آچھا بھئی، آج ہم ہدایت کی جلدِ ثانی کتابُ النکاح سے شروع کریں گے۔ آئیے، شروع میں سب دعا پڑھ لیں بھئی۔ بسمِ اللهِ الرحمنِ الرحيمِ۔‎ ‎ الحمدُ للهِ ربِ العالمينَ۔ اللهمَ صلِ علیٰ‎ ‎سيدِنا و مولانا محمدٍ و علیٰ آلہِ و اصحابہِ و بارِک و سلم۔ اللهمَ صلِ علیٰ‎ ‎سيدِنا و مولانا محمدٍ و علیٰ آلہِ و ‏‏اصحابہِ و بارِک و سلم۔ اللهمَ صلِ علیٰ‎ ‎سيدِنا و مولانا محمدٍ و علیٰ آلہِ و اصحابہِ و بارِک و سلم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتابَ ولا تعسرہُ وتممهُ بالخيرِ وبکَ نستعينُ يا فتاحُ يا عليمُ۔ ‏ ربنا يسر لنا هذا العلمَ ولا تعسرہُ وتممهُ بالخيرِ وبکَ نستعينُ يا فتاحُ يا عليمُ۔ ربنا يسر لنا هذا الكتابَ ولا تعسرہُ وتممهُ بالخيرِ وبکَ نستعينُ يا فتاحُ يا عليمُ۔ ‏ آمين۔ آمين ثم آمين۔ ‏ آمين ثم آمين۔ اللهمَ صلِ علیٰ‎ ‎سيدِنا و مولانا محمدٍ و علیٰ آلہِ و اصحابہِ و بارِک و سلم۔ اللهمَ صلِ علیٰ‎ ‎سيدِنا و مولانا محمدٍ و علیٰ آلہِ و ‏‏اصحابہِ و بارِک و سلم۔ اللهمَ صلِ علیٰ‎ ‎سيدِنا و مولانا محمدٍ و علیٰ آلہِ و اصحابہِ و بارِک و سلم۔ آچھا بھئی، اب کتاب میں سے بھی تھوڑی عبارت پڑھ لیجیے۔ بسمِ اللهِ الرحمنِ الرحيمِ۔ كتابُ النكاحِ۔ قالَ: النكاحُ ينعقدُ بالإيجابِ والقبولِ بلفظينِ يعبرُ بهما عنِ الماضي؛ لأنَ الصيغةَ وإن كانت للإخبارِ للإخبارِ وضعاً، فقد جعلت ‏‏للإنشاءِ شرعاً دفعاً للحاجةِ۔ وينعقدُ بلفظينِ يعبرُ بأحدهما عنِ الماضي وبالآخرِ عنِ المستقبلِ، مثلُ أن يقولَ: زوجني، فيقولَ: ‏‏زوجتكَ؛ لأنَ هذا توكيلٌ بالنكاحِ، والواحدُ يتولى يتولى طرفي النكاحِ، علىٰ ما نبينهُ إن شاءَ اللهُ۔ علىٰ ما نبينهُ إن شاءَ اللهُ تعالىٰ۔ ‏‏علىٰ ما نبينهُ إن شاءَ اللهُ تعالىٰ۔ آچھا، دیکھیے بھئی، کتاب کی عبارت پھر دیکھ لیجیے۔ كتابُ النكاحِ۔ قالَ: النكاحُ ينعقدُ بالإيجابِ والقبولِ بلفظينِ يعبرُ بهما عنِ الماضي؛ لأنَ الصيغةَ وإن كانت للإخبارِ وضعاً، فقد ‏‏جعلت للإنشاءِ شرعاً دفعاً للحاجةِ۔ وينعقدُ بلفظينِ يعبرُ بأحدهما عنِ الماضي وبالآخرِ عنِ المستقبلِ، مثلُ أن يقولَ: زوجني، فيقولَ: ‏‏زوجتكَ؛ لأنَ هذا توكيلٌ بالنكاحِ، والواحدُ يتولىٰ طرفي النكاحِ، علىٰ ما نبينهُ إن شاءَ اللهُ تعالىٰ۔ صاحبِ ہدایت کے احوال تو آپ جلدِ اول میں پڑھ چکے ہوں گے۔ لیکن یہاں مختصراً میں پھر ذکر کر دیتا ہوں۔ یاد رکھو، صاحبِ ہدایت جو ہیں ان کا لقب برہان الدین تھا بھئی۔ قدیم زمانے کے اندر جو بڑے بڑے علماء ہوتے تھے ان ‏‏کو قوم کی طرف سے، بادشاہ کی طرف سے اور علماء کی طرف سے ان کو لقب دیے جاتے تھے بھئی۔ جتنا بڑا عالم ہوتا ‏‏ویسا ہی اس کی شان کے مطابق ان کو لقب دیا جاتا تھا بھئی۔ تو صاحبِ ہدایت کا لقب برہان الدین تھا بھئی، برہان الدین۔ یعنی وہ، برہان کا معنیٰ ہے دلیل بھئی۔ یعنی وہ دین کی دلیل ہیں ‏‏بھئی۔ اللہ نے ان کو علم میں اتنا اونچا مقام دیا تھا کہ اس زمانے کے علماء ان کو دین کی دلیل قرار دیتے ہیں بھئی۔ اور ان کی کنیت ابو الحسن ہے بھئی، ابو الحسن۔ عرب کے اندر جو ہے کنیت رکھی جاتی تھی اور یہ کسی شخص کے ‏‏معزز ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ تو بڑے بڑے معزز لوگ اپنی کنیت رکھتے تھے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایت کی جو کنیت تھی وہ ابو الحسن تھی بھئی۔ اور آپ کا نام علی ہے اور آپ بیٹے ہیں ابو بکر کے۔ تو علی بن ‏‏ابو بکر۔ اور آپ فرغانی اور مرغینانی کی نسبت سے مشہور ہیں بھئی۔ جیسے لاہور والا لاہوری کہلاتا ہے، ملتان والا ملتانی ‏‏کہلاتا ہے، اسی طرح صاحبِ ہدایت جو ہے، صاحبِ ہدایت جو ہیں وہ فرغانی بھی کہلاتے ہیں، فرغانی یعنی فرغانہ ‏‏والے، اور مرغینانی بھی کہلاتے ہیں۔ فرغانہ ایک بڑے علاقے کا نام تھا، یوں سمجھو جیسے کوئی ضلع ہو یا صوبہ ہو۔ تو وہ فرغانہ اس کا نام تھا اور اس کے ‏‏اندر ایک بستی مرغینان جو ہے، اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے صاحبِ ہدایت مرغینانی کی نسبت سے مشہور ہیں ‏‏بھئی، مرغینانی۔ اور یہ فرغانہ اور مرغینان یہ آج کل اس ملک کو ازبکستان کہتے ہیں بھئی۔ افغانستان کے اس طرف یہ ملک واقع ہے، ‏‏روس کے اندر پہلے شامل تھا اور پھر اس کے بعد آزاد ہوا، الگ ملک ہے ازبکستان بھئی۔ اور یہ علاقہ ما وراء النہر کہلاتا ہے۔ افغانستان کے دوسری جانب، مغربی جانب ایک بڑا دریا ہے بھئی، دریا ہے۔ اور ‏‏عربی زبان میں دریا کو نہر کہتے ہیں، نہر۔ تو، تو ازبکستان دریا کے اس پار ہے تو یہ سارا علاقہ جو دریا کے اس ‏‏طرف تھا اس کو ما وراء النہر کہتے تھے، یعنی دریا کے پیچھے کا علاقہ، دریا کے دوسری طرف کا علاقہ۔ اور یہاں کے علماء نے دین کی عظیم خدمات سر انجام دی ہیں، انسان دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ قدیم زمانے ‏‏کے جتنے بڑے بڑے علماء دیکھ لیں، اکثر آپ کو اسی علاقے کے ملیں گے بھئی۔ یہ بخارا و سمرقند اسی علاقے کے اندر واقع ہے بھئی۔ اور امام بخاری بھی اس علاقے کے ہیں، امام مسلم بھی وہاں کے ‏‏ہیں، صاحبِ ہدایت بھی وہاں کے ہیں، اور علامہ ابنِ کثیر بھی وہاں کے ہیں، جتنے آپ دیکھتے جائیں اکثر علماء آپ کو ‏‏اس علاقے کے ملیں گے۔ تو اس علاقے والوں نے دین کی بڑی عظیم خدمات سر انجام دیں۔ تو صاحبِ ہدایت بھی اس ‏‏علاقے کے تھے۔ یعنی یوں کہو بھئی، یعنی روس کے علاقے کے تھے۔ کہاں تھے؟ روس۔ اب تو روس ٹوٹ چکا ہے، ختم ‏‏ہو گیا، لیکن یہ پہلے اسی میں داخل تھا کچھ عرصہ قبل بھئی۔ تو یہ ازبکستان علاقہ ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایت آپ کی پیدائش جو ہوئی ہے وہ ۵۱۱ ہجری میں علماء لکھتے ہیں۔ ۵۱۱ ہجری میں آپ کی پیدائش ہوئی ‏‏ہے۔ اور جبکہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ آپ کی پیدائش ۵۳۰ ہجری میں ہوئی ہے۔ تو پیدائش کس سن میں ہوئی یہ قطعی اور یقینی طور پر علم نہیں، البتہ بعض ۵۱۱ ہجری ذکر کرتے ہیں اور بعض ۵۳۰ ‏‏ہجری ذکر کرتے ہیں۔ اور صاحبِ ہدایت کی وفات جو ہوئی ہے وہ ۵۹۳ ہجری میں ہوئی ہے بھئی، ۵۹۳ ہجری میں، ذوالقعدہ کے مہینے میں، ‏‏‏۱۴ ذوالقعدہ کو اور پیر کی رات آپ کا انتقال ہوا بھئی، پیر کی رات۔ صاحبِ ہدایت بہت بڑے محدث تھے، بہت بڑے فقیہ تھے، بہت بڑے اصولی تھے اور بہت بڑے ادیب تھے بھئی۔ یہ ہدایت، یہ فقہ کے اعتبار سے صرف اونچی کتاب نہیں ہے بلکہ علمِ ادب کے اعتبار سے بھی بہت اونچی کتاب ہے ‏‏بھئی، بہت اونچی کتاب۔ یہ جو ہدایت ہے اس کا متن بھی صاحبِ ہدایت نے خود ترتیب دیا، صاحبِ ہدایت خود ذکر فرماتے ہیں کہ میں نے قدوری ‏‏اور امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب جامعِ صغیر سے اخذ کرتے ہوئے ایک متن ترتیب دیا اور اس کا نام انہوں نے بدایۃ ‏‏المبتدی رکھا۔ تو یہ دو چار چیزیں جو اب میں ذکر کر رہا ہوں یہ آپ نے یاد رکھنی ہیں بھئی، یاد رکھنی ہیں، کہ اس ہدایت کے متن کا ‏‏کیا نام ہے؟ بدایۃ المبتدی۔ بدایۃ المبتدی۔ اور یہ متن کس سے تیار کیا انہوں نے؟ قدوری سے اور جامعِ صغیر سے۔ اکثر عبارات قدوری کی ہیں متن ‏‏جو ہے، لیکن کہیں کہیں جہاں ضرورت پیش آتی ہے کوئی مسئلہ جو جامعِ صغیر کے اندر ذکر کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ ‏‏نے اور قدوری کے اندر وہ مسئلہ ذکر نہیں اور صاحبِ ہدایت اس کو بھی ضروری سمجھتے ہیں تو پھر وہ اس کو ساتھ ‏‏ملا لیتے ہیں۔ البتہ زیادہ عبارات جو ہیں وہ صاحبِ قدوری کی لیتے ہیں۔ چنانچہ اسی لیے ہر صفحے پر آپ کو قدوری کی ‏‏عبارتیں یہاں ملیں گی اور پھر ان کی شرح کرتے ہیں صاحبِ ہدایت بھئی۔ صاحبِ ہدایت نے جب یہ متن لکھا بدایۃ المبتدی، تو پھر اس کی شرح بھی انہوں نے خود لکھی اور اس کا نام انہوں نے ‏‏رکھا کفایۃ المنتہی۔ متن کیا ہے؟ بدایۃ المبتدی۔ اور شرح کیا؟ کفایۃ المنتہی۔ بدایۃ المبتدی بھئی دیکھو نام ترجمے میں غور کرو، مبتدی: ابتدائی طالب علم، بدایۃ المبتدی: بدایہ کا معنیٰ ہے شروع کرنا، ‏‏آغاز کرنا۔ بدایۃ المبتدی: مبتدی طالب علم کا آغاز بھئی، اس کی ابتدا جو ہے، یعنی اس سے وہ ابتدا کرے۔ اور کفایۃ المنتہی: منتہی کہتے ہیں آخری درجے کا طالب علم یعنی جو علوم کی تکمیل کر رہا ہے۔ تو کفایۃ المنتہی، یعنی یہ ایسی شرح ہے جو منتہی طالب علم کے لیے کافی ہے بھئی۔ وہ اس کو پڑھ لے تو یہ اس کے لیے ‏‏کافی ہے۔ تو یہ جو کفایۃ المنتہی شرح لکھی صاحبِ ہدایت نے یہ ۸۰ جلدوں میں تھی، ۸۰ جلدوں میں۔ سمجھ میں آیا؟ قدیم علماء کی محنت پر اور ان کے اوقات میں برکت پر انسان غور کرتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے بھئی کہ ‏‏یہ کیسے لوگ تھے بھئی اور کتنی برکت تھی ان کے وقت کے اندر۔ ۸۰ جلدوں کے اندر ایک کتاب لکھی اور ایسی کتاب ‏‏کہ جس کو دیکھ کر لوگ دنگ رہ جائیں۔ عام کتاب نہیں کہ بس لکھتے چلے گئے، نہیں۔ ایک ایک لفظ سوچ کر اور عبارات بنا کر، مسائل ذکر کرتے ہوئے اور پھر آج کل تو روشنائی والے قلم ہیں، آپ قلم میں ‏‏سیاہی روشنائی بھر لیتے ہیں اور پھر لکھتے چلے جاتے ہیں، پروا ہی نہیں ہوتی جتنے بھی صفحے لکھیں۔ پہلے تو قلم وہ ‏‏سیاہی میں ڈبو ڈبو کر ایک ایک لفظ لکھنا پڑتا تھا بھئی۔ یعنی تیز لکھ ہی نہیں سکتا تھا آدمی زیادہ۔ وہ یہ مسائل سوچتے بھی تھے، دلائل کو اکٹھا بھی کرتے، ان کو ترتیب بھی دیتے تھے، اپنی طرف سے نئے نئے دلائل ‏‏بھی ذکر کرتے تھے قرآن و حدیث میں غور کر کے، اور پھر اس سارے کو لکھتے، اور تو انہوں نے ۸۰ جلدوں میں لکھا۔ ‏‏اسی طرح بعض کتابیں جو ہیں وہ سینکڑوں جلدوں میں ہیں، انسان سنتا ہے حیران رہ جاتا ہے۔ تو صاحبِ ہدایت نے یہ ۸۰ ‏‏جلدوں میں شرح لکھی، پھر خیال ہوا کہ یہ تو بڑی طویل ہو گئی۔ ۸۰ جلدیں بھئی، اتنی ہمت کون کرے گا کہ ۸۰ جلدوں کو ‏‏پڑھے بھئی۔ چنانچہ پھر آپ نے ارادہ کیا اور چار جلدوں میں اس کا خلاصہ لکھا، ان ۸۰ جلدوں کا خلاصہ چار جلدوں کی ‏‏صورت میں لکھا، گویا ایک ایک جلد ۲۰ ۲۰ جلدوں کا خلاصہ بن گئی بھئی۔ تو تو چار جلدوں میں اس کا خلاصہ لکھا اور اس کا نام ہدایت رکھا۔ تو ہدایت کی کل چار جلدیں ہیں، آج یہ ہم جلدِ ثانی پڑھ ‏‏رہے ہیں بھئی۔ اور یہ جو چار جلدیں لکھیں، یہ صاحبِ ہدایت نے تقریباً ۱۳ سال کے عرصے میں لکھیں۔ پہلے وہ ۸۰ جلدیں لکھیں، پھر ان کا خلاصہ ۱۳ سال میں لکھا بھئی۔ تو شب و روز محنت کرتے ہوئے ۱۳ سال میں ‏‏صاحبِ ہدایت نے یہ خلاصہ تحریر فرمایا۔ اور صاحبِ ہدایت بڑے متقی اور پرہیزگار انسان تھے بھئی۔ اور یہ جو ہدایت وہ تصنیف فرما رہے تھے، اس سارے ‏‏عرصے میں وہ روزہ رکھتے تھے اور کوشش فرماتے تھے کہ کسی کو روزے کے بارے میں پتہ ہی نہ چلے بھئی۔ تو چنانچہ گھر سے خادم کھانا لے کر آتا، تو صاحبِ ہدایت فرماتے کہ رکھ کر چلے جاؤ۔ وہ کھانا رکھ کر چلا جاتا، پھر ‏‏صاحبِ ہدایت کسی طالب علم وغیرہ کو بلاتے اور وہ کھانا اسے کھلا دیتے، اور پھر خادم آتا، برتن خالی ہوتے تو وہ ‏‏سمجھتا شاید صاحبِ ہدایت نے کھانا کھا لیا ہے۔ تو اس طرح صاحبِ ہدایت نے ۱۳ سال تک اس اخلاص کے ساتھ اور اللہ کے سامنے آہ و زاری کرتے ہوئے، دعائیں ‏‏کرتے ہوئے اور حد درجے کی محنت و مشقت کرتے ہوئے یہ کتاب تصنیف فرمائی بھئی۔ اور عند اللہ پھر اس کو وہ قبولیت حاصل ہوئی کہ انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو علماء اور ‏‏طلباء کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ سینکڑوں سال سے یہ مدارسِ دینیہ کے اندر یہ کتاب پڑھائی جا رہی ہے بھئی۔ اور یہ کسی ‏‏بھی کتاب کے عند اللہ مقبول ہونے کی علامت ہے۔ اور یہ فقہِ حنفی کی معتبر ترین کتابوں میں سے ہے بھئی، ہدایت۔ اور میں نے ذکر کیا کہ اس کے عبارات نہایت فصیح و بلیغ ہیں۔ یہ تو فقہی مسائل ذکر فرما رہے ہیں لیکن عبارات اتنی ‏‏فصیح و بلیغ ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے، آپ خود بھی دیکھیں گے، آپ کو بھی کچھ نہ کچھ اندازہ ہوگا بھئی۔ لیکن جو ‏‏عربیت کے ماہرین ہیں، وہ اس کے عبارات دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ جو اس قریب ‏‏کے زمانے میں بہت بڑے عالم گزرے ہیں اور اللہ نے ان کو ایسا عظیم حافظہ اور ایسا ذہن نصیب فرمایا تھا کہ انسان ‏‏دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ دیکھو دو چیزیں ہیں، ایک ہے حافظہ اور ایک ہے چیزوں کا تجزیہ کرنا۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ جو محدثین گزرے ہیں، یہ ان کو اللہ نے حافظہ بہت قوی نصیب فرمایا تھا۔ اور یہ جو فقہاء ہیں ان کا حافظہ تو تیز تھا لیکن محدثین کے مقابلے کا نہیں، یہ نہیں کہ ان کا ان کا ذہن کمزور تھا، نہیں ‏‏حافظہ ان کا بھی بہت قوی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو اللہ نے چیزوں کے تجزیہ کرنے کی صلاحیت دی تھی۔ یہ قرآن و حدیث میں غور کر کر کے مسائل نکالتے تھے جہاں تک عام انسان پہنچ نہیں سکتا بھئی۔ تو ذہن میں چیزوں کو ‏‏محفوظ کرنا اور چیز ہے اور پھر اس میں غور و فکر کر کے نئے نئے مسائل نکالنا اور دلائل کا استنباط کرنا، دلیل بنانا، ‏‏صغریٰ کبریٰ ملانا اور کھوٹے کھڑے کو پہچاننا کہ کون سی بات قوی ہے، کون سی بات کمزور ہے، کون سی دلیل ‏‏مضبوط ہے، ان سب کا تجزیہ کرنا اور نتیجے تک پہنچنا یہ ایک الگ صلاحیت ہوتی ہے۔ تو بعضوں کو اللہ نے ایک ‏‏صلاحیت زیادہ دی، بعضوں کو دوسری صلاحیت زیادہ دی، لیکن علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ان کو اللہ نے، انسان ‏‏غور کرتا ہے، تو اللہ نے ان کو دونوں صلاحیتیں کمال درجے کی نصیب فرمائی تھیں۔ وہ خود فرماتے تھے کہ میں مجتہد ‏‏ہوں بھئی، میں مجتہد ہوں۔ تو علماء ذکر کرتے کہ حضرت، آپ تو امام صاحب کی پیروی کرتے ہیں، پھر مجتہد کیسے ہو ‏‏گئے؟ مجتہد تو خود قرآن و حدیث میں غور کر کے مسائل نکالتا ہے۔ فرمایا کہ نہیں، میں مجتہد ہوں، اور میں قرآن و ‏‏حدیث میں غور و فکر کر کے مسائل نکالتا ہوں، لیکن عجیب بات یہ ہے، میں جو بھی مسئلہ قرآن و حدیث میں غور و فکر ‏‏کر کے نکالتا ہوں وہ بعینہٖ وہی ہوتا ہے جو امام صاحب نے نکالا ہے بھئی، یا ان کے تلامذہ نے نکالا ہے۔‏ اور ان کو اللہ نے انتہائی قوی حافظہ بھی نصیب فرمایا تھا۔ یہ کسی کتاب کی عبارت پر سرسری نظر ڈال لیتے تھے تو ‏‏‏۲۵-۳۰ سال تک ان کو بھولتا ہی نہیں تھا، اور جس کتاب کو گہری نظر سے دیکھ لیتے تھے وہ تو پھر ساری زندگی ہی ‏‏ان کو نہیں بھولتی تھی۔ اخبار کا مطالعہ نہیں کرتے تھے، بعضوں نے ذکر کیا کہ حضرت، آپ اخبار کیوں نہیں دیکھتے؟ ‏‏فرمایا بھئی، میں جو کچھ پڑھتا ہوں میرے حافظے میں محفوظ ہو جاتا ہے تو مجھے کیا ضرورت ہے یہ بیکار باتوں کو ‏‏اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کی۔ تو علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ جن کا ایسا ذہن تھا، ایسا حافظہ تھا ۔ ان سے جب کوئی بڑی کتابوں کے بارے میں ‏‏پوچھتے کہ حضرت یہ بڑی زبردست کتاب ہے کیا آپ اس جیسی کتاب لکھ سکتے ہیں؟ تو فرماتے اس سے بہتر میں لکھ ‏‏سکتا ہوں۔ لیکن چند کتابیں ایسی تھیں جن کے بارے میں فرماتے تھے کہ یہ اتنی بلند کتابیں ہیں ان کی عبارتیں اتنی اعلیٰ درجے کی ‏‏ہیں کہ میں ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا۔ تو تین چار کتابیں تھیں اور ان میں سے ایک ہدایت ہے بھئی۔ ہدایت کے بارے میں فرماتے تھے کہ اس کی عبارتیں اتنے ‏‏اعلیٰ درجے کی ہیں کہ میں اس جیسی چند سطریں بھی نہیں لکھ سکتا، چند لائنیں بھی میں نہیں لکھ سکتا بھئی۔ اتنی فصیح ‏‏عبارتیں ہیں۔ تو یہ تھے صاحبِ ہدایت بھئی۔ اور میں نے بتلایا کہ ان کا انتقال جو ہے وہ ۵۹۳ ہجری میں ہوا ہے بھئی، ۵۹۳ ہجری ‏میں۔ اور صاحبِ ہدایت کی عادت تھی کہ وہ درس کی ابتدا ہمیشہ بدھ کے دن فرمایا کرتے تھے۔ طلباء کو جب بھی نیا درس ‏‏شروع کرواتے تو بدھ کے دن درس کی ابتدا کرواتے۔ اسی لیے ہم نے بھی آج بدھ کے دن اس کتاب کی ابتدا کی ہے اور ‏‏صاحبِ ہدایت اس سلسلے میں ایک حدیث ذکر فرماتے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بدھ کے دن جو کام شروع کیا جائے ‏‏وہ پورا ہوتا ہے۔ پورا ہوتا ہے۔ اور مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح کا ذکر حدیث میں جمعرات کے دن کے بارے میں بھی ‏‏ملتا ہے اور پیر کے دن کے بارے میں بھی ملتا ہے۔ معلوم ہوا بدھ کے دن یا جمعرات کے دن یا پیر کے دن کوئی کام ‏‏شروع کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس میں خاص برکت فرماتے ہیں اور وہ کام تکمیل تک پہنچتا ہے بھئی۔ تو یہ تھے صاحبِ ہدایت کے مختصر احوال بھئی۔ ساتھ ساتھ علمِ فقہ کی تاریخ، موضوع اور غرض و غایت وہ بھی آپ ‏‏پڑھ چکے ہوں گے پہلی جلد کے اندر بھی، قدوری وغیرہ میں بھی۔ لیکن مختصراً پھر میں دوبارہ ذکر کر دیتا ہوں آپ کے ‏‏ذہن میں تازہ ہو جائیں کہ علمِ فقہ، علمِ فقہ کی تعریف کیا ہے؟ یاد رکھو علمِ فقہ هو علمٌ هو علمٌ بالأحكام الشرعية العملية عن ‏‏أدلتها التفصيلية۔ هو علمٌ بالأحكام الشرعية العملية عن أدلتها التفصيلية۔ علم هو علمٌ، وہ جاننا ہے کس چیز کو؟ احکامِ شرعیہ عملیہ کو۔ احکامِ شرعیہ، دیکھو شرعیہ کی قید آئی تو غیرِ شرعی احکام نکل گئے، یہاں صرف شرعی احکام کی بحث ہوگی اور نیز ‏‏الأحكام الشرعية العملية، عملیہ کی قید کے ذریعے ان احکام کو نکال دیا جن کا تعلق عقیدے سے ہے بھئی۔ بھئی ایک ہے عمل اور ایک ہے عقیدہ۔ عمل جس میں انسان کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔ جیسے دیکھو نماز، نماز میں ‏‏عمل کرنا پڑے گا، قیام، رکوع، سجدہ وغیرہ۔ روزے کے اندر بھی عمل ہے کہ کھانے پینے وغیرہ چیزوں سے اپنے آپ ‏‏کو روکنا پڑتا ہے۔ ذکر بھی آپ اللہ کا کرتے ہیں تو زبان کو حرکت دینی پڑتی ہے۔ تو یہ چیزیں، یہ عمل ہیں بھئی اور ‏کچھ ‏چیزیں وہ ہیں جن کا تعلق عقیدے سے ہے بھئی، اس میں کوئی عمل نہیں کرنا پڑتا جیسے اللہ ایک ہے۔ دیکھو یہاں کچھ کرنا نہیں پڑا، ہاں بس یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ یہ عقیدہ رکھنا ہے، اس اس کو ماننا ہے۔ اسی ‏‏طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے اور اسی طرح قیامت کا دن ‏‏قائم ہوگا تو یہ سب کیا ہیں؟ یہ عقیدے ہیں بھئی۔ اس میں اعتقاد رکھنا پڑتا ہے، عقیدہ رکھنا پڑتا ہے اور عمل کی اس میں حاجت نہیں۔ تو یہاں فقہ کے اندر عقیدے کی بحث ‏‏نہیں ہوگی، عقیدے کی بحث علمِ کلام میں ہوتی ہے بھئی، علمِ کلام کے اندر۔ تو هو علمٌ بالأحكام الشرعية العملية، علمِ فقہ وہ نام ہے احکامِ شرعیہ عملیہ کے جاننے کا عن أدلتها التفصيلية، ان کے ادلہ ‏‏تفصیلیہ سے۔ یعنی تفصیلی دلائل کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ یعنی ہر ہر مسئلے کی دلیلیں ذکر ہوں گی بھئی۔ نماز کی کیا دلیل ہے؟ پھر نماز کے اندر قیام کی کیا دلیل ہے؟ رکوع کی کیا دلیل ہے؟ سجدے کی کیا دلیل ہے؟ روزہ ہے، ‏‏روزے کی کیا دلیل ہے؟ ہر ہر مسئلے کی الگ الگ دلیلیں ذکر ہوں گی یہاں پر۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اصولِ فقہ ہے۔ اصولِ فقہ کے اندر ایک قانون اور ضابطہ ذکر کیا جاتا ہے اور پھر اس قانون ‏‏اور ضابطے پر کئی مسائل نکالے جاتے ہیں۔ قانون اور ضابطہ ایک اور پھر اس پر کئی مسائل مرتب کر لیے تو وہ کیا ہے؟ اصولِ فقہ، فقہ کے اصول، قوانین بھئی، ‏‏ضابطے۔ لیکن یہ جو فقہ ہے اس کے اندر قوانین اور ضابطے نہیں ہوں گے بلکہ ہر ہر مسئلے کی الگ الگ دلیل ذکر ‏‏ہوگی بھئی۔ تو یہ معنیٰ ہے ادلہ تفصیلیہ کا۔ اور ادلہ تفصیلیہ آپ جانتے ہیں چار ہیں بھئی: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ کسی بھی چیز کی دلیل آپ ذکر کرتے ہیں بھئی احکامِ شرعیہ میں سے، کسی بھی چیز کی آپ دلیل ذکر کرتے ہیں تو کس ‏‏سے ذکر کرتے ہیں؟ انہی چار چیزوں سے: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے۔ تو یہ ہیں ادلہ تفصیلیہ۔ ہر ہر مسئلے کے ‏‏لیے انہی چاروں میں سے اس کی جو جو دلیلیں ہیں، قرآن میں جو جو دلیلیں ہیں، حدیث میں جو جو دلیلیں ہیں، اجماع ہے یا ‏‏قیاس ہے، ان سب کو ذکر کیا جاتا ہے۔ تو یہ ہے علمِ فقہ۔ تو علمِ فقہ کی کیا تعریف ہوئی؟ هو علمٌ بالأحكام الشرعية العملية ‏‏عن أدلتها التفصيلية، احکامِ شرعیہ عملیہ کو جاننا ان کے ادلہ تفصیلیہ سے۔ اور اس کا موضوع جو ہے وہ فعلِ مکلف ہے۔ مکلف، کلف یکلف تکلیف کا معنیٰ ہوتا ہے ذمہ دار بنانا۔ یعنی انسان کیا ‏‏ہے؟ اس کو اللہ نے ذمہ دار بنایا ہے، آخرت میں اس سے پوچھا جائے گا بھئی اس کے تمام اعمال کے بارے میں۔ تو یہ ‏‏جو ذمہ دار آدمی ہے اس کا فعل جو ہے وہ علمِ فقہ کا موضوع ہے بھئی، اس کے ہر ہر فعل کے بارے میں شریعت کیا ‏‏حکم دیتی ہے بھئی۔ اور مکلف کون ہے؟ عاقل بالغ۔ عاقل ہو، عقل رکھنے والا ہو اور بالغ ہو بھئی تو وہ مکلف ہے بھئی۔ تو علمِ فقہ کا ‏موضوع ‏کیا ہے؟ فعلِ مکلف، مکلف آدمی کا فعل یعنی عاقل بالغ آدمی کا فعل بھئی۔ اور علمِ فقہ کی غرض و غایت اور اس کا مقصد جو ہے وہ سعادتِ دارین ہے یعنی دونوں جہانوں میں کامیابی حاصل کرنا ‏‏کہ دنیا میں بھی ہماری زندگی، ہماری زندگی کامیابی کے ساتھ گزرے اور آخرت میں بھی ہمیں کامیابی حاصل ہو بھئی۔ ہم ‏‏اللہ کے احکام پر جب عمل کریں گے تو دنیا میں بھی کامیابی ملے گی اور آخرت میں بھی کامیابی ملے گی۔ تو موضوع کیا ہوا؟ فعلِ مکلف اور غرض و غایت کیا ہوئی؟ سعادتِ دارین بھئی۔ یہاں تک باتیں سمجھ میں آ گئیں اچھی طرح؟ باقی پھر کل انشاء اللہ پڑھیں گے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم ‏‏بحقيقة الكلام۔