعل ہی قرار دیا ہے، تو صاحبِ قافیہ نے مبتدا خبر میں تو "ومنہا" کہا، "ومنہا" کہا، لیکن "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کے ساتھ "ومنہ" بھی ذکر نہیں کیا۔ کیوں نہیں ذکر کیا؟ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ فاعل اور "مفعول ما لم یسم فاعلہ" میں بڑا اتصال ہے۔ اگر "ومنہ" لے آتے، "ومنہ" تو انفصال پہ دلالت کرتا، لیکن ان دونوں میں تو کیا ہے؟ اتصال ہے، شدید اتصال ہے، حتیٰ کہ بعض علماء نے اس "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کو بھی کیا قرار دیا ہے؟ فاعل ہی قرار دیا ہے۔ اس لیے وہ "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کے ساتھ "ومنہ" نہیں لائے۔ اور آگے عادت ان کی یہی ہے کہ وہ "ومنہ" نہیں لاتے، لیکن آگے مبتدا خبر کے لیے باقاعدہ وہ "ومنہا" لے کر آئے بھئی، تاکہ کسی کو کہیں یہ شبہ نہ پڑے کہ یہ مبتدا اور خبر بھی فاعل کی قبیل سے ہیں۔ جس طرح "مفعول ما لم یسم فاعلہ" وہ فاعل کی قبیل سے تھا، اسی طرح کسی کو یہ شبہ نہ پڑے کہ مبتدا اور خبر بھی فاعل کی قبیل سے ہیں، تو وہاں اس لیے باقاعدہ وہ "ومنہا" لے کر آئے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ صاحبِ قافیہ کی عادت کیا ہے، وہ فصل کس کے ذریعے کرتے ہیں؟ "ومنہ" کے ذریعے اقسام کو ایک دوسرے سے الگ کرتے ہیں۔ اور یہاں پر جب اقسام وہ ذکر کرتے ہیں تو بس شروع میں ایک دفعہ "ومنہ" کہہ دیتے ہیں، باقی پڑھنے والے کے حوالے کر دیتے ہیں کہ وہ خود ہی سمجھتا جائے گا۔ "ومنہ" سے اتنا پتہ چل گیا اس کو کہ آگے قسمیں ذکر ہونے لگی ہیں، تو اب ہر قسم کے آگے وہ خود ہی "ومنہ" نکالتا جائے بھئی۔ اور پھر یہاں بالخصوص "مفعول ما لم یسم فاعلہ" اس کا تو شدید اتصال ہے کس کے ساتھ؟ فاعل کے ساتھ، اس لیے یہاں "ومنہ" نہیں لائے، اور آگے پھر مبتدا خبر کے لیے لے کر آئے تاکہ کہیں کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئے کہ جیسے "مفعول ما لم یسم فاعلہ" وہ فاعل کی قبیل سے ہے، شاید یہ مبتدا اور خبر بھی کس قبیل سے ہیں؟ فاعل کی قبیل سے، تو وہاں بالخصوص وہ "ومنہا" لے کر آئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں "وانما لم یفصلہ عن الفاعل"، اور ماتن یعنی صاحبِ قافیہ نے اس "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کو جدا نہیں کیا "عن الفاعل" فاعل سے "ولم یقل" اور یہ نہیں کہا "ومنہ"، یہ نہیں کہا "کما فصل المبتدا" جیسے کہ صاحبِ قافیہ نے مبتدا کو جدا کیا ہے "حیث قال" اس طور پر کہ انہوں نے فرمایا ہے "ومنہا المبتدا"۔ کیوں نہیں جدا کیا فاعل سے "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کو؟ کہتے ہیں "لشدۃ اتصالہ بالفاعل" اس "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کے شدید اتصال کی وجہ سے "بالفاعل" فاعل کے ساتھ، کہ "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کا شدید اتصال ہے فاعل کے ساتھ "حتی سماہ بعض النحاۃ فاعلا" یہاں تک کہ بعض نحوی علماء نے اس کا نام بھی فاعل رکھا ہے۔ وہ "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کو بھی کیا کہتے ہیں؟ فاعل کہتے ہیں کہ یہ بھی فاعل ہے بھئی۔ "کل مفعول حذف فاعلہ"، ابھی اس کی تعریف شروع ہو گئی۔ "کل مفعول حذف فاعلہ" ہر ایسا مفعول جس کے فاعل کو حذف کر لیا جائے۔ جس کے "فاعلہ" کی "ہ" ضمیر کس کو راجع؟ "فاعلہ" آگے صاحبِ جامی بتلا رہے ہیں "ای فاعل ذالک المفعول"، "فاعلہ" کی "ہ" ضمیر مفعول کو راجع، توجہ ہے؟ پھر سنو ترجمہ: "کل مفعول حذف فاعلہ" ہر ایسا مفعول کہ حذف کر لیا جائے "فاعلہ" اس مفعول کے فاعل کو، اس مفعول کے فاعل کو حذف کر لیا جائے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ فاعل تو فعل کا ہوا کرتا ہے، مفعول کا تو فاعل نہیں ہوتا۔ توجہ ہے؟ "ضرب زید عمراً"، "ضرب" فعل، "زید" فاعل، کس کے لیے فاعل؟ "ضرب" کے لیے فاعل یا "عمراً" کے لیے فاعل؟ "ضرب" فعل کے لیے فاعل، بھئی فاعل کسے کہتے ہیں؟ جس کو فعل رفع دیتا ہے، تو فاعل فعل کا ہوا کرتا ہے، مفعول کا نہیں ہوتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پھر یہاں اس کا کیا معنی "حذف فاعلہ"؟ اس مفعول کے فاعل کو حذف کر لیا جائے، حالانکہ مفعول کا تو فاعل نہیں ہوتا، فاعل تو فعل کا ہوتا ہے۔ تو آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی دونوں میں تعلق ہے۔ فاعل جس فعل کے لیے ہے، فاعل کا جس فعل سے تعلق ہے، مفعول کا بھی اسی فعل سے تعلق ہے، تو دونوں میں تعلق آ گیا۔ دونوں کا تعلق ایک ہی فعل سے ہے، اس اعتبار سے فاعل کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ "فاعلہ" کیا معنی؟ مفعول کا فاعل۔ "غلام زید" کیا معنی؟ زید کا غلام، معلوم ہوا غلام کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ زید کی طرف کر دی، تو یہاں بھی "فاعلہ" ای "فاعل المفعول" یعنی فاعل کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ مفعول کی طرف، حالانکہ مفعول کا تو فاعل نہیں ہوتا، فاعل تو فعل کا ہوتا ہے، تو کہتے ہیں بھئی دونوں کا تعلق ایک ہی فعل سے ہے۔ دونوں کا تعلق جب ایک ہی فعل سے دونوں کا تعلق ہے تو دونوں میں آپس میں تعلق آ گیا، اس تعلق کی وجہ سے اضافت کر دی۔ اس تعلق کی وجہ سے اضافت کر دی کہ دونوں میں تعلق تو ہے، دونوں ایک ہی فعل کے لیے فاعل یا مفعول ہیں، تو دونوں میں تعلق ہے تو اس اعتبار سے نسبت کر دی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں "ای فاعل ذالک المفعول" یعنی اس مفعول کا فاعل "وانما اضیف الی المفعول" کہتے ہیں فاعل کی نسبت کی گئی، اس کی اضافت کر دی گئی "الی المفعول" مفعول کی طرف "لملابسۃ کونہ فاعلا" اس کے فاعل ہونے کے تعلق کی وجہ سے، ملابست کا معنی تعلق۔ ملابست کا کیا معنی؟ تعلق۔ "لملابسۃ کونہ فاعلا" اس کے فاعل ہونے کے تعلق کی وجہ سے کہ اس کے فاعل ہونے کا تعلق ہے، بھئی کس چیز کے ساتھ تعلق ہے؟ "لفعل" اس فعل کے ساتھ "متعلق بہ" جس کا تعلق مفعول سے ہے۔ فاعل اس فعل کے لیے فاعل ہے جس کا تعلق کس سے ہے؟ مفعول سے ہے، جس فعل کا تعلق کس سے ہے؟ مفعول سے ہے، یعنی دونوں کا تعلق ایک ہی فعل سے ہے، تو دونوں میں تعلق آ گیا۔ یاد رکھو، فاعل کی طرف فعل کا جو ہے، اس کو کہتے ہیں فعل کا فاعل کی طرف اسناد ہے۔ اس فاعل کے ساتھ فعل قائم ہے، توجہ ہے؟ اور یہ جو مفعول ہے اس کے لیے تعلق کا لفظ بولتے ہیں کہ یہ مفعول فعل کے ساتھ متعلق ہے یا یہ فعل اس مفعول کے ساتھ متعلق ہے۔ تو اسی لیے کہا "لفعل متعلق بہ" وہ فعل "متعلق بہ" جو اس مفعول کے ساتھ متعلق ہے، جو اس مفعول کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ توجہ ہے؟ کیا بات ہوئی؟ فاعل کی نسبت مفعول کی طرف کیوں کی؟ حالانکہ مفعول کا تو فاعل نہیں ہوتا، فعل کا فاعل ہوتا ہے۔ تو کیا جواب؟ کہ دونوں کا تعلق ایک ہی فعل سے ہے۔ جب دونوں کا تعلق ایک فعل سے ہے تو دونوں کا آپس میں بھی کیا آ گیا؟ تعلق آ گیا یا نہیں آ گیا؟ پھر سنو ترجمہ: کہتے ہیں "وانما اضیف الی المفعول" فاعل کی نسبت کی گئی مفعول کی طرف "لملابسۃ کونہ فاعلا" اس وجہ سے کہ اس کے فاعل ہونے کا تعلق ہے "لفعل" کس کے ساتھ؟ اس فعل کے ساتھ "متعلق بہ" جو اس مفعول کے ساتھ متعلق ہے، یعنی جس کے لیے مفعول آ رہا ہے، یہ بھی اسی فعل کا فاعل ہے، تو دونوں کا آپس میں تعلق ہے بھئی۔ "واقیم ہو" "ای المفعول" یہ ضمیر کا مرجع بتلا دیا۔ "واقیم ہو" "ای المفعول مقامہ" اور اس مفعول کو اس فاعل کا قائم مقام بنا دیا جائے۔ متن کو متن سے جوڑیں، "مفعول ما لم یسم فاعلہ" ہر ایسا مفعول ہے جس کے فاعل کو حذف کر لیا جائے "واقیم ہو مقامہ" اور اس مفعول کو اس فاعل کے قائم مقام کر دیا جائے۔ تو "اقیم ہو"، "اقیم" کے بعد "ہو" ضمیر لائے، یہ "ہو" ضمیر کیا ہے؟ یاد رکھو، یہ "اقیم" کے اندر جو "ہو" ضمیر ہے، یہ اس کی تاکید ہے۔ آپ نے پڑھا ہے، ایک ہی لفظ کو جب دوبارہ لایا جائے تو وہ اس کے لیے کیا کہلاتا ہے؟ تاکید، "جاءنی زید زید"، یہ زیدِ ثانی اول کے لیے تاکید ہے۔ تو "اقیم" کے اندر "ہو" ضمیر، آگے ایک اور "ہو" ضمیر لائے اور یہ اس کے لیے تاکید ہے۔ وہ "اقیم" کے اندر "ہو" ضمیر وہ ہے مؤکد، وہ ہے فاعل، اور یہ "ہو" ضمیر اس کی تاکید ہے۔ بھئی یہ تاکید کیوں لائے، مقصد کیا ہے اس کے لانے کا؟ تو یاد رکھو، اگر یہ "ہو" نہ لاتے، یہ "ہو" نہ لاتے، تو شبہ ہوتا کہ شاید یہ آگے جو "مقامہ" آ رہا ہے، یہی اس کا نائب الفاعل ہے، "واقیم مقامہ"۔ یہ "اقیم مقامہ"، یہ "مقامہ" کیا ہے؟ مقام، "مقامہ" ظرف ہے نا، ظرف ہے، مفعول فیہ ہے۔ توجہ ہے؟ اور مفعول فیہ بھی نائب الفاعل بن سکتا ہے۔ ابھی آپ نے پڑھا، بابِ علمت کا مفعولِ ثانی اور بابِ اعلمت کا مفعولِ ثالث، یہ نائب الفاعل نہیں بن سکتے، اسی طرح مفعول لہ بھی نہیں بن سکتا، اور مفعول معہ بھی نہیں بن سکتا، باقی مفعول تو بن سکتے ہیں۔ تو یہ "مقامہ" بھی کیا ہے؟ مفعول فیہ ہے، اور معلوم ہوا مفعول فیہ بھی نائب الفاعل بن سکتا ہے، اور "اقیم" فعلِ مجہول آیا ہے یا نہیں؟ تو یہ اس کے لیے نائب الفاعل بن سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو اگر یہ "ہو" نہ لاتے تو پڑھنے والا سمجھتا شاید یہ "مقامہ" یہ اس کا نائب الفاعل ہے۔ تو آگے صاحبِ جامی نے "ہو" ضمیر تاکید ذکر کر کے اشارہ کر دیا کہ "اقیم" کے اندر "ہو" ضمیر موجود ہے، وہ نائب الفاعل ہے اور یہ "ہو" اس کی تاکید ہے بھئی، تو وہ نائب الفاعل ہے، "مقامہ" نائب الفاعل نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں "واقیم ہو" "ای المفعول مقامہ" اور قائم کر دیا جائے اس مفعول کو "مقامہ" "ای مقام الفاعل" اس فاعل کے مقام پر۔ "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کسے کہتے ہیں؟ ہر وہ مفعول جس کے فاعل کو حذف کر لیا جائے اور اس مفعول کو اس فاعل کا قائم مقام بنا دیا جائے، تو بھئی اس کا فاعل اس کا قائم مقام کیسے ہو سکتا ہے؟ فاعل ہے فعل کو کرنے والا اور مفعول پر فعل واقع ہوا ہے، تو یہ اس کی قائم مقام کیسے ہو سکتا ہے؟ تو بتلا رہے ہیں بھئی "فی اسناد الفعل او شبہہ الیہ" کہ فاعل کے قائم مقام کرنے کا معنی یہ ہے کہ یہ اس کا قائم مقام ہو گا "فی اسناد الفعل او شبہہ الیہ" کہ فعل یا شبہِ فعل کا اس کی طرف اسناد کر دیا جائے گا۔ قائم مقام ہونے کا کیا معنی؟ ہاں، کہ یعنی کہ پہلے فعل یا شبہِ فعل کا اسناد فاعل کی طرف تھا، اب اسناد کس کی طرف کر دیا جائے گا؟ مفعول کی طرف، یہ معنی ہے قائم مقام کرنے کا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں "واقیم ہو ای المفعول مقامہ" اور اس مفعول کو اس فاعل کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے "فی اسناد الفعل او شبہہ الیہ" فعل یا شبہِ فعل کا اس کی طرف اسناد کرنے میں، یعنی اس میں اس کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے۔ "وشرطہ" "ای شرط مفعول ما لم یسم فاعلہ" اور مفعول ما لم یسم فاعلہ کی شرط جو ہے، بھئی کس چیز کی شرط؟ "مفعول ما لم یسم فاعلہ" کی شرط، کس چیز کی شرط؟ آپ کو بتلائیں گے صاحبِ جامی، یعنی فاعل کے قائم مقام کرنے کی شرط۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مفعول کو فاعل کا قائم مقام کرنا چاہتے ہیں تو اس کی شرط کیا ہے، وہ ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں "وشرطہ ای شرط مفعول ما لم یسم فاعلہ" مفعول ما لم یسم فاعلہ کی شرط "فی حذف فاعلہ واقامتہ مقام الفاعل" یعنی فاعل کے حذف کرنے میں اور اس کو فاعل کے قائم مقام بنانے میں شرط جو ہے "إذا کان عاملہ فعلا" جبکہ اس کا عامل فعل ہو۔ جبکہ اس کا عامل فعل ہو، شرط کیا ہے؟ دیکھو کہ "ان تغیر صیغۃ الفعل الی فعل او یفعل"۔ متن پر نظر ہے۔ پہلے صرف متن کو، متن سے جوڑیں۔ وَشَرْطُهُ، اور مفعول ما لم یسم فاعلہ کی شرط یہ ہے کہ فعل کا صیغہ بدل دیا جائے، فُعِلَ یا یُفْعَلُ کی طرف۔ یعنی ماضی مجہول کی طرف، یا مضارع مجہول کی طرف۔ تو بھئی! فعل کا صیغہ بدلا جائے۔ فعل کا صیغہ بدلا جائے۔ حالانکہ مفعول ما لم یسم فاعلہ، فعل کے ساتھ ساتھ شبہ فعل کے لیے بھی تو آتا ہے۔ کس کے لیے؟ شبہ فعل کے لیے بھی تو آتا ہے۔ اور انہوں نے کیا کہا؟ کہ فعل کے صیغے کو بدل دیا جائے کس کی طرف؟ فُعِلَ یعنی ماضی مجہول کی طرف، أَوْ یُفْعَلُ یا مضارع۔ بھئی صیغہ تو صرف فعل میں بدل سکتے ہیں۔ شبہ فعل کے لیے بھی تو نائب الفاعل آتا ہے۔ اس میں تو صیغہ ہم نہیں بدل سکتے۔ اس میں تو صیغہ فُعِلَ یا یُفْعَلُ کی طرف نہیں بدلا جاتا۔ تو جواب دے رہے ہیں صاحب جامی، أن تُغَیَّرَ صِیغَۃُ الفِعْلِ إلی فُعِلَ أَوْ یُفْعَلُ، اس سے پہلے صاحب جامی نے کیا عبارت نکالی؟ إِذَا کَانَ عَامِلُهُ فِعْلًا، جب کہ اس مفعول ما لم یسم فاعلہ کا عامل کیا ہو؟ فعل ہو، تب اس کے صیغے کو بدلا جائے گا۔ اگر شبہ فعل ہو پھر، نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں، دوبارہ ترجمہ دیکھیے۔ کہتے ہیں، وَشَرْطُهُ أَيْ شرطُ مفعولِ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ، مفعول ما لم یسم فاعلہ کی شرط جو ہے فِي حَذْفِ فَاعِلِهِ وَإِقَامَتِهِ مَقَامَ الْفَاعِلِ، اس کے فاعل کو حذف کرنے اور اس کو اس کے قائم مقام بنانے میں شرط یہ ہے، إِذَا كَانَ عَامِلُهُ فِعْلًا، جب کہ اس مفعول ما لم یسم فاعلہ کا عامل فعل ہو، أَنْ تُغَيَّرَ صِيغَةُ الْفِعْلِ إِلَى فُعِلَ، کہ بدل دیا جائے فعل کے صیغے کو فُعِلَ کی طرف، أَيْ إِلَى الْمَاضِي الْمَجْهُولِ، دیکھا صاحب جامی نے بتلا دیا فُعِلَ سے کیا مراد ہے؟ ماضی مجہول مراد ہے۔ تو صیغہ بدل دیا جائے إِلَى فُعِلَ، فُعِلَ کی طرف، أَيْ إِلَى الْمَاضِي الْمَجْهُولِ، یعنی ماضی مجہول کی طرف، أَوْ يُفْعَلُ، یا صیغہ بدل دیا جائے یُفْعَلُ کی طرف، أَيْ إِلَى الْمُضَارِعِ الْمَجْهُولِ، یعنی مضارع مجہول کی طرف، فَيَتَنَاوَلُ مِثْلَ أُفْتُعِلَ وَأُسْتُفْعِلَ وَيُفْتَعَلُ وَيُسْتَفْعَلُ وَغَيْرِهَا مِنَ الْأَفْعَالِ الْمَجْهُولَةِ الْمَزِيدِ فِيهَا۔ بھئی دیکھیے! یہ وہی بات ذکر کر رہے ہیں کہ فُعِلَ کی طرف بدل دیں، تو پھر فُعِلَ میں تو صرف ثلاثی مجرد کی ماضی آگئی۔ ثلاثی مزید کی ماضی بھی نہیں آئی، رباعی مجرد اور رباعی مزید کی ماضی بھی اس میں داخل نہیں۔ اسی طرح یُفْعَلُ، یہ تو صرف ثلاثی مجرد میں آتا ہے۔ ثلاثی مزید میں بھی یہ وزن نہیں آتا اور رباعی مجرد اور رباعی مزید میں بھی یہ وزن نہیں آتا۔ تو بتلا دیا کہ فُعِلَ سے فُعِلَ کا صیغہ نہیں مراد، ماضی مجہول مراد ہے۔ اور یُفْعَلُ سے یُفْعَلُ کا صیغہ نہیں مراد، بلکہ مضارع مجہول مراد ہے۔ تو اس میں باقی سارے بابوں کی ماضی مجہول بھی داخل ہو گئی اور تمام بابوں کے مضارع مجہول بھی داخل ہو گئے۔ یہ معنی ہے۔ تو فَيَتَنَاوَلُ مِثْلَ أُفْتُعِلَ وَأُسْتُفْعِلَ، تو یہ أُفْتُعِلَ اور أُسْتُفْعِلَ جن ایسی ماضی کو بھی شامل ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یعنی ثلاثی مزید يا رباعی مجرد يا رباعی مزید کی جو ماضی ہیں، ان کو بھی شامل ہے، وَيُفْتَعَلُ وَيُسْتَفْعَلُ، اور اسی طرح يُفْتَعَلُ اور يُسْتَفْعَلُ جیسے مضارع ہیں، ان کو بھی شامل ہے، وَغَيْرِهَا، اور ان کے علاوہ بھی، مِنَ الْأَفْعَالِ الْمَجْهُولَةِ، وہ افعال جو مجہول ہیں، الْمَزِيدِ فِيهَا، جو مزید فیہا ہیں، وہ سارے بھی اس کے اندر داخل ہو گئے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بھئی یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا۔ آپ نے پڑھا ہے کہ جتنے ابواب ہیں، ان کے شروع میں جو ہمزہ آتا ہے وہ ہمزہ وصل ہے، سوائے باب افعال کے۔ باب افعال کا ہمزہ قطعی ہے، وہ درج عبارت میں نہیں گرے گا، درمیان عبارت میں نہیں گرے گا۔ جب کہ باقی جتنے باب ہیں، باب افتعال ہے، باب استفعال ہے، باب انفعال وغیرہ، سب کا ہمزہ وصلی ہے اور درمیان عبارت میں وہ گر جاتا ہے۔ لیکن یہاں جو آیا، فَيَتَنَاوَلُ مِثْلَ أُفْتُعِلَ، اس کو مِثْلَ فْتُعِلَ نہیں پڑھنا، یہاں ہمزہ کو نہیں گرانا۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں لفظ بول کر لفظ مراد ہے۔ أُفْتُعِلَ سے أُفْتُعِلَ کا لفظ مراد ہے، اور جب لفظ بول کر لفظ مراد ہو تو وہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ علم، اور علم میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ تو وہ جو أُفْتُعِلَ تھا، اس کا نام ہی أُفْتُعِلَ رکھ دیا، اب یہ ہمزہ قطعی بن چکا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو مِثْلَ أُفْتُعِلَ وَأُسْتُفْعِلَ، یہ دونوں ہمزہ پڑھیں گے بھئی۔ آگے دیکھیے، وَلَا يَقَعُ مَوْقِعَ الْفَاعِلِ، اور واقع نہیں ہوتا مَوْقِعَ الْفَاعِلِ، فاعل کے مقام پر۔ کیا واقع نہیں ہوتا؟ الْـمَفْعُولُ الثَّانِي مِنْ مَفْعُولَيْ بَابِ عَلِمْتُ، وہ جو مفعول ثانی ہے مِنْ مَفْعُولَيْ بَابِ عَلِمْتُ، باب علمت کے دو مفعولوں میں سے۔ باب علمت کے دو مفعولوں میں سے جو مفعول ثانی ہے، وہ فاعل کے مقام میں واقع نہیں ہوتا۔ بھئی دیکھیے، یہ عبارت ذرا دیکھو: وَلَا يَقَعُ مَوْقِعَ الْفَاعِلِ۔ وَلَا يَقَعُ مَوْقِعَ الْفَاعِلِ۔ بھئی دیکھو! وَقَعَ یَقَعُ، کونسا باب ہے؟ وَقَعَ یَقَعُ، باب فتح ہے۔ وَقَعَ یَقَعُ باب فتح، اور باب فتح سے ظرف کیا آتا ہے؟ مَفْتَحٌ آتا ہے، کیا آتا ہے؟ مَفْتَحٌ آتا ہے، اور یہاں میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ وَلَا يَقَعُ مَوْقِعَ الْفَاعِلِ، مَفْعِلٌ پڑھ رہا ہوں، کیا پڑھ رہا ہوں؟ کیونکہ آپ نے ضابطہ پڑھا تھا کہ مثال سے ظرف ہمیشہ مکسور العین آتا ہے، اور یہ بھی مثال ہے کہ شروع میں واؤ ہے بھئی۔ تو مثال سے کیا آتا ہے؟ ظرف ہمیشہ مَفْعِلٌ آتا ہے، چاہے مضارع مفتوح العین ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ اور وہ شعر یاد ہے؟ ظرف یَفْعِلْ، مَفْعِلْ است الا ز ناقص اے کمال، وز غیر یَفْعِلْ، مَفْعَلْ است الا ز ابواب مثال۔ دیکھا! مثال کا استثناء ہے۔ اسی طرح پہلے مصرعے میں کیا ہے؟ ظرف یَفْعِلْ مَفْعِلْ است الا ز ناقص اے کمال، ناقص کا بھی استثناء ہے۔ تو ناقص سے ہمیشہ، ناقص سے ہمیشہ ظرف مفتوح العین آتا ہے، اور مثال سے ہمیشہ ظرف مکسور العین آتا ہے، اور باقی ابواب میں عین کی حرکت دیکھیں گے، اگر اس کے نیچے کسرہ ہو تو ظرف مکسور العین ہوگا، اور اگر عین پر فتحہ یا ضمہ ہو تو ظرف مفتوح العین ہوگا۔ جی دیکھیے دوبارہ، کہتے ہیں: وَلَا يَقَعُ مَوْقِعَ الْفَاعِلِ الْـمَفْعُولُ الثَّانِي مِنْ مَفْعُولَيْ بَابِ عَلِمْتُ، اور فاعل کے مقام پر واقع نہیں ہو سکتا مفعول ثانی جو ہے مِنْ مَفْعُولَيْ بَابِ عَلِمْتُ، باب علمت کے دو مفعولوں میں سے جو مفعول ثانی ہے، وہ فاعل کے مقام میں واقع نہیں ہو سکتا، لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ إِلَى الْـمَفْعُولِ الْأَوَّلِ إِسْنَادًا تَامًّا۔ ہاں، اب یہاں ایک اور بات یاد رکھنا۔ یاد رکھو، باب علمت کا مفعول ثانی اور باب اعلمت کا مفعول ثالث، یہ مفعول ما لم یسم فاعلہ نہیں بن سکتے۔ کیوں نہیں بن سکتے؟ کیونکہ یہ مسند بہ ہیں، اور جب آپ اس کو نائب الفاعل بنائیں گے تو یہ کیا بن جائیں گے؟ مسند الیہ بن جائیں گے۔ تو ایک ہی لفظ جو ہے ایک ہی وقت میں مسند الیہ بھی ہوگا اور مسند بہ بھی ہوگا، اور یہ جائز نہیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا یہ اس صورت میں ہے جب دونوں اسناد تام ہوں۔ جب دونوں اسناد تام ہوں، یعنی اس میں بات پوری ہو۔ اگر اسناد تام نہ ہو، ایک اسناد تام ہے ایک غیر تام ہے، پھر کوئی حرج نہیں۔ پھر کوئی حرج نہیں۔ یاد رکھو، فعل کا جو اسناد ہوتا ہے فاعل یا نائب فاعل کی طرف، یہ اسناد تام ہے، اس سے جملہ فعلیہ بنتا ہے۔ اور مبتدا خبر کے درمیان جو اسناد ہے، وہ بھی اسناد تام ہے کیونکہ اس سے بھی پورا جملہ بنتا ہے۔ باقی یہ جو صفت کے صیغے ہیں يا مصدر وغیرہ کا اسناد جو ہوتا ہے اپنے فاعل یا نائب فاعل کی طرف، یہ اسناد غیر تام ہے۔ یعنی اس میں بات پوری نہیں۔ قَائِمٌ، قَائِمٌ کونسا صیغہ؟ صفت کا، اس کے اندر هُوَ ضمیر، صفت کے صیغے کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل چاہیے۔ تو قَائِمٌ هُوَ، مجھے بتائیے اس میں بات پوری ہے؟ جملہ پورا ہے؟ بات سمجھ میں آگئی۔ ذَرَبَ میں کہوں، ذَرَبَ کے اندر هُوَ ضمیر نکالیں تو یہ جملہ فعلیہ بن گیا، لیکن صفت کا صیغہ اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ بنتا ہے، جملہ نہیں بنتا، تو ان میں اسناد تام نہیں ہوتا۔ تو یہ ایک لفظ، ایک ہی وقت میں مسند بھی ہو اور مسند الیہ بھی ہو، تو یہ جب اسناد تام ہوں دونوں، پھر تو جائز نہیں۔ اگر دونوں میں سے ایک اسناد غیر تام ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ إِلَى الْـمَفْعُولِ الْأَوَّلِ إِسْنَادًا تَامًّا۔ ترجمہ سنو بھئی! لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ، اس لیے کیونکہ یہ مفعول ثانی جو ہے باب علمت کا، یہ مسند ہے، إِلَى الْـمَفْعُولِ الْأَوَّلِ، کس کی طرف؟ مفعول اول کی طرف، إِسْنَادًا تَامًّا، اسناد تام کے ساتھ۔ یہ إِسْنَادًا تَامًّا کیا بن رہا ہے؟ یہ مفعول مطلق ہے، پیچھے مُسْنَدٌ آیا، شبہ فعل آیا، اور جیسے فعل کے لیے مفعول مطلق آتا ہے، شبہ فعل کے لیے بھی کیا آتا ہے؟ مفعول مطلق، تو یہ إِسْنَادًا تَامًّا یہ مفعول مطلق ہے، اور میں نے آپ کو بتایا تھا مفعول مطلق کا الگ ترجمہ نہیں کرتے بھئی۔ ضَرَبْتُ ضَرْبًا، کیا ترجمہ؟ عموماً طلباء ترجمہ کرتے ہیں: ضَرَبْتُ، میں نے مارا، ضَرْبًا، مارنا۔ میں نے مارا مارنا۔ بھئی یہ اس طرح نہیں کرتے، مفعول مطلق کا ترجمہ اسی جملے کے اندر لے آتے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی اسناد تام کو مسند کے ساتھ ہی لے آئیں، لِأَنَّهُ مُسْنَدٌ إِلَى الْـمَفْعُولِ الْأَوَّلِ إِسْنَادًا تَامًّا، اس لیے کیونکہ اس کا اسناد تام ہے مفعول اول کی طرف۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اس کا اسناد تام ہے مفعول اول کی طرف، فَلَوْ أُسْنِدَ الْفِعْلُ إِلَيْهِ، اگر فعل کا اس کی طرف اسناد کر دیا جائے، وَلَا يَكُونُ إِسْنَادُهُ إِلَّا تَامًّا، اور فعل کا اسناد تو نہیں ہوتا مگر تام ہی۔ فعل کا اسناد تو ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ تام ہی ہوتا ہے، لَزِمَ كَوْنُهُ مُسْنَدًا وَمُسْنَدًا إِلَيْهِ مَعًا، تو اس کا مسند اور مسند الیہ ہونا لازم آئے گا معاً، اکٹھا ہی، یعنی ایک ہی وقت میں، مَعَ كَوْنِ كُلٍّ مِنَ الْإِسْنَادَيْنِ تَامًّا، ساتھ اس کے کہ دونوں اسناد تام بھی ہیں۔ دونوں اسنادوں کے تام ہوتے ہوئے اس کا ایک ہی وقت میں مسند ہونا بھی لازم آئے گا اور مسند الیہ ہونا بھی بھئی۔ تو اس صورت میں دونوں اسناد جو ہیں تام ہوں گے اور ایک لفظ جو ہے، دونوں اسناد تام کے ساتھ وہ مسند بھی بن رہا ہے اور مسند الیہ بھی، اور یہ جائز نہیں ہے۔ بِخِلَافِ أَعْجَبَنِي ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًوا، برخلاف اس جملے کے: أَعْجَبَنِي ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًوا۔ دیکھو بھئی، ترکیب سنو بھئی! أَعْجَبَ، أَعْجَبَ فعل ہے بھئی، نون وقایہ، یا ضمیر مفعول بہ، یہ منصوب محلاً ہے۔ مجھے تعجب میں ڈالا، یا مجھے پسند آیا۔ أَعْجَبَ کا معنی پسند آنا بھی، اچھا لگنا بھی، اور تعجب میں ڈالنا بھی۔ اور یہ ضَرْبُ زَيْدٍ، یہ اس کے لیے فاعل ہے۔ ضَرْبُ زَيْدٍ اس کے لیے فاعل ہے، اور یہ عَمْرًوا، یہ ضرب کے لیے مفعول ہے بھئی۔ یہ ضرب کے لیے مفعول۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل چاہیے، اسی طرح یہ جو صفت کے صیغے اور مصدر ہیں، ان کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل چاہیے۔ ہاں، لیکن مصدر کے ساتھ فاعل کو ہمیشہ ذکر نہیں کیا جاتا، صفت کے صیغوں کے ساتھ تو فاعل یا نائب فاعل کا ذکر ضروری ہے۔ جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کا ذکر ضروری ہے، فعل بغیر فاعل یا نائب فاعل کے نہیں آسکتا، اسی طرح صفت کے صیغے بھی فاعل یا نائب فاعل کے بغیر نہیں آسکتے۔ مصدر کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل چاہیے، لیکن مصدر کے ساتھ جو ہے فاعل یا نائب فاعل کا ذکر ضروری نہیں۔ کبھی ذکر کر دیا جاتا ہے اور کبھی ذکر نہیں کیا جاتا، ورنہ مصدر کے لیے بھی کوئی نہ کوئی فاعل تو ہوگا، ضرب، ضرب خود بخود تو نہیں ہو سکتی، کوئی ضارب چاہیے، اور کوئی مضروب بھی چاہیے۔ اسی طرح شرب، مصدر ہے، شرب بھی خود بخود نہیں ہو سکتا، اس کے لیے کوئی شارب چاہیے۔ توجہ ہے؟ تو ہر مصدر کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے ہوتا ہے، لیکن مصدر کے ساتھ فاعل یا نائب فاعل کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ تو یہاں پر دیکھو، أَعْجَبَنِي ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًوا، یہ اصل میں یوں تھا، سنو بھئی! ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًوا، توجہ ہے؟ ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًوا۔ یہ ضَرْبٌ کیوں مرفوع؟ یہ أَعْجَبَنِي کے لیے فاعل ہے۔ اور یہ زَيْدٌ کیوں مرفوع؟ ابھی تو مجرور ہے، ویسے اس پر رفع پڑھیں، زَيْدٌ کیوں مرفوع؟ یہ ضرب کے لیے فاعل ہے، اور عَمْرًوا کیوں منصوب؟ یہ ضرب کے لیے مفعول ہے، أَعْجَبَنِي کے لیے نہیں، أَعْجَبَنِي کے ساتھ تو یا ضمیر مفعول کی ملی ہوئی ہے۔ تو یہ عَمْرًوا مفعول کس کے لیے؟ ضرب کے لیے۔ لیکن میں نے بتایا تھا کہ مصدر کی عموماً اپنے فاعل کی طرف اضافت کر دی جاتی ہے، تو اصل میں تو تھا ضَرْبٌ زَيْدٌ، پھر اس ضرب کی اضافت کر دی فاعل یعنی زید کی طرف، تو کیا بن گیا؟ ضَرْبُ زَيْدٍ۔ أَعْجَبَنِي ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًوا، مجھے تعجب میں ڈالا ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًوا، زید کا عمر کے پٹائی کرنا، اس نے مجھے تعجب میں ڈالا۔ تو دیکھو، أَعْجَبَنِي کے لیے فاعل کون؟ ضرب، اور ضرب مسند الیہ ہے۔ فاعل ہے نا؟ اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، تو یہ ضرب مسند الیہ ہے۔ اور یہی ضرب مسند بھی ہے، کیونکہ زید آگے اس کا فاعل ہے جس کی طرف اس کی اضافت ہو رہی ہے۔ تو ضرب ایک ہی لفظ مسند الیہ بھی بن رہا ہے أَعْجَبَنِي کے لیے، اور یہ مسند بھی ہے آگے زید کے لیے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی اس کے اندر أَعْجَبَنِي کا جو اسناد ہے ضرب کی طرف، وہ تو اسناد تام ہے، لیکن ضرب کا اسناد جو زید کی طرف ہے، وہ اسناد غیر تام ہے۔ تو دونوں اسناد تام ہوں، پھر ایک ہی لفظ کا مسند اور مسند الیہ ہونا جائز نہیں، اور اگر ایک اسناد تام ہو، دوسرا ناقص ہو، تو پھر کوئی حرج نہیں۔ تو ضرب مسند الیہ ہے اسناد تام کے ساتھ، اور یہ مسند ہے اسناد غیر تام کے ساتھ، اس لیے یہ جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ أَعْجَبَنِي ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًوا، برخلاف اس جملے کے، لِأَنَّ أَحَدَ الْإِسْنَادَيْنِ، اس لیے کیونکہ دو اسنادوں میں سے ایک جو ہے، وَهُوَ إِسْنَادُ الْـمَصْدَرِ، اور وہ جو مصدر کا اسناد ہے، غَيْرُ تَامٍّ، وہ تام نہیں ہے بھئی۔ وَلَا الْـمَفْعُولُ الثَّالِثُ مِنْ مَفَاعِيلِ بَابِ أَعْلَمْتُ، اور نہ ہی تیسرا مفعول جو ہے مِنْ مَفَاعِيلِ بَابِ أَعْلَمْتُ، باب اعلمت کے تین مفعولوں میں سے، إِذْ حُكْمُهُ حُكْمُ الْـمَفْعُولِ الثَّانِي مِنْ بَابِ عَلِمْتُ، اس لیے کیونکہ یہ جو مفعول ثالث ہے نا باب اعلمت کا، إِذْ حُكْمُهُ، اس کا حکم جو ہے، حُكْمُ الْـمَفْعُولِ الثَّانِي، وہ مفعول ثانی کا حکم ہے، مِنْ بَابِ عَلِمْتُ، کس میں؟ باب علمت میں جو مفعول ثانی کا حکم تھا، وہی حکم ہے مفعول ثالث کا باب اعلمت میں۔ بھئی کس چیز میں؟ فِي كَوْنِهِ مُسْنَدًا، مسند ہونے میں۔ جیسے علمت کا مفعول ثانی مسند تھا، اسی طرح باب اعلمت کا مفعول ثالث جو ہے وہ مسند ہے، لہذا ان کو مسند الیہ یعنی نائب الفاعل نہیں بنا سکتے۔ وَالْـمَفْعُولُ لَهُ بِلَا لَامٍ، اور اسی طرح مفعول لہ بغیر لام کے۔ وہ مفعول لہ وَالْـمَفْعُولُ لَهُ بِلَا لَامٍ، یاد رکھو! جمہور کا مذہب یہ ہے کہ مفعول لہ جب اس پر نصب ہوتا ہے، تب ہی اس کو مفعول لہ کہتے ہیں۔ ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا، اس پر نصب ہے تو اس تَأْدِيبًا کو کیا کہیں گے؟ مفعول لہ، لیکن جب اس پر لام ہو، ضَرَبْتُهُ لِلتَّأْدِيبِ، عربی زبان میں علت کے لیے کیا آتا ہے؟ لام، تو لام جب موجود ہو لفظوں میں، پھر اس کو مفعول لہ نہیں کہتے، پھر اس کو جار مجرور کہتے ہیں۔ جمہور کے نزدیک جب لام لفظوں میں موجود ہو تو پھر اس کو مفعول لہ نہیں کہتے، جار مجرور کہتے ہیں، ہاں جب لام کو حذف کر دیں اور نصب اوپر آ جائے، اب اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول لہ کہتے ہیں۔ جب کہ صاحب کافیہ کا اپنا مذہب ہے، وہ فرماتے ہیں کہ چاہے نصب ہو، چاہے لام لفظوں میں ہو، دونوں صورتوں میں اس کو مفعول لہ کہیں گے۔ ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا، یہ بھی مفعول لہ، یہاں بھی تَأْدِيبًا مفعول لہ، اور ضَرَبْتُهُ لِلتَّأْدِيبِ، یہ لِلتَّأْدِيبِ بھی مفعول لہ ہے۔ اسی لیے کہا: وَالْـمَفْعُولُ لَهُ بِلَا لَامٍ، اور مفعول لہ بغیر لام کے ہو۔ معلوم ہوا لام کے ساتھ بھی ہوتا ہے، کس کا مذہب ہے؟ صاحب کافیہ کا۔ تو کہتے ہیں: وَالْـمَفْعُولُ لَهُ بِلَا لَامٍ، اور مفعول لہ بغیر لام کے جو ہوتا ہے، لِأَنَّ النَّصْبَ فِيهِ مُشْعِرٌ، اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو نصب ہوتا ہے مُشْعِرٌ، أَشْعَرَ يُشْعِرُ إِشْعَارٌ کا معنی ہے خبر دینا، اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو نصب ہوتا ہے، مُشْعِرٌ بِالْعِلِّيَّةِ، وہ علت ہونے کی خبر دیتا ہے۔ ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا، یہ تَأْدِيبًا کا نصب کیا بتلا رہا ہے؟ کہ یہ علت ہے ماقبل کی۔ کس نے بتایا؟ نصب نے۔ یہ معنی ہے: "لان النصب فيه مشعر بالعلية"، اس لیے کیونکہ اس کا نصب جو ہے وہ اس کے اندر وہ خبر دیتا ہے اس کے علت ہونے کی، "فلو اسند إليه"، اگر فعل کا اس کی طرف اسناد کر دیا جائے، بھئی اگر فعل کا اسناد اس کی طرف ہوگا، پھر تو یہ مسند الیہ بن جائے گا، اس پر تو رفع آ جائے گا، پھر تو اس کا نصب بھی فوت ہو جائے گا اور یہ جو علت ہونے کی خبر دے رہا تھا وہ بھی فوت ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: "فلو اسند إليه"، اگر اس کی طرف فعل کا اسناد کر دیا جائے، "لفات النصب"، تو اس کا وہ نصب بھی فوت ہو جائے گا، "والإشعار"، اور یہ وہ جو علت ہونے کی خبر دے رہا تھا نصب وہ بھی فوت ہو جائے گی، "بخلاف ما إذا كان مع اللام"، برخلاف اس وقت جب کہ یہ لام کے ساتھ ہو، مفعول لہ کس کے ساتھ ہو؟ لام کے ساتھ ہو، "نحو"، مثال کے طور پر: "ضرب للتأديب"، "ضرب للتأديب"، اس کے جب لام کے ساتھ ہو، پھر اس کو نائب الفاعل بنا سکتے ہیں۔ پھر اس کو نائب الفاعل بنا سکتے ہیں۔ میں نے اپ کو ایک دو سبق قبل بتلایا تھا وہ عبارت آئی تھی: "استغني عنه"، "استغني عنه"، میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ کبھی کبھار فعل کے فاعل یا نائب فاعل کا پتہ نہیں چلتا، تو ایک طریقہ کیا؟ کہ اسی کے اندر ضمیر اسی کے مصدر کو لوٹا دیں، أي "استغني هو"، اور یہ 'هو' ضمیر کس کو راجع؟ استغناء کو، اسی 'استغني' کے مصدر کو، تو عبارت گویا یوں ہے: "استغني للاستغناء"، اور پھر اس کا ترجمہ کس طرح کرتے ہیں؟ "يقع الاستغناء" یا "حصل الاستغناء" کہ استغناء حاصل ہو گیا۔ استغناء حاصل ہو جائے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے فعل مجہول میں، فعل مجہول کے اندر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ اگر جار مجرور ہو تو پھر اس کے اندر فاعل کی ضمیر نکالنے اور مصدر کی طرف لوٹانے کے بجائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسی جو جار مجرور ہے اسی کو اس کا نائب فاعل بنا دو۔ "استغني عنه"، یہ 'عنه' کیا ہے؟ یہ یہی اس کا نائب الفاعل ہے، یہ اس کا نائب فاعل، اور میں نے بتایا تھا کہ یہ جو جار مجرور جس کو نائب الفاعل بناتے ہیں، یہ اسی سے متعلق بھی ہوتا ہے، تو 'عنه' جار مجرور اسی 'استغني' سے متعلق اور یہ اس کا نائب فاعل ہے۔ جب یہ اس کا نائب فاعل ہے تو اب 'استغني' کے اندر کوئی ضمیر نہیں۔ توجه ہے؟ تو اب یہ 'عنه' جار مجرور اسی سے متعلق بھی ہے اور اس کا نائب فاعل بھی ہے۔ تو پھر یہ نائب فاعل کیسے بنے گا؟ میں نے بتایا تھا کہ اس کو مجازاً جار مجرور کو نائب فاعل کہتے ہیں، حقیقت میں وہ جو مجرور ہے وہ نائب الفاعل ہے۔ بات سمجھ، جو مجرور ہے وہ حقیقت میں نائب الفاعل ہے چاہے وہ ضمیر ہو، چاہے کوئی اسم وغیرہ ہو، جو بھی مجرور ہوگا حقیقت میں وہ نائب الفاعل ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر میں نے اپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو جار مجرور ہے یہ بھی حقیقت میں مفعول بہ ہی ہے لیکن اس کو مفعول بہ غیر صریح کہتے ہیں۔ ایک مفعول بہ صریح ہوتا ہے جس کو فعل براہ راست نصب دیتا ہے اور ایک مفعول بہ غیر صریح ہوتا ہے، یہ جو جار مجرور ہے یہ مفعول بہ غیر صریح ہے بھئی، کیا ہے؟ غیر صریح ہے۔ مثلاً: "ضربت زيداً"، میں نے زید کی پٹائی کی، یہ 'زيداً' مفعول ہے 'ضربت' کے لیے، اب میں چاہتا ہوں کہ 'العصا' کو بھی اس کے ساتھ جوڑ دوں، میں بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ میں نے زید کی لاٹھی کے ساتھ پٹائی کی، تو اب میں 'العصا' کو 'ضربت' سے جوڑنا چاہتا ہوں، میں اس کو بھی اس کے لیے مفعول بنانا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ فعل اس کو بھی نصب دے، لیکن 'ضربت' تو صرف ایک مفعول چاہتا ہے بھئی، یہ تو متعدی ہے ایک مفعول کی طرف اور وہ 'زيداً' آ چکا ہے، اس کو اس 'ضربت' نے نصب دے دیا، تو اب یہ 'العصا' کو نصب نہیں دے سکتا۔ اور میں تو 'العصا' کو جوڑنا چاہتا ہوں، تو پھر حروف جارہ کا سہارا لیا جاتا ہے، چنانچہ میں 'با' جارہ لے آؤں گا اور اس کے ذریعے 'العصا' کو میں 'ضربت' سے جوڑ دوں گا اور یوں کہوں گا: "ضربت زيداً بالعصا"، تو دیکھو یہ 'با' جارہ نے کیا کام کیا؟ کہ 'ضربت' براہ راست 'العصا' میں عمل نہیں کر سکتا تھا، اب 'با' جارہ کے واسطے سے 'ضربت' عمل کر رہا ہے 'العصا' میں، تو یہ جو مجرور ہے بحرف جر یہ بھی یاد رکھو مفعول بہ ہوتا ہے، البتہ اس کو مفعول بہ غیر صریح کہتے ہیں۔ صریح کا معنی صاف لفظوں میں، "ضربت زيداً"، یہ 'زيداً' صراحتاً یعنی صاف لفظوں میں مفعول بہ ہے، اور "ضربت زيداً بالعصا"، یہ 'العصا' بھی مفعول بہ ہے لیکن یہ غیر صریح ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے چونکہ یہ جو مجرور ہوتا ہے، یہ بھی چونکہ مفعول بہ ہوتا ہے اس لیے اس کا نائب الفاعل بننا صحیح ہے، اس لیے انہوں نے کہا: نحو "ضرب للتأديب" کہ 'للتأديب' جار مجرور کیا ہے 'ضرب' کے لیے نائب الفاعل بن جائے گا۔ جی، ترکیب کیسے ہوگی؟ 'ضرب'، 'ضرب' فعل مجہول، 'لام' جارہ، 'التأديب' مجرور لفظاً، لفظاً تو مجرور ہے لیکن محلاً یہ مرفوع ہے نائب الفاعل ہے کس کے لیے؟ 'ضرب' کے لیے، تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ 'ضرب' سے، 'ضرب' فعل اپنے نائب الفاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، تو یہ 'للتأديب' یہی جار مجرور یہ متعلق بھی ہے 'ضرب' سے اور یہ نائب الفاعل بھی ہے کس کے لیے؟ 'ضرب' کے لیے، اور میں نے بتایا جار مجرور اس کو نائب الفاعل کہتے ہیں، حقیقت میں یہ سارا نائب الفاعل نہیں، حقیقت میں وہ جو مجرور ہے جس پر حرف جر داخل ہو رہا ہے جیسے یہاں پر 'التأديب' ہے، یہ ہے نائب الفاعل حقیقت میں، تو لفظوں میں یہ مجرور ہے لام جارہ نے جر دیا ہے لیکن محل کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے، یہ نائب الفاعل ہے بھئی۔ کہتے ہیں: "والمفعول معه كذلك"، اور مفعول معہ وہ بھی اسی طرح ہے، یعنی مفعول لہ اور مفعول لہ وہ دونوں اسی طرح ہیں، یہ 'كذلك' دونوں کی خبر ہے بھئی، أي "كل من المفعول له والمفعول معه كذلك"، دیکھا؟ صاحب جامی بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ 'كذلك' دونوں کی خبر ہے۔ اسی لیے کہا: أي "كل من المفعول له والمفعول معه كذلك"، یعنی مفعول لہ اور مفعول معہ میں سے ہر ایک اسی طرح ہے، کس طرح ہے؟ أي "كالمفعول الثاني والثالث من باب علمت وأعلمت"، یعنی مفعول ثانی اور ثالث جو ہے باب 'علمت' اور 'أعلمت' میں ان کی طرح ہے، بھئی کس چیز میں ان کی طرح ہے؟ "في أنهما لا يقعان موقع الفاعل"، اس بات میں کہ یہ دونوں بھی فاعل کے مقام میں واقع نہیں ہوتے، جیسے وہ دونوں فاعل کے مقام میں واقع نہیں ہوتے، یہ دونوں بھی فاعل کے مقام میں واقع نہیں ہوتے۔ "أما المفعول له"، تو مفعول لہ جو ہے، "فلمعرفت"، وہ اس وجہ سے جو اپ نے جان لی، جس کا اپ کو پتہ چل گیا، ہم نے ذکر کر دیا کہ مفعول لہ کو اگر نائب الفاعل بنائیں گے تو اس کا نصب فوت ہو جائے گا اور پھر اس کے علت ہونے کا پتہ نہیں چلے گا۔ "وأما المفعول معه"، اور باقی مفعول معہ جو ہے وہ بھی نائب الفاعل نہیں بن سکتا، کیوں؟ کہتے ہیں: "لأنه لا يجوز إقامته مقام الفاعل مع الواو"، اس لیے کیونکہ جائز نہیں ہے کہ اس کو قائم مقام کر دیا جائے فاعل کے "مع الواو"، کس کے ساتھ؟ اس واؤ کے ساتھ، "التي أصلها العطف"، وہ واؤ جس کی اصل کیا ہے؟ عطف ہے، "وهي دليل الانفصال"، اور یہ جو واؤ ہے انفصال کی دلیل ہے، واؤ کس پر دلالت کرتا ہے؟ انفصال پر، تو "والفاعل كالجزء من الفعل"، اور فاعل تو فعل کے لیے جز کی طرح ہوتا ہے۔ تو واؤ کے ساتھ بھی اس کو فاعل کے قائم مقام کرنا جائز نہیں، "ولا بدون الواو"، اور واؤ کے بغیر بھی اس کو فاعل کے قائم مقام کرنا جائز نہیں، "فإنه لم يعرف حينئذ كونه مفعولاً معه"، اس لیے کیونکہ اس وقت پھر نہیں پہچانا جائے گا کہ یہ مفعول معہ ہے، جب واؤ کے بغیر بنائیں گے، واؤ کو حذف کر دیں گے تو پھر اس وقت پتہ نہیں چلے گا کہ یہ مفعول معہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ باب 'علمت' کا مفعول ثانی اور باب 'أعلمت' کا مفعول ثالث یہ فاعل کے قائم مقام نہیں ہو سکتے یعنی یہ مفعول ما لم يسم فاعله نہیں بن سکتے، اور اسی طرح مفعول لہ اور مفعول معہ بھی ہیں، وہ بھی فاعل کے قائم مقام نہیں ہو سکتے یعنی مفعول ما لم يسم فاعله نہیں بن سکتے۔ یہاں، یہاں ایک قیمتی نکتہ یاد رکھیں بھئی! علامہ رضی جنہوں نے کافیہ کی زبردست شرح لکھی ہے وہ ذکر فرماتے ہیں، کہتے ہیں کہ فعل کے لیے، کہ فعل کے لیے نائب فاعل یعنی مفعول ما لم يسم فاعله اسی کو بنائیں گے جو فعل کی ضروریات میں سے ہو یعنی جس کا فعل کے لیے ہونا ضروری ہو۔ یاد رکھو! فاعل جو ہے لفظوں کے اعتبار سے بھی فعل کے لیے ضروری اور معنی کے اعتبار سے بھی فعل کے لیے ضروری، لفظوں میں فعل آئے اور فاعل نہ آئے ایسا کبھی بھی نہیں، فعل کے بعد ہمیشہ کس کو لانا پڑے گا؟ فاعل کو ضرور لانا پڑے گا، تو لفظوں کے اندر صرف فاعل فعل کے لیے ضروری ہے جبکہ باقی مفعول بہ، مفعول مطلق، مفعول فیہ وغیرہ یہ فعل کے لیے لفظوں میں ضروری نہیں، توجہ ہے؟ ان کو ذکر کریں یا نہ ذکر کریں، "ضربت"، میں نے پٹائی کی، 'ضرب' فعل ہے اور 'تا' ضمیر فاعل، تو دیکھو بات پوری ہو گئی، تو باقی چیزوں کو فعل کے ساتھ ذکر کرنا لفظوں میں ضروری نہیں لیکن فاعل لفظوں میں ضروری ہے۔ اور فاعل معنی میں بھی ضروری ہے، فاعل ہوگا تو فعل ہوگا، فاعل نہیں تو فعل کا وجود بھی نہیں، جبکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ وہ فعل کی ضروریات میں سے ہیں یعنی معنی کے اعتبار سے وہ فعل کے لیے ضروری ہیں، ان کے بغیر فعل ہو ہی نہیں سکتا، جیسے مضروب، بھئی ضرب کا فعل بغیر مضروب کے ہو سکتا ہے؟ جیسے ضرب کے لیے ضارب چاہیے اسی طرح ضرب کے لیے مضروب بھی ضرور چاہیے بھئی، بغیر مضروب کے ضرب کا فعل ہو ہی نہیں سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا مفعول بہ فعل کے لیے ضروری ہے لہٰذا مفعول بہ یہ فاعل کے قائم مقام ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مفعول مطلق، مفعول مطلق کس کا نام ہے؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، تو مفعول مطلق مصدر ہے اور یہ مصدر بھی فعل کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ میں نے اپ کو بتایا تھا فعل کا مفہوم مرکب ہے تین چیزوں سے، کون کون سی؟ مصدر، زمانہ اور نسبت الی الفاعل، تو دیکھو مصدر فعل کا جز ہے، مصدر کے بغیر فعل کا وجود ہی نہیں ہو سکتا بھئی، تو لہٰذا مفعول مطلق بھی وہ بھی فعل کی ضروریات میں سے ہے لہٰذا اس کو بھی فاعل کے قائم مقام کر سکتے ہیں، نائب الفاعل بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح مفعول فیہ ہے چاہے ظرف زمان ہو چاہے ظرف مکان ہو، یہ بھی فعل کے لیے ضروری ہے، اپ دنیا کا جو بھی فعل کر لیں وہ کسی نہ کسی زمانے میں ہوگا اور کسی نہ کسی جگہ میں ہوگا، تو معلوم ہوا ظرف زمان بھی فعل کے لیے معنی کے اعتبار سے ضروری ہے لفظوں میں چاہے اپ ذکر کریں یا نہ کریں، تو یہ معنی کے اعتبار سے مفعول مطلق بھی فعل کے لیے ضروری کیونکہ وہ فعل کا جز ہے اور مفعول بہ بھی فعل کے لیے ضروری کیونکہ اس کے بغیر فعل کا تعقل ہی نہیں ہو سکتا، زمانہ اور مکان بھی فعل کے لیے ضروری کیونکہ اس کے بغیر فعل نہیں ہو سکتا، جار مجرور بھی ضروری ہیں کیونکہ وہ بھی مفعول بہ ہیں، تو یہ سارے اپ ان کو نائب الفاعل بنا سکتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن مفعول لہ اور مفعول معہ یہ فعل کے لیے ضروری نہیں، مفعول لہ اس لیے ضروری نہیں کیونکہ مفعول لہ علت پر دلالت کرتا ہے، توجہ ہے؟ علت، اور بعض اوقات اپ ایک فعل کرتے ہیں اس وہ اپ بیکار ہوتا ہے، عبث کام کرتے ہیں اس کا کوئی علت اور کوئی سبب ہی نہیں ہوتا، مثلاً اپ بیٹھے ہوئے ہیں تنکا ہاتھ میں ہے اپ اس سے زمین کو کرید رہے ہیں، اپ کو کوئی مقصد نہیں عبث کام ہے لیکن فعل ہے یا نہیں؟ تو ہر فعل کے لیے علت نہیں ہوتی، معلوم ہوا علت کا ہونا فعل کے لیے ضروری نہیں، لہٰذا مفعول لہ وہ فعل کے لیے نائب الفاعل نہیں بن سکتا کیونکہ وہ فعل کے لیے ضروری نہیں ہے، اسی طرح مفعول معہ کسے کہتے ہیں؟ جو فاعل کا مصاحب ہوتا ہے، ساتھی ہوتا ہے، "جاء زيد وعمراً"، آیا زید کس کے ساتھ؟ عمر کے ساتھ، مفعول معہ مصاحب ہوتا ہے فاعل کا فعل میں، مصاحب کا معنی ہے ساتھی، جیسے دیکھو "جاء زيد عمراً" میں عمر زید کا مصاحب یعنی ساتھی ہے اس مجیئت کے فعل میں۔ یعنی عمر نے بھی زید کے ساتھ ایک ہی وقت میں یہ مجیئت والا فعل کیا ہے، تو مفعول لہ مصاحب ہونے پر دلالت کرتا ہے، مفعول معہ مصاحب ہوتا ہے تو ہر فعل کے ہر فاعل کے ساتھ مصاحب تو نہیں، مثلاً اپ اکیلے بیٹھے سبق پڑھ رہے ہیں، اب دیکھو اپ اکیلے سبق پڑھ رہے ہیں اپ کا کوئی مصاحب اپ کا کوئی ساتھی اپ کے ساتھ اس پڑھنے میں شریک نہیں، یا اسی طرح اپ اکیلے کسی شخص کی پٹائی کرتے ہیں، اب دیکھو اس پٹائی کرنے میں اپ اکیلے ہیں کوئی اپ کا مصاحب اور کوئی ساتھی نہیں، تو معلوم ہوا مصاحب ہونا بھی فعل کے لیے ضروری نہیں ہے، لہٰذا مفعول معہ بھی فعل کے لیے ضروری نہیں اس کو بھی اپ نائب الفاعل نہیں بنا سکتے، تو نائب فاعل کس کو بنا سکتے ہیں؟ جو فعل کے لیے ضروری ہو معنی کے اعتبار سے، توجہ ہے؟ لفظوں میں تو یہ سارے ضروری نہیں ہیں لیکن معنی میں یہ کیا ہیں؟ ضروری ہیں، ان کے بغیر فعل کا وجود ہی نہیں ہو سکتا، اور مفعول لہ اور مفعول معہ یہ فعل کے لیے ضروری نہیں لہٰذا یہ نائب الفاعل بھی نہیں بن سکتے، اسی طرح مستثنیٰ اور تمیز یہ بھی نائب فاعل نہیں بن سکتے، اسی طرح حال وہ بھی نائب فاعل نہیں بن سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اسی مقام پر اسی مقام پر علامہ رضی فرماتے ہیں کہ بھئی فعل کے لیے علت ضروری نہیں، بعض فعل کیا ہوتے ہیں؟ عبث، لہٰذا "جئت للثمن"، وہ فرماتے ہیں یہ 'للثمن' جار مجرور ہے لیکن یہ لام کس لیے ہے؟ علت کے لیے ہے اور ہر فعل کے لیے علت کا ہونا ضروری نہیں، جب ہر فعل کے لیے علت کا ہونا ضروری نہیں تو اس 'للثمن' کو نائب الفاعل نہیں بنا سکتے، "جيء للثمن" نہیں کہہ سکتے اپ، "جيء للثمن" نہیں کہہ سکتے، تو یہ اس کو نائب الفاعل اپ نہیں بنا سکتے، تو ان کے کلام سے تو یہ معلوم ہوا کہ لام لفظوں میں موجود ہو تو پھر اس کو نائب الفاعل پھر بھی نہیں بنا سکتے، جبکہ صاحب جامی کے کلام سے کیا معلوم ہوا؟ کیا انہوں نے کیا فرمایا: "ضرب للتأديب"، ان کے کلام سے معلوم ہو رہا ہے کہ لام جارہ ہو پھر بھی اس کو کیا کر سکتے ہیں؟ لام علت والا ہو پھر بھی اس کو نائب الفاعل بنا سکتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔