اگے سبق دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا أَرَادَ الْإِمَامُ الْعَوْدَ وَمَعَهُ مَوَاشٍ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَى نَقْلِهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ ذَبَحَهَا وَحَرَّقَهَا، وَلَا يَعْقِرُهَا وَلَا يَتْرُكُهَا، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَتْرُكُهَا؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ "نَهَى عَنْ ذَبْحِ الشَّاةِ إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ"“. گزشتہ سبق کے اندر صاحبِ ہدایہ نے اپ کو یہ بتلایا تھا کہ مسلمانوں میں سے کون امان دے سکتا ہے اور کون امان نہیں دے سکتا؟ صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا تھا کہ کوئی بھی ازاد مسلمان مرد ہو یا عورت، وہ کفار کے پورے شہر کو بھی امان دے سکتے ہیں۔ اور جب مسلمانوں میں سے کوئی ایک جو ہے کفار کو امان دے دے تو باقی مسلمانوں کے لیے ان سے لڑائی جائز نہیں ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اس کے اندر اصل جو ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قولِ مبارک ہے کہ اپ نے فرمایا: ”الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ“ کہ مسلمان جو ہیں اپنے خون کے اعتبار سے برابر ہیں، یعنی قصاص اور دیت کے اعتبار سے تمام مسلمان برابر ہیں۔ اور نیز حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ“ اور مسلمانوں کے امان میں سعی کر سکتا ہے، کوشش کر سکتا ہے ”أَدْنَاهُمْ أَيْ أَقَلُّهُمْ“ یعنی جو ان میں کم سے کم ہے یعنی ایک فرد، وہ بھی کوشش کر سکتا ہے۔ اور نیز صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہر مسلمان جو ہے وہ لڑائی کا اہل ہے، اس میں لڑائی کی صلاحیت ہے تو لہٰذا وہ لشکر والوں میں سے ہے۔ اور لشکر والوں سے تو کفار خوف کھاتے ہیں تو لہٰذا مسلمان کا امان دینا صحیح ہے۔ اس لیے کیونکہ امان جو ہے اس کو دیا جاتا ہے جس سے خوف ہوتا ہے۔ اور ہر مسلمان مرد اور عورت سے کفار خوف کھاتے ہیں کیونکہ ہر مسلمان مرد اور عورت وہ لشکر والوں میں سے ہے۔ تو لہٰذا جب مسلمان ان کو امان دے گا تو امان نے اپنے محل یعنی محلِ خوف سے ملاقات کر لی، لہٰذا مسلمان کا ان کو امان دینا صحیح ہے۔ اور نیز اس لیے بھی امان کا جو سبب ہے وہ ایمان ہے۔ اور ایمان کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی، کوئی شخص یا تو مومن ہوگا یا مومن نہیں ہوگا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی شخص کچھ مومن ہے اور کچھ مومن نہیں ہے۔ تو لہٰذا یہ جو امان ہے اس کا سبب ایمان ہے اور ایمان میں تقسیم نہیں تو امان میں بھی تقسیم نہیں ہے۔ لہٰذا جب ایک مسلمان نے امان دے دی تو تمام مسلمانوں کی طرف سے امان ہو گیا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کچھ مسلمانوں کی طرف سے امان ہو اور کچھ کی طرف سے امان نہ ہو کیونکہ امان کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ولایتِ نکاح بھئی کہ صغیر یا صغیرہ پر اس کے باپ دادا کو ولایت ہوتی ہے اور اگر باپ دادا نہ ہوں تو اس کے جو بھئی ہیں ان کو ولایت حاصل ہوتی ہے اور یہاں ہر ایک کو کامل ولایت حاصل ہوتی ہے کیونکہ ولایتِ نکاح میں تقسیم نہیں ہے بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر کسی مسلمان نے کفار کو امان دیا ہے لیکن اس امان کے اندر مسلمانوں کا نقصان ہے تو امام اس امان کو توڑ سکتا ہے۔ البتہ کفار کو اطلاع دے دے کہ ہماری طرف سے کوئی امان نہیں ہے تمہیں بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ذمی جو ہے وہ امان نہیں دے سکتا۔ اس لیے کیونکہ ذمی خود بھی کافر ہے اور جن کو امان دے رہا ہے وہ بھی کافر ہیں تو لہٰذا دلوں میں بدگمانی ائے گی کہ یہ ان کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے بھئی۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان قیدی ہے کفار کے پاس یا کوئی ایسا تاجر ہے جو کفار کے پاس اتا جاتا ہے تو اس قسم کا ادمی بھی کفار کو امان نہیں دے سکتا بھئی۔ اس لیے کیونکہ کفار کے دلوں میں ان کا خوف نہیں ہے۔ تو اگر یہ امان دیں گے تو امان نے محلِ خوف سے ملاقات نہ کی، لہٰذا ایسا امان معتبر ہی نہیں ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے عبدِ محجور کے امان کا مسئلہ ذکر فرمایا۔ میں نے اپ کو بتلایا تھا یہاں عبدِ محجور سے مراد وہ ہے جس کو جہاد کی اجازت نہیں دی اس کے اقا نے اور یہاں عبد ماذون لہ کا جو ذکر ایا ہے اس سے مراد وہ عبدِ ماذون ہے جس کو اس کے اقا نے جہاد کی اجازت دی ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا کہ عبدِ محجور اگر کسی کو امان دیتا ہے تو امام صاحب کے نزدیک اس امان کا کوئی اعتبار نہیں، عبدِ محجور کسی کو امان نہیں دے سکتا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدِ محجور بھی امان دے سکتا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عبدِ محجور یہ بھی مومن ہے اور نیز یہ قوت والا بھی ہے۔ اور جب یہ مومن ہے تو اس کو جہاد کی اجازت ہے اور امان دینا یہ بھی جہاد کا حصہ ہے لہٰذا اس کو امان دینے کی اجازت ہوگی۔ اور نیز دوسری شرط ہم نے یہ ذکر کی کہ امان دینے والے کو قوت والا ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ جب یہ امان دے گا تو اس امان کی وجہ سے دشمن کا خوف دور ہو جائے گا۔ تو عبدِ محجور جو ہے وہ مومن بھی ہے اور قوت والا بھی ہے کہ دشمن اس سے خوف کھاتے ہیں اور اس کے امان کی وجہ سے دشمن کا خوف دور ہو جاتا ہے لہٰذا یہ امان دے سکتا ہے۔ اور نیز امام محمد رحمہ اللہ نے اس عبدِ محجور کو قیاس کیا تھا عبدِ ماذون لہ پر کہ جب عبدِ ماذون لہ فی القتال وہ امان دے سکتا ہے تو یہ عبدِ محجور جو ہے یہ بھی امان دے سکتا ہے۔ اور نیز امام محمد رحمہ اللہ نے امانِ موقت کو قیاس کیا تھا امانِ مؤبد پر۔ میں نے اپ کو بتلایا کہ امانِ موقت وہ ہے جو جہاد کے اندر دشمن کو امان دیا جائے اور یہ چونکہ کچھ وقت کے لیے امان ہوتا ہے اس لیے اس کو امانِ موقت کہتے ہیں اور ایک امانِ مؤبد ہے اور وہ ذمی کو حاصل ہوتا ہے کیونکہ ذمی نے ہمیشہ دار الاسلام کے اندر رہنا ہے تو اس کو ہمیشہ کے لیے امان حاصل ہے۔ اور یاد رکھو بالاتفاق ہمارے ائمہ کے نزدیک یہ جو عبدِ محجور ہے یہ کسی حربی کو امانِ مؤبد دے سکتا ہے یعنی اس کو ذمی بنا سکتا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ اس امانِ موقت کو قیاس کرتے ہیں امانِ مؤبد پر کہ جب عبدِ محجور کو امانِ مؤبد کی ولایت حاصل ہے، وہ ہمیشہ کے لیے حربی کو امان دے سکتا ہے تو اسے امانِ موقت کی بھی ولایت حاصل ہوگی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی دلیل ذکر فرمائی کہ یہ جو عبدِ محجور ہے اس کو لڑائی کی اجازت نہیں ہے۔ جب اس کو لڑائی کی اجازت نہیں تو یہ اہل لشکر نہیں ہے۔ جب یہ اہل لشکر نہیں ہے تو دشمن اس سے خوف نہیں کھاتا، جب دشمن اس سے خوف نہیں کھاتا تو اس کا دشمن کو امان دینا بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ امان تو اس کو دیا جاتا ہے جو خوف کھانے والا ہے۔ تو یہ اگر امان دے گا بھی تو امان نے محلِ خوف سے ملاقات نہیں کی لہٰذا اس امان کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور امام محمد رحمہ اللہ نے عبدِ محجور کو قیاس کیا تھا عبدِ ماذون لہ فی القتال پر تو اس کا بھی جواب دیا کہ اپ اس عبدِ محجور کو عبدِ ماذون لہ پر قیاس نہیں کر سکتے اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون لہ وہ تو لشکر کا حصہ ہے، اس سے تو دشمن خوف کھاتا ہے لہٰذا اس کا امان دینا صحیح ہے۔ اور نیز یہ عبدِ محجور جو ہے یہ تو لڑائی میں بھی حصہ نہیں لے سکتا اقا کی اجازت کے بغیر تو لہٰذا اس کو امان دینے کی اجازت بھی نہیں ہوگی کیونکہ امان بھی ایک قسم کی لڑائی اور جہاد ہے کیونکہ جس طرح لڑائی کی وجہ سے دشمن کا شر دور ہوتا ہے اسی طرح امان دینے کی وجہ سے بھی دشمن کا شر دور ہوگا۔ تو امان بھی لڑائی کی طرح ہے اور لڑائی کی تو عبدِ محجور کو اجازت نہیں ہے لہٰذا اس امان کی بھی اس کو اجازت نہیں ہوگی۔ اور نیز اگر یہ امان دے گا بھی تو اس میں تو ظاہر یہی ہے کہ نقصان ہوگا کیونکہ اسے لڑائی کا کوئی تجربہ نہیں ہے تو اس کے امان دینے کی وجہ سے مسلمانوں پر غنیمت کا دروازہ بند ہو جائے گا تو اس میں عام مسلمانوں کا نقصان ہے۔ لہٰذا جب عبدِ محجور کو لڑائی کی اجازت نہیں ہے کہ اس میں اقا کا نقصان ہے تو اس کو امان کی بھی اجازت نہیں ہوگی جس کے اندر مسلمانوں کا نقصان ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں عبدِ ماذون لہ جو ہے اس کو جب لڑائی کی اجازت ہے تو اس کو امان کی بھی اجازت ہوگی اس لیے کیونکہ اس میں جب اقا نے غلام کو لڑائی کی اجازت دے دی تو گویا اقا اپنے نقصان پر خود ہی راضی ہے تو لہٰذا اس عبدِ ماذون لہ کو امان دینے کی اجازت ہوگی بھئی۔ اور نیز چونکہ وہ لڑائی سرانجام دے چکا ہے لہٰذا امان دینے میں اس سے غلطی بھی کم ہی ہوگی۔ اور نیز امام محمد رحمہ اللہ نے امانِ موقت کو قیاس کیا تھا امانِ مؤبد پر، اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ یہ جو امانِ مؤبد ہے یہ امانِ موقت سے مختلف ہے۔ امانِ موقت اگر عبدِ محجور دے گا تو اس کے اندر ظاہر یہی ہے کہ مسلمانوں کا نقصان ہوگا کیونکہ اسے لڑائی کا تجربہ نہیں ہے جبکہ امانِ مؤبد جو ہے وہ تو فائدے والی چیز ہے اس لیے کیونکہ وہ اسلام کا خلیفہ ہے۔ امانِ مؤبد کیا ہے؟ اسلام کا خلیفہ ہے اور نائب ہے یعنی جس طرح حربی مسلمان ہو جائیں تو ان کے ساتھ لڑائی ختم کر دی جاتی ہے اسی طرح جب وہ ذمی بن جائیں تو ان سے بھی لڑائی ختم کر دی جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ امانِ مؤبد یعنی ذمی بننا یہ اسلام کا خلیفہ ہے۔ تو یہ اسی طرح ہوا جیسے کفار کو دعوت دینا اور کفار کو دعوت دینے کی ولایت تو ہر مسلمان کو حاصل ہے، حتیٰ کہ عبدِ محجور بھی دوسروں کو اسلام کی دعوت دے سکتا ہے۔ تو جب عبدِ محجور اسلام کی دعوت دے سکتا ہے تو ذمی بنانا بھی اسی کی طرح ہے، اس کی بھی اس کو اجازت ہوگی بھئی۔ اپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوگا کہ یہ ذمی بنانا اسلام کی دعوت دینے کی طرح کس طرح ہے؟ بھئی دیکھیے، ابھی بیان ہوا کہ یہ جو امانِ مؤبد ہے یہ اسلام کا نائب ہے۔ اسلام کی وجہ سے جیسے لڑائی ختم کر دی جاتی ہے اسی طرح امانِ مؤبد جس کو دے دیا جائے اس سے بھی لڑائی ختم کر دی جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا امانِ مؤبد کے اندر ذمی کا فائدہ ہے۔ اسی طرح جب کسی کو اسلام کی دعوت دی جاتی ہے تو اس میں دعوت دینے والے کا بھی فائدہ ہے اور جس کو دعوت دی جا رہی ہے اس کا بھی فائدہ ہے۔ تو یہاں پر بھی جب یہ شخص ذمی بنے گا تو اس کے اندر اس ذمی کا بھی فائدہ ہے کہ اس کو اس کے ساتھ لڑائی ختم ہو جائے گی اور مسلمانوں کو بھی فائدہ ہے کہ اس کا شر دفع ہو جائے گا مسلمانوں سے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ جو امانِ مؤبد ہے یہ اسلام کا نائب ہے، جس طرح اسلام سے لڑائی ختم اسی طرح ذمی بننے سے بھی لڑائی ختم۔ تو یہ ذمی بنانا کسی کو اسلام کی دعوت دینے کی طرح ہوا اور عبدِ محجور کو دعوت دینے کی ولایت حاصل ہے تو اسے ذمی بنانے کی یعنی امانِ مؤبد کی بھی ولایت حاصل ہوگی کیونکہ اس میں دونوں کا نفع ہے بھئی۔ اور نیز اس امانِ مؤبد کی وجہ سے مسلمانوں کو فائدہ ہوگا کہ ان کو جزیہ حاصل ہوگا بھئی۔ اور نیز اس لیے بھی عبدِ محجور کو امانِ مؤبد کی ولایت حاصل ہوگی کیونکہ حربی کے سوال کرنے پر اس کو امانِ مؤبد دینا یہ مسلمانوں پر اور ان کے امام پر فرض ہے، تو عبدِ محجور جو ہے جب یہ امانِ مؤبد دے گا تو اس کی وجہ سے فرض ساقط ہو گیا، فرض ادا ہو گیا اور یہ بھی فائدہ ہے۔ تو معلوم ہوا امانِ مؤبد کے اندر ہر اعتبار سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔ لہٰذا عبدِ محجور کو امانِ مؤبد کی تو ولایت حاصل ہوگی لیکن امانِ موقت کی ولایت حاصل نہیں کیونکہ وہاں پر وہاں پر ظاہر یہی ہے کہ اس سے مسلمانوں کو نقصان ہوگا بھئی۔ اور اس کے بعد ہم نے غنیمتوں اور ان کی تقسیم کا باب شروع کیا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا کہ جب مسلمانوں کا امام کسی شہر پر زبردستی قبضہ کر لے تو امام کو اختیار ہے، وہ چاہے تو ان زمینوں کو مجاہدین کے درمیان تقسیم کر دے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر فرمایا تھا۔ اور امام کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو ان زمینوں پر انہی کفار کو برقرار رکھے، وہ زمینیں انہی کے پاس رہنے دے اور ان لوگوں پر جزیہ مقرر کر دے اور ان کی زمینوں پر خراج مقرر کر دے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سوادِ عراق کی زمین میں فیصلہ فرمایا تھا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے مشورے سے۔ میں نے اپ کو بتلایا کہ سوادِ عراق جو ہے یہ عراق کا ایک بہت بڑا علاقہ ہے اور بے انتہا سرسبز و شاداب ہے، یہاں کی زمینیں بہت عمدہ ہیں۔ تو اس سوادِ عراق کا جو علاقہ تھا اس کی زمینیں بہت اعلیٰ تھیں۔ اور اس کو سوادِ عراق اسی وجہ سے کہتے تھے، سواد کا معنی ہے سیاہی، سیاہی۔ اور اپ بھی جانتے ہیں کہ جہاں سبزہ اور درخت وغیرہ بہت زیادہ ہوں تو سبزے اور درخت کے گہرے سبز رنگ کی وجہ سے وہاں کچھ سیاہی سی معلوم ہوتی ہے۔ تو یہ زمین بھی چونکہ خوب سرسبز و شاداب تھی تو اسی لیے اس کو سوادِ عراق کہا جاتا تھا بھئی۔ تو جب مسلمانوں نے سوادِ عراق کے علاقے کو فتح کر لیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبارِ صحابہ کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے کہ اس زمین کو مسلمانوں کے لیے ہی روک دیجیے یعنی ان کو مجاہدین میں تقسیم نہ کیجیے۔ اگر اپ نے اس کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا تو بعد والوں کے لیے کچھ نہیں بچے گا بلکہ اس زمین کو انہی لوگوں کے انہی کفار کے قبضے میں رہنے دیجیے اور ان پر جزیہ اور خراج مقرر کر دیجیے تو یہ ہم مسلمانوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا اور بعد میں انے والوں کو بھی اس کا فائدہ ہوگا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی یہ رائے بڑی پسند ائی اور پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انصار کے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی، انہوں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ اس کو مجاہدین میں تقسیم نہ کیا جائے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پھر یہی فیصلہ فرمایا کہ ان زمینوں کو انہی لوگوں کے پاس رہنے دیا جائے اور میں نے بتایا کہ کچھ لوگ اس کی بڑی شدید مخالفت کر رہے تھے جیسے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ اور کچھ اور لوگ تھے، بعضوں نے ایک ادھ اور صحابی بھی ذکر فرمائے ہیں۔ تو یہ بڑی شدت کے ساتھ مخالفت کر رہے تھے کہ یہ زمینیں ہم نے فتح کی ہیں لہٰذا اس میں ہمارا حق ہے، یہ ہمارے درمیان تقسیم کی جائیں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمینیں تقسیم فرمائی تھیں۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان زمینوں کو مجاہدین کے درمیان تقسیم نہیں فرمایا۔ اور یہ سوادِ عراق کا علاقہ کتنا بڑا تھا اور اس کی زمینیں کتنی اعلیٰ تھیں اس کا اندازہ اپ اس بات سے لگائیے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات سے ایک سال قبل یہ خراج انا شروع ہو گیا بھئی۔ تو پہلی مرتبہ جو خراج ایا وہ دس کروڑ درہم تھے بھئی۔ اندازہ لگائیے، دس کروڑ درہم اور درہم بھی چھوٹے درہم نہیں تھے، عام درہم تو تین ماشے ایک رتی اور خمسِ رتی کا ہوتا ہے یعنی تقریباً سوا تین ماشے کا ہوتا ہے ایک درہم، لیکن یہ درہم یہ ساڑھے چار ماشے کے تھے یعنی ایک دینار کے برابر بڑے تھے بھئی۔ تو اس قسم کے دس کروڑ درہم بطورِ خراج کے پہلی مرتبہ موصول ہوئے۔ اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب دو چار درہموں کے اندر پورے گھر کا بہترین خرچہ چل جاتا تھا مہینے بھر کے لیے بھئی۔ تو اپ اندازہ لگائیے کہ جب دو چار درہم کے ساتھ پورے گھر کا مہینے بھر کا خرچہ چل جاتا ہو تو وہاں پر دس کروڑ درہم اور درہم بھی اعلیٰ قسم والے بڑے درہم ہوں تو یہ کتنی زیادہ دولت بنتی ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ امام کو اختیار ہوگا کہ وہ چاہے تو زمینوں کو ان مجاہدین میں تقسیم کر دے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں کیا تھا اور چاہے تو ان زمینوں پر انہی لوگوں کو برقرار رکھے اور ان پر جزیہ اور خراج مقرر کر دے جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا تھا بھئی۔ تو یہ تو مسئلہ تھا عقار کے اندر یعنی غیر منقولی جائداد جو ہے کہ اس کے اندر مشرکین اور کفار پر احسان جائز ہے کہ یہ زمینیں انہی کے پاس رہنے دی جائیں اور ان پر جزیہ اور خراج مقرر کر دیا جائے لیکن اس کے علاوہ جو منقولی مال ہے تو اس کے اندر کفار پر احسان کرنا جائز نہیں ہے، وہ ان کے پاس نہیں چھوڑا جائے گا، ان سے لے لیا جائے گا بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ ہم سے عقار کے مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں عقار بھی یعنی غیر منقولی جائداد بھی کفار کے پاس رہنے دینا اور ان پر احسان کرنا یہ جائز نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ یہ جو غیر منقولی جائداد ہے یہ بھی مالِ غنیمت ہے بھئی اور اس کے اندر اے احناف اپ کے نزدیک غنیمت والوں کا حق ا چکا ہے اور ہمارے نزدیک اس کے اندر غنیمت والوں کی ملکیت ا چکی ہے اور کسی کے حق کو یا ملکیت کو باطل کرنا صحیح نہیں کیونکہ اپ اگر یہ زمینیں انہی کفار کے حوالے کر دیں گے تو اس کے اندر جو مسلمانوں کا حق ا چکا ہے یا مسلمانوں کی جو ملکیت ا چکی ہے اس کو باطل کرنا پڑے گا اور کسی کے حق یا ملکیت کو باطل کرنا تو صحیح نہیں ہے بھئی۔ جبکہ ہم دلیل میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا فعل ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے سوادِ عراق کی زمینیں انہی کفار کے پاس رہنے دی تھیں بھئی۔ اور نیز اس لیے بھی کہ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ زمینیں انہی لوگوں کے پاس رہنے دی جائیں گی تو اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہے اس لیے کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کے لیے کاشتکار کے طور پر کام کریں گے۔ مسلمانوں کے لیے کاشتکار کے طور پر کام کریں گے اور چونکہ یہ زمینیں انہی کی ہیں تو یہ ان زمینوں کے معاملات کو بھی خوب اچھی طرح جاننے والے ہیں تو مسلمانوں کو ان زمینوں سے امدنی حاصل ہوگی اور نیز کاشتکاری کا جو خرچہ وغیرہ ہے وہ بھی نہیں ہوگا اس لیے کیونکہ کاشتکاری کے اندر بھی خرچہ ہوتا ہے بھئی، اس کے لیے بیج، ہل اور بیل وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے اور نیز کام کرنے کے لیے بعض اوقات اور لوگوں کو بھی اجرت پر لانا پڑتا ہے، لیکن یہ جب زمینیں ہم انہی لوگوں کے پاس چھوڑ دیں گے تو اس صورت میں یہ ان زمینوں پر کام کریں گے تو گویا یہ مسلمانوں کے لیے کام کر رہے ہیں بغیر کسی اجرت کے اور مسلمانوں کو ان سے سالانہ خراج ملتا رہے گا بھئی۔ تو جو موجودہ مسلمان ہیں وہ بھی ان سے فائدہ اٹھائیں گے اور بعد میں انے والے مسلمان بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا کہ امام کو قیدیوں کے بارے میں اختیار ہوگا، اگر وہ چاہے تو ان قیدیوں کو قتل کروا دے اور اگر وہ چاہے تو ان قیدیوں کو غلام بنا لے اور اگر چاہے تو ان کو ذمی بنا دے جن سے سالانہ جزیہ وصول کیا جائے گا بھئی۔ البتہ مشرکینِ عرب یا مرتد جو ہیں ان کا یہ حکم نہیں ہے، ان کو غلام بنانے کی یا ان سے جزیہ لینے کی اجازت نہیں، ان سے صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا انہیں قتل کر دیا جائے گا بھئی۔ اور اگر قیدیوں میں سے کوئی مسلمان ہو گیا تو اسے قتل تو نہیں کیا جا سکتا البتہ اس کو غلام بنایا جا سکتا ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ مسلمان قیدیوں کے بدلے میں کفار کے قیدی ازاد کرنا امام صاحب کے نزدیک جائز نہیں جبکہ صاحبین کے نزدیک جائز ہے۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ یہ جو صاحبین کا مذہب ہے امام محمد رحمہ اللہ ذکر فرماتے ہیں کہ امام صاحب کی دو روایتوں میں سے زیادہ ظاہر روایت بھی یہی ہے، معلوم ہوا یہ ہمارے تینوں ائمہ کا مذہب ہے کہ مسلمان قیدی کو چھڑانے کے لیے کفار کے قیدی کو ازاد کرنا جائز ہے بھئی، جائز ہے بھئی۔ البتہ مال لے کر کفار کے قیدی کو ازاد کرنا جائز نہیں ہے بھئی، ہاں البتہ اگر مسلمانوں کو مال کی حاجت ہے ضرورت ہے تو پھر کفار کے قیدیوں کو بھی مال کے بدلے ازاد کیا جا سکتا ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ کفار کے قیدیوں کو احسان کرتے ہوئے مفت میں چھوڑنا یعنی ان کے بدلے اپنے قیدی بھی رہا نہ کروائے جائیں اور ان سے مال بھی نہ لیا جائے، ویسے ہی کفار کے قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے احسان کرتے ہوئے، یہ جائز نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جائز ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے بھی غزوۂ بدر کے بعض قیدیوں کو ویسے ہی چھوڑ دیا تھا بغیر کسی عوض کے بھئی، تو لہٰذا یہ جائز ہے لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، اللہ تعالی قران میں فرماتے ہیں: ”فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ“ کہ تم مشرکین کو قتل کرو جہاں کہیں بھی تم پاؤ اور اس ایت کے ذریعے وہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ یہ ایت بعد میں نازل ہوئی ہے اور اس کے اندر مطلقاً مشرکین کے قتل کا حکم دیا گیا ہے، معلوم ہوا مشرکین پر احسان کرنا جائز نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں ا گئی۔ اب ائیے اج کے سبق پر: ”وَإِذَا أَرَادَ الْإِمَامُ الْعَوْدَ وَمَعَهُ مَوَاشٍ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَى نَقْلِهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ ذَبَحَهَا وَحَرَّقَهَا، وَلَا يَعْقِرُهَا وَلَا يَتْرُكُهَا“. بھئی صورت یہ ہے کہ امام جہاد کے بعد اب دار الاسلام واپس انا چاہتا ہے اور مالِ غنیمت میں اور چیزوں کے ساتھ ساتھ بہت سارے مویشی بھی ہیں، مثلاً بہت ساری بھیڑ بکریاں ہیں، گائے بیل وغیرہ ہیں یا بہت سارے اونٹ ہیں اور امام ان کو دار الاسلام منتقل کرنے پر قادر نہیں ہے اتنے زیادہ مویشی ہیں، تو پھر ان کا کیا کیا جائے؟ کیا ان کو کفار کے لیے وہیں پر چھوڑ دیا جائے؟ تو اپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ نہیں، ان مویشیوں کو امام ذبح کر دے اور پھر ان کو جلا دے۔ ذبح کر دے اور جلا دے، ذبح کر دے تاکہ یہ زندہ کفار کے پاس باقی نہ رہیں اور پھر ان کو جلا دے تاکہ ذبح کے بعد بھی ان کا گوشت ان کے کام نہ ائے بھئی تاکہ ان کی قوت پوری طرح ٹوٹ جائے، ختم ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا أَرَادَ الْإِمَامُ الْعَوْدَ“ اور جب امام کا ارادہ ہو واپس لوٹنے کا ”وَمَعَهُ مَوَاشٍ“ اس حال میں کہ اس کے پاس بہت سے مویشی ہیں ”فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَى نَقْلِهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“ تو امام قادر نہیں ہے اس بات پر کہ ان مویشیوں کو منتقل کر لے دار الاسلام ”ذَبَحَهَا“ تو امام ان مویشیوں کو ذبح کر دے ”وَحَرَّقَهَا“ اور ان کو جلا دے ”وَلَا يَعْقِرُهَا وَلَا يَتْرُكُهَا“. عقر یعقر بھئی، بھئی عرب کا طریقہ تھا کہ وہ جب اونٹ کو ذبح کرنے لگتے تھے تو پہلے اس کے گھٹنوں پر تلوار مارتے تاکہ اونٹ گر جائے اور اسانی سے قابو میں ا جائے تو اس کو عقر کہتے ہیں: عقر یعقر عقراً۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَعْقِرُهَا وَلَا يَتْرُكُهَا“ اور امام ان مویشیوں کا عقر نہ کرے یعنی ان کو اس طرح زخمی کر کے چھوڑ کر نہ ائے بھئی، اس لیے کیونکہ یہ تو ظلم ہے بھئی اور یہ تو مثلہ ہے بھئی، تو لہٰذا ان کا عقر نہ کرے بلکہ ذبح کر کے جلا دے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَعْقِرُهَا“ اور ان حیوانات کو وہ زخمی نہ کرے ”وَلَا يَتْرُكُهَا“ اور ان کو وہاں نہ چھوڑے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَتْرُكُهَا؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ "نَهَى عَنْ ذَبْحِ الشَّاةِ إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ"“. اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان حیوانات کو امام وہیں چھوڑ دے گا، ان کو وہیں چھوڑ کر ا جائے ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَهَى عَنْ ذَبْحِ الشَّاةِ إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے کھانے کے علاوہ بھیڑ بکریوں کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کھانے کے علاوہ بھیڑ بکریوں کو ذبح کرنے سے حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے لہٰذا ان کو ویسے ذبح نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَهَى عَنْ ذَبْحِ الشَّاةِ إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ“، مأکلة، مأکلة کھانے کو کہتے ہیں بھئی، وہ کھانا جس کو کھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اس کو مأکلہ کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَهَى عَنْ ذَبْحِ الشَّاةِ إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے کھانے کے علاوہ بھیڑ بکریوں کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور یاد رکھنا، یہاں پر ایا ”عَنْ ذَبْحِ الشَّاةِ“، ایک ہے ذَبْح ذال کے فتحہ کے ساتھ اور ایک ہے ذِبْح ذال کے کسرہ کے ساتھ، تو ذال کے فتحہ کے ساتھ یعنی ذَبْح یہ مصدر ہے، اس کا معنی ہے ذبح کرنا اور حدیث میں بھی یہی لفظ ہے بھئی۔ اور ایک ہے ذِبْح ذال کے کسرہ کے ساتھ، یاد رکھو ذِبْح اس ذبح کیے جانے والے جانور کو کہتے ہیں یعنی اس ذبیحے کو کیا کہتے ہیں؟ ذِبْح، تو یہاں اپ نے ذال کے فتحہ کے ساتھ پڑھنا ہے۔ اگے دیکھیے: ”وَلَنَا أَنَّ ذَبْحَ الْحَيَوَانِ يَجُوزُ لِغَرَضٍ صَحِيحٍ، وَلَا غَرَضَ أَصَحُّ مِنْ كَسْرِ شَوْكَةِ الْأَعْدَاءِ، ثُمَّ يُحَرَّقُ بِالنَّارِ لِيَنْقَطِعَ مَنْفَعَتُهُ عَنِ الْكُفَّارِ، وَصَارَ كَتَخْرِيبِ الْبُنْيَانِ، بِخِلَافِ التَّحْرِيقِ قَبْلَ الذَّبْحِ؛ لِأَنَّهُ مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَبِخِلَافِ الْعَقْرِ؛ لِأَنَّهُ مُثْلَةٌ“. اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ ذَبْحَ الْحَيَوَانِ يَجُوزُ لِغَرَضٍ صَحِيحٍ“ کہ حیوان کو ذبح کرنا کسی صحیح مقصد کے لیے جائز ہے ”وَلَا غَرَضَ أَصَحُّ مِنْ كَسْرِ شَوْكَةِ الْأَعْدَاءِ“ اور کوئی غرض زیادہ صحیح نہیں ہو سکتی دشمن کی قوت توڑنے سے۔ دشمن کی طاقت توڑنا یہ سب سے صحیح غرض ہے لہٰذا ان کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔ ”ثُمَّ يُحَرَّقُ بِالنَّارِ“ پھر ان کو اگ سے جلا دیا جائے گا ”لِيَنْقَطِعَ مَنْفَعَتُهُ عَنِ الْكُفَّارِ“ تاکہ ان کا نفع کفار سے ختم ہو جائے، کفار ان سے کسی قسم کا نفع نہ اٹھا سکیں ”وَصَارَ كَتَخْرِيبِ الْبُنْيَانِ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے عمارتیں گرانا۔ تخریب کا معنی ہے گرانا اور برباد کرنا اور بنیان عمارت کو کہتے ہیں، جیسے جہاد کے اندر اپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ دشمن پر منجنیقوں سے پتھر بھی برسائے جا سکتے ہیں، ان پر دریا کا پانی بھی چھوڑا جا سکتا ہے، ان کے درختوں اور فصلوں کو بھی جلایا جا سکتا ہے اور کاٹا جا سکتا ہے، اسی طرح ان کے مکانات اور درختوں وغیرہ کو جلایا بھی جا سکتا ہے تاکہ ان کی قوت ٹوٹ جائے تو یہاں پر بھی یہ حیوانات کو ذبح کرنا اور جلا دینا یہ اسی طرح ہے جیسے ان کی عمارتوں کو گرانا۔ اور جیسے ان کی عمارتوں کو گرانا جائز ہے اسی طرح ان کے حیوانات کو ذبح کر کے جلانا بھی جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَتَخْرِيبِ الْبُنْيَانِ“ تو یہ عمارتوں کو گرانے اور برباد کرنے کی طرح ہو گیا ”بِخِلَافِ التَّحْرِيقِ قَبْلَ الذَّبْحِ“ بخلاف ذبح سے پہلے جلانا، ذبح سے پہلے نہیں ان کو جلایا جا سکتا بھئی اس لیے کیونکہ کسی بھی چیز کو اگ کا عذاب دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اگ کا عذاب دینے سے شریعت نے منع کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ التَّحْرِيقِ قَبْلَ الذَّبْحِ“ بخلاف ذبح کرنے سے پہلے جلانے کے ”لِأَنَّهُ مَنْهِيٌّ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے ”وَبِخِلَافِ الْعَقْرِ“ اور بخلاف زخمی کرنے کے، میں نے بتایا عقر کا کیا معنی ہے؟ وہ جو تلوار چلا کر اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی جاتی تھی وہ نہیں کیا جائے گا۔ کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ الْعَقْرِ“ اور بخلاف ٹانگ کاٹنے کے ”لِأَنَّهُ مُثْلَةٌ“ کیونکہ وہ مثلہ ہے اور مثلہ بھی حرام ہے، حضور علیہ السلام نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ”وَتُحَرَّقُ الْأَسْلِحَةُ أَيْضًا، وَمَا لَا يَحْتَرِقُ مِنْهَا يُدْفَنُ فِي مَوْضِعٍ لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الْكُفَّارُ إِبْطَالًا لِلْمَنْفَعَةِ عَلَيْهِمْ“. اور اسلحے کو بھی جلا دیا جائے گا۔ اسلحے کو بھی جلا دیا جائے گا، اپ کہیں گے بھئی اسلحہ تو لوہے کا ہوتا ہے اس کو کیسے جلایا جائے گا؟ نہیں بھئی قدیم زمانے میں سارا اسلحہ لوہے کا نہیں ہوتا تھا بلکہ تیر کمان دیکھو یہ تیر کمان لکڑی کے ہوتے تھے، اسی طرح نیزے ہوتے تھے وہ بھی لکڑی کے ہوتے تھے تو اس طرح کی جو چیزیں ہیں اسلحے کے اندر جن کو اگ سے جلایا جا سکتا ہے ان کو جلا دیا جائے گا اگر امام اس کو منتقل نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ لوہے کی چیزیں ہیں جنہیں جلایا نہیں جا سکتا مثلاً تلواریں وغیرہ ہیں یا اور چیزیں اور امام ان کو منتقل نہیں کر سکتا تو کہتے ہیں پھر ان کو زمین میں کسی ایسی جگہ دفن کر دیا جائے گا کہ کفار کو اس کا پتہ نہ ہو بھئی تاکہ یہ ان کے کام نہ ائیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتُحَرَّقُ الْأَسْلِحَةُ أَيْضًا“ اسلحہ جمع ہے سلاح کی، سلاح اسلحے کو کہتے ہیں، تو کہتے ہیں: ”وَتُحَرَّقُ الْأَسْلِحَةُ أَيْضًا“ اور اسلحے کو بھی جلا دیا جائے گا ”وَمَا لَا يَحْتَرِقُ مِنْهَا“ اور وہ اسلحہ جو ان میں سے جل نہیں سکتا ”يُدْفَنُ فِي مَوْضِعٍ لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الْكُفَّارُ“ اس کو دفن کر دیا جائے گا ایسے مقام پر کہ کفار اس پر مطلع نہ ہوں، کفار کو اس کا علم نہ ہو ”إِبْطَالًا لِلْمَنْفَعَةِ عَلَيْهِمْ“ ان پر نفع کو باطل کرنے کے لیے تاکہ کفار اس اسلحے سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اگے دیکھیے: ”وَلَا يَقْسِمُ غَنِيمَةً فِي دَارِ الْحَرْبِ حَتَّى يُخْرِجَهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، وَأَصْلُهُ: أَنَّ الْمِلْكَ لِلْغَانِمِينَ لَا يَثْبُتُ قَبْلَ الْإِحْرَازِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ عِنْدَنَا، وَعِنْدَهُ يَثْبُتُ، وَيَبْتَنِي عَلَى هَذَا الْأَصْلِ عِدَّةٌ مِنَ الْمَسَائِلِ ذَكَرْنَاهَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهِي“. یہاں سے دوسری بحث شروع ہو رہی ہے اس باب کی۔ یہ باب ہم نے شروع کیا تھا ”بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا“، شروع کے اندر صاحبِ ہدایہ نے اپ کو بتلایا کہ غنیمت دو قسم کی ہے: کچھ عقار ہے اور کچھ منقولی چیزیں ہیں اور ان کا کیا حکم ہے وہ بھی بیان کر دیا، اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بیان فرمایا کہ قیدیوں کے اندر امام کو اختیار ہے ان کو قتل بھی کر سکتا ہے، قیدی بھی بنا سکتا ہے اور ان کو ذمی بھی بنا سکتا ہے اور پھر یہ بھی بتلایا کہ مسلمان قیدیوں کو کفار قیدیوں کے بدلے ازاد کروانا جائز ہے اور یہ بھی بتلایا کہ احسان کرتے ہوئے ان کفار کے قیدیوں کو مفت میں ویسے ہی چھوڑنا جائز نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں ا گئی۔ اب اس باب کی دوسری بحث شروع ہو رہی ہے بھئی۔ اس کے اندر یہ بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ غنیمت کو کہاں تقسیم کیا جائے گا؟ بھئی یاد رکھو عند الاحناف غنیمت کو دار الاسلام منتقل کرنے کے بعد تقسیم کیا جائے گا۔ غنیمت کو دار الاسلام منتقل کرنے کے بعد مجاہدین میں تقسیم کیا جائے گا۔ تو اب وہ بیان کرنے لگے ہیں: کہتے ہیں: ”وَلَا يَقْسِمُ غَنِيمَةً فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور امام جو ہے غنیمت کو دار الحرب میں تقسیم نہیں کرے گا ”حَتَّى يُخْرِجَهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“ یہاں تک کہ اس کو نکال لائے دار الاسلام کی طرف۔ جب امام مالِ غنیمت کو دار الاسلام لے ائے تو پھر یہاں تقسیم کرے گا۔ اور یہ یاد رکھنا، یہ حکم اس وقت ہے جب مسلمانوں نے اس علاقے اور شہر وغیرہ پر قبضہ نہیں کیا، مسلمان واپس چلے جائیں گے تو اب واپس جانے کے بعد مالِ غنیمت تقسیم کیا جائے گا لیکن اگر مسلمانوں نے ایک علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، شہر وغیرہ کو فتح کر لیا ہے اور اس علاقے کو مملکتِ اسلامیہ میں داخل کر لیا ہے تو اب یہ سارا دار الاسلام بن چکا ہے لہٰذا یہیں پر اب غنیمت کو تقسیم کیا جا سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں امام تقسیم نہیں کر سکتا مالِ غنیمت کو ”حَتَّى يُخْرِجَهَا إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“ یہاں تک کہ اس کو دار الاسلام نکال لائے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، امام وہیں پر دار الحرب میں ہی مالِ غنیمت تقسیم کر سکتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ”وَأَصْلُهُ: أَنَّ الْمِلْكَ لِلْغَانِمِينَ لَا يَثْبُتُ قَبْلَ الْإِحْرَازِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ عِنْدَنَا، وَعِنْدَهُ يَثْبُتُ“. اور اس اختلاف کی اصل جو ہے وہ یہ ہے کہ ان الملک للغانمین، بھئی یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جب مجاہدین کے ہاتھ مالِ غنیمت ا جائے تو وہیں دار الحرب میں ہی مجاہدین اس کے مالک بن گئے ہیں جبکہ عند الاحناف مجاہدین کا مالِ غنیمت کے اندر صرف حق ایا ہے، جب وہ اس کو دار الاسلام منتقل کریں گے پھر مالک بنیں گے، بات سمجھ میں ا گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَصْلُهُ“ اور اس اختلاف کی جو اصل ہے وہ یہ ہے ”أَنَّ الْمِلْكَ لِلْغَانِمِينَ لَا يَثْبُتُ قَبْلَ الْإِحْرَازِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ عِنْدَنَا“ کہ غنیمت والوں کے لیے ملکیت وہ ثابت نہیں ہوتی دار الاسلام میں محفوظ کرنے سے پہلے ہمارے نزدیک۔ ہمارے نزدیک مجاہدین کی ملکیت کب ثابت ہوگی مالِ غنیمت میں؟ جب اس مال کو دار الاسلام میں محفوظ کر لیا جائے گا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَأَصْلُهُ“ اور اس اختلاف کی اصل یہ ہے ”أَنَّ الْمِلْكَ لِلْغَانِمِينَ لَا يَثْبُتُ“ کہ غنیمت حاصل کرنے والوں کے لیے ملکیت ثابت نہیں ہوتی ”قَبْلَ الْإِحْرَازِ بِدَارِ الْإِسْلَامِ عِنْدَنَا“ دار الاسلام کے اندر محفوظ کرنے سے پہلے ہمارے نزدیک ”وَعِنْدَهُ يَثْبُتُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ملکیت ثابت ہو جاتی ہے یعنی دار الاسلام منتقل کرنے سے پہلے ہی مجاہدین کے لیے اس مالِ غنیمت میں ملکیت ثابت ہو جاتی ہے۔ ”وَيَبْتَنِي عَلَى هَذَا الْأَصْلِ عِدَّةٌ مِنَ الْمَسَائِلِ ذَكَرْنَاهَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهِي“. صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَيَبْتَنِي عَلَى هَذَا الْأَصْلِ“ اور اسی اصل پر بنیاد ہے ”عِدَّةٌ مِنَ الْمَسَائِلِ“ کئی مسائل کی ”ذَكَرْنَاهَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهِي“ جن کو ہم نے کفایۃ المنتہی میں ذکر کیا ہے۔ یہ جو ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے، ہمارے نزدیک مجاہدین جب مالِ غنیمت کو دار الاسلام لائیں گے تب مالک بنیں گے اور ان کے نزدیک دار الحرب میں ہی مجاہدین اس مال کے مالک بن گئے ہیں، اس اختلاف پر کئی مسائل متفرع ہوتے ہیں کہتے ہیں جن کو ہم نے کفایۃ المنتہی میں ذکر کیا ہے بھئی۔ جیسے محشی حضرات ذکر فرماتے ہیں کہ مثلاً غنیمت والوں میں سے کوئی ایک جو ہے اس نے کسی قیدی باندی کے ساتھ صحبت کر لی اور اس قیدی باندی سے اگے اولاد پیدا ہوئی اور پھر اس شخص نے اس بچے کے نسب کا دعویٰ کر دیا تو ہمارے نزدیک نسب ثابت نہیں ہوگا کیونکہ ملکیت ہی ثابت نہیں ہے، بغیر ملکیت کے باندی کے اولاد کے اندر نسب ثابت نہیں ہو سکتا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس باندی کے اندر تمام غنیمت والوں کا حصہ ا چکا ہے لہٰذا یہ صحبت کرنے والے کا بھی حصہ ہے تو جب اس کی ملکیت باندی میں موجود ہے تو نسب ثابت ہو جائے گا اور یہ بچہ ازاد شمار ہوگا جبکہ ہمارے نزدیک نسب ثابت نہیں ہے لہٰذا یہ بچہ جو ہے یہ بھی مالِ غنیمت کے اندر ہی شمار ہوگا اور جیسے اس باندی کے اندر تمام غنیمت والوں کا حق ہے اسی طرح اس بچے کے اندر بھی تمام غنیمت والوں کا حق ہوگا۔ نیز اسی اختلاف پر مبنی ہے کہ امام یا مسلمانوں میں سے کوئی شخص اگر مالِ غنیمت میں سے کوئی چیز بیچتا ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے کیونکہ ان کی ملکیت اس کے اندر ا چکی ہے اور ہمارے نزدیک جائز نہیں کیونکہ ملکیت نہیں ائی، کوئی شخص اپنی مملوکہ چیز تو بیچ سکتا ہے کسی دوسرے کی چیز نہیں بیچ سکتا تو ہمارے نزدیک یہ بیچنا جائز نہیں ہوگا۔ نیز اسی طرح اگر غازیوں میں سے کسی کا انتقال دار الحرب میں ہی ہو جائے تو اس کا حصہ اس کے وارثوں کو نہیں ملے گا ہمارے نزدیک کیونکہ ابھی تک وہ اپنے حصے کا مالک ہی نہیں بنا تھا، صرف اس کا حق ایا تھا مال میں لیکن وہ مالک نہیں بنا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مالک بن چکا ہے لہٰذا اس کے حصے میں وراثت جاری ہوگی بھئی۔ اور نیز کہتے ہیں اسی طرح اگر کچھ اور مجاہدین مدد کو ا گئے دار الاسلام سے تو ہمارے نزدیک وہ بھی اس مالِ غنیمت میں شریک ہو جائیں گے اس لیے کیونکہ مالِ غنیمت ابھی کسی کا بھی مملوکہ نہیں ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اگر اور مجاہدین ا کر مل گئے تو ان کا اس مالِ غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا کیونکہ پہلے سے جو مجاہدین موجود ہیں وہ اس کے مالک بن چکے ہیں بھئی۔ اور کہتے ہیں نیز اسی طرح اگر ان مجاہدین میں سے کسی نے اس مالِ غنیمت میں سے کوئی چیز تلف کر دی تو ہمارے نزدیک ضمان نہیں ائے گا کیونکہ اس کا کوئی مسلمان بھی ان کا ابھی مالک ہی نہیں بنا جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مسلمان مجاہدین اس کے مالک بن چکے ہیں لہٰذا اس شخص پر ضمان ائے گا بھئی۔ تو ان مسائل کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ”وَيَبْتَنِي عَلَى هَذَا الْأَصْلِ“ اور اسی اصل پر اسی ضابطے پر بنیاد ہے ”عِدَّةٌ مِنَ الْمَسَائِلِ“ کئی مسائل کی ”ذَكَرْنَاهَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهِي“ جن کو ہم نے کفایۃ المنتہی میں ذکر کیا ہے۔ اپ جانتے ہیں بھئی، صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ میں نے اس متن کی جو پہلی شرح لکھی اس کا نام کفایۃ المنتہی ہے اور وہ اسی جلدوں پر مشتمل ہے لیکن چونکہ وہ بہت طویل ہو گئی تھی لہٰذا میں نے ان کا خلاصہ لکھا چار جلدوں کے اندر اور اس کا نام میں نے ہدایہ رکھا بھئی، تو یہ وہ کفایۃ المنتہی کتاب ہے صاحبِ ہدایہ کی۔ ”لَهُ: أَنَّ سَبَبَ الْمِلْكِ الِاسْتِيلَاءُ إِذَا وَرَدَ عَلَى مَالٍ مُبَاحٍ كَمَا فِي الصُّيُودِ، وَلَا مَعْنَى لِلِاسْتِيلَاءِ سِوَى إِثْبَاتِ الْيَدِ وَقَدْ تَحَقَّقَ“. لہ، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل بھئی۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجاہدین دار الحرب کے اندر ہی مالِ غنیمت کے مالک بن گئے ہیں، اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”لَهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ سَبَبَ الْمِلْكِ الِاسْتِيلَاءُ“ استیلاء کا معنی ہے کسی چیز پر قبضہ کرنا، کسی چیز پر غلبہ پا لینا۔ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”أَنَّ سَبَبَ الْمِلْكِ الِاسْتِيلَاءُ“ کہ ملکیت کا سبب وہ غلبہ ہے اور ان مجاہدین نے ان اموال پر غلبہ پا لیا ہے، ان پر قبضہ کر لیا ہے تو یہ مالک بن گئے، کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے شکار ہے۔ شکار کو جو شخص پکڑ لیتا ہے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے تو اسی طرح اس مال پر بھی ان مجاہدین نے قبضہ کیا تو یہ اس کے مالک بن گئے ہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ سَبَبَ الْمِلْكِ الِاسْتِيلَاءُ“ کہ ملکیت کا سبب جو ہے وہ غلبہ اور قبضہ ہے ”إِذَا وَرَدَ عَلَى مَالٍ مُبَاحٍ“ جب وہ قبضہ وارد ہو جائے مالِ مباح پر۔ مباح مال پر جب قبضہ ا جائے، غلبہ ا جائے تو انسان اس کا مالک بن جاتا ہے جیسے شکار سب کے لیے مباح تھا اس پر شکاری کا قبضہ ا گیا تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے تو کہتے ہیں: ”إِذَا وَرَدَ عَلَى مَالٍ مُبَاحٍ“ جب قبضہ ا جائے مالِ مباح پر ”كَمَا فِي الصُّيُودِ“ جیسے کہ شکار کے اندر ہے۔ صیود جمع ہے صید کی، شکار کو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي الصُّيُودِ“ جیسے کہ شکار کے اندر ہے ”وَلَا مَعْنَى لِلِاسْتِيلَاءِ سِوَى إِثْبَاتِ الْيَدِ“ اور غلبے کا اور کوئی معنی نہیں ہے سوائے قبضے کے ثابت کرنے کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ استیلاء کی وجہ سے ملکیت ثابت ہو جاتی ہے اور استیلاء جو ہے قبضے ہی کا نام ہے اور کسی چیز کا نام نہیں تو جب مجاہدین نے مال پر قبضہ کر لیا تو ان کا استیلاء ا گیا اور جب استیلاء ا گیا تو اب اس مال کے مالک بن گئے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مَعْنَى لِلِاسْتِيلَاءِ“ استیلاء کا یہاں معنی کر لیں غلبے کے، غلبے کے، ”وَلَا مَعْنَى لِلِاسْتِيلَاءِ“ اور غلبے کا اور کوئی معنی نہیں ہے ”سِوَى إِثْبَاتِ الْيَدِ“ سوائے قبضے کے ثابت کرنے کے ”وَقَدْ تَحَقَّقَ“ اور تحقیق یہ استیلاء تو پایا گیا ہے، یہ غلبہ تو پایا گیا ہے لہٰذا یہ مالک بن گئے۔ ”وَلَنَا: أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ "نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ"“. اور ہماری دلیل جو ہے ”أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دار الحرب کے اندر غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دار الحرب کے اندر غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ اپ بھی حیران ہوں گے کہ یہ کیسی عجیب دلیل ہے! بحث یہ چل رہی ہے کہ ہمارے نزدیک امام دار الحرب میں مالِ غنیمت تقسیم نہیں کر سکتا اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مالِ غنیمت تقسیم کر سکتا ہے کیونکہ مجاہدین کی ملکیت اس کے اندر ا چکی ہے بھئی، اور دلیل کے طور پر صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے دار الحرب میں غنیمت کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، تو بھئی اس دلیل کو سمجھ لیں بھئی۔ بھئی یاد رکھو جب بھی مشترکہ چیز کو تقسیم کیا جاتا ہے تو وہاں مبادلہ بھی ہوتا ہے اور افراز بھی ہوتا ہے۔ افرز یفرز افراز کا معنی ہے اپنا حصہ الگ کر دینا اور مبادلے کا معنی ہوتا ہے کہ اپنا کچھ حصہ دوسرے کو دے کر اس کا حصہ لے لینا۔ مثلاً دیکھو زید اور عمرو دونوں نے مل کر دو بکریاں خریدیں، دونوں نے پیسے ملائے اور دو بکریاں خرید لیں، اب یاد رکھو ان میں سے ہر بکری دونوں کے درمیان مشترکہ ہے۔ انہوں نے تقسیم نہیں کیا ابھی کہ یہ بکری تمہاری ہے اور یہ بکری میری ہے تو یہ دونوں بکریاں دونوں کے اندر مشترکہ ہیں۔ پہلی بکری ہے اس کے اندر زید کا بھی حصہ اور عمرو کا بھی حصہ، دوسری بکری ہے اس کے اندر بھی زید کا بھی حصہ اور عمرو کا بھی حصہ۔ پھر یہ دونوں اس کو اپس میں تقسیم کرتے ہیں، تو یہاں جب تقسیم آئے گی، تو یاد رکھو وہاں افراز بھی آئے گا اور مبادلہ بھی آئے گا۔ مثلاً ایک بکری زید نے لے لی کہ یہ میری ہو گئی، اور ایک بکری عمرو نے لے لی کہ یہ بکری میری ہو گئی۔ تو یہاں انہوں نے دیکھو مال مشترکہ کو تقسیم کیا۔ اب دیکھو زید کے حصے میں جو بکری آئی، کیا یہ ساری بکری زید کی تھی یا اس کے اندر عمرو کا بھی حصہ تھا؟ ظاہر سی بات ہے اس بکری میں عمرو کا بھی حصہ تھا۔ اسی طرح عمرو کے حصے میں جو بکری آئی ہے، اس کے اندر عمرو کا بھی حصہ تھا اور زید کا بھی حصہ تھا۔ تو زید نے جب ایک بکری لے لی، تو اس بکری کے اندر کچھ حصہ تھا ہی زید کا، تو گویا اس حصے کو زید نے الگ کر لیا کہ یہ حصہ میرا ہے، اور نیز کچھ حصہ عمرو کا بھی تھا اس بکری میں، تو زید نے دوسری بکری کے اندر جو اپنا حصہ تھا وہ عمرو کو دے دیا اور اس بکری میں جو عمرو کا حصہ تھا وہ اس کے بدلے میں لے لیا۔ توجہ ہے؟ اس بکری کے اندر کچھ حصہ تھا ہی زید کا، زید نے اس کو الگ کر لیا، اس کو کہتے ہیں افراز، اپنا حصہ کیا کر لیا؟ الگ کر لیا، لیکن اسی بکری کے اندر عمرو کا بھی تو حصہ تھا، تو زید نے وہ عمرو کا حصہ بھی لے لیا اور بدلے میں دوسری بکری کے اندر جو زید کا حصہ تھا وہ اس نے عمرو کو دے دیا۔ تو اس کو کہتے ہیں مبادلہ کہ کچھ حصے میں کیا کر لیا آپس میں؟ مبادلہ کر لیا اور کچھ حصے میں افراز ہو گیا کہ اپنا حصہ علیحدہ کر لیا۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا جب بھی مشترکہ چیز دو آدمیوں کے درمیان تقسیم ہو گی تو وہاں افراز بھی ہو گا اور مبادلہ بھی۔ افراز اس لیے کیونکہ کچھ حصہ تو تھا ہی اسی آدمی کا گویا اس کو اس نے الگ کر لیا، اور مبادلہ اس لیے کہ اسی چیز میں دوسرے آدمی کا بھی تو حصہ تھا تو اس آدمی نے وہ حصہ لے کر دوسری چیز میں جو اپنا حصہ تھا وہ دوسرے کو دے دیا، تو گویا آپس میں دونوں نے مبادلہ کر لیا، تو مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ پایا گیا۔ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ پایا گیا اور آپ جانتے ہیں کہ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ کو بیع کہتے ہیں۔ بیع کے اندر بھی دو آدمی آپس میں مال کا تبادلہ کرتے ہیں، ایک شخص پیسے دیتا ہے تو دوسرا شخص وہ مبیع اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ تو لہٰذا جہاں بھی تقسیم کی جائے وہاں پر افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی، اور مبادلہ بھی بیع ہے، گویا تقسیم کے اندر بیع پائی جا رہی ہے اور حضور علیہ السلام نے تو دار الحرب میں بیع کرنے سے منع کیا ہے، تو لہٰذا دار الحرب میں تقسیم بھی منع ہو گا کیونکہ تقسیم کے ضمن میں تو بیع پائی جا رہی ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَلَنَا أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ کہ حضور علیہ السلام نے غنیمت کو بیچنے سے منع فرمایا ہے دار الحرب میں، وَالْخِلَافُ ثَابِتٌ فِيهِ اور اس بیع کے اندر بھی اختلاف ثابت ہے، یعنی اس میں بھی ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک دار الحرب میں بیع جائز نہیں اور ان کے نزدیک یہ مجاہدین اس مال غنیمت کے مالک بن چکے ہیں، لہٰذا ان کے لیے بیع جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْخِلَافُ ثَابِتٌ فِيهِ اور اختلاف اس بیع کے اندر بھی ثابت ہے، وَالْقِسْمَةُ بَيْعٌ مَعْنًى اور تقسیم جو ہے یہ بھی معنی کے اعتبار سے بیع ہے، فَتَدْخُلُ تَحْتَهُ لہٰذا یہ تقسیم بھی بیع کے تحت داخل ہے، اور بیع سے تو حضور نے منع کیا ہے، لہٰذا تقسیم بھی ممنوع ہو گی بھئی۔ وَلِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ إِثْبَاتُ الْيَدِ الْحَافِظَةِ وَالنَّاقِلَةِ یہاں سے دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ مجاہدین نے اس مال غنیمت پر استیلاء کر لیا ہے یعنی اس پر غلبہ حاصل کر لیا ہے تو اب وہ اس کے مالک بن گئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نہیں، استیلاء تب ہو گا جب حفاظت والا قبضہ بھی آ جائے اور جب اور تصرفات والا قبضہ بھی آ جائے، اور یہ جو مال غنیمت ہے جو ابھی دار الحرب ہی کے اندر ہے، اس کے اندر مجاہدین کا حفاظت والا قبضہ تو آ گیا ہے لیکن دیگر تصرفات والا قبضہ ابھی بھی نہیں آیا۔ بھئی یاد رکھو قبضہ دو قسم پر ہے: ایک ہے حفاظت والا قبضہ اور ایک ہے تصرفات والا قبضہ۔ مثلاً ایک چیز آپ ایک آدمی کے پاس امانت رکھواتے ہیں تو یہ چیز اب اس آدمی کے قبضے میں ہے لیکن اس کا یہ قبضہ حفاظت والا ہے، وہ اس چیز کے اندر اور تصرفات نہیں کر سکتا، وہ اس کو بیچ نہیں سکتا، وہ کسی کو ہبہ نہیں کر سکتا، لیکن جو مالک ہے اس کا اپنی مملوکہ چیز پر جو قبضہ ہوتا ہے وہ حفاظت والا قبضہ بھی ہوتا ہے اور تصرفات والا قبضہ بھی ہوتا ہے، مالک چاہے تو اپنی اس چیز کو بیچ دے یا کسی کو ہبہ کر دے، جس طرح کا وہ تصرف اس میں کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا قبضے دو قسم کے ہیں: ایک حفاظت والا قبضہ اور ایک تصرفات والا قبضہ۔ اور استیلاء یعنی کسی چیز پر غلبہ، توجہ ہے؟ ہماری دلیل چل رہی ہے، استیلاء یعنی کسی چیز پر غلبہ جو ہے اس وقت ہو گا جب حفاظت والا قبضہ بھی ہو اور تصرفات والا قبضہ بھی ہو، لیکن یہ جو مجاہدین نے مال غنیمت پر قبضہ کیا ہے یہاں حفاظت والا قبضہ تو ہے لیکن تصرفات والا قبضہ ابھی بھی نہیں آیا، کیونکہ ہو سکتا ہے دشمن پھر پلٹ کر حملہ کرے اور یہ سارا مال ہم سے چھین لے۔ یہ سارا مال ہم سے چھین لے، لہٰذا معلوم ہوا ابھی تصرفات والا قبضہ نہیں ہوا، ہو سکتا ہے دشمن ہم سے یہ چیز واپس لے لے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ إِثْبَاتُ الْيَدِ الْحَافِظَةِ وَالنَّاقِلَةِ اور اس لیے کیونکہ استیلاء یعنی غلبہ جو ہے إِثْبَاتُ الْيَدِ الْحَافِظَةِ وہ حفاظت والے قبضے کو ثابت کرنا ہے وَالنَّاقِلَةِ اور نقل کرنے والے قبضے کو ثابت کرنا ہے۔ ایک ہے ید حافظہ، حفاظت والا قبضہ اور ایک ہے ید ناقلہ، نقل کرنے والا قبضہ یعنی جس میں ہر طرح کا تصرف انسان کو مل جاتا ہے، وہ چیز کو اپنی ملکیت سے دوسرے شخص کی ملکیت کی طرف منتقل کر سکتا ہے بیع یا ہبہ وغیرہ کے ذریعے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الِاسْتِيلَاءَ إِثْبَاتُ الْيَدِ الْحَافِظَةِ وَالنَّاقِلَةِ اور اس لیے کیونکہ غلبہ جو ہے وہ ید حافظہ اور ید ناقلہ کو ثابت کرنے کا نام ہے، وَالثَّانِي مُنْعَدِمٌ اور ثانی یہاں معدوم ہے یعنی تصرف والا قبضہ یہاں نہیں ہے، لِقُدْرَتِهِمْ عَلَى الِاسْتِنْقَاذِ اس لیے کیونکہ وہ کفار قادر ہیں اس کو چھڑانے پر، کہ ہو سکتا ہے وہ پھر حملہ کریں اور یہ چیزیں ہم سے چھڑا لیں بھئی، وَوُجُودُهُ ظَاهِرٌ اور اس چھڑانے کا پایا جانا ظاہر ہے، کیونکہ دار الحرب کے اندر ہیں تو ظاہر یہ ہے کہ ابھی بھی وہ اس مال کو ہم سے چھڑا سکتے ہیں بھئی۔ لہٰذا معلوم ہوا ابھی تک استیلاء ثابت ہی نہیں ہوا، استیلاء تو تب ہو گا جب ید حافظہ کے ساتھ ساتھ ید ناقلہ بھی پایا جائے یعنی حفاظت کے قبضے کے ساتھ ساتھ دیگر تصرفات والا قبضہ بھی پایا جائے، تو معلوم ہوا ابھی تک استیلاء کامل نہیں، جب استیلاء کامل نہیں تو امام اس کو تقسیم بھی نہیں کر سکتا۔ آگے دیکھیے: ثُمَّ قِيلَ مَوْضِعُ الْخِلَافِ تَرَتُّبُ الْأَحْكَامِ عَلَى الْقِسْمَةِ بھئی یہاں سے بیان فرما رہے ہیں کہ یہ جو ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے کیا یہ جواز اور عدم جواز کا اختلاف ہے یا کراہت اور عدم کراہت کا اختلاف ہے؟ اگر یہ جواز اور عدم جواز کا اختلاف ہوا تو معلوم ہوا ہمارے نزدیک امام کا تقسیم کرنا جائز ہی نہیں اور ان کے نزدیک تقسیم کرنا جائز ہے، اور جب تقسیم کرنا جائز ہے تو پھر اس تقسیم پر اس کے احکام بھی مرتب ہوں گے۔ بھئی یاد رکھو جب ایک چیز جائز ہی نہیں ہے تو اس پر اس کے احکام بھی مرتب نہیں ہوں گے بھئی، جیسے خنزیر کی بیع جائز ہی نہیں ہے مسلمان کے لیے، لہٰذا اگر مسلمان ذمی کے ساتھ خنزیر کی بیع کرتا ہے تو یہ بیع جائز ہی نہیں، جب بیع جائز ہی نہیں ہے تو مشتری مبیع کا مالک بھی نہیں بنے گا۔ توجہ ہے؟ کیونکہ مالک بننا یہ بیع کا حکم ہے اور حکم تب آئے گا جب ایک چیز شرعاً جائز ہو۔ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں پر ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا جو اختلاف ہے وہ جواز اور عدم جواز کا ہے، ہمارے نزدیک امام کے لیے یہ تقسیم جائز ہی نہیں، جب تقسیم جائز ہی نہیں ہے تو مجاہدین اس کے مالک بھی نہیں بنیں گے، جب وہ مالک نہیں بنیں گے تو ان کے لیے ان چیزوں سے نفع اٹھانا بھی جائز نہیں ہو گا، وہ ان چیزوں کو بیچ نہیں سکتے، اگر کوئی باندی وغیرہ ہے تو اس کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتے بھئی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ چیزیں چونکہ جائز ہیں لہٰذا مجاہدین کے لیے بھی ان چیزوں سے نفع اٹھانا جائز ہو گا۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا جو اختلاف ہے وہ کراہت کے اندر ہے، ہمارے نزدیک اس مال غنیمت کو دار الحرب کے اندر تقسیم کرنا مکروہ ہے جبکہ ان کے نزدیک مکروہ نہیں ہے۔ تو جب ہمارے نزدیک یہ مکروہ ہے، معلوم ہوا جائز ہے البتہ مکروہ ہے، جب جائز ہے تو پھر اس صورت میں احکام مرتب ہوں گے یعنی مجاہدین کے لیے ان چیزوں سے نفع حاصل کرنا جائز ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ثُمَّ قِيلَ مَوْضِعُ الْخِلَافِ تَرَتُّبُ الْأَحْكَامِ عَلَى الْقِسْمَةِ پھر کہا گیا ہے اختلاف کا محل جو ہے وہ تقسیم پر احکام شرعیہ کا مرتب ہونا ہے، إِذَا قَسَمَ الْإِمَامُ لَا عَنِ اجْتِهَادٍ جب امام تقسیم کر دے بغیر اجتہاد کے، بغیر اجتہاد کے۔ بھئی دیکھیے دار الحرب میں مال غنیمت کو امام تقسیم کر سکتا ہے یا نہیں؟ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، معلوم ہوا اس مسئلے میں اجتہاد کی گنجائش ہے، بعض فقہاء ایک طرف گئے ہیں اور بعض فقہاء دوسری طرف، لہٰذا امام نے دار الحرب کے اندر مجاہدین کے اندر مال تقسیم کیا تو یہاں دو صورتیں ہوں گی: یا تو امام نے اجتہاد کیا ہو گا یا اجتہاد نہیں کیا۔ امام نے اجتہاد کیا، معنی یہ ہے کہ امام نے غور و فکر کیا اس کے اندر، امام نے اس معاملے میں غور و فکر کیا، شرعی دلائل میں غور کیا اور پھر اس کی رائے بن گئی کہ مال تقسیم کر دیتا ہوں، چنانچہ اس نے مال تقسیم کر دیا تو پھر اس صورت میں یاد رکھو جب اس نے اجتہاد کے بعد مال تقسیم کیا ہے تو مجاہدین اس مال کے مالک بن جائیں گے، کیونکہ اس مسئلے میں اجتہاد کی گنجائش ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں بھئی، لیکن اگر امام نے بغیر اجتہاد کے ویسے ہی مال تقسیم کر دیا، مال غنیمت ہاتھ آیا اور امام نے بغیر اجتہاد کے ویسے ہی تقسیم کر دیا تو پھر اس صورت میں یاد رکھو ہمارے نزدیک یہ تقسیم صحیح نہیں، یہ جائز نہیں، جب جائز نہیں تو اس پر ملکیت والے احکام بھی مرتب نہیں ہوں گے، مجاہدین کے لیے ان چیزوں سے نفع اٹھانا جائز نہیں، اگر کسی کے حصے میں باندی آئی ہے تو اس کے لیے اس باندی سے صحبت جائز نہیں ہے اور اگر کوئی اور مال اس کے حصے میں آیا ہے تو اس مال کو بیچنا جائز نہیں ہے، کیونکہ باندی سے صحبت تبھی جائز ہوتی ہے جب اس کے اندر ملکیت ہو اور کسی مال کو بیچنا تبھی جائز ہوتا ہے جب انسان اس کا مالک ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا ہمارے نزدیک اگر امام نے بغیر اجتہاد کے بیچا ہے تو ملکیت والے احکام ہی نہیں آئے لہٰذا ان سے نفع بھی نہیں اٹھایا جا سکتا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ملکیت والے احکام آ چکے ہیں لہٰذا وہ مجاہدین ان چیزوں سے نفع اٹھا سکتے ہیں۔ تو یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: ثُمَّ قِيلَ مَوْضِعُ الْخِلَافِ تَرَتُّبُ الْأَحْكَامِ عَلَى الْقِسْمَةِ پھر کہا گیا ہے کہ اختلاف کا جو محل ہے وہ تقسیم پر احکام شرعیہ کا مرتب ہونا ہے إِذَا قَسَمَ الْإِمَامُ لَا عَنِ اجْتِهَادٍ جب امام تقسیم کر دے بغیر اجتہاد کے، لِأَنَّ حُكْمَ الْمِلْكِ لَا يَثْبُتُ بِدُونِهِ اس لیے کیونکہ ملکیت کا حکم ثابت نہیں ہو سکتا بَدُوْنِهِ بغیر ملکیت کے۔ ملکیت کے بغیر ملکیت والا حکم نہیں ثابت ہو سکتا، ایک آدمی ایک چیز کا مالک بنے گا تو اس کے لیے اس سے نفع اٹھانا بھی جائز ہو گا، اگر ایک شخص ایک چیز کا مالک ہی نہیں بنا تو اس کے لیے نفع اٹھانا بھی جائز نہیں کیونکہ نفع اٹھانا یہ ملکیت کا حکم ہے۔ تو بغیر ملکیت کے ملکیت کا حکم ثابت نہیں ہو سکتا، یہ معنی ہے لِأَنَّ حُكْمَ الْمِلْكِ لَا يَثْبُتُ بِدُونِهِ، اس لیے کیونکہ ملکیت کا حکم بغیر ملکیت کے ثابت نہیں ہو سکتا، وَقِيلَ الْكَرَاهَةُ اور کہا گیا ہے کہ اختلاف کا محل کراہت ہے، وَهِيَ كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہ کراہت تنزیہی ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ آپ جانتے ہیں کہ کراہت دو قسم پر ہے: ایک کراہت تحریمی ہے اور ایک کراہت تنزیہی ہے، کراہت تنزیہی وہ ہے جو حلال کے قریب ہے، ناپسندیدہ ہے لیکن حلال ہے، اور ایک کراہت تحریمی ہے جو حرام کے زیادہ قریب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهِيَ كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہ کراہت تنزیہی ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، فَإِنَّهُ قَالَ اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ سیر کبیر میں فرماتے ہیں: عَلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى لَا تَجُوزُ الْقِسْمَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ کہ شیخین رحمہما اللہ کے قول پر دار الحرب میں تقسیم جائز نہیں ہے، امام محمد رحمہ اللہ سیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ شیخین رحمہما اللہ کے قول پر دار الحرب میں تقسیم جائز نہیں ہے، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ الْأَفْضَلُ أَنْ يَقْسِمَ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک افضل یہ ہے کہ امام دار الاسلام کے اندر غنیمت تقسیم کرے۔ افضل یہ ہے، معلوم ہوا دار الحرب میں بھی تقسیم کر سکتا ہے لیکن افضل یہ ہے کہ دار الاسلام میں غنیمت کو تقسیم کرے۔ تو کہتے ہیں: وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ الْأَفْضَلُ أَنْ يَقْسِمَ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک افضل یہ ہے کہ امام دار الاسلام میں غنیمت تقسیم کرے، وَوَجْهُ الْكَرَاهَةِ أَنَّ دَلِيلَ الْبُطْلَانِ رَاجِحٌ اور کراہت کی جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ باطل ہونے کی دلیل راجح ہے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں یہ جو ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے یہ جواز اور عدم جواز والا اختلاف نہیں ہے بلکہ کراہت والا اختلاف ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دار الحرب کے اندر امام مال غنیمت تقسیم کرے یہ مکروہ نہیں ہے اور ہمارے نزدیک مکروہ ہے، اور اس کی وجہ کیا ہے؟ اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں دیکھو یہاں دونوں طرف کی دلیلیں موجود ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل دی کہ یہ مال مباح ہے اور اس پر مسلمانوں نے غلبہ حاصل کر لیا ہے تو یہ مالک بن گئے ہیں لہٰذا یہاں اس کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ مالک بن چکے ہیں، یہ مال مشترکہ ہے تو اس کو وہ دار الحرب میں ہی تقسیم کر سکتے ہیں، تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل سے اس تقسیم کے مباح ہونے کا پتہ چلا کہ یہ تقسیم جائز ہے، اور ہماری دلیل جو ہم نے ذکر کر دی کہ حدیث کے اندر حضور علیہ السلام نے دار الحرب کے اندر مال غنیمت کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور نیز اس لیے کیونکہ ابھی تک غلبہ پورا نہیں ہوا ہو سکتا ہے کفار دوبارہ حملہ کر لیں اور ہم سے چھین لیں، تو ہماری دلیل سے اس تقسیم کی حرمت کا پتہ چلا، تو دونوں طرف کی دلیلیں آ گئیں، ایک دلیل سے تقسیم کی اباحت کا پتہ چل رہا ہے اور ایک دلیل سے تقسیم کے حرام ہونے کا پتہ چل رہا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جب ایک چیز کے اندر دونوں قسم کی دلیلیں آ جائیں، ایک دلیل مبیحہ ہے اور ایک دلیل محرم ہے حرام کرنے والی ہے تو محرم دلیل کو ترجیح ہوتی ہے۔ تو محرم دلیل کو ترجیح ہوتی ہے، وجہ یہ، وجہ یہ کہ اس کے اندر احتیاط زیادہ ہے۔ مثلاً ایک چیز ہے اور اس کے بارے میں دونوں قسم کی دلیلیں موجود ہیں، تو اگر آپ محرم دلیل کو ترجیح دے دیتے ہیں اور اس چیز کو حرام قرار دے دیتے ہیں، لیکن حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں کہ حقیقت میں یہ چیز حلال ہے یا حرام ہے، ہمارے پاس دلیلیں تو دونوں موجود ہیں لیکن یہ چیز حقیقت کے اعتبار سے حلال ہے یا حرام یہ تو اللہ ہی جانتے ہیں، تو مثلاً ہم نے حرمت والی دلیل کو ترجیح دے دی اور اس کو حرام قرار دے دیا لیکن ہو سکتا ہے حقیقت کے اعتبار سے یہ چیز حلال ہو، تو زیادہ سے زیادہ ایک حلال چیز کے استعمال سے ہم رک گئے، کوئی اور نقصان نہیں ہوا، لیکن اگر مبیح دلیل پر عمل کر لیا جائے اور اس چیز کو استعمال کر لیا جائے یا کھا لیا جائے اور ہو سکتا ہے وہ چیز حقیقت کے اندر حرام ہو تو دیکھو اس کے اندر ایک حرام چیز کا استعمال یا حرام چیز کا کھانا لازم آئے گا تو اس کے اندر دیکھو نقصان ہے۔ تو لہٰذا علماء فرماتے ہیں جب مبیح اور محرم دلیلیں جمع ہو جائیں تو محرم کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے۔ تو یہاں پر بھی دار الحرب کے اندر مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ چل رہا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل مبیحہ ہے اور ہماری دلیل محرم ہے، تو لہٰذا محرم کو ترجیح ہو گی۔ تو یہ معنی ہے: وَوَجْهُ الْكَرَاهَةِ أَنَّ دَلِيلَ الْبُطْلَانِ رَاجِحٌ اور کراہت کی وجہ جو ہے وہ یہ ہے کہ اس کے باطل ہونے کی دلیل راجح ہے، اس تقسیم کے باطل ہونے کی دلیل راجح ہے کیونکہ وہ محرم ہے، إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ عَنْ سَلْبِ الْجَوَازِ تقاعد کا معنی ہے کسی چیز کو چھوڑ دینا، یہاں اس کا معنی ہم کر لیں گے رک جانا، إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ عَنْ سَلْبِ الْجَوَازِ مگر یہ دلیل رک گئی، یہ دلیل رک گئی عَنْ سَلْبِ الْجَوَازِ جواز کی نفی سے، یعنی ہماری دلیل اس سے اس تقسیم کے باطل ہونے کا پتہ چل رہا ہے لیکن اس تقسیم کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ہمارے نزدیک بھی ضرورت اور حاجت کی صورت میں امام دار الحرب میں ہی مال غنیمت تقسیم کر سکتا ہے، اگر مجاہدین کو حاجت اور ضرورت ہے تو پھر دار الحرب میں بھی امام اس مال کو تقسیم کر سکتا ہے، تو لہٰذا ایک دلیل محرم تھی ایک دلیل مبیح تھی، محرم کو ترجیح ہو گئی لیکن پھر بھی محرم کی وجہ سے اس چیز کا حرام ہونا ثابت نہیں ہوا کیونکہ بہرحال محلل دلیل بھی تو موجود ہے، تو حرمت تو ثابت نہیں ہو سکی البتہ کم از کم پھر کراہت تو ضرور ثابت ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے کہ: وَوَجْهُ الْكَرَاهَةِ أَنَّ دَلِيلَ الْبُطْلَانِ رَاجِحٌ اور مکروہ ہونے کی وجہ جو ہے وہ یہ ہے کہ اس تقسیم کے باطل ہونے کی جو دلیل ہے وہ راجح ہے إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ عَنْ سَلْبِ الْجَوَازِ مگر یہ دلیل رک گئی جواز کی نفی سے، اس کی وجہ سے جواز کی ہی نفی ہو جائے، تقسیم جائز ہی نہ ہو ایسا نہیں ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں مبیح دلیل موجود ہے، مگر یہ کہ یہ دلیل جو ہے جواز کی نفی سے رک گئی، اس کی وجہ سے عدم جواز ثابت نہ ہوا، فَلَا يَتَقَاعَدُ عَنْ إِيرَاثِ الْكَرَاهَةِ تو یہ رکے گی نہیں کراہت پیدا کرنے سے۔ ہماری اس دلیل کی وجہ سے حرمت تو ثابت نہیں ہوئی کیونکہ اس کے مقابلے میں اباحت والی دلیل موجود ہے لیکن بہرحال کراہت تو کم از کم ضرور ثابت ہو جائے گی، تو اَوْرَثَ یُوْرِثُ ایراث کا معنی ہے پیدا کرنا اور وجود دینا، تو کہتے ہیں: فَلَا يَتَقَاعَدُ عَنْ إِيرَاثِ الْكَرَاهَةِ تو یہ دلیل جو ہے کراہت کو وجود دینے سے نہیں رکے گی یعنی بہرحال کراہت تو پیدا ہو جائے گی بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: قَالَ: "وَالرِّدْءُ وَالْمُقَاتِلُ فِي الْعَسْكَرِ سَوَاءٌ" یہاں سے اس باب کی تیسری بحث شروع ہو رہی ہے، اس کے اندر صاحب ہدایہ یہ بتلائیں گے کہ کون مال غنیمت کا مستحق ہے اور کون مال غنیمت کا مستحق نہیں۔ صاحب ہدایہ بتلائیں گے جو لڑنے کے لیے آیا ہے وہ بھی مال غنیمت کا مستحق ہے، جو مجاہدین کی خدمت کے لیے آیا ہے وہ بھی مال غنیمت کا مستحق ہے کیونکہ وہ بھی مجاہدین کی مدد کر رہا ہے، البتہ جو تجارت کے لیے آیا ہے وہ مال غنیمت کا مستحق نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے بڑا لشکر ہے ہزارہا لوگ اس کے اندر شامل ہیں، تو کچھ لوگ تجارت کے لیے ساتھ ہو جاتے ہیں کہ ان مجاہدین کو چیزوں کی ضرورت ہو گی تو یہ مجھ سے چیزیں خریدیں گے، تو یہ جو تجارت کی نیت سے آیا ہے اور جو لڑائی میں حصہ نہیں لیتا، مال غنیمت کے اندر اس کا حصہ نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَالرِّدْءُ وَالْمُقَاتِلُ فِي الْعَسْكَرِ سَوَاءٌ رِدْءٌ بھئی، ردء کہتے ہیں مددگار اور معاون کو، کہتے ہیں: وَالرِّدْءُ وَالْمُقَاتِلُ فِي الْعَسْكَرِ سَوَاءٌ اور لشکر کے اندر جو لڑنے والا ہے اور جو مددگار ہے، سَوَاءٌ یہ دونوں برابر ہیں یعنی دونوں کو مال غنیمت ملے گا، لِاسْتِوَائِهِمْ فِي السَّبَبِ اس وجہ سے کہ دونوں سبب کے اندر برابر ہیں۔ بھئی یاد رکھو ہمارے نزدیک مال غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ اسلامی سرحد کو عبور کر کے دار الحرب جانا ہے جہاد کے ارادے سے، تو جو شخص بھی جہاد کے ارادے سے مملکت اسلامیہ کی حد سے گزر کر دار الحرب میں داخل ہوتا ہے تو وہ شخص مال غنیمت کا مستحق ہو گا، وہ شخص مال غنیمت کا مستحق ہو گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مال غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ سرحد کو عبور کرنا نہیں ہے بلکہ وہ لڑائی کے اندر حاضر ہونا ہے، تو جو لوگ لڑائی میں حاضر ہیں وہ مال غنیمت کے مستحق ہوں گے۔ بھئی یہ معنی نہیں کہ جو لڑ رہے ہیں صرف وہی، بلکہ جو بھی لڑائی کے وقت حاضر ہیں یعنی چاہے آگے لڑ رہے ہیں یا پیچھے لشکر کے اندر مدد کے لیے موجود ہیں یا خدمت کے لیے موجود ہیں، یہ سارے کیا ہیں؟ لڑائی میں حاضر ہیں بھئی، لہٰذا یہ سب غنیمت کے مستحق ہوں گے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک لشکر کے اندر جو لڑنے والا ہے اور مددگار ہیں سَوَاءٌ یہ سب برابر ہیں، لِاسْتِوَائِهِمْ فِي السَّبَبِ اس وجہ سے کہ یہ غنیمت کے مستحق ہونے کا جو سبب ہے اس کے اندر برابر ہیں، وَهُوَ الْمُجَاوَزَةُ اور وہ تجاوز کرنا ہے یعنی دار الاسلام کی سرحد سے تجاوز کر کے دار الحرب چلے جانا اور نیت بھی جہاد کی ہونی چاہیے، تجارت وغیرہ کی نیت نہیں ہونی چاہیے، تو کہتے ہیں: وَهُوَ الْمُجَاوَزَةُ اور غنیمت کا مستحق ہونے کا جو سبب ہے وہ دار الاسلام کی حد سے تجاوز کرنا ہے یعنی جہاد کی نیت سے، أَوْ شُهُودُ الْوَقْعَةِ وَقْعَةٌ بھئی، وقعہ کے کئی معانی آتے ہیں، اس کا ایک معنی ہے لڑائی، وقعہ کا ایک معنی ہے لڑائی اور یہاں وہی معنی مراد ہے، أَوْ شُهُودُ الْوَقْعَةِ یا غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ لڑائی میں حاضر ہونا ہے عَلَى مَا عُرِفَ اس وجہ سے جس کو جانا گیا ہے یعنی جو ہمارے اور شوافع کے درمیان اختلاف ہے، ہمارے نزدیک مال غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب وہ دار الاسلام کی سرحد کو عبور کر کے دار الحرب جانا ہے جہاد کی نیت سے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا سبب لڑائی کے اندر حاضر ہونا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَهُوَ الْمُجَاوَزَةُ أَوْ شُهُودُ الْوَقْعَةِ عَلَى مَا عُرِفَ اور وہ سبب جو ہے وہ دار الاسلام کی سرحد سے تجاوز کرنا ہے یا لڑائی کے اندر حاضر ہونا ہے عَلَى مَا عُرِفَ بوجہ اس کے جس کو جانا گیا ہے، وَكَذَلِكَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ لِمَرَضٍ أَوْ لِغَيْرِهِ لِمَا ذَكَرْنَاهُ بھئی ایک شخص ہے وہ لڑائی کے لیے گیا، جہاد کے لیے گیا لیکن وہاں وہ بیمار ہو گیا، لڑائی میں حصہ نہیں لے سکا، ہمارے نزدیک پھر بھی وہ مال غنیمت کا مستحق ہے اس لیے کیونکہ اس نے سرحد عبور کی تھی جہاد کی نیت سے، لہٰذا وہ مال غنیمت کا مستحق ہے، یا اسی طرح ایک آدمی ہے وہ جہاد کے لیے گیا تھا لیکن امام نے کسی کام سے اس کو بھیجا اور اس کے واپس آنے تک لڑائی ختم ہو گئی، تو یہ بھی چونکہ لڑائی کے ارادے سے سرحد سے تجاوز کر کے گیا تھا لہٰذا یہ بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَكَذَلِكَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ لِمَرَضٍ اور اسی طرح ہے مسئلہ یعنی یہ غنیمت کا مستحق ہو گا إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ لِمَرَضٍ جب ایک شخص نے لڑائی نہیں کی بیماری کی وجہ سے أَوْ لِغَيْرِهِ یا کسی اور وجہ سے لِمَا ذَكَرْنَاهُ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ اس کے اندر سبب استحقاق موجود ہے، اس نے سرحد عبور کی ہے جہاد کی نیت سے۔ وَإِذَا لَحِقَهُمُ الْمَدَدُ فِي دَارِ الْحَرْبِ قَبْلَ أَنْ يُخْرِجُوا الْغَنِيمَةَ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ شَارَكُوهُمْ فِيهَا بھئی یاد رکھو اگر مجاہدین ابھی دار الحرب میں ہی ہیں اور اور مزید مجاہدین ان کی مدد کے لیے پہنچ گئے، تو یہ جو مزید فوجی کمک آئی ہے اس کو عربی زبان میں مدد کہتے ہیں۔ یہ جو مزید فوجی مدد اور فوجی کمک پہنچی ہے اس کو عربی میں مدد کہتے ہیں، تو مدد کا معنی عربی میں بھی مدد کے ہیں اور نیز اسی طرح فوجی کمک کو بھی مدد کہتے ہیں، اور یہاں اس سے فوجی کمک ہی مراد ہے۔ تو ہمارے نزدیک مجاہدین ابھی دار الحرب میں ہیں تو وہ مال غنیمت کے مالک نہیں بنے، لہٰذا اگر اور مجاہدین ان کی مدد کے لیے پہنچتے ہیں تو وہ بھی مال غنیمت کے اندر حصہ دار ہوں گے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لڑائی جب ختم ہو جائے تو یہ مجاہدین اس مال کے مالک بن گئے، اب مزید مجاہدین پہنچیں گے تو ان کا اس مال میں کوئی حق نہیں ہو گا۔ تو یہ معنی ہے: وَإِذَا لَحِقَهُمُ الْمَدَدُ فِي دَارِ الْحَرْبِ اور جب ان مسلمانوں کو اور فوجی کمک پہنچی دار الحرب میں قَبْلَ أَنْ يُخْرِجُوا الْغَنِيمَةَ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ غنیمت کو دار الاسلام کی طرف نکالنے سے پہلے شَارَكُوهُمْ فِيهَا تو یہ مدد کے لیے پہنچنے والے جو ہیں وہ بھی مجاہدین کے ساتھ اس مال غنیمت میں شریک ہوں گے، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْقِتَالِ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے لڑائی کے گزر جانے کے بعد، وہ فرماتے ہیں لڑائی کے گزر جانے کے بعد مجاہدین اس مال کے مالک بن گئے ہیں لہٰذا جو مزید مجاہدین پہنچیں گے ان کا اس مال میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ وَهُوَ بِنَاءٌ عَلَى مَا مَهَّدْنَا مِنَ الْأَصْلِ وَهُوَ بِنَاءٌ اور اس اختلاف کی بنیاد ہے عَلَى مَا مَهَّدْنَا اس چیز پر جس کی ہم نے تمہید باندھی تھی یعنی جس کو ہم نے پہلے ذکر کیا تھا مِنَ الْأَصْلِ یعنی کہ وہ اصل۔ بھئی پیچھے صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے اور اس اختلاف کی اصل یہ ہے کہ ان کے نزدیک دار الحرب میں ہی مجاہدین اس مال کے مالک بن گئے ہیں اور ہمارے نزدیک مالک نہیں بنے، تو اس اختلاف کی بنیاد بھی اسی ضابطے پر ہے، اسی ضابطے پر ہے، یہ جو ہم نے ذکر کیا کہ بعد میں اگر ان کی مدد کے لیے کوئی اور مجاہدین آئے تو ہمارے نزدیک یہ نئی کمک جو پہنچی ہے یہ بھی مال غنیمت کے اندر حصہ دار ہوں گے اور ان کے نزدیک حصہ دار نہیں ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ بِنَاءٌ عَلَى مَا مَهَّدْنَا مِنَ الْأَصْلِ یاد رکھو یہ مِنَ الْأَصْلِ بیان ہے مَا مَهَّدْنَا کا، وہ جس کی ہم نے تمہید باندھی تھی مِنَ الْأَصْلِ یعنی کہ وہ اصل بھئی، تو لہٰذا یہاں اس کو ترجمے میں بھی اس اصل کے لفظ کو مقدم کر دیں، تو یوں ترجمہ کیجیے: وَهُوَ بِنَاءٌ عَلَى مَا مَهَّدْنَا مِنَ الْأَصْلِ اور یہ جو اختلاف ہے اس کی بنیاد اس اصل پر ہے جس کی ہم نے تمہید باندھی تھی، وَإِنَّمَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمُشَارَكَةِ عِنْدَنَا بِالْإِحْرَازِ بھئی یاد رکھو ہمارے نزدیک جو مزید فوجی کمک پہنچی ہے وہ بھی مال غنیمت کے اندر شریک ہوں گے، ہاں ان کا حق مشارکت تب ختم ہو گا جب ہم اس مال کو دار الاسلام منتقل کر لیں گے یا ضرورت اور حاجت کی وجہ سے امام نے وہیں پر مال غنیمت کو تقسیم کر دیا، جب مجاہدین کو حاجت تھی امام نے وہیں پر مال غنیمت ان میں تقسیم کر دیا تو ضرورت اور حاجت کی صورت میں بھی وہ سب مالک بن گئے تو اب وہ جو مزید فوجی کمک پہنچی ہے ان کا اس مال میں کوئی حصہ نہیں ہو گا، یا وہیں پر امام نے اس مال غنیمت کو بیچ دیا، اس مال غنیمت کو بیچ دیا تو اس صورت کے اندر بھی اب جو نئی فوجی کمک پہنچی ہے اس کا مال غنیمت کے اندر کوئی حصہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمُشَارَكَةِ عِنْدَنَا بِالْإِحْرَازِ اور یہ جو نئی فوجی کمک پہنچی ہے ان کا حق مشارکت ان چیزوں کی وجہ سے ہی ختم ہو گا، اور وہ کون سی چیزیں ہیں؟ وہ آگے ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمُشَارَكَةِ عِنْدَنَا اور ان کا حق مشارکت ختم ہو جائے گا ہمارے نزدیک بِالْإِحْرَازِ احراز کے ذریعے کہ ہم اس مال غنیمت کو محفوظ کر لیں یعنی دار الاسلام لے جائیں، أَوْ بِقِسْمَةِ الْإِمَامِ فِي دَارِ الْحَرْبِ یا امام جو ہے دار الحرب میں ہی وہ مال غنیمت تقسیم کر دے مجاہدین کی حاجت کی وجہ سے، أَوْ بَيْعِهِ الْمَغَانِمَ فِيهَا یا یہ کہ وہ امام جو ہے ان غنیمتوں کو وہیں دار الحرب میں بیچ دے، تو اس صورت کے اندر بھی وہی مجاہدین اس کے مالک بن جائیں گے اور جو نئی فوجی کمک پہنچی ہے ان کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا يَتِمُّ الْمِلْكُ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے ذریعے ملکیت تام ہو جاتی ہے، کہ دار الاسلام میں محفوظ کر لیں یا امام ضرورت کی وجہ سے تقسیم کر دے یا امام ان غنیمتوں کو دار الحرب میں ہی بیچ دے تو ان کی وجہ سے ملکیت تام ہو جاتی ہے، فَيَنْقَطِعُ حَقُّ شِرْكَةِ الْمَدَدِ تو اس فوجی کمک کی شرکت کا حق منقطع ہو جاتا ہے، اب ان کا اس مال غنیمت میں کوئی حق نہیں رہتا بھئی۔ آگے دیکھیے: قَالَ: "وَلَا حَقَّ لِأَهْلِ سُوقِ الْعَسْكَرِ فِي الْغَنِيمَةِ إِلَّا أَنْ يُقَاتِلُوا" صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَلَا حَقَّ اور کوئی حق نہیں ہے لِأَهْلِ سُوقِ الْعَسْكَرِ لشکر کے بازار والوں کا، لشکر کے بازار والوں کا یعنی جو تجارت کی نیت سے آئے ہیں، وَلَا حَقَّ لِأَهْلِ سُوقِ الْعَسْكَرِ فِي الْغَنِيمَةِ إِلَّا أَنْ يُقَاتِلُوا اور کوئی حق نہیں ہے لشکر کے بازار والوں کا غنیمت میں مگر یہ کہ وہ لڑائی کریں۔ اگر وہ لڑائی کی نیت سے آئے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ تجارت بھی کر رہے ہیں پھر ان کا بھی حصہ ہو گا، إِلَّا أَنْ يُقَاتِلُوا مگر یہ کہ وہ لڑائی کریں۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَحَدِ قَوْلَيْهِ يُسْهَمُ لَهُمْ اور امام شافعی رحمہ اللہ اپنے دو قولوں میں سے ایک قول کے اندر فرماتے ہیں يُسْهَمُ لَهُمْ کہ ان کا بھی حصہ نکالا جائے گا لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ "الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ" اس وجہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ" کہ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو لڑائی میں حاضر ہو، جو شخص لڑائی میں حاضر ہو غنیمت اس کے لیے ہے، تو یہ تاجر جو ہیں اگرچہ تجارت کے لیے آئے ہیں لیکن بہرحال لڑائی کے موقع پر حاضر تو ہیں، لشکر میں موجود تو ہیں بھئی، تو کہتے ہیں کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: "الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ" کہ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو لڑائی میں حاضر ہے، وَلِأَنَّهُ وُجِدَ الْجِهَادُ مَعْنًى بِتَكْثِيرِ السَّوَادِ اور نیز اس لیے کیونکہ ان لوگوں کی طرف سے بھی معنی کے اعتبار سے جہاد پایا گیا ہے بِتَكْثِيرِ السَّوَادِ مسلمانوں کی تعداد کو بڑھاتے ہوئے، سواد کہتے ہیں بڑی تعداد کو، بڑی تعداد، یہ کثرت بھئی کسی چیز کی، اور تکثیر سواد یعنی مسلمانوں کی جو بڑی تعداد ہے اس کو یہ لوگ اور زیادہ بڑھا رہے ہیں، ان کی وجہ سے مسلمانوں کی تعداد اور زیادہ معلوم ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ وُجِدَ الْجِهَادُ مَعْنًى بِتَكْثِيرِ السَّوَادِ اور اس لیے کیونکہ ان لوگوں کی طرف سے بھی معنی کے اعتبار سے جہاد پایا گیا ہے مسلمانوں کی تعداد کو زیادہ کرتے ہوئے۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی بھئی کہ ان کے ایک قول کے مطابق جو تجارت کے لیے گئے ہیں ان کا بھی مال غنیمت میں حصہ ہو گا۔ وَلَنَا اب ہماری دلیل آ گئی: وَلَنَا أَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الْمُجَاوَزَةُ عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ لڑائی کے ارادے کے ساتھ تجاوز نہیں پائی گئی، لڑائی کے ارادے کے ساتھ سرحد کو عبور کرنا نہیں پایا گیا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک مال غنیمت کے مستحق ہونے کا سبب وہ اسلامی ملک کی سرحد کو عبور کر کے دار الحرب آنا ہے جہاد کی نیت سے، اور یہ سبب ان لوگوں کے اندر نہیں پایا جا رہا، یہ لوگ تو صرف تجارت کے لیے آئے ہیں۔ میں نے بتایا اگر کوئی شخص آیا تو لڑائی کی نیت سے ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ تجارت بھی کر رہا ہے اس کو حصہ ملے گا، یہ اس شخص کی بات ہو رہی ہے جو صرف تجارت کی نیت سے آیا ہے، تو جب یہ صرف تجارت کی نیت سے آیا ہے تو اس کے اندر غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب نہیں پایا گیا یعنی اس نے سرحد کو جہاد کی نیت سے عبور نہیں کیا بھئی، تو یہ ظاہری طور پر غنیمت کا مستحق نہیں۔ تو یہ معنی ہے: وَلَنَا أَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الْمُجَاوَزَةُ عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ لڑائی کے ارادے کے ساتھ مجاوزت نہیں پائی گئی، لڑائی کے ارادے کے ساتھ سرحد کو عبور کرنا نہیں پایا گیا، فَانْعَدَمَ السَّبَبُ الظَّاهِرُ لہٰذا غنیمت کا ظاہری سبب معدوم ہوا، ان کے حق میں غنیمت کا مستحق ہونے کا ظاہری سبب نہیں، ہاں اب سبب حقیقی کو دیکھیں گے۔ بھئی یاد رکھو غنیمت کا مستحق ہونا ایک اس کا سبب ظاہری ہے ایک اس کا سبب حقیقی ہے۔ سبب ظاہری یہ ہے کہ مملکت اسلامیہ کی سرحد عبور کرے جہاد کی نیت سے، اور سبب حقیقی یہ ہے کہ لڑائی کے اندر حصہ لے، لڑائی کرے۔ تو لہٰذا یہ جو تجارت کے لیے آئے ہیں ان کے حق میں سبب ظاہری تو نہیں پایا گیا تو اب سبب حقیقی کو دیکھا جائے گا کہ انہوں نے حقیقتاً لڑائی میں حصہ لیا یا نہیں، اگر انہوں نے حقیقتاً لڑائی میں حصہ لیا ہے تو پھر ان کو حصہ ملے گا ورنہ ان کو حصہ نہیں ملے گا غنیمت میں سے۔ تو کہتے ہیں: فَانْعَدَمَ السَّبَبُ الظَّاهِرُ فَيُعْتَبَرُ السَّبَبُ الْحَقِيقِيُّ وَهُوَ الْقِتَالُ تو سبب ظاہری ان کے حق میں معدوم ہوا تو اب سبب حقیقی کا اعتبار کیا جائے گا اور وہ لڑائی ہے، فَيُفِيدُ الِاسْتِحْقَاقَ عَلَى حَسَبِ حَالِهِ فَارِسًا أَوْ رَاجِلًا عِنْدَ الْقِتَالِ بھئی یاد رکھو مجاہدین جو جہاد کے لیے گئے ہیں، جو پیدل گیا ہے اس کو صرف ایک حصہ ملے گا مال غنیمت میں سے اور جو گھوڑا لے کر گیا ہے تو اس کو دو حصے ملیں گے بھئی مال غنیمت میں سے۔ توجہ ہے؟ ایک حصہ اس مجاہد کا ہو گا اور ایک اس کے گھوڑے کا حصہ ہے، تو مال غنیمت کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ جو پیدل آیا ہے اس کو ایک حصہ ملے گا اور جو سوار ہو کر آیا ہے اس کو اس پیدل کے مقابلے میں دگنا حصہ ملے گا یعنی دو حصے ملیں گے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن بات وہی ہے کہ جب اس نے مملکت اسلامیہ کی سرحد عبور کی اس وقت دیکھا جائے گا کہ اس وقت یہ پیدل تھا یا سوار تھا، اگر یہ پیدل تھا تو اس کو ایک حصہ ملے گا، اگر یہ سوار تھا تو اب اس کو دو حصے ملیں گے۔ اگر ایک مجاہد نے یہاں آ کر گھوڑا خریدا ہے اور پھر اب وہ اس پر جہاد کر رہا ہے تو اس کو ایک ہی حصہ ملے گا، اس کو ایک ہی حصہ ملے گا کیونکہ سرحد عبور کرتے ہوئے یہ پیدل تھا بھئی۔ تو بات چل رہی تھی یہ جو تجارت کے لیے لوگ آئے تھے لشکر کے ساتھ ان کے حق میں غنیمت کا سبب ظاہری تو نہیں ہے تو پھر حقیقی سبب کو دیکھا جائے گا کہ انہوں نے لڑائی میں حصہ لیا یا نہیں۔ اگر لڑائی میں حصہ لیا ہے پھر ان کو غنیمت میں سے حصہ ملے گا اور پھر یہ بھی دیکھا جائے گا کہ لڑائی کے اندر انہوں نے پیدل حصہ لیا لڑائی کے اندر یا اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حصہ لیا، اگر انہوں نے پیدل حصہ لیا ہے تو ان کو ایک حصہ ملے گا اور اگر انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر لڑائی کی ہے تو اب ان کو دو حصے ملیں گے۔ تو کہتے ہیں: فَيُعْتَبَرُ السَّبَبُ الْحَقِيقِيُّ وَهُوَ الْقِتَالُ فَيُفِيدُ الِاسْتِحْقَاقَ عَلَى حَسَبِ حَالِهِ تو لہٰذا اب اس تاجر کے سلسلے میں سبب حقیقی کا اعتبار کیا جائے گا اور وہ لڑائی ہے، تو لہٰذا یہ اس کے مستحق ہونے کا فائدہ دے گا یعنی اگر اس نے لڑائی کی ہے یہ اس کے مستحق ہونے کا فائدہ دے گا عَلَى حَسَبِ حَالِهِ فَارِسًا أَوْ رَاجِلًا اس کے حال کے مطابق سوار ہو یا پیدل، اس کے مطابق یہ مستحق ہو گا بھئی، اگر سوار ہے تو دو حصے ملیں گے اور اگر پیدل ہے تو ایک حصہ۔ تو یہ معنی ہے: فَيُفِيدُ الِاسْتِحْقَاقَ عَلَى حَسَبِ حَالِهِ فَارِسًا أَوْ رَاجِلًا عِنْدَ الْقِتَالِ تو یہ اس کی حالت کے مطابق مستحق ہونے کا فائدہ دے گا باعتبار اس کے کہ وہ سوار ہے یا پیدل ہے عِنْدَ الْقِتَالِ لڑائی کے وقت، وَمَا رَوَاهُ مَوْقُوفٌ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر موقوف ہے، یہ جو حدیث انہوں نے ذکر کی: "الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ" کہ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو جو لڑائی کے اندر حاضر ہو، تو ہم کہتے ہیں یہ حضور علیہ السلام کا قول نہیں ہے بلکہ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے۔ اور یاد رکھو عند الاحناف صحابی کا قول بھی حجت اور دلیل ہے، صحابی کا قول بھی حجت اور دلیل ہے، تو اس پر احناف پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ اگر یہ بھی کہہ دیں کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے پھر بھی یہ صحابی کا قول ہے، یہ خلیفہ راشد کا قول ہے، لہٰذا یہ حجت ہے، تو پھر آپ اس کے لیے امام شافعی رحمہ اللہ کو کیسے جواب دے رہے ہیں کہ یہ حضور کا قول نہیں ہے یہ صحابی کا قول ہے؟ چاہے حضور کا قول ہو چاہے صحابی کا قول ہو دونوں حجت ہیں۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو اس کا جواب دیتے ہیں علماء کہ بھئی یہاں ہم امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صحابی کا قول حجت نہیں ہے، تو ان کے مذہب کے مطابق ہم انہیں جواب دے رہے ہیں کہ یہ حضور کا قول ہی نہیں ہے، یہ تو صحابی کا قول ہے اور صحابی کا قول تو آپ کے نزدیک حجت نہیں ہے، لہٰذا آپ اس کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَمَا رَوَاهُ مَوْقُوفٌ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت فرمایا وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر موقوف ہے، أَوْ تَأْوِيلُهُ أَنْ يَشْهَدَهَا عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ یا اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ وہ لڑائی میں لڑائی کے ارادے سے حاضر ہو۔ یہ جو حدیث میں آیا: "الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ"، غنیمت اس کے لیے ہے جو لڑائی میں حاضر ہو، مراد یہ ہے جو لڑائی میں لڑائی کے ارادے سے حاضر ہو اس کے لیے غنیمت ہے، ہر ایک یہاں مراد نہیں ہے۔ تو: أَوْ تَأْوِيلُهُ أَنْ يَشْهَدَهَا عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ یا اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ وہ اس لڑائی میں لڑائی کے ارادے سے حاضر ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا، چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ قسم پر ہے، ایک کراہتِ تحریمی ہے اور ایک کراہتِ تنزیہی ہے۔ کراہتِ تنزیہی وہ ہے جو حلال کے قریب ہے، ناپسندیدہ ہے لیکن حلال ہے، اور ایک کراہتِ تحریمی ہے جو حرام کے زیادہ قریب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهِيَ كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور یہ کراہتِ تنزیہی ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، فَإِنَّهُ قَالَ اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ سیَرِ کبیر میں فرماتے ہیں: عَلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى لَا تَجُوزُ الْقِسْمَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ کہ شیخین رحمہما اللہ کے قول پر دار الحرب میں تقسیم جائز نہیں ہے، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ: الْأَفْضَلُ أَنْ يَقْسِمَ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک افضل یہ ہے کہ امام دار الاسلام کے اندر غنیمت تقسیم کرے۔ افضل یہ ہے۔ معلوم ہوا دار الحرب میں بھی تقسیم کر سکتا ہے لیکن افضل یہ ہے کہ دار الاسلام میں غنیمت کو تقسیم کرے۔ وَوَجْهُ الْكَرَاهَةِ أَنَّ دَلِيلَ الْبُطْلَانِ رَاجِحٌ اور کراہت کی جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ باطل ہونے کی دلیل راجح ہے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں یہ جو ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، یہ جواز اور عدمِ جواز والا اختلاف نہیں ہے بلکہ کراہت والا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دار الحرب کے اندر امام مالِ غنیمت تقسیم کرے یہ مکروہ نہیں ہے، اور ہمارے نزدیک مکروہ ہے۔ اور اس کی وجہ کیا ہے؟ اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں دیکھو یہاں دونوں طرف کی دلیلیں موجود ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل دی کہ یہ مالِ مباح ہے اور اس پر مسلمانوں نے غلبہ حاصل کر لیا ہے تو یہ مالک بن گئے ہیں لہٰذا یہاں اس کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ مالک بن چکے ہیں، یہ مالِ مشترکہ ہے تو اس کو وہ دار الحرب میں ہی تقسیم کر سکتے ہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل سے اس تقسیم کے مباح ہونے کا پتہ چلا کہ یہ تقسیم جائز ہے۔ اور ہماری دلیل جو ہم نے ذکر کر دی کہ حدیث کے اندر حضور علیہ السلام نے دار الحرب کے اندر مالِ غنیمت کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، اور نیز اس لیے کیونکہ ابھی تک غلبہ پورا نہیں ہوا، ہو سکتا ہے کفار دوبارہ حملہ کر لیں اور ہم سے چھین لیں۔ تو ہماری دلیل سے اس تقسیم کی حرمت کا پتہ چلا۔ تو دونوں طرف کی دلیلیں آ گئیں۔ ایک دلیل سے تقسیم کی اباحت کا پتہ چل رہا ہے اور ایک دلیل سے تقسیم کے حرام ہونے کا پتہ چل رہا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ جب ایک چیز کے اندر دونوں قسم کی دلیلیں آ جائیں، ایک دلیل مبیح ہے اور ایک دلیل محرم ہے حرام کرنے والی ہے تو محرم دلیل کو ترجیح ہوتی ہے۔ وجہ یہ کہ اس کے اندر احتیاط زیادہ ہے۔ مثلاً ایک چیز ہے اور اس کے بارے میں دونوں قسم کی دلیلیں موجود ہیں، تو اگر آپ محرم دلیل کو ترجیح دے دیتے ہیں اور اس چیز کو حرام قرار دے دیتے ہیں، لیکن حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں کہ حقیقت میں یہ چیز حلال ہے یا حرام ہے۔ ہمارے پاس دلیلیں تو دونوں موجود ہیں لیکن یہ چیز حقیقت کے اعتبار سے حلال ہے یا حرام یہ تو اللہ ہی جانتے ہیں۔ تو مثلاً ہم نے حرمت والی دلیل کو ترجیح دے دی اور اس کو حرام قرار دے دیا، لیکن ہو سکتا ہے حقیقت کے اعتبار سے یہ چیز حلال ہو، تو زیادہ سے زیادہ ایک حلال چیز کے استعمال سے ہم رک گئے، کوئی اور نقصان نہیں ہوا۔ لیکن اگر مبیح دلیل پر عمل کر لیا جائے اور اس چیز کو استعمال کر لیا جائے یا کھا لیا جائے اور ہو سکتا ہے وہ چیز حقیقت کے اندر حرام ہو تو دیکھو اس کے اندر ایک حرام چیز کا استعمال یا حرام چیز کا کھانا لازم آئے گا، تو اس کے اندر دیکھو نقصان ہے۔ تو لہٰذا علماء فرماتے ہیں جب مبیح اور محرم دلیلیں جمع ہو جائیں تو محرم کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے۔ تو یہاں پر بھی دار الحرب کے اندر مالِ غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ چل رہا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل مبیح ہے اور ہماری دلیل محرم ہے، تو لہٰذا محرم کو ترجیح ہو گی۔ تو یہ معنی ہے: وَوَجْهُ الْكَرَاهَةِ أَنَّ دَلِيلَ الْبُطْلَانِ رَاجِحٌ اور کراہت کی وجہ جو ہے وہ یہ ہے کہ اس کے باطل ہونے کی دلیل راجح ہے کیونکہ وہ محرم ہے۔ إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ عَنْ سَلْبِ الْجَوَازِ تقاعد کا معنی ہے کسی چیز کو چھوڑ دینا، یہاں اس کا معنی ہم کر لیں گے رک جانا۔ إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ عَنْ سَلْبِ الْجَوَازِ مگر یہ دلیل رک گئی جواز کی نفی سے۔ یعنی ہماری دلیل اس سے اس تقسیم کے باطل ہونے کا پتہ چل رہا ہے لیکن اس تقسیم کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ہمارے نزدیک بھی ضرورت اور حاجت کی صورت میں امام دار الحرب میں ہی مالِ غنیمت تقسیم کر سکتا ہے۔ اگر مجاہدین کو حاجت اور ضرورت ہے تو پھر دار الحرب میں بھی امام اس مال کو تقسیم کر سکتا ہے۔ تو لہٰذا ایک دلیل محرم تھی، ایک دلیل مبیح تھی، محرم کو ترجیح ہو گئی لیکن پھر بھی محرم کی وجہ سے اس چیز کا حرام ہونا ثابت نہیں ہوا کیونکہ بہرحال محلل دلیل بھی تو موجود ہے۔ تو حرمت تو ثابت نہیں ہو سکی البتہ کم از کم پھر کراہت تو ضرور ثابت ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے کہ: وَوَجْهُ الْكَرَاهَةِ أَنَّ دَلِيلَ الْبُطْلَانِ رَاجِحٌ إِلَّا أَنَّهُ تَقَاعَدَ عَنْ سَلْبِ الْجَوَازِ اور مکروہ ہونے کی وجہ جو ہے وہ یہ ہے کہ اس تقسیم کے باطل ہونے کی جو دلیل ہے وہ راجح ہے مگر یہ دلیل رک گئی جواز کی نفی سے۔ اس کی وجہ سے جواز کی ہی نفی ہو جائے، تقسیم جائز ہی نہ ہو، ایسا نہیں ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں مبیح دلیل موجود ہے۔ مگر یہ کہ یہ دلیل جو ہے جواز کی نفی سے رک گئی، اس کی وجہ سے عدمِ جواز ثابت نہ ہوا، فَلَا يَتَقَاعَدُ عَنْ إِيرَاثِ الْكَرَاهَةِ تو یہ رکے گی نہیں کراہت پیدا کرنے سے۔ ہماری اس دلیل کی وجہ سے حرمت تو ثابت نہیں ہوئی کیونکہ اس کے مقابلے میں اباحت والی دلیل موجود ہے لیکن بہرحال کراہت تو کم از کم ضرور ثابت ہو جائے گی۔ تو اَوْرَثَ یُوْرِثُ اِیْرَاث کا معنی ہے پیدا کرنا اور وجود دینا۔ تو کہتے ہیں: فَلَا يَتَقَاعَدُ عَنْ إِيرَاثِ الْكَرَاهَةِ تو یہ دلیل جو ہے کراہت کو وجود دینے سے نہیں رکے گی، یعنی بہرحال کراہت تو پیدا ہو جائے گی بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: قَالَ: وَالرِّدْءُ وَالْمُقَاتِلُ فِي الْعَسْكَرِ سَوَاءٌ یہاں سے اس باب کی تیسری بحث شروع ہو رہی ہے۔ اس کے اندر صاحبِ ہدایہ یہ بتلائیں گے کہ کون مالِ غنیمت کا مستحق ہے اور کون مالِ غنیمت کا مستحق نہیں؟ صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے جو لڑنے کے لیے آیا ہے وہ بھی مالِ غنیمت کا مستحق ہے، جو مجاہدین کی خدمت کے لیے آیا ہے وہ بھی مالِ غنیمت کا مستحق ہے کیونکہ وہ بھی مجاہدین کی مدد کر رہا ہے۔ البتہ جو تجارت کے لیے آیا ہے وہ مالِ غنیمت کا مستحق نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے، بڑا لشکر ہے ہزارہا لوگ اس کے اندر شامل ہیں تو کچھ لوگ تجارت کے لیے ساتھ ہو جاتے ہیں کہ ان مجاہدین کو چیزوں کی ضرورت ہو گی تو یہ مجھ سے چیزیں خریدیں گے۔ تو یہ جو تجارت کی نیت سے آیا ہے اور جو لڑائی میں حصہ نہیں لیتا، مالِ غنیمت کے اندر اس کا حصہ نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں، قال: صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَالرِّدْءُ وَالْمُقَاتِلُ فِي الْعَسْكَرِ سَوَاءٌ ردءٌ بھئی، ردءٌ کہتے ہیں مددگار اور معاون کو، کہتے ہیں: وَالرِّدْءُ وَالْمُقَاتِلُ فِي الْعَسْكَرِ سَوَاءٌ اور لشکر کے اندر جو لڑنے والا ہے اور جو مددگار ہے، سَوَاءٌ یہ دونوں برابر ہیں، یعنی دونوں کو مالِ غنیمت ملے گا، لِاسْتِوَائِهِمْ فِي السَّبَبِ اس وجہ سے کہ دونوں سبب کے اندر برابر ہیں۔ بھئی یاد رکھو، ہمارے نزدیک مالِ غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ اسلامی سرحد کو عبور کر کے دار الحرب جانا ہے جہاد کے ارادے سے۔ تو جو شخص بھی جہاد کے ارادے سے مملکتِ اسلامیہ کی حد سے گزر کر دار الحرب میں داخل ہوتا ہے تو وہ شخص مالِ غنیمت کا مستحق ہو گا۔ وہ شخص مالِ غنیمت کا مستحق ہو گا جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالِ غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ سرحد کو عبور کرنا نہیں ہے بلکہ وہ لڑائی کے اندر حاضر ہونا ہے۔ تو جو لوگ لڑائی میں حاضر ہیں وہ مالِ غنیمت کے مستحق ہوں گے۔ بھئی یہ معنی نہیں کہ جو لڑ رہے ہیں صرف وہی، بلکہ جو بھی لڑائی کے وقت حاضر ہیں یعنی چاہے آگے لڑ رہے ہیں یا پیچھے لشکر کے اندر مدد کے لیے موجود ہیں یا خدمت کے لیے موجود ہیں یہ سارے کیا ہیں؟ لڑائی میں حاضر ہیں بھئی، لہٰذا یہ سب غنیمت کے مستحق ہوں گے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک لشکر کے اندر جو لڑنے والا ہے اور مددگار ہیں، سَوَاءٌ یہ سب برابر ہیں، لِاسْتِوَائِهِمْ فِي السَّبَبِ اس وجہ سے کہ یہ غنیمت کے مستحق ہونے کا جو سبب ہے اس کے اندر برابر ہیں، وَهُوَ الْمُجَاوَزَةُ اور وہ تجاوز کرنا ہے، یعنی دار الاسلام کی سرحد سے تجاوز کر کے دار الحرب چلے جانا اور نیت بھی جہاد کی ہونی چاہیے تجارت وغیرہ کی نیت نہیں ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ الْمُجَاوَزَةُ اور غنیمت کا مستحق ہونے کا جو سبب ہے وہ دار الاسلام کی حد سے تجاوز کرنا ہے یعنی جہاد کی نیت سے، أَوْ شُهُودُ الْوَقْعَةِ وَقْعَةٌ بھئی، وقعہ کے کئی معانی آتے ہیں، اس کا ایک معنی ہے لڑائی۔ وقعہ کا ایک معنی ہے لڑائی اور یہاں وہی معنی مراد ہے۔ أَوْ شُهُودُ الْوَقْعَةِ یا غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب جو ہے وہ لڑائی میں حاضر ہونا ہے، عَلَى مَا عُرِفَ اس وجہ سے جس کو جانا گیا ہے، یعنی جو ہمارے اور شوافع کے درمیان اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک مالِ غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب وہ دار الاسلام کی سرحد کو عبور کر کے دار الحرب جانا ہے جہاد کی نیت سے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا سبب لڑائی کے اندر حاضر ہونا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَهُوَ الْمُجَاوَزَةُ أَوْ شُهُودُ الْوَقْعَةِ عَلَى مَا عُرِفَ اور وہ سبب جو ہے وہ دار الاسلام کی سرحد سے تجاوز کرنا ہے یا لڑائی کے اندر حاضر ہونا ہے، بوجہ اس کے جس کو جانا گیا ہے۔ وَكَذٰلِكَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ لِمَرَضٍ أَوْ لِغَيْرِهِ لِمَا ذَكَرْنَا بھئی ایک شخص ہے وہ لڑائی کے لیے گیا، جہاد کے لیے گیا لیکن وہاں وہ بیمار ہو گیا، لڑائی میں حصہ نہیں لے سکا، ہمارے نزدیک پھر بھی وہ مالِ غنیمت کا مستحق ہے، اس لیے کیونکہ اس نے سرحد عبور کی تھی جہاد کی نیت سے، لہٰذا وہ مالِ غنیمت کا مستحق ہے۔ یا اسی طرح ایک آدمی ہے وہ جہاد کے لیے گیا تھا لیکن امام نے کسی کام سے اس کو بھیجا اور اس کے واپس آنے تک لڑائی ختم ہو گئی، تو یہ بھی چونکہ لڑائی کے ارادے سے سرحد سے تجاوز کر کے گیا تھا لہٰذا یہ بھی مالِ غنیمت کا مستحق ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَكَذٰلِكَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ لِمَرَضٍ اور اسی طرح ہے مسئلہ یعنی یہ غنیمت کا مستحق ہو گا، جب ایک شخص نے لڑائی نہیں کی بیماری کی وجہ سے، أَوْ لِغَيْرِهِ یا کسی اور وجہ سے، لِمَا ذَكَرْنَا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ اس کے اندر سببِ استحقاق موجود ہے، اس نے سرحد عبور کی ہے جہاد کی نیت سے۔ وَإِذَا لَحِقَهُمُ الْمَدَدُ فِي دَارِ الْحَرْبِ قَبْلَ أَنْ يُخْرِجُوا الْغَنِيمَةَ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ شَارَكُوهُمْ فِيهَا بھئی یاد رکھو، اگر مجاہدین ابھی دار الحرب میں ہی ہیں اور اور مزید مجاہدین ان کی مدد کے لیے پہنچ گئے تو یہ جو مزید فوجی کمک آئی ہے اس کو عربی زبان میں مدد کہتے ہیں۔ یہ جو مزید فوجی مدد اور فوجی کمک پہنچی ہے اس کو عربی میں مدد کہتے ہیں۔ تو مدد کا معنی عربی میں بھی مدد کے ہیں اور نیز اسی طرح فوجی کمک کو بھی مدد کہتے ہیں، اور یہاں اس سے فوجی کمک ہی مراد ہے۔ تو ہمارے نزدیک مجاہدین ابھی دار الحرب میں ہیں تو وہ مالِ غنیمت کے مالک نہیں بنے، لہٰذا اگر اور مجاہدین ان کی مدد کے لیے پہنچتے ہیں تو وہ بھی مالِ غنیمت کے اندر حصہ دار ہوں گے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لڑائی جب ختم ہو جائے تو یہ مجاہدین اس مال کے مالک بن گئے، اب مزید مجاہدین پہنچیں گے تو ان کا اس مال میں کوئی حق نہیں ہو گا۔ تو یہ معنی ہے: وَإِذَا لَحِقَهُمُ الْمَدَدُ فِي دَارِ الْحَرْبِ اور جب ان مسلمانوں کو اور فوجی کمک پہنچی دار الحرب میں، قَبْلَ أَنْ يُخْرِجُوا الْغَنِيمَةَ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ غنیمت کو دار الاسلام کی طرف نکالنے سے پہلے، شَارَكُوهُمْ فِيهَا تو یہ مدد کے لیے پہنچنے والے جو ہیں وہ بھی مجاہدین کے ساتھ اس مالِ غنیمت میں شریک ہوں گے، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْقِتَالِ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے لڑائی کے گزر جانے کے بعد۔ وہ فرماتے ہیں لڑائی کے گزر جانے کے بعد مجاہدین اس مال کے مالک بن گئے ہیں لہٰذا جو مزید مجاہدین پہنچیں گے ان کا اس مال میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ وَهُوَ بِنَاءٌ عَلَى مَا مَهَّدْنَا مِنَ الْأَصْلِ اور اس اختلاف کی بنیاد ہے اس چیز پر جس کی ہم نے تمہید باندھی تھی، یعنی جس کو ہم نے پہلے ذکر کیا تھا، مِنَ الْأَصْلِ یعنی کہ وہ اصل۔ بھئی پیچھے صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے اور اس اختلاف کی اصل یہ ہے کہ ان کے نزدیک دار الحرب میں ہی مجاہدین اس مال کے مالک بن گئے ہیں اور ہمارے نزدیک مالک نہیں بنے، تو اس اختلاف کی بنیاد بھی اسی ضابطے پر ہے۔ اسی ضابطے پر ہے۔ یہ جو ہم نے ذکر کیا کہ بعد میں اگر ان کی مدد کے لیے کوئی اور مجاہدین آئے تو ہمارے نزدیک یہ نئی کمک جو پہنچی ہے یہ بھی مالِ غنیمت کے اندر حصہ دار ہوں گے اور ان کے نزدیک حصہ دار نہیں ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ بِنَاءٌ عَلَى مَا مَهَّدْنَا مِنَ الْأَصْلِ یاد رکھو یہ مِنَ الْأَصْلِ بیان ہے مَا مَهَّدْنَا کا۔ وہ جس کی ہم نے تمہید باندھی تھی، مِنَ الْأَصْلِ یعنی کہ وہ اصل بھئی، تو لہٰذا یہاں اس کو ترجمے میں بھی اس اصل کے لفظ کو مقدم کر دیں تو یوں ترجمہ کیجیے: وَهُوَ بِنَاءٌ عَلَى مَا مَهَّدْنَا مِنَ الْأَصْلِ اور یہ جو اختلاف ہے اس کی بنیاد اس اصل پر ہے جس کی ہم نے تمہید باندھی تھی، وَإِنَّمَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمُشَارَكَةِ عِنْدَنَا بِالْإِحْرَازِ بھئی یاد رکھو، ہمارے نزدیک جو مزید فوجی کمک پہنچی ہے وہ بھی مالِ غنیمت کے اندر شریک ہوں گے، ہاں ان کا حقِ مشارکت تب ختم ہو گا جب ہم اس مال کو دار الاسلام منتقل کر لیں گے یا ضرورت اور حاجت کی وجہ سے امام نے وہیں پر مالِ غنیمت کو تقسیم کر دیا، جب مجاہدین کو حاجت تھی امام نے وہیں پر مالِ غنیمت ان میں تقسیم کر دیا تو ضرورت اور حاجت کی صورت میں بھی وہ سب مالک بن گئے تو اب وہ جو مزید فوجی کمک پہنچی ہے ان کا اس مال میں کوئی حصہ نہیں ہو گا، یا وہیں پر امام نے اس مالِ غنیمت کو بیچ دیا۔ اس مالِ غنیمت کو بیچ دیا تو اس صورت کے اندر بھی اب جو نئی فوجی کمک پہنچی ہے اس کا مالِ غنیمت کے اندر کوئی حصہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمُشَارَكَةِ عِنْدَنَا بِالْإِحْرَازِ اور یہ جو نئی فوجی کمک پہنچی ہے ان کا حقِ مشارکت ان چیزوں کی وجہ سے ہی ختم ہو گا، اور وہ کون سی چیزیں ہیں وہ آگے ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يَنْقَطِعُ حَقُّ الْمُشَارَكَةِ عِنْدَنَا اور ان کا حقِ مشارکت ختم ہو جائے گا ہمارے نزدیک، بِالْإِحْرَازِ احراز کے ذریعے کہ ہم اس مالِ غنیمت کو محفوظ کر لیں یعنی دار الاسلام لے جائیں، أَوْ بِقِسْمَةِ الْإِمَامِ فِي دَارِ الْحَرْبِ یا امام جو ہے دار الحرب میں ہی وہ مالِ غنیمت تقسیم کر دے مجاہدین کی حاجت کی وجہ سے، أَوْ بَيْعِهِ الْمَغَانِمَ فِيهَا یا یہ کہ وہ امام جو ہے ان غنیمتوں کو وہی دار الحرب میں بیچ دے، تو اس صورت کے اندر بھی وہی مجاہدین اس کے مالک بن جائیں گے اور جو نئی فوجی کمک پہنچی ہے ان کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا يَتِمُّ الْمِلْكُ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے ذریعے ملکیت تام ہو جاتی ہے، کہ دار الاسلام میں محفوظ کر لیں یا امام ضرورت کی وجہ سے تقسیم کر دے یا امام ان غنیمتوں کو دار الحرب میں ہی بیچ دے تو ان کی وجہ سے ملکیت تام ہو جاتی ہے، فَيَنْقَطِعُ حَقُّ شِرْكَةِ الْمَدَدِ تو اس فوجی کمک کی شرکت کا حق منقطع ہو جاتا ہے، اب ان کا اس مالِ غنیمت میں کوئی حق نہیں رہتا بھئی۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَلَا حَقَّ لِأَهْلِ سُوقِ الْعَسْكَرِ فِي الْغَنِيمَةِ إِلَّا أَنْ يُقَاتِلُوا وَلَا حَقَّ اور کوئی حق نہیں ہے لِأَهْلِ سُوقِ الْعَسْكَرِ لشکر کے بازار والوں کا، لشکر کے بازار والوں کا یعنی جو تجارت کی نیت سے آئے ہیں۔ وَلَا حَقَّ اور کوئی حق نہیں ہے لِأَهْلِ سُوقِ الْعَسْكَرِ لشکر کے بازار والوں کا فِي الْغَنِيمَةِ غنیمت میں، إِلَّا أَنْ يُقَاتِلُوا مگر یہ کہ وہ لڑائی کریں۔ اگر وہ لڑائی کی نیت سے آئے ہیں لیکن ساتھ ساتھ تجارت بھی کر رہے ہیں پھر ان کا بھی حصہ ہو گا۔ إِلَّا أَنْ يُقَاتِلُوا مگر یہ کہ وہ لڑائی کریں، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِي أَحَدِ قَوْلَيْهِ: يُسْهَمُ لَهُمْ اور امام شافعی رحمہ اللہ اپنے دو قولوں میں سے ایک قول کے اندر فرماتے ہیں: يُسْهَمُ لَهُمْ کہ ان کا بھی حصہ نکالا جائے گا، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ“ اس وجہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ“ کہ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو لڑائی میں حاضر ہو۔ جو شخص لڑائی میں حاضر ہو غنیمت اس کے لیے ہے، تو یہ تاجر جو ہیں اگرچہ تجارت کے لیے آئے ہیں لیکن بہرحال لڑائی کے موقع پر حاضر تو ہیں لشکر میں موجود تو ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ“ کہ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو لڑائی میں حاضر ہے، وَلِأَنَّهُ وُجِدَ الْجِهَادُ مَعْنًى بِتَكْثِيرِ السَّوَادِ اور نیز اس لیے کیونکہ ان کی طرف سے بھی معنیٰ کے اعتبار سے جہاد پایا گیا ہے بتکثیرِ سواد، بتکثیرِ سواد مسلمانوں کی تعداد کو بڑھاتے ہوئے۔ سواد کہتے ہیں بڑی تعداد کو، بڑی تعداد، کثرت بھئی کسی چیز کی، اور تکثیرِ سواد یعنی مسلمانوں کی جو بڑی تعداد ہے اس کو یہ لوگ اور زیادہ بڑھا رہے ہیں، ان کی وجہ سے مسلمانوں کی تعداد اور زیادہ معلوم ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ وُجِدَ الْجِهَادُ مَعْنًى بِتَكْثِيرِ السَّوَادِ اور اس لیے کیونکہ ان لوگوں کی طرف سے بھی معنیٰ کے اعتبار سے جہاد پایا گیا ہے بتکثیرِ سواد مسلمانوں کی تعداد کو زیادہ کرتے ہوئے۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی بھئی کہ ان کے ایک قول کے مطابق جو تجارت کے لیے گئے ہیں ان کا بھی مالِ غنیمت میں حصہ ہو گا۔ وَلَنَا اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الْمُجَاوَزَةُ عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک مالِ غنیمت کے مستحق ہونے کا سبب وہ اسلامی ملک کی سرحد کو عبور کر کے دار الحرب آنا ہے جہاد کی نیت سے، اور یہ سبب ان لوگوں کے اندر نہیں پایا جا رہا، یہ لوگ تو صرف تجارت کے لیے آئے ہیں۔ میں نے بتایا اگر کوئی شخص آیا تو لڑائی کی نیت سے ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ تجارت بھی کر رہا ہے اس کو حصہ ملے گا۔ یہ اس شخص کی بات ہو رہی ہے جو صرف تجارت کی نیت سے آیا ہے، تو جب یہ صرف تجارت کی نیت سے آیا ہے تو اس کے اندر غنیمت کا مستحق ہونے کا سبب نہیں پایا گیا، یعنی اس نے سرحد کو جہاد کی نیت سے عبور نہیں کیا بھئی۔ تو یہ ظاہری طور پر غنیمت کا مستحق نہیں۔ تو یہ معنی ہے: وَلَنَا أَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الْمُجَاوَزَةُ عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ ہماری دلیل یہ ہے کہ لڑائی کے ارادے کے ساتھ مجاوزت نہیں پائی گئی، لڑائی کے ارادے کے ساتھ سرحد کو عبور کرنا نہیں پایا گیا، فَانْعَدَمَ السَّبَبُ الظَّاهِرُ لہٰذا غنیمت کا ظاہری سبب معدوم ہوا، ان کے حق میں غنیمت کا مستحق ہونے کا ظاہری سبب نہیں۔ ہاں، اب سببِ حقیقی کو دیکھیں گے۔ بھئی یاد رکھو غنیمت کا مستحق ہونا ایک اس کا سببِ ظاہری ہے، ایک اس کا سببِ حقیقی ہے۔ سببِ ظاہری یہ ہے کہ مملکتِ اسلامیہ کی سرحد عبور کرے جہاد کی نیت سے، اور سببِ حقیقی یہ ہے کہ لڑائی کے اندر حصہ لے، لڑائی کرے۔ تو لہٰذا یہ جو تجارت کے لیے آئے ہیں ان کے حق میں سببِ ظاہری تو نہیں پایا گیا، تو اب سببِ حقیقی کو دیکھا جائے گا کہ انہوں نے حقیقتاً لڑائی میں حصہ لیا یا نہیں۔ اگر انہوں نے حقیقتاً لڑائی میں حصہ لیا ہے تو پھر ان کو حصہ ملے گا ورنہ ان کو حصہ نہیں ملے گا غنیمت میں سے۔ تو کہتے ہیں: فَانْعَدَمَ السَّبَبُ الظَّاهِرُ تو سببِ ظاہری ان کے حق میں معدوم ہوا، فَيُعْتَبَرُ السَّبَبُ الْحَقِيقِيُّ وَهُوَ الْقِتَالُ تو اب سببِ حقیقی کا اعتبار کیا جائے گا اور وہ لڑائی ہے، فَيُفِيدُ الِاسْتِحْقَاقَ عَلَى حَسَبِ حَالِهِ فَارِسًا أَوْ رَاجِلًا عِنْدَ الْقِتَالِ بھئی یاد رکھو، مجاہدین جو جہاد کے لیے گئے ہیں، جو پیدل گیا ہے اس کو صرف ایک حصہ ملے گا مالِ غنیمت میں سے، اور جو گھوڑا لے کر گیا ہے تو اس کو دو حصے ملیں گے بھئی مالِ غنیمت میں سے۔ توجہ ہے؟ ایک حصہ اس مجاہد کا ہو گا اور ایک اس کے گھوڑے کا حصہ ہے، تو مالِ غنیمت کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ جو پیدل آیا ہے اس کو ایک حصہ ملے گا اور جو سوار ہو کر آیا ہے اس کو اس پیدل کے مقابلے میں دگنا حصہ ملے گا یعنی دو حصے ملیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن بات وہی ہے کہ جب اس نے مملکتِ اسلامیہ کی سرحد عبور کی اس وقت دیکھا جائے گا کہ اس وقت یہ پیدل تھا یا سوار تھا۔ اگر یہ پیدل تھا تو اس کو ایک حصہ ملے گا، اگر یہ سوار تھا تو اب اس کو دو حصے ملیں گے۔ اگر ایک مجاہد نے یہاں آ کر گھوڑا خریدا ہے اور پھر اب وہ اس پر جہاد کر رہا ہے تو اس کو ایک ہی حصہ ملے گا۔ اس کو ایک ہی حصہ ملے گا کیونکہ سرحد عبور کرتے ہوئے یہ پیدل تھا بھئی۔ تو بات چل رہی تھی یہ جو تجارت کے لیے لوگ آئے تھے لشکر کے ساتھ، ان کے حق میں غنیمت کا سببِ ظاہری تو نہیں ہے تو پھر حقیقی سبب کو دیکھا جائے گا کہ انہوں نے لڑائی میں حصہ لیا یا نہیں۔ اگر لڑائی میں حصہ لیا ہے پھر ان کو غنیمت میں سے حصہ ملے گا، اور پھر یہ بھی دیکھا جائے گا کہ لڑائی کے اندر انہوں نے پیدل حصہ لیا لڑائی کے اندر یا اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حصہ لیا۔ اگر انہوں نے پیدل حصہ لیا ہے تو ان کو ایک حصہ ملے گا، اور اگر انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر لڑائی کی ہے تو اب ان کو دو حصے ملیں گے۔ تو کہتے ہیں: فَيُعْتَبَرُ السَّبَبُ الْحَقِيقِيُّ وَهُوَ الْقِتَالُ فَيُفِيدُ الِاسْتِحْقَاقَ عَلَى حَسَبِ حَالِهِ تو لہٰذا اب اس تاجر کے سلسلے میں سببِ حقیقی کا اعتبار کیا جائے گا اور وہ لڑائی ہے، تو لہٰذا یہ اس کے مستحق ہونے کا فائدہ دے گا یعنی اگر اس نے لڑائی کی ہے یہ اس کے مستحق ہونے کا فائدہ دے گا، عَلَى حَسَبِ حَالِهِ اس کے حال کے مطابق، فَارِسًا أَوْ رَاجِلًا عِنْدَ الْقِتَالِ سوار ہو یا پیدل، اس کے مطابق یہ مستحق ہو گا بھئی، اگر سوار ہے تو دو حصے ملیں گے اور اگر پیدل ہے تو ایک حصہ۔ تو یہ معنی ہے: فَيُفِيدُ الِاسْتِحْقَاقَ عَلَى حَسَبِ حَالِهِ فَارِسًا أَوْ رَاجِلًا عِنْدَ الْقِتَالِ تو یہ اس کی حالت کے مطابق مستحق ہونے کا فائدہ دے گا باعتبار اس کے کہ وہ سوار ہے یا پیدل ہے لڑائی کے وقت۔ وَمَا رَوَاهُ مَوْقُوفٌ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر موقوف ہے۔ یہ جو حدیث انہوں نے ذکر کی ”الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ“ کہ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو لڑائی کے اندر حاضر ہو، تو ہم کہتے ہیں یہ حضور علیہ السلام کا قول نہیں ہے بلکہ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ اور یاد رکھو عند الاحناف صحابی کا قول بھی حجت اور دلیل ہے۔ صحابی کا قول بھی حجت اور دلیل ہے، تو اس پر احناف پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ اگر یہ بھی کہہ دیں کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے پھر بھی یہ صحابی کا قول ہے، یہ خلیفۂ راشد کا قول ہے لہٰذا یہ حجت ہے۔ تو پھر آپ اس کے لیے امام شافعی رحمہ اللہ کو کیسے جواب دے رہے ہیں کہ یہ حضور کا قول نہیں ہے یہ صحابی کا قول ہے؟ چاہے حضور کا قول ہو چاہے صحابی کا قول ہو دونوں حجت ہیں۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو اس کا جواب دیتے ہیں علماء کہ بھئی یہاں ہم امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صحابی کا قول حجت نہیں ہے، تو ان کے مذہب کے مطابق ہم انہیں جواب دے رہے ہیں کہ یہ حضور کا قول ہی نہیں ہے، یہ تو صحابی کا قول ہے اور صحابی کا قول تو آپ کے نزدیک حجت نہیں ہے، لہٰذا آپ اس کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَمَا رَوَاهُ مَوْقُوفٌ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت فرمایا وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر موقوف ہے، أَوْ تَأْوِيلُهُ أَنْ يَشْهَدَهَا عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ یا اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ وہ لڑائی میں لڑائی کے ارادے سے حاضر ہو۔ یہ جو حدیث میں آیا ”الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ“ غنیمت اس کے لیے ہے جو لڑائی میں حاضر ہو، مراد یہ ہے جو لڑائی میں لڑائی کے ارادے سے حاضر ہو اس کے لیے غنیمت ہے، ہر ایک یہاں مراد نہیں ہے۔ أَوْ تَأْوِيلُهُ أَنْ يَشْهَدَهَا عَلَى قَصْدِ الْقِتَالِ یا اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ وہ اس لڑائی میں لڑائی کے ارادے سے حاضر ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔