آگے سبق دیکھیے بھئی۔ قَالَ: ”وَمَنْ سَرَقَ شَيْئًا مِنْ حِرْزٍ أَوْ مِنْ غَيْرِ حِرْزٍ وَصَاحِبُهُ عِنْدَهُ يَحْفَظُهُ قُطِعَ؛ لِأَنَّهُ سَرَقَ مَالًا مُحْرَزًا بِأَحَدِ الْحِرْزَيْنِ. وَلَا قَطْعَ عَلَى مَنْ سَرَقَ مَالًا مِنْ حَمَّامٍ أَوْ مِنْ بَيْتٍ أُذِنَ لِلنَّاسِ فِي دُخُولِهِ فِيهِ“. بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے ”فَصْلٌ فِي الْحِرْزِ وَالْأَخْذِ مِنْهُ“ شروع کی تھی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ جو مسائل ذکر کریں گے کہ کن صورتوں میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، تو بین السطور وہ علماء اور محشی حضرات ضابطے بھی ذکر فرماتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبِ ہدایہ وہ ضابطے تو ذکر نہیں فرماتے، البتہ وہ جو مسائل ذکر کر رہے ہیں ان سے وہ سارے ضابطے واضح طور پر مفہوم ہوتے ہیں بھئی۔ تو اس باب کے اندر سات ضابطے کل ذکر ہوں گے بھئی، اور تین چار ضابطے ہم پڑھ چکے بھئی۔ پہلا ضابطہ ہم نے یہ پڑھا تھا کہ حرز کے اندر اگر کسی کو بے تکلفی سے آنے جانے کی اجازت ہو تو وہ حرز اس کے لیے حرز رہا ہی نہیں، لہٰذا وہاں سے اگر وہ شخص چوری کرے گا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مثلاً اپنی اولاد ہے یا اپنے اصول ہیں یعنی باپ دادا وغیرہ ہیں یا اسی طرح قریبی محرم رشتے دار ہیں۔ یہ سب بے تکلفی سے ایک دوسرے کے پاس بغیر اجازت کے آتے جاتے ہیں، لہٰذا ان میں سے کوئی دوسرے سے چوری کر لے گا تو اس چوری کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مال جس کو چوری کیا گیا ہے اس کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ حرز کو دیکھا جائے گا۔ لہٰذا اگر اپنے قریبی محرم رشتے دار کے مال کو چوری کر لیا لیکن کسی اجنبی کے گھر سے چوری کیا ہے، تو مال تو بے شک قریبی محرم رشتے دار کا ہے لیکن اجنبی کا گھر تو حرز ہے، تو اس صورت میں اس آدمی کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور اس کا اگر برعکس کر لیں، اپنے قریبی محرم رشتے دار کے گھر سے چوری کی ہے اور مال کسی اجنبی کا تھا، تو مال تو بے شک اجنبی کا ہے لیکن یہاں حرز موجود نہیں ہے لہٰذا اس میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی مسئلہ بیان فرمایا کہ کوئی شخص اگر اپنی رضاعی ماں سے چوری کر لے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رضاعی ماں سے چوری کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ رضاعی ماں کے پاس انسان بے تکلفی سے بغیر اجازت کے اور بغیر جھجھک کے آتا جاتا ہے، تو وہاں حرز نہیں، جب حرز نہیں تو ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں رضاعی بہن کے ساتھ اتنی بے تکلفی نہیں ہوتی لہٰذا رضاعی بہن سے اگر کوئی چوری کر لیتا ہے تو وہاں بالاتفاق چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ظاہرِ روایت کے مطابق رضاعی ماں سے بھی اگر کوئی چوری کر لیتا ہے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں پر اگرچہ محرمیت موجود ہے لیکن کوئی قریبی رشتہ نہیں۔ رضاعت کی وجہ سے یہ عورت اس کی محرم تو بن گئی لیکن کوئی اور نسبی رشتہ نہیں، اور وہ محرمیت جو بغیر کسی نسبی رشتے کے ہوتی ہے اس کا وہ احترام نہیں کیا جاتا۔ اور نیز رضاعت جو ہے وہ کم مشہور ہوتی ہے، ہر ایک کو اس کا پتہ نہیں ہوتا، تو رضاعی ماں یا رضاعی بہن کے پاس انسان اتنی بے تکلفی سے نہیں آتا جاتا تہمت کے مقام سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔ اس لیے کیونکہ رضاعت کا پتہ دو چار آدمیوں کو تو ہوگا لیکن اکثر کو تو پتہ ہی نہیں ہے، وہ تو بدگمانی کریں گے کہ اس آدمی کا اس عورت کے ساتھ کوئی نسبی رشتہ نہیں ہے، یہ پھر بھی اس کے پاس بے تکلفی کے ساتھ آتا جاتا ہے، تو لوگ بدگمانی کریں گے۔ تو بدگمانی سے بچنے کے لیے رضاعی ماں یا رضاعی بہن کے پاس آنا جانا زیادہ نہیں ہوتا بھئی، وہاں بے تکلفی نہیں ہوتی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک دوسرے سے چوری کر لے یا غلام اپنے آقا سے چوری کر لے، تو ان صورتوں میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں حرز نہیں ہے، سب بے تکلفی سے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں بھئی۔ البتہ اگر کوئی حرز خاص ہے خاوند کا اور اس میں بیوی کو جانے کی اجازت نہیں، یا بیوی کا حرز ہے اس میں خاوند کو جانے کی اجازت نہیں، تو اس سے اگر کوئی چوری کر لے تو امام شافعی رحمہ اللہ کے اس سلسلے میں تین قول ہیں۔ ہمارے نزدیک تو مسئلہ اسی طرح ہے، چاہے خاص حرز ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی میاں بیوی میں سے کوئی ایک چوری کر لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خاوند بیوی کے خاص حرز سے چوری کر لے یا بیوی خاوند کے خاص حرز سے چوری کر لے یعنی جس میں دوسرے کو جانے کی اجازت نہیں، تو ایک قول کے مطابق اس چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا، دوسرا قول ان کا اس سلسلے میں یہ ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور تیسرا قول اس سلسلے میں ان کا یہ ہے کہ اگر چوری کرنے والا خاوند ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر بیوی ہے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی بیان فرمایا کہ اگر آقا اپنے مکاتب سے چوری کر لے تو پھر آقا کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ مکاتب کے مال میں آقا کا حق ہے۔ مکاتب اسی لیے تو پیسے کما رہا ہے کہ لا کر آقا کو ادا کرے اور اپنے آپ کو آزاد کروائے، تو مکاتب کے مال میں آقا کا حق ہے۔ یا اسی طرح ایک آدمی مالِ غنیمت میں سے چوری کر لیتا ہے تو اس غنیمت کے اندر اس چور کا چونکہ حصہ ہے لہٰذا اس چوری کے اندر اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ لیکن میں نے بتایا یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جب چور کا بھی اس غنیمت میں حصہ ہو یعنی وہ بھی لشکر کے ساتھ شامل تھا، لڑائی کے اندر شامل تھا، تو غنیمت میں اس کا بھی حصہ ہے بھئی۔ لیکن اگر چور ایسا شخص ہے کہ غنیمت میں اس کا حصہ نہیں ہے، وہ تو لشکر میں شامل ہی نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ حرز دو قسم پر ہے بھئی: ایک حرز بالمکان ہے اور ایک حرز بالحافظ ہے۔ حرز بالمکان جو ہے وہ چیز یا وہ جگہ جس کو تیار ہی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے، اس کو بنایا ہی حفاظت کے لیے جاتا ہے جیسے گھر ہے، دکان ہے یا صندوق ہے وغیرہ۔ یہ سب جگہیں بنائی ہی کس لیے جاتی ہیں؟ چیزوں کی حفاظت کے لیے۔ اور ایک ہے حرز بالحافظ، یعنی کوئی حفاظت کرنے والا اپنے سامان کی حفاظت کر رہا ہو، مثلاً ایک شخص مسجد کے اندر بیٹھا ہے اس کا سامان اس کے پاس ہے، تو مسجد میں نے بتایا حرز نہیں ہے کیونکہ مسجد میں عام لوگوں کو آنے جانے کی اجازت ہے، مسجد کو عبادت کے لیے بنایا گیا ہے، سامان کی حفاظت کے لیے نہیں بنایا گیا، اور مسجد میں عام لوگوں کو آنے جانے کی اجازت ہوتی ہے، تو مسجد حرز نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر سامان کے پاس وہ آدمی خود موجود ہے مسجد کے اندر، تو یہاں حرز بالحافظ ہے بھئی، لہٰذا حرز بالحافظ سے بھی کوئی چوری کر لے گا تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو حاصل یہ کہ دوسرا ضابطہ یہ بیان ہوا اس باب کے اندر کہ چاہے حرز بالمکان ہو چاہے حرز بالحافظ ہو، جس سے بھی چور چوری کر لے گا، جس حرز کو بھی چور توڑے گا، تو اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، چاہے حرز بالمکان کو وہ توڑے چاہے حرز بالحافظ کو وہ توڑے، اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ جہاں حرز بالمکان ہو وہاں حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں۔ حرز بالمکان اصل ہے، اس کو بنایا ہی حفاظت کے لیے گیا ہے، لہٰذا جب حرز بالمکان موجود ہے تو وہاں حرز بالحافظ کو نہیں دیکھا جائے گا۔ میں نے بتلایا تھا مثلاً دیکھیں ایک آدمی ہے، اس کا کمرہ ہے، کمرے کے اندر اس کا سامان رکھا ہوا ہے، اب یہ سامان جو ہے محفوظ ہے کمرے کے اندر۔ اس کا حرز کیا ہے؟ یہ کمرہ ہے۔ لیکن ایک مہمان آیا، اس مہمان کو یہ خود اپنے ساتھ کمرے کے اندر لے گیا۔ اب جب مہمان کمرے کے اندر چلا گیا تو یہ اب کمرہ اس مہمان کے لیے حرز نہ رہا، لہٰذا اس کمرے سے اگر یہ آدمی مہمان چوری کر لے گا تو مہمان کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ یہاں حرز نہ رہا، مالک خود ہی اس کو حرز کے اندر لے گیا۔ اور آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ بھئی مالک تو وہاں موجود تھا، اگر حرز بالمکان نہیں تھا لیکن حرز بالحافظ تو ہے لہٰذا ہاتھ کٹنا چاہیے، تو ضابطہ بتلا چکے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی جب حرز بالمکان ہو تو پھر حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں، تو یہ کمرہ جب حرز ہے تو یہاں پھر حافظ کا اعتبار نہیں، تو کمرے ہی کا اعتبار کیا جائے گا صرف اور کمرے کے اندر تو یہ خود مہمان کو اپنے ساتھ لے گیا تھا، لہٰذا کمرہ حرز نہ رہا اور جب حرز نہ رہا تو یہاں سے چوری کرنے کی صورت میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ معلوم ہوا یہ تیسرا ضابطہ ذکر کر دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ حرز بالمکان جو ہے وہ اصل ہے اور حرز بالحافظ جو ہے فرع ہے، اور جب اصل ہو تو پھر فرع کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا بھئی۔ اور نیز اسی کے اندر چوتھا ضابطہ بھی ذکر ہو گیا تھا، بیچ میں ہی بیان ہو گیا تھا، چوتھا ضابطہ یہ ذکر ہوا تھا کہ حرز بالمکان کے اندر ہاتھ تب کاٹیں گے جب چور حرز کو توڑ دے، اور حرز کو چور تب توڑے گا جب سامان کو لے کر اس جگہ سے نکل جائے۔ جب سامان لے کر چور کمرے سے نکل گیا اب ہم کہیں گے اس نے حرز توڑ دیا، اب اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لیکن اگر چور نے سامان اٹھا لیا سر پر رکھا ہے ابھی باہر نہیں نکلا تھا کمرے سے کہ مالک پہنچ گیا اور اس نے چور کو پکڑ لیا، تو اب چور نے سامان تو بے شک اٹھایا ہے لیکن ابھی حرز کو توڑا نہیں، سامان لے کر وہ باہر نکلا ہی نہیں، جب وہ باہر نہیں نکلا تو اس میں ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔ جبکہ حرز بالحافظ جو ہے اس کے اندر چور جیسے ہی اس سامان کو اٹھا لے گا ساتھ ہی حرز ٹوٹ گیا۔ حرز بالمکان کے اندر اس مکان سے باہر سامان لے جائے گا تو پھر حرز ٹوٹے گا، اور حرز بالحافظ میں چور صرف اس سامان کو اٹھا لے، جیسے ہی وہ اس کو اٹھائے گا ساتھ ہی حرز ٹوٹ گیا، لہٰذا اس میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور اس سے ایک اور بات بھی خود بخود واضح ہو گئی کہ معلوم ہوا حرز بالمکان قوی ہے جبھی جب تک چور سامان باہر نہیں لے کر جائے گا وہ ٹوٹے گا نہیں، اور جبکہ حرز بالحافظ ضعیف ہے، چور جیسے ہی سامان کو ہاتھ میں اٹھائے گا ساتھ ہی حرز ٹوٹ گیا۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ چار ضابطے گزشتہ سبق میں ہم نے پڑھ لیے تھے حرز کے بارے میں۔ پہلا ضابطہ یہ تھا کہ حرز کے اندر جب کسی کو داخل ہونے کی اجازت ہو تو وہاں حرز باقی نہیں رہتا، اور دوسرا ضابطہ ہم نے یہ پڑھا تھا کہ چاہے حرز بالمکان ہو چاہے حرز بالحافظ ہو، دونوں میں جب بھی حرز توڑا جائے گا تو اس میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور تیسرا ضابطہ ہم نے یہ پڑھا کہ حرز بالمکان اصل ہے اور حرز بالحافظ فرع ہے، اور اصل کے ہوتے ہوئے فرع کو نہیں دیکھا جائے گا، اور چوتھا ضابطہ ہم نے یہ پڑھا کہ حرز بالمکان کے اندر وہ مکان سے سامان چور باہر لے کر نکلے گا تب حرز ٹوٹے گا جبکہ حرز بالحافظ میں سامان اٹھاتے ہی حرز ٹوٹ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”قَالَ: وَمَنْ سَرَقَ شَيْئًا مِنْ حِرْزٍ أَوْ مِنْ غَيْرِ حِرْزٍ وَصَاحِبُهُ عِنْدَهُ يَحْفَظُهُ قُطِعَ“. بھئی وہی ضابطے اور انہی پر آگے اور مسائل بھی صاحبِ ہدایہ اور صاحبِ قدوری ذکر فرما رہے ہیں۔ یہ جو ”قَالَ“ آیا ”قَالَ: وَمَنْ سَرَقَ شَيْئًا“ اس ”قَالَ“ سے مراد صاحبِ قدوری ہیں۔ بھئی اب آپ مجھے مسئلے بتاتے جائیے، ضابطے اور قوانین آپ نے پڑھ لیے۔ ایک شخص ایک کمرے کے اندر آیا اور کمرے سے سامان چوری کر کر لے گیا، جی ہاتھ کاٹیں گے اس کا یا ہاتھ نہیں کاٹیں گے؟ ہاتھ کاٹیں گے اگر نصاب کے بقدر مال اس نے چوری کیا ہے کیونکہ اس نے حرز توڑ دیا۔ دوسری صورت: حرز نہیں ہے، ایک آدمی گلی میں بیٹھا ہوا ہے اور اس نے اپنا سامان اپنے پاس رکھا ہوا ہے، ایک آدمی آیا اور اس کی ذرا غفلت ہوئی اور ایک آدمی آیا اور اس کا سامان اٹھا کر لے گیا، تو ہاتھ کاٹیں گے یا نہیں کاٹیں گے؟ ہاتھ کاٹیں گے کیونکہ یہاں حرز بالمکان تو ہے نہیں، تو یہاں حرز بالحافظ معتبر ہے اور حرز بالحافظ سے وہ سامان لے گیا ہے تو اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تیسری صورت مجھے آپ بتائیے: ایک شخص دکان کے اندر ہے، دکان کے اندر بیٹھا ہوا ہے اور ایک گاہک آتا ہے خریدار آتا ہے اور آ کر چیزوں کی قیمتیں وغیرہ پوچھتا ہے اور پھر چلا جاتا ہے، تھوڑی دیر بعد اس دکاندار نے دیکھا تو وہ شخص چیزیں چرا کر لے جا چکا ہے، اب آپ مجھے بتائیے اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، شاباش! وجہ یہ، وجہ یہ کہ یہ دکان جو بنائی جاتی ہے یہ حفاظت کے لیے ہوتی ہے، تو یہ حرز بالمکان ہے، اور دکان کے اندر تو لوگوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے، تو جب آپ نے لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دے دی تو یہ حرز نہ رہا، اب بے شک آپ خود موجود ہیں، مالک خود موجود ہے یعنی حرز بالحافظ ہے لیکن حرز بالحافظ کا تو اعتبار ہی نہیں ہے جب حرز بالمکان موجود ہو، بات سمجھ میں آ گئی۔ جی دیکھیے بھئی: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ شَيْئًا مِنْ حِرْزٍ“ اور جس نے کوئی چیز چوری کر لی حرز سے، ”أَوْ مِنْ غَيْرِ حِرْزٍ“ یا کسی شخص نے کوئی چیز چوری کر لی غیرِ حرز سے، ”وَصَاحِبُهُ عِنْدَهُ“ اس حال میں کہ اس چیز کا مالک اس چیز کے پاس ہی تھا، جگہ تو غیرِ حرز تھی یعنی مسجد تھی یا راستہ تھا لیکن مالک اس کے پاس موجود تھا اور اس کی حفاظت کر رہا تھا تو اس صورت میں بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ شَيْئًا مِنْ حِرْزٍ“ اور جس نے کوئی چیز حرز سے چوری کر لی، ”أَوْ مِنْ غَيْرِ حِرْزٍ“ یا کسی نے غیرِ حرز سے چوری کی، ”وَصَاحِبُهُ عِنْدَهُ يَحْفَظُهُ“ اور اس چیز کا مالک اس چیز کے پاس ہی اس کی حفاظت کر رہا تھا، ”قُطِعَ“ تو ان دونوں صورتوں میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّهُ سَرَقَ مَالًا مُحْرَزًا بِأَحَدِ الْحِرْزَيْنِ“، ”لِأَنَّهُ سَرَقَ مَالًا“ اس لیے کیونکہ چور نے ایسا مال چوری کیا ہے، ”مُحْرَزًا“ جس کی حفاظت کی گئی تھی، ”بِأَحَدِ الْحِرْزَيْنِ“ دو حرزوں میں سے ایک کے ذریعے، ایک میں حرز بالمکان تھا اور ایک میں حرز بالحافظ تھا، تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا چور کا جب کہ وہ مال نصاب کے بقدر ہو یعنی دس درہم یا اس سے زیادہ کا ہو بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا قَطْعَ عَلَى مَنْ سَرَقَ مَالًا مِنْ حَمَّامٍ أَوْ مِنْ بَيْتٍ أُذِنَ لِلنَّاسِ فِي دُخُولِهِ فِيهِ“. بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے حمام سے کوئی چیز چوری کر لی۔ حمام بھئی جو بازار میں نہانے کی جگہ بنی ہو، غسل خانے، تو حمام سے ایک شخص نے چوری کر لی تو یاد رکھو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ حمام کے اندر لوگوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے بھئی۔ دوسری صورت: ایک کمرہ ہے وہ حرز ہے لیکن اس کے اندر لوگوں کو آنے کی اجازت دے دی گئی، مثلاً دکان ہے، دکان ہے تو اس دکان سے بھی اگر کوئی چوری کر لے گا تو اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ“ اور ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے، ”عَلَى مَنْ سَرَقَ مَالًا“ اس شخص پر جس نے مال چوری کیا، ”مِنْ حَمَّامٍ“ حمام سے، ”أَوْ مِنْ بَيْتٍ“ یا ایسے کمرے سے، ”أُذِنَ لِلنَّاسِ فِي دُخُولِهِ فِيهِ“ کہ لوگوں کو اجازت دی گئی ہے اس میں داخل ہونے میں، لوگوں کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے بھئی۔ ”لِوُجُودِ الْإِذْنِ عَادَةً“ اس وجہ سے کہ عادتاً اجازت پائی جاتی ہے، یعنی حمام کے اندر داخل ہونے کی عادتاً یعنی عام طور پر اس میں داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے سب کو، تو یہ معنی ہے ”لِوُجُودِ الْإِذْنِ عَادَةً“ عادتاً اجازت پائے جانے کی وجہ سے، ”أَوْ حَقِيقَةً“ یا حقیقتاً اجازت پائی جا رہی ہے، ”فِي الدُّخُولِ“ داخل ہونے میں یعنی اس کمرے میں۔ بھئی دیکھو یہ صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر کر رہے ہیں، پیچھے دو چیزیں ذکر کیں: ایک حمام اور ایک کمرہ۔ حمام کے اندر عادتاً لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے لہٰذا وہاں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور کمرے کے اندر حقیقتاً لوگوں کو اجازت دی گئی ہے کہ آپ آ سکتے ہیں اندر، تو وہاں پر بھی جب حقیقتاً اجازت موجود ہے تو اب حرز نہ رہا تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے، پھر عبارت دیکھ لیجیے: ”لِوُجُودِ الْإِذْنِ عَادَةً أَوْ حَقِيقَةً فِي الدُّخُولِ“ اس لیے کیونکہ داخل ہونے کے اندر یا تو عادتاً اجازت ہے یا حقیقتاً۔ عادتاً اجازت کس میں ہے؟ حمام میں، اور حقیقتاً اجازت کس میں ہے؟ کمرے میں کہ حقیقتاً اجازت دی ہے لوگوں کو آنے کی، ویسے تو عام طور پر عادتاً کمرے میں آنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس کمرے میں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِوُجُودِ الْإِذْنِ عَادَةً أَوْ حَقِيقَةً فِي الدُّخُولِ“ عادتاً یا حقیقتاً دخول کے اندر اجازت کے پائے جانے کی وجہ سے، ”فَاخْتَلَّ الْحِرْزُ“ تو حرز میں خلل آ گیا، ”فَاخْتَلَّ الْحِرْزُ“ حرز میں خلل آ گیا یا یوں کہیں حرز کے اندر خرابی آ گئی، حرز پوری طرح باقی نہ رہا۔ ”وَيَدْخُلُ فِي ذَلِكَ حَوَانِيتُ التُّجَّارِ وَالْخَانَاتُ“۔ ”حَوَانِيتُ“ جمع ہے حانوت کی، اور حانوت دکان کو کہتے ہیں۔ ”خَانَاتُ“ بھئی، خانات جمع ہے خان کی، اور خان جو ہے دکان اور ہوٹل کو کہتے ہیں۔ خان کسے کہتے ہیں؟ دکان اور ہوٹل، لیکن یہاں اس سے ہوٹل اور مسافر خانہ مراد لیں کیونکہ دکان کا ذکر پیچھے آ گیا حوانيت بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَدْخُلُ فِي ذَلِكَ“ اور اسی کے اندر داخل ہیں، ”حَوَانِيتُ التُّجَّارِ“ تاجروں کی دکانیں، ”وَالْخَانَاتُ“ اور مسافر خانے، ”إِلَّا إِذَا سَرَقَ مِنْهَا لَيْلًا“ ہاں مگر یہ کہ اگر اس میں سے رات کو چوری کر لے، بھئی دکان کے اندر دن کے وقت لوگوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے، رات کے وقت آنے کی اجازت نہیں، لہٰذا رات کو اگر دکان سے کوئی چوری کرے گا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا إِذَا سَرَقَ مِنْهَا لَيْلًا“ مگر یہ کہ اس سے رات کے وقت چوری کر لے، ”لِأَنَّهَا بُنِيَتْ لِإِحْرَازِ الْأَمْوَالِ“ اس لیے کیونکہ ان کو بنایا گیا ہے ”لِإِحْرَازِ الْأَمْوَالِ“ مالوں کی حفاظت کے لیے، دکان اور ہوٹل وغیرہ کیا ہیں؟ یہ مالوں کی حفاظت کے لیے ہیں، ”وَإِنَّمَا الْإِذْنُ يَخْتَصُّ بِالنَّهَارِ“ اور اجازت جو ہے وہ خاص ہوتی ہے دن کے وقت، دن کے وقت آنے کی اجازت ہوتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ سَرَقَ مِنَ الْمَسْجِدِ مَتَاعًا وَصَاحِبُهُ عِنْدَهُ قُطِعَ“ اور جس نے مسجد سے کوئی سامان چوری کر لیا اس حال میں کہ سامان کا مالک سامان کے پاس ہی تھا تو اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّهُ مُحْرَزٌ بِالْحَافِظِ“ اس لیے کیونکہ یہ سامان جو تھا محفوظ تھا حافظ کے ذریعے، حفاظت کرنے والے کے ذریعے، ”لِأَنَّ الْمَسْجِدَ مَا بُنِيَ لِإِحْرَازِ الْأَمْوَالِ“ اس لیے کیونکہ مسجد جو ہے اس کو نہیں بنایا گیا مالوں کی حفاظت کے لیے، مسجد تو عبادت کے لیے بنی ہے مال کی حفاظت کے لیے نہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَسْجِدَ مَا بُنِيَ لِإِحْرَازِ الْأَمْوَالِ“ اس لیے کیونکہ مسجد جو ہے اس کو اموال کی حفاظت کے لیے نہیں بنایا گیا، ”فَلَمْ يَكُنِ الْمَالُ مُحْرَزًا بِالْمَكَانِ“ تو وہ مال جو ہے محرز بالمکان نہ ہوا، مسجد کے اندر جو سامان پڑا ہے وہ محرز بالمکان یعنی مکان کے ذریعے محفوظ کیا ہوا نہیں ہے بھئی، ”فَلَمْ يَكُنِ الْمَالُ مُحْرَزًا بِالْمَكَانِ“ تو وہ مال جو ہے مکان کے ذریعے محفوظ نہ ہوا، ”بِخِلَافِ الْحَمَّامِ وَالْبَيْتِ الَّذِي أُذِنَ لِلنَّاسِ فِي دُخُولِهِ“ بخلاف حمام کے اور وہ کمرہ کہ جس کے اندر لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ مسجد حفاظت کی جگہ نہیں لیکن حمام اور کمرہ کیا ہیں؟ حفاظت کی جگہ ہے لیکن پھر جب لوگوں کو اجازت دے دی گئی اندر جانے کی تو اب وہ حفاظت کی جگہ نہ رہی، تو فرق سمجھ میں آیا؟ مسجد تو حفاظت کی جگہ ہے ہی نہیں، البتہ حمام اور ہوٹل اور دکانیں یہ حفاظت کی جگہیں ہیں لیکن چونکہ ان میں لوگوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے تو اگر اجازت نہ ہوتی تو پھر ان سے چوری کے اندر بھی ہاتھ کاٹا جاتا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْحَمَّامِ وَالْبَيْتِ الَّذِي أُذِنَ لِلنَّاسِ فِي دُخُولِهِ“ بخلاف حمام کے اور وہ کمرہ جس کے اندر لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے، ”حَيْثُ لَا يُقْطَعُ“ کیونکہ ان کے اندر نہیں کاٹا جائے گا۔ دیکھو مسجد کے اندر حرز بالحافظ معتبر ہے کیونکہ مسجد خود حرز نہیں، جبکہ حمام اور دکان تو خود حرز ہے لہٰذا وہاں حرز بالحافظ کا اعتبار نہیں ہے، یہ معنی ہے کہ ”حَيْثُ لَا يُقْطَعُ“ کہ حمام اور اس کمرے میں جس میں لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت ہے وہاں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، چاہے محافظ ہی کیوں نہ موجود ہو پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّهُ بُنِيَ لِلْإِحْرَازِ“ اس لیے کیونکہ ان کو بنایا گیا ہے حفاظت کے لیے، کمرہ اور حمام کس لیے ہیں؟ حفاظت کے لیے ہیں، جبھی تو رات کو جب آپ بند کر کے آ جاتے ہیں تو اب اس کے اندر جتنا مال ہے وہ محفوظ ہے، وہاں سے اب کوئی رات کو چوری کرے گا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بُنِيَ لِلْإِحْرَازِ“ اس لیے کیونکہ حمام اور وہ کمرہ ان کو تو حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے، ”فَكَانَ الْمَكَانُ حِرْزًا“ تو وہ مکان حرز ہوا، وہ مکان کیا ہوا؟ حرز ہوا، لیکن جب لوگوں کو اجازت دے دی تو حرز میں خلل آ گیا، ”فَكَانَ الْمَكَانُ حِرْزًا“ تو وہ مکان ہی حرز تھا، ”فَلَا يُعْتَبَرُ الْإِحْرَازُ بِالْحَافِظِ“ لہٰذا وہاں پر احراز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں، حمام کے اندر مالک خود بے شک موجود ہو یا دکاندار خود موجود ہو پھر بھی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ حرز بالمکان جب موجود ہو تو پھر حرز بالحافظ کا اعتبار نہیں ہوتا، یہ معنی ہے ”فَلَا يُعْتَبَرُ الْإِحْرَازُ بِالْحَافِظِ“ لہٰذا احراز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ”وَلَا قَطْعَ عَلَى الضَّيْفِ إِذَا سَرَقَ مِمَّنْ أَضَافَهُ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص کے پاس مہمان آیا، جب مہمان آیا وہ اس کو کمرے کے اندر لے گیا اور اس مہمان نے پھر رات کو چوری کر لی، تو کیا اس مہمان کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، مہمان کو جب کمرے کے اندر یہ لے گیا تو وہ کمرہ مہمان کے لیے حرز نہ رہا، حرز نہ رہا لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ عَلَى الضَّيْفِ“ اور مہمان پر قطع نہیں ہے یعنی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ”إِذَا سَرَقَ مِمَّنْ أَضَافَهُ“ جب وہ چوری کر لے اس آدمی سے جس نے اس کو مہمان بنایا تھا، ”أَضَافَ يُضِيفُ“ کا معنیٰ مہمان بنانا، کسی کو پناہ دینا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ عَلَى الضَّيْفِ إِذَا سَرَقَ مِمَّنْ أَضَافَهُ“ اور مہمان پر ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے جب وہ چوری کر لے اس آدمی سے جس نے اس کو مہمان بنایا تھا، ”لِأَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَبْقَ حِرْزًا فِي حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ وہ کمرہ جو ہے مہمان کے حق میں حرز نہ رہا، وہ کمرہ مہمان کے حق میں حرز ہو کر باقی نہ رہا، ”لِكَوْنِهِ مَأْذُونًا فِي دُخُولِهِ“ اس وجہ سے کہ اس کو اجازت دی گئی ہے داخل ہونے کی، مہمان کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے، ”وَلِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ أَهْلِ الدَّارِ“ اور اس لیے کیونکہ مہمان جو ہے وہ بھی گھر والوں کے درجے میں ہو گیا، جیسے گھر والے گھر کے اندر آتے جاتے ہیں مہمان کو بھی وہاں اجازت مل گئی۔ اور یاد رکھو مثلاً مثلاً گھر کے اندر ایک کمرے کے اندر مہمان کو آنے کی اجازت دی گئی ہے جو بیٹھک ہے مثلاً، باقی گھر کے اندر تو اس کو آنے کی اجازت نہیں اور وہ گھر کے اندر سے رات کو چوری کر کے چلا گیا مہمان، کہتے ہیں پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ سارا گھر ایک ہی حرز ہے۔ جب گھر کے ایک کمرے میں آپ نے اس کو آنے دیا تو گھر اس کے لیے حرز رہا ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ أَهْلِ الدَّارِ“ اور اس لیے کیونکہ مہمان جو ہے وہ گھر والوں کے درجے میں ہو گیا یعنی جیسے گھر والے گھر والوں کو اجازت ہوتی ہے گھر کے اندر آنے کی، ”فَيَكُونُ فِعْلُهُ خِيَانَةً لَا سَرِقَةً“ تو مہمان کا جو فعل ہے وہ خیانت ہے، ”لَا سَرِقَةً“ وہ چوری نہیں ہے بھئی، کیونکہ اس کو اجازت تھی اندر آنے کی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَةً فَلَمْ يُخْرِجْهَا مِنَ الدَّارِ لَمْ يُقْطَعْ“. ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَةً“ یہ عبارت سمجھ لیں بھئی: ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَةً“، یاد رکھو یہ ”سَرِقَةً“ مصدر ہے: ”سَرَقَ يَسْرِقُ سَرَقًا وَسَرِقَةً“، تو یہ سرقہ کیا ہے؟ مصدر، یعنی چوری کرنا، تو چوری کو بھی سرقہ کہتے ہیں۔ اور آپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کبھی اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے معنی میں بھی ہوتا ہے، جیسے عدل بمعنی عادل کے، یا جیسے خلق بمعنی مخلوق کے، تو یہاں پر بھی آگے عبارتوں میں جگہ جگہ ذکر ہوگا اور یاد رکھو یہ مصدر بول کر یہاں مسروق مراد ہے یعنی مصدر اسمِ مفعول کے معنی میں ہے۔ یہ سرقہ کس معنی میں ہے؟ مسروق کے معنی میں، آپ اس کی تا کو نہ دیکھیں گول تا اس کے ساتھ جو جڑی ہوئی ہے، یہ کوئی تانیث والی گول تا نہیں ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ مصدر ہے اور تو یہ سرقہ بمعنی مسروق کے ہے، جیسے خلق بمعنی مخلوق کے۔ تو سرقہ سے مراد ہے مال، کیا مراد ہے؟ مال، جس کو چوری کیا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَةً“ اور جس نے کوئی مال چوری کیا، ”فَلَمْ يُخْرِجْهَا مِنَ الدَّارِ“ پس اس نے اس کو اس گھر سے نہیں نکالا، چور آیا سامان اٹھا لیا ابھی باہر لے کر نہیں نکلا تھا کہ مالک نے آ کر پکڑ لیا، تو اس صورت میں حرز نہیں توڑا، تو حرز نہیں توڑا تو ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ سَرِقَةً“ اور جس نے کوئی مال چوری کیا، ”فَلَمْ يُخْرِجْهَا مِنَ الدَّارِ“ پھر اس نے اس کو گھر سے نہیں نکالا، ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّ الدَّارَ كُلَّهَا حِرْزٌ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ وہ گھر سارا کا سارا ایک ہی حرز ہے، مثلاً ایک چور گھر کے کمرے سے سامان لے کر دوسرے کمرے میں آ گیا یا صحن کے اندر لے کر آ گیا اور مالک نے آ کر پکڑ لیا تو بھی ہاتھ نہیں کٹے گا کیونکہ ابھی تک وہ سامان لے کر گھر سے باہر نہیں نکلا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الدَّارَ كُلَّهَا حِرْزٌ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ سارا گھر ایک ہی حرز ہے، ”فَلَا بُدَّ مِنَ الْإِخْرَاجِ مِنْهَا“ لہٰذا اس گھر سے نکالنا ضروری ہے سامان کا، ”وَلِأَنَّ الدَّارَ وَمَا فِيهَا فِي يَدِ صَاحِبِهَا مَعْنًى“ یہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں: ایک تو یہ وجہ کہ چور نے حرز نہیں توڑا، ابھی سامان لے کر باہر نہیں نکلا لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے، اور دوسری یہ وجہ ہے کہ جب تک گھر کے اندر ہے سامان تو یوں سمجھا جاتا ہے یہ مالکِ مکان ہی کے قبضے میں ہے۔ جب وہ سامان ابھی تک مالکِ مکان کے قبضے میں ہے تو گویا اس نے تو چوری نہیں کی، جب چوری نہیں کی تو ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الدَّارَ وَمَا فِيهَا“ اور اس لیے کیونکہ گھر اور جو کچھ گھر کے اندر ہوتا ہے، ”فِي يَدِ صَاحِبِهَا“ وہ اس مالک کے قبضے میں ہوتا ہے، ”مَعْنًى“ معنی کے اعتبار سے، اس گھر کے مالک کے قبضے میں ہوتا ہے معنی کے اعتبار سے، ”فَيَتَمَكَّنُ شُبْهَةُ عَدَمِ الْأَخْذِ“ تو نہ لینے کا شبہ آ گیا، یہاں چور نے سامان اٹھایا لیکن باہر تو نہیں نکلا اور نیز جب اندر ہے تو گویا مالکِ مکان ہی کا قبضہ ہے، گویا چور نے ابھی تک کچھ چرایا ہی نہیں ہے، اٹھایا ہی نہیں ہے، شبہ آ گیا۔ شبہ ہوتا ہے چور نے ابھی کچھ نہیں اٹھایا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو یہ معنی ہے ”فَيَتَمَكَّنُ شُبْهَةُ عَدَمِ الْأَخْذِ“ تو قرار پکڑ لیا نہ اٹھانے کے شبہے نے، اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے کہ اس نے گویا ابھی سامان اٹھایا ہی نہیں ہے بھئی۔ ”فَإِنْ كَانَتْ دَارٌ فِيهَا مَقَاصِيرُ“۔ مقاصير بھئی صاد کے ساتھ ہے مقاصير، مقاصير یاد رکھو جمع ہے مقصورة کی اور مقصورة کہتے ہیں چھوٹے کمرے کو۔ انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ سارا مکان جو ہوتا ہے وہ ایک حرز ہوتا ہے، اب صورت یہ ہے کہ ایک بڑی بلڈنگ ہے اور اس کے اندر چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں اور ان میں لوگ مختلف لوگ رہتے ہیں، مثلاً ہوسٹل ہے۔ مثلاً ہوسٹل ہے تو کیا اب یہاں پر بھی چور کا ہاتھ تب کاٹیں گے جب وہ اس بلڈنگ سے سامان لے کر باہر نکلے گا؟ کہتے ہیں نہیں، یہاں پر ہر کمرہ الگ حرز ہے۔ لہٰذا کوئی آدمی اگر یہ کمرے کے اندر گیا اور وہاں سے سامان اٹھا کر باہر نکل آیا، ابھی بے شک وہ اس چار دیواری کے اندر ہے لیکن اس نے حرز توڑ دیا ہے کیونکہ ہر کمرہ الگ حرز ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَتْ دَارٌ فِيهَا مَقَاصِيرُ“ اگر کوئی ایسا گھر تھا کہ اس کے اندر چھوٹے کمرے ہیں، ”فَأَخْرَجَهَا مِنْ مَقْصُورَةٍ إِلَى صَحْنِ الدَّارِ“ تو چور نے وہ سامان نکال لیا ایک کمرے سے اس گھر کے صحن کی طرف، ”قُطِعَ“ تو بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں ساری عمارت ایک حرز نہیں ہے بلکہ ہر کمرہ الگ حرز ہے اور اس نے حرز توڑ دیا ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّ كُلَّ مَقْصُورَةٍ بِاعْتِبَارِ سَاكِنِهَا حِرْزٌ عَلَى حِدَةٍ“، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ مَقْصُورَةٍ“ اس لیے کیونکہ ہر چھوٹا کمرہ جو ہے، ”بِاعْتِبَارِ سَاكِنِهَا“ اپنے رہائشی شخص کے اعتبار سے، ”حِرْزٌ عَلَى حِدَةٍ“ وہ علیحدہ حرز ہے، ہر کمرہ اپنے رہائشی آدمی کے اعتبار سے علیحدہ حرز ہے، ہر آدمی کا اپنا اپنا کمرہ ہے بھئی۔ تو ساکن کا کیا معنی؟ رہائش رکھنے والا جو اس میں رہ رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ مَقْصُورَةٍ بِاعْتِبَارِ سَاكِنِهَا حِرْزٌ عَلَى حِدَةٍ“ اس لیے کیونکہ ہر کمرہ جو ہے وہ اپنے رہنے والے کے اعتبار سے ”حِرْزٌ عَلَى حِدَةٍ“ علیحدہ حرز ہے، ”وَإِنْ أَغَارَ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِ الْمَقَاصِيرِ عَلَى مَقْصُورَةٍ“. ”أَغَارَ يُغِيرُ إِغَارَةً“ کا ایک معنی ہوتا ہے حملہ کرنا، اور ایک ”أَغَارَ يُغِيرُ إِغَارَةً“ کا معنی ہے جلدی کرنا، تو یہاں یہ دوسرا معنی مراد ہے جلدی کرنا، کیونکہ حملہ کرنا، حملہ کرنا تو چوری چھپے نہیں ہوگا وہ تو کھلے عام کسی پر کوئی انسان حملہ کرے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں جلدی کرنے کا معنی ہے۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَغَارَ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِ الْمَقَاصِيرِ“ اور ان کمروں کے رہنے والوں میں سے اگر کسی ایک انسان نے جلدی کی، ”عَلَى مَقْصُورَةٍ“ کسی ایک کمرے پر، ”فَسَرَقَ مِنْهَا“ تو اس سے چوری کر لی، انہی کمرے والوں میں سے ایک کمرے والے نے دوسرے کمرے میں جلدی سے گیا، جلدی کی اور وہاں سے کوئی چیز چرا کر نکل آیا تو اس صورت میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ گھر کے اندر آپ مہمان کو لے جاتے ہیں تو حرز اس کے لیے باقی نہیں رہتا لیکن یہاں اس بلڈنگ کے اندر رہنے والے ہر آدمی کا کمرہ الگ ہے تو بلڈنگ میں رہنے کی وجہ سے آپ یہ نہ کہیں کہ جو اندر رہتے ہیں ان کے لیے حرز ہے ہی نہیں، نہیں، ہر کمرہ الگ حرز ہے لہٰذا رہنے والوں میں سے بھی اگر کوئی ایک دوسرے حرز سے چوری کرے گا تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَإِنْ أَغَارَ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِ الْمَقَاصِيرِ عَلَى مَقْصُورَةٍ“ اور ان کمرے والوں میں سے اگر کسی انسان نے جلدی کی کسی ایک کمرے پر، ”فَسَرَقَ مِنْهَا“ اور اس سے چوری کر لیا، ”قُطِعَ“ تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ ہر مقصورہ الگ حرز ہے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِذَا نَقَبَ اللِّصُّ الْبَيْتَ فَدَخَلَ وَأَخَذَ الْمَالَ وَنَاوَلَهُ آخَرَ خَارِجَ الْبَيْتِ فَلَا قَطْعَ عَلَيْهِمَا“. صورت یہ بھئی: دو چور آئے اور آ کر انہوں نے گھر میں نقب لگائی۔ یاد رکھو نقب لگانا یہ پرانا ایک طریقہ تھا چوری کا، قدیم زمانے میں بعض اوقات چور آتے تھے اور وہ دیوار میں نقب لگاتے تھے، دیوار میں سوراخ کر دیتے تھے، ان کے پاس ایسے ایسے آلات ہوتے تھے کہ لمحوں کے اندر دیوار کو کاٹ دیتے اور اس کے اندر سوراخ کر دیتے تھے۔ اب صورت یہ: دو چور آئے اور انہوں نے گھر کے اندر نقب لگائی، ایک چور اس جگہ سے گھر کے اندر چلا گیا اور ایک گھر کے باہر ہی ہے، تو وہ اندر والا گیا اس نے چیزیں وغیرہ اکٹھی کیں اور پھر اس سوراخ کے پاس آ کر باہر والے چور کو چیزیں پکڑا دیں اور پھر وہ دونوں سامان لے کر چلے گئے، تو کہتے ہیں اس صورت میں ایک چور کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، نہ اندر والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا نہ باہر والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اندر والے کا ہاتھ اس لیے نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ وہ سامان لے کر باہر نہیں نکلا، اس نے وہ سامان باہر والے کو پکڑا دیا، اندر ہی سے سامان اکٹھا کیا اور کس کو دے دیا؟ باہر والے کو دے دیا، تو لہٰذا اندر والے چور نے حرز کو نہیں توڑا، وہ خود سامان لے کر باہر نہیں نکلا، اور باہر والے اس نے بھی حرز کو نہیں توڑا کیونکہ یہ تو اندر گیا ہی نہیں، تو دونوں میں سے کسی ایک کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اس کا یہ معنی نہیں ان کو سزا ہی نہیں دیں گے، سزا تو دیں گے، یہاں بات چل رہی ہے صرف ہاتھ کاٹنے کی کہ کن صورتوں میں ہاتھ کاٹنا ہے اور کن صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹنا، باقی ہاتھ کاٹنے کے علاوہ جو سزا قاضی مناسب سمجھے وہ ان چوروں کو دے سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا نَقَبَ اللِّصُّ الْبَيْتَ“، نَقْبْ، نقب کا معنیٰ ہے نقب لگانا، دیوار میں سوراخ کرنا، اور لِصٌّ صاد کے ساتھ ہے بھئی، لص چور کو کہتے ہیں۔ ”وَإِذَا نَقَبَ اللِّصُّ الْبَيْتَ“ اور جب چور نے نقب لگائی ایک کمرے میں، ”فَدَخَلَ“ تو وہ اندر چلا گیا، ”وَأَخَذَ الْمَالَ“ اور اس نے مال لے لیا، ”وَنَاوَلَهُ آخَرَ“ اور وہ دوسرے کو اس نے پکڑا دیا، ناول يناول کا معنی ہے دوسرے کو کوئی چیز پکڑانا۔ ”وَنَاوَلَهُ آخَرَ“ اور اس اندر والے چور نے وہ سامان دوسرے چور کو پکڑا دیا ”خَارِجَ الْبَيْتِ“ وہ چور جو کمرے سے باہر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَنَاوَلَهُ آخَرَ خَارِجَ الْبَيْتِ“ اور اس اندر والے چور نے وہ سامان دوسرے چور کو کمرے سے باہر پکڑا دیا، ”فَلَا قَطْعَ عَلَيْهِمَا“ تو ان دونوں میں سے کسی پر بھی قطع نہیں، کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ بھئی کیوں، ہاتھ کیوں نہیں کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَوَّلَ لَمْ يُوجَدْ مِنْهُ الْإِخْرَاجُ“ اس لیے کیونکہ اول چور بھئی، جو اندر گیا ہے، جس نے نقب لگائی ہے، اس کی طرف سے تو اخراج نہیں پایا گیا، وہ تو سامان لے کر گھر سے باہر نہیں نکلا، اس نے تو اندر سے ہی سامان دوسرے کو پکڑا دیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَوَّلَ لَمْ يُوجَدْ مِنْهُ الْإِخْرَاجُ“ اس لیے کیونکہ پہلا چور جو ہے اس کی طرف سے سامان کا باہر نکالنا نہیں پایا گیا، ”لِاعْتِرَاضِ يَدٍ مُعْتَبَرَةٍ عَلَى الْمَالِ قَبْلَ خُرُوجِهِ“ اعتراض کا معنی ہے پیش آنا، اور ید قبضہ۔ کہتے ہیں: اس وجہ سے کہ ایک معتبر قبضہ پیش آگیا مال پر اس کے نکلنے سے پہلے۔ بھئی دیکھو، اندر والے نے سامان اٹھا کر باہر والے چور کو پکڑایا ہے، تو یہ خود سامان لے کر نہیں نکلا بلکہ اس سامان پر ایک اور آدمی یعنی باہر والے چور کا قبضہ آگیا۔ توجہ ہے؟ پہلے تو سامان پر قبضہ کس کا تھا؟ اندر والے چور کا، لیکن جب اس نے دوسرے چور کو باہر پکڑا دیا تو اب اس سامان پر قبضہ آگیا، کس چور کا؟ باہر والے چور کا۔ اور وہ قبضہ معتبر بھی ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ اس نے باقاعدہ اس سے چیز لے لی ہے، پکڑ لی ہے، تو اس کا قبضہ بھی معتبر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ پہلے کی طرف سے اخراج نہیں پایا گیا ”لِاعْتِرَاضِ يَدٍ مُعْتَبَرَةٍ عَلَى الْمَالِ“ اس وجہ سے کہ ایک معتبر قبضہ پیش آگیا ہے مال پر ”قَبْلَ خُرُوجِهِ“ اس کے نکلنے سے پہلے ہی۔ بھئی آگے ایک مسئلہ ذکر کریں گے، چور نے نقب لگائی اور نقب لگا کر وہ گھر کے اندر چلا گیا، اکیلا چور ہے ایک، دوسری صورت آگے بیان کریں گے صاحبِ ہدایہ، اور پھر اس نے وہ سامان اندر سے نکالا، جمع کیا اور پھر اسی نقب والے سوراخ سے سامان گھر کے باہر اس نے گرا دیا، سامان سارا لے کر خود تو نکل نہیں سکتا تھا، تو اس نے وہ سوراخ سے سارا سامان باہر گرا دیا اور پھر خود باہر نکلا اور سامان اٹھایا اور چلا گیا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ اس نے سامان کو باہر نکالا اور پھر خود باہر نکلا تو سارا ایک ہی آدمی کا قبضہ تھا، بیچ میں کسی اور کا قبضہ آیا ہی نہیں۔ تو یہ سارا فعل کرنے والا ایک ہی ہے، اندر جانے والا بھی اور سامان لے کر باہر نکالنے والا اور پھر اس کو اٹھا کر جانے والا۔ یہ ایک ہی آدمی کا فعل ہے۔ جب ایک ہی آدمی کا فعل ہے تو اس نے تو سامان کو حرز سے نکالا ہے اور اٹھا کر لے گیا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لیکن یہاں پر یہ سامان جب اس نے باہر دوسرے کو دیا تو دوسرے آدمی کا قبضہ آگیا۔ جب دوسرے آدمی کا قبضہ آگیا تو اب یہ سارا فعل ایک آدمی کا نہ رہا۔ جب سارا فعل ایک آدمی کا نہ رہا تو کسی ایک کی طرف سے بھی حرز کا توڑنا نہیں ہے تو کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِاعْتِرَاضِ يَدٍ مُعْتَبَرَةٍ عَلَى الْمَالِ“ اس وجہ سے کہ ایک معتبر قبضہ پیش آگیا ہے مال پر ”قَبْلَ خُرُوجِهِ“ اس کے باہر نکلنے سے پہلے ہی، ”وَالثَّانِي“ اور دوسرا چور جو ہے یعنی وہ جو باہر تھا، ”لَمْ يُوجَدْ مِنْهُ“ اس کی طرف سے نہیں پایا گیا ”هَتْكُ الْحِرْزِ“ حرز کا توڑنا۔ ہتک الحرز کا کیا معنی؟ حرز کا توڑنا، حرز کی پردہ دری، یہ یوں کہو حرز کی بے حرمتی۔ جو باہر تھا وہ تو اندر ہی نہیں گیا، اس کی طرف سے تو حرز کی بے حرمتی نہیں ہوئی، اس نے حرز کو نہیں توڑا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالثَّانِي لَمْ يُوجَدْ مِنْهُ هَتْكُ الْحِرْزِ“ اور وہ جو دوسرا چور ہے، وہ جو گھر سے باہر تھا، اس کی طرف سے تو حرز کی پردہ دری نہیں پائی گئی، اس کی طرف سے تو حرز کا توڑنا نہیں پایا گیا، ”فَلَمْ يَتِمَّ السَّرِقَةُ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ“ لہٰذا چوری پوری نہیں ہوئی ان دونوں میں سے ہر ایک سے۔ یعنی ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی پوری چوری نہیں کی، کچھ کام ایک نے کیا ہے، کچھ کام دوسرے نے کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَتِمَّ السَّرِقَةُ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ“ لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک کی طرف سے پوری چوری نہیں ہوئی، لہٰذا ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو یہاں سے دیکھو پانچواں ضابطہ معلوم ہوگیا۔ پھر دہرا لیں وہ ضابطے: پہلا ضابطہ کیا تھا؟ کہ حرز کے اندر کسی کو آنے جانے کی اجازت ہو تو اس کے لیے حرز نہیں۔ دوسرا ضابطہ یہ تھا کہ جس قسم کا بھی حرز ہو چاہے حرز بالمکان ہو چاہے حرز بالحافظ، اس کو جب توڑا جائے گا تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تیسرا ضابطہ یہ تھا کہ حرز بالمکان کے ہوتے ہوئے حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں۔ چوتھا ضابطہ یہ تھا کہ حرز بالمکان کے اندر جب وہ سامان باہر لے کر جائے گا تب حرز ٹوٹے گا اور حرز بالحافظ کے اندر جیسے ہی سامان اٹھائے گا حرز ٹوٹ جائے گا۔ اب پانچواں ضابطہ گویا بیان ہوگیا۔ پانچواں ضابطہ یہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے کے لیے شرط ہے کہ پوری چوری جو ہے کسی فرد کی طرف سے پائی جائے، چاہے حقیقتاً پوری چوری ہو چاہے حکماً پوری چوری ہو۔ ہاتھ تب ہی کاٹا جائے گا جب چور کی طرف سے پوری چوری پائی جائے، چاہے حقیقتاً پوری چوری ہے چاہے حکماً۔ حقیقتاً چوری جیسے ایک آدمی گھر کے اندر جاتا ہے، سامان اٹھاتا ہے اور باہر لے کر نکل کر چلا گیا، تو یہ حقیقتاً اس نے پوری چوری کی ہے۔ توجہ ہے؟ یا اسی طرح ایک آدمی نقب لگا کر گھر کے اندر گیا اور سامان اس نے باہر ڈال دیا اور پھر خود باہر نکلا اور سامان اٹھا کر چلا گیا، تو یہاں بھی درمیان میں اور کوئی آدمی نہیں آیا تو یہ سارا اسی ایک آدمی کا فعل شمار ہوگا۔ توجہ ہے؟ تو یہ بھی ایک پوری چوری ہے۔ اور بعض اوقات حکماً ہوگا، چوری کا حکم لگایا جائے گا، مثلاً مثلاً کئی چور گھر کے اندر گئے اور سامان صرف ایک نے اٹھایا ہوا ہے اور باہر نکل آئے، تو یاد رکھو اس صورت میں بھی سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ حقیقتاً چوری تو ایک نے کی ہے، سامان اٹھایا ہے، لیکن حکم سب پر لگا دیں گے سب نے چوری کی ہے، سارے اس کے مددگار تھے۔ سارے کیا تھے؟ اس کے مددگار۔ تو چور کا ہاتھ چوری کے اندر تب کاٹا جائے گا جب اس نے حقیقتاً چوری والا فعل پورا کیا ہو یا حکماً اس نے چوری والا فعل کیا ہو۔ جبکہ یہاں پر یہ جو مسئلہ ہم پڑھ رہے ہیں، ایک شخص اندر گیا اور اس نے سامان باہر والے کو پکڑا دیا، تو یہاں ایک کی طرف سے بھی نہ حقیقتاً پوری چوری ہے اور نہ حکماً چوری ہے بھئی، کچھ فعل ایک نے کیا ہے، کچھ فعل دوسرے نے کیا ہے بھئی۔ تو یہ پانچواں ضابطہ ہوگیا بھئی۔ تو کہتے ہیں لہٰذا اس صورت میں کسی ایک کی طرف سے بھی پوری چوری نہیں پائی گئی۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، ادھر دیکھیے بھئی، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی مسئلے میں، دو چور آئے، نقب لگائی، ایک اندر چلا گیا اور ایک باہر ہے۔ تو اس صورت کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اندر والے کا ہاتھ تو ہر حال میں کاٹیں گے۔ اندر والے کی مدد کے بغیر چوری ہو ہی نہیں سکتی، وہ اندر سے سامان لے کر آئے گا۔ توجہ ہے؟ لہٰذا وہ فرماتے ہیں اندر والے کا ہاتھ تو ہر حال میں کاٹیں گے، باہر والے کو دیکھیں گے کہ باہر والا جب سامان پکڑنے لگا تو کیا اس نے اپنے ہاتھ اندر داخل کیے اور اندر سے سامان کھینچ کر باہر نکال لیا، تو پھر اس نے بھی حرز توڑا ہے، اندر کی طرف سے سامان کیا کیا؟ باہر نکال لیا ہے، تو باہر والے کا بھی ہاتھ کاٹیں گے۔ اور اگر اگر باہر والے نے ہاتھ اندر داخل نہیں کیے بلکہ اندر والے نے ہی سامان اس سوراخ سے باہر نکال دیا اور اس نے باہر سے ہی پکڑ لیا، تو پھر اس باہر والے کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ تو ہمارے نزدیک نہ باہر والے کا ہاتھ کاٹیں گے نہ اندر والے کا ہاتھ کاٹیں گے، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اندر والے کا ہاتھ تو ہر حال میں کٹے گا کیونکہ سامان اسی نے اکٹھا کیا، اسی کی مدد سے یہ چوری ہوئی ہے، اور باہر والے کا ہاتھ اگر باہر والے نے ہاتھ اندر داخل کرکے سامان پکڑا اور پھر اس کو باہر نکال لیا تو پھر اس باہر والے کا بھی ہاتھ کاٹیں گے، اس نے بھی حرز کو توڑا ہے، اور اگر باہر والے نے ہاتھ اندر داخل نہیں کیا بلکہ اندر والے نے ہی سامان باہر نکالا اور باہر والے نے باہر سے ہی اس کو پکڑ لیا تو پھر اس باہر والے نے حرز نہیں توڑا، اس کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”إِنْ أَخْرَجَ الدَّاخِلُ يَدَهُ“ اگر اندر والے نے اپنا ہاتھ باہر نکالا، ”إِنْ أَخْرَجَ الدَّاخِلُ“ اگر وہ جو اندر والا ہے اس نے باہر نکالا ”يَدَهُ“ اپنے ہاتھ کو، ”وَنَاوَلَهَا الْخَارِجَ“ اور وہ چوری والا مال اس نے پکڑا دیا خارج کو، کس کو؟ باہر والے کو، ”فَالْقَطْعُ عَلَى الدَّاخِلِ“ تو اس صورت میں ہاتھ کا کاٹنا صرف داخل پر ہے، خارج والے نے تو حرز نہیں توڑا۔ ناول يناول مناولۃ کا معنی ہے کسی کو کوئی چیز دینا، کسی کو کوئی چیز پکڑانا، اور آگے لفظ آ رہا ہے تناول، باب تفاعل ہے، تناول کا معنی ہے کوئی چیز لینا۔ ناول کا معنی کوئی چیز دوسرے کو پکڑانا، اور تناول کا معنی ہے چیز کو خود پکڑنا۔ دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے: ”إِنْ أَخْرَجَ الدَّاخِلُ يَدَهُ“ کہ اگر اندر والے نے اپنا ہاتھ باہر نکالا ”وَنَاوَلَهَا الْخَارِجَ“ اور وہ سامان اس نے باہر والے کو پکڑا دیا، ”نَاوَلَهَا“ یہ ہا ضمیر راجع ہے سرقہ کو، اور سرقہ سے کیا مراد ہے؟ مسروق بھئی، وہ چوری شدہ مال۔ تو کہتے ہیں اگر اندر والے نے ہاتھ باہر نکالا ”وَنَاوَلَهَا الْخَارِجَ“ اور وہ چوری والا مال اس نے باہر والے کو پکڑا دیا، ”فَالْقَطْعُ عَلَى الدَّاخِلِ“ تو پھر ہاتھ کا کاٹنا اندر والے پر ہوگا یعنی صرف اس کا ہاتھ کاٹیں گے، ”وَإِنْ أَدْخَلَ الْخَارِجُ يَدَهُ“ اور اگر باہر والے نے اپنا ہاتھ اندر داخل کیا ”فَتَنَاوَلَهَا مِنْ يَدِ الدَّاخِلِ“ تو اس مال کو اس نے پکڑ لیا اندر والے کے ہاتھ سے، ”فَعَلَيْهِمَا الْقَطْعُ“ تو ان دونوں پر قطع ہے، ان دونوں کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ”وَهِيَ بِنَاءٌ عَلَى مَسْأَلَةٍ تَأْتِي بَعْدَ هٰذَا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اور کہتے ہیں اس کی بنیاد ایک اور مسئلے پر ہے جو اس کے بعد ان شاء اللہ تعالیٰ آ رہا ہے بھئی۔ آگے ایک مسئلہ ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ دو چار سطروں کے بعد، اور وہ مسئلہ ہے سارقِ ظریف کا۔ ظریف بھئی ظاء کے ساتھ ہے، طاء ظاء۔ سارقِ ظریف کا مسئلہ۔ ظریف اصل میں کہتے ہیں خوش مزاج آدمی کو، اسی طرح ظریف چالاک اور ہوشیار آدمی کو بھی کہتے ہیں۔ تو آگے ایک مسئلہ ذکر ہوگا چالاک اور ہوشیار چور کے بارے میں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ چالاک چور ہو اس کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ایک روایت ہے کہ چالاک چور ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ توجہ ہے؟ تو بعضوں نے یہ نسبت کی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اور بعضوں نے نسبت کی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف، یا شاید دونوں سے ہی یہ روایت ہو بھئی۔ تو چالاک چور کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ اب چالاک چور سے کیا مراد ہے؟ وہ آگے ذکر کریں گے، مسئلہ ذکر ہوگا دو چار سطروں بعد، اور وہاں آپ دیکھیں گے امام ابو یوسف رحمہ اللہ طرفین سے اختلاف کرتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی اختلاف کی بنیاد اسی پر ہے۔ وہاں سارقِ ظریف کے مسئلے میں جو وہ اختلاف کرتے ہیں، اسی کی بنیاد پر اس مسئلے میں بھی وہ اختلاف کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ جس میں ایک چور باہر تھا اور ایک چور اندر چلا گیا، طرفین فرماتے ہیں کسی ایک کا بھی ہاتھ نہیں کاٹیں گے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اندر والے کا ہاتھ تو ہر حال میں کاٹیں گے اور باہر والے نے اگر ہاتھ اندر داخل کرکے چیز باہر نکالی ہے تو پھر باہر والے کا بھی ہاتھ کاٹیں گے۔ تو اس مسئلے کے اندر اختلاف کی بنیاد اس سارقِ ظریف والے مسئلے کے اندر جو اختلاف ہے اس پر ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ بِنَاءٌ عَلَى مَسْأَلَةٍ تَأْتِي بَعْدَ هٰذَا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اور اس کی بنیاد اس مسئلے پر ہے جو اس کے بعد آ رہا ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ”وَهِيَ بِنَاءٌ“ بھئی بناء مصدر ہے اور یہاں یہ اسم مفعول کے معنی میں ہے: ”وَهِيَ بِنَاءٌ“ وَهِيَ مَبْنِيَّةٌ عَلَى مَسْأَلَةٍ تَأْتِي۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ أَلْقَاهُ فِي الطَّرِيقِ وَخَرَجَ فَأَخَذَهُ قُطِعَ“ جی دوسری صورت آگئی۔ ایک ہی چور آیا ہے، ایک ہی چور آیا اور اس نے نقب لگائی اور وہ مکان کے اندر چلا گیا اور پھر اندر اس نے سامان اکٹھا کیا اور لا کر اس سوراخ سے باہر گلی میں ڈال دیا وہ سامان، پھر اس کے بعد خود نکلا اور پھر وہ سامان اٹھایا اور چلا گیا۔ تو یہاں پر یاد رکھو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہاں پر کوئی اور قبضہ درمیان میں نہیں آیا تو یہ سارا فعل اسی ایک آدمی کی طرف منسوب ہوگا، کہ اسی نے سامان نکالا بھی اور اسی نے اٹھایا بھی اور چلا بھی گیا، تو اس نے پوری چوری کرلی لہٰذا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، اس کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ یہ جو ایک ہی چور آیا اندر گیا اور سامان اس نے باہر گلی میں ڈال دیا اور پھر باہر نکلا اور اٹھا کر لے گیا، اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ وہ کہتے ہیں وجہ یہ کہ یہاں پر دو فعل ہیں، ایک ہے سامان کو گلی میں ڈالنا، اور کوئی سامان کو گلی میں ڈالے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، اور دوسرا ہے گلی سے سامان اٹھا کر لے جانا، گلی سے سامان کوئی اٹھا کر لے جائے اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ حرز نہیں ہے، گلی سے اٹھا کر لے جا رہا ہے۔ مثلاً دیکھو ایک آدمی آیا، اس کی ایک آدمی کے ساتھ دشمنی ہے، اب وہ اس کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، چنانچہ آیا اس نے نقب لگائی یا کسی طرح گھر کے اندر چلا گیا اور اندر جا کر اس نے مال سارا اکٹھا کیا اور مال لا کر اس نے اس سوراخ میں سے یا دیوار کے اوپر سے باہر گلی میں ڈال دیا، اور پھر اس کا مقصد چوری نہیں تھا، یہ اس آدمی کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، بس اس نے اس کا سارا مال جو تھا وہ گلی میں ڈال دیا اور پھر چلا گیا نکل کر، سامان نہیں اٹھایا اس نے۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو اس آدمی کا ہاتھ بالاتفاق کسی کے نزدیک بھی نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ سامان لے کر نہیں گیا، اس نے صرف گلی کے اندر سامان ڈالا ہے۔ اب یہ آدمی تو چلا گیا، اب وہ سامان گلی میں پڑا ہے، کوئی اور آدمی رات کو وہاں آیا، اس نے دیکھا یہاں تو درہم اور دینار پڑے ہوئے ہیں گلی کے اندر، اس نے وہ سارے اکٹھے کیے اور اٹھا کر لے گیا۔ تو یاد رکھو یہ جو گلی سے اٹھا کر لے جانے والا ہے اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ اس نے بھی چوری نہیں کی، اس نے تو گلی سے سامان اٹھایا ہے۔ تو مسئلہ ذکر ہو رہا تھا کہ اگر ایک ہی چور آئے اور وہ اندر چلا جائے اور پھر وہ سامان گلی میں ڈالے اور پھر باہر نکل کر سامان اٹھا کر چلا جائے تو ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ یہ سارا چوری والا فعل اسی ایک آدمی نے ہی کیا ہے۔ جبکہ امام زفر فرماتے ہیں: نہیں، یہاں دو فعل ہیں، ایک ہے گلی میں ڈالنا سامان اور ایک ہے گلی سے اٹھا کر لے کر جانا، نہ گلی میں سامان ڈالنے کی وجہ سے کسی کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے اور نہ گلی سے اٹھا کر سامان لے جانے کی صورت میں کسی کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو امام زفر اس مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَلْقَاهُ فِي الطَّرِيقِ“ اور اگر اس چور نے اس سامان کو ڈال دیا راستے میں، ”وَخَرَجَ“ اور باہر نکلا، ”فَأَخَذَهُ“ پھر اس سامان کو اس نے اٹھا لیا، وہ جو سامان اس نے راستے میں ڈالا تھا اس کو اٹھا لیا، ”قُطِعَ“ تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ہمارے ائمہ کے نزدیک۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: لَا يُقْطَعُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّ الْإِلْقَاءَ غَيْرُ مُوجِبٍ لِلْقَطْعِ“ اس لیے کیونکہ سامان باہر ڈالنا یہ قطع کو ثابت نہیں کرتا، یہ قطع کو واجب نہیں کرتا، کسی کا سامان آپ گلی میں ڈال دیں تو اس کی وجہ سے ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، ہاتھ تو چوری کے اندر کاٹا جاتا ہے اور اس نے تو صرف کیا کیا ہے؟ سامان اٹھا کر گلی میں ڈال دیا ہے۔ تو امام زفر فرماتے ہیں اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا: ”لِأَنَّ الْإِلْقَاءَ غَيْرُ مُوجِبٍ لِلْقَطْعِ“ اس لیے کیونکہ سامان کا باہر ڈالنا یہ ہاتھ کاٹنے کو واجب نہیں کرتا، ”كَمَا لَوْ خَرَجَ وَلَمْ يَأْخُذْ“ جیسے کہ وہ آدمی خود باہر نکلا اور سامان نہیں اٹھایا، سامان گلی میں ڈالا اور پھر خود نکل کر چلا گیا تو اس آدمی کا ہاتھ بالاتفاق نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا لَوْ خَرَجَ وَلَمْ يَأْخُذْ“ اور جیسے وہ آدمی باہر نکلا اور اس نے سامان نہیں اٹھایا، ”وَكَذَا الْأَخْذُ مِنَ السِّكَّةِ“ اور اسی طرح گلی میں سے اٹھانا، سِكَّہ کہتے ہیں گلی کو بھئی، مکانات کے درمیان جو پتلا اور تنگ راستہ ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ سِکَّہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْأَخْذُ مِنَ السِّكَّةِ“ اور اسی طرح گلی میں سے اٹھانا بھی ہے یعنی اس کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، ”كَمَا لَوْ أَخَذَهُ غَيْرُهُ“ جیسے کہ اس کو کوئی اور اٹھا لے، اگر اس سامان کو کوئی اور اٹھا لے تو جیسے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا تو یہی چور اگر باہر نکل کر اٹھا لے تو اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آگئی، ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الرَّمْيَ حِيلَةٌ يَعْتَادُهَا السُّرَّاقُ“ حیلہ کہتے ہیں تدبیر کو اور چال کو، اعتاد يعتاد کے معنی ہیں عادت بنانا، عادی ہونا۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الرَّمْيَ“ کہ پھینکنا جو ہے ”حِيلَةٌ“ یہ ایک چال ہے یا ایک تدبیر ہے ”يَعْتَادُهَا السُّرَّاقُ“ جو چوروں کی عادت ہوتی ہے، سُرَّاق جمع ہے سارق کی۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ جو ایک آدمی آیا اور سامان اس نے باہر ڈال دیا اور پھر اٹھا کر باہر سے لے گیا، ہم کہتے ہیں چوروں کی یہ طریقہ ہے، اسی طرح چوری کرتے ہیں۔ سارا سامان اٹھا کر خود باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے تو وہ سامان پہلے گلی میں ڈالتے ہیں اور پھر نکل کر باہر اٹھا کر لے جاتے ہیں، تو یہ چوروں کا حیلہ ہے، ان کا طریقہ ہے، ان کی عادت ہے۔ لہٰذا اس حیلے کی وجہ سے اب ہم یہ کہیں کہ اس کا ہاتھ ہی نہیں کاٹا جائے گا، ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ سارا فعل ایک ہی آدمی کا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الرَّمْيَ“ رمی کا کیا معنی؟ پھینکنا، وہ جو چور نے سامان کو گلی میں پھینک دیا، گلی میں ڈال دیا۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الرَّمْيَ حِيلَةٌ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ سامان کا پھینکنا یعنی گلی میں ڈالنا یہ ایک تدبیر ہے ”يَعْتَادُهَا السُّرَّاقُ“ کہ چوری کرنے والوں کو اس کی عادت ہوتی ہے، ”لِتَعَذُّرِ الْخُرُوجِ مَعَ الْمَتَاعِ“ اس لیے کیونکہ نکلنا ممکن نہیں ہوتا سامان کے ساتھ۔ دیوار میں چھوٹا سا سوراخ بنایا ہے تو سامان اٹھا کر تو سوراخ میں سے نہیں نکل سکتے بھئی، تو اس لیے پہلے سامان گلی میں ڈالتے ہیں اور پھر باہر نکل کر اس کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِتَعَذُّرِ الْخُرُوجِ مَعَ الْمَتَاعِ“ اس وجہ سے کہ سامان کے ساتھ نکلنا ممکن نہیں ہوتا، ”أَوْ لِيَتَفَرَّغَ لِقِتَالِ صَاحِبِ الدَّارِ“ یا تاکہ وہ فارغ ہو جائے صاحبِ دار سے لڑائی کے لیے۔ ایک تو یہ کہ سامان اٹھا کر نکلنا مشکل ہوتا ہے اس سوراخ سے، دوسری وجہ یہ کہ سامان باہر ڈال دیتے ہیں تاکہ کہیں اگر گھر کا مالک آجائے، ہمارے ہاتھ میں سامان ہو ہم تو مقابلہ نہیں کر سکیں گے، لہٰذا سامان پہلے باہر ڈال دیتے ہیں تاکہ اگر اب مالک آیا تو ہم اس سے لڑائی کر سکیں گے۔ تو یہ معنی ہے: ”أَوْ لِيَتَفَرَّغَ لِقِتَالِ صَاحِبِ الدَّارِ“ اور یا اس لیے تاکہ وہ فارغ ہو جائے اس گھر کے مالک کے ساتھ لڑائی کے لیے، ”أَوْ لِلْفِرَارِ“ یا بھاگنے کے لیے۔ یا بھاگنے کے لیے کہ سامان باہر ڈال دیں گے تو اب بھاگنا ہمارے لیے آسان ہو جائے گا فوراً، اگر سامان سر پر اٹھایا ہوا ہے پھر تو بھاگنا مشکل ہو جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”أَوْ لِلْفِرَارِ“ یا بھاگنے کے لیے، ”وَلَمْ تَعْتَرِضْ عَلَيْهِ يَدٌ مُعْتَبَرَةٌ“ میں نے بتلایا اعترض يعترض کے معنی پیش آنا، ہم جواب دے رہے ہیں امام زفر کو، ہم کہتے ہیں: ”وَلَمْ تَعْتَرِضْ عَلَيْهِ يَدٌ مُعْتَبَرَةٌ“ اور یہاں پر کوئی اور معتبر قبضہ پیش نہیں آیا، اس نے سامان گلی میں تو ڈالا ہے لیکن کسی اور نے تو اس پر قبضہ نہیں کیا تو لہٰذا یہ ایک ہی آدمی کا فعل شمار ہوگا سارا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَمْ تَعْتَرِضْ عَلَيْهِ يَدٌ مُعْتَبَرَةٌ“ اور اس سامان پر کوئی اور قبضہ بھی پیش نہیں آیا، ”فَاعْتُبِرَ الْكُلُّ فِعْلًا وَاحِدًا“ تو اس سارے کو ایک ہی فعل شمار کیا جائے گا۔ ”فَاعْتُبِرَ الْكُلُّ فِعْلًا وَاحِدًا“ تو اس سارے کو ایک ہی فعل اعتبار کیا جائے گا۔ ”فَإِذَا خَرَجَ“ جی، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے: دیکھو کوئی گلی میں سامان ڈال دے تو اس کی وجہ سے ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، اور کوئی گلی سے سامان اٹھا کر لے جائے تو اس کی وجہ سے بھی ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ ہم کہتے ہیں کہ کوئی شخص اگر گلی میں سامان ڈال دے اور اٹھائے نہ ویسے ہی چلا جائے، اس کو تو چوری کوئی کہتا ہی نہیں، اس کو تو کہتے ہیں سامان ضائع کیا ہے اس نے، اس نے مالک مکان کو صرف نقصان پہنچایا ہے، اس کا سامان ضائع کیا ہے، اس نے چوری نہیں کی، اور ہاتھ تو چوری کے اندر کاٹا جاتا ہے، تو یہ تو چوری ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا خَرَجَ وَلَمْ يَأْخُذْهُ“ پس جب وہ شخص نکلا اور اس نے وہ سامان نہیں اٹھایا ”فَهُوَ مُضَيِّعٌ لَا سَارِقٌ“ تو یہ شخص تو سامان کو ضائع کرنے والا ہے، یہ سارق نہیں ہے، یہ چور نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَكَذٰلِكَ إِنْ حَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ فَسَاقَهُ وَأَخْرَجَهُ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ چور اپنے ساتھ کوئی سواری بھی لے آیا، مثلاً گدھا اپنے ساتھ لے آیا اور گھر کے اندر اس نے سارا سامان گدھے پر لادا اور پھر اس کے بعد اس گدھے کو ہانکتا ہوا باہر لے گیا، کہتے ہیں اس صورت میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہتے ہیں بھئی کیسے ہاتھ کاٹا جائے گا؟ سامان تو لے کر یہ نہیں نکلا بلکہ گدھا نکلا ہے سامان لے کر۔ کہتے ہیں بھئی گدھے کو اسی نے تو چلایا، یہی تو لے کر آیا اور اسی نے تو ہانکا ہے، تو گدھے کا سامان نکالنا اس کی نسبت بھی اس ہانکنے والے کی طرف ہی ہوگی بھئی۔ تو یہ قدیم زمانے میں بھئی گدھا ہے، آج کل کوئی مثلاً گاڑی لے آتا ہے، گاڑی کے اندر سامان لادتا ہے اور سارا سامان اٹھا کر لے جاتا ہے۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَكَذٰلِكَ“ اور اسی طرح ہوگا یعنی ہاتھ کاٹا جائے گا ”إِنْ حَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ“ اگر چور نے سامان کو لاد دیا گدھے پر ”فَسَاقَهُ“ پھر اس کو ہانکا ”وَأَخْرَجَهُ“ اور اس کو باہر لے گیا، ”لِأَنَّ سَيْرَهُ“ اس لیے کیونکہ اس گدھے کا چلنا ”مُضَافٌ إِلَيْهِ“ اس کی نسبت اس چور کی طرف کی جائے گی ”لِسَوْقِهِ“ اس کے ہانکنے کی وجہ سے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا دَخَلَ الْحِرْزَ جَمَاعَةٌ فَتَوَلَّى بَعْضُهُمُ الْأَخْذَ قُطِعُوا جَمِيعًا“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ کئی چور آئے چوری کرنے اور پھر ایک مکان کے اندر داخل ہوگئے اور ایک چور نے سامان اٹھایا ہوا ہے باقی اس کے ساتھ ہیں، تو ایک چور نے سامان اٹھایا ہوا ہے اور وہ باہر نکلے اور چلے گئے۔ تو اس صورت میں سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ باقی چور اس کے مددگار تھے اور سب کی طرف سے حرز کا توڑنا پایا گیا ہے، سب گھر کے اندر گئے ہیں اور سامان لے کر باہر نکلے ہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ سامان تو ایک نے اٹھایا ہوا تھا، باقیوں نے تو سامان ہی نہیں نکالا تو حرز کا توڑنا تو ایک کی طرف سے ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، چوروں کا طریقہ ہی یہ ہے، ان کی عادت ہی یہ ہوتی ہے، کئی چور جب مل کر چوری کرنے آتے ہیں تو سارے مل کر سامان نہیں اٹھاتے، سامان ایک یا دو اٹھائیں گے، باقی صرف حفاظت کے لیے ساتھ ہوتے ہیں کہ اگر کوئی آگیا تو ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ توجہ ہے؟ تو اس صورت میں سب کے ہاتھ کاٹے جائیں گے بھئی، بشرطیکہ ہر ایک کے حصے میں دس درہم پہنچ رہے ہوں، مثلاً دس آدمی تھے اور انہوں نے جو مال چوری کیا وہ سو درہم کا تھا، تو ہر ایک کے حصے میں دس درہم کا مال بن رہا ہے تو سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور یہ میں پہلے بھی بیان کر چکا کہ شرط یہ ہے کہ ان چوری کرنے والوں میں کوئی بچہ نہ ہو، کوئی مجنون نہ ہو، اور جس کے گھر سے چوری کر رہے ہیں اس کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار نہ ہو۔ اگر قریبی محرم رشتہ دار ہوا یا نابالغ ہوا یا مجنون ہوا تو ان کا تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، جب ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا تو باقیوں کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ توجہ ہے؟ ایک ہی چوری کی وجہ سے کچھ کا ہاتھ کاٹا جائے اور کچھ کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ایسا نہیں ہو سکتا، جب ہاتھ کاٹنا آئے گا تو سب پر آئے گا اور جب ہاتھ کاٹنا ساقط ہوگا تو ساروں سے ہی ساقط ہو جائے گا۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ ہاتھ صرف انہی کے کاٹیں گے جو اندر داخل ہوئے ہیں۔ اگر دس چور آئے اور صرف دو چور اندر گئے ہیں، باقی باہر ہی پہرہ دے رہے ہیں، حفاظت کر رہے ہیں، تو صرف ان دو کا ہاتھ کاٹا جائے گا، باقیوں کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ان کو اور سزا تو دی جائے گی لیکن ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ہاتھ کب کاٹیں گے؟ جب حرز توڑیں گے، اور حرز کب توڑیں گے؟ جب وہ اندر داخل ہوں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ الْحِرْزَ جَمَاعَةٌ“ اور جب ایک حرز کے اندر ایک جماعت داخل ہوگئی ”فَتَوَلَّى بَعْضُهُمُ الْأَخْذَ“ تو ان میں سے بعض متولی ہوگئے اٹھانے کے، بعض متولی ہوئے یعنی بعض ذمہ دار ہوئے، ”فَتَوَلَّى بَعْضُهُمُ الْأَخْذَ“ تو ان میں سے بعض ذمہ دار ہوگئے سامان اٹھانے کے، ”قُطِعُوا جَمِيعًا“ تو ان سب کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اس عبدِ ضعیف سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں، ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے: ”هٰذَا اسْتِحْسَانٌ“ یہ استحسان ہے۔ یہ جو سب کے ہاتھ کاٹے جائیں گے یہ استحسان ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو جو سامان اٹھا کر باہر نکلا ہے صرف ان کے ہاتھ کاٹنے چاہئیں، باقیوں کے ہاتھ نہیں کاٹنے چاہئیں۔ تو کہتے ہیں صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”هٰذَا اسْتِحْسَانٌ“ کہ یہ جو سب کے ہاتھ کاٹے جائیں گے یہ استحسان ہے، ”وَالْقِيَاسُ أَنْ يُقْطَعَ الْحَامِلُ وَحْدَهُ“ اور قیاس تو یہ ہے کہ وہ سامان اٹھانے والا جو ہے اکیلا اس کو قطع کیا جائے، اس کے ہاتھ کو کاٹا جائے، ”وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی، وہ فرماتے ہیں صرف سامان اٹھا کر نکلنے والے کا ہاتھ کاٹیں گے۔ تو کہتے ہیں یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی: ”لِأَنَّ الْإِخْرَاجَ وُجِدَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ سامان کو نکالنا اسی ایک کی طرف سے پایا گیا ہے، ”فَتَمَّتِ السَّرِقَةُ بِهِ“ تو اسی ایک آدمی پر چوری پوری ہوگئی، لہٰذا صرف اس ایک کا ہاتھ کاٹیں گے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْإِخْرَاجَ مِنَ الْكُلِّ مَعْنًى لِلْمُعَاوَنَةِ“ ہم کہتے ہیں ”أَنَّ الْإِخْرَاجَ مِنَ الْكُلِّ“ کہ یہ سامان کا نکالنا ان سب کی طرف سے ہے ”مَعْنًى“ معنیٰ کے اعتبار سے ”لِلْمُعَاوَنَةِ“ مدد کرنے کی وجہ سے۔ یہ سارے ساتھ کیوں گئے تھے؟ مدد کرنے کے لیے گئے تھے، تو گویا ساروں نے مل کر سامان نکالا ہے۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الْإِخْرَاجَ مِنَ الْكُلِّ مَعْنًى لِلْمُعَاوَنَةِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ اخراج جو ہے ان سب کی طرف سے ہے معنیٰ کے اعتبار سے مدد کرنے کی وجہ سے، ”كَمَا فِي السَّرِقَةِ الْكُبْرَى“ جیسے کہ ڈاکے میں ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک سرقۂ صغریٰ ہے جو چوری کو کہتے ہیں، اور ایک سرقۂ کبریٰ ہے جو ڈاکے کو کہتے ہیں، لیکن عام ڈاکہ نہیں بھئی۔ اردو میں تو شہر کے اندر اسلحے کے زور پر مال چھین لے اس کو بھی ڈاکہ کہتے ہیں اور جنگل کے اندر کوئی اسلحے کے زور پر مال چھین لے اس کو بھی ڈاکہ کہتے ہیں، لیکن عربی میں دونوں کے اندر فرق ہے بھئی۔ عربی کے اندر جو جنگل کے اندر مال چھین لیتا ہے اس کو قطعِ طریق کہتے ہیں اور دیکھو وہاں کوئی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکتا، ڈاکو بڑے اطمینان سے مال لوٹتے ہیں، جس کو قتل کرنا ہوتا ہے قتل کرتے ہیں اور سارا کچھ لوٹ کر لے جاتے ہیں، جبکہ شہر کے اندر تو فرق ہے بھئی، شہر کے اندر ڈاکو آتا ہے تو وہ جلد سے جلد مال لوٹ کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے لوگ مدد کے لیے پہنچ جائیں گے۔ تو وہ جو قطعِ طریق ہے اس کو سرقۂ کبریٰ کہتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں دیکھو سرقۂ کبریٰ جو ہے یعنی جنگل کے اندر جو ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، جیسے سرقۂ کبریٰ کے اندر ہوتا ہے، قطعِ طریق کے اندر ہوتا ہے، وہاں کافی ڈاکو اکٹھے مل کر آتے ہیں لیکن وہ سارے مل کر نہیں سامان لوٹتے یا سارے مل کر سامان اکٹھا نہیں کرتے بلکہ کچھ صرف اسلحہ لے کر ساتھ ہوتے ہیں اور کچھ جو ہیں وہ مال وغیرہ اکٹھا کرتے ہیں، لیکن بالاتفاق سب کو سزا دی جاتی ہے۔ سب کو سزا دی جاتی ہے، کیوں؟ کیونکہ اگرچہ کچھ نے مال نہیں لوٹا لیکن وہ مددگار تو تھے باقیوں کے۔ تو یہاں پر بھی ان سب نے اگرچہ مل کر سامان نہیں نکالا لیکن یہ مددگار تو تھے اس کے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”كَمَا فِي السَّرِقَةِ الْكُبْرَى“ جیسے کہ بڑی چوری میں ہے یعنی جیسے ڈاکے میں ہے، ”وَهٰذَا لِأَنَّ الْمُعْتَادَ فِيمَا بَيْنَهُمْ“ اور یہ اس وجہ سے کہ چوروں کے درمیان یہ معتاد ہے، چوروں کی یہ عادت ہے ”أَنْ يَحْمِلَ الْبَعْضُ الْمَتَاعَ“ کہ ان میں سے بعض جو ہیں وہ سامان اٹھاتے ہیں ”وَيَتَشَمَّرَ الْبَاقُونَ لِلدَّفْعِ“ تشمر کا معنی ہے تیار ہونا۔ تشمر کا معنی ہے تیار ہونا، کچھ سامان اٹھاتے ہیں اور کچھ مقابلے کے لیے تیار کھڑے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی آگیا تو ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ تو یہ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا لِأَنَّ الْمُعْتَادَ فِيمَا بَيْنَهُمْ“ اور یہ اس وجہ سے کہ چوروں کے درمیان یہ معتاد ہے، یہ ان کی عادت ہے ”أَنْ يَحْمِلَ الْبَعْضُ الْمَتَاعَ“ کہ ان میں سے بعض جو ہیں وہ سامان اٹھاتے ہیں ”وَيَتَشَمَّرَ الْبَاقُونَ لِلدَّفْعِ“ اور باقی جو ہیں وہ تیار ہوتے ہیں دفع کے لیے، یعنی اگر کوئی مقابل آجائے تو اس کو دور کر سکیں، اس کا مقابلہ کر سکیں۔ ”فَلَوِ امْتَنَعَ الْقَطْعُ“ اگر قطع ممتنع ہو جائے ”أَدَّى إِلَى سَدِّ بَابِ الْحَدِّ“ تو یہ تو پہنچا دے گا حد کے دروازے کے بند کرنے کی طرف۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تو چوروں کا طریقہ ہی یہ ہے، ایک، دو یا تین سامان اٹھائیں گے اور باقی سارے مدد کے لیے ساتھ ہوتے ہیں۔ اگر اس شبہے کی وجہ سے باقیوں سے حد کو ساقط کر دیا جائے پھر تو حد کا دروازہ ہی بند ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَوِ امْتَنَعَ الْقَطْعُ“ اگر ہاتھ کا کاٹنا ممتنع ہو جائے اس شبہے کی وجہ سے کہ سامان تو صرف ایک نے اٹھایا ہوا تھا، ”أَدَّى إِلَى سَدِّ بَابِ الْحَدِّ“ تو یہ تو پہنچا دے گا حد کے دروازے کے بند کرنے کی طرف، یعنی حد کا دروازہ تو بند ہی ہو جائے گا بھئی، کوئی ایک آدھ کوئی ہاتھ کاٹ سکیں گے، عام چوروں کے تو ہاتھ کاٹنا ہی ممتنع ہو جائے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ نَقَبَ الْبَيْتَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ وَأَخَذَ شَيْئًا لَمْ يُقْطَعْ“ یہ وہ سارقِ ظریف کا مسئلہ آگیا جو اوپر صاحبِ ہدایہ نے جس کی طرف اشارہ کیا تھا، سارقِ ظریف۔ میں نے آپ کو بتلایا بعض روایات میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر آتا ہے کہ سارقِ ظریف کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، جو چالاک چور ہو اس کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے وہ بھی فرماتے ہیں کہ چالاک چور ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے، اور پھر فقہاء اس کی تفصیل بیان فرماتے ہیں: چالاک چور یعنی سارقِ ظریف سے کیا مراد ہے؟ تو بتلائیں گے سارقِ ظریف وہ ہے جو آئے دیوار میں نقب لگائے اور خود اندر جاتا ہی نہیں ہے بلکہ باہر سے ہی کھڑے ہوکر ہاتھ بڑھا کر سامان اٹھاتا ہے اور باہر سے ہی چلا جاتا ہے۔ چور آیا اس نے دیوار میں سوراخ کیا، اس سوراخ سے صرف وہ خود اندر نہیں گیا، ہاتھ اندر داخل کرکے سامان اٹھایا اور باہر سے ہی چلا گیا، تو یہ ہے سارقِ ظریف، چالاک چور۔ اس کو بھی پتہ ہے اگر میں اندر گیا اور پھر نکلا تو میرا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو دیکھو کتنی چالاکی سے اس نے چوری بھی کرلی اور اپنے ہاتھ کو بھی بچا لیا۔ اب اس چور کو اور سزا تو دی جا سکتی ہے لیکن ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، تو یہ کیا ہے؟ سارقِ ظریف ہے، چالاک چور ہے۔ اور یہاں پر بین السطور چھٹا ضابطہ بھی ذکر ہو رہا ہے۔ چھٹا ضابطہ یہ ہے کہ چور کا ہاتھ تب کاٹیں گے جب اس نے کامل طور پر حرز کو توڑا ہو۔ چور کا ہاتھ تب کاٹیں گے جب اس نے کامل طور پر حرز کو توڑا ہو اور وہ عادت بھی ہو چوروں کی، وہ طریقہ چوروں کی عادت بھی ہو۔ توجہ ہے؟ مثلاً چور آتے ہیں تو کیا باہر سے ہی ہاتھ بڑھا کر چیزیں لیتے ہیں یا گھر کے اندر جا کر چیزیں لیتے ہیں؟ گھر کے اندر جا کر چور چیزیں لیتے ہیں۔ تو گھر کے اندر کوئی جائے اور پھر چیز لے کر باہر نکلے ہم کہیں گے اس نے حرز کو کامل طور پر توڑ دیا، اور عادت بھی۔ یہی جاری ہے چوروں کے درمیان کہ وہ گھر سے جب کوئی چیز چوری کرتے ہیں تو اندر جا کر چیز اٹھا کر لے کر آتے ہیں۔ تو عادت بھی ہے اور حرز کو بھی کامل طور پر توڑ دیا ہے۔ جبکہ یہ جو چالاک چور ہے اس نے تو باہر سے ہی ہاتھ بڑھا کر اندر سے چیزیں نکال لیں، تو اس نے حرز تو توڑا لیکن کامل طور پر نہیں توڑا۔ کامل حرز توڑنا کب تھا؟ جب یہ اندر جاتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے چالاک چور بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَمَنْ نَقَبَ الْبَيْتَ﴾ اور جس نے کسی کمرے کے اندر نقب لگائی یعنی اس کی دیوار میں سوراخ کیا، ﴿وَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ﴾ اور اس سوراخ سے اپنا ہاتھ اندر داخل کیا، ﴿وَأَخَذَ شَيْئًا﴾ اور کوئی چیز پکڑ لی، ﴿لَمْ يُقْطَعْ﴾ تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِي الْإِمْلَاءِ﴾ اب وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اختلاف ذکر کرنے لگے ہیں۔ بتلایا تھا پچھلے مسئلے میں جو اختلاف آیا ہے اس کی بنیاد اس مسئلے کے اندر اختلاف پر ہے۔ صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے املاء کے اندر یہ مسئلہ ذکر فرمایا ہے۔ یاد رکھو املاء اسے کہتے ہیں کہ استاد تقریر کرتا ہے اور شاگرد لکھتے ہیں، اس کو کہتے ہیں املا کروانا۔ جیسے بعض اوقات میں بھی کوئی چیز لکھواتا ہوں میں تقریر کر رہا ہوتا ہوں اور آپ لکھتے ہیں بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ املاء۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی بعض علماء نے املاء لکھی ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ چیف جسٹس تھے بھئی، تو بعض اوقات ان کے پاس علماء آتے تھے یہ ان کو مسائل لکھواتے تھے۔ تو املاء کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہ جو اس نے دیوار میں سوراخ کیا خود اندر نہیں گیا لیکن باہر سے کھڑے ہو کر اندر سے چیز اٹھائی اور چلا گیا، امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اس چور کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہاں اس نے حرز کو توڑا ہے۔ چور کا مقصد کیا تھا؟ چور کا مقصد کیا تھا کہ حرز سے سامان نکالے اور اس نے اس مقصد کو پورا کر لیا، حرز کے اندر سے سامان نکالا ہے لہٰذا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي الْإِمْلَاءِ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے املاء کے اندر، ﴿أَنَّهُ يُقْطَعُ﴾ کہ اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ﴿لِأَنَّهُ أَخْرَجَ الْمَالَ مِنَ الْحِرْزِ﴾ اس لیے کیونکہ اس نے حرز سے مال نکال لیا ہے، ﴿وَهُوَ الْمَقْصُودُ﴾ اور مال نکالنا ہی مقصود ہوتا ہے، ﴿فَلَا يُشْتَرَطُ الدُّخُولُ فِيهِ﴾ لہٰذا اس حرز کے اندر داخل ہونا شرط نہیں ہوگا۔ ہم نے تو آپ کو ضابطہ بتلا دیا کہ چور کا ہاتھ تب کاٹیں گے جب وہ کامل طور پر حرز کو توڑے اور کامل طور پر حرز کا توڑنا کیسے ہوگا؟ کہ چور خود اندر جائے اور پھر سامان لے وہاں سے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس نے سامان نکال لیا چور نے اور مقصد بھی سامان نکالنا تھا تو اس نے حرز کو توڑ دیا ہے تو اب اندر جانا شرط نہیں ہے۔ اندر جائے یا نہ جائے اس نے مال چوری کیا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹیں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَلَا يُشْتَرَطُ الدُّخُولُ فِيهِ﴾ لہٰذا حرز کے اندر داخل ہونا شرط نہیں ہوگا، ﴿كَمَا إِذَا أَدْخَلَ يَدَهُ فِي صُنْدُوقِ الصَّيْرَفِيِّ﴾ صیرفی صراف کو کہتے ہیں۔ صراف بھئی وہ جو پیسے بدلتا ہے جس کو آج کل آپ منی چینجر کہتے ہیں کہ ایک کرنسی دے کر آپ دوسری کرنسی اس سے لیتے ہیں۔ تو یہ قدیم زمانے میں صراف ہوتے تھے ان کے پاس مختلف قسم کے دینار اور درہم ہوتے اور لوگ آتے اور ان سے بدلواتے تھے بھئی۔ تو اب ایک شخص نے ایک صراف کے صندوق میں ہاتھ داخل کیا اور اس میں سے کچھ قیمتی درہم یا دینار نکال لیے جن کی قیمت دس درہم ہے مثلاً، یعنی نصاب کے بقدر ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بالاتفاق سب کے نزدیک اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چور نے کیا کیا؟ صراف کے صندوق میں ہاتھ داخل کیا اور نصاب کے بقدر مال نکالا تو سب کے نزدیک اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، حالانکہ چور کوئی صندوق کے اندر تو داخل نہیں ہوا۔ چور تو صندوق کے اندر داخل معلوم ہوا داخل ہونا شرط نہیں ہے مال نکالنا شرط ہے، لہٰذا مال تو اس نے نکال لیا لہٰذا سب کے نزدیک اس چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ جو سارقِ ظریف ہے وہ بے شک اندر نہیں گیا لیکن اس نے سامان تو نکال لیا لہٰذا اس کا بھی ہاتھ کاٹیں گے۔ تو یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ﴿كَمَا إِذَا أَدْخَلَ يَدَهُ فِي صُنْدُوقِ الصَّيْرَفِيِّ﴾ جیسے کہ چور نے اپنا ہاتھ داخل کیا صراف کے صندوق میں، ﴿فَأَخْرَجَ الْغِطْرِيفِيَّةَ﴾ تو اس نے غطریفی درہم نکال لیا، کہتے ہیں غطریفی درہم یہ کوئی بہت اعلیٰ قسم کے درہم ہوتے تھے بھئی۔ تو کہتے ہیں چور نے اپنا ہاتھ صراف کے صندوق میں داخل کیا، ﴿فَأَخْرَجَ الْغِطْرِيفِيَّةَ﴾ تو اس نے غطریفی درہم نکال لیا۔ ﴿وَلَنَا﴾ اب ہماری دلیل آ گئی، ہمارے نزدیک اس سارقِ ظریف کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ تو اس کی کیا وجہ؟ میں نے وجہ ذکر کر دی۔ کہ چور نے سامان نکالا ہے، حرز تو توڑا ہے لیکن کامل طور پر حرز کو نہیں توڑا۔ کامل حرز تب ٹوٹتا جب چور گھر کے اندر جاتا، چور گھر کے اندر جاتا۔ اور نیز ایسا حرز ہو کہ جس میں چوروں کا طریقہ ہی یہ ہو، ان کی عادت ہی یہ ہو اندر جا کر چوری کرتے ہوں۔ اور گھروں سے جب بھی چور چوری کرتے ہیں وہ گھر کے اندر جا کر چوری کرتے ہیں۔ تو معتاد بھی اندر داخل ہونا ہے اور اندر داخل ہونا ممکن بھی ہے، تو لہٰذا یہاں پر جب کوئی اندر داخل ہوگا اور چوری کرے گا پھر ہاتھ کاٹیں گے کیونکہ اندر داخل ہونا ممکن بھی ہے اور چوروں کی عادت بھی یہی ہوتی ہے بھئی۔ تو دونوں چیزیں شرط ہیں، چوروں کی عادت بھی وہی ہو اور اندر جانا بھی ممکن ہو۔ اور آپ نے اس کو قیاس کیا تھا صندوق پر، صندوق کے تو اندر جانا ممکن ہی نہیں ہے، اگر وہاں اندر جانا ممکن ہوتا تو وہاں بھی ہم یہ شرط لگا دیتے۔ لیکن صندوق سے تو چیز چوری ہی اسی طرح کی جاتی ہے کہ اس صندوق میں ہاتھ ڈال کر چیز نکال لیتے ہیں، تو لہٰذا آپ کا اس سارقِ ظریف کو اس صراف کے صندوق سے چرانے والے پر قیاس کرنا صحیح نہیں، کیونکہ ایک کے اندر گھر کے اندر داخل ہونا ممکن ہے اور دوسرا صندوق ہے وہاں پر صندوق کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں ہے بھئی۔ ﴿وَلَنَا أَنَّ هَتْكَ الْحِرْزِ يُشْتَرَطُ فِيهِ الْكَمَالُ﴾ ہتک الحرز، حرز کی پردہ دری یعنی حرز کی بے حرمتی، حرز کا توڑنا۔ ﴿وَلَنَا أَنَّ هَتْكَ الْحِرْزِ يُشْتَرَطُ فِيهِ الْكَمَالُ﴾ کہ حرز کا توڑنا اس کے اندر کمال شرط ہوگا یعنی حرز کا توڑنا کامل طور پر ہونا چاہیے۔ تو ہماری دلیل یہ ہے: ﴿أَنَّ هَتْكَ الْحِرْزِ يُشْتَرَطُ فِيهِ الْكَمَالُ﴾ کہ حرز کی بے حرمتی کے اندر کامل ہونا شرط ہوگا، ﴿تَحَرُّزًا عَنْ شُبْهَةِ الْعَدَمِ﴾ نہ ہونے کے شبہے سے بچنے کے لیے، نہ ہونے کے شبہے سے بچنے کے لیے۔ بھئی دیکھو نا چور آیا ہے وہ گھر کے اندر جا کر سامان اٹھا کر لے جائے گا تو ہم کہیں گے چوری کی ہے۔ اور اگر اس نے دیوار توڑی اور باہر سے ہی ہاتھ بڑھا کر سامان نکال لیا، تو ایک اعتبار سے دیکھیں تو اس نے حرز توڑا ہے، دوسرے اعتبار سے دیکھیں تو اس نے حرز نہیں توڑا کیونکہ اندر ہی نہیں گیا۔ تو یہاں چوری نہ ہونے کا شبہ ہوتا ہے اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں حرز کے توڑنے میں اس کا کامل ہونا شرط ہے کہ کامل طور پر حرز کو توڑے، ﴿تَحَرُّزًا عَنْ شُبْهَةِ الْعَدَمِ﴾ نہ ہونے کے شبہے سے بچنے کے لیے ورنہ تو کہیں گے چوری کی ہی نہیں بعض اعتبار سے۔ ﴿وَالْكَمَالُ فِي الدُّخُولِ﴾ اور کامل ہونا داخل ہونے میں ہے، حرز کا توڑنا کامل کب ہوگا؟ جب وہ چور داخل ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْكَمَالُ فِي الدُّخُولِ﴾ اور حرز توڑنے کا کامل ہونا اس گھر میں داخل ہونے سے ہوگا، ﴿وَقَدْ أَمْكَنَ اعْتِبَارُهُ﴾ اور اس داخل ہونے کا اعتبار ممکن بھی ہے، چور گھر کے اندر داخل بھی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَالدُّخُولُ هُوَ الْمُعْتَادُ﴾ اور داخل ہونا ہی معتاد بھی ہے، چوروں کی عادت بھی کیا ہوتی ہے؟ داخل ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ کیا ضابطہ ہوا؟ کہ چوری کے اندر ہاتھ تب کاٹیں گے جب کامل حرز کو توڑے اور حرز کا کامل توڑنا کب ہوگا؟ جب اندر داخل ہو چور اور داخل ہونا ممکن ہو اور وہ داخل ہو جائے اور نیز چوروں کی عادت بھی وہ ہو بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَالدُّخُولُ هُوَ الْمُعْتَادُ﴾ اور داخل ہونا ہی معتاد ہو۔ ﴿بِخِلَافِ الصُّنْدُوقِ﴾ بخلاف صندوق کے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس چوری کو صندوق سے چوری پر قیاس کیا تھا، کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الصُّنْدُوقِ﴾ بخلاف صندوق کے، ﴿لِأَنَّ الْمُمْكِنَ فِيهِ إِدْخَالُ الْيَدِ دُونَ الدُّخُولِ﴾ اس لیے کیونکہ وہاں پر ہاتھ کا داخل کرنا ہی ممکن ہے نہ کہ داخل ہونا۔ ﴿وَبِخِلَافِ مَا تَقَدَّمَ مِنْ حَمْلِ الْبَعْضِ الْمَتَاعَ لِأَنَّ ذٰلِكَ هُوَ الْمُعْتَادُ﴾ اور بخلاف وہ جو ماقبل میں گزر گیا، کئی چور اکٹھے ہو کر چوری کرنے گئے گھر کے اندر اور پھر ایک یا دو نے سامان اٹھا لیا، تو دیکھو وہاں بھی دیکھو داخل ہونا بھی پایا گیا اور نیز معتاد طریقہ کیا تھا؟ چوروں کے اندر عادت ہی یہ ہے ایک یا دو سامان اٹھا کر نکلتے ہیں اور باقی ان کے ساتھ حفاظت کے لیے ہوتے ہیں، تو اس لیے وہاں پر حرز بھی توڑا تھا اور معتاد طریقے سے بھی توڑا تھا لہٰذا وہاں سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَبِخِلَافِ مَا تَقَدَّمَ﴾ اور بخلاف اس کے جو ماقبل میں گزر گیا، ﴿مِنْ حَمْلِ الْبَعْضِ الْمَتَاعَ﴾ یعنی کہ وہ جو بعض چوروں کا سامان اٹھانا، ﴿لِأَنَّ ذٰلِكَ هُوَ الْمُعْتَادُ﴾ اس لیے کیونکہ وہی معتاد ہے یعنی وہی چوروں کی عادت بھی ہے بھئی۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ آگے دیکھیے: ﴿وَإِنْ طَرَّ صُرَّةً خَارِجَةً مِنَ الْكُمِّ لَمْ يُقْطَعْ وَإِنْ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْكُمِّ يُقْطَعُ﴾ بھئی یہ مسئلہ ذرا مشکل ہے، توجہ سے سمجھ لیں بھئی۔ پہلے تو یہ الفاظ کے معنی سمجھ لیں۔ ﴿وَإِنْ طَرَّ﴾ طَرَّ يَطُرُّ طَرًّا کا معنی ہے کاٹنا۔ جیب قطرا کیا کرتا ہے؟ جیب کاٹ دیتا ہے تو اس کو طَرٌّ کہتے ہیں اور جیب قطرے کو کہتے ہیں طَرَّارٌ بھئی، طرار جیب قطرا۔ اور ﴿صُرَّةً﴾ ص کے ساتھ ہے، صُرَّةٌ کہتے ہیں تھیلی، صُرَّة کسے کہتے ہیں؟ تھیلی کو کہتے ہیں مثلاً جس میں درہم وغیرہ رکھے گئے ہیں۔ اور ﴿كُمٌّ﴾ یہ م مشدد ہے، کُمٌّ، کُمّ آستین کو کہتے ہیں۔ بھئی آج کل تو ہماری قمیص کے اندر جیب ہوتی ہے اطراف میں، اور قدیم زمانے کے اندر یہ جو آستین ہے یہ جو قمیص کا بازو ہے اس کے اندر جیب ہوا کرتی تھی اور کھلی کھلی آستینیں ہوتی تھیں کوئی خاص قسم کی کہ آستین کے اندر ہی لوگ سامان وغیرہ رکھ لیتے تھے۔ تو اس آستین کو کُمّ کہتے ہیں عربی زبان میں۔ تو طَرٌّ کا معنی کاٹنا، صُرَّة تھیلی، اور کُمّ آستین بھئی۔ تو قدیم زمانے میں آستین کے اندر جیب ہوتی تھی اور علماء نے تفصیل لکھی ہے کہ جیب اندر کی طرف ہوتی آستین کے، تو جو ڈوری جس کے ساتھ اس تھیلی کا منہ باندھا جاتا تھا وہ باہر کی طرف ہوتی تھی۔ ڈوری باہر کی طرف باندھی گئی ہے تو وہ درہموں والی تھیلی اندر کی طرف ہے۔ اور کبھی اس کا برعکس، تھیلی باہر کی طرف ہوتی آستین کے تو ڈوری اندر کی طرف ہوتی تھی۔ توجہ ہے؟ پھر سمجھیں: تھیلی اگر اندر کی طرف ہوتی آستین کے تو ڈوری باہر کی طرف باندھی ہوتی تھی، اور اگر تھیلی باہر کی طرف ہے تو ڈوری اندر کی طرف ہوتی تھی تاکہ درہموں کو کوئی نکال نہ سکے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب یہاں پر چار صورتیں ذکر کریں گے۔ دو صورتوں کے اندر وہ جو جیب قطرا ہے وہ تھیلی کو کاٹ کر درہم نکالتا ہے اور دو صورتیں وہ ذکر کریں گے جس میں وہ ڈوری کو کھول کر درہم نکالتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا اب دیکھیے پہلی صورت بنا لیں۔ تھیلی ہے باہر کی جانب اور ڈوری ہے اندر کی طرف۔ اب جیب قطرا آیا اور اس نے یہ تھیلی کاٹ دی اور درہم نکال کر لے گیا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں ہاتھ نہیں کاٹیں گے، کیونکہ تھیلی کس طرف تھی؟ آستین کے باہر کی طرف تھی۔ لہٰذا جیب قطرے کو درہم نکالنے کے لیے آستین کے اندر نہیں ہاتھ ڈالنا پڑا، اس نے باہر سے ہی تھیلی کو کاٹا اور درہم لے گیا تو اس نے حرز کو تو توڑا ہے لیکن کامل طور پر حرز کو نہیں توڑا۔ کامل طور پر حرز کو تب توڑتا جب آستین کے اندر ہاتھ ڈال کر وہ تھیلی کو کاٹتا، اس نے تو باہر سے ہی تھیلی کاٹ دی۔ توجہ ہے؟ تو اگر تھیلی باہر ہے اور ڈوری اندر ہے اور باہر سے ہی جیب قطرے نے تھیلی کو کاٹا اور درہم لے گیا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ لیکن اگر اس کا برعکس ہے، ڈوری ہے آستین کے باہر کی طرف اور وہ درہم کی تھیلی ہے آستین کے اندر کی طرف اور جیب قطرا آیا اور اس نے آستین کے اندر ہاتھ ڈالا اور اندر سے وہ تھیلی کاٹ کر درہم لے گیا، اب اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اس نے آستین کے اندر ہاتھ ڈال کر کامل طور پر حرز کو توڑا ہے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہ تو تھی تھیلی کاٹنے والی صورت۔ اب دوسری صورت یہ ہے کہ وہ جیب قطرا جو ہے وہ ڈوری کو کھول کر درہم نکالتا ہے، تو کہتے ہیں اب معاملہ برعکس ہوگا۔ اب معاملہ؟ پہلے کیا صورت تھی؟ تھیلی باہر ہو تو ہاتھ نہیں کاٹیں گے جب وہ کاٹ کر لے گیا، اور تھیلی اندر ہو تو ہاتھ کاٹیں گے۔ لیکن اگر تھیلی باہر ہے اور ڈوری اندر ہے اور پھر جیب قطرے نے وہ ڈوری کھول لی، تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر ہاتھ کاٹیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ ڈوری اندر کی طرف ہے، تو جب جیب قطرا جو ہے وہ ڈوری کو کھولے گا تو وہ درہم اندر ہی گریں گے۔ تھیلی بے شک باہر کی طرف ہے لیکن تھیلی کا منہ کس طرف کو ہے؟ اندر کی طرف ہے جہاں ڈوری باندھی ہوئی ہے۔ تو جب جیب قطرے نے ڈوری کھولی تو وہ درہم اندر ہی گرے اور اندر سے ہی اس نے ہاتھ ڈال کر درہم نکالے تو اب ہاتھ کاٹیں گے اس کا۔ تو آستین کے اندر ہاتھ ڈال کر کامل طور پر حرز کو توڑا ہے۔ اور اس کا برعکس کر لیں: تھیلی اندر کی طرف ہے اور ڈوری باہر کی طرف ہے، یہاں اس نے ڈوری کھولی تو یہیں سے ہاتھ ڈال کر درہم نکال لیے لہٰذا اس صورت میں ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر سمجھ لیں: علماء بیان فرماتے ہیں کہ درہم اندر کی طرف ہوتے تھے تو ڈوری باہر کی طرف ہوتی تھی، اور درہم باہر کی طرف ہوتے تھے تو ڈوری اندر کی طرف ہوتی تھی۔ تو لہٰذا اگر اس نے اس تھیلی کو کاٹا ہے تو اگر باہر کی طرف تھیلی تھی اور اس کو کاٹ کر درہم لے گیا تو ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ حرز کو کامل طور پر نہیں توڑا، اور اگر اندر تھی تھیلی اور اس نے اس کو کاٹ کر درہم نکال لیے تو اب ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اس نے کامل طور پر حرز کو توڑ دیا۔ جبکہ ڈوری کھولنے کے اندر اس کا برعکس ہوگا۔ اگر تھیلی باہر تھی اور ڈوری اندر تھی تو اس نے ڈوری کھولی تو درہم اندر ہی کو گریں گے، لہٰذا اس صورت میں اندر سے جس نے درہم نکالے ہیں تو ہاتھ کاٹیں گے۔ اور اگر تھیلی اندر تھی اور ڈوری باہر تھی تو اس صورت کے اندر اس نے باہر سے ہی ڈوری کھولی ہے اور ہاتھ ڈال کر ادھر سے ہی درہم نکال لیے ہیں تو پھر اس صورت میں ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ طَرَّ صُرَّةً﴾ اور اگر جیب قطرے نے تھیلی کاٹ دی، ﴿خَارِجَةً مِنَ الْكُمِّ﴾ وہ تھیلی جو باہر ہے یعنی کہ آستین، میں نے آپ کو بتلایا کہ آستین کے اندر ہی جیب ہوا کرتی تھی، تو یہ الگ تھیلی نہیں ذکر ہو رہی جس کو آستین کے ساتھ باندھا گیا ہے بلکہ اسی آستین کا حصہ ہے بھئی، اسی آستین کا حصہ ہے، اسی میں باہر کی طرف بھی تھیلی بنائی جاتی تھی اور اندر کی طرف بھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ طَرَّ صُرَّةً خَارِجَةً مِنَ الْكُمِّ﴾ اور اگر جیب قطرے نے آستین میں سے وہ تھیلی جو باہر ہے اس کو کاٹا، ﴿لَمْ يُقْطَعْ﴾ تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ باہر سے ہی درہم لے گیا تو حرز کو کامل طور پر توڑنا نہ پایا گیا۔ ﴿وَإِنْ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْكُمِّ﴾ اور اگر اس جیب قطرے نے اپنا ہاتھ آستین کے اندر داخل کیا، ﴿يُقْطَعُ﴾ پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ﴿لِأَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ﴾ اس لیے کیونکہ پہلی صورت میں، پہلی کون سی صورت تھی؟ جب تھیلی باہر ہے۔ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ الرِّبَاطَ مِنْ خَارِجٍ﴾ اس لیے کیونکہ پہلی صورت کے اندر ڈوری جو ہے وہ باہر کی جانب سے ہے۔ تھیلی کس جگہ ہے؟ باہر کی جانب۔ پہلی صورت متن میں دیکھیں نا: ﴿وَإِنْ طَرَّ صُرَّةً خَارِجَةً مِنَ الْكُمِّ﴾ تو تھیلی کس جانب؟ باہر کی جانب، اور ڈوری کس طرف ہونی چاہیے؟ اندر کی جانب، اور صاحب ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ ﴿لِأَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ الرِّبَاطَ مِنْ خَارِجٍ﴾ پہلی صورت کے اندر ڈوری باہر کی جانب ہے، حالانکہ ڈوری تو اندر کی طرف ہے تو یہاں شبہ پڑتا ہے۔ اس مِنْ کو ابتدائے غایت کے لیے بنا لیں، اس مِنْ کو کس لیے بنا لیں؟ ابتدائے غایت کے لیے، جیسے آپ کہتے ہیں: ”سِرْتُ مِنَ الْبَصْرَةِ إِلَى الْكُوفَةِ“ میں بصرہ سے کوفہ تک گیا۔ تو میرے چلنے کی ابتدا کہاں سے ہو رہی ہے؟ بصرہ سے، یہ کس نے بتایا؟ مِنْ نے بتایا۔ تو یہاں پر بھی: ﴿لِأَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ الرِّبَاطَ مِنْ خَارِجٍ﴾ اس لیے کیونکہ پہلی صورت میں، ﴿الرِّبَاطَ مِنْ خَارِجٍ﴾ أَيْ مِنْ جَانِبٍ خَارِجٍ، ڈوری باہر کی جانب سے ہے۔ بھئی تھیلی باہر ہے تو ڈوری بھی باہر کی جانب سے ہے، بھئی تھیلی کدھر ہے؟ باہر کی جانب، جب تھیلی باہر کی جانب ہے تو اس کی ڈوری بھی کدھر سے شروع ہوگی؟ باہر کی جانب سے ہی شروع ہوگی لیکن باندھی کہاں گئی ہے؟ اندر باندھی گئی ہے، توجہ ہے؟ یہ معنی ہے: ﴿لِأَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ الرِّبَاطَ مِنْ خَارِجٍ﴾ اس لیے کیونکہ پہلی صورت میں وہ ڈوری جو ہے من خارج أی من جانب خارج، وہ ڈوری جو ہے خارج کی جانب سے ہے، وہ ڈوری جو اندر ہے لیکن کس جانب سے ہے؟ خارج کی جانب سے ہے کیونکہ تھیلی باہر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ الرِّبَاطَ مِنْ خَارِجٍ﴾ اس لیے کیونکہ پہلی صورت کے اندر وہ ڈوری جو ہے وہ باہر کی جانب سے ہے، ﴿فَبِالطَّرِّ﴾ تو پھر کاٹنے کی وجہ سے، میں نے بتلایا طَرَّ يَطُرُّ طَرًّا کا کیا معنی ہے؟ کاٹنا، ﴿فَبِالطَّرِّ يَتَحَقَّقُ الْأَخْذُ مِنَ الظَّاهِرِ﴾ تو کاٹنے کی وجہ سے لینا پایا گیا ظاہر سے۔ تھیلی کدھر ہے؟ باہر کی جانب، اور ڈوری کدھر ہے؟ اندر کی جانب، لیکن اس نے تو ڈوری نہیں کھولی اس نے تو تھیلی کاٹی ہے تو کاٹنا کس طرف ہوا؟ خارج کی طرف، جب خارج کی طرف ہے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ﴿فَبِالطَّرِّ يَتَحَقَّقُ الْأَخْذُ مِنَ الظَّاهِرِ فَلَا يُوجَدُ هَتْكُ الْحِرْزِ﴾ تو کاٹنے کی وجہ سے لینا پایا گیا ظاہر سے، لہٰذا حرز کا توڑنا نہیں پایا گیا یعنی کامل طور پر حرز کا توڑنا نہیں پایا گیا۔ ﴿وَفِي الثَّانِي﴾ اور دوسری صورت میں، دوسری صورت کیا تھی؟ ڈوری باہر ہے اور تھیلی اندر ہے اور اندر اس نے تھیلی کو کاٹ کر نکالا ہے تو اب حرز کا توڑنا پایا گیا تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہتے ہیں: ﴿وَفِي الثَّانِي الرِّبَاطُ مِنْ دَاخِلٍ﴾ اور دوسری صورت میں ڈوری جو ہے اندر کی جانب سے ہے، ڈوری ہے تو باہر لیکن کس جانب سے ہے؟ اندر کی جانب سے ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَفِي الثَّانِي الرِّبَاطُ مِنْ دَاخِلٍ فَبِالطَّرِّ يَتَحَقَّقُ الْأَخْذُ مِنَ الْحِرْزِ وَهُوَ الْكُمُّ﴾ اور دوسری صورت کے اندر ڈوری جو ہے اندر کی جانب سے ہے، تو کاٹنے کی وجہ سے حرز سے لینا پایا گیا اور حرز کیا ہے؟ وہ کُمّ ہے، آستین ہے، آستین سے لینا پایا گیا لہٰذا اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ ﴿وَلَوْ كَانَ مَكَانَ الطَّرِّ حَلُّ الرِّبَاطِ﴾ اب بھئی دوسری دو صورتیں، اس نے وہ تھیلی کاٹی نہیں ہے بلکہ ڈوری کو کھولا ہے تو اس صورت میں کہتے ہیں معاملہ برعکس ہو جائے گا۔ تھیلی باہر ہے اور ڈوری اندر ہے تو جب وہ اندر ہاتھ ڈال کے ڈوری کھولے گا تو درہم بھی اندر ہی گریں گے اور وہ اندر سے ہی درہم لے گا تو اب ہاتھ کاٹیں گے۔ تھیلی باہر ہو اس کو کاٹیں تو ہاتھ نہیں کاٹتے اور ڈوری کھول کر نکالیں تو وہ اندر سے نکالنے پڑیں گے ہاتھ کاٹیں گے۔ اس کا برعکس کر لیں: تھیلی اندر ہے اور ڈوری باہر، تو اس نے ڈوری باہر سے ہی کھولی ہے، جب باہر سے کھولی ہے تو باہر سے ہی وہ ہاتھ ڈال کر اس میں سے درہم نکالے گا، آستین کے اندر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ كَانَ مَكَانَ الطَّرِّ حَلُّ الرِّبَاطِ ثُمَّ الْأَخْذُ فِي الْوَجْهَيْنِ﴾ اور اگر کاٹنے کی جگہ ڈوری کا کھولنا ہوا اور پھر لینا ہوا دونوں صورتوں میں، یعنی درہم لیتا ہے دونوں صورتوں میں یعنی چاہے تھیلی باہر کی طرف ہے چاہے تھیلی اندر کی طرف۔ تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ كَانَ مَكَانَ الطَّرِّ حَلُّ الرِّبَاطِ ثُمَّ الْأَخْذُ فِي الْوَجْهَيْنِ يَنْعَكِسُ الْجَوَابُ﴾ اور اگر کاٹنے کی جگہ ڈوری کا کھولنا ہوا اور پھر لینا ہوا درہموں کا دونوں صورتوں میں، تو جواب منعکس ہوگا، جواب برعکس ہوگا۔ تھیلی باہر ہے اور اس کو کاٹ کر درہم نکالے تو ہاتھ نہیں کاٹتے تھے اور تھیلی اندر ہے اور اس کو کاٹ کر درہم نکالے تو ہاتھ کاٹتے تھے، لیکن اگر ڈوری کھول کر نکالا ہے تو اس کا برعکس ہوگا۔ تھیلی باہر ہے اور ڈوری اندر ہے تو ڈوری کھول کر درہم نکال رہا ہے تو وہ اندر سے نکال رہا ہے تو ہاتھ کاٹیں گے۔ اور اگر تھیلی اندر ہے اور ڈوری باہر ہے اور ڈوری کھول کر درہم نکال رہا ہے تو باہر سے ہی ڈوری کھولے گا اور باہر کی طرف سے ہی اس نے درہم نکال لیے اور لے گیا تو آستین کے اندر ہاتھ نہیں ڈالا، لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿يَنْعَكِسُ الْجَوَابُ لِانْعِكَاسِ الْعِلَّةِ﴾ تو دونوں صورتوں میں جواب جو ہے وہ برعکس ہو جائے گا علت کے برعکس ہو جانے کی وجہ سے۔ علت کے برعکس ہونے کی وجہ سے، علت کیا تھی ہاتھ کیوں کاٹتے تھے؟ حرز کو توڑنے کی وجہ سے، تو یہاں پر جب ڈوری کھول کر نکالے گا تو علت برعکس ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو وہ صورتیں جن کے اندر آستین کے اندر سے وہ درہم نکالے ان صورتوں میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اس لیے کیونکہ یہاں پر کامل طور پر حرز کو توڑنا پایا گیا، حرز کیا تھا؟ آستین، اور اس نے بھی آستین کے اندر ہاتھ ڈال کر درہم نکالے ہیں اور لے گیا ہے۔ اور وہ صورت جس کے اندر آستین کے اندر ہاتھ نہیں ڈالنے پڑتے بلکہ باہر کی طرف سے ہی چور درہم پکڑ لیتا ہے اور لے جاتا ہے تو اس صورت میں بھی اس نے حرز تو توڑا ہے لیکن کامل طور پر حرز کو نہیں توڑا، اس نے آستین کے اندر سے چیز نہیں نکالی لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ يُقْطَعُ عَلَى كُلِّ حَالٍ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہاتھ کاٹا جائے گا ہر حال میں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں چاروں صورتوں میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چاہے تھیلی باہر ہے چاہے اندر ہے، اور چاہے اس نے تھیلی کو کاٹ کر درہم نکالے ہیں اور چاہے اس نے ڈوری کو کھول کر درہم نکالے ہیں، چاروں صورتوں میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ يُقْطَعُ عَلَى كُلِّ حَالٍ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہاتھ کاٹا جائے گا ہر حال میں، ﴿لِأَنَّهُ مُحْرَزٌ إِمَّا بِالْكُمِّ أَوْ بِصَاحِبِهِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ مال محفوظ ہے یا تو آستین کے ذریعے یا صاحبِ آستین کے ذریعے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر آستین کے اندر ہاتھ ڈال کر اس نے درہم نکالے ہیں تو بھی ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اس نے حرز کو توڑا ہے، اور اگر آستین کے باہر سے یہ درہم لیتا ہے پھر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اب آستین تو نہیں لیکن حرز بالحافظ تو ہے، یہ آستین والا تو موجود ہے تو لہٰذا اس صورت میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ مُحْرَزٌ إِمَّا بِالْكُمِّ أَوْ بِصَاحِبِهِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ مال محفوظ ہے یا تو آستین کے ذریعے یا آستین کے مالک کے ذریعے، ﴿قُلْنَا﴾ ہم کہتے ہیں، ہم کہتے ہیں نہیں، یہاں اصل حرز آستین ہی ہے۔ حرز کیا ہے؟ آستین ہے لہٰذا اسی کا اعتبار کیا جائے گا، یہاں حرز بالحافظ نہیں ہے بھئی۔ تو ﴿قُلْنَا الْحِرْزُ هُوَ الْكُمُّ لِأَنَّهُ يَعْتَمِدُهُ﴾ ہم کہتے ہیں کہ حرز جو ہے وہ آستین ہی ہے، ﴿لِأَنَّهُ يَعْتَمِدُهُ﴾ اس لیے کیونکہ اس آدمی کا اسی پر اعتماد ہے، بھئی دیکھیے آپ جب جیب میں کوئی چیز ڈال کر چلتے ہیں تو آپ کا اعتماد جیب پر ہوتا ہے۔ آپ کا اعتماد جیب پر ہوتا ہے کہ جیب کے اندر چیز محفوظ ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی حرز آستین ہی ہے صاحبِ حرز وہ حافظ نہیں ہے وہ حفاظت کے لیے نہیں ہے ساتھ بھئی۔ دیکھیے آگے تفصیل بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ﴿قُلْنَا الْحِرْزُ هُوَ الْكُمُّ لِأَنَّهُ يَعْتَمِدُهُ﴾ ہم کہتے ہیں کہ حرز جو ہے وہ آستین ہی ہے اس لیے کیونکہ اس آدمی کا اسی پر اعتماد ہے، ﴿وَإِنَّمَا قَصْدُهُ قَطْعُ الْمَسَافَةِ أَوِ الِاسْتِرَاحَةُ﴾ ہم کہتے ہیں دیکھو حرز وہ آستین ہی ہے، وہ آدمی وہ حافظ نہیں ہے، وہ حفاظت کرنے والا نہیں اس لیے کیونکہ دو ہی صورتیں ہیں۔ آستین کے اندر درہم ہے یا تو یہ آدمی چل رہا ہوگا یا کسی جگہ بیٹھا ہوگا۔ اگر چل رہا ہے تو اس وقت اس آدمی کا مقصد صرف مسافت کو طے کرنا ہے اس کا مقصد حفاظت نہیں، اس کا اعتماد آستین پر ہی ہے کہ آستین میں میری چیز محفوظ ہے، تو وہ صرف اس وقت مسافت طے کر رہا ہے تو چلتے ہوئے بھی یہ حافظ نہیں، اور اگر یہ بیٹھا ہوا ہے کسی جگہ اور جیب قطرے نے مال نکال لیا تو جس وقت یہ بیٹھا ہوا ہے تو یہاں بھی اس کا مقصد حفاظت کرنا نہیں ہے اس کا اعتماد آستین پر ہی ہے یہ صرف آرام کرنے کے لیے اس وقت بیٹھا ہوا ہے، کیا کرنے کے لیے؟ آرام کرنے کے لیے بیٹھا ہے، تو جب چل رہا ہے تو وہاں حفاظت مقصود نہیں ہے بلکہ فاصلہ طے کرنا مقصد ہے، اور جب بیٹھا ہوا ہے تو آرام کرنا مقصد ہے حفاظت مقصد نہیں ہے اس کا سارا اعتماد آستین پر ہے، لہٰذا آستین ہی کو دیکھا جائے گا حافظ کو یہاں نہیں دیکھا جائے گا۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ﴿وَإِنَّمَا قَصْدُهُ قَطْعُ الْمَسَافَةِ أَوِ الِاسْتِرَاحَةُ﴾ اس لیے کیونکہ اس آدمی کا ارادہ جو ہے وہ اس مسافت کو طے کرنا ہے یا آرام کرنا ہے، ﴿فَأَشْبَهَ الْجُوَالِقَ﴾ تو یہ بوری کے مشابہ ہو گیا۔ جوالق بھئی، جوالق جمع ہے جوالق کی، ج پر فتحہ پڑھیں تو یہ ہے جمع اور ج پر ضمہ پڑھیں تو یہ ہے مفرد بھئی۔ تو جوالق کہتے ہیں بوری کو بھئی بوری، بوری جس کے اندر سامان کو محفوظ کر کے رکھتے ہیں یا بڑا تھیلا بھئی جس کے اندر سامان کو محفوظ کر کے رکھا جاتا ہے۔ یاد رکھو اگر آپ نے بوری کے اندر کوئی چیز رکھی ہے اور وہ بوری گلی میں ہے راستے میں ہے، بوری کہاں پر ہے؟ راستے میں ہے، اگر چور اس بوری کو اٹھا کر لے جائے تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں پر نہ حرز بالمکان ہے اور نہ حرز بالحافظ ہے۔ لیکن اگر چور نے اس بوری کو کاٹا اور بوری کو کاٹ کر اس میں سے سامان نکال کر لے گیا پھر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ بوری کے اندر چیزوں کو حفاظت کے لیے رکھا جاتا ہے، تو بوری کو جب اس نے کاٹا تو گویا اس نے حرز کو توڑ دیا۔ اگر وہ ساری بوری ہی اٹھا کر لے جاتا پھر بھئی بوری تو راستے میں پڑی تھی لہٰذا اس نے کوئی حرز نہیں توڑا، توجہ ہے؟ تو بوری اگر راستے میں پڑی ہے وہاں پر نہ حرز بالمکان ہے نہ حرز بالحافظ ہے، کوئی چور اس کو اٹھا کر لے جائے تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا لیکن اگر چور آیا اور اس نے آ کر اس بوری کو کاٹا اور اس کے اندر سے سامان اٹھا کر لے گیا تو پھر اس صورت کے اندر اس نے حرز کو توڑا ہے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو جیسے دیکھو بوری جو ہے وہ حرز ہے اسی طرح یہ آستین بھی کیا ہے؟ حرز ہے، تو آستین کے اندر سے کوئی چیز چوری کرے گا تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِنْ سَرَقَ مِنَ الْقِطَارِ بَعِيرًا أَوْ حِمْلًا لَمْ يُقْطَعْ﴾ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: اونٹوں کی ایک قطار لے جا رہے ہیں کچھ لوگ بھئی، اونٹوں کی ایک قطار ہے اور اس قطار میں سے کوئی شخص ایک اونٹ چوری کر لیتا ہے، کہتے ہیں اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ جو اونٹوں کو لے جانے والے ہیں ان کا مقصد اونٹوں کو لے جانا ہے یہاں حفاظت نہیں۔ یاد رکھو حرز سے کوئی شخص چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے لیکن وہ حرز مقصودی ہونا چاہیے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں پر بھی یہ جو آدمی اونٹوں کو لے کر جا رہے ہیں اگرچہ یہاں بھی حفاظت ہے لیکن اصل مقصود حفاظت نہیں ہے، اصل مقصود ان اونٹوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہے ان کو لے جانا ہے بھئی۔ تو حرز تو ہے لیکن حرز مقصودی نہیں، جب حرز مقصودی نہیں ہے تو ان سے کوئی چوری کر لے گا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ لہٰذا ایک چور آیا اور وہ ایک بیچ میں سے ایک اونٹ کو نکال کر کسی طرح لے گیا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور سزا تو دی جائے گی لیکن ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یا اسی طرح ان اونٹوں پر بوریوں کے اندر سامان لدا ہوا ہے، ایک چور آیا اور ان میں سے ایک دو بوریاں اٹھا کر لے گیا اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں پر بھی اگرچہ وہ ہانکنے والے جو ہیں وہ جو اونٹوں کو ہانک رہے ہیں وہ موجود ہیں، حفاظت تو ہے لیکن ان کا اصل مقصد حفاظت نہیں ہے بلکہ اس سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہے، تو حرز حرزِ مقصودی یہاں پر نہیں ہے اور حرزِ مقصودی ہونا ضروری ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اونٹوں کے اوپر بوریاں لدی ہوئی ہیں اور ان میں سامان ہے، اور ایک چور آیا اور اس نے بوری نہیں چوری کی بلکہ بوری کو کاٹ کر یا کھول کر اس میں سے سامان نکالا اور پھر لے گیا، کہتے ہیں اب اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اس لیے کیونکہ بوری کے اندر سامان حفاظت کے لیے رکھا جاتا ہے تو گویا وہ حرز سے سامان لے گیا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ سَرَقَ مِنَ الْقِطَارِ﴾ قطار اردو میں جسے ہم قطار کہتے ہیں بھئی لائن بھئی لائن، کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ سَرَقَ مِنَ الْقِطَارِ بَعِيرًا﴾ اور اگر کسی نے قطار میں سے کسی اونٹ کو چوری کر لیا، ﴿أَوْ حِمْلًا﴾ حمل کہتے ہیں جانور کے اوپر جو بوجھ لادا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حمل، وہ جو لدان ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ سَرَقَ مِنَ الْقِطَارِ بَعِيرًا أَوْ حِمْلًا لَمْ يُقْطَعْ﴾ اور اگر کسی نے قطار میں سے ایک اونٹ کو یا اس کے بوجھ کو چوری کر لیا، تو اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمُحْرَزٍ مَقْصُودًا﴾ اس لیے کیونکہ یہ محفوظ نہیں ہے باعتبار مقصود ہونے کے، کہ یہاں حفاظت مقصود ہو یہاں ایسا نہیں ہے، حفاظت تو ہے لیکن حفاظتِ مقصودی نہیں ہے۔ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمُحْرَزٍ مَقْصُودًا فَيَتَمَكَّنُ شُبْهَةُ الْعَدَمِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ محفوظ نہیں ہے باعتبار مقصود ہونے کے کہ حفاظت مقصود ہو تو نہ ہونے کا شبہ آ گیا، حرز نہ ہونے کا شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَيَتَمَكَّنُ شُبْهَةُ الْعَدَمِ﴾ تو حرز کے نہ ہونے کا شبہ آ گیا۔ ﴿وَهٰذَا لِأَنَّ السَّائِقَ وَالْقَائِدَ وَالرَّاكِبَ﴾ جی، سائق بھئی، سَاقَ يَسُوقُ سَوْقًا کا معنی ہے جانور کو پیچھے سے ہانکنا، جانور آگے ہیں اور ہانکنے والا پیچھے تو اس کو کہیں گے سائق بھئی۔ اور اگر جانوروں کو لے جانے والا آگے ہو اور جانور اس کے پیچھے ہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ قائد بھئی، توجہ ہے؟ قائد کو بھی قائد اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ قوم کے آگے ہو کر قوم کی رہنمائی کرتا ہے، تو جانوروں کو پیچھے سے ہانکنے والا وہ ہے سائق اور آگے سے لے جانے والا وہ ہے قائد بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهٰذَا لِأَنَّ السَّائِقَ وَالْقَائِدَ وَالرَّاكِبَ يَقْصِدُونَ قَطْعَ الْمَسَافَةِ وَنَقْلَ الْأَمْتِعَةِ دُونَ الْحِفْظِ﴾ اور یہ اس وجہ سے، ﴿لِأَنَّ السَّائِقَ﴾ اس لیے کیونکہ جو ہانکنے والا ہے، ﴿وَالْقَائِدَ﴾ اور وہ جو آگے سے کھینچنے والا ہے، ﴿وَالرَّاكِبَ﴾ اور وہ جو سوار ہے، ﴿يَقْصِدُونَ قَطْعَ الْمَسَافَةِ﴾ ان کا ارادہ جو ہے مسافت کو طے کرنا ہے فاصلے کو طے کرنا ہے، ﴿وَنَقْلَ الْأَمْتِعَةِ﴾ اور سامان کو منتقل کرنا ہے، ﴿دُونَ الْحِفْظِ﴾ نہ کہ حفاظت کرنا۔ یہ سائق، قائد اور راکب اگر وہ ہیں بھی بیچ میں وہ بھی چل رہے ہیں لیکن ان کا مقصد سامان کو منتقل کرنا ہے حفاظت ان کا مقصد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿يَقْصِدُونَ قَطْعَ الْمَسَافَةِ وَنَقْلَ الْأَمْتِعَةِ دُونَ الْحِفْظِ﴾. حفظِ۔ ان کا مقصد جو ہے مسافت کو طے کرنا ہے اور سامان کو منتقل کرنا ہے، نہ کہ حفاظت کرنا۔ ”حَتَّى لَوْ كَانَ مَعَ الْأَحْمَالِ مَنْ يَتْبَعُهَا لِلْحِفْظِ قَالُوا يُقْطَعُ“ ہاں! اگر کچھ خاص لوگ بھی ساتھ ہیں جو صرف حفاظت کی نیت سے ساتھ ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صرف حفاظت کی نیت سے ساتھ ہیں، پھر چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا اگر وہ اونٹ چوری کر لیتا ہے یا وہ سامان چوری کر لیتا ہے۔ کہتے ہیں ”حَتَّى لَوْ كَانَ مَعَ الْأَحْمَالِ“ یہاں تک کہ وہ جو بوجھ لادے گئے ہیں اونٹوں پر ان کے ساتھ ہوا ”مَنْ يَتْبَعُهَا لِلْحِفْظِ“ جو ان کے پیچھے چل رہا ہے حفاظت کے لیے، ”قَالُوا“ تو فقہاء فرماتے ہیں ”يُقْطَعُ“ پھر اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا جب حفاظت کرنے والے باقاعدہ لوگ وہاں موجود ہوں۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَقَّ الْحِمْلَ وَأَخَذَ مِنْهُ قُطِعَ“ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بوری کو چوری کر لے گا، اونٹ کے اوپر بوری لادی گئی ہے، بوری کو چوری کرے گا تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ وہاں حفاظت کرنے والا کوئی نہیں۔ لیکن اگر بوری کو کاٹ کر یا بوری کو کھول کر اس میں سے سامان چوری کیا ہے، پھر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اس نے حرز سے سامان چوری کیا ہے۔ کہتے ہیں ”وَإِنْ شَقَّ الْحِمْلَ“ اور اگر اس چور نے اس بوجھ کو کاٹ دیا، اس کو پھاڑ دیا یعنی بوری وغیرہ کو ”وَأَخَذَ مِنْهُ“ اور اس سے مال لے لیا ”قُطِعَ“ تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ”لِأَنَّ الْجُوَالِقَ فِي مِثْلِ هَذَا حِرْزٌ“ اس لیے کیونکہ بوری جو ہے اس قسم کی صورت میں حرز ہوتی ہے۔ اس جیسی جگہوں میں بوری خود کیا ہے؟ وہ حرز ہے۔ ”لِأَنَّ الْجُوَالِقَ فِي مِثْلِ هَذَا حِرْزٌ“ اس لیے کیونکہ بوری جو ہے اس قسم کی جگہ کے اندر وہ حرز ہے۔ ”لِأَنَّهُ يُقْصَدُ بِوَضْعِ الْأَمْتِعَةِ فِيهِ صِيَانَتُهَا“ اس لیے کیونکہ اس بوری کے اندر سامان رکھ کر یہ ارادہ کیا جاتا ہے اس کی حفاظت کا۔ بوریوں کے اندر سامان کس لیے رکھا جاتا ہے؟ حفاظت کی نیت سے۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ يُقْصَدُ بِوَضْعِ الْأَمْتِعَةِ فِيهِ صِيَانَتُهَا“ اس لیے کیونکہ بوری کے اندر سامان رکھ کر ارادہ کیا جاتا ہے اس سامان کی حفاظت کا، ”كَالْكُمِّ“ جیسے کہ آستین ہے۔ آستین میں جب ایک چیز رکھ لی ہے تو اس کے آستین کے ذریعے حفاظت کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ”فَوُجِدَ الْأَخْذُ مِنَ الْحِرْزِ“ تو لہٰذا حرز سے لینا پایا گیا۔ ایک چور نے وہ بوری پھاڑ کر اس میں سے سامان نکال لیا ہے، تو حرز سے سامان کا لینا پایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے ”فَوُجِدَ الْأَخْذُ مِنَ الْحِرْزِ“ تو حرز سے مال لینا پایا گیا ”فَيُقْطَعُ“ تو چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ سَرَقَ جُوَالِقًا فِيهِ مَتَاعٌ وَصَاحِبُهُ يَحْفَظُهُ أَوْ نَائِمٌ عَلَيْهِ قُطِعَ“ بھئی، یہ مسئلہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر ایک آدمی اپنے سامان کے پاس خود، چاہے سویا ہوا ہی کیوں نہ ہو، اس کو حافظ شمار کیا جاتا ہے کہ یہ سامان کی حفاظت کر رہا ہے۔ لہٰذا ایک آدمی کے پاس بوری کے اندر سامان موجود ہے اور یہ آدمی خود اس بوری کے اوپر یا اس کے ساتھ سویا ہوا ہے، تو یہاں حرز موجود ہے یعنی حرز بالحافظ موجود ہے۔ تو اس بوری کو اگر کوئی چوری کر لے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر بوری کو کھول کر اس میں سے یا بوری کو کاٹ کر اس میں سے کچھ چوری کر لے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ سَرَقَ جُوَالِقًا فِيهِ مَتَاعٌ“ اور اگر کسی شخص نے چوری کر لی ایسی بوری کہ اس کے اندر سامان ہے ”وَصَاحِبُهُ يَحْفَظُهُ“ اور اس بوری کا مالک جو ہے وہ اس کی حفاظت کر رہا ہے ”أَوْ نَائِمٌ عَلَيْهِ“ یا وہ اس کے اوپر سویا ہوا ہے ”قُطِعَ“ تو اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ”مَعْنَاهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کا معنیٰ یہ ہے، یہ جو پیچھے متن میں آیا۔ بھئی دیکھیے، انہوں نے کیا بتایا آپ کو مسئلہ؟ کہ بوری کے اندر سامان ہے اور مالک اس کے ساتھ سویا ہوا ہے، تو اس بوری کو چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں حرز بالحافظ ہے۔ صاحبِ ہدایہ آگے وضاحت فرمائیں گے کہ بھئی، یہ اس وقت ہے جب یہ آدمی راستے میں یا مسجد میں سویا ہوا ہے، یعنی جہاں حرز بالمکان نہیں ہے۔ جہاں حرز بالمکان نہیں ہے، پھر ہی اس بوری کو چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹیں گے۔ اور اگر یہ آدمی اب کسی کمرے کے اندر سویا ہوا ہے، تو پھر حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں۔ پھر تو حرز بالمکان کو دیکھا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”مَعْنَاهُ“ کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے قول کا معنیٰ یہ ہے ”إِذَا كَانَ الْجُوَالِقُ فِي مَوْضِعٍ“ کہ جب یہ بوری ایسے مقام پر ہو ”هُوَ لَيْسَ بِحِرْزٍ“ کہ وہ حفاظت کی جگہ نہ ہو ”كَالطَّرِيقِ وَنَحْوِهِ“ جیسے کہ راستہ اور اس کے مثل ہے ”حَتَّى يَكُونَ مُحْرَزًا بِصَاحِبِهِ“ یہاں تک کہ یہ بوری محرز بصاحبہ بن جائے۔ راستہ وغیرہ ہو تب ہی یہاں حرز بالحافظ معتبر ہوگا۔ اگر کوئی کمرہ وغیرہ ہے تو وہاں حرز بالحافظ معتبر نہیں۔ تو یہ معنی ہے ”حَتَّى يَكُونَ مُحْرَزًا بِصَاحِبِهِ“ یہاں تک کہ یہ بوری جو ہے اپنے مالک کی وجہ سے محرز ہو جائے ”لِكَوْنِهِ مُتَرَصِّدًا لِحِفْظِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ اس کی حفاظت کے درپے ہے۔ ترصد کا کیا معنیٰ؟ کسی چیز کے درپے ہونا، کسی چیز کی طرف متوجہ ہونا۔ ”لِكَوْنِهِ مُتَرَصِّدًا لِحِفْظِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ مالک جو ہے وہ اس بوری کی حفاظت کے درپے ہے ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے ”لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ هُوَ الْحِفْظُ الْمُعْتَادُ“ اس لیے کیونکہ معتبر وہ حفظ ہے جو معتاد ہو۔ بھئی، راستے میں بوری رکھی ہے لیکن مالک پاس ہی سویا ہوا ہے، تو اس کو عادۃً حفاظت ہی شمار کیا جاتا ہے۔ یہ معنی ہے ”وَهَذَا لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ هُوَ الْحِفْظُ الْمُعْتَادُ“ اور وہ اس لیے کیونکہ معتبر وہ حفاظت ہے جو معتاد ہو یعنی جس کی لوگوں کو عادت ہو۔ مالک بے شک پاس سویا ہوا ہو، لیکن اس کو بھی عرف میں حفاظت کرنا ہی کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَهَذَا لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ هُوَ الْحِفْظُ الْمُعْتَادُ“ اور اس لیے کیونکہ معتبر وہ حفظ ہے جو معتاد ہو یعنی جس کی لوگوں کو عادت ہو ”وَالْجُلُوسُ عِنْدَهُ“ اور اس سامان کے پاس بیٹھنا ”وَالنَّوْمُ عَلَيْهِ“ اور اس کے اوپر سونا ”يُعَدُّ حِفْظًا عَادَةً“ اس کو عادۃً حفاظت کرنا ہی شمار کیا جاتا ہے ”وَكَذَا النَّوْمُ بِقُرْبٍ مِنْهُ“ اور اسی طرح اس کے قریب سونا، یہ بھی حفاظت ہی ہے ”عَلَى مَا اخْتَرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ اس وجہ سے جو ہم نے اختیار کیا اس سے پہلے۔ بھئی، گزشتہ سبق کے آخر میں آیا تھا، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک شخص نے دوسرے کے پاس امانت رکھوائی اور وہ امانت والا کسی جگہ راستے میں سویا امانت اپنے پاس رکھ کر، تو پھر بھی اس کو محافظ ہی شمار کیا جائے گا۔ اور وہ امانت اگر چوری ہو گئی تو اس حفاظت کرنے والے پر ضمان نہیں آئے گا۔ لیکن فتاویٰ کے اندر کہتے ہیں اس کے برعکس قول کو اختیار کیا گیا ہے اور محشی حضرات نے بتلایا کہ اس کے ذریعے اشارہ ہے فتاویٰ ظہیریہ کی طرف۔ فتاویٰ ظہیریہ کے اندر لکھا گیا ہے کہ اس شخص نے امانت کی حفاظت نہیں کی لہٰذا اس پر ضمان آئے گا۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ راجح قول کے مطابق جو شخص ایک چیز کے پاس سویا ہوا ہو، اس کو عادۃً اس کا حفاظت کرنے والا ہی شمار کیا جاتا ہے، لہٰذا اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ اب وہی بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا النَّوْمُ بِقُرْبٍ مِنْهُ“ اور اسی طرح اس چیز کے قریب سو جانا ”عَلَى مَا اخْتَرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ اس قول کی وجہ سے جس کو ہم نے ماقبل میں اختیار کیا ”وَذُكِرَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ“ اور جامع صغیر کے بعض نسخوں میں یہ عبارت بھی ذکر ہے: ”وَصَاحِبُهُ نَائِمٌ عَلَيْهِ أَوْ حَيْثُ يَكُونُ حَافِظًا لَهُ“ بھئی، متن کے اندر آیا کہ بوری کا مالک بوری کے اوپر سویا ہو تو پھر اس کو محافظ شمار کریں گے۔ جبکہ جامع صغیر کے بعض نسخوں میں یہ بھی ہے کہ بوری کا مالک بوری کے اوپر سویا ہو یا اس طور پر ہو کہ اس کو حفاظت کرنے والا شمار کیا جاتا ہو۔ اس کو حفاظت کرنے والا شمار کیا جاتا ہو۔ کہتے ہیں اس سے ہماری بات کی تائید ہو گئی۔ معلوم ہوا اوپر سونا ضروری نہیں بلکہ اس کے پاس بھی سو جائے تو اس کو بھی عرف میں حفاظت کرنے والا ہی شمار کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَذُكِرَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ“ اور جامع صغیر کے بعض نسخوں میں ذکر کیا گیا ہے ”وَصَاحِبُهُ نَائِمٌ عَلَيْهِ“ کہ وہ بوری والا اس بوری کے اوپر سویا ہوا ہو ”أَوْ حَيْثُ يَكُونُ حَافِظًا لَهُ“ یا اس طور پر ہو کہ وہ اس کی حفاظت کرنے والا ہو۔ سویا ہوا ہے لیکن حفاظت کرنے والا ہے یعنی عرف میں اس کو حفاظت کرنے والا شمار کیا جاتا ہے۔ ”وَهَذَا يُؤَكِّدُ مَا قَدَّمْنَاهُ مِنَ الْقَوْلِ الْمُخْتَارِ“ اور یہ پکا کرتا ہے اس بات کو جو ہم نے ماقبل میں ذکر کی تھی مختار قول۔ ماقبل میں ہم نے جو پسندیدہ اور راجح قول ذکر کیا تھا، یہ جامع صغیر کی یہ عبارت اس کی تائید کرتی ہے۔ اس میں کیا ذکر ہے؟ کہ اوپر سویا ہوا ہو یا اس طور پر ہو کہ اس کو حفاظت کرنے والا شمار کیا جاتا ہو۔ معلوم ہوا صرف اوپر سونے والے کو ہی حفاظت کرنے والا شمار نہیں کرتے بلکہ اس کے پاس بھی اگر کوئی سویا ہو تو اس کو حفاظت کرنے والا شمار کیا جاتا ہے۔ آگے دیکھیے بھئی: ”فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْقَطْعِ وَإِثْبَاتِهِ“ یہ فصل ہے قطع کی کیفیت میں یعنی قطع کے طریقے میں اور قطع کے اثبات کے اندر۔ اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرمائیں گے کہ چور کا ہاتھ کیسے کاٹا جائے گا، اس کا طریقہ کیا ہے، اور نیز قطع کا اثبات کس صورت میں ہوگا۔ یعنی اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ وہ شرطیں ذکر فرمائیں گے جو قطع کے لیے ضروری ہیں۔ وہ شرطیں پائی جائیں گی تو چور کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا، اگر وہ شرطیں پوری نہیں تو چور کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ مثلاً صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے خصومت ضروری ہے۔ چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے خصومت ضروری ہے، مثلاً مالک یا وہ شخص جس سے چوری کی گئی ہے وہ خصومت کرے گا، قاضی کے پاس مقدمہ کرے گا تو پھر ہی چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا مالک کی یا جس شخص سے چوری ہوئی ہے اس کی خصومت شرط ہے قطع کے اثبات کے لیے۔ نیز اسی طرح صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بھی بتلائیں گے کہ اگر اس ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے چور کا جنسِ نفع ختم ہو رہا ہو تو پھر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مثلاً چور کا دایاں ہاتھ کاٹنا ہے، اگر چور کا بایاں ہاتھ پہلے سے ہی کٹا ہوا ہے تو اب اگر آپ دایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں گے تو چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا۔ یہ چیزوں کو پکڑ ہی نہیں سکتا، نہ دایاں ہاتھ ہے اور نہ بایاں ہاتھ، لہٰذا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یا چور کا دایاں پاؤں کٹا ہوا ہے۔ بھئی، جب دایاں پاؤں کٹا ہوا ہے اور آپ دایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں گے، تو ایک ہی طرف کا ہاتھ اور پاؤں کٹ گئے تو یہ چور اب چل نہیں سکتا۔ یہ چور اب چل نہیں سکتا کیونکہ ایک طرف کا پاؤں کٹا ہو اور اس طرف کا ہاتھ صحیح ہو تو چور کوئی لاٹھی وغیرہ اس طرف پکڑ کر چل لے گا۔ لیکن جب اس طرف کا پاؤں بھی کٹا ہے اور ہاتھ بھی کٹ گیا تو اب اس طرف لاٹھی پکڑنے کی بھی صورت نہ رہی بھئی۔ تو قطع کے لیے یہ شرط ہے کہ اس ہاتھ کے کاٹنے کی وجہ سے چور کا چیزوں کو پکڑنے کا یا چلنے کا جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بھی بتلائیں گے کہ اگر ہاتھ کاٹنے سے پہلے مالک نے چور کو اس مال کا مالک بنا دیا اور اس کے حوالے کر دیا، یا مالک سے چور نے وہ سامان خرید لیا تو اس صورت کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ توجہ ہے؟ یہ میں تفصیل بیان کر رہا ہوں، یہ جو فصل کا نام آیا ”فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْقَطْعِ وَإِثْبَاتِهِ“ یہ فصل ہے کاٹنے کے طریقے کے بیان میں اور اثباتِ قطع کے بیان میں کہ کس وقت قطع کا اثبات ہوگا، یعنی اس کی شرطیں کیا کیا ہیں، وہ صاحبِ ہدایہ اس فصل میں ذکر فرمائیں گے۔ تو میں نے بتایا اس میں خصومت بھی ضروری ہے پھر ہی قطع کا اثبات ہو سکے گا۔ نیز اس کے اندر یہ بھی ضروری ہے کہ چور کا بایاں ہاتھ پہلے سے کٹا ہوا نہ ہو یا چور کا دایاں پاؤں پہلے سے کٹا ہوا نہ ہو، پھر ہی کاٹنے کا اثبات ہو سکے گا۔ اور نیز میں نے یہ بھی بتایا کہ چور اس مال کا مالک نہ بن جائے ہاتھ کاٹنے سے پہلے، اگر چور اس مال کا مالک بن گیا تو اس صورت میں بھی قطع کا اثبات نہیں ہو سکے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْقَطْعِ وَإِثْبَاتِهِ“ یہ فصل ہے ہاتھ کاٹنے کے طریقے کے بیان میں اور اس قطع کے اثبات کے بیان میں کہ کب ہاتھ کا کاٹنا کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ ”قَالَ: وَيُقْطَعُ يَمِينُ السَّارِقِ مِنَ الزَّنْدِ وَيُحْسَمُ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُقْطَعُ يَمِينُ السَّارِقِ مِنَ الزَّنْدِ“ زند بھئی، ز ن د، زند کہتے ہیں یہ جو ہاتھ کا جوڑ ہے بھئی، کلائی اور ہتھیلی کے درمیان۔ کلائی اور ہتھیلی کے درمیان یہ جو جوڑ ہے اس کو زند کہتے ہیں۔ اور ”حَسَمَ يَحْسِمُ“، ”حَسَمَ يَحْسِمُ“ کے معنیٰ ہیں داغنا۔ ”حَسَمَ يَحْسِمُ“ کا معنیٰ داغنا۔ بھئی، قدیم زمانے کے اندر تو علاج وغیرہ کے اتنے طریقے نہیں تھے بھئی، تو چور کا ہاتھ کاٹا جاتا تو دیکھو یہ جو ہاتھ کے اندر رگ ہے، نبض ہے، جس پر انگلیاں رکھیں تو وہ ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اس کے اندر براہِ راست دل سے سیدھا خون آ رہا ہے۔ تو اگر ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اتنی رفتار سے خون نکلتا ہے کہ تھوڑی سی دیر کے اندر ہی انسان مر جائے گا بھئی۔ سارا خون نکل جائے گا اور انسان مر جائے گا۔ تو لہٰذا وہ پھر ہاتھ کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغ دیتے تھے۔ لوہے کو خوب گرم کرتے اور ادھر جیسے ہی ہاتھ کٹتا تو وہ رگ جہاں سے خون نکل رہا ہوتا تھا اس کو گرم لوہے سے ایک دم داغ دیتے، وہ خون فوراً رک جاتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آج کل تو ڈاکٹری کے طریقے آ گئے بڑے بڑے، طالبان کے ہاں جب چور کا ہاتھ کاٹا جاتا تھا ملا عمر رحمہ اللہ کے زمانے میں، تو وہیں پر ڈاکٹر موجود ہوتے تھے۔ ادھر چور کا ہاتھ کاٹا جاتا پورے مجمعے کے سامنے اور ساتھ ہی ڈاکٹر وہاں موجود ہوتے تھے جو فوراً اس خون کو روکنے کا انتظام کر لیتے تھے بھئی۔ تو ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں ”وَيُقْطَعُ يَمِينُ السَّارِقِ مِنَ الزَّنْدِ“ اور چور کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا کلائی کے جوڑ سے ”وَيُحْسَمُ“ اور اس کو داغا جائے گا تاکہ خون رک جائے۔ ”فَالْقَطْعُ لِمَا تَلَوْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ بھئی، ہاتھ کیوں کاٹا جائے گا؟ اور پھر دایاں ہاتھ کیوں کاٹا جائے گا؟ تو کہتے ہیں بھئی، ہاتھ تو کاٹا جائے گا اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے پیچھے تلاوت کر دی: ”وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا“ اس آیت سے پتہ چل رہا ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور دایاں ہاتھ، دایاں ہاتھ کیوں کاٹیں گے؟ آیت کے اندر تو دائیں ہاتھ کا نہیں ذکر۔ تو جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ دایاں ہاتھ جو ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات سے ثابت ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات میں ہے: ”فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا“ قرآن میں تو کیا ہے؟ ”فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا“ اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات میں ہے ”فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا“ کہ ان کے داہنے ہاتھ کاٹ دو۔ اور وہ حدیثِ مشہور کے درجے میں ہے۔ اور حدیثِ مشہور کے ذریعے تو کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَالْقَطْعُ لِمَا تَلَوْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ تو ہاتھ کا کاٹنا اس آیت کی وجہ سے ہے جو ہم نے ماقبل میں تلاوت کر دی ”وَالْيَمِينُ“ اور دایاں ہاتھ جو ہے کہتے ہیں ”بِقِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ وہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات کی وجہ سے ہے ”وَمِنَ الزَّنْدِ“ اور کلائی سے کاٹا جائے گا، کلائی کا جو جوڑ ہے اس سے کاٹا جائے گا، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَمِنَ الزَّنْدِ“ اور کلائی سے ”لِأَنَّ الِاسْمَ يَتَنَاوَلُ الْيَدَ إِلَى الْإِبْطِ“ اِبط بھئی، اِبط، با کے نیچے کسرہ بھی صحیح اور با کو ساکن بھی پڑھ سکتے ہیں: ”إِلَى الْإِبْطِ“۔ ابط کہتے ہیں بغل کو بھئی۔ تو یاد رکھو ید کا لفظ عربی زبان میں ہاتھ کی انگلیوں سے لے کر کندھے تک، یہ جو سارا بازو ہے اس کو ید کہتے ہیں۔ اور اس ہاتھ کے اندر دیکھو کلائی والا جوڑ بھی آ رہا ہے اور کہنی والا جوڑ بھی آ رہا ہے اور کندھے والا جوڑ بھی آ رہا ہے۔ تو اب کون سے جوڑ سے ہاتھ کاٹا جائے گا؟ تو کہتے ہیں کہ سب سے چھوٹا جوڑ تو قطعی اور یقینی طور پر ہے اور وہ کلائی والا ہے، لہٰذا کلائی سے ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الِاسْمَ يَتَنَاوَلُ الْيَدَ إِلَى الْإِبْطِ“ اس لیے کیونکہ ید کا اسم یہ شامل ہے ہاتھ کو بغل تک ”وَهَذَا الْمَفْصِلُ“ مفصل بھئی، ص کے ساتھ، مفصل کہتے ہیں جوڑ کو، ”أَعْنِي الرُّسْغَ“ رسغ کہتے ہیں، ر س غ، رسغ کہتے ہیں کلائی کو بھی اور یہ جو کلائی کا جوڑ ہے کلائی اور ہتھیلی کے درمیان، اس کو بھی رسغ کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو یہاں یہ جوڑ مراد ہے۔ کہتے ہیں ”وَهَذَا الْمَفْصِلُ“ اور یہ والا جو جوڑ ہے ”أَعْنِي الرُّسْغَ“ یعنی کہ کلائی جو ہے ”مُتَيَقَّنٌ بِهِ“ یہ یقینی ہے۔ بھئی، ایک جوڑ کلائی والا ہے، ایک کہنی والا ہے اور ایک کندھے والا ہے۔ تو سب سے چھوٹا جوڑ تو یقینی اور قطعی طور پر شامل ہے اور باقی دو کے اندر شک آ گیا، تو جو چھوٹا جوڑ ہے وہ یقینی طور پر شامل تھا لہٰذا وہیں سے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا الْمَفْصِلُ“ اور یہ جو جوڑ ہے ”أَعْنِي الرُّسْغَ“ یعنی یہ جو کلائی کا جوڑ ہے ”مُتَيَقَّنٌ بِهِ“ یہ یقینی ہے ”كَيْفَ“ اور یہ کیسے یقینی نہیں ہو سکتا ”وَقَدْ صَحَّ“ اور تحقیق یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَمَرَ“ کہ حضور علیہ السلام نے حکم دیا ”بِقَطْعِ يَدِ السَّارِقِ مِنَ الزَّنْدِ“ چور کا ہاتھ کلائی سے کاٹنے کا۔ حضور علیہ السلام نے چور کا ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹنے کا حکم دیا، تو لہٰذا معلوم ہوا اس جوڑ سے ہاتھ کو کاٹیں گے۔ ”وَالْحَسْمُ“ اور داغنا، یہ زخم کو داغا کیوں جائے گا؟ کہتے ہیں ”وَالْحَسْمُ“ اور داغنا جو ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ وہ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے ہے کہ آپ نے فرمایا: ”فَاقْطَعُوهُ وَاحْسِمُوهُ“ کہ اس کا ہاتھ کاٹ دو اور اس کو داغ دو۔ دیکھو حدیث کے اندر آ رہا ہے ”فَاقْطَعُوهُ وَاحْسِمُوهُ“ کہ اس کو قطع کر دو اور اس کو داغ دو۔ ”وَلِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يُحْسَمْ“ جی، اب عقلی وجہ ذکر کر رہے ہیں داغنے کی۔ میں نے بتلایا داغنے کی عقلی وجہ کیا ہے کہ اگر آپ نہیں داغیں گے پھر تو وہ خون نکلے گا انسان ہی ہلاک ہو جائے گا۔ اب وہی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يُحْسَمْ“ اور اس لیے کیونکہ اگر اس کو داغا نہیں جائے گا ”يُفْضِي إِلَى التَّلَفِ“ تو یہ پہنچا دے گا ہلاک ہونے تک۔ یہ ہلاکت تک پہنچا دے گا اور یہاں چور کو ہلاک کرنا مقصد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يُحْسَمْ“ اس لیے کیونکہ اگر داغا نہیں جائے گا ”يُفْضِي إِلَى التَّلَفِ“ تو یہ ہلاکت تک پہنچا دے گا ”وَالْحَدُّ زَاجِرٌ لَا مُتْلِفٌ“ اور یہ جو حد ہے یہ تو دھمکانے والی ہے ”لَا مُتْلِفٌ“ ہلاک کرنے والی نہیں۔ اس حد کا مقصد کیا ہے کہ آدمی کے لیے زجر ہو جائے، وہ آئندہ یہ جرم نہ کرے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْحَدُّ زَاجِرٌ لَا مُتْلِفٌ“ اور یہ حد جو ہے یہ تو دھمکانے کے لیے ہے، ہلاک کرنے کے لیے نہیں۔ چنانچہ اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ شدید سردی ہو تو اس کے اندر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کہیں ایسا نہ ہو وہ ہلاک ہو جائے۔ یا شدید گرمی ہو پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کہیں ایسا نہ ہو چور ہلاک ہو جائے۔ یا چور شدید بیمار ہے پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کہیں ایسا نہ ہو چور ہلاک ہو جائے کیونکہ یہاں اس کو دھمکانا مقصود ہے، اس کو قتل کرنا مقصود نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ سَرَقَ ثَانِيًا قُطِعَتْ رِجْلُهُ الْيُسْرَى“ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ پہلی دفعہ میں چور کا دایاں ہاتھ کاٹیں گے۔ پھر اگر اس نے دوبارہ چوری کی اور پکڑا گیا اور چوری ثابت ہو گئی، تو اب اس کا بایاں پاؤں کاٹیں گے۔ دوسری جانب کا پاؤں، اس لیے کیونکہ ایک ہی جانب کا ہاتھ اور پاؤں کٹ گئے تو پھر یہ چل پھر نہیں سکے گا۔ اور اگر چور نے تیسری دفعہ چوری کی پھر؟ کہتے ہیں اب اس کا ہاتھ یا پاؤں نہیں کاٹیں گے بلکہ اب اس کو جیل میں ڈال دیں گے، یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے یا جیل میں ہی مر جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ سَرَقَ ثَانِيًا“ اگر اس چور نے دوسری مرتبہ چوری کی ”قُطِعَتْ رِجْلُهُ الْيُسْرَى“ تو اس کی بائیں ٹانگ جو ہے وہ کاٹ دی جائے گی۔ ”فَإِنْ سَرَقَ ثَالِثًا“ اگر اس نے تیسری چوری کی ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو اب قطع نہیں کیا جائے گا ”وَخُلِّدَ فِي السِّجْنِ“ اور اس کو ہمیشہ جیل میں رکھا جائے گا ”حَتَّى يَتُوبَ“ یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے۔ ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے ہر چوری میں ہاتھ یا پاؤں کاٹتے چلے جاؤ، یہاں تک کہ چاروں ہاتھ پاؤں کٹ جائیں، لیکن استحساناً جو ہے تیسری مرتبہ میں اس کا ہاتھ یا پاؤں نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ جو نہ کاٹنا ہے تیسری مرتبہ میں، یہ استحسان ہے ”وَيُعَزَّرُ أَيْضًا“ اور اس کو تعزیر کی جائے گی۔ بھئی، تیسری مرتبہ اس نے چوری کی ہے، اب ہاتھ یا پاؤں تو نہیں کاٹیں گے، جیل میں ڈالیں گے لیکن اس کے اندر بھی اس کو کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ ہاتھ یا پاؤں تو نہیں کاٹیں گے لیکن کوڑے لگائیں گے اور پھر جیل میں ڈال دیں گے۔ تو یہ معنی ہے ”وَيُعَزَّرُ أَيْضًا“ اور اس کو تعزیر بھی کی جائے گی۔ ”ذَكَرَهُ الْمَشَايِخُ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى“ فقہاء نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس کو تعزیر کی جائے گی بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الثَّالِثِ يُقْطَعُ يَدُهُ الْيُسْرَى“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تیسری چوری کے اندر اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ”وَفِي الرَّابِعَةِ يُقْطَعُ رِجْلُهُ الْيُمْنَى“ اور چوتھی چوری کے اندر اس کا دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے گا ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ وہ دلیل میں حضور علیہ السلام کا قول ذکر کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”مَنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ“ کہ جو شخص چوری کرے تو اس کو قطع کرو، اگر وہ پھر لوٹے یعنی پھر دوبارہ چوری کرے تو پھر اس کو قطع کرو، اگر وہ پھر لوٹے یعنی دوبارہ چوری کرے تو اس کو پھر قطع کرو۔ ”وَيُرْوَى مُفَسَّرًا“ اور اس کو مفسراً بھی روایت کیا گیا ہے۔ یعنی اس حدیث میں تو صرف اتنا ذکر ہے کہ چور چوری کرے تو اس کو قطع کرو، کیا چیز قطع کریں یہ ذکر نہیں۔ دوبارہ چوری کرے پھر قطع کرو، کیا چیز قطع کریں یہ ذکر نہیں۔ تیسری مرتبہ پھر چوری کرے پھر قطع کرو، توجہ ہے؟ تو اس حدیث کے اندر تو تفصیل ذکر نہیں کہ کس چیز کو کاٹنا ہے، لیکن بعض احادیث کے اندر یہاں تفصیل بھی ذکر ہے کہ پہلی دفعہ چوری کرے تو دایاں ہاتھ کاٹ دو، پھر چوری کرے تو بایاں پاؤں کاٹ دو، پھر چوری کرے تو بایاں ہاتھ کاٹ دو، اور پھر چوری کرے تو دایاں پاؤں کاٹ دو۔ تو یہ معنی ہے ”وَيُرْوَى مُفَسَّرًا“ اور اس حدیث کو روایت کیا گیا ہے مفسراً، اس حال میں کہ یہ مفسر ہے یعنی اس میں تفصیل کی گئی ہے ”كَمَا هُوَ مَذْهَبُهُ“ جیسے کہ مذہب ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا۔ ”وَلِأَنَّ الثَّالِثَةَ مِثْلُ الْأُولَى“ یہ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی نقلی دلیل تھی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ نیز وہ عقلی دلیل بھی دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب تیسری چوری اس نے کی ہے تو یہ چوری تو پہلی دو چوریوں سے بھی بڑھ کر بری ہے۔ جب پہلی اور دوسری چوری میں ہاتھ اور پاؤں کٹے ہیں تو تیسری چوری تو ان سے بھی بڑھ کر بری ہے کہ اس کو ایک دفعہ سزا مل چکی ہے پھر بھی یہ چوری سے باز نہیں آیا، تو اس میں تو بطریقِ اولیٰ اس کا ہاتھ یا پاؤں کاٹنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ الثَّالِثَةَ مِثْلُ الْأُولَى“ اور اس لیے کیونکہ تیسری چوری بھی پہلی چوری کے مثل ہے ”فِي كَوْنِهَا جِنَايَةً“ جرم ہونے کے اندر ”بَلْ فَوْقَهَا“ بلکہ یہ تیسری چوری تو پہلی چوری سے بھی بڑھ کر ہے ”فَتَكُونُ أَدْعَى إِلَى شَرْعِ الْحَدِّ“ تو یہ زیادہ دعوت دینے والی ہے حد کی مشروعیت کی کہ اس کو حد لگائی جائے۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی بھئی۔ ہماری دلیل حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک چور کو لایا گیا اور اس نے تیسری دفعہ چوری کی تھی۔ اس کا دایاں ہاتھ بھی کٹ چکا ہے، بایاں پاؤں بھی کٹ چکا ہے، اب پھر وہ چوری کے اندر پکڑا گیا ہے۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مشورہ فرمایا۔ صحابہ نے فرمایا کہ اب اس کا ہاتھ کاٹا جائے، تیسری چوری میں بھی کیا کیا جائے؟ قطع کیا جائے، تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ اس کا کوئی ہاتھ باقی نہ رہے جس کے ذریعے یہ کچھ کھا پی سکے، یہ استنجاء وغیرہ کر سکے، یا اس کا کوئی پاؤں باقی نہ رہے جس کے ذریعے یہ چل سکے، تو مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں اس کا کوئی ہاتھ باقی نہ رہنے دوں یا کوئی پاؤں باقی نہ رہنے دوں۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ دلیل سن کر مطمئن ہو گئے بھئی، تو اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا۔ صحابہ کرام نے مقابلے میں وہ حدیث ذکر نہیں فرمائی جو امام شافعی رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں۔ اگر وہ حدیث صحابہ کے نزدیک ثابت ہوتی تو پھر صحابہ یقیناً اس کو ذکر فرماتے بھئی۔ تو صحابہ بھی مطمئن ہو گئے تو اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا کہ تیسری چوری کے اندر پھر قطع نہیں ہوگا بھئی، چور کا ہاتھ یا پاؤں نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِيهِ“ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے اس بارے میں کہ وہ فرماتے ہیں: ”إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ لَا أَدَعَ لَهُ يَدًا يَأْكُلُ بِهَا وَيَسْتَنْجِي بِهَا وَرِجْلًا يَمْشِي عَلَيْهَا“ کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں اس کے لیے کوئی ایسا ہاتھ نہ چھوڑوں جس کے ذریعے یہ کھانا کھائے اور جس کے ذریعے وہ استنجاء کرے، اور یہ کہ میں اس کے لیے کوئی ایسا پاؤں نہ چھوڑوں کہ جس کے اوپر یہ چلے۔ ”وَبِهَذَا حَاجَّ بَقِيَّةَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فَحَجَّهُمْ“ اور اس دلیل کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقی صحابہ سے بحث فرمائی، تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان پر غالب آ گئے۔ عربی میں کہتے ہیں ”حَاجَّهُ“ کہ اس نے اس کے ساتھ بحث کی ”فَحَجَّهُ“ تو اس پر غالب آ گیا۔ تو کہتے ہیں ”وَبِهَذَا حَاجَّ بَقِيَّةَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فَحَجَّهُمْ“ اور اسی دلیل کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقی صحابہ سے بحث فرمائی تو ان پر غالب آ گئے۔ باقی صحابہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غالب آ گئے یعنی باقی صحابہ مطمئن ہو گئے۔ ”فَانْعَقَدَ إِجْمَاعًا“ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول اجماع ہو کر منعقد ہو گیا، یا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فیصلہ جو ہے اجماع ہو کر منعقد ہو گیا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”فَانْعَقَدَ إِجْمَاعًا“ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول اجماع ہو کر منعقد ہو گیا۔ تو معلوم ہوا صحابہ کا اس بات پر اجماع ہو گیا کہ تیسری مرتبہ کے اندر قطع نہیں ہوگا۔ ”وَلِأَنَّهُ إِهْلَاكٌ مَعْنًى“ اور اس لیے کیونکہ یہ معنیٰ کے اعتبار سے ہلاک کرنا ہے۔ اگر بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں گے تو اب وہ چیزوں کو بھی نہیں پکڑ سکتا اور چلنے کے قابل بھی نہ رہا کیونکہ بایاں پاؤں بھی کٹا ہوا ہے اور بایاں ہاتھ بھی کٹ گیا۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ إِهْلَاكٌ مَعْنًى“ اور اس لیے کیونکہ تیسری دفعہ قطع کے اندر معنیٰ کے اعتبار سے ہلاک کرنا ہے ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَفْوِيتِ جِنْسِ الْمَنْفَعَةِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر جنسِ نفع کو فوت کر دینا ہے۔ چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع بھی ختم ہو جائے گا اور چلنے کا جنسِ نفع بھی ختم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَفْوِيتِ جِنْسِ الْمَنْفَعَةِ“ اس وجہ سے کہ اس کے اندر جنسِ نفع کا فوت کر دینا ہے ”وَالْحَدُّ زَاجِرٌ“ اور حد جو ہے وہ تو زاجر ہوتی ہے، وہ تو صرف دھمکانے والی ہے، ہلاک کرنے والی نہیں ہے، تو اگر بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیں گے پھر تو گویا آپ نے اس کو ہلاک ہی کر دیا، تو حد تو زاجر ہے، متلف نہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَالْحَدُّ زَاجِرٌ“ اور حد تو زاجر ہی ہے ”وَلِأَنَّهُ نَادِرُ الْوُجُودِ وَالزَّجْرُ فِيمَا يَغْلِبُ“ یہاں سے دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو شریعت کی طرف سے یہ جو سزا مقرر کی جاتی ہے حد وغیرہ، وہ لوگوں کو ایک جرم سے روکنے کے لیے ہوتی ہے اور یہ جرم ایسا ہو کہ جسے لوگ زیادہ کرتے ہوں۔ حالانکہ ایک آدمی کا ہاتھ بھی کٹ جائے، پھر پاؤں بھی کٹ جائے، اور پھر تیسری مرتبہ وہ چوری کرے، یہ تو انتہائی نادر ہے بھئی۔ یہ تو انتہائی نادر ہے، تو معلوم ہوا یہاں پر حد کے مشروع ہونے کی حکمت بھی باقی نہ رہی۔ حد کے مشروع کرنے کی حکمت کیا تھی، اس کا فائدہ کیا تھا؟ کہ ایک جرم جو لوگ کثرت سے کرتے ہیں تاکہ لوگ اس جرم سے باز آ جائیں۔ تو یہاں پر باقاعدہ شریعت کی طرف سے کوئی سزا مقرر کر دینا یہ حکمت سے خالی ہوگا۔ قاضی کوئی سزا دینا چاہے دے دے، یہ تو بڑا ہی نادر جرم ہے، تو اس میں باقاعدہ شریعت کی طرف سے ایک سزا مقرر ہو، اس میں پھر کوئی حکمت باقی نہیں رہتی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَلِأَنَّهُ نَادِرُ الْوُجُودِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ نادر الوجود ہے یعنی ہاتھ پاؤں کے کٹنے کے بعد دوبارہ چوری کا ہونا انتہائی نادر ہے ”وَالزَّجْرُ فِيمَا يَغْلِبُ“ اور زجر تو اس چیز میں ہوتا ہے جو غالب ہو یعنی وہ جرم جو لوگ زیادہ کرتے ہوں۔ ”بِخِلَافِ الْقِصَاصِ“ بخلاف قصاص کے، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں کہا کہ حد کے اندر تیسری مرتبہ میں پھر قطع نہیں کیا جائے گا کیونکہ گویا یہ آپ معنوی اعتبار سے ایک آدمی کو ہلاک کر رہے ہیں، نہ وہ چلنے کے قابل رہے گا نہ چیزوں کو پکڑنے کے قابل رہے گا۔ لیکن اگر ایک شخص دوسرے آدمی کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹ دیتا ہے جان بوجھ کر، تو قصاص کے اندر بھی اس آدمی کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹے جائیں گے، حالانکہ اس کے اندر بھی اس آدمی کو گویا آپ نے ہلاک ہی کر دیا۔ اس میں بھی آپ نے آدمی کو ہلاک کر دیا تو اگر حد کے اندر تیسری دفعہ قطع نہیں ہو سکتی تو قصاص کے اندر بھی دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کا قطع نہیں ہونا چاہیے؟ تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ قصاص جو ہے وہ حق العبد ہے، بندے کا حق ہے اور وہ جہاں تک ہو سکے وصول کیا جائے گا، جبکہ حد کے اندر جو ہاتھ وغیرہ کاٹا جاتا ہے وہ حقِ شریعت ہے، وہ اللہ کا حق ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں میں فرق ہے۔ کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الْقِصَاصِ“ بخلاف قصاص کے ”لِأَنَّهُ حَقُّ الْعَبْدِ“ کیونکہ وہ بندے کا حق ہے ”فَيُسْتَوْفَى مَا أَمْكَنَ“ تو قصاص وصول کیا جائے گا جس قدر ممکن ہو سکے ”جَبْرًا لِحَقِّهِ“ اس بندے کے حق کی تلافی کے لیے۔ اس بندے کے حق کی تلافی کے طور پر جس قدر ممکن ہو سکے قصاص وصول کیا جائے گا۔ ”وَالْحَدِيثُ طَعَنَ فِيهِ الطَّحَاوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کا۔ اس حدیث میں کیا آیا تھا؟ تیسری مرتبہ میں بھی قطع کا ذکر ہے اور چوتھی مرتبہ میں بھی قطع کا ذکر ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اس حدیث کے اندر بعض کبار محدثین نے اعتراض کیا ہے۔ بعض بڑے بڑے محدثین نے اس حدیث کے اندر اعتراض کیا ہے جیسے امام طحاوی رحمہ اللہ، اور کہا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”وَالْحَدِيثُ طَعَنَ فِيهِ الطَّحَاوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ حدیث جو ہے اس کے اندر طعن کیا ہے یعنی اعتراض کیا ہے امام طحاوی رحمہ اللہ نے ”أَوْ نَحْمِلُهُ عَلَى السِّيَاسَةِ“ یا اس حدیث کو ہم سیاست پر محمول کرتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا سیاست کسے کہتے ہیں؟ ملکی نظام چلانے کی جو حکمتِ عملی ہے اس کو سیاست کہا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْحَدِيثُ طَعَنَ فِيهِ الطَّحَاوِيُّ“ اور حدیث جو ہے اس کے اندر اعتراض کیا ہے امام طحاوی رحمہ اللہ نے ”أَوْ نَحْمِلُهُ عَلَى السِّيَاسَةِ“ یا اگر ہم حدیث کو تسلیم بھی کر لیں، حدیث کو صحیح تسلیم بھی کر لیں تو ہم اس کو سیاست پر محمول کرتے ہیں۔ تو سیاسۃً اگر حاکم جو ہے تیسری اور چوتھی مرتبہ میں بھی قطع کرنا چاہے تو وہ قطع کر سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔