آگے سبق دیکھیے بھئی: "وَإِنْ شَهِدَ اثْنَانِ أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ فَاسْتَكْرَهَهَا، وَآخَرَانِ أَنَّهَا طَاوَعَتْهُ: دُرِئَ الْحَدُّ عَنْهُمَا جَمِيعًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَا: يُحَدُّ الرَّجُلُ خَاصَّةً". بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے "بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الزِّنَا وَالرُّجُوعِ عَنْهَا" شروع کیا تھا۔ میں نے بتلایا تھا کہ صاحبِ ہدایہ اس باب کے اندر زنا کے اندر جو شہادت ہے، جو گواہی ہے، اس سے متعلقہ مسائل ذکر کریں گے کہ کیا کیا چیز گواہی قبول کرنے سے مانع بنے گی، اور اسی طرح اگر کوئی گواہ گواہی سے رجوع کر لیتا ہے تو پھر اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ تو سب سے پہلے صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ حدود کا مسئلہ چونکہ بڑا نازک ہے لہٰذا یہاں پر اگر گواہی پرانی ہو جائے تو پھر گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ وجہ یہ کہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ شاید یہ شخص کسی کینے اور بغض کی وجہ سے اب گواہی دینے آیا ہے بھئی۔ البتہ حدِ قذف جو ہے اس کے اندر اگر تاخیر بھی ہو جائے پھر بھی گواہی قبول کی جائے گی، کیونکہ حدِ قذف جو ہے اس میں بندے کا بھی حق ہے۔ اس لیے کیونکہ کسی شخص پر زنا کی تہمت لگائی جائے تو یہ اس کے لیے عار کا باعث ہے اور اس کے لیے طعنے کا باعث ہے، تو شریعت نے اسے حق دیا ہے کہ وہ قاضی سے پھر حدِ قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے بھئی، اور نیز اس لیے کیونکہ وہاں پر جو ہے دعویٰ ضروری ہے بھئی، اور لہٰذا یہاں پر اگر گواہ دیر سے بھی آئے تو اس کو محمول کیا جائے گا دعوے کی تاخیر پر۔ اس پر اشکال ہوا کہ یہاں پر اگر گواہی تاخیر سے آئے تو اس کو دعوے کی تاخیر پر محمول کیا جاتا ہے، تو اسی طرح تو دعویٰ چوری کے اندر بھی شرط ہے، تو وہاں پر اگر گواہی دیر سے آئے تو آپ اسے قبول نہیں کرتے، حالانکہ وہاں پر بھی تاخیر سے آنے والی گواہی کو دعوے کی تاخیر پر محمول کرنا چاہیے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے اس کے تین جوابات دیے تھے۔ ایک جواب یہ دیا تھا کہ چوری کی حد کے اندر دعویٰ شرط ہے لیکن یہ دعویٰ حقیقت کے اندر اس مال کی وجہ سے شرط قرار دیا گیا ہے، حدِ سرقہ کی وجہ سے نہیں۔ معلوم ہوا یہاں جو دعویٰ آیا ہے وہ حدِ سرقہ کی وجہ سے نہیں آیا، لہٰذا یہاں پر تاخیر ہوگی تو اس صورت میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ اور دوسرا جواب دیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ حقوق اللہ کے اندر گواہی کا تاخیر سے آنا، تاخیر سے آنا یہ تہمت کا باعث ہے۔ اس لیے گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ لیکن اس تہمت کا ہر فرد میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ کینہ اور دشمنی یہ تو دل کی بات ہے۔ ہمیں تو پتہ نہیں چل سکتا کہ کس کے دل میں کینہ اور دشمنی ہے اور کس کے دل میں کینہ اور دشمنی نہیں؟ تو کینہ اور دشمنی چونکہ ایک امرِ باطنی ہے، انسان اس پر مطلع نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہاں پر حکم کا مدار خالص اللہ کا حق ہونے پر کر دیا گیا۔ کس حکم کا مدار؟ کہ تاخیر سے آنے پر گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ اس حکم کا مدار اب اس امرِ باطنی یعنی کینے اور بغض پر ہے ہی نہیں، بلکہ اب اس کا مدار اس حد کے خالص اللہ کا حق ہونے پر ہے۔ تو جو بھی حد خالص اللہ کا حق ہوگی، چاہے وہاں دلوں میں بدگمانی آئے، چاہے نہ آئے، ہر صورت کے اندر وہاں تاخیر سے گواہی آئے تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے سفر کے اندر۔ سفر کے اندر شریعت نے احکام کے اندر نرمی کر دی کہ چار رکعت نماز کے بجائے اب دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے، اور کوئی سفر کے اندر روزے نہ رکھنا چاہے تو وہ بعد میں روزے رکھ سکتا ہے۔ تو شریعت نے یہ رخصت دے دی، اور شریعت کے اس حکم کی بنیاد مشقت پر ہے، کیونکہ سفر میں انسان کو مشقت ہوتی ہے، تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن مشقت تو ایک امرِ باطنی ہے، ہمیں تو پتہ نہیں چل سکتا کہ کس شخص کو کتنی مشقت ہوئی ہے، اور کس شخص کو مشقت ہوئی ہے اور کس شخص کو مشقت ہوئی ہی نہیں بھئی؟ تو لہٰذا وہاں پر بھی حکم کا دار و مدار جو ہے وہ سفر پر ہی کر دیا گیا، لہٰذا اب جب بھی تین دن کی مسافت کا سفر پایا جائے گا تو وہاں سفر کے احکام آ جائیں گے بھئی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، تاخیر سے آنے پر گواہی کا قبول نہ کرنا اس کا دار و مدار تھا کینے اور بغض پر، لیکن اب کینے اور بغض کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اس حد کے خالص اللہ کے حق ہونے کو دیکھا جائے گا۔ چنانچہ چوری کی حد میں اگرچہ دعویٰ شرط ہے اور دعوے کی وجہ سے گواہوں کا عذر موجود ہے، گواہوں کا تاخیر سے آنے کا عذر موجود ہے، لہٰذا اگرچہ یہاں پر دلوں میں بدگمانی نہیں آتی لیکن پھر بھی اس بات کی طرف دیکھا ہی نہیں جائے گا کیونکہ اب شریعت نے اس حکم کا مدار اس کینے پر رکھا ہی نہیں بلکہ خالص اللہ کا حق ہونے پر اس کا مدار ہے۔ تو جو بھی حد خالص اللہ کا حق ہے وہاں یہ حکم آ جائے گا۔ اب یہاں پر کینے اور بغض، وہ جو اس حکم کی علت تھی، اس کی طرف دیکھا ہی نہیں جائے گا کیونکہ اب اس پر حکم کا مدار ہی نہیں ہے بھئی۔ اور تیسرا جواب دیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ چوری کے اندر تاخیر سے گواہی آئے گی تو گواہ فاسق ہو چکے ہیں، اس لیے ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ اس لیے کیونکہ گواہوں نے جب چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو ان پر واجب تھا کہ یہ فوراً اس مالک کو خبر دیتے، تو جب انہوں نے مالک کو خبر دینے میں تاخیر کر دی تو یہ گواہ فاسق اور گنہگار ہو گئے، کیونکہ مالک کو تو ویسے پتہ نہیں چل سکتا کہ میری چوری پر کوئی گواہ موجود ہیں جب تک کوئی اس کو اطلاع نہیں دے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ پرانا ہونا یعنی زیادہ وقت کا گزرنا، جس طرح زیادہ وقت کا گزرنا ابتداء کے اندر قبولِ شہادت سے مانع ہے حدود کے مسئلے میں، اسی طرح، اسی طرح پرانا ہونا یہ اقامتِ حد سے بھی مانع ہے بھئی۔ جی۔ اگر بات پرانی ہو گئی تو پھر حد قائم نہیں کی جائے گی، جیسے بات پرانی ہو جائے تو گواہی قبول نہیں کی جاتی حدود کے مسئلے میں، اسی طرح اگر بات پرانی ہو گئی تو حد قائم نہیں کی جائے گی۔ جیسے اس کی مثال صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائی کہ ایک شخص تھا اس پر حد جاری کی گئی اور اسے کچھ کوڑے لگے تھے کہ وہ بھاگ گیا اور پھر اس کے بعد ایک دو مہینے کے بعد وہ پکڑا گیا تو اب بات پرانی ہو چکی ہے، تو لہٰذا اب حد ساقط ہو چکی ہے، اب اس کو بقیہ کوڑے نہیں لگائے جائیں گے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے قیمتی بات آپ کو بتلائی تھی کہ حدود کے مسئلے میں امضاء بھی قضاء کا حصہ ہے۔ امضاء، امضاء یعنی حد کو نافذ کرنا، یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے۔ تو شروع میں اول گواہ آتے ہیں، پھر قاضی فیصلہ کرتا ہے اور پھر اس کے بعد حد قائم کی جاتی ہے، تو یہ حد کا قائم کرنا یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ امضاء جو ہے یہ بھی قضائے قاضی کا حصہ ہے، یہ قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے، لہٰذا اس کے اندر بھی اگر زمانہ زیادہ گزر جائے گا تو حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ کتنا زمانہ زیادہ گزر جائے تو اس کو پرانا شمار کیا جائے گا؟ تو بتلایا تھا کہ صحیح قول کے مطابق ایک ماہ کا وقت گزر جائے تو بات پرانی ہو گئی، لہٰذا اب حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر چار گواہ گواہی دے دیں ایک شخص کے بارے میں کہ اس نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ فلانی عورت وہاں پر موجود نہیں، تو پھر بھی اس شخص پر حد جاری کی جائے گی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں تو شبہ آ رہا ہے اور شبہے کی وجہ سے تو حد ساقط ہو جاتی ہے، اور شبہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے اگر وہ عورت یہاں پر موجود ہوتی تو وہ کہہ دیتی کہ ہم دونوں کا نکاح ہوا ہے۔ تو یہاں پر دیکھو شبہے کا احتمال موجود ہے، لہٰذا اس حد کو ساقط ہو جانا چاہیے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ بھئی، شبہے کی وجہ سے تو حدود ساقط ہو جاتی ہیں لیکن احتمالِ شبہ کی وجہ سے بھی اگر حد کو ساقط قرار دے دیا جائے پھر تو حد قائم کرنے کی کوئی صورت ہی نہ رہے گی۔ وہ عورت اگر یہاں ہوتی اور پھر وہ نکاح کا دعویٰ کرتی تو پھر شبہے نے آنا تھا، اور ابھی تو نہ وہ عورت ہے، نہ اس نے کوئی دعویٰ کیا ہے، تو یہاں کوئی شبہ نہیں ہے، صرف شبہے کا ایک احتمال ہے، صرف شبہے کا وہم ہوتا ہے اور وہمی چیز کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور اسی کو شبھۃ الشبہہ کہا جاتا ہے کہ شبہ ہونے کا شبہ ہے یہاں پر، شبہ ہے تو نہیں لیکن شبہ ہونے کا شبہ ہے یعنی احتمال ہے، تو یاد رکھو ہمیشہ جگہ جگہ کتابوں کے اندر یہ ذکر آئے گا کہ حد جو ہے شبہے سے ساقط ہوتی ہے لیکن شبھۃ الشبہہ کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ تو وہاں انسان ذرا پریشان ہو جاتا ہے کہ شبھۃ الشبہہ کا کیا معنی؟ تو وہ صاحبِ ہدایہ نے بیان فرما دیا کہ شبہ ہے نہیں لیکن شبہ ہونے کا احتمال ہے، وہم ہے، تو اس کا کوئی اعتبار نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر گواہ گواہی دے دیں کہ اس شخص نے چوری کی ہے اور اس مال کا مالک وہاں پر موجود نہیں ہے تو اس صورت میں حد ثابت نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ چوری کے اندر دعویٰ ضروری ہے، اور جب مالک وہاں نہیں ہے تو معلوم ہوا دعویٰ نہیں ہے، جب دعویٰ نہیں ہے تو پھر گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر گواہوں نے گواہی دی کہ اس آدمی نے ایک ایسی عورت سے زنا کیا ہے جسے ہم نہیں جانتے تھے، تو اس صورت میں حد ساقط ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ عورت جو ہے وہ اس آدمی کی بیوی ہو یا اس کی باندی ہو بھئی۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص خود اقرار کرتا ہے کہ میں نے ایک عورت سے زنا کیا ہے جسے میں نہیں جانتا تھا، تو پھر اس صورت میں اس پر حد جاری کی جائے گی، کیونکہ کسی شخص پر اپنی باندی یا اپنی بیوی تو مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی، لہٰذا اس صورت میں اس پر حد جاری کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: "وَإِنْ شَهِدَ اثْنَانِ أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ فَاسْتَكْرَهَهَا، وَآخَرَانِ أَنَّهَا طَاوَعَتْهُ: دُرِئَ الْحَدُّ عَنْهُمَا جَمِيعًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى". بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ چار گواہ آئے اور انہوں نے ایک آدمی اور عورت کے خلاف زنا کی گواہی دی۔ البتہ ان میں دو گواہ یہ کہتے ہیں کہ اس عورت نے اپنی رضامندی کے ساتھ اس آدمی کے ساتھ زنا کیا ہے، جبکہ دو گواہ یہ کہتے ہیں کہ اس آدمی نے اس عورت کو مجبور کیا تھا، اس کے ساتھ زبردستی زنا کیا، یہ عورت تیار نہیں تھی۔ تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس عورت سے بھی حد ساقط ہو گئی اور اس آدمی سے بھی حد ساقط ہو گئی۔ وجہ یہ کہ دو آدمی عورت کی رضامندی کی گواہی دے رہے ہیں اور دو آدمی عورت کے مکمکرَہ اور مجبور ہونے کی گواہی دے رہے ہیں، تو دونوں کا مشہود بہٖ ہی الگ الگ ہو گیا۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو، ایک ہے گواہی دینے والا، اس کو کہتے ہیں شاہد، اور جس کے خلاف گواہی دی جائے اس کو کہتے ہیں مشہود علیہ۔ مثلاً دو آدمیوں نے زید کے خلاف کسی مسئلے میں گواہی دی تو وہ دو آدمی ہوئے شاہد اور وہ زید جو ہے وہ ہے مشہود علیہ۔ "علیٰ" ضرر اور نقصان کے لیے آتا ہے۔ مشہود علیہ جس کے خلاف گواہی دی گئی ہے، اور جس بات کی گواہی دی ہے اس کو مشہود بہٖ کہتے ہیں۔ مثلاً دو آدمیوں نے زید کے خلاف گواہی دی کہ اس نے عمر کا ایک لاکھ روپیہ ادا کرنا ہے، تو یہ جو معاملہ جس کی انہوں نے گواہی دی ہے اس کو مشہود بہٖ کہتے ہیں۔ تو زید کیا ہوا؟ مشہود علیہ، اور جس چیز کی گواہی دی ہے گواہوں نے کہ اس نے فلاں کا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے وہ ہے مشہود بہٖ بھئی۔ تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جب دو گواہوں نے گواہی دی ہے کہ عورت نے رضامندی سے زنا کیا ہے، تو یہ اور زنا ہے، کیونکہ وہ زنا جو رضامندی سے کیا جائے وہ اور ہوتا ہے، اور دو گواہوں نے گواہی دی ہے کہ اس عورت پر جبر کیا گیا تھا، اس کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا ہے، تو جبر کے ساتھ جو زنا کیا جائے وہ اور ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ایک ہی عورت زنا کے اندر رضامند بھی ہو اور اس پر جبر بھی کیا گیا ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو معلوم ہوا دو گواہوں نے جس رضامندی والے زنا کی گواہی دی ہے وہ اور زنا ہے اور جن دو گواہوں نے جبر والے زنا کی گواہی دی ہے وہ اور زنا ہے۔ تو مشہود بہٖ الگ ہو گئے۔ کسی ایک مشہود بہٖ پر بھی چار گواہ موجود نہیں، کسی ایک زنا پر بھی چار گواہ موجود نہیں، رضامندی والے زنا پر بھی دو گواہ اور جبر والے زنا پر بھی دو گواہ، تو کسی بھی زنا پر چار گواہ موجود نہیں، شہادت کا نصاب پورا نہیں ہے۔ جب شہادت کا نصاب پورا نہیں ہے تو اس کے ذریعے حد ثابت نہیں ہو سکتی، نہ مرد پر اور نہ عورت پر بھئی۔ اور نیز امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو دو گواہ جنہوں نے عورت کی رضامندی کی گواہی دی ہے یہ دراصل فریقِ مخالف بن گئے اس عورت کے ساتھ۔ یہ کیا بن گئے؟ فریقِ مخالف، اور فریقِ مخالف کی تو گواہی قبول نہیں کی جاتی، لہٰذا ان دو کی گواہی کالعدم ہو گئی، اس کا کوئی اعتبار ہی نہیں۔ مثلاً دیکھو، عمر آیا اور اس نے زید پر دعویٰ کر دیا کہ قاضی صاحب، زید نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، تو عمر ہوا فریقِ مخالف۔ قاضی نے کہا گواہ پیش کرو بھئی، کون سے گواہ ہیں تمہارے پاس؟ عمر نے کہا جی ایک تو میں خود گواہ ہوں۔ بھئی آپ تو فریقِ مخالف ہیں، آپ گواہ نہیں بن سکتے، گواہ کوئی تیسرا آدمی ہونا چاہیے۔ تو ضابطہ میں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ جو فریقِ مخالف ہوتا ہے وہ گواہ نہیں بن سکتا۔ تو یہاں پر بھی دو گواہوں نے عورت کی رضامندی کے ساتھ زنا کرنے کی گواہی دی ہے، تو گویا یہ دو آدمی عورت کے خلاف فریقِ مخالف بن گئے، اور فریقِ مخالف کی گواہی تو کالعدم ہوتی ہے، اس کا اعتبار ہی نہیں کیا جاتا۔ جب اس کا اعتبار ہی نہیں کیا جاتا تو اب صرف دو گواہ رہ گئے اور دو گواہوں سے تو زنا ثابت نہیں ہوتا۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ جب یہ فریقِ مخالف ہیں، جب یہ دو گواہ کیا بن گئے؟ فریقِ مخالف بن گئے، پھر تو انہوں نے زنا کی تہمت لگائی ہے، لہٰذا ان پر حدِ قذف جاری ہونی چاہیے۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بات ایسی ہی ہے، یہ جو دو گواہ ہیں جو عورت کی رضامندی کی گواہی دے رہے ہیں یہ فریقِ مخالف بن گئے اور یہ تہمت لگانے والے بن گئے اور اب ان پر حدِ قذف جاری ہونی چاہیے، لیکن جو دوسرے دو گواہ ہیں جنہوں نے عورت کے مکمکرَہ ہونے کی گواہی دی ہے کہ اس کے ساتھ اکراہ کیا گیا، اس کے ساتھ زبردستی کی گئی، ان دو گواہوں کی وجہ سے عورت کا محصنہ ہونا ساقط ہو گیا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ حدِ قذف اس آدمی کو لگائی جاتی ہے جو کسی محسن مسلمان پر زنا کی تہمت لگائے، جو کسی محسن پر زنا کی تہمت لگائے، اور احصان القذف آپ نے پڑھا تھا پانچ چیزیں ہیں کہ جس پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے وہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اور زنا سے پاک دامن ہو۔ اگر اس نے کبھی زنا کیا تھا اور اس کو حد لگ چکی ہے تو یہ زنا سے پاک دامن نہیں رہا، لہٰذا اس کو اگر کوئی زانی کہہ دے گا تو اگرچہ اس نے برا لفظ کہا ہے لیکن بہرحال اس کو حدِ قذف نہیں لگائی جا سکتی۔ تو یہاں پر بھی دو گواہوں نے جب عورت کے مکمکرَہ ہونے کی گواہی دی کہ عورت کے ساتھ جبراً زنا کیا گیا ہے، تو بہرحال عورت بے شک گنہگار نہیں ہے اس فعل کے اندر لیکن اب وہ پاک دامن نہ رہی، حقیقتاً فعلِ زنا اس سے صادر ہو چکا ہے، اگرچہ اس کی مرضی کے خلاف ہے، لیکن اس کا محصنہ ہونا ساقط ہو گیا۔ تو لہٰذا وہ دو گواہ جو عورت پر رضامندی کا الزام لگا رہے تھے ان پر حدِ قذف آنی تھی، لیکن چونکہ یہ دوسرے دو گواہوں کی وجہ سے عورت کا محصنہ ہونا ختم ہو گیا، جب وہ محصنہ نہیں ہے تو غیر محصنہ پر اگر زنا کا الزام لگایا جائے تو الزام لگانے والے پر حدِ قذف نہیں آتی، لہٰذا اس لیے ان دونوں سے بھی حدِ قذف ساقط ہو جائے گی۔ تو آپ کے ذہن میں آئے گا کہ عورت کی وجہ سے تو ان پر حدِ قذف نہیں لگ سکتی لیکن مرد کی وجہ سے تو حدِ قذف لگنی چاہیے؟ تو جواب یہ کہ زنا جو ہے وہ مرد اور عورت دونوں کا ایک ہی فعل ہے۔ جب اس ایک فعل کے اندر ایک فرد یعنی عورت کی وجہ سے ان کو حدِ قذف نہیں لگ سکتی تو مرد کی وجہ سے بھی ان کو اب حدِ قذف نہیں لگ سکتی، کیونکہ زنا ایک ہی فعل ہے جس کا وہ الزام لگا رہے ہیں۔ تو جب اس فعل کے ایک فرد یعنی عورت کی وجہ سے حدِ قذف ان کو نہیں لگ سکتی تو اس فعل کے دوسرے فرد یعنی مرد کی وجہ سے بھی ان گواہوں کو حدِ قذف اب نہیں لگ سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ تو تھا امام صاحب کا مذہب، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت میں صرف مرد کو حد لگے گی، عورت کو حد نہیں لگے گی۔ اس لیے کیونکہ چاروں گواہ اس بات پر تو متفق ہیں کہ اس مرد نے زنا کیا ہے۔ البتہ دو گواہ یہ کہہ رہے ہیں کہ عورت کی رضامندی نہیں تھی اور جب زنا کے اندر زنا کرنے والے یا زنا پر قدرت دینے والے کی رضامندی نہ ہو تو پھر وہاں حد جاری نہیں ہوتی۔ تو عورت کی چونکہ رضامندی نہیں تھی لہٰذا اس پر سے تو حد ساقط ہو گئی، لیکن چاروں گواہوں نے اس بات پر تو اتفاق کیا ہے کہ اس آدمی نے زنا کیا ہے، تو لہٰذا اس آدمی پر حد جاری ہوگی، یہ صاحبین کا مذہب ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے کتاب پر: کہتے ہیں: "وَإِنْ شَهِدَ اثْنَانِ أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ" اور اگر دو آدمیوں نے گواہی دی کہ اس آدمی نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ "فُلَانَةَ" یہ غیر منصرف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ شَهِدَ اثْنَانِ أَنَّهُ زَنَى بِفُلَانَةَ" اور اگر دو گواہوں نے گواہی دی کہ اس شخص نے فلانی عورت سے زنا کیا ہے، "فَاسْتَكْرَهَهَا" تو اس سے زبردستی کی ہے، اس کو مجبور کیا ہے یعنی جبراً اس کے ساتھ زنا کیا ہے، "وَآخَرَانِ أَنَّهَا طَاوَعَتْهُ" اور دو اور گواہوں نے گواہی دی "أَنَّهَا طَاوَعَتْهُ" کہ اس عورت نے اس کا ساتھ دیا ہے، اس آدمی کا ساتھ دیا ہے یعنی رضامندی سے اس کو اپنے اوپر قدرت دی ہے، "دُرِئَ الْحَدُّ عَنْهُمَا جَمِيعًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" تو امام صاحب کے نزدیک دونوں سے حد جو ہے وہ ساقط ہو جائے گی، "وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور یہی قول ہے امامِ زفر رحمہ اللہ کا بھی، "وَقَالَا: يُحَدُّ الرَّجُلُ خَاصَّةً" اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس آدمی کو خاص طور پر حد لگائی جائے گی، یعنی صرف اس آدمی ہی کو حد لگائی جائے گی، عورت کو حد نہیں لگائی جائے گی کیونکہ عورت کی رضامندی پر چار گواہ موجود نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَقَالَا" صاحبین فرماتے ہیں: "يُحَدُّ الرَّجُلُ خَاصَّةً" کہ خاص طور پر اس آدمی کو حد لگائی جائے گی، "لِاتِّفَاقِهِمَا عَلَى الْمُوجِبِ"، "لِاتِّفَاقِهِمَا" یہ "هُمَا" ضمیر راجع ہے گواہوں کو، اور گواہ تو ہیں چار، لیکن دو گواہ گواہی دے رہے ہیں عورت کی رضامندی کی اور دو گواہ گواہی دے رہے ہیں عورت پر جبر کی، تو لہٰذا گویا گواہوں کے دو گروہ بن گئے، دو فریق بن گئے۔ تو یہ "هُمَا" ضمیر ان دونوں فریقوں کو راجع ہے۔ "لِاتِّفَاقِهِمَا" اس وجہ سے کہ گواہوں کے دونوں فریق اتفاق کر رہے ہیں "عَلَى الْمُوجِبِ" اس چیز پر جو حد کو واجب کرنے والی ہے، اور حد کو واجب کرنے والی چیز کیا ہے؟ اس آدمی کا زنا۔ حد کو واجب کرنے والی چیز کیا ہے؟ اس آدمی کا زنا۔ تو گواہوں کے دونوں فریقوں کا اتفاق ہے کہ اس آدمی نے زنا کیا ہے۔ البتہ گواہوں کا ایک فریق اس آدمی کا ایک زائد جرم بھی بتا رہا ہے کہ اس نے اکراہ بھی کیا، زنا بھی کیا اور اکراہ بھی کیا۔ تو گواہوں کا ایک گروہ اس آدمی کے صرف زنا کی گواہی دے رہا ہے اور گواہوں کا دوسرا گروہ جو ہے اس آدمی کے زنا کے ساتھ ساتھ اس کے اکراہ کے جرم کی بھی گواہی دے رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "يُحَدُّ الرَّجُلُ خَاصَّةً" صاحبین فرماتے ہیں اس آدمی کو خاص طور پر حد لگائی جائے گی "لِاتِّفَاقِهِمَا عَلَى الْمُوجِبِ" اس وجہ سے کہ گواہوں کے دونوں فریقوں کا اتفاق ہے اس چیز پر جو حد کو واجب کرنے والی ہے، اور حد کو واجب کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس آدمی کا زنا ہے، تو موجب سے مراد وہ چیز ہے جو حد کو واجب کرنے والی ہے بھئی۔ اس وجہ سے کہ دونوں فریقوں کا اتفاق ہے حد کو واجب کرنے والی چیز پر، "وَتَفَرُّدِ أَحَدِهِمَا بِزِيَادَةِ جِنَايَةٍ" اور ان دونوں فریقوں میں سے ایک فریق جو ہے وہ اکیلا ہے ایک زائد جنایت کے ساتھ۔ گواہوں کے دونوں فریقوں میں سے ایک فریق ایک زائد جرم کی بھی گواہی دے رہا ہے، اس زائد جرم کی گواہی دینے میں ایک فریق اکیلا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَتَفَرُّدِ أَحَدِهِمَا بِزِيَادَةِ جِنَايَةٍ" اور اس وجہ سے کہ گواہوں کے دونوں فریقوں میں سے ایک فریق جو ہے وہ ایک زائد جرم کے بارے میں اکیلا ہے، "وَهُوَ الْإِكْرَاهُ" اور وہ جرم کیا ہے؟ اکراہ، اس مرد کا زبردستی کرنا ہے۔ تو لہٰذا مرد پر حد آئے گی۔ "بِخِلَافِ جَانِبِهَا" بخلاف عورت کی جانب میں، "لِأَنَّ طَوَاعِيَتَهَا شَرْطُ تَحَقُّقِ الْمُوجِبِ فِي حَقِّهَا" بھئی دیکھیے، عورت پر حد نہیں آئے گی، صاحبین فرماتے ہیں، کیونکہ عورت پر حد تب آتی اگر وہ اپنی رضامندی سے زنا کرتی اور یہاں پر تو دو گواہوں سے اس کی رضامندی ثابت ہو رہی ہے جبکہ باقی دو سے اس کی رضامندی ثابت نہیں ہو رہی۔ اگر چاروں گواہوں سے عورت کی رضامندی ثابت ہوتی تو پھر عورت پر حد نے آنا تھا، لیکن اب تو چار گواہ عورت کی رضامندی پر موجود نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "بِخِلَافِ جَانِبِهَا" بخلاف اس عورت کی جانب میں، "لِأَنَّ طَوَاعِيَتَهَا شَرْطُ تَحَقُّقِ الْمُوجِبِ فِي حَقِّهَا" توجہ سے بھئی، یہاں ذرا ترجمہ مشکل ہے۔ "لِأَنَّ طَوَاعِيَتَهَا" اس لیے کیونکہ عورت کا ساتھ دینا یعنی عورت کی جو رضامندی ہے، "شَرْطُ تَحَقُّقِ الْمُوجِبِ"، موجب: حد کو واجب کرنے والی چیز، اور وہ کیا ہے؟ عورت کا زنا پر رضامندی سے قدرت دینا۔ "شَرْطُ تَحَقُّقِ الْمُوجِبِ"، ترجمہ آخر سے ہوگا: وہ چیز جو حد کو واجب کرنے والی ہے "فِي حَقِّهَا" عورت کے حق میں، اس کا پایا جانا شرط ہے۔ وہ چیز جو عورت کے حق میں حد کو واجب کرنے والی ہے اس کا پایا جانا شرط ہے، اور وہ عورت کی رضامندی ہے۔ تو عورت کی رضامندی شرط ہے پھر ہی عورت کے حق میں حد واجب ہوگی۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ طَوَاعِيَتَهَا" اس لیے کیونکہ عورت کا ساتھ دینا، عورت کی جو رضامندی ہے "شَرْطُ تَحَقُّقِ الْمُوجِبِ فِي حَقِّهَا" وہ عورت کے حق میں حد کو واجب کرنے والی چیز کے پائے جانے کے لیے شرط ہے، "وَلَمْ يَثْبُتْ" اور حال یہ ہے کہ یہ شرط ثابت نہیں، یعنی عورت کی رضامندی ثابت نہیں ہے، "لِاخْتِلَافِهِمَا" اس وجہ سے کہ گواہوں کے دونوں فریق آپس میں اختلاف کر رہے ہیں۔ "وَلَهُ" اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ "وَلَهُ" امام صاحب کی دلیل یہ ہے "أَنَّهُ اخْتَلَفَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ" کہ مشہود علیہ یہاں پر مختلف ہو گیا۔ یاد رکھو یہاں مشہود علیہ سے مراد مشہود بہٖ ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، میں نے آپ کو بتلایا: ایک ہے گواہی دینے والے، وہ ہیں شاہد، اور دوسرا ہے جس کے خلاف گواہی دی ہے، وہ ہے مشہود علیہ، اور جس چیز کی گواہی دی ہے یعنی زنا کی گواہی دی ہے، تو وہ ہے مشہود بہٖ۔ تو یہاں پر مشہود بہٖ مختلف ہو گیا ہے۔ دو گواہ گواہی دے رہے ہیں زنا بالرضا کی اور دو گواہ گواہی دے رہے ہیں زنا بالاکراہ کی بھئی، اور زنا بالرضا اور ہوتا ہے اور زنا بالاکراہ اور ہوتا ہے، تو دونوں گواہوں کے جو فریق ہیں ان کا مشہود بہٖ الگ الگ ہے۔ ایک کا مشہود بہٖ زنا بالرضا ہے اور ایک کا مشہود بہٖ زنا بالاکراہ ہے بھئی، تو کسی ایک میں بھی شہادت کا نصاب پورا نہیں یعنی چار گواہ پورے نہیں ہیں۔ تو اختلاف کس میں ہے؟ مشہود بہٖ میں، لیکن صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: "وَلَهُ" کہ امام صاحب کی دلیل یہ ہے "أَنَّهُ اخْتَلَفَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ" کہ مشہود علیہ مختلف ہے۔ بھئی مشہود علیہ تو وہ آدمی ہے جس نے زنا کیا ہے، وہ آدمی ہے اور وہ عورت ہیں بھئی، اور وہ تو مختلف نہیں ہیں، ایک ہی آدمی اور عورت کے بارے میں گواہی دے رہے ہیں بھئی۔ تو یہاں پر شارحین فرماتے ہیں کہ مشہود علیہ سے مراد مشہود بہٖ ہے، یعنی یہاں "عَلَى" بمعنی "بَاء" کے ہے۔ "الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ" یہ کس معنی میں ہے؟ "الْمَشْهُودُ بِهِ" کے معنی میں ہے، اور عربی زبان میں "عَلَى" بمعنی "بَاء" کے عام استعمال ہوتا رہتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو صاحبِ ہدایہ جو بہت بڑے ادیب بھی ہیں وہ بطورِ تفنن کے یہاں پر "بَاء" کی جگہ "عَلَى" لے آئے، کیونکہ بات واضح تھی بھئی، کہ مشہود بہٖ مختلف ہوا ہے، مشہود علیہ مختلف نہیں ہوا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَلَهُ" امام صاحب کی دلیل یہ ہے "أَنَّهُ اخْتَلَفَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ" کہ مشہود بہٖ جو ہے وہ مختلف ہو گیا ہے، "لِأَنَّ الزِّنَا فِعْلٌ وَاحِدٌ يَقُومُ بِهِمَا" اس لیے کیونکہ زنا ایک ہی فعل ہے جو دونوں کے ساتھ قائم ہے۔ ایک ہی زنا ہے جو دونوں کے ساتھ قائم ہے۔ ایسا نہیں کہ مرد کا زنا کوئی اور ہے، عورت کا زنا کوئی اور ہے۔ توجہ ہے؟ ایک ہی فعلِ زنا ہے جو دونوں کے ساتھ قائم ہے، اور اسی کے بارے میں دو گواہ کہہ رہے ہیں جی رضامندی سے ہوا یہ زنا، اور دو کہہ رہے ہیں جبراً ہوا یہ زنا، تو معلوم ہوا مشہود بہٖ ہی مختلف ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الزِّنَا فِعْلٌ وَاحِدٌ يَقُومُ بِهِمَا" اس لیے کیونکہ یہ زنا جو ہے یہ تو ایک ہی فعل ہے جو دونوں کے ساتھ قائم ہے، "وَلِأَنَّ شَاهِدَيِ الطَّوَاعِيَةِ صَارَا قَاذِفَيْنِ لَهُمَا" ایک وجہ تو ذکر کر دی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ کہ کسی ایک کو بھی حد نہیں لگائی جائے گی، کیوں نہیں لگائی جائے گی؟ کیونکہ کسی بھی زنا پر شہادت کا نصاب پورا نہیں، نہ زنا بالرضا پر اور نہ زنا بالاکراہ پر، کسی پر بھی شہادت کا نصاب پورا نہیں۔ اور دوسرا جواب دے رہے ہیں، دوسرا جواب: کہ بھئی یہ جو زنا بالرضا کی جو گواہی دے رہے ہیں یہ دراصل ان دونوں پر زنا کی تہمت لگا رہے ہیں، ان دونوں پر زنا کی تہمت لگا رہے ہیں، تو ان پر حدِ قذف آنی چاہیے ان دونوں پر، لیکن چونکہ دو اور گواہ جو ہیں وہ زنا بالاکراہ کی گواہی دے رہے ہیں تو اس کی وجہ سے عورت کا محصنہ ہونا ساقط ہو گیا، اب وہ عورت محصنہ نہ رہی، تو اس وجہ سے جب وہ محصنہ نہیں ہے تو اس پر زنا کا الزام لگانے والے پر حدِ قذف بھی ثابت نہیں ہوگی۔ تو معلوم ہوا یہ جو زنا بالرضا کا الزام لگانے والے گواہ تھے ان پر حدِ قذف آ رہی تھی لیکن زنا بالاکراہ کے گواہوں کی وجہ سے ان سے حدِ قذف ساقط ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور جب عورت کی وجہ سے حدِ قذف ساقط ہو گئی، یہ جو زنا بالرضا کی گواہی دے رہے تھے ان پر حدِ قذف آنی تھی، لیکن زنا بالاکراہ کی وجہ سے عورت کا محصنہ ہونا ساقط، جب عورت کا محصنہ ہونا ساقط ہوا تو یہ جو زنا بالرضا کی گواہی دینے والے ہیں ان سے حدِ قذف ساقط ہو گئی۔ اور جب عورت کی وجہ سے ان سے حدِ قذف ساقط ہو رہی ہے تو مرد کی وجہ سے بھی اب حدِ قذف ان پر نہیں آئے گی کیونکہ زنا جو ہے مرد اور عورت کا ایک ہی فعل تھا۔ تو جب اس ایک فعل کے ایک فرد یعنی عورت کی وجہ سے حدِ قذف نہیں آ سکتی ان پر، تو دوسرے فرد یعنی مرد کی وجہ سے بھی ان گواہوں کو حدِ قذف اب نہیں لگ سکتی۔ تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّ شَاهِدَيِ الطَّوَاعِيَةِ صَارَا قَاذِفَيْنِ لَهُمَا"، "وَلِأَنَّ شَاهِدَيِ الطَّوَاعِيَةِ" اصل میں تھا شاہدین، دو گواہ ہیں، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّ شَاهِدَيِ الطَّوَاعِيَةِ" اور اس لیے کیونکہ ساتھ دینے کے جو دو گواہ ہیں یعنی جو زنا بالرضا کی گواہی دے رہے ہیں بھئی، تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّ شَاهِدَيِ الطَّوَاعِيَةِ" اس لیے کیونکہ عورت کے ساتھ دینے کے جو دو گواہ ہیں "صَارَا قَاذِفَيْنِ لَهُمَا" یہ دونوں اس مرد اور عورت پر تہمت لگانے والے ہو گئے، "وَإِنَّمَا يَسْقُطُ الْحَدُّ عَنْهُمَا" اور ان دونوں سے جو حد ساقط ہوئی ہے "بِشَهَادَةِ شَاهِدَيِ الْإِكْرَاهِ" وہ اکراہ کے دو گواہوں کی گواہی سے ہے بھئی، اکراہ کے دو گواہوں کی گواہی کی وجہ سے ان سے حد ساقط ہو گئی ورنہ ان پر حد آ جانی تھی۔ بھئی کیوں؟ اکراہ کے گواہوں کی وجہ سے حدِ قذف کیوں ساقط ہوئی؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّ زِنَاهَا مُكْرَهَةً" اس لیے کیونکہ اس عورت کا زنا کرنا مکمکرَہ ہونے کی حالت میں "يُسْقِطُ إِحْصَانَهَا" یہ اس کے محصنہ ہونے کو ساقط کر دیتا ہے۔ تو جب عورت محصنہ نہیں تو اب قذف والوں پر حد بھی نہیں آئے گی، اور جب عورت کی وجہ سے حد نہیں آ سکتی تو اب مرد کی وجہ سے بھی حد نہیں آئے گی کیونکہ زنا ایک ہی فعل ہے دونوں کا بھئی۔ "فَصَارَا خَصْمَيْنِ فِي ذَلِكَ" تو یہ دونوں فریقِ مخالف بن گئے اس اثباتِ زنا کے اندر۔ یہ دونوں، یہ جو گواہ ہیں زنا بالرضا کے، یہ تو قاذف بن گئے تھے، الزام لگانے والے بن گئے تھے اور ان پر حدِ قذف آ رہی تھی لیکن دوسرے دو گواہوں کی وجہ سے ان سے حدِ قذف ساقط ہو گئی، تو یہ تہمت لگانے والے ہوئے تو یہ فریقِ مخالف بن گئے۔ اور فریقِ مخالف کی تو گواہی قبول نہیں کی جاتی، تو یہ معنی ہے: "فَصَارَا خَصْمَيْنِ فِي ذَلِكَ" تو یہ دونوں گواہ جو ہیں یہ فریقِ مخالف بن گئے اس زنا کے ثابت کرنے میں، لہٰذا ان کی گواہی کالعدم ہے، اس کو شمار ہی نہیں کریں گے۔ تو یہ کالعدم ہو گئے، ان کی گواہی کا اعتبار ہی نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ ورنہ اشکال ہوتا تھا نا، چلو عورت کے بارے میں تو دو گواہ اکراہ کی بات کر رہے ہیں لیکن مرد کے بارے میں تو چاروں زنا کی ہی بات کر رہے ہیں کہ اس مرد نے زنا کیا ہے، تو بتلایا کہ ان میں سے دو جو ہیں وہ تہمت لگانے والے ہیں، وہ فریقِ مخالف بن گئے، جب فریقِ مخالف بن گئے تو ان کی گواہی کا کوئی اعتبار ہی نہیں، جب ان دو کی گواہی کا اعتبار نہیں تو مرد کے بارے میں بھی صرف دو گواہ ہیں اور اس سے تو مرد پر بھی حد ثابت نہیں ہو سکتی۔ تو یہ معنی ہے: "فَصَارَا خَصْمَيْنِ فِي ذَلِكَ" تو یہ دونوں گواہ جو ہیں جو زنا بالرضا پر گواہی دے رہے تھے یہ فریقِ مخالف بن گئے فی ذلک، اس زنا کے ثابت کرنے میں۔ آگے دیکھیے: "وَإِنْ شَهِدَ اثْنَانِ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ بِالْكُوفَةِ، وَآخَرَانِ أَنَّهُ زَنَى بِهَا بِالْبَصْرَةِ: دُرِئَ الْحَدُّ عَنْهُمَا". صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک آدمی کے زنا پر چار گواہ گواہی دینے آئے۔ دو گواہوں نے کہا کہ اس نے کوفہ کے اندر فلانی عورت سے زنا کیا ہے، دوسرے دو گواہوں نے بھی یہی کہا کہ اس آدمی نے اسی عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، البتہ انہوں نے بصرہ ذکر کیا کہ اس نے بصرہ میں اس عورت سے زنا کیا۔ تو اب اس صورت میں بھی دونوں میں سے کسی پر بھی حد نہیں آئے گی، کیونکہ جب جگہ مختلف ہو گئی تو معلوم ہوا یہ زنا الگ الگ ہے۔ جب زنا الگ الگ ہے تو ہر زنا پر دو ہی گواہ ہیں، چار نہیں ہیں۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ ہر زنا پر جب دو گواہ ہیں تو پھر تو ان ساروں پر حدِ قذف آنی چاہیے؟ تو جواب یہ کہ ہاں ان پر حدِ قذف آنی چاہیے لیکن یہاں چونکہ ان گواہوں کا گمان یہ ہے کہ ہم ایک ہی زنا پر گواہی دے رہے ہیں، مرد بھی وہی ہے، عورت بھی وہی ہے، زنا بھی وہی ہے، صرف جگہ کا فرق آ رہا ہے، تو ان کا خیال ہے کہ ہم چاروں تو ایک ہی زنا پر گواہی دے رہے ہیں، تو ان کے اس گمان کی وجہ سے شبہ آ گیا اور اس کی وجہ سے حد ساقط ہو گئی، اب ان گواہوں کو حدِ قذف نہیں لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ شَهِدَ اثْنَانِ" اور اگر دو گواہوں نے گواہی دی "أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ بِالْكُوفَةِ" کہ اس شخص نے زنا کیا ہے ایک عورت سے کوفہ کے اندر، "وَآخَرَانِ" اور دوسرے دو گواہوں نے گواہی دی "أَنَّهُ زَنَى بِهَا بِالْبَصْرَةِ" کہ اس نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے بصرہ میں، "دُرِئَ الْحَدُّ عَنْهُمَا" تو ان دونوں سے حد ساقط ہو جائے گی یعنی نہ مرد پر حد آئے گی نہ عورت پر، "لِأَنَّ الْمَشْهُودَ بِهِ فِعْلُ الزِّنَا" اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کی گواہی دی گئی ہے وہ فعلِ زنا ہے، مشہود بہٖ: جس چیز کی گواہی دی جائے، کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْمَشْهُودَ بِهِ فِعْلُ الزِّنَا" اس لیے کیونکہ مشہود بہٖ فعلِ زنا ہے "وَقَدِ اخْتَلَفَ بِاخْتِلَافِ الْمَكَانِ" اور وہ زنا مختلف ہو گیا جگہ کے بدلنے سے۔ ایک ہی زنا دو جگہ پر نہیں ہو سکتا تو جگہیں الگ ہیں، معلوم ہوا زنا بھی الگ ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَقَدِ اخْتَلَفَ بِاخْتِلَافِ الْمَكَانِ" اور یہ فعلِ زنا مختلف ہو گیا جگہوں کے بدلنے سے یا یوں کہیں یہ مشہود بہٖ مختلف ہو گیا جگہ کے مختلف ہونے سے، تو مشہود بہٖ الگ الگ ہوئے، "وَلَمْ يَتِمَّ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصَابُ الشَّهَادَةِ" اور پورا نہیں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی شہادت کا نصاب، دونوں زنا... ہیں۔ ایک زِنا بالبصرہ ہے، ایک زِنا بالکوفہ ہے۔ دونوں میں سے کسی ایک پر بھی نصابِ شہادت پورا نہیں ہے، کسی پر بھی چار گواہ نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَمْ يَتِمَّ عَلَىٰ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصَابُ الشَّهَادَةِ“ اور پورا نہیں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی شہادت کا نصاب، ”وَلَا يُحَدُّ الشُّهُودُ“ تو یہاں اشکال ہوتا ہے، پھر گواہوں کو حد لگنی چاہیے، حدِ قذف۔ اب اس کی وجہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلَا يُحَدُّ الشُّهُودُ“ اور گواہوں کو حدِ قذف نہیں لگائی جائے گی، ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بخلاف امامِ زفر کے۔ امامِ زفر فرماتے ہیں گواہوں کو حد لگائی جائے گی، ان کو حدِ قذف لگائیں گے بھئی۔ صرف یہاں اختلاف ذکر کیا۔ آگے دلیل ہماری ذکر ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں گواہوں کو حد نہیں لگائی جائے گی ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بخلاف امامِ زفر رحمہ اللہ کے، ”لِشُبْهَةِ الِاتِّحَادِ“ یہ ہماری دلیل ہے کہ گواہوں کو حد نہیں لگائیں گے، کیوں نہیں لگائیں گے؟ ”لِشُبْهَةِ الِاتِّحَادِ“ اتحاد کے شبہے کی وجہ سے۔ اتحاد کا معنی ہے ایک ہونا۔ ایک ہونا۔ توجہ ہے؟ بھئی دونوں گواہوں کا مشہود بہ الگ الگ ہے۔ ایک زِنا بالبصرہ ہے، ایک زِنا بالکوفہ ہے۔ تو دونوں کا مشہود بہ الگ الگ ہے لیکن ایک ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ ایک ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ دونوں گواہوں کا یہ گمان ہے کہ ہم تو ایک ہی زنا کے بارے میں گواہی دے رہے ہیں؛ مرد بھی وہی ہے، عورت بھی وہی ہے، فعلِ زنا بھی انہی کے درمیان ہوا ہے، صرف جگہ کا اختلاف آ گیا گواہوں کے درمیان۔ تو یہاں پر مشہود بہ کے ایک ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ یہ معنی ہے ”لِشُبْهَةِ الِاتِّحَادِ“ مشہود بہ کے ایک ہونے کے شبہ کی وجہ سے، ”نَظَرًا إِلَىٰ اتِّحَادِ الصُّورَةِ وَالْمَرْأَةِ“ بھئی ایک ہونے کا شبہ کس اعتبار سے ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: ”نَظَرًا إِلَىٰ اتِّحَادِ الصُّورَةِ وَالْمَرْأَةِ“ نظر کرتے ہوئے صورت اور عورت کے ایک ہونے کی طرف۔ اتحاد کا کیا معنی؟ ایک ہونا۔ ”نَظَرًا“ نظر کرتے ہوئے ”إِلَىٰ اتِّحَادِ الصُّورَةِ وَالْمَرْأَةِ“ صورت اور عورت کے ایک ہونے کی طرف نظر کرتے ہوئے، کہ دونوں ایک ہی عورت کو بیان کر رہے ہیں اور دونوں ایک ہی مرد کو بیان کر رہے ہیں، تو لہٰذا صورۃً گواہوں کا کیا گمان ہے کہ ہم ایک ہی زنا کی گواہی دے رہے ہیں۔ تو صورۃً بھی اتحاد آیا، عورت کے اندر بھی اتحاد آیا، لہٰذا مشہود بہ کے ایک ہونے کا شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے تو حد ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا اس لیے ان گواہوں پر حدِ قذف نہیں آئے گی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلَا يُحَدُّ الشُّهُودُ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام زفر کے برعکس گواہوں کو حد نہیں لگائی جائے گی، ”لِشُبْهَةِ الِاتِّحَادِ“ مشہود بہ کے ایک ہونے کے شبہے کی وجہ سے، ”نَظَرًا إِلَىٰ اتِّحَادِ الصُّورَةِ وَالْمَرْأَةِ“ نظر کرتے ہوئے صورت اور عورت کے ایک ہونے کی طرف کہ صورت بھی ایک ہے اور عورت بھی ایک ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنِ اخْتَلَفُوا فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ حُدَّ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ چار گواہوں نے گواہی دی ایک مرد اور عورت کے بارے میں کہ انہوں نے زنا کیا ہے اور ایک ہی جگہ، ایک ہی کمرہ بیان کیا۔ لیکن دو گواہ کہتے ہیں کہ اس نے کمرے کے فلاں حصے میں زنا کیا ہے اور دوسرے دو گواہ کہتے ہیں کہ اس نے کمرے کے فلاں حصے میں زنا کیا ہے۔ تو اب ایک ہی کمرے کے اندر جگہیں مختلف بیان ہو رہی ہیں بھئی۔ تو پھر کیا اس صورت میں حد جاری کی جائے گی؟ کہتے ہیں ہاں، اس صورت میں مرد اور عورت کو حد لگائی جائے گی۔ تو سوال پیدا ہوتا بھئی جگہیں مختلف ہیں، کہتے ہیں بھئی ہو سکتا ہے زنا کی ابتدا انہوں نے ایک جگہ پر کی ہے اور زنا کی انتہا دوسری جگہ پر کی ہو، تو پہلے دیکھنے والوں نے ابتدائی مقام کو دیکھا انہوں نے کہا انہوں نے یہاں زنا کیا ہے، اور بعد والوں نے آخری حصے میں زنا کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے کہا یہاں زنا کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اخْتَلَفُوا فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ“ اور اگر گواہوں نے اختلاف کیا ایک ہی کمرے کے اندر، ”حُدَّ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ“ تو پھر مرد اور عورت کو حد لگائی جائے گی، ”مَعْنَاهُ أَنْ يَشْهَدَ“ جی صاحبِ ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں اس قول کی جو متن میں آیا کہ گواہوں نے ایک ہی کمرے کے اندر اختلاف کیا، ایک ہی کمرے کے اندر اختلاف کرنے کا کیا معنی؟ تو اب بتلا رہے ہیں: ”مَعْنَاهُ“ کہ اس قول کا معنی یہ ہے ”أَنْ يَشْهَدَ كُلُّ اثْنَيْنِ عَلَى الزِّنَا فِي زَاوِيَةٍ“ کہ گواہی دی ہے ہر دو نے زنا پر ”فِي زَاوِيَةٍ“ ایک کونے میں۔ زاویہ کہتے ہیں کمرے کا کونا۔ تو دو نے گواہی دی ہے کہ اس کونے میں زنا کیا اور دو نے گواہی دی ہے کمرے کے دوسرے کونے میں زنا کیا۔ تو کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ أَنْ يَشْهَدَ كُلُّ اثْنَيْنِ عَلَى الزِّنَا فِي زَاوِيَةٍ“ اس کلام کا معنی یہ ہے کہ ہر دو نے گواہی دی ہے زنا پر ایک کونے میں، ”وَهٰذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے، یعنی استحساناً حد لگائی جائے گی۔ قیاس کا تو تقاضا یہ ہے حد نہ لگائی جائے، اس لیے کیونکہ جب جگہ مختلف ہو جائے تو زنا مختلف ہو جاتا ہے، مشہود بہ مختلف ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ حد جو لگائی جائے گی یہ بطورِ استحسان کے ہے، ”وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يُحَدَّا“ اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ حد نہ لگائی جائے ”لِاخْتِلَافِ الْمَكَانِ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ جگہ حقیقتاً مختلف ہے، دو گواہ ایک جگہ بیان کر رہے ہیں اور دو گواہ دوسری جگہ، تو حقیقتاً جگہ مختلف ہے۔ ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ التَّوْفِيقَ مُمْكِنٌ“ کہ یہاں پر توفیق ممکن ہے، دونوں قولوں میں تطبیق دینا، ان کو ایک دوسرے کے موافق کرنا ممکن ہے، جیسے میں نے بیان کر دیا۔ دونوں گواہوں کے اقوال میں تطبیق دے دی جائے گی، کس طرح؟ کہ زنا کی ابتدا ہوئی ایک کونے میں اور انتہا ہوئی ہے دوسرے کونے میں، تو دو گواہوں نے ابتدا کو دیکھا اور دو گواہوں نے انتہا کو دیکھا، تو ابتدا والے بھی صحیح گواہی دے رہے ہیں اور انتہا والے بھی صحیح گواہی دے رہے ہیں ایک ہی فعلِ زنا پر بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ التَّوْفِيقَ مُمْكِنٌ“ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر ان کے قولوں کے اندر تطبیق اور توفیق ممکن ہے۔ تطبیق اور توفیق کا معنی ہے دو باتوں کو ایک دوسرے کے موافق بنانا۔ تو یہاں پر بھی دونوں کے قول بظاہر الگ الگ ہیں لیکن ہم ان کو ایک دوسرے کے موافق بنا دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ التَّوْفِيقَ مُمْكِنٌ“ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ دونوں قولوں کے درمیان موافقت ممکن ہے ”بِأَنْ يَكُونَ ابْتِدَاءُ الْفِعْلِ فِي زَاوِيَةٍ“ بایں صورت کہ ابتدائے فعلِ زنا جو ہے وہ ایک کونے میں ہو ”وَالِانْتِهَاءُ فِي زَاوِيَةٍ أُخْرَىٰ“ اور فعلِ زنا کی انتہا دوسرے کونے میں ہو ”بِالِاضْطِرَابِ“ حرکت کی وجہ سے۔ اضطراب، یاد رکھو صاحبِ ہدایہ کو کہنا یہ چاہیے تھا کہ ابتدا فعل کی ایک کونے میں ہے اور انتہا دوسرے کونے میں ہے ”بِالْحَرَكَةِ“ حرکت کرنے کی وجہ سے، ابتدائے زنا ایک کونے میں کی اور پھر حرکت کرتے ہوئے دوسرے کونے میں آ گئے۔ لیکن صاحبِ ہدایہ، ان کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں، انہوں نے اس حرکت کو اضطراب کے ساتھ بیان فرمایا، یعنی اشارہ کر دیا کہ یہ جو حرکت ہے یہ بھی بے چینی والی حرکت ہے، کیونکہ گناہ کرتے ہوئے انسان بے انتہا بے چین ہوتا ہے، اسے خوف ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہ وہ ایک کونے میں ابتدا کی اور دوسرے کونے میں انتہا کی ”بِالِاضْطِرَابِ“ بے چینی اور حرکت کی وجہ سے۔ ”أَوْ لِأَنَّ الْوَاقِعَ“ تطبیق کی دوسری صورت بیان کر رہے ہیں۔ ایک صورت تو کیا تھی؟ ابتدا ایک کونے میں کیا اور انتہا دوسرے کونے میں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کمرہ چھوٹا ہے اور یہ دونوں مثلاً وسط میں زنا کر رہے ہیں، لیکن دو گواہ ایک طرف سے دیکھ رہے ہیں، تو کمرہ چونکہ چھوٹا ہے تو ان کو اپنے قریب لگے، انہوں نے اپنے قریب والا کنارہ بیان کیا۔ اور دو گواہ دوسری طرف سے دیکھ رہے ہیں، ان کو بھی کمرہ چھوٹا سا ہے اور یہ وسط میں ہیں تو ان کو اپنے قریب ہی لگے تو انہوں نے اپنے قریب والا کنارہ بیان کیا، اور یہ اسی صورت میں ہوگا جب کمرہ چھوٹا ہو۔ اگر کمرہ بڑا ہے پھر یہ توفیق یہاں نہیں چل سکتی، ہاں وہ حرکت والی تطبیق تو چل سکتی ہے لیکن یہ جو بیان کے اندر اپنے قریب سمجھنا یہ تطبیق وہاں جاری نہیں ہو سکتی۔ کہتے ہیں: ”أَوْ لِأَنَّ الْوَاقِعَ فِي وَسَطِ الْبَيْتِ“ یا اس لیے کیونکہ وہ فعلِ زنا جو واقع ہوا کمرے کے وسط میں ”فَيَحْسَبُهُ مَنْ فِي الْمُقَدَّمِ فِي الْمُقَدَّمِ“ تو اس کو گمان کرتا ہے وہ گواہ جو مقدمِ کمرے کے اندر ہیں، جو کمرے کے اگلے حصے میں ہیں وہ اس کو گمان کرتے ہیں ”فِي الْمُقَدَّمِ“ کہ یہ فعل کہاں ہو رہا ہے؟ کمرے کے مقدم حصے میں یعنی ہمارے قریب، ”وَمَنْ فِي الْمُؤَخَّرِ فِي الْمُؤَخَّرِ“ اور وہ گواہ جو کمرے کے آخری حصے میں ہیں وہ اس کو گمان کرتے ہیں کہ یہ زنا مؤخر حصے میں ہوا ہے، ”فَيَشْهَدُ بِحَسَبِ مَا عِنْدَهُ“ تو ہر ایک گواہی دیتا ہے اسی کے مطابق جو اس کے نزدیک ثابت ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُ زَنَىٰ بِامْرَأَةٍ بِالنُّخَيْلَةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَأَرْبَعَةٌ أَنَّهُ زَنَىٰ بِهَا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ بِدَيْرِ هِنْدٍ دُرِئَ الْحَدُّ عَنْهُمْ جَمِيعًا“ صورتِ مسئلہ یہ کہ چار گواہوں نے ایک مرد اور عورت کے بارے میں گواہی دی کہ انہوں نے نخیلہ مقام میں طلوعِ آفتاب کے وقت زنا کیا ہے، ہم نے دیکھا ہے۔ اور چار ہی اور آدمیوں نے گواہی دی کہ اس مرد نے اس عورت کے ساتھ، اس عورت کے ساتھ دیرِ ہند مقام کے اندر جو ہے زنا کیا ہے اور ہم نے دیکھا ہے۔ تو اب جگہیں مختلف ہیں لیکن ہر ایک پر چار گواہ تو پورے ہیں۔ اب تو حد ثابت ہونی چاہیے؟ کہتے ہیں نہیں، حد اب بھی ثابت نہیں ہوگی۔ وجہ یہ ہے کہ ایک ہی وقت ذکر کر رہے ہیں اور ایک ہی وقت کے اندر ایک آدمی ایک جگہ ہو سکتا ہے، دونوں جگہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ان دو گواہوں کی جو گروہ ہیں ان میں سے ایک تو یقیناً جھوٹا ہے۔ ایک یقیناً جھوٹا ہے لیکن پتہ نہیں کون سا جھوٹا ہے، تو دونوں کے اندر جھوٹا ہونے کا شبہ آ گیا۔ تو ان کی وجہ سے حد ثابت نہیں ہوگی کیونکہ حد تو ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہے۔ اچھا پھر سوال پیدا ہوتا پھر ان پر حدِ قذف آنی چاہیے جب حد ثابت نہیں، تو جواب یہ کہ نہیں، ہو سکتا ہے ان دونوں میں سے کوئی ایک سچا ہو، تو دونوں کے بارے میں سچا ہونے کا بھی شبہ ہوتا ہے لہٰذا حدِ قذف بھی ان پر ثابت نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ“ اور اگر چار گواہوں نے گواہی دی ”أَنَّهُ زَنَىٰ بِامْرَأَةٍ بِالنُّخَيْلَةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ“ کہ اس آدمی نے زنا کیا ہے ایک عورت کے ساتھ نخیلہ مقام میں سورج طلوع ہوتے وقت، نخیلہ یہ مقام ہے کوفہ کے قریب بھئی، تو وقت بھی دیکھو ذکر کر دیا کہ طلوعِ شمس، یعنی ایک ہی وقت ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ اگر وقت الگ الگ بیان کرتے ہیں پھر تو ممکن ہے بھئی، ایک وقت میں ایک جگہ زنا کیا دوسرے وقت میں دوسری جگہ۔ یہاں پر ایک ہی وقت ذکر کر رہے ہیں اور جگہیں الگ الگ ہیں۔ تو چار نے گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے نخیلہ مقام میں سورج طلوع ہوتے وقت، ”وَأَرْبَعَةٌ أَنَّهُ زَنَىٰ بِهَا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ بِدَيْرِ هِنْدٍ“ اور چار نے یہ گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے سورج طلوع ہوتے وقت دیرِ ہند کے اندر۔ دیرِ ہند یہ کوئی جگہ ہے، مشہور جگہ کوفہ کے قریب بھئی۔ اسی طرح نخیلہ یہ بھی کوفہ کے قریب کوئی جگہ ہے لیکن الگ الگ جگہیں ہیں۔ ویسے یاد رکھو دیر جو ہے، دیر، دیرِ ہند بھئی، عربی زبان میں دیر کہتے ہیں راہب خانہ جہاں پر راہب رہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ عیسائی جو ہیں وہ اللہ کی عبادت کے لیے لوگوں سے کٹ کر، لوگوں سے جدا ہو کر جنگلوں میں اپنی تھوڑی سی جگہ بنا کر وہاں رہتے تھے اور ہر وقت اللہ کی عبادت میں لگے رہتے تھے، ان کو راہب کہا جاتا تھا، جو سارے لوگوں سے کٹ کر الگ ہو کر اللہ کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں شب و روز ان کو راہب کہا جاتا تھا بھئی۔ تو یہ جو راہبوں کی جگہ ہوتی اس کو دیر کہتے، کیا کہتے ہیں؟ دیر۔ اور پھر یہ ہند کی طرف اضافت ہو رہی ہے دیرِ ہند، ہند کا دیر۔ ہند کا، ہند کا دیر یعنی دیر کا معنی کر لو راہب خانہ یا ان راہبوں کی خانقاہ۔ دیرِ ہند، ہند کی خانقاہ۔ تو یہ عربوں کے اندر کہتے ہیں تین جگہیں تھیں جو اس نام سے مشہور تھیں۔ تین جگہیں تھیں جو راہبوں کی خانقاہ کے اعتبار سے قدیم زمانے سے مشہور تھیں، تو ان میں سے ایک جو ہے یہ کوفہ کے قریب تھی بھئی۔ تو مشہور جگہ تھی اس لیے صاحبِ ہدایہ نے بھی اس کو ذکر فرمایا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَرْبَعَةٌ أَنَّهُ زَنَىٰ بِهَا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ بِدَيْرِ هِنْدٍ“ اور چار نے اس بات پر گواہی دی کہ اس نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے سورج طلوع ہوتے وقت دیرِ ہند مقام میں، ”دُرِئَ الْحَدُّ عَنْهُمْ جَمِيعًا“ تو حد جو ہے حد ساقط ہو جائے گی ”عَنْهُمْ جَمِيعًا“ ان سب سے۔ یعنی نہ اس مرد اور عورت پر حد آئے گی اور نہ گواہی دینے والوں پر حد آئے گی، سب سے حد ساقط ہو جائے گی۔ ”أَمَّا عَنْهُمَا“ تو مرد اور عورت سے حد ساقط ہوگی وہ اس لیے: ”فَلِأَنَّا تَيَقَّنَّا بِكَذِبِ أَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ مِنْ غَيْرِ عَيْنٍ“ اس لیے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ گواہوں کے دونوں فریقوں میں سے ایک تو جھوٹ بول رہا ہے یقینی طور پر، لیکن کون سا گروہ جھوٹ بول رہا ہے ہمیں پتہ نہیں، تو ایک تو جھوٹا ہے یقینی طور پر۔ تو معلوم ہوا دونوں کے بارے میں جھوٹا ہونے کا گمان آ گیا، شک آ گیا، تو اس کی وجہ سے اب حد ثابت نہیں ہوگی۔ تو یہ معنی ہے ”فَلِأَنَّا تَيَقَّنَّا بِكَذِبِ أَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ مِنْ غَيْرِ عَيْنٍ“ اس لیے کیونکہ ہم نے یقین کر لیا کہ دو فریقوں میں سے ایک جھوٹا ہے ”مِنْ غَيْرِ عَيْنٍ“ بغیر تعیین کے، یعنی غیر معین، ”مِنْ غَيْرِ عَيْنٍ“ ہاں، دو فریقوں میں سے ایک غیر معین جو ہے وہ یقیناً جھوٹا ہے۔ ”وَأَمَّا عَنِ الشُّهُودِ“ اور باقی گواہوں سے بھی حدِ قذف ساقط ہو جائے گی ”فَلِاحْتِمَالِ صِدْقِ كُلِّ فَرِيقٍ“ اس لیے کیونکہ ہر فریق کے سچا ہونے کا احتمال ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى امْرَأَةٍ بِالزِّنَا وَهِيَ بِكْرٌ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ چار گواہوں نے گواہی دی کہ اس مرد نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اور بعد میں اس عورت کو دوسری عورتوں نے دیکھا تو وہ باکرہ تھی۔ وہ باکرہ تھی۔ تو یاد رکھو اس صورت میں حد ساقط ہو جائے گی۔ اس مرد اور عورت پر حدِ زنا نہیں، کیونکہ اگر مرد نے زنا کیا ہے تو عورت کی بکارت باقی نہیں رہ سکتی تھی، تو لہٰذا مرد اور عورت سے حد ساقط ہو گئی۔ اور گواہوں پر بھی حد نہیں آئے گی کیونکہ چار گواہوں کا نصاب پورا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى امْرَأَةٍ بِالزِّنَا وَهِيَ بِكْرٌ“ اور اگر چار آدمیوں نے گواہی دی ایک عورت کے خلاف زنا کی، ”وَهِيَ بِكْرٌ“ اور حال یہ ہے کہ وہ باکرہ ہے، ”دُرِئَ الْحَدُّ عَنْهُمَا وَعَنْهُمْ“ تو حد جو ہے وہ ساقط ہو جائے گی ”عَنْهُمَا“ اس مرد اور عورت سے بھی ”وَعَنْهُمْ“ اور ان گواہوں سے بھی، ”لِأَنَّ الزِّنَا لَا يَتَحَقَّقُ مَعَ بَقَاءِ الْبَكَارَةِ“ اس لیے کیونکہ زنا وہ ثابت نہیں ہو سکتا بکارت کے باقی رہتے ہوئے، ”وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ“ اور مسئلے کا معنی یہ ہے، صاحبِ ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں کہ اس کے باکرہ ہونے کا پتہ چلا تو وضاحت کر رہے ہیں کہ بھئی عورتوں نے اس کو دیکھا اور اس کو باکرہ پایا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ أَنَّ النِّسَاءَ نَظَرْنَ إِلَيْهَا“ اور مسئلے کا معنی یہ ہے کہ عورتوں نے اس عورت کو دیکھا ”فَقُلْنَ إِنَّهَا بِكْرٌ“ تو انہوں نے کہا کہ یہ باکرہ ہے، ”وَشَهَادَتُهُنَّ حُجَّةٌ فِي إِسْقَاطِ الْحَدِّ“ اور عورتوں کی گواہی حد کے ساقط کرنے میں حجت ہے ”وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ فِي إِيجَابِهِ“ اور حد کے واجب کرنے میں حجت نہیں ہے۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں حدود کا مسئلہ بڑا نازک ہے۔ حدود کا مسئلہ بڑا نازک ہے تو اس کے اندر صرف مردوں کی گواہی قبول کی جائے گی، عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو عورتوں کی گواہی سے حد ثابت نہیں ہو سکتی، لیکن عورتوں کی گواہی سے حد ساقط ہو سکتی ہے۔ جیسے یہاں پر عورتوں نے گواہی دی کہ یہ عورت تو باکرہ ہے جس پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے، تو ان کی گواہی سے حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَشَهَادَتُهُنَّ حُجَّةٌ فِي إِسْقَاطِ الْحَدِّ“ اور عورتوں کی جو گواہی ہے وہ حد کے ساقط کرنے میں حجت ہے ”وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ فِي إِيجَابِهِ“ اور عورتوں کی شہادت جو ہے وہ حد کے ثابت کرنے میں حجت نہیں ہے، ”فَلِهٰذَا سَقَطَ الْحَدُّ عَنْهُمَا“ تو اسی وجہ سے حد ساقط ہو گئی اس مرد اور عورت سے، ”وَلَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ“ اور ان گواہوں پر حد واجب نہیں ہوئی، کیونکہ عورتوں کی گواہی سے حد واجب، واجب اور ثابت نہیں ہو سکتی، ساقط ہو سکتی ہے تو ساقط ہو گئی، لیکن گواہوں پر حد واجب ہو جائے وہ عورتوں کی گواہی سے نہیں ہو سکتا۔ تو یہ معنی ہے ”فَلِهٰذَا سَقَطَ الْحَدُّ عَنْهُمَا“ اسی لیے حد جو ہے اس مرد اور عورت سے تو ساقط ہو گئی ”وَلَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ“ اور ان گواہوں پر واجب نہیں ہوئی بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا وَهُمْ عُمْيَانٌ أَوْ مَحْدُودُونَ فِي قَذْفٍ أَوْ أَحَدُهُمْ عَبْدٌ أَوْ مَحْدُودٌ فِي قَذْفٍ فَإِنَّهُمْ يُحَدُّونَ وَلَا يُحَدُّ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ“ بھئی یہاں مسئلہ سمجھنے سے پہلے گواہوں کی اقسام سمجھ لیں۔ بھئی جہاں کتاب النکاح ہم نے شروع کی تھی بالکل آغاز میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ عند الاحناف مسلمان کے نکاح میں دو گواہوں کا ہونا شرط ہے۔ گواہ ہوں گے تو نکاح ہو گا، گواہ نہیں تو نکاح بھی نہیں۔ وہاں پر میں نے گواہوں کی اقسام تفصیل سے بیان کی تھیں۔ یاد رکھو گواہ چار قسم کے ہو سکتے ہیں بھئی۔ گواہ کسی بھی مسئلے میں چار قسم کے ہو سکتے ہیں۔ کچھ وہ گواہ ہیں جو کامل طریقے سے تحملِ شہادت بھی کر سکتے ہیں اور ادائے شہادت بھی۔ کچھ وہ گواہ ہیں جو، جو اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں کامل طور پر۔ بھئی ایک ہے تحملِ شہادت، ایک ہے ادائے شہادت۔ تحملِ شہادت کا معنی ہے گواہ بننا، اور ادائے شہادت کا معنی ہے گواہی دینا۔ دیکھو ایک شخص نکاح کرتا ہے، اس میں دو عاقل بالغ مردوں کو بٹھاتا ہے، تو یہ دونوں مرد گواہ بن گئے، یہ ہے تحملِ شہادت یعنی گواہ بن گئے۔ اور پھر بعد میں اگر قاضی کے پاس مسئلہ پیش آیا اور پھر ان دو گواہوں کو وہاں جا کر گواہی دینا پڑی کہ ہمارے سامنے ان کا نکاح ہوا تھا، تو یہ ہے ادائے شہادت یعنی گواہی دینا، وہ قاضی کے پاس گواہی دے رہے ہیں۔ تو یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں؛ ایک ہے تحملِ شہادت یعنی گواہ بننا اور ایک ہے ادائے شہادت یعنی گواہی دینا، اور گواہی دینا وہ قاضی کے پاس ہوتا ہے۔ تو یاد رکھو گواہ جو ہیں اس تحملِ شہادت اور ادائے شہادت کے اعتبار سے چار قسم پر ہیں۔ پہلی قسم کے گواہ وہ ہیں جو اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں کامل طریقے پر۔ پہلی قسم کے گواہ وہ ہیں جو اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں کامل طور پر۔ دوسری قسم کے گواہ وہ ہوں گے جو اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں لیکن ناقص طور پر، کامل نہیں۔ اور تیسری قسم گواہ وہ ہوں گے جو اہلِ تحمل تو ہیں، وہ گواہ بن تو سکتے ہیں لیکن وہ اہلِ ادا نہیں، وہ گواہی دے نہیں سکتے، یہ تیسری قسم ہوگی۔ اور چوتھی قسم گواہوں کی وہ ہے جو نہ اہلِ تحمل ہیں اور نہ اہلِ ادا ہیں، نہ وہ گواہ بن سکتے ہیں اور نہ وہ گواہی دے سکتے ہیں۔ تو کتنی قسم کے گواہ ہو گئے؟ چار۔ پہلی قسم کیا؟ جو اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں کامل طور پر۔ اور دوسری قسم جو اہلِ تحمل اور اہلِ ادا ہیں لیکن ناقص طور پر۔ تیسری قسم وہ جو اہلِ تحمل تو ہیں لیکن اہلِ ادا نہیں، وہ گواہی دے نہیں سکتے، قاضی کے پاس چلے بھی جائیں تو قاضی ان کی گواہی قبول ہی نہیں کرے گا۔ اور چوتھی قسم وہ ہے جو اہلِ تحمل بھی نہیں اور اہلِ ادا بھی نہیں۔ توجہ ہے؟ اب اہلِ تحمل اور اہلِ ادا کامل طور پر وہ گواہ ہیں جن میں پانچ صفتیں پائی جائیں: آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور پانچویں صفت ہے کہ وہ عادل ہوں، قابلِ اعتماد ہوں، دین پر ٹھیک طرح چلنے والے ہیں اور سچ بولنے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ پانچ صفات جس گواہ کے اندر ہوں گی وہ اہلِ تحمل بھی ہے اور اہلِ ادا بھی ہے کامل طور پر۔ کون سے پانچ صفات؟ آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور عادل ہو۔ یاد رکھو جب عادل گواہ قاضی کے سامنے آ جائیں اور کسی مسئلے کے اندر آ کر دو عادل آدمی گواہی دے دیں تو اب قاضی کو وہی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اب قاضی مجبورِ محض بن گیا ہے، اب جو انہوں نے گواہی دی ہے وہی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اگر قاضی یہ فیصلہ نہیں کرتا تو وہ عند اللہ مجرم ہو گا۔ تو جب قاضی کے پاس عادل گواہ آ جائیں تو قاضی پر ان کی گواہی کے مطابق فیصلہ کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ یہ تو تھے وہ گواہ جو اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں کامل طور پر، یہ گواہ بن بھی سکتے ہیں اور گواہی دے بھی سکتے ہیں کامل طور پر۔ دوسری قسم کے وہ گواہ ہیں جو اہلِ تحمل اور اہلِ ادا ہیں لیکن ناقص طور پر، اور وہ ہیں فاسق بھئی۔ گنہگار جو اللہ کے احکام کی زیادہ پروا نہیں کرتا تو یہ ہے فاسق بھئی۔ یہ اہلِ تحمل بھی ہے، یہ گواہ بن بھی سکتا ہے، یہ اہلِ ادا بھی ہے یہ گواہی دے بھی سکتا ہے، لیکن کامل طور پر نہیں، یہ قاضی کی مرضی ہے ان کی گواہی قبول کرے یا قبول نہ کرے۔ اگر قاضی کو قرینوں سے پتہ چل جائے کہ یہ سچ بول رہا ہے تو پھر فاسق کی گواہی قبول کر سکتا ہے، اور اگر قاضی چاہے تو رد بھی کر سکتا ہے۔ تو یہ جو فاسق ہے یہ اہلِ تحمل بھی ہے اور اہلِ ادا بھی ہے البتہ ناقص طور پر۔ اور تیسری قسم ہے جو اہلِ تحمل تو ہیں لیکن اہلِ ادا نہیں، وہ گواہ بن تو سکتے ہیں گواہی دے نہیں سکتے، اور وہ ہے اندھے یا اسی طرح محدود فی القذف۔ اندھا آدمی ہے یہ گواہ بن تو سکتا ہے، گواہی دے نہیں سکتا۔ لہٰذا نکاح کے اندر ایک آدمی دو اندھوں کو بٹھاتا ہے اور نکاح کرتا ہے نکاح ہو جائے گا، کیونکہ یہ گواہ بن سکتے ہیں۔ لیکن قاضی کے پاس جا کر یہ گواہی دے نہیں سکتے۔ وجہ یہ کہ جب گواہی دینا پڑتی ہے تو جس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں اس کو دیکھنا ہو گا کہ یہی ہے جس کے خلاف ہم گواہی دے رہے ہیں یا کوئی اور ہے، جبکہ اندھے تو صرف آواز کے ذریعے پہچانیں گے اور اس کے اندر تو شبہ لگ سکتا ہے آواز میں غلطی لگ سکتی ہے، لہٰذا اندھے جو ہیں وہ اہلِ تحمل تو ہیں اہلِ ادا نہیں ہیں بھئی۔ قاضی کے پاس گواہی دے نہیں سکتے۔ اسی طرح محدود فی القذف جو ہے، محدود فی القذف، وہ شخص جس کو حدِ قذف لگ چکی ہے اور اس کے بارے میں قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو اسی کوڑے بھی لگاؤ: ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ تو عند الاحناف یہ گواہی کا قبول نہ کرنا یہ باقاعدہ حد کا حصہ ہے۔ اب تمام زندگی ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ البتہ یہ گواہ بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ایک شخص نکاح کرنے لگا اس میں اس نے دو محدود فی القذف آدمیوں کو گواہ بنا لیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ یہ گواہ بن سکتے ہیں، یہ اہلِ تحمل ہیں۔ البتہ گواہی دے نہیں سکتے، قاضی کے پاس جا کر اگر اس نکاح کے لیے انہیں گواہی دینا پڑی تو قاضی ان کی گواہی قبول نہیں کرے گا۔ تو یہ اہلِ تحمل تو ہیں البتہ اہلِ ادا نہیں ہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے، قرآن میں تو اللہ فرما رہے ہیں: ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“ ان کی گواہی قبول نہ کرو، تو اس سے آپ نے اہلِ تحمل ہونا کیسے ثابت کر دیا؟ یہ اہلِ تحمل کس طرح ہیں؟ ہم کہتے ہیں آیت سے ثابت ہو رہا ہے ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“ اسی سے ثابت ہو رہا ہے یہ اہلِ تحمل ہے۔ اسی سے ثابت ہو رہا ہے یہ اہلِ تحمل ہے، اس لیے کیونکہ اللہ فرما رہے ہیں ان کی گواہی قبول نہ کرو اور معلوم ہوا ان میں گواہی کی اہلیت ہے، اسی لیے تو اللہ فرما رہے ہیں ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ اگر ان میں اہلیت ہی نہ ہوتی تو اللہ یہ نہ فرماتے کہ ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ جیسے مثلاً ایک اندھا ہے، اندھے کو کوئی نہیں کہتا کہ مت دیکھو کیونکہ وہ دیکھ ہی نہیں سکتا، یا بہرا ہے اس کو کوئی نہیں کہتا کہ مت سنو کیونکہ وہ سن ہی نہیں سکتا۔ تو یہاں پر بھی اللہ فرما رہے ہیں ان کی گواہی قبول نہ کرو، معلوم ہوا ان میں اہلیت ہے، اگر اہلیت ہی نہ ہوتی تو اللہ یہ نہ فرماتے کہ ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ تو معلوم ہوا اندھے اور محدود فی القذف یہ اہلِ تحمل تو ہیں، اہلِ ادا نہیں ہیں۔ اور چوتھی قسم کے گواہ وہ ہیں جو نہ اہلِ تحمل ہیں نہ اہلِ ادا ہیں، جو نہ گواہ بن سکتے ہیں نہ گواہی دے سکتے ہیں، اور وہ غلام ہیں، بچے ہیں، مجنون ہے اور اسی طرح مسلمان کے معاملے میں کافر ہے۔ کافر مسلمان کے خلاف گواہ بن ہی نہیں سکتا۔ تو یہ جو غلام، بچہ یعنی نابالغ ہے، مجنون ہے اور کافر، ان کو بٹھا کر کوئی شخص نکاح کرتا ہے تو پھر یاد رکھو نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا کیونکہ ان میں گواہ بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ تو گواہ کتنی قسم کے ہو گئے؟ چار۔ کچھ اہلِ تحمل اور اہلِ ادا ہیں کامل طور پر اور وہ گواہ ہیں جو آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور عادل ہوں۔ اور دوسری قسم کے گواہ وہ ہیں جو اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں لیکن ناقص طور پر اور وہ فاسق ہے بھئی۔ اور تیسری قسم کے گواہ وہ ہیں جو اہلِ تحمل تو ہیں لیکن اہلِ ادا نہیں جیسے اندھا اور محدود فی القذف۔ اور چوتھی قسم کے گواہ وہ ہیں جو نہ اہلِ تحمل ہیں اور نہ اہلِ ادا ہیں جیسے غلام ہے، نابالغ ہے، مجنون ہے اور کافر ہے بھئی۔ جی، اب آئیے کتاب پر بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا وَهُمْ عُمْيَانٌ أَوْ مَحْدُودُونَ فِي قَذْفٍ أَوْ أَحَدُهُمْ عَبْدٌ أَوْ مَحْدُودٌ فِي قَذْفٍ فَإِنَّهُمْ يُحَدُّونَ وَلَا يُحَدُّ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ چار گواہوں نے آ کر ایک آدمی کے خلاف گواہی دی زنا کی اور وہ چاروں اندھے ہیں۔ اندھے تو اہلِ ادا ہی نہیں ہیں، یہ تو گواہی دے ہی نہیں سکتے، تو یہ گویا زنا کا الزام اس آدمی پر لگا رہے ہیں تو ان چاروں کو حدِ قذف لگائی جائے گی۔ دوسری صورت، وہ چار جو گواہ آئے وہ سارے محدود فی القذف ہیں، بھئی آپ تو گواہی دے ہی نہیں سکتے، تو گویا آپ صرف اس آدمی پر زنا کا الزام لگا رہے ہیں تو لہٰذا ان چاروں کو حدِ قذف لگائی جائے گی۔ یا ان چار میں سے ایک غلام ہے یا ایک محدود فی القذف ہے تو پھر اس صورت میں بھی شہادت کا نصاب پورا نہیں ہے تو ان ساروں کو حد لگائی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا“ اور اگر چار گواہوں نے گواہی دی ایک آدمی کے خلاف زنا کی، ”وَهُمْ عُمْيَانٌ“ اس حال میں کہ وہ گواہ اندھے ہیں ”أَوْ مَحْدُودُونَ فِي قَذْفٍ“ یا وہ محدود فی القذف ہیں ”أَوْ أَحَدُهُمْ عَبْدٌ أَوْ مَحْدُودٌ فِي قَذْفٍ“ یا ان میں سے ایک غلام ہے یا محدود فی القذف ہے ”فَإِنَّهُمْ يُحَدُّونَ“ تو ان گواہوں کو حد لگائی جائے گی ”وَلَا يُحَدُّ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ“ اور مشہود علیہ کو حد نہیں لگائی جائے گی، یعنی وہ شخص جس کے خلاف انہوں نے گواہی دی ہے اس کو حد نہیں لگائی جائے گی کیونکہ ان کی گواہی سے زنا ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُحَدُّ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ“ اور مشہود علیہ کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّهُ لَا يَثْبُتُ بِشَهَادَتِهِمُ الْمَالُ فَكَيْفَ يَثْبُتُ الْحَدُّ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ان لوگوں کی گواہی سے تو مال نہیں ثابت ہو سکتا، اندھا ہے یا محدود فی القذف ہے، یہ تو اہلِ ادا ہی نہیں، یہ گواہی دے بھی دیں قاضی کے پاس اس سے تو کسی کا مال نہیں ثابت ہو سکتا اور حد کا معاملہ تو بڑا نازک ہے تو جب مال ثابت نہیں ہو سکتا تو حد کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يَثْبُتُ بِشَهَادَتِهِمُ الْمَالُ فَكَيْفَ يَثْبُتُ الْحَدُّ“ اس لیے کیونکہ ان کی گواہی کی وجہ سے مال ثابت نہیں ہو سکتا تو حد کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟ ”وَهُمْ لَيْسُوا مِنْ أَهْلِ أَدَاءِ الشَّهَادَةِ“ اور حال یہ ہے کہ یہ ادائے شہادت کے اہل نہیں ہیں، یہ اندھے اور محدود فی القذف یہ ادائے شہادت کے اہل نہیں ہیں، ”وَالْعَبْدُ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِلتَّحَمُّلِ وَالْأَدَاءِ“ اور غلام جو ہے وہ تو اہلِ تحمل بھی نہیں ہے اور اہلِ ادا بھی نہیں ہے، ”فَلَمْ يَثْبُتْ شُبْهَةُ الزِّنَا“ تو شبۂ زنا بھی ثابت نہیں ہوا بھئی۔ دیکھو، ایک مرد اور عورت کے خلاف چار آدمیوں نے آ کر گواہی دے دی کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ قاضی نے پتہ کروایا تو پتہ چلا یہ چاروں فاسق ہیں۔ تو اس صورت میں حد ثابت نہیں ہوگی۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے ان گواہوں کو حد لگائی جائے؟ کہتے ہیں نہیں، یہ فاسق ہیں لیکن ہو سکتا ہے اس معاملے میں یہ سچ بول رہے ہوں تو شہادت کا نصاب پورا ہے، ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہے ہوں، صرف ان کے فاسق ہونے کی وجہ سے گواہی میں شبہ آ گیا تو حد تو ثابت نہیں ہوئی لیکن پھر بھی شبۂ زنا تو آ گیا کہ ہو سکتا ہے سچ بول رہے ہوں۔ تو فاسق کی گواہی سے زنا تو ثابت نہیں ہوتا لیکن شبۂ زنا آ جاتا ہے، جبکہ، جبکہ یہ جو غلام ہے یا محدود فی القذف وغیرہ ہیں بھئی، ان کی گواہی سے تو شبۂ زنا بھی ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ ان میں سے بعض اہلِ ادا نہیں ہیں اور بعض جو ہیں وہ اہلِ تحمل بھی نہیں اور اہلِ ادا بھی نہیں۔ تو فاسق کی گواہی سے شبہ تو آ جاتا ہے لیکن ان کی گواہی سے تو شبہ بھی نہیں آتا، تو جب شبۂ زنا ان کی گواہی سے ثابت نہیں ہوتا تو زنا بطریقِ اولیٰ ان کی گواہی سے ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَثْبُتْ شُبْهَةُ الزِّنَا“ تو زنا کا شبہ بھی ثابت نہیں ہوا ”لِأَنَّ الزِّنَا يَثْبُتُ بِالْأَدَاءِ“ اس لیے کیونکہ زنا تو ادائے شہادت سے ثابت ہوتا ہے، اور یہ اندھا یا محدود فی القذف یا غلام یہ تو اہلِ ادا ہی نہیں ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَهِدُوا بِذٰلِكَ وَهُمْ فُسَّاقٌ أَوْ ظَهَرَ أَنَّهُمْ فُسَّاقٌ لَمْ يُحَدُّوا“ اور اگر گواہوں نے زنا کی گواہی دی ”وَهُمْ فُسَّاقٌ“ اس حال میں کہ یہ فاسق ہیں ”أَوْ ظَهَرَ أَنَّهُمْ فُسَّاقٌ“ یا گواہی کے بعد ظاہر ہوا کہ یہ فاسق ہیں ”لَمْ يُحَدُّوا“ تو ان کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ گواہ گواہی دینے آئے زنا کے مسئلے میں لیکن گواہی سے پہلے ہی پتہ چلا یہ چاروں فاسق ہیں، تو پھر اس صورت میں ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور خود ان پر بھی حد نہیں آئے گی کیونکہ شہادت کا نصاب پورا ہے۔ یا چار گواہوں نے گواہی دے دی اور پھر قاضی نے پتہ کروایا کہ یہ عادل ہیں یا فاسق ہیں، تو پتہ چلا یہ فاسق ہیں، تو اس صورت کے اندر بھی حد بھی ثابت نہیں اور خود ان پر بھی حد نہیں کیونکہ شہادت کا نصاب تو بہرحال پورا ہے، تو ان کی گواہی سے زنا تو ثابت نہیں ہوا لیکن بہرحال شبۂ زنا تو آ گیا کہ ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہے ہوں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدُوا بِذٰلِكَ وَهُمْ فُسَّاقٌ“ اور اگر گواہوں نے اس زنا کی گواہی دی اس حال میں کہ یہ فاسق ہیں ”أَوْ ظَهَرَ أَنَّهُمْ فُسَّاقٌ“ یا گواہی کے بعد یہ بات ظاہر ہوئی کہ یہ فاسق ہیں ”لَمْ يُحَدُّوا“ تو ان کو حد نہیں لگائی جائے گی، ”لِأَنَّ الْفَاسِقَ مِنْ أَهْلِ الْأَدَاءِ وَالتَّحَمُّلِ“ اس لیے کیونکہ فاسق جو ہے وہ اہلِ ادا اور اہلِ تحمل میں سے ہے ”وَإِنْ كَانَ فِي أَدَائِهِ نَوْعُ قُصُورٍ“ اگرچہ اس کی ادا کے اندر ایک قسم کی کمی ہے، قصور کا کیا معنی؟ کمی، کمی ہے یعنی نقصان ہے، ناقص ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ فِي أَدَائِهِ نَوْعُ قُصُورٍ“ اگرچہ اس کی ادائے شہادت کے اندر ایک نوع کی کمی ہے ”لِتُهْمَةِ الْفِسْقِ“ فسق کی تہمت کی وجہ سے۔ اس پر فاسق ہونے کی تہمت ہے بھئی، فاسق ہونے کا الزام ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِتُهْمَةِ الْفِسْقِ“ فاسق ہونے کے الزام کی وجہ سے، ”وَلِهٰذَا لَوْ قَضَى الْقَاضِي بِشَهَادَةِ فَاسِقٍ يَنْفُذُ عِنْدَنَا“ اور اسی وجہ سے اگر قاضی جو ہے فاسق کی گواہی پر فیصلہ کر دے تو ہمارے نزدیک نافذ ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک فاسق اہلِ تحمل بھی ہے اور اہلِ ادا بھی ہے اگرچہ ناقص طور پر، لیکن بہرحال وہ اہلِ تحمل بھی ہے اور اہلِ ادا بھی ہے، اگر قاضی اس کی گواہی پر فیصلہ کر دے گا تو وہ فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَثْبُتُ بِشَهَادَتِهِمْ شُبْهَةُ الزِّنَا“ تو ان فاسقوں کی گواہی سے شبۂ زنا ثابت ہو گیا ”وَبِاعْتِبَارِ قُصُورٍ فِي الْأَدَاءِ لِتُهْمَةِ الْفِسْقِ“ اور فسق کے الزام کی وجہ سے ان کی ادا کے اندر جو کمی آئی ہے اس کے اعتبار سے ”يَثْبُتُ شُبْهَةُ عَدَمِ الزِّنَا“ عدمِ زنا کا شبہ بھی ثابت ہوتا ہے، ”فَلِهٰذَا امْتَنَعَ الْحَدَّانِ“ تو اسی لیے دونوں حدیں ممتنع ہو گئیں، نہ وہ زنا کرنے والوں پر حد آئے گی اور نہ ان گواہوں پر حدِ قذف آئے گی۔ توجہ ہے؟ بھئی دیکھیے، چار فاسقوں نے گواہی دی ایک شخص کے زنا کے بارے میں، تو ان چار فاسقوں کی گواہی سے زنا تو ثابت نہیں ہو سکتا البتہ شبۂ زنا آ گیا۔ تو معلوم ہوا ان کی گواہی سے حدِ زنا ثابت نہیں۔ اور پھر خود ان گواہوں پر بھی حدِ قذف نہیں آئے گی کیونکہ ہو سکتا ہے یہ سچے ہوں، بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَبِاعْتِبَارِ قُصُورٍ فِي الْأَدَاءِ“ اور اس اعتبار سے کہ ان کی ادائیگی کے اندر کمی ہے ”لِتُهْمَةِ الْفِسْقِ“ فاسق ہونے کے الزام کی وجہ سے ”يَثْبُتُ شُبْهَةُ عَدَمِ الزِّنَا“ تو زنا نہ ہونے کا شبہ ثابت ہوتا ہے، یہ فاسق ہیں جس کی وجہ سے شبہ ہوتا ہے شاید یہ جھوٹ بول رہے ہوں، تو لہٰذا زنا نہ ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ تو ان کی گواہی سے شبۂ زنا آیا کیونکہ یہ اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں، لیکن دوسری طرف یہ فاسق بھی ہیں اس سے شبہ آیا ہو سکتا ہے جھوٹ بول رہے ہوں، تو شبہ آیا زنا نہ ہونے کا، تو زنا ہونے کا بھی شبہ اور زنا نہ ہونے کا بھی شبہ، ”فَلِهٰذَا امْتَنَعَ الْحَدَّانِ“ اسی لیے دونوں حدیں ممتنع ہو گئیں، یعنی حدِ زنا بھی نہیں ثابت اور خود ان پر حدِ قذف بھی نہیں ثابت۔ یہ معنی ہے ”فَلِهٰذَا امْتَنَعَ الْحَدَّانِ“ لہٰذا دونوں حدیں ممتنع ہو گئیں، ”وَسَيَأْتِي فِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور عنقریب اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف آئے گا۔ قریب اس کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف آئے گا، بِنَاءً عَلَى أَصْلِهِ بناء بر ان کے ضابطے کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ضابطے کی وجہ سے اس مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف آگے آ جائے گا۔ ان کا ضابطہ یہ ہے کہ ”أَنَّ الْفَاسِقَ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ“ کہ فاسق اہل شہادت ہی نہیں ہے۔ ان کے نزدیک فاسق اہل شہادت ہی نہیں، لہٰذا ان چاروں کو بھی حد قذف لگائی جائے گی۔ جیسے اندھے یا محدود فی القذف آ کر گواہی دیتے تھے تو ان کو حد قذف لگائی جاتی تھی۔ تو کہتے ہیں: ”بِنَاءً عَلَى أَصْلِهِ“ بناء بر امام شافعی رحمہ اللہ کے ضابطے کے، ”أَنَّ الْفَاسِقَ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ“ کہ فاسق جو ہے وہ اہل شہادت نہیں ہے، ”فَهُوَ كَالْعَبْدِ عِنْدَهُ“ تو فاسق جو ہے وہ غلام کی طرح ہے ان کے نزدیک، یعنی جو اہل شہادت ہی نہیں کسی طرح۔ ”وَإِنْ نَقَصَ عَدَدُ الشُّهُودِ عَنْ أَرْبَعَةٍ حُدُّوا“ بھئی اگر گواہوں کی تعداد چار سے کم ہو گئی تو پھر سب کو حد لگے گی، کیونکہ یہ قذف ہے۔ یہ شہادت نہیں۔ یاد رکھو جب چار گواہ قاضی کے پاس آئیں گے تو پھر ہی یہ گواہ ہیں۔ اگر چار سے کم آتے ہیں تو پھر یہ تہمت لگا رہے ہیں، یہ گواہ ہی نہیں ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ“ اور وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر زنا کا الزام لگاتے ہیں ”ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ“ پھر وہ چار گواہ نہ لے کر آئیں ”فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً“ تو ان کو اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی بھی کبھی قبول نہ کرو۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ نَقَصَ عَدَدُ الشُّهُودِ عَنْ أَرْبَعَةٍ“ اور اگر گواہوں کی تعداد چار سے کم ہو گئی ”حُدُّوا“ تو ان سب کو حد لگائی جائے گی ”لِأَنَّهُمْ قَذَفَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ تہمت لگانے والے ہیں۔ جب چار پورے نہیں ہیں تو یہ گواہ ہیں ہی نہیں، یہ تو تہمت لگا رہے ہیں۔ ”إِذْ لَا حِسْبَةَ عِنْدَ نُقْصَانِ الْعَدَدِ، وَخُرُوجُ الشَّهَادَةِ عَنِ الْقَذْفِ بِاعْتِبَارِهَا“ بھئی دیکھیے! میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ادائے شہادت واجب ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے حقدار کو اس کا حق مل جاتا ہے۔ لیکن حدود کے مسئلے میں گواہ کو اختیار ہے، وہ چاہے ادائے شہادت کرے اور چاہے پردہ پوشی کر لے، دونوں میں اس کو اجر ملے گا۔ کیونکہ ادائے شہادت کا حکم بھی شریعت نے دیا ہے اور پردہ پوشی کا حکم بھی شریعت نے ہی دیا ہے، تو وہ جس پر بھی عمل کر لے گا اسے ثواب مل جائے گا۔ تو یہاں پر صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ اگر گواہوں کی تعداد چار سے کم ہوئی تو یہ گواہی بنے ہی نہیں۔ گواہی اگر بن جاتی پھر یہ اجر کا باعث بنتی۔ اگر گواہی ہو جاتی تو پھر یہ اجر کا باعث ہوتی، لیکن گواہی تو تب بنے گی جب چار گواہ آئیں گے اور یہ تو چار سے کم ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ اجر کا باعث نہیں بن رہے، یہ صرف قذف ہی قذف ہے۔ یاد رکھو، ایک ہے قذف، ایک ہے شہادت۔ زنا کے باب میں جب نصاب پورا ہو جائے گا تو یہ شہادت بن گئی، اور اگر نصاب سے کم ہے تو یہ قذف ہے، یہ شہادت ہے ہی نہیں۔ تو لہٰذا عدد پورا ہو گا تو یہ قذف سے نکل کر شہادت بن جائے گی، باعث اجر ہو گا۔ اور اگر عدد ہی پورا نہیں تو پھر یہ قذف ہی قذف ہے، لہٰذا اس صورت میں حد قذف ثابت ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُمْ قَذَفَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ تہمت لگانے والے ہیں ”إِذْ لَا حِسْبَةَ عِنْدَ نُقْصَانِ الْعَدَدِ“ حسبہ، حِسْبَةٌ کا معنی ہے ثواب اور اجر۔ ”إِذْ لَا حِسْبَةَ عِنْدَ نُقْصَانِ الْعَدَدِ“ اس لیے کیونکہ کوئی ثواب اور کوئی اجر نہیں ہے عدد کے کم ہوتے وقت، یعنی جب گواہوں کا عدد چار سے کم ہو۔ ”وَخُرُوجُ الشَّهَادَةِ عَنِ الْقَذْفِ بِاعْتِبَارِهَا“ اور شہادت کا قذف سے نکلنا وہ اسی ثواب کے اعتبار سے تھا۔ تو عدد پورا ہو گا تب ہی یہ قذف سے نکل کر گواہی بنے گی اور باعث اجر و ثواب ہو گی بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”إِذْ لَا حِسْبَةَ عِنْدَ نُقْصَانِ الْعَدَدِ“ اس لیے کیونکہ کوئی اجر نہیں ہے عدد میں کمی کے وقت ”وَخُرُوجُ الشَّهَادَةِ عَنِ الْقَذْفِ بِاعْتِبَارِهَا“ اور شہادت کا قذف سے نکلنا، شہادت کا قذف سے نکل کر کیا بن جانا؟ شہادت بن جانا۔ توجہ ہے؟ شہادت کا قذف سے نکل جانا، وہ کب ہو گا؟ جب عدد پورا ہو گا اور اسی وقت پھر اجر بھی ملے گا، اس سے پہلے تو اجر بھی نہیں اور شہادت بھی نہیں۔ تو یہ معنی ہے ”وَخُرُوجُ الشَّهَادَةِ عَنِ الْقَذْفِ“ اور شہادت کا قذف سے نکلنا ”بِاعْتِبَارِهَا“ اس اجر کے اعتبار سے ہوتا ہے، اور اجر تو تب ملے گا جب چار گواہیاں پوری ہوں گی، اس سے پہلے تو یہ قذف ہے شہادت نہیں اور نہ باعث اجر ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا فَضُرِبَ بِشَهَادَتِهِمْ ثُمَّ وُجِدَ أَحَدُهُمْ عَبْدًا أَوْ مَحْدُودًا فِي قَذْفٍ فَإِنَّهُمْ يُحَدُّونَ“ صورت مسئلہ یہ کہ چار آدمیوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی اور اس شخص پر حد جاری کر دی گئی، اور بعد میں پتہ چلا ان گواہوں میں سے ایک غلام ہے یا ان گواہوں میں سے ایک محدود فی القذف ہے، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو اب ان سب گواہوں کو حد لگائی جائے گی، اس لیے کیونکہ یہاں شہادت کا نصاب پورا نہیں تھا۔ یہ جو محدود فی القذف تھا یہ تو اہل ادا نہیں ہے، اور اگر وہ غلام تھا تو غلام تو نہ اہل تحمل ہے اور نہ اہل ادا، تو گواہ صرف تین ہیں اور جب گواہ صرف تین ہیں تو یہ تو قذف ہے یہ شہادت نہیں، کیونکہ قذف سے نکل کر شہادت کب بنتی ہے؟ جب عدد پورا ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا“ اور اگر چار گواہوں نے گواہی دی ایک آدمی کے خلاف زنا کی ”فَضُرِبَ بِشَهَادَتِهِمْ“ تو اس آدمی کو ضرب لگائی گئی یعنی کوڑے لگائے گئے یعنی حد زنا لگائی گئی ”بِشَهَادَتِهِمْ“ ان گواہوں کی گواہی کی وجہ سے ”ثُمَّ وُجِدَ أَحَدُهُمْ عَبْدًا أَوْ مَحْدُودًا فِي قَذْفٍ“ پھر ان گواہوں میں سے ایک جو ہے اس کو غلام پایا گیا یا محدود فی القذف پایا گیا ”فَإِنَّهُمْ يُحَدُّونَ“ تو پھر ان سب گواہوں کو حد لگائی جائے گی ”لِأَنَّهُمْ قَذَفَةٌ“ کیونکہ یہ تہمت لگانے والے ہیں ”إِذِ الشُّهُودُ ثَلَاثَةٌ“ کیونکہ گواہ تو تین ہیں۔ اور حالانکہ چاہیے کتنے تھے؟ چار تھے، تو سب کو حد لگے گی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَلَى بَيْتِ الْمَالِ أَرْشُ الضَّرْبِ، وَإِنْ رُجِمَ فَدِيَتُهُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ بھئی دیکھو، یہاں ارش کا لفظ آیا۔ یاد رکھو، پوری انسانی جان کے اندر جو ضمان آیا کرتا ہے اس کو دیت کہتے ہیں۔ اگر کسی آدمی نے دوسرے آدمی کو غلطی سے قتل کر دیا تو پھر اس صورت میں پوری جان کا جو ضمان آتا ہے اس کو دیت کہتے ہیں، جبکہ ارش کہتے ہیں زخموں کا ضمان بھئی۔ یعنی مثلاً کسی کے چہرے یا سر وغیرہ پر زخم لگ گیا اب اس زخم کا نشان تو ساری عمر کے لیے رہے گا لہٰذا اس صورت میں ضمان آیا کرتا ہے اس زخم لگانے والے پر، اور اس کو ارش کہتے ہیں۔ اس کو ارش کہتے ہیں بھئی، ہمزہ، را اور شین بھئی، اَرْش۔ تو اب یہاں مسئلہ یہ ذکر ہو رہا ہے کہ بھئی چار گواہوں نے گواہی دی ہے ایک آدمی کے خلاف زنا کی اور پھر اس آدمی پر حد زنا جاری کر دی گئی۔ اگر وہ شادی شدہ تھا تو رجم کر دیا گیا، اور اگر غیر شادی شدہ تھا تو اس کو سو کوڑے لگا دیے گئے۔ اس کے بعد پتہ چلا کہ ان گواہوں میں سے ایک گواہ جو ہے وہ غلام ہے۔ معلوم ہوا گواہی کا نصاب پورا نہیں، یا ان گواہوں میں سے ایک گواہ محدود فی القذف ہے۔ غلام جو ہے وہ نہ تو اہل تحمل ہے اور نہ اہل ادا ہے، اور محدود فی القذف وہ تو اہل ادا نہیں۔ تو بہرحال چاہے غلام ہو یا محدود فی القذف، یہ ادائے شہادت نہیں کر سکتے، ان میں اہلیت ہی نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا قاضی نے جو فیصلہ کیا تھا یقینی طور پر پتہ چل گیا کہ وہ غلط فیصلہ تھا۔ جب حد نافذ کرنے کے بعد چاروں گواہوں میں سے ایک کے بارے میں پتہ چل گیا کہ وہ غلام تھا یا محدود فی القذف تھا، تو یقینی طور پر ایک بات کا پتہ چل گیا کہ قاضی سے غلطی ہوئی ہے فیصلہ کرنے میں۔ تو اب اس صورت میں کیا ضمان آئے گا یا نہیں؟ تو اس صورت میں سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیں کہ اگر اس شخص کو رجم کیا گیا ہے، یعنی ان گواہوں کی گواہی کی وجہ سے اس کو رجم کیا گیا کیونکہ وہ شادی شدہ تھا، تو پھر اس صورت میں ایک انسانی جان گئی ہے اور اس کو رجم کیا گیا ہے قاضی کے فیصلے کی وجہ سے، اور قاضی تو کام کرتا ہے مسلمانوں کے لیے، مسلمانوں کی مشکلات حل کر رہا ہے، تو لہٰذا اس جان کا جو ضمان ہے وہ بھی مسلمانوں کے مال میں سے لیا جائے گا یعنی بیت المال سے یہ ضمان ادا کیا جائے گا۔ یہ بالاتفاق ہے، صاحبین کے نزدیک بھی یہ مسئلہ اسی طرح، امام صاحب کے نزدیک بھی مسئلہ اسی طرح ہے، کہ اگر رجم کرنے کے بعد پتہ چلا کہ گواہوں میں سے کوئی غلام تھا یا محدود فی القذف تھا تو معلوم ہوا قاضی نے غلطی کی ہے، تو لہٰذا بیت المال سے اب ضمان ادا کیا جائے گا یعنی پوری دیت ادا کی جائے گی۔ لیکن اگر وہ جو حد جاری کی گئی تھی وہ رجم نہیں تھی بلکہ کوڑے لگائے گئے تھے، کوڑے لگائے گئے تھے، اور پھر یاد رکھنا کہ کوڑے لگانے میں پھر تین صورتیں بن سکتی ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ کوڑے کی صرف تکلیف ہوئی اس آدمی کو، کوئی زخم نہیں لگا اور وہ ہلاک بھی نہیں ہوا۔ دوسری صورت یہ ہے کوڑے لگانے سے زخم لگا، اب اس زخم کا نشان تو ساری عمر بدن پر رہے گا تو لہٰذا اس صورت میں ضمان آنا چاہیے بھئی، کیونکہ اس آدمی کے بدن پر ایک نشان لگ گیا جو ساری عمر کے لیے رہے گا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ کوڑے لگنے کی وجہ سے وہ جس کو کوڑے لگائے گئے تھے وہ مضروب ہی ہلاک ہو گیا۔ تو یاد رکھو، اگر کوڑوں کی صرف تکلیف ہوئی ہے زخم بھی نہیں لگا اور وہ مضروب ہلاک بھی نہیں ہوا پھر تو بالاتفاق کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ صرف تکلیف ہوئی ہے کوئی زخم وغیرہ نہیں لگا، ہلاکت نہیں ہوئی، صاحبین بھی فرماتے ہیں کوئی ضمان نہیں، امام صاحب بھی فرماتے ہیں کوئی ضمان نہیں۔ ہاں لیکن ضرب کی وجہ سے زخم لگا ہے یا ہلاکت ہوئی ہے تو پھر امام صاحب اور صاحبین اختلاف کرتے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں اس صورت میں کوئی ضمان نہیں آئے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اس صورت میں بھی ضمان آئے گا اور چونکہ یہ ضرب لگانے کا حکم قاضی نے دیا تھا تو لہٰذا اب یہ بیت المال میں سے یہ ضمان ادا کیا جائے گا۔ بیت المال میں سے یہ ضمان ادا کیا جائے گا۔ پھر سن لیں مسئلے کی تفصیل: یہاں پر چار گواہوں نے گواہی دی اور اس کے بعد ایک آدمی پر حد زنا جاری کر دی گئی، اور پھر ان چار گواہوں میں سے پتہ چلا ایک یا دو یا جتنے بھی ہیں وہ غلام تھے یا محدود فی القذف تھے، تو بہرحال گواہی کا نصاب پورا نہیں تھا تو یقینی طور پر پتہ چل گیا کہ قاضی نے غلط فیصلہ کیا تھا۔ تو پھر اس کے اندر اگر اس شخص کو رجم کیا گیا تھا تو پھر تو ضمان جو ہے وہ بیت المال سے ادا کیا جائے گا، کیونکہ قاضی کی غلطی کی وجہ سے اس کی جان گئی ہے، معلوم ہوا قاضی نے یقینی طور پر غلط فیصلہ کیا تھا تو بیت المال سے ضمان ادا کیا جائے گا۔ اور اگر اس آدمی کو کوڑے لگائے گئے ہیں تو پھر کوڑے لگانے میں ایک صورت تو یہ ہے صرف تکلیف ہوئی ہے زخم وغیرہ نہیں لگا، ہلاکت نہیں ہوئی، تو اس میں بھی اتفاق ہے امام صاحب اور صاحبین کا کہ کوئی ضمان نہیں آئے گا، کیونکہ کوئی زخم نہیں لگا اور کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ لیکن اگر زخم لگا ہے یا ہلاکت ہوئی ہے تو اس صورت میں صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ضمان آئے گا، اور یہ ضمان کس کی وجہ سے آیا ہے؟ قاضی کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ قاضی کے فیصلے کی وجہ سے، لہٰذا مسلمانوں کے مال میں سے اس کو ادا کیا جائے گا یعنی بیت المال میں سے، بیت المال میں سے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں کسی پر ضمان نہیں آئے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں یہاں حقیقت میں ضمان تو جلاد پر آنا چاہیے، جلاد بھئی جلد سے ہے، کوڑے لگانے والا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں یہاں پر کوڑے لگانے کی وجہ سے دوسرا شخص جو زخمی ہوا ہے یا ہلاک ہوا ہے یہ کسی اور کی غلطی نہیں ہے یہ جلاد کی غلطی ہے، تو لہٰذا ضمان جلاد پر آنا چاہیے۔ لیکن ہم جلاد پر بھی ضمان کو واجب نہیں کر سکتے ورنہ تو کوئی بھی شخص کوڑے لگانے اور حد قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا کہ کہیں دوسرے کو نقصان پہنچ گیا تو مجھے جرمانہ ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے صاحب ہدایہ اس کو اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَلَى بَيْتِ الْمَالِ أَرْشُ الضَّرْبِ“ اور نہیں ہے ان گواہوں پر اور نہ ہی بیت المال پر ”أَرْشُ الضَّرْبِ“ ضرب کا ارش۔ ضرب کا جو ضمان ہے وہ ان گواہوں پر بھی نہیں اور بیت المال پر بھی نہیں، یہ امام صاحب کا مذہب بیان ہو رہا ہے، کیونکہ ان کی رائے میں یہ غلطی کس کی ہے؟ کوڑے لگانے والے کی ہے۔ لہٰذا گواہوں پر بھی کوئی ضمان نہیں اور بیت المال پر بھی کوئی ضمان نہیں، اور میں نے آپ کو بتلایا ضمان صرف اس صورت میں آئے گا جب جسم پر زخم لگے، اگر زخم نہیں لگا صرف تکلیف ہوئی ہے تو پھر اس کا کوئی ضمان نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَلَى بَيْتِ الْمَالِ أَرْشُ الضَّرْبِ“ اور نہ تو ان گواہوں پر ہے اور نہ بیت المال پر ہے ضرب کا ضمان ”وَإِنْ رُجِمَ“ اور اگر اس شخص کو رجم کیا گیا ان کی گواہی کی وجہ سے ”فَدِيَتُهُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ تو اس آدمی کی دیت بیت المال پر ہے۔ بھئی ایک گواہ غلام نکلا ہے یا ایک گواہ محدود فی القذف، معلوم ہوا گواہی کا نصاب پورا نہیں، تو معلوم ہوا یقینی طور پر قاضی نے غلط فیصلہ کیا۔ جب قاضی نے غلط فیصلہ کیا، قاضی تو مسلمانوں کے لیے کام میں لگا ہوا ہے، لہٰذا یہ ضمان بھی مسلمانوں کے مال یعنی بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ رُجِمَ فَدِيَتُهُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ اور اگر اس شخص کو رجم کیا گیا تو اس کی دیت بیت المال پر آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیوں بیت المال پر آئے گی؟ کیونکہ یقینی طور پر پتہ چل گیا کہ قاضی کا فیصلہ غلط تھا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ کیا امام صاحب کے نزدیک؟ ضرب کا ارش جو ہے وہ نہ بیت المال پر آئے گا اور نہ گواہوں پر آئے گا۔ اور رجم کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی، یہ بالاتفاق ہے، صاحبین بھی یہی فرماتے ہیں کہ بیت المال سے اس آدمی کی دیت ادا کی جائے گی کیونکہ یقینی طور پر پتہ چل گیا کہ قاضی کا فیصلہ غلط تھا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو یہ امام صاحب کے نزدیک ہے ”وَقَالَا: أَرْشُ الضَّرْبِ أَيْضًا عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ضرب کا جو ارش ہے، ضرب کا جو ضمان ہے وہ بھی بیت المال پر آئے گا۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ قال العبد الضعیف سے مراد صاحب ہدایہ ہیں۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ عَصَمَهُ اللَّهُ: مَعْنَاهُ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے، اللہ اس کی حفاظت فرمائے، معنیٰ اس کا یہ ہے صاحب ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں یہ جو پیچھے متن میں آیا ضرب کا ارش نہ بیت المال پر آئے گا اور نہ گواہوں پر، اور صاحبین فرماتے ہیں ضرب کا ارش بیت المال پر آئے گا، تو صاحب ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں یہ ضرب کا ارش اس وقت ہے جب زخم لگا ہو۔ صرف تکلیف ہوئی تھی اس کا کوئی ضمان نہیں ہے، اور اگر زخم لگا ہے تو زخم کا تو نشان رہے گا ساری عمر، تو اس کا ضمان آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ عَصَمَهُ اللَّهُ: مَعْنَاهُ إِذَا كَانَ جَرَحَهُ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے، اللہ اس کی حفاظت کرے، کہ اس قول کا معنی یہ ہے ”إِذَا كَانَ جَرَحَهُ“ کہ جب ضرب نے اس کو زخمی کیا ہو، پھر ارش ضرب آئے گا۔ ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا مَاتَ مِنَ الضَّرْبِ“ اور اسی اختلاف پر ہے جب وہ شخص مر جائے ضرب کی وجہ سے۔ جو اختلاف ضرب کے ضمان میں تھا وہی اختلاف موت کی صورت میں بھی ہے اگر جس کو کوڑے لگائے گئے ہیں وہ مر جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا مَاتَ مِنَ الضَّرْبِ“ اور اسی اختلاف پر ہے جب وہ شخص مر جائے ضرب کی وجہ سے۔ ”وَعَلَى هَذَا إِذَا رَجَعَ الشُّهُودُ لَا يَضْمَنُونَ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُمَا يَضْمَنُونَ“ اور اسی اختلاف پر ہے کہ جب گواہ رجوع کر لیں تو وہ ضامن نہیں ہوں گے امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین کے نزدیک وہ ضامن ہوں گے۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا اگر گواہ غلام یا محدود فی القذف نکلے پھر تو ضمان بیت المال سے لیں گے صاحبین کے نزدیک، امام صاحب کے نزدیک کسی پر ضمان نہیں آئے گا یہ جلاد کا قصور ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر گواہوں نے رجوع نہیں کیا پھر تو ضمان بیت المال سے لیں گے، اور اگر گواہوں نے رجوع کیا ہے تو ضمان گواہوں سے لیں گے، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، چاہے گواہ رجوع کریں یا نہ کریں، کسی صورت میں ضمان نہیں آئے گا، ضمان تو جلاد پر آنا چاہیے تھا لیکن جلاد پر ہم ضمان واجب نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا“ اور اسی اختلاف پر ہے ”إِذَا رَجَعَ الشُّهُودُ“ جب گواہ رجوع کر لیں ”لَا يَضْمَنُونَ عِنْدَهُ“ تو امام صاحب کے نزدیک وہ ضامن نہیں ہوں گے ”وَعِنْدَهُمَا يَضْمَنُونَ“ اور صاحبین کے نزدیک یہ گواہ ضامن ہوں گے۔ ”لَهُمَا: أَنَّ الْوَاجِبَ بِشَهَادَتِهِمْ مُطْلَقُ الضَّرْبِ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ بھئی دیکھیے صاحبین فرماتے ہیں کہ ان کی گواہی کی وجہ سے مطلق ضرب ثابت ہوئی۔ گواہوں کی، بھئی یہ حد کس کی وجہ سے ثابت ہوئی ہے؟ گواہی کی وجہ سے نا، تو ان گواہوں کی گواہی کی وجہ سے مطلق ضرب ثابت ہوئی ہے۔ چاہے وہ ضرب زخم لگانے والی ہو یا زخم لگانے والی نہ ہو، چاہے ہلاک کرنے والی ہو، مطلق ضرب ہے، اس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے صرف اس میں تکلیف ہو، ہو سکتا ہے اس میں زخم لگ جائے، ہو سکتا ہے اس میں دوسرا آدمی مر جائے، کچھ بھی ہو سکتا ہے، مطلقاً ضرب ثابت ہوئی ہے ان کی گواہی سے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، ان گواہوں کی گواہی سے مطلق ضرب ثابت نہیں ہوئی بلکہ ایسی ضرب ثابت ہوئی ہے جس سے دوسرے کو زخم بھی نہ لگے، جس سے دوسرا ہلاک بھی نہ ہو۔ توجہ ہے؟ تو صاحبین کے نزدیک مطلق ضرب ثابت ہوئی ہے، تو لہٰذا یہ جو نقصان ہو گا اگر گواہوں نے رجوع کر لیا تو انہی سے پورا کیا جائے گا، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں ان کی گواہی کی وجہ سے تو ایسی ضرب ثابت ہوئی کہ جس سے زخم بھی نہ لگے اور جس سے دوسرا ہلاک بھی نہ ہو، تو اگر زخم لگ گیا یا ہلاک ہو گیا یہ تو جلاد کی غلطی ہے یہ تو گواہوں کی غلطی نہیں ہے بھئی۔ ”لَهُمَا: أَنَّ الْوَاجِبَ بِشَهَادَتِهِمْ مُطْلَقُ الضَّرْبِ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ وہ ضرب جو واجب ہوئی تھی ان گواہوں کی گواہی کی وجہ سے ”مُطْلَقُ الضَّرْبِ“ وہ مطلق ضرب ہے ”إِذِ الِاحْتِرَازُ عَنِ الْجَرْحِ خَارِجٌ عَنِ الْوُسْعِ“ اس لیے کیونکہ بچنا زخم سے ”خَارِجٌ عَنِ الْوُسْعِ“ یہ تو گنجائش سے باہر ہے، یہ تو کسی کے بس میں نہیں ہے۔ جلاد ایسے کوڑے لگائے کہ دوسرے کو زخم نہ لگے، یہ تو اس کے بس میں نہیں ہے، اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ معلوم ہوا مطلق ضرب جو ہے مطلق ضرب ثابت ہوئی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذِ الِاحْتِرَازُ عَنِ الْجَرْحِ“ اس لیے کیونکہ زخم سے بچنا ”خَارِجٌ عَنِ الْوُسْعِ“ یہ تو وسعت سے خارج ہے یعنی یہ تو کسی کے بس میں نہیں ہے۔ ”فَيَنْتَظِمُ الْجَارِحَةَ وَغَيْرَهُ“ جارح کہتے ہیں زخمی کرنے والا، ”فَيَنْتَظِمُ الْجَارِحَةَ“ تو یہ مطلق ضرب شامل ہے ضرب جارح کو بھی اور غیر جارح کو بھی۔ یہ مطلق ضرب شامل ہے کہ ضرب ہونی چاہیے جیسی بھی ضرب ہو، چاہے جارح ہو یعنی زخم لگانے والی ہو چاہے غیر جارح ہو۔ ”فَيَنْتَظِمُ الْجَارِحَةَ وَغَيْرَهُ“ تو مطلق ضرب جو ہے وہ شامل ہوئی ضرب جارح کو بھی اور غیر جارح کو بھی ”فَيُضَافُ إِلَى شَهَادَتِهِمْ“ لہٰذا اس زخم اور ہلاکت کو انہی کی گواہی کی طرف منسوب کیا جائے گا ”فَيَضْمَنُونَ بِالرُّجُوعِ“ تو لہٰذا یہ ضامن ہوں گے رجوع کرنے کی وجہ سے۔ رجوع کریں گے تب ضامن ہوں گے، گواہ اگر گواہی سے رجوع کریں تب ضامن ہوں گے، اگر وہ رجوع نہیں کرتے بلکہ ان میں سے ایک غلام نکل آیا یا ان میں سے ایک محدود فی القذف نکل آیا، پھر گواہوں پر ضمان نہیں ہے بلکہ بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَضْمَنُونَ بِالرُّجُوعِ“ تو رجوع کرنے کی وجہ سے یہ گواہ ضامن ہوں گے ”وَعِنْدَ عَدَمِ الرُّجُوعِ يَجِبُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ اور جس وقت رجوع نہ ہو تو ضمان جو ہے بیت المال پر واجب ہو گا۔ ضمان بیت المال پر واجب ہو گا کس وقت؟ جب ان گواہوں میں سے کوئی غلام نکل آیا یا محدود فی القذف نکل آیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ عَدَمِ الرُّجُوعِ يَجِبُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ اور گواہوں کے رجوع نہ کرتے وقت جو ضمان ہے وہ بیت المال پر واجب ہو گا ”لِأَنَّهُ يَنْتَقِلُ فِعْلُ الْجَلَّادِ إِلَى الْقَاضِي“ اس لیے کیونکہ جلاد کا فعل منتقل ہو گیا قاضی کی طرف۔ بھئی یہ جلاد نے کوڑے کیوں لگائے تھے؟ قاضی نے حکم دیا تھا، تو آپ نے پڑھا ہے فعل منتقل ہو جاتا ہے حکم دینے والے کی طرف۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَنْتَقِلُ فِعْلُ الْجَلَّادِ إِلَى الْقَاضِي“ اس لیے کیونکہ جلاد کا فعل جو ہے وہ منتقل ہو گیا قاضی کی طرف ”وَهُوَ عَامِلٌ لِلْمُسْلِمِينَ“ اور قاضی جو ہے وہ تو مسلمانوں کے لیے عمل کر رہا ہے وہ تو مسلمانوں کے کام میں لگا ہوا ہے ”فَتَجِبُ الْغَرَامَةُ فِي مَالِهِمْ“ غرامت کہتے ہیں جرمانہ اور تاوان کو۔ ”فَتَجِبُ الْغَرَامَةُ فِي مَالِهِمْ“ لہٰذا جرمانہ بھی مسلمانوں کے مال میں سے ہی واجب ہو گا ”فَصَارَ كَالرَّجْمِ وَالْقِصَاصِ“ تو یہ ارش بھی رجم اور قصاص کی طرح ہو گیا۔ تو یہ ارش جو یہ زخم کا جو ضمان آیا ہے یا موت کا جو ضمان آیا یہ بھی رجم اور قصاص کی طرح ہو گیا، اور رجم اور قصاص کے اندر تو بالاتفاق جو ہے دیت بیت المال پر آتی ہے۔ اوپر رجم کا مسئلہ گزرا، جب ایک گواہ غلام نکلا یا محدود فی القذف نکلا اور اس آدمی کو تو رجم کر دیا گیا ہے، تو آپ نے پڑھا کہ بالاتفاق وہ جو دیت ہے وہ بیت المال سے آئے گی، وجہ یہ کیونکہ یہ رجم جو اس کو کیا گیا یہ قاضی کے فیصلے کی وجہ سے کیا گیا اور قاضی تو مسلمانوں کے لیے کام کر رہا ہے لہٰذا اس کا جرمانہ بھی مسلمانوں کے مال میں سے وصول کیا جائے گا۔ تو جس طرح رجم اور قصاص کے اندر جب قاضی کے فیصلے کی غلطی ثابت ہو جائے یقینی طور پر تو وہاں پر جو جرمانہ ہے وہ بیت المال سے ادا کیا جاتا ہے تو یہاں پر بھی یہ جو ضرب کا ارش آیا ہے یہ بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔ یہ کس کی دلیل چل رہی ہے؟ صاحبین کی۔ تو کہتے ہیں: ”فَتَجِبُ الْغَرَامَةُ فِي مَالِهِمْ“ لہٰذا جرمانہ بھی مسلمانوں کے مال میں واجب ہو گا ”فَصَارَ كَالرَّجْمِ وَالْقِصَاصِ“ تو یہ ارش بھی رجم اور قصاص کی طرح ہو گیا۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ الْوَاجِبَ هُوَ الْجَلْدُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْوَاجِبَ هُوَ الْجَلْدُ“ امام صاحب فرماتے ہیں مطلق جلد، مطلق کوڑے لگانا واجب نہیں ہوا تھا بلکہ ایسے کوڑے جس میں زخم بھی نہ لگے اور دوسرا ہلاک بھی نہ ہو ایسے کوڑے واجب ہوئے تھے، اور اگر زخم لگا ہے یا دوسرا مر گیا ہے تو یہ جلاد کی غلطی ہے بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ الْوَاجِبَ هُوَ الْجَلْدُ“ کہ وہ چیز جو واجب ہوئی ہے وہ کوڑے لگانا ہے ”وَهُوَ ضَرْبٌ مُؤْلِمٌ غَيْرُ جَارِحٍ وَلَا مُهْلِكٍ“ اور کوڑے لگانا وہ ایسی ضرب ہے مؤلم، جو تکلیف دینے والا ہو ”غَيْرُ جَارِحٍ“ زخمی کرنے والا نہ ہو ”وَلَا مُهْلِكٍ“ اور ہلاک کرنے والا بھی نہ ہو بھئی۔ یہ مہلک کا عطف ہے جارح پر بھئی، اور یہ جو ولا مہلک یہ جو لا ہے یہ زائد ہے جیسے ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ تو یہاں پر بھی یہ لا زائد ہے بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ الْوَاجِبَ هُوَ الْجَلْدُ وَهُوَ ضَرْبٌ مُؤْلِمٌ غَيْرُ جَارِحٍ وَلَا مُهْلِكٍ“ کہ وہ چیز جو واجب ہوئی ہے وہ کوڑے لگانا ہے اور وہ ایسی ضرب ہے جو تکلیف دینے والی ہو، زخمی کرنے والی اور ہلاک کرنے والی نہ ہو۔ ”فَلَا يَقَعُ جَارِحًا ظَاهِرًا إِلَّا لِمَعْنًى فِي الضَّارِبِ“ لہٰذا یہ ضرب جو ہے جارح ہو کر واقع نہیں ہو گی، یہ ضرب جارح ہو کر نہیں ہو سکتی ”ظَاهِرًا“ ظاہر کے اعتبار سے ”إِلَّا لِمَعْنًى فِي الضَّارِبِ“ مگر ضارب کے اندر کسی سبب کی وجہ سے۔ معلوم ہوا کمی اور کوتاہی ضارب کے اندر آئی ہے ورنہ اس ضرب کو جارح یا مہلک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَقَعُ جَارِحًا ظَاهِرًا“ لہٰذا یہ ضرب جو ہے جارح ہو کر واقع نہیں ہو سکتی ظاہر کے اعتبار سے ”إِلَّا لِمَعْنًى فِي الضَّارِبِ“ مگر ضارب کے اندر کسی سبب کے پائے جانے کی وجہ سے ”وَهُوَ قِلَّةُ هِدَايَتِهِ“ اور وہ اس کی کم مہارت ہے، معلوم ہوا کوڑے لگانے والے کو کوڑے لگانے میں پوری مہارت نہیں ہے بھئی۔ تو ہدایت سے مراد یہاں مہارت ہے اس کی، یعنی ایک چیز کو سیکھنا، ایک چیز کو جاننا۔ تو کہتے ہیں ”وَهُوَ قِلَّةُ هِدَايَتِهِ“ اور وہ اس کا کم جاننا ہے، معلوم ہوا یہ کوڑے لگانے کو پوری طرح نہیں جانتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ قِلَّةُ هِدَايَتِهِ“ اور وہ اس کا کوڑے لگانے کو کم جاننا ہے ”فَاقْتَصَرَ عَلَيْهِ“ لہٰذا یہ ضرب اسی پر بند رہے گی یا یہ فعل اسی پر بند رہے گا یعنی کوڑے لگانے والے پر۔ یہ جو زخم لگانے والی ضرب ہے یہ کوڑے لگانے والے پر ہی بند رہے گی، یہ قاضی کی طرف منتقل نہیں ہو گی، یہ قاضی کا قصور نہیں ہے۔ ویسے تو فاعل کا فعل آمر کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو حکم دینے والا ہے، اور یہاں قاضی حکم دینے والا ہے لیکن قاضی نے تو کس قسم کی ضرب کا حکم دیا؟ اس نے صرف ایسی ضرب جس میں دوسرے کو زخم بھی نہ لگے اور وہ ہلاک بھی نہ ہو، لہٰذا یہ جو جلاد کی غلطی ہے یہ قاضی کی طرف منتقل نہیں ہو گی، یہ قاضی کا فعل نہیں ہے لہٰذا بیت المال میں سے اس کو واجب نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”فَاقْتَصَرَ عَلَيْهِ“ تو یہ ضرب جو ہے اسی جلاد پر بند رہے گی ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الضَّمَانُ فِي الصَّحِيحِ“ مگر یہ کہ اس جلاد پر ضمان واجب نہیں ہو گا فی الصحیح، صحیح قول کے مطابق۔ ایک قول کے مطابق جلاد پر ضمان آئے گا لیکن صحیح قول کے مطابق جلاد پر ضمان نہیں آئے گا ”كَيْ لَا يَمْتَنِعَ النَّاسُ عَنِ الْإِقَامَةِ مَخَافَةَ الْغَرَامَةِ“ تاکہ کہیں لوگ رک نہ جائیں عن الاقامہ، حد قائم کرنے سے، مخافت الغرامہ، جرمانے کے خوف سے۔ جرمانے کے خوف سے پھر تو کوئی کوڑے لگانے کے لیے تیار ہی نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَيْ لَا يَمْتَنِعَ النَّاسُ عَنِ الْإِقَامَةِ مَخَافَةَ الْغَرَامَةِ“ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ حد قائم کرنے سے رک جائیں جرمانے کے خوف سے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى شَهَادَةِ أَرْبَعَةٍ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا لَمْ يُحَدَّ“ بھئی اب شہادت علی الشہادۃ کا مسئلہ آیا، گواہی پر گواہی۔ بھئی آپ نے اب تک یہ پڑھا ہے کہ ایک مسئلے کے اندر گواہ پیش کیے جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گواہوں کو کوئی عذر ہے وہ قاضی کے پاس نہیں آ سکتے۔ مثلاً وہ شدید بیمار ہیں یا ان کو سفر پر جانا ہے، مثلاً ان کو کل گواہی کے لیے پیش ہونا ہے قاضی کے پاس لیکن آج ہی وہ حج کے سفر پر جا رہے ہیں، تو جب عذر پیش آ جائے تو پھر شریعت نے اجازت دی ہے کہ گواہ اپنی گواہی پر کسی اور کو گواہ بنا دیں اور وہ جا کر قاضی کے پاس گواہی دے دیں۔ مثلاً زید سفر پر جا رہا ہے تو زید اپنی گواہی پر دو گواہ بنا دے گا، ایک گواہ نہیں بنائے گا بلکہ اپنی گواہی پر دو گواہ بنائے گا اور ان سے کہے گا کہ تم گواہ ہو جاؤ میری گواہی پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے سامنے فلاں اور فلاں کے درمیان یہ بیع ہوئی تھی۔ مثلاً بیع کا مسئلہ ہے، بیع کا مسئلہ پیش آیا ہے اور وہ گواہی کی ضرورت ہے قاضی کے پاس اور یہ گواہ شدید بیمار ہے یا یہ حج پر جا رہا ہے آج ہی، تو یہ کسی اور کو گواہ بنائے گا اپنی گواہی پر اور دو گواہوں کو بنائے گا اور کیا کہے گا؟ کہ تم گواہ ہو جاؤ میری گواہی پر، اور پھر آگے کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے سامنے فلاں اور فلاں کے درمیان یہ بیع ہوئی تھی اتنے پیسوں میں۔ اور پھر یہ جو دو گواہ ہیں، یوں کہو وہ جو زید تھا جو سفر پہ جا رہا ہے وہ ہے اصل، شاہد اصل ہے، اور یہ جو بعد میں دو گواہ اس نے بنائے ہیں اور یہ قاضی کے پاس جا کر اب گواہی دیں گے یہ ہے شاہد فرع۔ یہ اس کی فرع ہیں یعنی شاخ ہیں، تو یہ شاہد فرع ہیں۔ تو یہ شاہد فرع جو ہیں قاضی کے پاس جا کر پھر گواہی دیں گے اور یوں کہیں گے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ زید کے سامنے یہ بیع والا معاملہ ہوا تھا، زید وہ جو گواہ اصل ہے وہ جو شاہد اصل ہے، یہ شاہد فرع قاضی کے سامنے جا کر کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ زید کے سامنے یہ والا بیع کا معاملہ ہوا تھا، اور زید نے مجھے اپنی گواہی پر گواہ بنایا ہے تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔ زید نے مجھے اپنی گواہی پر گواہ بنایا تھا تو میں اب اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ زید کے سامنے یہ بیع والا معاملہ ہوا تھا۔ تو اس کو کہتے ہیں شہادت علی الشہادۃ۔ اور شریعت نے اس کی اجازت دی ہے لیکن ضرورت اور حاجت کی وجہ سے، بغیر ضرورت اور حاجت کے نہیں۔ جب ایک گواہ خود آ سکتا ہے قاضی کے پاس تو اس کو اجازت نہیں ہے وہ کسی اور کو اپنی گواہی پر گواہ بنا دے۔ اور پھر اس میں یہ بھی یاد رکھنا کہ شہادت علی الشہادۃ اور معاملات میں تو جائز ہے، حدود کے مسئلے میں جائز نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ حدود تو ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں، اور جب مثلاً ایک آدمی کو میں ایک بات کہتا ہوں میں ایک آدمی کو اپنا گواہ بناتا ہوں تو ظاہر سی بات ہے گواہ جا کر قاضی کے سامنے جب گواہی دے گا تو وہ بعینہٖ میرے الفاظ تو نہیں دہرا سکتا، ظاہر سی بات ہے کچھ نہ کچھ کمی بیشی ہو جائے گی، اور اس کی وجہ سے گواہی میں شبہ آ جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ جب کلام ایک آدمی سے دوسرے آدمی کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ کمی بیشی آ جاتی ہے، دوسرا شخص جتنی مرضی احتیاط کر لے کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ فرق آ جاتا ہے، خود اسے بھی پتہ نہیں چلتا، تو لہٰذا حدود کے مسئلے میں گواہی پر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ جب کلام ایک آدمی سے دوسرے آدمی کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ تغیر اور تبدل آ جاتا ہے جس کی وجہ سے شبہ آ گیا، اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا کہ جس طرح حدود کے مسئلے میں شہادت علی الشہادۃ جائز نہیں ہے، اسی طرح قصاص کے مسئلے میں بھی شہادت علی الشہادۃ جائز نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ حدود بھی شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں اور قصاص بھی شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے، لہٰذا حدود اور قصاص کے مسئلے میں شہادت علی الشہادۃ جائز نہیں ہے۔ اب صورت مسئلہ یہ ہے، صورت مسئلہ یہ ہے کہ زنا کا معاملہ تھا، چار گواہوں نے قاضی کے پاس آ کر گواہی دینی ہے لیکن وہ چاروں مثلاً آج حج پر جا رہے ہیں یا وہ چاروں بیمار ہیں، تو انہوں نے اپنی گواہی پر گواہ بنا دیے، ہر ایک نے اپنی گواہی پر دو دو گواہ بنا دیے، ہر ایک نے اپنی گواہی پر دو دو گواہ بنا دیے، اب یہ آٹھ گواہ جائیں گے اور قاضی کے پاس جا کر گواہی دیں گے بھئی، تو کیا یہ گواہی قبول کی جائے گی؟ میں نے آپ کو بتلا دیا کہ نہیں، حدود کے مسئلے میں گواہی پر گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى شَهَادَةِ أَرْبَعَةٍ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا“ اور اگر چار گواہوں نے گواہی دی چار آدمیوں کی گواہی پر کسی آدمی کے خلاف زنا پر، بلکہ یہاں یہ صورت بنائیں: چار گواہ ہیں زنا کے، وہ چاروں جو ہیں وہ حج پر جا رہے ہیں، تو اب ہر ایک نے اپنی گواہی پر چار گواہ بنا دیے، ہر ایک نے اپنی گواہی پر چار گواہ بنا دیے تو پہلے چار تھے اب کتنے ہو گئے گواہ؟ سولہ۔ ایک صورت یہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ جو شاہد اصل ہیں چار، ایک نے بھی انہی چاروں کو شاہد فرع بنایا، دوسرے شاہد اصل نے بھی انہی چاروں کو شاہد فرع بنایا، تیسرے نے بھی انہی چاروں کو شاہد فرع بنایا، چوتھے نے بھی انہی چاروں کو شاہد فرع بنایا، تو اب چار گواہوں نے آ کر شہادت علی الشہادۃ دی قاضی کے سامنے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى شَهَادَةِ أَرْبَعَةٍ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا لَمْ يُحَدَّ“ اور اگر چار گواہوں نے گواہی دی چار آدمیوں کی گواہی پر کسی آدمی کے خلاف زنا پر ”لَمْ يُحَدَّ“ تو اس آدمی کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِمَا فِيهَا مِنْ زِيَادَةِ الشُّبْهَةِ“ اس لیے کیونکہ شہادت علی الشہادۃ میں ایک زائد شبہ ہے، ایک زائد چیز ہے اور وہ کیا ہے؟ شبہ۔ اصل کی گواہی میں تو شبہ نہیں تھا لیکن فرع کی گواہی میں شبہ آ گیا۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا فِيهَا مِنْ زِيَادَةِ الشُّبْهَةِ“ اس لیے کیونکہ فرع کی شہادت میں ایک زائد شبہ ہے ”وَلَا ضَرُورَةَ إِلَى تَحَمُّلِهَا“ اور کوئی ضرورت بھی نہیں ہے اس شہادت کے تحمل کی، یہاں پر شہادت کے تحمل کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ بھئی یہ جو شہادت علی الشہادۃ ہے اس کی تو شریعت نے اجازت دی ہے ضرورت کی وجہ سے، اور یہاں حدود کا مسئلہ ہے تو یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے شہادت علی الشہادۃ کی، کیونکہ حدود کو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ حدود کو تو ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے، لہٰذا یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے شہادت علی الشہادۃ کی، اس لیے اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا ضَرُورَةَ إِلَى تَحَمُّلِهَا“ اور کوئی ضرورت بھی نہیں ہے اس شہادت کے تحمل کی، کیونکہ حدود کو تو ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ ثابت کرنے کی۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ جَاءَ الْأَوَّلُونَ فَشَهِدُوا عَلَى الْمُعَايَنَةِ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ لَمْ يُحَدَّ أَيْضًا“ صورت یہ ہے کہ چار گواہ قاضی کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم شہادت علی الشہادت دیتے ہیں۔ یہی چار گواہ جو پیچھے مسئلہ گزرا، جو فرع ہیں، اصل گواہ نہیں آئے بلکہ فرع آگئے یعنی شہادت علی الشہادت دے رہے ہیں قاضی کے پاس اور قاضی کو بتایا کہ ہم شہادت علی الشہادت دے رہے ہیں، تو قاضی ان کی گواہی رد کر دے گا۔ اب شاہدِ اصل کو پتہ چلا تو پھر وہ خود ہی آگئے۔ وہ کسی نہ کسی طرح خود ہی آگئے، عذر سے نکل کر کسی طرح۔ تو کیا اب ان کی گواہی قبول کی جائے گی؟ کہتے ہیں: نہیں۔ وہ جو شہادتِ فرع کی گواہی قاضی نے رد کر دی تھی، وہ انہی کی تو گواہی تھی۔ وہ انہی کی تو گواہی تھی! گویا یوں کہو ان کی گواہی ایک دفعہ رد ہو چکی ہے اور جب ایک دفعہ ان کی گواہی رد ہو گئی ہے تو اب دوبارہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یاد رکھو یہ حدود میں ہے، کیونکہ حدود کا مسئلہ بڑا نازک ہے۔ لہٰذا یہاں پر ایک دفعہ شہادت رد کر دی ہے اگرچہ شاہدِ فرع کی گواہی رد کی ہے اور پھر شاہدِ اصل آگیا، تو شاہدِ اصل کی گواہی اب قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ شاہدِ فرع بھی اسی کے درجے میں تھا اور جب شاہدِ فرع کو رد کیا تھا تو گویا شاہدِ اصل کو بھی رد کر دیا۔ جبکہ اور معاملات میں گواہی قبول کی جائے گی۔ قاضی کے پاس شہادتِ فرع آئی اور قاضی نے شاہدِ فرع کی گواہی کو رد کر دیا، پھر شاہدِ اصل آگئے، تو شاہدِ اصل کی گواہی کو قاضی قبول کرے گا بھئی، اگر مال وغیرہ اور چیزوں کے اندر گواہی کی ضرورت تھی بھئی۔ لیکن حدود کے مسئلے میں ایک دفعہ جب شاہدِ فرع کی گواہی رد ہو گئی، تو شاہدِ اصل کی گواہی کو بھی اب قبول نہیں کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ جَاءَ الْأَوَّلُونَ﴾ تو اگر وہ پہلے گواہ آگئے یعنی وہ جو شہودِ اصل ہیں، تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ جَاءَ الْأَوَّلُونَ﴾ اگر وہ پہلے گواہ آگئے یعنی وہ جو شاہدِ اصل تھے وہ آگئے، ﴿فَشَهِدُوا عَلَى الْمُعَايَنَةِ فِي ذٰلِكَ الْمَكَانِ﴾ انہوں نے گواہی دے دی مشاہدے کی، معاینہ کا کیا معنی؟ مشاہدہ۔ ﴿فَشَهِدُوا﴾ انہوں نے گواہی دی ﴿عَلَى الْمُعَايَنَةِ فِي ذٰلِكَ الْمَكَانِ﴾ اسی جگہ کے اندر زنا کے مشاہدے کی کہ کس جگہ پر زنا ہوا تھا ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَشَهِدُوا عَلَى الْمُعَايَنَةِ فِي ذٰلِكَ الْمَكَانِ﴾ تو انہوں نے اسی جگہ کے اندر زنا کے مشاہدے کی گواہی دی، ﴿لَمْ يُحَدَّ أَيْضًا﴾ تو پھر بھی اس آدمی کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ ﴿مَعْنَاهُ﴾ معنیٰ بھئی صاحبِ ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں کہ متن میں آیا: ﴿فَشَهِدُوا عَلَى الْمُعَايَنَةِ فِي ذٰلِكَ الْمَكَانِ﴾ اس کا کیا معنیٰ ہے؟ تو بتلانا یہ چاہتے ہیں یعنی شاہدِ اصل آگئے اور انہوں نے بعینہٖ اسی زنا کی گواہی دی۔ اسی جگہ میں ہوا تھا یعنی اسی زنا کی گواہی دی۔ تو کہتے ہیں: ﴿مَعْنَاهُ﴾ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول کا معنیٰ یہ ہے: ﴿شَهِدُوا عَلَى ذٰلِكَ الزِّنَا بِعَيْنِهِ﴾ کہ ان پہلوں نے بعینہٖ اسی زنا پر گواہی دی، تو یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی، حد ثابت نہیں ہوگی۔ ﴿لِأَنَّ شَهَادَتَهُمْ قَدْ رُدَّتْ مِنْ وَجْهٍ﴾ اس لیے کیونکہ یہ جو اول تھے ان کی گواہی تحقیق رد کی جا چکی ہے ﴿مِنْ وَجْهٍ﴾ بعض اعتبار سے، ﴿بِرَدِّ شَهَادَةِ الْفُرُوعِ﴾ فروع کی گواہی کو رد کرتے ہوئے، ﴿فِي عَيْنِ هٰذِهِ الْحَادِثَةِ﴾ حادثہ کا معنیٰ ہے واقعہ بھئی، معاملہ، یہ جو زنا کا معاملہ تھا۔ ﴿بِرَدِّ شَهَادَةِ الْفُرُوعِ فِي عَيْنِ هٰذِهِ الْحَادِثَةِ﴾ عین اسی معاملے کے اندر فروع کی گواہی کو رد کرتے ہوئے اصول کی گواہی اب قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ بعینہٖ اس مسئلے کے اندر ان کی گواہی ایک دفعہ رد ہو چکی ہے، فروع کی گواہی کو رد کرکے۔ فروع کی گواہی کو رد کرنا بھی تو دراصل اصول کی گواہی کو ہی رد کرنا تھا بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ شَهَادَتَهُمْ قَدْ رُدَّتْ مِنْ وَجْهٍ بِرَدِّ شَهَادَةِ الْفُرُوعِ فِي عَيْنِ هٰذِهِ الْحَادِثَةِ﴾ اس لیے کیونکہ اصول کی جو گواہی ہے اس کو رد کیا جا چکا ہے بعض اعتبار سے فروع کی گواہی کو رد کرتے ہوئے عین اسی واقعے کے اندر، ﴿إِذْ هُمْ قَائِمُونَ مَقَامَهُمْ فِي الْأَمْرِ وَالتَّحْمِيلِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ جو فروع تھے وہ انہی اصول کے قائم مقام تھے حکم میں اور شہادت کے ذمہ دار بنانے میں۔ امر کا معنیٰ ہے حکم دینا۔ بھئی شہودِ اصل نے حکم دیا تھا شہودِ فرع کو کہ گواہ ہو جاؤ، تو حکم بھی دیا تھا اور ان کو گواہی ان پر لاد دی تھی یعنی ان کو ذمہ دار بنا دیا تھا۔ حَمَّلَ يُحَمِّلُ تَحْمِيل کا معنیٰ ہے دوسرے پر کوئی چیز لاد دینا، دوسرے کے اوپر کوئی چیز ڈال دینا، دوسرے کو کسی چیز کا ذمہ دار بنا دینا۔ تو شہودِ اصل جو ہیں انہوں نے ہی حکم دیا تھا کہ ہماری گواہی پر گواہ بن جاؤ اور انہوں نے ہی ان پر تحمیل کی تھی یعنی ان کو ذمہ دار بنایا تھا، تو وہ شہودِ فرع انہی شہودِ اصل کے قائم مقام تھے اور ان کی گواہی رد ہو چکی تو گویا شہودِ اصل کی گواہی بھی رد ہو چکی۔ تو کہتے ہیں: ﴿إِذْ هُمْ قَائِمُونَ مَقَامَهُمْ فِي الْأَمْرِ وَالتَّحْمِيلِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ فروع جو تھے وہ انہی اصول کے قائم مقام تھے، امر حکم دینے میں، اور تحمیل اور ذمہ دار بنانے میں کہ انہوں نے ہی حکم دیا تھا اور انہوں نے ہی ذمہ دار بنایا تھا۔ ﴿وَلَا يُحَدُّ الشُّهُودُ﴾ بھئی پھر گواہوں پر حد جاری ہونی چاہیے، انہوں نے زنا کی تہمت لگائی ہے۔ کہتے ہیں: ﴿وَلَا يُحَدُّ الشُّهُودُ﴾ اور گواہوں کو حد نہیں لگائی جائے گی، ﴿لِأَنَّ عَدَدَهُمْ مُتَكَامِلٌ﴾ اس لیے کیونکہ ان کا عدد تو پورا ہے، وہ تو چار گواہ ہیں بھئی، شہادت کا نصاب پورا ہے۔ ﴿وَامْتِنَاعُ الْحَدِّ عَنِ الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ لِنَوْعِ شُبْهَةٍ﴾ اور مشہود علیہ، مشہود علیہ کون؟ جس کے خلاف زنا کی گواہی دی ہے۔ مشہود علیہ سے حد اس لیے ساقط ہوئی کہ ایک قسم کا شبہ آگیا تھا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَامْتِنَاعُ الْحَدِّ عَنِ الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ لِنَوْعِ شُبْهَةٍ﴾ اور مشہود علیہ سے جو حد ممتنع ہو گئی یہ ایک نوع کے شبہے کی وجہ سے ہے، اور وہ شبہ کیا؟ کہ بات جب ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہوتی ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ تغیر و تبدل آ جاتا ہے۔ تو لہٰذا فروع کی گواہی میں تو شبہ آگیا، اور اصول کی گواہی میں بھی شبہ آگیا کیونکہ ایک دفعہ ان کی گواہی رد ہو چکی ہے بھئی۔ تو دونوں کے اندر شبہ موجود ہے، لہٰذا اب مشہود علیہ پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَامْتِنَاعُ الْحَدِّ عَنِ الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ لِنَوْعِ شُبْهَةٍ﴾ اور مشہود علیہ سے حد کا رک جانا یہ ایک قسم کے شبہے کی وجہ سے ہے، ﴿وَهِيَ كَافِيَةٌ لِدَرْءِ الْحَدِّ لَا لِإِيجَابِهِ﴾ اور یہ شبہ کافی ہے حد کے دور کرنے کے لیے، حد کے واجب کرنے کے لیے کافی نہیں، اس کی وجہ سے حدِ قذف گواہوں پر ثابت نہیں ہو سکتی۔ اس شبہے کی وجہ سے حدِ زنا تو ساقط ہو جائے گی، لیکن اس شبہے کی وجہ سے گواہوں پر حدِ قذف ثابت ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ معنیٰ ہے کہ ﴿وَهِيَ كَافِيَةٌ لِدَرْءِ الْحَدِّ لَا لِإِيجَابِهِ﴾ اور یہ شبہ حد کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے، لیکن حد کو واجب کرنے کے لیے کافی نہیں۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا فَرُجِمَ فَكُلَّمَا رَجَعَ وَاحِدٌ حُدَّ الرَّاجِعُ وَحْدَهُ وَغَرِمَ رُبُعَ الدِّيَةِ﴾ بھئی یاد رکھو! اب گواہی سے رجوع کا بیان آگیا۔ یہ باب ہم پڑھ رہے ہیں: بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الزِّنَا وَالرُّجُوعِ عَنْهَا، یہ باب ہے شہادت علی الزنا کے بیان میں اور اس سے رجوع کرنے کے بیان میں۔ ابھی تک جو مسائل چل رہے تھے وہ شہادت کے تھے۔ اب رجوع عن الشہادت کے مسائل ذکر کرنے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ یاد رکھو یہاں پر تین قسم کے گواہ ہوں گے بھئی زنا کے اندر: کچھ کو شہودِ زنا کہیں گے، کچھ کو شہودِ تزکیہ کہیں گے، کچھ کو شہودِ احصان کہیں گے، شہودِ احصان۔ شہودِ زنا وہ چار گواہ جو زنا کی گواہی دے رہے ہیں، اور پھر ہم ان چار گواہوں کا پتہ کروائیں گے کہ یہ عادل ہیں یا نہیں۔ عادل ہیں یا نہیں، اور یہ لازم ہے، حدود کے مسئلے میں تعدیل کروائی جاتی ہے گواہوں کی۔ تو قاضی ان کے جاننے والے عادل لوگوں کو خط لکھے گا کہ یہ لوگ عادل ہیں یا نہیں۔ اس کو کہتے ہیں تزکیہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تزکیہ۔ تزکیہ کا معنیٰ ہے کسی کو پاک اور صاف بتلانا یعنی یہ شخص عادل ہے، گناہوں میں مبتلا نہیں ہے، فاسق نہیں ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں تزکیہ۔ تو قاضی جو ہے عادل لوگوں کو خفیہ طور پر خط لکھے گا اور وہ پھر اس کو جواب دیں گے بھئی۔ تو یہ ہے تزکیہ۔ تو یہ جو تزکیہ کرنے والے ہیں یہ ہیں شہودِ تزکیہ، یہ کیا ہیں؟ شہودِ تزکیہ۔ ایک ہو گئے شہودِ زنا جو قاضی کے پاس آکر گواہی دیں گے، ایک شہودِ تزکیہ جو ان گواہوں کی تعدیل کریں گے، ان کو عادل بتلائیں گے۔ اور پھر اس کے بعد یہ بھی دیکھا جائے گا یہ جس کے بارے میں زنا کی گواہی دی جا رہی ہے یہ شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ یعنی محسن ہے یا غیر محسن؟ اگر محسن ہے تو رجم کیا جائے گا، اگر غیر محسن ہے تو کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو اس محسن ہونے پر بھی بعض اوقات گواہی آتی ہے، تو ان کو شہودِ احصان کہیں گے، ان کو شہودِ احصان کہیں گے جو محسن ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ تو کتنی قسم کے گواہ ہو گئے یہاں؟ تین قسم کے۔ کچھ کیا ہیں؟ شہودِ زنا، کچھ شہودِ تزکیہ، اور کچھ شہودِ احصان۔ یاد رکھو! شہودِ احصان اگر رجوع کر لیں تو پھر ان پر ضمان نہیں۔ ان پر ضمان نہیں۔ لیکن اگر شہودِ تزکیہ یا شہودِ زنا رجوع کر لیں تو پھر ان پر ضمان آئے گا اگر ان کی وجہ سے دوسرے کی جان گئی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا فَرُجِمَ فَكُلَّمَا رَجَعَ وَاحِدٌ حُدَّ الرَّاجِعُ وَحْدَهُ وَغَرِمَ رُبُعَ الدِّيَةِ﴾ اور جب چار گواہوں نے گواہی دے دی ایک آدمی کے خلاف زنا کی، تو اس آدمی کو رجم کر دیا گیا، پس جب بھی ان میں سے کوئی ایک رجوع کرے گا تو اس اکیلے رجوع کرنے والے کو حد لگائی جائے گی اور وہ ضامن ہوگا ربعِ دیت کا۔ بھئی یاد رکھو، ادھر ایک اور ضابطہ سمجھ لیجیے۔ بھئی دیکھیے، یہاں گواہ گواہی دینے کے لیے آگئے زنا کے اندر۔ تو پہلے یہ گواہی دیں گے، پھر اس کے بعد قاضی فیصلہ کرے گا اور اس کے بعد حد کو نافذ کیا جائے گا۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضا ہی کا حصہ ہے، یہ قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ تو اگر گواہ گواہی دینے آئے اور قاضی کے فیصلہ لکھنے سے پہلے ان میں سے کسی نے رجوع کر لیا، تو پھر ساروں کو حد لگائی جائے گی، کیونکہ یہ معلوم ہوا یہ زنا کی تہمت لگا رہے تھے، یہاں گواہ چار پورے ہی نہیں ہیں۔ اور اگر قاضی نے فیصلہ دے دیا ان کی گواہی سن کر اور ابھی حد نہیں لگی تھی، اس سے پہلے کسی گواہ نے رجوع کر لیا، تو بھی ان چاروں کو حد لگائی جائے گی۔ قاضی کے فیصلے کے بعد حد کے نافذ کرنے سے پہلے کسی نے اگر رجوع کر لیا، تو اس کو بھی یوں سمجھا جائے گا جیسے قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی رجوع کر لیا۔ اور قاضی کے فیصلے سے پہلے اگر گواہ رجوع کر لیں تو پھر نصابِ شہادت کم ہو گیا تو سب کو حدِ قذف لگائی جائے گی۔ اور اگر حد کو نافذ کرنے کے بعد کوئی رجوع کرتا ہے، اب یاد رکھو ان کی گواہی کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل چکا ہے، حد لگ گئی، اس کے بعد کوئی رجوع کرتا ہے تو صرف اس رجوع کرنے والے کو حدِ قذف لگائی جائے گی، باقیوں پر حدِ قذف نہیں آئے گی، کیونکہ باقیوں کی گواہی قاضی کے فیصلے کے ساتھ مل کر مضبوط ہو گئی۔ توجہ ہے؟ تو کیا صورت ہوئی؟ اگر قاضی کے فیصلے سے پہلے کوئی ایک رجوع کر لے تو تمام گواہوں پر حد آئے گی اگر نصابِ شہادت کم ہو گیا۔ اور اگر قاضی کے فیصلے کے بعد رجوع کیا ہے لیکن ابھی حد قائم نہیں ہوئی، تو یہ بھی اسی طرح ہے جیسے قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی رجوع کیا، تو اس میں بھی سب پر حد آئے گی اگر گواہ چار سے کم ہو گئے۔ بھئی بعض صورتوں میں اگر گواہ زیادہ ہیں، ایک آدھ کے رجوع کرنے سے فرق نہیں پڑتا، مثلاً پانچ گواہ آئے تھے، تو اب ایک ان میں سے رجوع کر لے تو پھر بھی چار گواہ تو موجود ہیں، تو لہٰذا چاروں کو حد نہیں لگے گی کیونکہ شہادت کا نصاب پورا ہے۔ تو لہٰذا اگر گواہوں میں سے کوئی ایک رجوع کر لے اور شہادت کا نصاب کم ہو جائے، تو چاہے قاضی کے فیصلے سے پہلے رجوع کرے چاہے قاضی کے فیصلے کے بعد رجوع کرے لیکن حد کے قائم ہونے سے پہلے رجوع کرے، تو سب کو حد لگائی جائے گی اگر نصابِ شہادت کم ہو گیا۔ اور اگر قاضی کے فیصلے کے بعد رجوع کرتے ہیں تو پھر اس صورت میں صرف جو رجوع کرے گا اسی پر حد جاری ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا فَرُجِمَ﴾ اور اگر چار گواہوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی، اس آدمی کو رجم کر دیا گیا، ﴿فَكُلَّمَا رَجَعَ وَاحِدٌ﴾ پس جب بھی ان میں سے کوئی ایک رجوع کرے گا، ان گواہوں میں سے کوئی ایک جب بھی رجوع کرے گا، ﴿حُدَّ الرَّاجِعُ وَحْدَهُ﴾ تو اس اکیلے رجوع کرنے والے کو حد لگائی جائے گی، ﴿وَغَرِمَ رُبُعَ الدِّيَةِ﴾ اور وہ ضامن ہوگا ربعِ دیت کا۔ بھئی ان چار گواہوں کی وجہ سے ایک آدمی کی جان چلی گئی ہے۔ تو لہٰذا ایک نے رجوع کر لیا تو صرف اس ایک کو حد لگے گی، باقی کو حد نہیں، کیونکہ باقیوں کی گواہی کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل چکا ہے، قاضی کے فیصلے نے ان کی گواہی کو مضبوط کر دیا ہے، لہٰذا ان کو حد نہیں لگے گی۔ ہاں جو جو رجوع کرتا جائے گا اس کو حد لگتی جائے گی۔ تو اگر صرف ایک نے رجوع کیا تو صرف اس ایک کو حد لگے گی، اور نیز ایک جان گئی ہے اور ایک جان ناحق طور پر گئی ہے تو پوری دیت واجب ہوگی، لیکن پوری دیت میں اس ایک گواہ کا حصہ کتنا ہے؟ چوتھا حصہ۔ چار گواہوں کی وجہ سے جان گئی ہے، تو ایک گواہ پر ربعِ دیت کا ضمان بھی آ جائے گا۔ ربعِ دیت، دیت کا چوتھا حصہ اس کو بطورِ ضمان کے بھی دینا پڑے گا۔ تو یہ معنیٰ ہے: ﴿حُدَّ الرَّاجِعُ وَحْدَهُ﴾ تو اکیلے رجوع کرنے والے کو حد لگائی جائے گی، ﴿وَغَرِمَ رُبُعَ الدِّيَةِ﴾ اور وہ دیت کے چوتھے حصے کا ضامن ہوگا، ﴿أَمَّا الْغَرَامَةُ﴾ بھئی ضمان کیوں آئے گا؟ اب اس کی وجہ بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿أَمَّا الْغَرَامَةُ فَلِأَنَّهُ بَقِيَ مَنْ يَبْقَى بِشَهَادَتِهِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ الْحَقِّ﴾ تو جرمانہ جو ہے اس لیے کیونکہ باقی ہے ان کی گواہی کی وجہ سے حق کا تین چوتھائی۔ بھئی تین گواہوں نے تو ابھی بھی رجوع نہیں کیا، تو تین چوتھائی حق ابھی بھی باقی ہے۔ ایک چوتھائی حق اس آدمی پر آ جائے گا اور تین چوتھائی حق والے ابھی بھی باقی ہیں تو وہ ضمان نہیں آئے گا۔ تو یہ معنیٰ ہے: ﴿فَلِأَنَّهُ بَقِيَ مَنْ يَبْقَى بِشَهَادَتِهِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ الْحَقِّ﴾ اس لیے کیونکہ باقی ہیں وہ لوگ جن کی گواہی کی وجہ سے تین چوتھائی حق ابھی بھی باقی ہے، ﴿فَلِأَنَّهُ بَقِيَ مَنْ يَبْقَى بِشَهَادَتِهِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ الْحَقِّ﴾ اس لیے کیونکہ باقی ہیں وہ افراد کہ جن کی گواہی کی وجہ سے تین چوتھائی حق ابھی بھی باقی ہے، تو صرف ایک چوتھائی ضمان جو ہے وہ اس گواہ پر آئے گا بھئی۔ ﴿فَيَكُونُ الْفَائِتُ بِشَهَادَةِ الرَّاجِعِ رُبُعَ الْحَقِّ﴾ ﴿فَيَكُونُ الْفَائِتُ﴾ پس وہ حق جو فوت ہوا ہے ﴿بِشَهَادَةِ الرَّاجِعِ﴾ رجوع کرنے والے کی شہادت کی وجہ سے، ﴿رُبُعَ الْحَقِّ﴾ وہ حق کا چوتھا حصہ ہے۔ تین چوتھائی حق تو ابھی بھی باقی ہے، ان گواہوں نے ابھی رجوع نہیں کیا۔ تو ﴿فَيَكُونُ الْفَائِتُ بِشَهَادَةِ الرَّاجِعِ رُبُعَ الْحَقِّ﴾ پس وہ جو فوت ہوا ہے رجوع کرنے والے کی شہادت کی وجہ سے وہ حق کا چوتھا حصہ ہے۔ ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: يَجِبُ الْقَتْلُ دُونَ الْمَالِ﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً فرماتے ہیں: ﴿يَجِبُ الْقَتْلُ دُونَ الْمَالِ﴾ وہ فرماتے ہیں: مال نہیں واجب ہوگا، اس گواہ کو بھی قتل کریں گے، اس کی وجہ سے ایک جان گئی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿يَجِبُ الْقَتْلُ دُونَ الْمَالِ﴾ کہ قتل واجب ہوگا نہ کہ مال، ﴿بِنَاءً عَلَى أَصْلِهِ فِي شُهُودِ الْقِصَاصِ﴾ بنا بر ان کے ضابطے کے قصاص کے گواہوں میں۔ بھئی یاد رکھو، اگر دو گواہوں نے گواہی دے دی کہ ہمارے سامنے زید نے فلاں کو تلوار سے قتل کیا تھا، قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا لیکن دو گواہوں نے آکر گواہی دے دی، تو زید سے اب قصاص لیا جائے گا اور زید کو بھی قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔ بعد میں ان گواہوں میں سے ایک یا دونوں رجوع کر لیتے ہیں قاضی کے پاس آکر کہ قاضی صاحب ہم سے غلطی ہو گئی ہم نے جھوٹ بولا تھا۔ تو اس صورت میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں کو قتل کیا جائے گا ان کی وجہ سے زید کی جان گئی ہے، جبکہ ہمارے نزدیک انہوں نے کوئی قتل تو نہیں کیا اپنے ہاتھ سے، انہوں نے صرف گواہی دی ہے، لہٰذا ان پر ضمان آئے گا ان کو دیت دینا پڑے گی، قصاص میں ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ تو ہمارے نزدیک قصاص کے گواہ رجوع کر لیں تو صرف ان پر دیت آتی ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ان کو قتل کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِنَاءً عَلَى أَصْلِهِ فِي شُهُودِ الْقِصَاصِ﴾ بوجہ اس ضابطے کے جو امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے قصاص کے گواہوں کے بارے میں، ﴿وَسَنُبَيِّنُهُ فِي الدِّيَاتِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى﴾ اور عنقریب ہم اس کو کتاب الدیات کے اندر ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا جو ضابطہ ہے قصاص کے گواہوں کے بارے میں کہ ان کو بھی قتل کیا جائے گا اگر وہ رجوع کرتے ہیں، تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ہم اس کو کتاب الدیات میں بیان کریں گے۔ یاد رکھو! یاد رکھو، یہاں شارحین حضرات فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ نے یہ وعدہ تو فرمایا لیکن اس کو پورا نہیں کیا۔ صاحبِ ہدایہ نے کیا فرمایا؟ کہ قصاص کے گواہ اگر رجوع کر لیں تو امام شافعی رحمہ اللہ کا ضابطہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے گا اور یہ ہم کہاں بیان کریں گے؟ کتاب الدیات میں۔ تو شارحین فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ نے وعدہ تو فرمایا لیکن انہوں نے اس وعدے کو پورا نہیں کیا۔ لیکن یاد رکھو، شارحین کی یہ بات درست نہیں ہے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کا ضابطہ بھی ذکر فرمایا اور ان کی دلیل بھی ذکر فرمائی ہے، البتہ کتاب الدیات کے اندر نہیں، کتاب الشہادات کے اندر انہوں نے ذکر فرمائی ہے۔ کتاب الشہادات کے اندر جہاں وہ گواہی سے رجوع کا ذکر فرماتے ہیں تو وہاں انہوں نے ذکر فرمایا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اگر قصاص کے گواہ رجوع کر لیں تو ان کو قتل کیا جائے گا۔ تو معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے بھئی۔ البتہ صاحبِ ہدایہ سے یا کسی لکھنے والے سے یہاں تسامح ہو گیا، کتاب الشہادات کے بجائے کتاب الدیات لکھ دی۔ چونکہ اس مسئلے کا تعلق شہادت سے بھی ہے اور دیت سے بھی ہے بھئی، دونوں سے تعلق ہے، تو بہرحال صاحبِ ہدایہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا ہے بھئی، اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ ضابطہ بھی ذکر فرمایا ہے اور ان کی دلیل بھی ذکر فرمائی ہے کتاب الشہادات کے اندر بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَأَمَّا الْحَدُّ فَمَذْهَبُ عُلَمَائِنَا الثَّلَاثَةِ﴾ ہمارے نزدیک یہ جس ایک گواہ نے رجوع کیا ہے اس کو حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَأَمَّا الْحَدُّ فَمَذْهَبُ عُلَمَائِنَا الثَّلَاثَةِ رَحِمَهُمُ اللّٰهُ﴾ تو حد جو ہے یہ ہمارے تین علماء کا مذہب ہے یعنی ہمارے ائمہ ثلاثہ کا مذہب ہے: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور صاحبین، ان کا یہ مذہب ہے کہ حد آئے گی۔ ﴿وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: لَا يُحَدُّ﴾ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَا يُحَدُّ﴾ کہ حد نہیں لگائی جائے گی، رجوع کرنے والے کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ کیوں؟ کیا وجہ ہے؟ تو ان کی دلیل اب آگے آ رہی ہے۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ إِنْ كَانَ الرَّاجِعُ﴾ ادھر دیکھیے بھئی، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص جس نے گواہی سے رجوع کیا ہے اس کو یا تو آپ قاذف الحی قرار دیں گے یا قاذف المیت قرار دیں گے۔ یعنی ادھر دیکھیے، ایک صورت یہ ہے اس گواہ نے رجوع کیا ہے، معلوم ہوا جس وقت اس نے قاضی کے پاس گواہی دی تھی تو اس وقت ہی اس نے زنا کی تہمت لگائی تھی، گواہی نہیں تھی زنا کی تہمت تھی، یہ خود کہہ رہا ہے میں نے جھوٹ بولا تھا۔ تو اس وقت سے ہی تہمت تھی اور اس وقت تو وہ مرجوم زندہ تھا۔ تو یہ قاذف الحی ہوا، زندہ آدمی پر تہمت لگانے والا۔ یہ زندہ آدمی پر تہمت لگانے والا ہوا اور یاد رکھو یہ جو حدِ قذف ہے اس کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر زنا کا الزام لگایا، وہ قاضی کے پاس چلا گیا: قاضی صاحب اس نے میرے اوپر زنا کا الزام لگایا ہے، اس پر حدِ قذف جاری کی جائے۔ لیکن اس سے پہلے ہی وہ مقذوف مر گیا جس پر الزام لگا تھا، وہ آدمی مر گیا۔ تو یاد رکھو حدِ قذف ساقط ہو جائے گی کیونکہ حدِ قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی، وصول کرنے والا ہی نہ رہا تو حدِ قذف بھی ساقط ہو گئی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شخص نے گواہ نے ابھی رجوع کیا ہے تو یہاں دو صورتیں ہیں: یا تو آپ اس کو فی الحال تہمت لگانے والا قرار دیں گے اور اس وقت تو وہ مرجوم مر چکا ہے، مرنے کے بعد رجوع کر رہا ہے نا، تو اس وقت تو یہ قاذف المیت ہوا، مرنے والے پر اس نے تہمت لگائی ہے۔ اور اگر آپ اس کی گواہی کو ہی تہمت قرار دے دیتے ہیں جو اس نے قاضی کے پاس شروع میں گواہی دی تھی، اگر آپ اسی کو قذف قرار دے دیتے ہیں تو وہ قذفِ حی ہوا، زندہ آدمی پر تہمت۔ تو چاہے آپ اس کو قاذف الحی بنائیں، چاہے آپ اس کو قاذف المیت بنائیں، دونوں صورتوں کے اندر حد نہیں آتی اس آدمی پر۔ اگر آپ اس کو قاذف الحی بناتے ہیں کہ جب اس نے گواہی دی تھی اس وقت ہی اس نے زنا کا الزام لگایا تھا، تو پھر وہ زندہ تو اب مر چکا ہے اور حدِ قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہو سکتی لہٰذا آپ اس پر حدِ قذف جاری نہیں کر سکتے۔ اور اگر آپ اس کو قاذف المیت بناتے ہیں کہ ابھی اس وقت سے یہ تہمت لگا رہا ہے اور وہ آدمی مر چکا ہے، تو پھر بھی اس پر حدِ قذف نہیں آتی، کیوں نہیں آتی؟ کیونکہ یہ ایک ایسے آدمی پر زنا کی تہمت لگا رہا ہے جو مرجوم بحکم القاضی ہے، جو مرجوم ہے جس کو رجم کیا گیا ہے بحکم القاضی قاضی کے فیصلے سے۔ یہ کسی اور آدمی پر زنا کی تہمت نہیں لگا رہا بلکہ مرجوم بحکم القاضی پر زنا کی تہمت لگا رہا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کس پر؟ مرجوم بحکم القاضی پر یہ زنا کی تہمت لگا رہا ہے۔ یاد رکھو! یاد رکھو، مرجوم بحکم القاضی پر اگر کوئی شخص زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حدِ قذف نہیں آتی۔ یہ مرجوم بحکم القاضی ہے اور مرجوم بحکم القاضی تو وہ ہے جسے قاضی نے زنا کی وجہ سے رجم کروایا ہے۔ مرجوم بحکم القاضی تو وہ ہے جسے قاضی نے زنا کی وجہ سے رجم کروایا ہے تو وہ زنا سے پاک دامن نہ رہا۔ معلوم ہوا اس نے زنا کیا تھا، تو لہٰذا وہ محسن نہیں ہے اور غیر محسن پر کوئی زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حدِ قذف واجب نہیں ہوتی بھئی۔ اس لیے مرجوم بحکم القاضی پر کوئی زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں کی جا سکتی بھئی۔ یہ تو گواہ ہے اس نے رجوع کیا ہے، اس سے قطع نظر کوئی اور الگ آدمی ہے اس نے اس مرجوم کو زانی کہہ دیا، اس نے مرجوم کو زانی کہہ دیا کہ وہ زنا کار تھا۔ اس مرجوم کے بیٹے جو ہیں اس آدمی کو اٹھا کر قاضی کے پاس لے آئے: قاضی صاحب اس نے ہمارے باپ کو زانی کہا ہے اور آپ کے سامنے ایک گواہ نے رجوع کیا تھا، معلوم ہوا ہمارے باپ کو ناحق رجم کیا گیا ہے لہٰذا اس آدمی نے ہمارے باپ کو زانی کہا ہے تو اس پر حدِ قذف جاری کیجیے۔ تو یاد رکھو اس قاذف پر حدِ قذف جاری نہیں ہو سکتی کیونکہ اس نے زنا کی تہمت ایک مرجوم بحکم القاضی پر لگائی ہے۔ کس پر؟ مرجوم بحکم القاضی پر۔ وہ جو آدمی جس کو رجم کیا گیا تھا اس کو ویسے ہی رجم کیا تھا یا قاضی کے فیصلے سے؟ تو قاضی کے فیصلے سے جب رجم کیا گیا، قاضی کے پاس تو آکر ایک گواہ نے رجوع کر لیا ہے لیکن عام لوگوں کی نظر میں تو وہ مرجوم بحکم القاضی ہی ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا جب ایک شخص مرجوم بحکم القاضی کو زانی کہے تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں پر بھی امام زفر کی دلیل چل رہی ہے، امام زفر فرماتے ہیں: یہ جو گواہ جس نے گواہی سے رجوع کیا ہے، آپ اس کو قاذف الحی قرار دیں گے یا قاذف المیت قرار دیں گے۔ اگر آپ اس کو قاذف الحی قرار دیتے ہیں تب بھی حد ثابت نہیں ہوتی کیونکہ وہ زندہ تو اب مر چکا ہے اور حدِ قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی۔ اور اگر آپ جس گواہ نے رجوع کیا ہے آپ اس کو قاذف المیت قرار دیتے ہیں کہ اس نے ایک مرے ہوئے آدمی پر زنا کا الزام لگایا ہے، تو پھر بھی اس رجوع کرنے والے گواہ پر حد نہیں آ سکتی کیونکہ یہ زنا کا الزام مرجوم بحکم القاضی پر لگا رہا ہے۔ کس پر؟ مرجوم بحکم القاضی پر لگا رہا ہے اور اس کی وجہ سے شبہ آ جاتا ہے۔ کیا آ جاتا ہے؟ شبہ بھئی۔ بھئی دیکھو گواہ نے رجوع کر لیا، جب رجوع کر لیا معلوم ہوا قاضی سے فیصلے میں غلطی ہوئی تھی۔ جب قاضی سے فیصلے میں غلطی ہوئی تھی وہ جو شخص جو مرجوم ہو گیا وہ تو محسن تھا اور قاضی کا جب فیصلہ غلط ہے معلوم ہوا اس کا احصان قاضی کے فیصلے سے بھی اس کا محسن ہونا ختم نہیں۔ قاضی نے بے شک رجم کروا دیا لیکن اس کے محسن ہونے میں کوئی خرابی نہیں آئی، معلوم ہوا اس نے یہ فعلِ زنا نہیں کیا تھا، وہ زنا سے پاک دامن تھا، وہ محسن تھا۔ تو امام زفر کی دلیل چل رہی ہے کہ اگر آپ اس کو قاذفِ میت قرار دیتے ہیں تو پھر بھی یہ ایسے مردے پر زنا کا الزام لگانے والا ہے جو مرجوم بحکم القاضی ہے اور مرجوم بحکم القاضی ہونے کی وجہ سے اگرچہ اس کا محسن ہونا تو ساقط نہیں ہوا، اس کا محسن ہونا تو ساقط تو نہیں ہوا لیکن کم از کم اس میں شبہ تو آگیا بھئی، قاضی کے فیصلے سے رجم کیا گیا تھا۔ جب قاضی کے فیصلے سے رجم کیا گیا ہے معلوم ہوا پاک دامن نہیں ہے، شبہ آتا ہے یا نہیں؟ جب پاک دامن نہیں ہے زنا کرنے والا ہے، تو زنا کرنے والے کو اگر کوئی زانی کہے اس پر تو حد نہیں آتی بھئی۔ تو امام زفر فرماتے ہیں: آپ چاہے اس رجوع کرنے والے کو چاہے قاذف الحی قرار دیں چاہے قاذف المیت قرار دیں، کسی صورت کے اندر اس پر حد ثابت نہیں ہوتی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں امام زفر فرماتے ہیں: ﴿لَا يُحَدُّ لِأَنَّهُ إِنْ كَانَ الرَّاجِعُ قَاذِفَ حَيٍّ فَقَدْ بَطَلَ بِالْمَوْتِ﴾ اس کو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کیونکہ رجوع کرنے والا اگر وہ قاذفِ حی ہے، ﴿فَقَدْ بَطَلَ بِالْمَوْتِ﴾ تو تحقیق حد باطل ہو گئی بالموت اس مقذوف کے مرنے کی وجہ سے، ﴿وَإِنْ كَانَ قَاذِفَ مَيِّتٍ فَهُوَ مَرْجُومٌ بِحُكْمِ الْقَاضِي فَيُورِثُ ذٰلِكَ شُبْهَةً﴾ اور اگر یہ رجوع کرنے والا میت پر تہمت لگانے والا ہے تو وہ میت جو ہے وہ تو مرجوم بحکم القاضی ہے، ﴿فَيُورِثُ ذٰلِكَ شُبْهَةً﴾ تو یہ ایک شبہ پیدا کر دیتا ہے لہٰذا اس رجوع کرنے والے پر حد نہیں آ سکتی۔ ﴿وَلَنَا﴾ اب ہماری دلیل آگئی۔ ادھر دیکھیے ہماری دلیل سمجھ لیجیے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم اس کو قاذف الحی قرار نہیں دیتے بلکہ قاذفِ میت قرار دیتے ہیں۔ ہم اس کو قاذفِ میت قرار دیتے ہیں کیونکہ اس وقت اس کے مرنے کے بعد یہ رجوع کر رہا ہے تو گویا اس وقت یہ زنا کی تہمت لگا رہا ہے، تو یہ قاذف المیت ہوا۔ اور آپ نے کہا کہ قاذف المیت ہے تو یہ تہمت لگا رہا ہے مرجوم بحکم القاضی پر، تو ہم کہتے ہیں کہ جب اس نے رجوع کر لیا تو اس کی جو گواہی تھی وہ باطل ہو گئی، فسخ ہو گئی۔ اس کی گواہی وہ جو اس نے ماضی میں گواہی دی تھی وہ گواہی کیا ہو گئی؟ فسخ۔ جب وہ فسخ ہو گئی تو اسی گواہی پر تو قاضی کے فیصلے کی بنیاد تھی، تو قاضی کا فیصلہ بھی اس کے حق میں فسخ ہو گیا۔ گویا اس رجوع کرنے والے کے حق میں وہ شخص جو ہے مرجوم بحکم القاضی نہ رہا، کیونکہ اس رجوع کرنے والے کا یہ خیال ہے کہ اس کو ناحق رجم کیا گیا ہے۔ اس رجوع کرنے والے کا کیا خیال ہے؟ میری گواہی غلط تھی، جب میری گواہی غلط تھی تو قاضی کا فیصلہ بھی غلط تھا، جب قاضی کا فیصلہ غلط تھا تو معلوم ہوا وہ شخص حقیقت میں مرجوم بحکم القاضی نہیں ہے، تو لہٰذا اس رجوع کرنے والے کے ساتھ اپنے گمان کے مطابق سلوک کیا جائے گا اور اس کے گمان میں تو وہ جو مرنے والا ہے وہ مرجوم بحکم القاضی نہیں، کیونکہ اس کا اپنا کیا گمان ہے؟ میں نے گواہی غلط دی تھی لہٰذا قاضی کا فیصلہ بھی غلط تھا، جب قاضی کا فیصلہ ہی غلط تھا تو وہ مرجوم بحکم القاضی نہ رہا، کیونکہ حکمِ قاضی ہی نہیں ہے تو مرجوم بحکم القاضی کہاں سے ہو گیا؟ جب وہ کیا کہتا ہے: میں نے جب غلط گواہی دی تو قاضی کا فیصلہ بھی غلط، جب قاضی کا فیصلہ غلط تو معلوم ہوا وہ مرجوم بحکم القاضی نہ رہا، جب وہ مرجوم بحکم القاضی نہ رہا تو اب اس آدمی کو حد لگائی جائے گی۔ اور صرف اس کے حق میں وہ مرجوم بحکم القاضی نہیں ہے، باقی گواہوں نے رجوع نہیں کیا ان کے حق میں اور عام لوگوں کے حق میں وہ ابھی بھی مرجوم بحکم القاضی ہے، لیکن خود اس گواہ نے رجوع کر لیا ہے، جب اس نے رجوع کیا تو اس کی گواہی فسخ ہو گئی، جب اس کی گواہی فسخ ہو گئی تو اسی گواہی پر تو قاضی کے فیصلے کی بنیاد تھی تو قاضی کا فیصلہ فسخ ہو گیا، جب قاضی کا فیصلہ ختم ہو گیا تو اس گواہ کے حق میں وہ مرجوم بحکم القاضی نہ رہا، جب اس کے حق میں مرجوم بحکم القاضی نہ رہا تو کسی قسم کا شبہ بھی نہ آیا۔ امام زفر تو یہی فرماتے تھے نا کہ مرجوم بحکم القاضی ہونے کی وجہ سے شبہ آگیا لہٰذا اس کو حد نہیں لگائی جائے گی، ہم کہتے ہیں: نہیں، خود اس کے اپنے گمان کے مطابق اب وہ مرجوم بحکم القاضی نہیں ہے لہٰذا کسی قسم کا شبہ نہیں، جب شبہ نہیں تو اس کو حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَنَا أَنَّ الشَّهَادَةَ إِنَّمَا تَنْقَلِبُ قَذْفًا بِالرُّجُوعِ لِأَنَّ بِهِ تُفْسَخُ شَهَادَتُهُ فَجُعِلَ لِلْحَالِ قَذْفًا لِلْمَيِّتِ﴾ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ گواہی جو ہے وہ پلٹ کر قذف بن جاتی ہے رجوع کرنے کی وجہ سے، اس لیے کیونکہ رجوع کی وجہ سے اس کی شہادت فسخ ہو جاتی ہے، ﴿فَجُعِلَ لِلْحَالِ قَذْفًا لِلْمَيِّتِ﴾ یہاں للحال بمعنی فی الحال ہے یعنی ہم اس کو قاذفِ حی قرار نہیں دیتے بلکہ قاذفِ میت قرار دیتے ہیں۔ تو یہ معنیٰ ہے: ﴿فَجُعِلَ لِلْحَالِ قَذْفًا لِلْمَيِّتِ﴾ تو اس کو فی الحال قذف للمیت قرار دیا جائے گا، ﴿وَقَدِ انْفَسَخَتِ الْحُجَّةُ فَيَنْفَسِخُ مَا يُبْتَنَى عَلَيْهِ وَهُوَ الْقَضَاءُ فِي حَقِّهِ﴾ اور حجت یعنی گواہی تو فسخ ہو گئی کیونکہ اس نے رجوع کر لیا، تو وہ قاضی کا فیصلہ بھی فسخ ہو گیا جس کی بنیاد اس گواہی پر تھی، اور وہ قاضی کا فیصلہ تھا فی حقہ اس رجوع کرنے والے کے حق میں۔ اس کے حق میں قاضی کا فیصلہ فسخ ہوا ہے، باقیوں کے حق میں قاضی کا فیصلہ فسخ نہیں۔ جب اس کے حق میں قاضی کا فیصلہ فسخ ہو گیا تو معلوم ہوا حکمِ قاضی نہیں ہے تو وہ آدمی بھی مرجوم بحکم القاضی نہیں ہے بھئی۔ حکمِ قاضی ہوتا تو وہ مرجوم بحکم القاضی بھی ہوتا، لیکن اس کے اپنے خیال میں یہ حکمِ قاضی ہی نہیں اور جب حکمِ قاضی نہیں تو وہ مرجوم بحکم القاضی بھی نہیں، ﴿فَلَا يُورِثُ الشُّبْهَةَ﴾ لہٰذا یہ شبہ پیدا نہیں کرتا، اس کی وجہ سے کوئی شبہ پیدا نہیں ہوتا قاذفِ میت قرار دینے سے، ﴿بِخِلَافِ مَا إِذَا قَذَفَهُ غَيْرُهُ﴾ بخلاف اس کے کہ جب اس مرجوم کو کوئی اور جو ہے اس پر تہمت لگائے۔ میں نے بتایا ایک گواہ نے تو رجوع کر لیا لیکن اس گواہ سے قطع نظر کوئی اور عوام میں سے کوئی اور جو ہے اس شخص کو جس کو رجم کیا گیا تھا اس کو زانی کہے اور زانی کا بیٹا اس کو قاضی کے پاس لے آئے، تو پھر بھی اس آدمی پر حدِ قذف نہیں آئے گی کیونکہ وہ زنا کا الزام لگا رہا ہے مرجوم بحکم القاضی پر بھئی۔ تو یہ مرجوم بحکم القاضی ہے اور مرجوم بحکم القاضی تو وہ ہے جسے قاضی نے زنا کی وجہ سے رجم کروایا ہے۔ مرجوم بحکم القاضی تو وہ ہے جسے قاضی نے زنا کی وجہ سے رجم کروایا ہے تو وہ زنا سے پاک دامن نہ رہا، معلوم ہوا اس نے زنا کیا تھا، تو لہٰذا وہ محسن نہیں ہے اور غیر محسن پر کوئی زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حدِ قذف واجب نہیں ہوتی بھئی۔ اس لیے مرجوم بحکم القاضی پر کوئی زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں کی جا سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ مَا إِذَا قَذَفَهُ غَيْرُهُ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُحْصَنٍ فِي حَقِّ غَيْرِهِ﴾ بخلاف اس کے کہ اس مرجوم کو اگر کوئی اور آدمی جو ہے وہ زنا کی تہمت لگائے، اس لیے کیونکہ یہ مرجوم جو ہے یہ تو غیر محسن ہے دوسرے کے حق میں۔ باقیوں کے نزدیک تو یہ مرجوم بحکم القاضی ہے اور مرجوم بحکم القاضی تو وہ ہوتا ہے جو غیر محسن، اس کا تو محسن ہونا ختم ہو جاتا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ غَيْرُ مُحْصَنٍ فِي حَقِّ غَيْرِهِ لِقِيَامِ الْقَضَاءِ فِي حَقِّهِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ غیر محسن ہے دوسرے کے حق میں، اس لیے کیونکہ اس غیر کے حق میں تو قاضی کا فیصلہ قائم ہے۔ قاضی کا فیصلہ ابھی بھی قائم ہے، رجوع کرنے والے کے حق میں قاضی کا فیصلہ فسخ ہوا تھا لیکن غیروں کے حق میں تو قاضی کا فیصلہ قائم ہے۔ تو لہٰذا کوئی اور اگر اس مرجوم بحکم القاضی پر زنا کا الزام لگائے گا تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں کی جا سکتی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، ھٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔