کتاب ا لنکاح نکاح کا معنی عربی زبان میں نکاح وطی ا ور عقد یعنی ایجاب و قبول کو کہتے ہیں ۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ دونوں معنی حقیقی ہیںاوربعض علماء فرماتے ہیں  کہ یہ دونوں معنی حقیقی نہیں ہیں بلکہ ایک معنی حقیقی ہے اور دوسرا معنی مجازی ہے ۔ کسی لفظ کو جس معنی کیلئے وضع اور مقرر کیا جائے وہ اس لفظ کا حقیقی معنی کہلاتا ہے اور پھر اس لفظ کو کسی دوسرےمعنی کیلئے استعمال کرلیا جائے تو وہ اس کا مجازی معنی کہلاتا ہے جیسے لفظ ’’شیر ‘‘ اردو زبان میں ایک جنگلی درندے  کیلئے وضع و مقرر کیا گیا ہے البتہ شیر کا لفظ کبھی کبھار بہادر آدمی کیلئے بھی استعمال کرلیا جاتا ہے تو جنگلی درندہ اس لفظ ِ ’’شیر ‘‘ کا حقیقی معنی ہے اور بہادر آدمی اس کا مجازی معنی ہے ۔  چنانچہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ لفظ نکاح حقیقت ہے وطی میں اور مجاز ہے عقد میں یعنی وطی اس کا حقیقی معنی ہے اور عقد اس کا مجازی معنی اور بعض علماء اس کے برعکس فرماتے ہیں کہ لفظ نکاح کا حقیقی معنی عقد یعنی ایجاب و قبول ہے اور مجازی معنی وطی ہے ۔ وطی کا معنی ہے مرد کا عورت سے  مباشرت کرنا اورصحبت کرنا ۔  بعض علماء کے نزدیک یہ دونوں معنی حقیقی ہیں یعنی لفظ نکاح مشترک لفظی ہے ان دونوں معنی کیلئے ۔ مشترک لفظی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لفظ نکاح کو دونوں معنی یعنی وطی اور عقد کیلئے الگ الگ وضع کیا گیا ہے لہٰذا یہ دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں ۔  جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ لفظ نکاح مشترک معنوی ہے وطی اور عقد کیلئے کیونکہ نکاح کا حقیقی معنی ہے ضم الشیء إلی الشی ء یعنی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا اور جوڑنا اور یہ معنی و مفہوم صادق آتا ہے عقد پر بھی اور وطی پر بھی ۔ عقد میں بھی ایک مرد اور عورت کو ملادیا جاتا ہے اور ان میں جوڑ پیدا کردیا جاتا ہے اور پھر یہ میاں بیوی کہلاتے ہیں ۔ اسی طرح وطی میں بھی ملانے کا معنی موجود ہے کہ ایک شرمگاہ کا ملانا دوسری شرمگاہ سے ۔  شامی وغیرہ میں ہے  النکاحُ لغۃً حقیقۃٌ فی الوَطْیِ مجازٌ فی العقدِ وقیل بالعکسِ و نَسَبَہ الأصولیونَ إلی الشافعیِّ رحمہ اللہ تعالی و قیل مشترکٌ لفظیٌّ و قیل موضوعٌ لِلضَّمِّ الصادِقِ علی العقدِ و الوطیِ ۔ یہ تو نکاح کا لغوی معنی بیان ہوا ۔ جبکہ نکاح کا شرعی اور اصطلاحی معنی و تعریف یہ ہے النکاحُ ہو عقدٌ یفیدُ مِلْکَ الْمُتْعَۃِ قَصْدًایعنی نکاح ایسا عقد ہے جس کے ذریعے خاوند کا بیوی سے نفع اٹھانا اور صحبت کرنا جائز ہوجاتا ہے اور اس عقد کے ذریعے یہی نفع اٹھانا مقصود ہوتا ہے ۔ قصد ًا کی قید کے ذریعے باندی کی بیع وشراء کو خارج کردیا ۔ باندی کو خریدا جائے تو آقا کو ملک متعہ حاصل ہوتی ہے اور آقاکیلئے اس سے صحبت جائز ہوجاتی ہے مگر باندی خریدنے کے ذریعے اصل مقصود ملک متعہ نہیں ہوتی بلکہ اصل مقصود ملک رقبی ہوتی ہے یعنی باندی کی ذات کا مالک بننا مقصود ہوتا ہے اور جب انسان باندی کی ذات کا مالکبنتا ہے تو ذات کے تابع ہوکر مالککیلئے ملک متعہ بھی حاصل ہوجاتی ہے ۔ تو قصد ًا کی قید کے ذریعے باندی کی بیع کو نکاح کی تعریف سے نکال دیا ، باندی کی بیع و شراء کو نکاح نہیں کہہ سکتے کیونکہ باندی میں ملک متعہ قصد ًا حاصل نہیں ہوتی بلکہ تبعاً حاصل ہوتی ہے ۔ نکاح کا حکم نکاح کا حکم مختلف ہے باعتبارِ اختلافِ احوال ۔ کبھی نکاح فرض ہوتا ہے، کبھی واجب ، کبھی سنت ، کبھی حرام اور کبھی مکروہ تحریمی ۔ فقہاء لکھتے  ہیں کہ نکاح واجب ہے عند التَّوَقَان ای عند الاشتیاق یعنی جب عورت کی رغبت وشوق ہو اور زنا میں مبتلا ہونے کا خوف ہو اور اگر زنا میں مبتلا ہونے کا یقین ہو تو نکاح فرض ہے لیکن چند شرطیں ہیں جن کا بیان آگے آئیگا ۔ حالت ِ اعتدال میں نکاح سنت مؤ کدہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی وجہ سے اور نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول مبارک کی وجہ سے  النکاحُ مِن سُنَّتِی فمن رَّغِبَ عن سنتی فَلَیْسَ مِنِّی ۔  یعنی نکاح میری سنت ہے جس شخص نے میری سنت سے منہ موڑ ا اس کا مجھ سے تعلق نہیں ۔ نیز حدیث ہے  اَرْبَعٌ مِن سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الحياءُ، وَالتَّعَطُّرُ، وَالسِّوَاكُ، والنِّكاحُ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ چار چیزیں  رسولوں کی سنت میں سے ہیں: حیاء رکھنا، خوشبو استعمال کرنا، مسواک کرنا اور نکاح کرنا ۔نیز حدیث ہے  تَـزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّی مُكَاثِـرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ .یعنی آپ ﷺ نے فرمایا ” ایسی عورتوں سے شادی کرو جو بہت محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی ہوں ۔ بلاشبہ میں تمہاری کثرت کے ذریعے دیگر امتوں پر فخر کروں گا۔ “نیز حدیث میں ہے مَنْ تَـزَوَّجَ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الْإيمانِ؛ فَلْيَتَّـقِ اللهَ فی النِّصْفِ الباقِی.جس نے نکاح کرلیا اس نے آدھا ایمان بچا لیا ۔ پھر باقی آدھے کے بچانے میں اللہ سے ڈرتا رہے ۔   امام شافعی رحمہ اللہ تعالی اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ نکاح کرنا بہتر ہے یا نکاح کے بغیر زندگی گزارنا ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تزوّج یعنی شادی بہتر ہے اور سنت مؤکدہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی وجہ سے اور مذکورہ احادیث وغیرہ کی وجہ سے ۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ تعالی ترکِ تزوّج کو بہتر قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ نکاح کی وجہ سے عموماً انسان بڑے  مصائب میں مبتلا ہوجاتا ہے نیز نکاح کی وجہ سے عبادت کا موقع کم ملتا ہے کیونکہ انسان اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے میں لگا رہتا ہے ۔  بہرحال عند الاحناف نکاح فرض ہوتا ہے یا واجب یا سنت لیکن چند شرطیں ہیں ۔ شرائط ِ نکاح اول یہ ہے کہ مالکمہر ہو آجِلًا یا عاجِلًا یعنی فی الحال مہر اس کے پاس موجود ہو یا مہر کماکر ادا کرنے کے قابل ہو ۔ ۲- مالک نفقہ ہو یعنی بیوی کو نفقہ دے سکے یا نفقہ کماکر کھلانے کے قابل ہو ۔ ۳- خوفِ جور و ظلم نہ ہو یعنی یہ خوف نہ ہو کہ میں بیوی پر ظلم و ستم کرونگا ۔ ۴- قادر عَلَی السَّکَن بھی ہو یعنی بیوی کیلئے رہائش کا انتظام کرسکے ۔ علماء لکھتے ہیں کہ اگر مالکمہر و نفقہ نہ ہو تو نکاح مکروہ تحریمی ہے اور اگر طبیعت ظالمانہ ہے اور بیوی پر ظلم و ستم کرنے کا خوف ہے تو ایسے شخص کیلئے بھی نکاح مکروہ تحریمی ہے اور اگر ظلم و ستم کرنے کا یقین ہو تو پھر نکاح حرام ہے ۔ عقد نکاح کے صحیح ہونے کیلئے چند شرطیں ہیں ۔ حُضُورُ شاہِدَینِ حُرَّینِ مُکَلَّفَینِ سامِعَینِ قَولَہُما فاہِمَینِ مُسْلِمَین ہوں یعنی دو گواہ عقد کے وقت موجود ہوں اور وہ آزاد ہوں مکلّف ہوں یعنی عاقل بالغ ہوں اور اپنے کانوں سے ایجاب و قبول کو سن لیں اور اس ایجاب و قبول کا معنی انہیں سمجھ آرہا ہو اور وہ دونوں گواہ مسلمان ہوں یا گواہ ایک مرد اور دو عورتیں ہوں اور ان میں مذکورہ تمام شرائط پائی جائیں ۔  تو شاہِدَین کی پانچ شرطیں ہوئیں ۔ بعض علماء نے چھٹی شرط کا اضافہ بھی کیا کہ دونوں گواہ انسان ہوں لہٰذا صرف جنات کی موجودگی میں  نکاح نہیں ہوگا ۔ بعض نے ایک اور شرط بھی لگائی کہ نکاح اپنی ہی جنس کے ساتھ ہونا چاہئے لہٰذا جنیہ کے ساتھ انسان کا نکاح جائز نہیں ۔  نکاح کی مصلحتیں اور آفات امام غزالی رحمہ اللہ تعالی نے نکاح کی کچھ آفات بھی ذکر کی ہیں اور کچھ فوائد بھی ۔فوائد پانچ ہیں ۔ ۱-تحصیل اولاد ۔۲- کسر شہوت یعنی شہوت کا علاج۔۳- تدبیر منزل یعنی گھر کا انتظام و انصرام سنبھالنااور اسےچلانا ۔۴- کثرتِ عشیرہ یعنی خاندان کا بڑھ جانا کیونکہ نسبی رشتوں کے ساتھ ساتھ اب نئے سسرالی رشتے بھی بن گئے ۔۵- جہاد بالنفس باداء حقوقہن یعنی جہاد بالنفس کا زیادہ موقع ملے گا کہ اب اہل خانہ کے حقوق بھی اداء کرنے پڑیں گے ۔  اور آفات تین ہیں ۔۱- عجز عن طلب الحلال یعنی اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے  طلب حلال کی کوشش انسان کوعاجز کردیتی ہے اور وہ فقر و فاقہ میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ۲- قصور عن اداء حقوقہن یعنی انسان اپنے اہل خانہ کے حقوق صحیح طور پر ادا نہیں کرتااور نتیجے کے طور پر آخرت میں عظیم مواخذے کا مستحق بن جاتا ہے ۔ ۳- اہل خانہ و اولاد مانع بنتے ہیں عبادت سے یعنی انسان اہل و عیال اور اولاد کی ضروریات پوری کرنے میں لگا رہتا ہے اور اس طرح اسے اللہ تعالی کی عبادت کرنے کا موقع کم ملتا ہے۔ بہرحال نکاح اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ اس میں دنیا کے ساتھ ساتھ دین کا بھی بڑا فائدہ ہے ۔ آدمی گناہ سے بچتا ہے ۔ دل مطمئن ہوجاتا ہے ۔ فائدہ کا فائدہ اور ثواب کا ثواب ۔ میاں بیوی کا پیار و محبت کی باتیں کرنا ، ہنسی دل لگی کرنا نفل نمازوں سے بہتر ہے ۔ حدیث شریف میں  ہے کہ اہل و عیال والے شخص کی دو رکعتیں بغیر اہل و عیال والے شخص کی ستر رکعتوں سے بہتر ہیں اور دوسری حدیث میں بجائے ستر کے بیاسی کا عدد ذکر ہوا ہے کہ اہل و عیال والے شخص کی دو رکعتیں بغیر اہل و عیال والے شخص کی بیاسی رکعتوں سے بہتر ہیں ۔