اچھا بھئی! آج ہم شرح جامی شروع کریں گے اور نصاب کے اندر تو شرح جامی مرفوعات سے لے کر مبنیات تک شامل ‏‏ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ انشاء اللہ کہ جس قدر زیادہ سے زیادہ حصہ کتاب کا کر لیں۔ انشاء اللہ آغاز سے کتاب کو ‏‏شروع کریں گے، ابتدا سے اور کوشش کریں گے کہ زیادہ سے زیادہ کتاب کا حصہ ہو جائے۔ دعا کرو اللہ تعالیٰ توفیق ‏‏دے اور ہر قسم کے رکاوٹوں سے حفاظت فرمائے کہ ہم کتاب کو اختتام تک مکمل طور پر پڑھ لیں۔ کتاب کا لطف ہی تب ‏‏آتا ہے جب انسان اس کو مکمل پڑھ لیتا ہے ابتدا سے انتہا تک اور جان لیتا ہے کہ اس کے اندر مصنف نے کیا کیا باتیں ‏‏کی ہیں بھئی۔ اور پھر یاد رکھنا یہ شرح جامی میں وہ قدم قدم پر ترکیب کی بات کرتے ہیں۔ تو آپ کو ترکیب آنی چاہیے۔ اور ترکیب سے ‏‏پہلے صرف بہت ضروری ہے بھئی۔ جس طالب علم کو صرف آتی ہو گی وہ آرام سے نحو کا بھی ماہر بن جاتا ہے۔ اور ‏‏جس طالب علم کو صرف اچھی نہ آئے وہ نحوی، اہ پوری کوشش بھی کر لے تو اس میں مہارت حاصل نہیں کر سکتا۔ تو ‏‏صرف آپ کی اچھی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ہم انشاء اللہ یہ شروع میں کچھ دن ہم نحوی ترکیب کر لیں گے۔ ۱۰، ۱۵ ‏‏سبق تقریباً کر لیں گے نحوی ترکیب کے اور وہ میرا خاص طریقہ ہے ترکیب کروانے کا، بہت آسان ہے انشاء اللہ آپ وہ ‏‏شروع کریں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ترکیب تو بہت آسان ہے، طلباء بڑے پریشان ہوتے ہیں ترکیب میں۔ لیکن اس ‏‏طریقے سے آپ بہترین ترکیب سیکھ جائیں گے، آپ کی بہترین بنیاد بن جائے گی۔ اور پھر اس کے بعد جب ہم آگے جامی ‏‏کو پھر حل کریں گے تو جامی کی باتیں آپ کو سمجھ میں آئیں گی۔ اگر آپ کو ترکیب ہی نہیں آتی تو پھر جامی آپ کی ‏‏سمجھ میں نہیں آ سکتی کیونکہ وہ قدم قدم پر ترکیب کی بات کرتے ہیں۔ تو لہذا آج ہم کتاب کا آغاز کریں گے اور پھر کل ‏‏سے انشاء اللہ ہم کوشش کریں گے کہ ترکیب کے سبق چند دن چلا لیں تاکہ آپ کی بنیادی ترکیب ٹھیک ہو جائے اور اس ‏‏کے بعد پھر ہم کتاب کو چلائیں گے انشاء اللہ۔ اہ تو ہمارے تمام اساتذہ اور بزرگوں کا طریقہ ہے وہ کتاب کے شروع میں دعا پڑھتے ہیں، خود بھی پڑھتے ہیں اور ان ‏‏کے ساتھ تمام طلباء بھی پڑھتے ہیں اور بزرگوں کے ہر طریقے میں اللہ نے بڑی برکات، انوارات اور رحمتیں رکھی ہیں ‏‏تو ہم بھی کتاب کے شروع میں اسی طرح دعا پڑھ لیتے ہیں، میرے ساتھ ساتھ آپ بھی پڑھیے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد لله رب العالمين.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم.‏ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسره وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم.‏ ربنا يسر لنا هذا العلم ولا تعسره وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم.‏ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسره وتممه بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم.‏ آمین۔ آمین۔ ثم آمین۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم.‏ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم.‏ اچھا بھئی! اب کتاب کی عبارت بھی تھوڑی سی دیکھ لیجیے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر!‏ بسم الله الرحمن الرحيم.‏ الحمد لوليه والصلوة على نبيه وعلى آله وأصحابه المتأدبين بآدابه. اما بعد فهذه فوائد وافية بحل مشکلات الکافية للعلاّمة المشتهر ‏‏في المشارق والمغارب الشيخ ابن الحاجب تغمده الله بغفرانه وأسكنه بحبوحة جنانه نظمتها في سلك التقرير وسمت التحرير للولد ‏‏العزيز ضياء الدين يوسف حفظه الله سبحانه عن موجبات التلهف والتأسف وسميتها بالفوائد الضيائية لأنه لهذا الجمع والتأليف ‏‏كالعلة الغائية نفعه الله تعالى بها ولسائر المبتدئين من أصحاب التحصيل وما توفيقي إلا بالله وهو حسبي ونعم الوكيل.‏ کلام دو قسم پر ہے: ایک ہے نظم اور ایک ہے نثر۔ نظم جو ہے اشعار کو کہتے ہیں اور نثر یہ جو عام کلام ہے جو عام ‏‏کتابوں میں آپ دیکھتے ہیں، خود بھی جو تحریر وغیرہ عام آپ لکھتے ہیں یہ سب کیا ہے؟ نثر ہے۔ اور نثر کے اندر یاد ‏‏رکھو کلام کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو ایک جیسے وزن اور ایک جیسے حروف پر ختم ہوں تو ان کو فقرے کہا جاتا ‏‏ہے۔ ان کو کیا کہتے ہیں؟ فقرے۔ فقرے، فاء ہے، قاف دو نقطوں والا، راء اور گول تاء بھئی، فقرۃ۔ تو یہ فقرے جو ہیں ان کا اختتام ایک جیسے وزن اور ایک جیسے حروف پر ہوتا ہے جیسے اشعار کا اختتام ایک جیسے ‏‏وزن اور ایک جیسے حروف پر ہوتا ہے، تو نثر کے اندر بھی اس طرح کیا جاتا ہے، بعض اوقات کلام کے اندر چھوٹے ‏‏چھوٹے ٹکڑے لائے جاتے ہیں جن کا اختتام ایک جیسے وزن اور ایک جیسے حروف پر ہوتا ہے اور اس سے کلام میں ‏‏حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ جو چھوٹے چھوٹے فقرے ہیں، ٹکڑے ہیں کلام کے ان کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے ‏‏آخر میں وقف کیا جائے بھئی تاکہ ایک جیسے آواز کے ساتھ، ایک جیسے وزن پر، ایک جیسے حرف پر یہ ختم ہوں ورنہ ‏‏کہیں پر کچھ اعراب وغیرہ یا حرکت میں فرق آ جائے گا لیکن جب سکون کے ساتھ پڑھا جائے گا تو پھر ایک جیسا ان کا ‏‏وزن برقرار رہے گا۔ جیسے یہاں پر اگر دیکھو!‏ دیکھو! اب ملا کر پڑھیں تو یوں پڑھیں گے: الحمد لوليه والصلوة على نبيه وعلى آله وأصحابه المتأدبين بآدابه، أما بعد فهذه ‏‏فوائد وافية بحل مشکلات الكافية. دیکھا؟ فهذه فوائد وافيةٌ، یہاں پر دیکھو تنوین آ رہی ہے، ضمہ ہے اور آگے آ رہا ہے بحل ‏‏مشکلات الكافيةِ، وہاں تاء کے نیچے زیر ہے، تو دونوں میں دیکھو فرق آ گیا۔ حالانکہ یہ فقرہ ہے، فقرے کا اختتام کیا ‏‏ہے؟ ایک جیسے حروف اور ایک جیسے وزن پر ہوتا ہے تو وزن ٹوٹ جائے گا اگر ہم اس کو یوں پڑھیں: فهذه فوائد ‏‏وافيةٌ بحل مشکلات الكافيةِ. توجہ ہے؟ وافيةٌ پر ضمہ بھی آئے گا اور تنوین بھی آئے گی اور كافيةِ پر تنوین نہیں آئے گی ‏‏کیونکہ الف لام داخل ہے اور زیر آ جائے گی، تو وزن ایک جیسا نہیں رہے گا۔ تو ان میں پھر کیا کیا جاتا ہے؟ ساکن کر ‏‏کے پڑھا جاتا ہے ان کو، تو یوں پڑھیں گے: فهذه فوائد وافية، بحل مشکلات الكافية، دیکھا! اب وزن بالکل ایک جیسا ہے۔ ‏‏طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو بہرحال جیسے بھی آپ پڑھ لیں ٹھیک ہے لیکن فقروں میں مناسبت کے لیے بہتر یہ ہے کہ اس ‏‏طریقے سے اس کو پڑھا جائے۔ طریقہ سارا سمجھ میں آ گیا؟ یہ جامی جو ہے یہ شرح ہے کافیہ کی۔ اس کے اندر ایک تو متن آئے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی شرح ہو گی۔ متن ‏‏جو ہے یہ کافیہ ہے۔ اور کافیہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ علامہ ابن حاجب کی کتاب ہے بھئی۔ علامہ ابن حاجب۔ ابن حاجب ‏‏رحمہ اللہ کے بارے میں ایک بات جو عام کتابوں میں درج ہے وہ ذکر کر دیتا ہوں۔ حاجب عربی زبان میں دربان کو کہتے ‏‏ہیں اور اسی طرح سیکیٹری کو بھی کہتے ہیں۔ تو عام جتنی اردو کی شروحات آپ اٹھائیں گے انہوں نے لکھا ہوتا ہے کہ ‏‏علامہ ابن حاجب چونکہ دربان کے بیٹے تھے تو اس لیے ان کو ابن حاجب کہا جاتا ہے بھئی۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے بھئی۔ دربان کا معنی تو ہے چوکیدار بھئی جو دروازے پر کھڑا ہوتا ہے۔ حاجب کا دوسرا ‏‏معنی ہے: سیکیٹری بھئی۔ علامہ ابن حاجب کے والد چونکہ اس شہر کا جو گورنر تھا اس کے سیکیٹری تھے اور یہ بہت ‏‏بڑا عہدہ ہوتا ہے بھئی۔ دربان کا تو چھوٹا سا عہدہ ہے بھئی اور سیکیٹری کا بہت بڑا عہدہ ہوتا ہے۔ بادشاہ کا سیکیٹری ‏‏بھی بادشاہ کی طرح ہوتا ہے، لوگ اس سے ڈرتے ہیں بھئی اور کسی نے بادشاہ سے ملنا ہو تو سیکیٹری سے وقت لینا ‏‏پڑے گا اور وہ نہیں ملائے گا تو بادشاہ سے ملاقات نہیں ہو سکتی بھئی، وہی وقت بھی دے گا وہی بادشاہ سے ملاقات ‏‏بھی کروائے گا۔ تو یہ بہت بڑا عہدہ ہے بھئی۔ چونکہ وہ ایک بڑے باپ کے بیٹے تھے اہ اسی وجہ سے وہ ابن حاجب کے ‏‏نام سے مشہور ہوئے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور ہوتا بھی اسی طرح ہے آپ بھی دیکھتے ہیں کہ طلباء مدرسے میں پڑھنے والے، بھئی ظاہر سی بات ہے ان میں سے ‏‏کوئی تاجر کا بیٹا ہو گا، کوئی دکاندار کا بیٹا ہو گا، کوئی اسی طرح اور مختلف- کوئی کسان کا بیٹا ہو گا لیکن دیکھو! یہ ‏‏کوئی بڑے مناصب نہیں ہیں لہذا اس نام سے طلباء مشہور نہیں ہوتے۔ لیکن اگر کوئی گورنر کا بیٹا مدرسے میں پڑھ رہا ‏‏ہو تو سارے اس کو اسی نام سے یاد کریں گے کہ وہ گورنر کا بیٹا ہے، آج گورنر کا بیٹا بھی سبق میں تھا یا سبق میں نہیں ‏‏تھا، تو چونکہ ان کے والد کا عہدہ بڑا تھا، اونچا مقام تھا، گورنر کے سیکیٹری تھے اور گورنر کا سیکیٹری بھی اسی ‏‏طرح ہوتا ہے جیسے گورنر، تو اسی لیے وہ ابن حاجب کے نام سے مشہور ہوئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ متن ان کا ہے بھئی اور بڑا عظیم متن ہے جس میں انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا بھئی۔ پوری نحو کا ‏‏خلاصہ اور نچوڑ ایک چھوٹے سے رسالے میں لکھ دیا انہوں نے۔ آپ نے جو کافیہ پڑھی وہ تو موٹے موٹے حروف میں ‏‏لکھی ہوئی ہو گی، ایک سطر میں زیادہ سے زیادہ تین، چار لفظ ہوں گے اور پورے صفحے پر زیادہ سے زیادہ تین، چار ‏‏سطور ہوں گی یا پانچ سطور ہوں گی۔ اگر اس کو عام خط کے ساتھ لکھا جائے تو یہ پوری کافیہ شاید ۱۰، ۱۲ صفحے بھی ‏‏مشکل سے بنے، تو آپ اندازہ لگائیے کہ ۱۰، ۱۲ صفحوں میں پوری نحو کو سمیٹ دینا اور بڑی ہی خوبصورت عبارت ‏‏کے ساتھ، ایسی کتاب جس نے بے انتہا مقبولیت حاصل کی علماء، طلباء میں بھئی۔ تو اس کافیہ کی شرح ہے یہ جامی ‏‏بھئی، جامی۔ اور یہ بھی بڑی پیاری اور بڑی قیمتی شرح لکھی صاحب جامی نے۔ آگے لکھ لیجیے بھئی! صاحب جامی کے احوال لکھ لیجیے۔‏ لکھیے بھئی! صاحب جامی کے احوال، لکھو بھئی! آپ کیوں نہیں لکھ رہے بھئی؟ کوئی ویسے نہ بیٹھے۔ قلم ساتھیوں سے ‏‏لو۔ صاحب شرح جامی کا نام نور الدین ابوالبرکات عبد الرحمن ابن احمد ہے۔ بھئی یہ نام کی ترتیب آپ کو سمجھ میں آ رہی ‏‏ہے؟ نور الدین، ابوالبرکات، عبد الرحمن۔ نور الدین جو ہے یہ ان کا لقب تھا، یہ کیا تھا ان کا؟ لقب تھا۔ قدیم زمانے میں ‏‏علماء کو قوم کی طرف سے اور بادشاہ وغیرہ کی طرف سے مختلف القاب دیے جاتے تھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ‏‏جتنا بڑا عالم ہوتا اسی طرح کا اس کی شان کے مطابق ان کو لقب دیا جاتا تھا اور اسی سے لوگ ان کو ذکر کرتے تھے، تو ‏‏ان کا لقب کیا تھا؟ نور الدین۔ اور یہ ابوالبرکات، یہ ان کی کنیت ہے بھئی۔ وہ نام جس کے شروع میں اب، ام وغیرہ آئے اس ‏‏کو کیا کہتے ہیں؟ کنیت، تو ابوالبرکات کیا ہے ان کی؟ کنیت ہے۔ اور عبد الرحمن ان کا نام ہے بھئی اور یہ بیٹے ہیں احمد ‏‏کے بھئی۔ جی آگے لکھیے۔ اسی طرح آپ کا لقب عماد الدین بھی ہے۔ البتہ آپ کا لقب نور الدین زیادہ مشہور ہے۔ الگ سطر میں لکھیے بھئی! الگ سطر میں جب بھی لکھیں، جب بھی یاد رکھیں ویسے بھی کوئی مضمون لکھیں، دونوں ‏‏طرف کچھ جگہ چھوڑ دیا کریں بھئی، ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک مسلسل لکھیں بڑا برا معلوم ہوتا ہے۔ تو ‏‏دونوں طرف کوئی ایک ایک انچ جگہ چھوڑ دیا کریں صفحے کے اور پھر اس میں پیرے بنایا کریں بھئی، ہر دو، چار، ‏‏چھ سطور کے بعد نیا پیرا بنا دیا کریں، نئی سطر سے شروع کیا کریں اور یہ جو پھر نئی سطر شروع کریں اس میں مزید ‏‏پھر ایک، ڈیڑھ انچ اور جگہ چھوڑ دیا کریں تاکہ پتہ لگے کہ یہاں سے نیا پیرا شروع ہو رہا ہے، اس سے تحریر جو ہے ‏‏خوشنما معلوم ہوتی ہے، آپ بھی کتابوں میں دیکھیں گے جتنی بھی کتابیں آپ دیکھیں گے آپ کو اسی طرح تحریر آپ ‏‏دیکھیں گے کہ مختلف پیرے بنے ہوتے ہیں، اس طرح کلام کے حصے بن جاتے ہیں، کلام کا سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ‏‏ہے اور تحریر بھی خوشنما معلوم ہوتی ہے۔ جی تو آگے الگ سطر لکھیے۔ آپ کے والد کا وطن اصلی ایران کا علاقہ اصفہان ہے۔ ایران کا علاقہ اصفہان ہے، یہ اصفہان صاد کے ساتھ ہے بھئی۔ ‏‏ایران کا علاقہ اصفہان ہے۔ اصفہان کی ایک بستی دشت میں—دشت بھئی! دال، شین، تاء لمبی دو نقطوں والی—اصفہان ‏‏کی ایک بستی دشت میں آپ کے آباء و اجداد آباد تھے۔ پھر کسی وجہ سے آپ کے والد صاحب خراسان کے ایک قصبے ‏‏خراسان کے ایک قصبے جام منتقل ہو گئے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ جام اسی نسبت سے آپ جامی کہلاتے ہیں۔ تو ‏‏جام منتقل ہو گئے۔ افغانستان کا مغربی حصہ خراسان کہلاتا تھا۔ آج کل وہ علاقہ جہاں جام بستی ہے وہ افغانستان کا صوبہ ‏‏غور غ و ر غور کہلاتا ہے۔ تو ملا عبدالرحمٰن جامی صوبہ غور کی اس بستی جام میں پیدا ہوئے۔ ۲۳ شعبان ۲۳ بھئی ۲، ‏‏‏۳، ۲۳ شعبان ۸۱۷ ہجری ۸۱۷، ۸، ۱، ۷ ہجری مطابق ۱۴۱۴ عیسوی ۱۴۱۴ عیسوی ۱، ۴، ۱، ۴ عیسوی۔ اسی جام بستی کی نسبت سے آپ نے اپنا تخلص جامی رکھا۔ تخلص بھئی وہ نام جو شعراء اشعار میں استعمال کرتے ہیں۔ ‏‏تو جامی آپ کا تخلص بھی ہے اور آپ کی جائے پیدائش کی طرف نسبت بھی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ جیسے ‏‏لاہوری کا کیا معنیٰ؟ لاہور والا، لاہور کی طرف منسوب۔ تو جامی آپ کا تخلص بھی ہے اور آپ کے علاقے کی طرف ‏‏نسبت بھی ہے یعنی جام کا رہنے والا۔ آپ کی پیدائش کے چند برس بعد آپ کے والد صاحب اس علاقے کے مشہور شہر ہرات منتقل ہو گئے۔ ہرات ہ، ر، ا اور ‏‏لمبی ت۔ ہرات منتقل ہو گئے اور وہی سکونت اختیار کر لی۔ ہرات میں عالم اسلام کی مشہور یونیورسٹی مدرسہ نظامیہ، ‏‏نظامیہ ن ہے اور ظ ہے بھئی ط، ظ نظامیہ۔ لکھ لیا؟ ہرات میں عالم اسلام کی مشہور یونیورسٹی مدرسہ نظامیہ تھی۔ اپنے ‏‏والد بزرگوار سے ابتدائی صرف و نحو پڑھنے کے بعد یہاں پر ملا جامی کو اللہ نے یہ موقع نصیب فرمایا کہ عالم اسلام ‏‏کی اس عظیم یونیورسٹی میں اپنے وقت کے بڑے بڑے علماء اور اساتذہ سے علوم حاصل کریں۔ بعد میں آپ علوم کی ‏‏تکمیل کے لیے سمرقند بھی تشریف لے گئے۔ سمرقند س، م، ر، ق، ن، د۔ بعد میں آپ علوم کی تکمیل کے لیے سمرقند بھی ‏‏تشریف لے گئے۔ آپ کے اساتذہ میں خواجہ علی سمرقندی بھی شامل ہیں۔ لکھ لیا؟ آپ کے اساتذہ میں خواجہ علی سمرقندی بھی شامل ہیں جو ‏‏شاگرد تھے میر سید السند کے۔ میر سید السند تو آپ جانتے ہیں بھئی، نحو میر کتاب آپ ان کی پڑھ چکے ہیں، بہت بڑے ‏‏عالم گزرے ہیں بھئی۔ اسی طرح مولانا شہاب الدین محمد جاجری جاجری ج، ا، ج، ر، ی۔ اسی طرح مولانا شہاب الدین ‏‏محمد جاجری بھی آپ کے اساتذہ میں سے ہیں۔ یہ شاگرد تھے علامہ سعد الدین س، ع، د۔ علامہ سعد الدین تفتازانی کے۔ ‏‏تفتازانی، تفتازانی دونوں جگہ ت دونوں نقطوں والی ہے بھئی۔ علامہ سعد الدین تفتازانی کے۔ یہ علامہ سعد الدین تفتازانی بھی بھئی بہت بڑے عالم گزرے ہیں اور ان کی بہت سی کتابیں داخل درس ہیں۔ ایک کتاب آپ ‏‏شرح تہذیب پڑھ چکے ہیں ثالثہ میں، اس کا جو متن ہے تہذیب وہ علامہ تفتازانی کا ہے بھئی۔ اسی طرح مختصر المعانی ‏‏آپ خامسہ میں پڑھیں گے، وہ بھی علامہ سعد الدین تفتازانی کی ہے۔ اور اسی طرح آپ شرح عقائد پڑھیں گے، وہ بھی ‏‏علامہ سعد الدین تفتازانی کی ہے۔ تو ان کی کئی کتابیں نا کتابیں داخل درس ہیں۔ اسی طرح توضیح و تلویح ہے بھئی۔ اسی طرح مولانا جند اصولی ج، ن، د، مولانا جند اصولی بھی آپ کے اساتذہ میں سے تھے۔ یہ بھی بہت بڑے عالم گزرے ‏‏ہیں بھئی۔ ملا جامی کو اللہ جل شانہ نے بے انتہا ذہانت و فطانت نصیب فرمائی تھی۔ یہ مشہور و معروف اساتذہ بھی آپ کی ‏‏ذہانت پر حیرت کا اظہار کرتے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ بہت ذہین تھے یہ بھئی، اللہ نے ان کو عجیب ذہن نصیب ‏‏فرمایا تھا بھئی۔ یہ ان کے اساتذہ بڑے بڑے جبال العلوم ہیں لیکن یہ بھی ملا جامی کی ذہانت پر حیران رہ جاتے تھے ‏‏بھئی، اللہ نے ان کو ایسا ذہن نصیب فرمایا تھا۔ تکمیل علوم کے بعد ایک مرتبہ خواب میں آپ کو ایک بزرگ کی زیارت ہوئی جنہوں نے آپ کو نصیحت کی کہ کسی اللہ ‏‏والے کا دامن تھام کر ان سے ہدایت و رہنمائی حاصل کرو۔ چنانچہ ملا جامی نے اس زمانے کے عظیم ولی اللہ خواجہ عبید ‏‏اللہ احرار ا، ح ہے، ح، ر، ا، ر۔ اس زمانے کے عظیم ولی اللہ خواجہ عبید اللہ احرار کی بیعت کر لی اور ان کے حلقۂ ‏‏سلوک سلوک س، ل، و اور چھوٹا ک ہے، اور ان کے حلقۂ سلوک میں داخل ہو گئے۔ حضرت خواجہ عبید اللہ احرار رحمہ ‏‏اللہ کی صحبت اور ان کے فیوض و برکات نے بہت جلد آپ کو روحانیت کے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا۔ اسی طرح ملا جامی ‏‏رحمہ اللہ نے شیخ سعد الدین کاشغری رحمہ اللہ اور دیگر بڑے بڑے مشائخ سے بھی استفادہ کیا۔ علوم و فنون میں اللہ جل جلالہ نے ملا جامی کو بڑا اونچا مقام نصیب فرمایا تھا علم تفسیر، علم حدیث، علم صرف، علم ‏‏نحو، علم منطق لکھ لیا بھئی؟ کیا لکھا؟ علم تفسیر، علم حدیث، علم صرف، علم نحو، علم منطق، علم ہیئت علم ہیئت بھئی ہ ‏‏دونوں آنکھوں والی، ی، اور پھر ہمزہ اور پھر لمبی ت ہے۔ علم ہیئت، یہ ستاروں وغیرہ کا جو علم ہے علم فلکیات جس کو ‏‏کہتے ہیں۔ علم ہیئت، علم ادب، شعر و شاعری اور تصوف میں ص کے ساتھ ہے تصوف۔ اور تصوف میں آپ بہت بلند مقام ‏‏رکھتے تھے جس کا اندازہ آپ کی تصانیف سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کی شہرت پورے عالم اسلام ‏‏میں پھیل گئی تھی۔ کیا لکھا؟ آپ کی زندگی میں ہی آپ کی شہرت پورے عالم اسلام میں پھیل گئی تھی۔ علماء و طلباء کی ‏‏زبانوں پر آپ کے صوفیانہ اشعار جاری تھے۔ علماء نے علمائے مختلف علوم وفنون میں آپ کی تصانیف کی تعداد 54 ‏‏‏(پچپن، چار) ذکر کی ہے، جبکہ بعض علماء لکھتے ہیں کہ آپ کی تصانیف کی تعداد 80 (اٹھ، صفر) سے زیادہ ہے۔ علمِ نحو میں آپ کی مشہور ومعروف کتاب شرحِ جامی، کافیہ کی شرح ہے جو آپ نے اپنے بیٹے کو پڑھانے کے لیے ‏‏تحریر فرمائی۔ آپ کے تمام بیٹے بچپن ہی میں وفات پا گئے تھے سوائے ایک بیٹے کے جس کا نام ضیاء الدین یوسف تھا۔ ‏‏اسی کے لیے آپ نے شرحِ جامی تصنیف فرمائی اور بیٹے کی نسبت سے اس شرح کا نام الفواہد الضیاعیۃ رکھا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ شرحِ جامی کا اصل نام کیا ہے؟ الفواہد الضیاعیۃ۔ لیکن یہ مشہور شرحِ جامی کے نام سے ‏‏ہے۔ مگر اس کتاب کی زیادہ شہرت شرحِ جامی کے نام سے ہے۔ کافیہ کی بہت سی شروحات لکھی گئیں مگر سب سے زیادہ شہرت کافیہ کی دو شرحوں کو حاصل ہوئی۔ ایک علامہ رضی ‏‏‏(را، ضاد، یا) کی شرحِ کافیہ اور ایک علامہ جامی کی شرحِ کافیہ۔ شرحِ جامی سینکڑوں سالوں سے علماء وطُلباء کی ‏‏توجہ کا مرکز ہے اور اولیاء اللہ اسے پڑھ رہے ہیں اور پڑھا رہے ہیں جس سے اس کتاب کی عند اللہ قبولیت کا اندازہ ‏‏لگایا جا سکتا ہے۔ ملا جامی کی وفات جمعہ کے روز 18 محرم 898 (آٹھ، نو، اٹھ) ہجری مطابق 1492 (ایک، چار، نو، دو) عیسوی کو ہرات ‏‏شہر میں ہوئی اور یہیں پر آپ کو دفنایا گیا۔ بس بھئی۔ ملا جامی کے احوال مکمل ہوئے۔ ملا جامی کو اللہ نے بڑی قبولیت نصیب فرمائی بھئی اور یہ بڑے اللہ والے تھے، عظیم ‏‏ولی اللہ تھے بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملا جامی کو والہانہ محبت، عقیدت تھی بھئی، حد سے زیادہ محبت۔ ‏‏ویسے تو ہر مسلمان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت ہے لیکن کچھ لوگوں کے افعال سے باقاعدہ یہ ‏‏محبت چھلکتی ہوئی نظر آتی ہے بھئی۔ تو ملا جامی بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں کہ ملا جامی نے ایک مرتبہ اپنے شہر سے مدینہ منورہ کا سفر کیا صرف حضورِ اقدس ‏‏صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کی زیارت کے لیے بھئی، بغیر حج کے، یہ صرف روضہ اقدس کی زیارت ‏‏مقصود تھی بھئی۔ اور اس سلسلے میں بزرگوں نے بہت سے واقعات بھی نقل کیے ہیں۔ ایک عجیب واقعہ انسان سن کر ‏‏حیران رہ جاتا ہے۔ ملا جامی حج کے لیے تشریف لے گئے اور حج کے بعد پھر ارادہ کیا کہ اب مسجدِ نبوی میں حاضری ‏‏دوں، مدینہ کی طرف جاؤں بھئی۔ تو جو مکہ کا گورنر تھا اس کو خواب میں حضور علیہ السلام کی زیارت ہوئی اور ‏‏حضور نے فرمایا کہ یہ ملا جامی آئے ہوئے ہیں مکہ مکرمہ میں اور اب یہ میرے پاس مدینہ آنا چاہتے ہیں ان کو روکو ‏‏بھئی، میرے پاس نہ آئیں۔ تو مکہ کے گورنر نے آپ کو منع کر دیا کہ آپ نے مدینہ کا سفر نہیں کرنا۔ اور ادھر ملا جامی وہ تو حضور علیہ السلام ‏‏سے عشق کی حد تک محبت تھی بھئی ان کی اور میں نے جیسے بتایا کہ صرف حضور کے روضے کی زیارت کے لیے ‏‏ہی ایک مرتبہ سفر کیا تھا انھوں نے مدینہ کا، حالانکہ اس زمانے میں سفر کتنا مشکل کام تھا بھئی، کئی کئی مہینے لگتے ‏‏تھے بھئی اور جنگلوں سے گزرنا پڑتا تھا اور کوئی آرام، ٹھکانہ وغیرہ راستے میں نہیں ہوتا تھا بھئی۔ چنانچہ گورنر نے منع کر دیا لیکن ملا جامی پھر چھپ کر چل پڑے بھئی۔ پھر خواب میں حضور علیہ السلام کی زیارت ‏‏ہوئی مکہ کے گورنر کو حکم دیا کہ بھئی ان کو میں نے کہا تھا ان کو منع کرو، وہ چل پڑے ہیں بھئی۔ تو گورنر نے آدمی ‏‏پیچھے دوڑائے اور پھر وہ ملا جامی کو پکڑ کر لے آئے، گورنر نے ان کو قید میں ڈال دیا کہ میں نے منع کیا تھا، پھر ‏‏مدینہ جا رہے ہیں۔ تو تیسری رات پھر خواب میں حضور علیہ السلام کی زیارت ہوئی اور وہ مکہ کے گورنر سے فرمانے لگے، بھئی میں ‏‏نے ان کو جو منع کیا یہاں آنے سے، اس وجہ سے نہیں کہ میں ان سے ناراض وغیرہ تھا، وجہ صرف یہ تھی کہ انھوں ‏‏نے کچھ اشعار لکھے ہیں نعتیہ میری مدح کے اندر اور وہ اشعار وہ آکر میرے روضے پر پڑھتے تو وہ ایسے اشعار ‏‏تھے کہ روضے سے میرا ہاتھ نکلتا ان سے مصافحہ کرنے کے لیے اور جس سے فتنہ پھیلنے کا خطرہ تھا اس لیے میں ‏‏نے منع کیا کہ ان کو نہ آنے دو۔ تو دیکھو یہ کتنا اونچا مقام تھا، تو گورنر نے پھر قید سے ان کو نکالا اور ان کا بڑا اعزاز و اکرام کیا بھئی۔ اسی طرح والد ‏‏صاحب رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ یہ واقعہ سنا کہ ملا جامی جب حاضر ہوتے حضور علیہ السلام کے روضے پر تو یہ ‏‏شعر پڑھا کرتے تھے بڑے ناز سے‎: ‎بَسَفَرْ مِی‌رَوَمْ چِہْ فَرْمَائِی؟ سَیِّدِیْ وَ مُرْشِدِیْ وَ مَوْلَائِیْ کہ میں سفر پر جا رہا ہوں، اے ‏‏میرے آقا! اے میرے سردار! آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو جواب میں حضور علیہ السلام کی طرف سے روضے سے وہ جواب سنتے تھے باقاعدہ حضور علیہ السلام کا اور ‏‏حضور فرماتے‎: ‎بَسَفَرْ رَفْتَنَتْ مُبَارَک بَادْ، بَسَلاَمَتْ رَوِیْ وَ بَازْ آئِی کہ تمہارا سفر پر جانا مبارک ہو۔ سلامتی کے ساتھ جاؤ ‏‏اور پھر آؤ۔ تو چنانچہ جب بھی وہ حج کے لیے تشریف لے جاتے تو حضور کے روضے پر یہ شعر پڑھا کرتے تھے اور جواب میں ‏‏حضور علیہ السلام کی طرف سے یہ شعر سنتے تھے اور باقی افراد نہیں سنتے تھے، صرف جامی سنا کرتے تھے، ‏‏سمجھ میں آیا۔ تو چنانچہ جب آخری حج کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں پر پھر اسی طرح روضے پر جب حاضری ہوئی تو یہ شعر ‏‏پڑھ رہے تھے کہ‎: ‎بَسَفَرْ مِی‌رَوَمْ چِہْ فَرْمَائِی؟ سَیِّدِیْ وَ مُرْشِدِیْ وَ مَوْلَائِیْ تو جواب آیا‎: ‎بَسَفَرْ رَفْتَنَتْ مُبَارَک بَادْ غور کیا، ‏‏دوسرا مصرع نہیں سننے میں آ رہا۔ پھر دوبارہ شعر پڑھا۔ پھر وہی جواب آیا: بَسَفَرْ رَفْتَنَتْ مُبَارَک بَادْ، سفر پر جانا آپ کا ‏‏مبارک ہو۔ دوسرا مصرع نہیں سن رہے جس میں ذکر تھا: بَسَلاَمَتْ رَوِیْ وَ بَازْ آئِی، سلامتی سے جاؤ اور پھر واپس آؤ۔ تو جامی سمجھ گئے کہ معلوم ہوا یہ میرا آخری سفر ہے، مجھے پھر یہاں آنا میری قسمت میں نہیں، پھر دوبارہ یہاں آنے ‏‏کا موقع نہیں ملے گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا، پھر اس کے بعد حج کا موقع نہیں ملا اور آپ انتقال فرما گئے بھئی۔ تو یہ اللہ والے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ جو اللہ اور رسول کے راستے پر چلتے ہیں وہ باقاعدہ حضور علیہ السلام کے ‏‏جواب کو سنتے ہیں، جب وہاں روضے پر حاضر ہو کر سلام کہتے ہیں تو باقاعدہ حضور کے جواب کو سنتے ہیں بھئی ‏‏اور یہ تو روایات میں بھی ہے کہ حضور علیہ السلام سب کا جواب دیتے ہیں بھئی، لیکن جن کو اللہ نے سننے والے کان ‏‏دیے ہوں وہ سنتے بھی ہیں۔ والد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ، وہ عجیب ان ‏‏کی شخصیت تھی۔ اپنے آپ کو انھوں نے تمام زندگی بہت چھپا کر رکھا لیکن کبھی کبھار کوئی ایک آدھ بات زبان پر ان ‏‏کے آ جاتی۔ طلبا بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ مجھے ہر رات حضور علیہ السلام کی زیارت ہوتی ہے بھئی۔ اور والد ‏‏صاحب کو بھی اللہ نے ایسا عشقِ نبی نصیب فرمایا تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ ایک مرتبہ وہ ‏‏عمرے کے لیے تشریف لے جانے لگے تو ترمذی شریف کے درس میں طلبا سے فرمایا کہ بھئی میں عمرے کے سفر پر ‏‏جا رہا ہوں اور 15، 20 دن بعد میری واپسی ہوگی۔ تو آپ لوگوں کے لیے کیا لاؤں بھئی وہاں سے؟ والد صاحب کی بڑی ‏‏جلالی طبیعت تھی بھئی، ایک عجیب اللہ نے رعب دیا تھا، من جانب اللہ رعب تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ‏‏اتنا رعب کہ جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس سے اندازہ لگا لیجیے والد صاحب رحمہ اللہ کا درسِ ترمذی روزانہ ظہر کے بعد شروع ہوتا تھا عصر تک بھئی۔ تو ‏‏روزانہ دو، ڈھائی گھنٹے تقریباً ترمذی شریف کا سبق ہوتا تھا۔ اور کتنے ہی طلبا نے آپ کے، کتنے ہی تلامذہ نے ہمیں ‏‏وفات کے بعد آ کر بتلایا کہ میں حضرت کے سامنے پہلی صف میں بیٹھتا تھا، صرف حضرت سے ایک، ڈیڑھ گز کے ‏‏فاصلے پر اور پورا سال میں یہاں پہلی صف میں بیٹھتا رہا لیکن پورے سال میں اتنی ہمت کبھی نہیں ہوئی کہ نظر بھر ‏‏کے حضرت کے چہرے کو دیکھ لوں بھئی۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک سال کوئی کسی کے سامنے بیٹھا رہے اور کہے کہ میں نظر بھر کے حضرت کے چہرے کو ‏‏نہیں دیکھ سکا، تو وہ اللہ کی طرف سے ایک عجیب رعب آپ کو نصیب فرمایا گیا تھا بھئی۔ تو طلبا بتلاتے ہیں کہ وہ فرمانے لگے کہ میں عمرے کے سفر پر جا رہا ہوں، آپ کے لیے کیا لاؤں؟ تو حضرت کا جلال ‏‏رعب بہت زیادہ تھا، سارے خاموش ہیں۔ آپ پھر مسکرائے اور فرمایا کہ بھئی کیا لاؤں آپ لوگوں کے لیے؟ سینکڑوں ‏‏طلبا بیٹھے ہیں، ایک طالب علم نے ہمت کر کے درمیان میں سے بولا کہ استاد جی! وہاں روضہ اقدس پر ہمارا سلام ‏‏عرض کر دیجیے گا۔ پھر تو سارے ہی بول پڑے کہ استاد جی! ہمارا بھی سلام، ہمارا بھی سلام۔ فرمایا: ٹھیک ہے بھئی۔ ‏‏چنانچہ سفر پر چلے گئے بھئی۔ اور پھر واپس آئے۔ جب عمرے اور حج وغیرہ کے سفر سے واپس آتے تو ہمیشہ طلبا سے بڑی عجیب محبت ہوتی تھی، ‏‏جو علومِ دین پڑھنے والے طلبا تھے۔ تو ان سب کو مدینہ منورہ کی کھجوریں بھی کھلاتے اور آبِ زمزم بھی پلاتے تھے۔ تو واپس آئے اور وہاں درس میں پھر طلبا سے فرمانے لگے: میں نے وہاں روضہ رسول پر آپ لوگوں کا سلام پیش کیا۔ ‏‏اور میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ جو غریب اور مسکین طلبا ہیں، جو سارا سال قَالَ اللَّهُ قَالَ الرَّسُولُ پڑھتے ہیں، یا رسول ‏‏اللہ! وہ آپ کی خدمت میں سلام پیش کر رہے تھے۔ اور پھر آگے فرمانے لگے کہ واللہ! ثم واللہ! میں نے اپنے کانوں سے ‏‏سنا کہ حضور علیہ السلام نے تمہارے سلام کا جواب دیا بھئی۔ طلبا کی چیخیں نکل گئیں بھئی، رونے لگ پڑے سب بھئی۔ تو ان کی ایک عجیب شخصیت تھی والد صاحب کی اور والد صاحب کو اللہ نے ایسا عشقِ نبی نصیب فرمایا تھا جسے ‏‏لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کے جتنے تلامذہ آپ کو ملیں گے، وہ سب ذکر کرتے ہیں کہ جو عشقِ نبی ہم نے ‏‏حضرت میں دیکھا وہ عشقِ نبی اور ہم نے کہیں نہیں دیکھا۔ آپ کے ایک ایک عمل سے عشقِ نبی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ روزانہ درسِ ترمذی کے ساتھ شمائلِ ترمذی، جس میں حضور علیہ السلام کی عادات وغیرہ ذکر ہیں، حضور صلی اللہ ‏‏علیہ وسلم کی عادات، حلیہ مبارک اور اسی طرح وفات وغیرہ ان چیزوں کا ذکر ہے، وہ شمائلِ ترمذی بھی والد صاحب ‏‏پڑھاتے تھے۔ اولاً درسِ ترمذی ہوتا اور پھر آخر میں تھوڑی دیر کے لیے شمائل کا بھی سبق ہوتا تھا۔ طلبا بتلاتے ہیں کہ شاید ہی شمائل کا کوئی سبق ایسا گزرا ہو جس میں خود بھی نہ روئے ہوں اور طلبا کو بھی نہ رلایا ہو ‏‏بھئی۔ اور خاص طور پر جب وفات النبی کا ذکر آتا تھا، تو اس کا ذکر ایسے عجیب الفاظ میں کرتے تھے کہ طلباء کی چیخیں ‏‏نکل جاتی تھیں، دارالحدیث میں ایک عجیب ایک چیخ و پکار کا سماں ہوتا تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو یہ ملا جامی جن کی یہ عظیم شرح اب ہم شروع کریں گے اور یہ بڑے اللہ والے تھے اور بہت اللہ نے ان کو عجیب مقام ‏‏اور عجیب شہرت نصیب فرمائی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اور ہونا تو یہ چاہیے تھا بھئی، یہ پوری کتاب آغاز سے اختتام تک ہم پڑھتے لیکن نصاب کے اندر یہ صرف مرفوعات ‏‏سے جو حصہ ہے وہ شامل ہے، تو ہم کوشش کریں گے کہ جتنا زیادہ سے زیادہ ہم حصہ پڑھ لیں۔ اگر اللہ نے وقت میں ‏‏برکت دی اور موقع ملا تو اسی سال کوشش کریں گے کہ جتنا نصاب سے زائد حصہ ہے اس کو بھی ہم پڑھ لیں جس قدر ‏‏پڑھ سکیں بھئی۔ اور اس کتاب کے آغاز میں، اس کتاب کے آغاز میں ایک حاصل محصول کی بحث آتی ہے بھئی، حاصل محصول۔ تقریباً ‏‏یہ بڑا نسخہ ہو کتاب کا تو اس میں تقریباً ایک ڈیڑھ صفحے کی بحث ہے حاصل محصول۔ اور وہ بڑی مشکل اور پیچیدہ ‏‏بحث ہے۔ حتیٰ کہ بڑے بڑے اساتذہ اس کو پڑھاتے ہوئے پریشان ہوتے ہیں بھئی۔ والد صاحب رحمہ اللہ نے اس حاصل محصول کی شرح لکھی بھئی۔ یہ ڈیڑھ صفحے کی بحث ہے اور اس کی شرح کی ‏‏تقریباً کوئی ۵۰۰ کے لگ بھگ صفحات میں بھئی۔ اور یہ والد صاحب رحمہ اللہ کی پہلی تصنیف تھی طالب علمی کے بعد۔ ‏‏جب والد صاحب رحمہ اللہ نے دورہ حدیث کیا تو ابھی آپ کی داڑھی بھی پوری طرح نہیں آئی تھی، انتہائی کم عمری میں۔ ‏‏اور پھر دورہ حدیث کے بعد آپ نے جو پہلی تصنیف کی وہ اس حاصل محصول کی شرح کی جس کا نام ہے "بغیۃ ‏‏الکامل"۔ "بغیۃ الکامل السامی فی شرح المحصول والحاصل للجامی"۔‏ تو "بغیۃ الکامل" کے اندر وہ اس حاصل محصول کی بحث کی شرح کرتے ہیں اور بڑی مشکل اور پیچیدہ کتاب ہے بھئی ‏‏‏"بغیۃ الکامل"۔ خود والد صاحب رحمہ اللہ "بغیۃ الکامل" کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یہ نحو کی مشکل ترین کتابوں میں ‏‏سے ہے اور اسے ہر ایک نہیں سمجھ سکے گا بھئی۔ ہر ایک نہیں سمجھ سکے گا۔ اور ایسی عجیب کتاب ہے انسان حیران رہ جاتا ہے۔ علامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ جو بہت بڑے عالمِ دین گزرے ہیں ‏‏اور برصغیر کے علماء ان کے نام سے بخوبی واقف ہیں، تو جب والد صاحب نے یہ "بغیۃ الکامل" لکھی تو شروع میں ‏‏تقریظ لکھوانے کے لیے ان کے پاس لے گئے۔ اور علامہ شمس الحق افغانی علوم و فنون میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ ‏‏انہوں نے تقریظ لکھی اور تقریظ میں وہ لکھتے ہیں کہ: "میں سالہا سال تک نحو کی تدریس کرتا رہا ہوں، نحو کے تمام ‏‏مسائل میں جانتا ہوں اور پاکستان اور بیرونی دنیا میں جہاں کہیں بھی میں سفر کرتا ہوں تو جو مکتبہ وغیرہ ہو، جو اس ‏‏علاقے میں جو مکتبے ہوں، میں ان میں ضرور جاتا ہوں اور وہاں کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں۔ لیکن میرا ذہن اب یہ بن گیا ‏‏تھا کہ نحو کی کتابیں اب شاید مجھے فائدہ کبھی نہیں دیں گی، کیونکہ میں نحو کی جو بھی کتاب اٹھاتا اور اس کا مطالعہ ‏‏کرتا تو اس میں جو بھی باتیں لکھی ہوتیں وہ پہلے سے ہی ساری مجھے معلوم ہوتی تھیں، تو میرے ذہن میں تھا کہ اب ‏‏شاید ہی کوئی نحو کی کتاب ایسی ملے جو جس سے مجھے کوئی فائدہ ہو جائے۔ لیکن پھر آگے فرماتے ہیں، یہ جو کتاب ‏‏ہے "بغیۃ الکامل" اس نے میرے علم میں بے انتہا اضافہ کیا۔"‏ انسان حیران رہتا ہے! ایک طالب علم دورہ حدیث کرنے کے بعد ایک کتاب لکھ کر لا رہا ہے اور ایک علم کا پہاڑ کہہ رہا ‏‏ہے کہ اس کتاب نے میرے علم میں بے انتہا اضافہ کیا بھئی۔ اور پھر لکھتے ہیں کہ اس کتاب کو اس مصنف نے ایسی ترتیب دی ہے، اس کی ترتیب بھی ایسی ہے کہ یہ عقلِ انسانی ‏‏کی انتہا ہے بھئی! اس سے بہتر ترتیب ہو ہی نہیں سکتی۔ اور پھر فرماتے ہیں کہ: "یہ مبالغہ نہ سمجھنا، مبالغہ میری ‏‏عادت نہیں ہے اور یہ اس عالم کے علم کا یہ حال ہے جوانی میں، بلکہ نو جوانی میں،" یہ ان کے الفاظ ہیں کہ: "اگر یہ اس ‏‏عالم کے علم کا یہ عالم ہے جوانی میں، بلکہ نو جوانی میں، تو میں پیشین گوئی کرتا ہوں، امید کرتا ہوں کہ یہ شخص اپنے ‏‏زمانے کے علماء کا امام بنے گا بھئی۔" تو یہ انہوں نے ابتدائی زمانے میں والد صاحب کے بارے میں پیشین گوئی کی تھی ‏‏کہ اللہ نے ایسا علم دیا ہے، انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اور والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جب میں نے یہ کتاب لکھی تو مفتی محمود رحمہ اللہ کے ساتھ ایک مرتبہ انہی ‏‏دنوں ٹرین میں سفر کرنے کا موقع ملا اور مفتی محمود رحمہ اللہ کے ساتھ ایک اور بڑے بوڑھے عالم بھی تھے۔ تو ٹرین ‏‏چل پڑی، سفر شروع ہوا، اچانک مجھے خیال آیا کہ میرے پاس تو یہ "بغیۃ الکامل" کا نسخہ موجود ہے، میں میں اٹھا بیگ ‏‏میں سے وہ کتاب نکالی اور وہ عالم کو تحفے کے طور پر دے دی کہ یہ میں نے کتاب لکھی ہے۔ وہ جو عالم تھے انہوں ‏‏نے کتاب کھولی اور ایک آدھ صفحہ ہی پڑھا تھا ابھی کہ اٹھے اور اٹھ کر آئے اور مجھے ۱۰ روپے انعام دیے، ۱۰ ‏‏روپے تو اس زمانے میں تنخواہ ہوا کرتی تھی بھئی اتنے زیادہ پیسے۔ تو ۱۰ روپے مجھے انہوں نے انعام میں دے دیے۔ ‏‏تو مفتی محمود رحمہ اللہ حیران رہ گئے کہ: "بھئی، ابھی آپ نے کتاب کھول کر ایک آدھ صفحہ نہیں پڑھا اور آپ اتنا بڑا ‏‏انعام دے رہے ہیں؟" تو وہ عالم کہنے لگے کہ: "میں ۴۰ سال سے شرحِ جامی پڑھا رہا ہوں اور اس کتاب کے پہلے ‏‏صفحے پر جو بات لکھی ہے مجھے اس کا علم نہیں تھا بھئی۔" تو یہ والد صاحب رحمہ اللہ کو اللہ نے عجیب علوم نصیب ‏‏فرمائے تھے بھئی اور عجیب سنت کی محبت ان کو نصیب فرمائی تھی۔ تو ان کی یہ کتاب ہے "بغیۃ الکامل" بھئی۔ لیکن بہرحال وہ حصہ تو اب نصاب میں شامل ہی نہیں ہے اور میں نے بتایا کہ شروع میں یہ چونکہ جامی میں ساری ‏‏ترکیبوں کی بات ہوگی، تو ہم چند دن ترکیب کر لیں گے۔ جب آپ کی بنیادی ترکیب آپ کو آ جائے گی انشاء اللہ پھر جامی ‏‏میں وہ جو بھی بات کریں گے آپ کو سمجھ میں آتی جائے گی۔ تو شروع میں چند دن ہم ترکیب کریں گے، پھر اس کے بعد ‏‏انشاء اللہ کتاب شروع کر دیں گے۔ اگر ۱۰-۱۲ دن ہم ۱۵ دن ترکیب کر لیں اور اتنا ہی توفیق اللہ دے دیں دو دو تین تین ‏‏گھنٹے، انشاء اللہ بہترین ترکیب عبارت آپ پڑھنا آپ کو آ جائے گی کہ عبارت پڑھتے کیسے ہیں۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔ ‏ ‏