آگے سبق دیکھیے بھئی، متن دیکھیے۔ فَالنَّقِيضُ لِلضَّرُورِيَّةِ الْمُمْكِنَةُ الْعَامَّةُ، وَلِلدَّائِمَةِ الْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ، وَلِلْمَشْرُوطَةِ الْعَامَّةِ الْحِينِيَّةُ الْمُمْكِنَةُ، وَلِلْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ الْحِينِيَّةُ الْمُطْلَقَةُ۔ گزشتہ سبق میں تناقض کا بیان شروع ہوا تھا بھئی، اور مصنف نے آپ کو بتلایا کہ تناقض دو قضیوں کے درمیان اس اختلاف کا نام ہے کہ جس اختلاف کی ذات ہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ ان دو قضیوں میں سے ایک صادق ہے تو دوسرا کاذب ہے، اور اگر دوسرا صادق ہے تو پہلا کاذب ہے بھئی۔ تو تناقض کے اندر یہ ضروری ہے کہ ایک قضیہ صادق ہو اور دوسرا کاذب ہو۔ اگر دونوں صادق ہوں تو یہ بھی تناقض نہیں، اگر دونوں کاذب ہوں یہ بھی تناقض نہیں۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ مناطقہ کے قوانین کلی ہوتے ہیں، لہٰذا اگر بعض جگہ دو کلیہ ہوں، ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ ہو، تو ان میں اگر بظاہر تناقض دکھائی دے تو وہ مناطقہ کے نزدیک معتبر نہیں، کیونکہ مناطقہ کلی قانون بناتے ہیں کہ ہر جگہ ایسا ہونا چاہیے، یعنی دیکھو، ایک ہے موجبہ کلیہ، ایک ہے سالبہ کلیہ۔ ایک موجبہ ہے اور دوسرا سالبہ، لیکن ہیں دونوں کلیہ، تو کبھی کبھار ان میں تناقض نظر آئے گا آپ کو اور کبھی ان میں تناقض نہیں ہوگا، جیسے کل میں نے مثالیں لکھوائی تھیں۔ اور بعض اوقات دو جزئیہ ہوتے ہیں، ان میں ایک موجبہ ہوتا ہے اور ایک سالبہ، کسی جگہ تو ان میں آپ کو تناقض نظر آئے گا، لیکن مناطقہ کے قوانین کلی ہوتے ہیں، ان کے نزدیک صرف بعض جگہ تناقض ہو وہ معتبر نہیں، بلکہ ان تمام صورتوں میں تناقض پایا جائے، یعنی جہاں بھی دونوں کلیہ ہوں، ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ ہو، تو کیا ہونا چاہیے؟ تناقض۔ حالانکہ دونوں جب کلیہ ہوں، ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ، تو ہمیشہ تناقض نہیں ہوتا، لہٰذا یہ مناطقہ کے نزدیک معتبر نہیں۔ اسی طرح اگر دونوں جزئیہ ہوں دونوں قضیے، تو بھی ہمیشہ ان میں تناقض نہیں ہوتا، لہٰذا یہ بھی مناطقہ کے نزدیک معتبر نہیں۔ ان میں اختلاف تو ہوتا ہے، ایک موجبہ ہے تو ایک سالبہ ہے، لیکن اختلاف ایسا ہونا چاہیے کہ اس اختلاف کی ذات ہی یہ تقاضا کرے کہ ایک صادق ہے تو دوسرا کاذب، اور وہ اسی صورت میں ہوگا جب ہر جگہ ایسا ہی ہو۔ آپ موضوع، محمول کو بدلتے جائیں لیکن ہمیشہ ایسا ہونا چاہیے کہ ایک کو صادق مانیں تو دوسرے کو کاذب ماننا پڑے، تو اس کا مطلب ہے یہ ایسا اختلاف ہے جس کی ذات ہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ ایک کو صادق مانو گے تو دوسرے کو کاذب ماننا پڑے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کے لیے قوانین بنائے بھئی، اور بتلایا آپ کو کہ تناقض کے لیے ضروری ہے دو قضیوں میں کمیت کے اندر بھی اختلاف ہو، کیفیت کے اندر بھی اختلاف ہو، اور جہت کے اندر بھی اختلاف ہو۔ انہوں نے تمام مادوں میں غور کیا اور دیکھا کہ کون کون سی صورتوں میں کلی قانون بنتا ہے، تو دیکھا کہ کمیت مختلف ہونی چاہیے دونوں قضیوں کی، ایک اگر کلیہ ہے تو دوسرے کو جزئیہ ہونا چاہیے۔ پہلا اگر کلیہ ہے تو دوسرا کیا ہو؟ جزئیہ، اور اگر پہلا جزئیہ ہے تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ۔ تو کمیت کا معنی ہے مقدار، یعنی کلی جزئی ہونا۔ تو دونوں میں کمیت کے اندر اختلاف ہونا چاہیے، نیز کیفیت میں بھی اختلاف ہونا چاہیے، یعنی اگر ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ۔ کیفیت، یعنی ایجاب اور سلب، تو اس میں بھی اختلاف ہونا چاہیے، اور اگر قضیے کے اندر جہت ذکر ہے، قضیہ موجہہ ہے، تو پھر جہت میں بھی اختلاف ضروری ہے، ایک میں اگر ایک جہت ہے تو دوسرے میں دوسری جہت ہونی چاہیے، پھر ہی کلی قانون بنے گا۔ اگر جہت نہیں بدلیں گے تو بعض جگہ ہو سکتا ہے تناقض آ جائے، لیکن ہر جگہ تناقض نہیں آئے گا، حالانکہ مناطقہ کے قوانین کیا ہوتے ہیں؟ کلی ہوتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ ایسا اختلاف ہونا چاہیے کہ اس اختلاف کی ذات ہی یہ تقاضا کرے کہ ایک صادق ہے تو دوسرا کاذب ہے بھئی۔ اور ایسا اختلاف جس کی ذات ہی یہ تقاضا کرے، وہ اختلاف ہے جو کلی ہو، یعنی جہاں بھی وہ صورت پائی جائے تو دونوں کے اندر تناقض ہو دو قضیوں میں۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ موجبہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ جزئیہ۔ موجبہ ہو تو نقیض کیا ہوگی؟ سالبہ، اور کلیہ ہو تو نقیض کیا ہوگی؟ جزئیہ۔ تو موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آئے گی بھئی، اور یہ کلی قانون ہے۔ آپ دنیا کا کوئی مادہ لے آئیں، ایک موضوع اور ایک محمول، اور اس سے ایک موجبہ کلیہ بنائیں اور پھر سالبہ جزئیہ بنائیں اسی سے، آپ دیکھیں گے دونوں میں تناقض ہے۔ مثلاً کوئی مادہ آپ لے آئیں، مثلاً آپ کہتے ہیں: ہر پتھر درخت ہے۔ موضوع کس کو بنایا؟ پتھر کو، اور محمول کس کو بنایا؟ درخت کو۔ جو بھی لے آئیں بھئی، صادق ہے، کاذب ہے، اس کو آپ بعد میں دیکھیں۔ ہر پتھر درخت ہے، جی، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے۔ موجبہ ہے سالبہ ہے؟ موجبہ، تو یہ موجبہ کلیہ ہوا۔ اس کی نقیض بناؤ، سالبہ جزئیہ۔ موضوع، محمول یہی رکھنا ہے، موضوع، محمول کو نہیں بدلنا۔ اس میں کیا تھا؟ ہر پتھر درخت ہے، اب بناؤ: بعض پتھر درخت نہیں ہیں، دیکھو، پہلا کاذب ہے، ہر پتھر درخت ہے، دوسرا کیا ہے؟ بعض پتھر درخت نہیں ہیں، دیکھو، صادق ہے، پہلا کاذب ہوا تو دوسرے کو صادق ماننا پڑا، دیکھا؟ آپ دنیا کا جو بھی مادہ لے آئیں اور اس کے ساتھ ایک موجبہ کلیہ بنائیں اور اسی سے سالبہ جزئیہ بنائیں، آپ دیکھیں گے دونوں میں تناقض ہے، ایک کو سچا ماننا پڑتا ہے اور دوسرے کو جھوٹا۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ دونوں جھوٹے ہو جائیں، ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ دونوں سچے ہو جائیں، یہ ہے مناطقہ کے قوانین۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو مناطقہ کا قانون کیا ہوا کہ دو قضیوں میں تناقض تب ہوگا جب ان میں مقدار میں بھی اختلاف ہو، کیفیت میں بھی اختلاف ہو، اور جہت میں بھی۔ مقدار میں اختلاف کا کیا معنی؟ کہ اگر ایک کلیہ ہو تو دوسرا جزئیہ ہو، اور کیفیت میں اختلاف کا کیا معنی؟ کہ اگر ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہو، اور جہت میں اختلاف آپ جانتے ہیں کئی جہتیں جو ان کے نزدیک معتبر ہیں جیسے بالضرورۃ ہے، بالامکان العام ہے، بالدوام ہے، اور بالفعل، تو اس میں بھی اختلاف ہونا چاہیے، ایک میں ایک جہت ہو تو دوسرے میں دوسری جہت ہونی چاہیے، اور کس جہت کے مقابلے میں کون سی جہت آنی چاہیے وہ آج کے سبق میں ہم پڑھیں گے بھئی۔ ان تین چیزوں میں تو اختلاف ضروری ہے: کمیت، کیفیت، اور جہت، اور باقی تمام چیزوں میں اتحاد ضروری ہے، باقی تمام چیزوں میں، اور وہ آٹھ چیزیں ہیں جو مناطقہ نے ذکر کی ہیں بھئی، اور وہ شعر آپ نے کل پڑھا تھا بھئی کہ: در تناقض ہشت وحدت شرط دان وحدتِ موضوع و محمول و مکان وحدتِ شرط و اضافت، جزء و کل قوّت و فعل است در آخر زمان یہ آٹھ چیزیں ہیں، ان میں وحدت ہونی چاہیے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق کی طرف بھئی۔ دیکھیے بھئی متن میں، کہتے ہیں: فَالنَّقِيضُ لِلضَّرُورِيَّةِ الْمُمْكِنَةُ الْعَامَّةُ، وَلِلدَّائِمَةِ الْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ، وَلِلْمَشْرُوطَةِ الْعَامَّةِ الْحِينِيَّةُ الْمُمْكِنَةُ، وَلِلْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ الْحِينِيَّةُ الْمُطْلَقَةُ۔ گزشتہ سبق میں آیا تھا کہ دو قضیوں میں اگر جہت ذکر ہے تو ان میں جہت میں بھی اختلاف ضروری ہے تناقض کے لیے، ایک میں اگر ایک جہت ہے تو دوسرے میں دوسری جہت ہونی چاہیے۔ تو اب کس جہت کے مقابلے میں کون سی جہت آنی چاہیے بھئی، تناقض کیسے ہوگا، کون کون سے موجہات آپس میں ایک دوسرے کی نقیض ہیں، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: فَالنَّقِيضُ لِلضَّرُورِيَّةِ کہ ضروریہ کی نقیض، یعنی ضروریہ مطلقہ کی جو نقیض ہے، الْمُمْكِنَةُ الْعَامَّةُ وہ ممکنہ عامہ ہے۔ توجہ ہے؟ ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا ہے؟ ممکنہ عامہ۔ بھئی، وہ بسائط یاد ہیں آپ کو؟ موجہاتِ بسائط کتنے تھے؟ آٹھ، اور مرکبات کتنے تھے؟ سات۔ وہ جو آٹھ بسائط تھے ان میں سے پہلا ضروریہ مطلقہ تھا۔ ضروریہ مطلقہ میں کیا بیان ہوتا ہے کہ یہ نسبت ضروری ہے ذاتِ موضوع کے اعتبار سے، جو بھی نسبت ہو، چاہے ایجابی ہو چاہے سلبی۔ جو بھی نسبت ہو، یہ نسبت ضروری ہے کس اعتبار سے؟ ذاتِ موضوع کے اعتبار سے، جیسے اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ، انسان کیا ہے؟ حیوان ہے، اور انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ انسان کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ حیوان، کیونکہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، تو جو بھی انسان ہوگا وہ حیوان ہوگا۔ تو ضروریہ مطلقہ میں کیا بیان ہوتا ہے کہ یہ جو نسبت بیان کی جا رہی ہے یہ ضروری ہے کس اعتبار سے؟ ذاتِ موضوع کے اعتبار سے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ جو ضرورت ہے، یہ ضرورت کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتی ہے، کبھی وصف کے اعتبار سے ہوتی ہے، اور کبھی وقت کے اعتبار سے۔ اگر ضرورت ذات کے اعتبار سے ہو تو وہ ضروریہ مطلقہ، اگر ضرورت وصف کے اعتبار سے ہو تو وہ مشروطہ عامہ ہے، اور اگر ضرورت وقت کے اعتبار سے ہو تو پھر وہ وقتِ معین میں ضروری ہوگا یا وقتِ غیر معین میں۔ اگر وقتِ معین کے اندر ضروری ہو تو وہ وقتیہ مطلقہ، اور اگر وہ ضرورت جو ہے وقتِ غیر معین میں ہو تو وہ منتشرہ مطلقہ ہے۔ کچھ بحث ذہن میں تازہ ہوئی؟ تو ضروریہ مطلقہ میں کیا بیان ہوتا ہے کہ یہ جو نسبت ہے، یعنی یہ جو محمول کا ایجاب ہے موضوع کے لیے یا یہ جو محمول کی نفی ہے، دو ہی صورتیں ہیں نا، یا ایجاب ہوگا یا نفی، تو نسبت کا لفظ دونوں کو شامل ہے، چاہے وہ نسبت ایجابی ہو چاہے وہ نسبت سلبی، یا یوں کہہ لو، محمول کا اثبات ہوگا موضوع کے لیے یا محمول کی نفی، تو جو بھی ہے چاہے اثبات ہے محمول کا چاہے نفی ہے محمول کی، یہ ضروری ہے جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے۔ جب تک ذاتِ موضوع، اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ، انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے جب تک انسان کی ذات موجود ہے، جب بھی کوئی انسان پایا جائے گا اس کا حیوان ہونا ضروری ہے، تو یہ ہے ضروریہ مطلقہ جس میں ذات کے اعتبار سے ضرورت ذکر ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں، دیکھیے کہتے ہیں: فَالنَّقِيضُ لِلضَّرُورِيَّةِ الْمُمْكِنَةُ الْعَامَّةُ کہ ضروریہ کی نقیض جو ہے، یعنی ضروریہ مطلقہ کی نقیض جو ہے وہ ممکنہ عامہ ہے۔ ممکنہ عامہ جس میں امکانِ عام ذکر ہوتا تھا، زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ، زید کا قیام ممکن ہے۔ زید کا قیام ممکن ہے، تو ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا آئے گی؟ ممکنہ عامہ۔ کیا آئے گی؟ ممکنہ عامہ۔ ممکنہ عامہ کسے کہتے تھے؟ جس میں امکانِ عام ذکر ہوتا ہے، کیا ذکر ہوتا ہے؟ امکانِ عام، زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ، زید کا قیام ممکن ہے۔ اور میں نے بتایا تھا یہ امکان دو قسم پر ہے، ایک امکانِ عام ہے ایک امکانِ خاص، یہ امکانِ عام ہے، امکانِ عام کسے کہتے ہیں؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی، اور امکانِ خاص کس کو کہتے تھے؟ جانبین سے ضرورت کی نفی، یعنی جانبِ موافق بھی ضروری نہیں اور جانبِ مخالف بھی ضروری نہیں ہے۔ تو یہ جو ممکنہ عامہ ہوتا ہے اس میں امکانِ عام ذکر ہوتا ہے، اس میں ذکر ہوتا ہے کہ یہ چیز ممکن ہے، یہ چیز ممکن ہے، یعنی جانبِ مخالف ضروری نہیں۔ جانبِ مخالف ضروری نہیں۔ دیکھو، مجھے بتائیے، انسان کا پتھر نہ ہونا ضروری ہے یا ضروری نہیں؟ ضروری ہے۔ انسان کا پتھر نہ ہونا ضروری ہے، لہٰذا میں یہ نہیں کہہ سکتا، ممکن ہے انسان پتھر ہو، پتھر نہ ہونا ذکر ہے نا اور اس کی جانبِ مخالف کیا؟ پتھر ہونا، تو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ انسان کا پتھر ہونا ممکن ہے۔ جب ایک جانب ضروری ہو تو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جانبِ مخالف ممکن ہے۔ ممکن اسی وقت کہتے ہیں جب ایک جانب ضروری نہ ہو، توجہ ہے؟ جب ایک چیز ضروری نہ ہو، جانبِ مخالف ضروری نہ ہو، پھر ہی کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہے۔ جیسے انسان کا کاتب ہونا ممکن ہے، تو اس کے جانبِ مخالف کیا؟ انسان کا کاتب نہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ضروریہ مطلقہ میں کیا بیان ہوتا ہے کہ نسبت ضروری ہے ذات کے اعتبار سے، اور ممکنہ عامہ میں کیا ذکر ہوتا ہے کہ یہ نسبت ممکن ہے، توجہ ہے؟ کیا ذکر ہوتا ہے کہ یہ نسبت ممکن ہے، کیا معنی نسبت ممکن ہے؟ یعنی جانبِ مخالف ضروری نہیں، دیکھو توجہ سے، اب آپ نے یہ سمجھنا ہے کہ ضروریہ مطلقہ کی نقیض ممکنہ عامہ کیسے ہے؟ ضروریہ مطلقہ کی نقیض ممکنہ عامہ کیسے ہے، یہ سمجھنا ہے، توجہ سے سنو بھئی۔ ضروریہ مطلقہ میں کیا ذکر ہوتا ہے کہ نسبت ضروری ہے، یہ نسبت ضروری ہے، اس کی نقیض کیا ہوگی؟ کہ نسبت ضروری نہیں، تو ضروریہ مطلقہ میں ضرورت کا ذکر ہوتا ہے، کس کا ذکر ہوتا ہے؟ ضرورت کا، چاہے ایجاب کی ضرورت ہو چاہے سلب، جو بھی ہو لیکن وہ ضروری ہوگی جو بھی نسبت ہوگی، تو اس کی نقیض کیا آئے گی؟ یاد رکھو، کسی بھی چیز کی نقیض اس چیز کا اٹھا دینا ہے۔ ہونے کی نقیض کیا؟ نہ ہونا، دیکھا، ہونے کو اٹھا دیا، نہ ہونا، اور نہ ہونے کی نقیض کیا؟ ہونا، نہ ہونے کو اٹھا دیا یعنی ہونا، تو کسی بھی چیز کی نقیض کیا ہوتی ہے؟ اس چیز کو اٹھا دینا، اس کی نفی کر دینا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کسی بھی چیز کی نقیض کیا ہوتی ہے، اس چیز کو اٹھا دینا۔ تو ضروریہ مطلقہ کے اندر کیا بیان ہوتا ہے کہ یہ نسبت ضروری ہے، تو یعنی اس میں ضرورت کا بیان ہوتا ہے، کیا بیان ہوتا ہے؟ ضرورت کا، اور اس کی نقیض میں کیا ہوگا؟ رفعِ ضرورت ہوگا، ضرورت کا اٹھا دینا، یعنی ضروری نہیں۔ ضروریہ مطلقہ میں کیا بیان ہوتا ہے؟ کہ نسبت ضروری ہے، نقیض میں کیا ہوگا؟ کہ نسبت ضروری نہیں، توجہ ہے؟ یہ نسبت ضروری نہیں۔ یہ اپنے سامنے کاپی پر ذرا لکھو پھر آپ کو صورت جلدی سمجھ میں آئے گی، کاپی پر لکھیں، لکھیں بھئی: امکانِ عام، امکانِ عام، امکانِ عام، بھئی لکھیں گے تو پھر بات سمجھ میں آئے گی ویسے سمجھ میں نہیں آئے گی، امکانِ عام۔ بھئی امکانِ عام کہہ لو، یا یہ کہہ لو جانبِ مخالف ضروری نہیں، ایک ہی بات ہے یا نہیں؟ توجہ ہے؟ میں کیا کہوں، امکانِ عام کہہ لوں یا یہ کہہ دوں جانبِ مخالف ضروری نہیں، ایک ہی بات ہے، کیونکہ امکانِ عام کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جانبِ مخالف ضروری نہیں، تو امکانِ عام بول دوں یا جانبِ مخالف ضروری نہیں، دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ میں نے کہا امکان، آپ کیا سمجھے؟ جانبِ مخالف، اتوجہ سے، میں نے کیا کہا؟ امکان، آپ کیا سمجھے؟ جانبِ مخالف ضروری نہیں، اچھا میں کہتا ہوں: جانبِ مخالف ضروری نہیں، کیا سمجھے؟ امکان، توجہ ہے؟ جب میں کہوں جانبِ مخالف ضروری نہیں، تو کیا سمجھے؟ امکان۔ اب آئیے ضروریہ مطلقہ، نیچے لکھیں ضرورت، ضرورت، اور اسے تھوڑے فاصلے پر لکھ دیں سلبِ ضرورت۔ جی، ضرورت پہ نظر رکھو، یہ ضرورت اور سامنے جانبِ مخالف ہے اس میں کیا ہے؟ سلبِ ضرورت، توجہ ہے؟ ضرورت کے سامنے کیا لکھا؟ سلبِ ضرورت، یہ جانبِ مخالف ہے، اچھا، ضرورت نے کیا بتلایا؟ ضرورت نے بتلایا یہ ضروری ہے، تو جانبِ مخالف کیا؟ سلبِ ضرورت، یعنی ضروری نہیں، یہ ضروری ہے تو جانبِ مخالف ضروری نہیں، اور جانبِ مخالف ضروری نہیں، اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ ابھی بتایا تھا، امکانِ عام، امکانِ عام کا کیا مطلب؟ جانبِ مخالف ضروری نہیں، میں امکان کہہ دوں تو کیا معنی؟ جانبِ مخالف ضروری نہیں، اور اگر میں کہہ دوں جانبِ مخالف ضروری نہیں تو کیا معنی؟ امکان، تو یہاں بھی کیا ہے، ایک طرف کیا ہے؟ ضرورت، تو دوسری طرف کیا ہے؟ سلبِ ضرورت، یعنی یہ جانبِ مخالف ہے نا اس کی، یہ ضروری نہیں، تو جانبِ مخالف ضروری نہیں، کیا معنی؟ امکان ہے، تو یہاں امکان لکھ دیں، یہ جو آپ نے لکھا نا سلبِ ضرورت اسی کے آگے لکھ دیں بین القوسین، بریکٹ کے اندر، امکان۔ توجہ ہے؟ پھر دیکھو، کاپی پہ نظر رکھو، ضروریہ مطلقہ میں کیا بیان ہوتا ہے؟ ضرورت، تو اس کی نقیض کیا ہوگی، اس میں کیا ہوگا؟ سلبِ ضرورت، کیا ہوگا؟ سلبِ ضرورت، اور تو یہ سلبِ ضرورت ہے جانبِ مخالف کا، ضرورت کی جانبِ مخالف میں کیا ہے؟ سلبِ ضرورت، تو یہ سلبِ ضرورت کس میں آ رہا ہے؟ جانبِ مخالف میں آ رہا ہے، تو سلبِ ضرورت کہہ لو، جانبِ مخالف ضروری نہیں، یا امکان کہہ لو، بات ایک ہی ہے۔ امکان کا معنی تھا جانبِ مخالف ضروری نہیں، اور جانبِ مخالف ضروری نہیں کا کیا معنی ہے؟ امکان، تو جانبِ مخالف ضروری نہیں کہہ لو یا کیا کہہ لو؟ امکان کہہ لو، کیا کہہ لو؟ امکان، تو دیکھا؟ تو پہلے میں ہے ضرورت اور اگلے میں ہے امکان، توجہ ہے؟ تو ضرورت کس میں ہوتی ہے؟ ضروریہ مطلقہ میں، اور جانبِ مخالف میں کیا آ گیا؟ امکان، تو دیکھا وہ ممکنہ عامہ ہے، اس کی نقیض کیا ہے؟ ممکنہ عامہ، امکان کس میں ہوتا ہے؟ ممکنہ عامہ میں ہوتا ہے نا۔ پہلے آپ نے کیا لکھا؟ ضرورت، اس سے اشارہ ہے کس کی طرف؟ ضروریہ مطلقہ، توجہ ہے؟ یہ پہلے لفظ کیا لکھا؟ ضرورت، ضرورت سے کیا مراد ہے؟ ضروریہ مطلقہ مراد ہے، اور دوسرے میں کیا ہے؟ سلبِ ضرورت ہے، یعنی یہ ضرورت کی جانبِ مخالف ہے نا، اور یہاں سلب ضروری نہیں، اور جانبِ مخالف سے سلب ضروری نہ ہو اس کا کیا نام ہوتا ہے؟ امکان، تو یہ گویا امکان ہے، یہ کیا ہے؟ اور امکان کس میں ہوتا ہے؟ امکان کس موجہہ میں ہوتا ہے؟ ممکنہ عامہ، دیکھا، معلوم ہوا ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا آ گئی؟ ممکنہ عامہ آ گئی، توجہ ہے؟ اب دیکھو، ایک طرف ہے ضرورت، دوسری طرف ہے امکان، توجہ ہے؟ اور ضرورت دو طرح سے ہو سکتی ہے، نسبت ضروری ہے نا، کیا ضروری؟ نسبت، اور نسبت ایجابی بھی ہو سکتی ہے اور سلبی بھی، تو یہاں اگر ضرورتِ ایجاب ہوا، پہلے میں ضرورت پہ نظر رکھو، اگر یہ ضرورتِ ایجاب ہوئی تو دوسری طرف امکانِ سلب ہوگا۔ دوسری طرف کیا ہے؟ امکان ہے نا، تو امکانِ سلب، ذرا ان لفظوں پہ نظر رکھو، ایک طرف ہے ضرورت، اور دوسری طرف ہے سلبِ ضرورت یعنی امکان، ضرورت کس میں ہوتی ہے؟ ضروریہ مطلقہ میں، اور امکان کس میں ہوتا ہے؟ ممکنہ عامہ، تو دیکھو یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں، اور ضروری کیا چیز ہوتی ہے؟ ضروریہ مطلقہ میں کیا چیز ضروری ہوتی ہے؟ نسبت ضروری، کیا ہوتی ہے؟ ضروریہ مطلقہ میں یہ بیان ہوتا ہے کہ یہ نسبت ضروری ہے، اور نسبت ایجابی بھی ہو سکتی ہے اور سلبی بھی، تو معلوم ہوا ضرورت ایجاب کی بھی ہو سکتی ہے اور ضرورت سلب کی، لہٰذا اس کے نیچے لکھیں، ضرورت کے نیچے لکھیں ضرورتِ ایجاب، ضرورت کے نیچے لکھیں ضرورتِ ایجاب، تو اس کی جانبِ مخالف کیا ہوگی؟ اسی کے سامنے لکھیں، یہ ضرورتِ ایجاب ہے، ضرورت کے ضرورت کے مقابلے میں کیا تھا؟ سلبِ ضرورت، سلبِ ضرورت چھوڑ دیں وہ رہ گیا، اس کی جگہ کیا ہم لے آئے؟ امکان لے آئے، کیا لے آئے؟ سلبِ ضرورت کی جگہ کیا ہم لا چکے؟ امکان، تو ضرورت کے مقابلے میں کیا آ گیا؟ امکان، اچھا، اب ضرورت دو قسم کی ہو سکتی ہے، ضرورتِ ایجاب بھی ہو سکتی ہے اور ضرورتِ سلب بھی، اگر ضرورتِ ایجاب ہے تو سامنے امکان کے نیچے لکھیں: امکانِ سلب، اور اس ضرورتِ ایجاب کے نیچے لکھیں ضرورتِ سلب، ضرورتِ ایجاب کے نیچے لکھیں ضرورتِ سلب، تو سلب ضروری ہے تو جانبِ مخالف کیا؟ امکانِ ایجاب، امکانِ ایجاب۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ضرورت کی جانبِ مخالف کیا ہے، پہلی سطر میں؟ امکان، وہ سلبِ ضرورت کیا ہے؟ امکان، تو ضرورت کے مخالف کیا ہوا؟ امکان، اور ضرورت تو دو قسم پر ہو سکتی ہے، کبھی ایجاب ضروری ہوتا ہے کبھی سلب، تو اگر ضرورتِ ایجاب ہے تو جانبِ مخالف کیا ہوگی؟ امکانِ سلب، ایک میں ہے ہونا ضروری تو دوسرے میں ہوگا نہ ہونا ممکن ہے۔ امکانِ سلب ہے، نہ ہونا ممکن، سلب کا کیا معنی؟ نہ ہونا، ضرورتِ ایجاب کیا معنی؟ ہونا ضروری، دوسری طرف کیا ہے؟ امکانِ سلب، نہ ہونا ممکن ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں، اور پھر ضرورت اگر سلب کی ہے کیا ذکر ہوگا؟ ضرورت اگر سلب کی ہے، نہ ہونا ضروری ہے، اگر کیا ہو، لفظوں پہ نظر رکھیں، ضرورتِ سلب ہو، کیا معنی ضرورتِ سلب؟ نہ ہونا ضروری ہے، تو اس کے مخالف کیا ہوگا؟ امکانِ ایجاب، یعنی ہونا ممکن ہے، تو یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں، جب ہونا ضروری ہو تو اس کی نقیض کیا؟ نہ ہونا ممکن ہے، نہ ہونا ممکن، ادھر دیکھیے، میں کہتا ہوں: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، اس کی جانبِ مخالف لے آؤ، کمیت کو بھی بدلو اور ایجاب کو بھی سلب سے بدلو، بَعْضُ الْإِنْسَانِ، پہلے کیا تھا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، موضوع محمول کو نہیں بدلنا، کلیت اور جزئیت کو بدلو، پہلے میں تھا كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ، اگلے میں کیا آئے گا؟ بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ، موضوع، محمول اسی طرح، پہلا موجبہ تھا، یہ کیا لے آؤ؟ سالبہ، وہ کلیہ تھا، یہ کیا لے آؤ؟ جزئیہ، بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ، اور ممکنہ بناؤ، بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ، بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ، پہلے میں کیا ذکر؟ ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، دوسرے میں ذکر ہے: بعض انسانوں کا حیوان نہ ہونا ممکن ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں، ایک سچا ہو سکتا ہے دونوں نہیں سچے ہو سکتے، اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے تو پھر بعض انسان کا حیوان نہ ہونا ممکن نہیں ہونا چاہیے، اور یہاں تو کیا ذکر ہے؟ ممکن ہے، تو دونوں کیا ہیں؟ ایک دوسرے کی نقیض ہیں، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ دیکھیے بھئی اب، ذرا شرح میں دیکھ لیجیے: قَوْلُهُ: وَالنَّقِيضُ لِلضَّرُورِيَّةِ، اِعْلَمْ، تو جان لے، أَنَّ نَقِيضَ كُلِّ شَيْءٍ رَفْعُهُ، کہ نقیض ہر چیز کی جو ہے وہ اس کا رفع ہے۔ ہر چیز کی نقیض کیا ہے؟ اس کا رفع، یعنی اس کو اٹھا دینا، ہونے کی نقیض کیا؟ نہ ہونا، اور نہ ہونے کی نقیض کیا؟ ہونا، اِعْلَمْ أَنَّ نَقِيضَ كُلِّ شَيْءٍ رَفْعُهُ، ہر چیز کی نقیض جو ہے وہ اس چیز کو اٹھا دینا ہے، یعنی اس کی نفی کر دینا ہے، فَنَقِيضُ الْقَضِيَّةِ الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِضَرُورِيَّةِ الْإِيجَابِ أَوِ السَّلْبِ، تو نقیض اس قضیے کی جس میں حکم ہو کس چیز کا؟ بِضَرُورِيَّةِ الْإِيجَابِ أَوِ السَّلْبِ، ایجاب یا سلب کے ضروری ہونے کا، هُوَ قَضِيَّةٌ، وہ ایسا قضیہ ہے، اس کی نقیض، کس کی؟ نقیض، بھئی، یہ قضیہ ہے، ایک قضیہ ہے جس میں کیا ذکر ہے؟ ایجاب یا سلب، کوئی بھی، جو بھی نسبت ہے، ایجاب یا سلب ضروری ہے، تو اس کی نقیض کیا ہوگی؟ ضروری نہیں، جس میں کیا ذکر ہوگا؟ کہ یہ ضروری نہیں، یہی بیان کر رہے ہیں: هُوَ قَضِيَّةٌ، اس کی نقیض جو ہے، هُوَ قَضِيَّةٌ حُكِمَ فِيهَا بِسَلْبِ تِلْكَ الضَّرُورَةِ، وہ ایسا قضیہ ہوگا جس میں حکم ہوگا اس ضرورت کے سلب کا، ایک میں حکم ہے ایجاب یا سلب کے ضروری ہونے کا تو اس کی نقیض میں کیا ہوگا؟ ضرورت کے سلب کا حکم ہوگا کہ ضروری نہیں ہے، ایک میں حکم ہے ضروری ہے تو دوسرے میں کیا ہوگا؟ ضروری نہیں ہے، تو فَنَقِيضُ الْقَضِيَّةِ، دوبارہ سنیں، فَنَقِيضُ، پس نقیض اس قضیے کی جس میں، ترجمہ دیکھو: فَنَقِيضُ الْقَضِيَّةِ الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِضَرُورِيَّةِ الْإِيجَابِ أَوِ السَّلْبِ هُوَ قَضِيَّةٌ حُكِمَ فِيهَا بِسَلْبِ تِلْكَ الضَّرُورَةِ، پس نقیض اس قضیے کی جس میں یہ حکم ہو کہ ایجاب یا سلب ضروری ہے تو اس کی نقیض وہ قضیہ ہے جس میں حکم ہو بِسَلْبِ تِلْكَ الضَّرُورَةِ کہ یہ ضروری نہیں، کہ یہ ایجاب یا سلب ضروری نہیں، وَسَلْبُ كُلِّ ضَرُورَةٍ هُوَ عَيْنُ إِمْكَانِ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ، ادھر دیکھیے، میں نے آپ کو کیا بتایا تھا، امکان کا کیا معنی؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی، اور جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی اس کا کیا معنی؟ امکان، وہی بیان کر رہے ہیں: وَسَلْبُ كُلِّ ضَرُورَةٍ هُوَ عَيْنُ إِمْكَانِ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ، اور ہر ضرورت کا سلب جو ہے وہ عینِ امکان ہے طرفِ مقابل کا، وَسَلْبُ كُلِّ ضَرُورَةٍ، اور ہر ضرورت کا سلب، یعنی جو بھی ضرورت، چاہے ضرورتِ ایجاب ہے چاہے ضرورتِ سلب، جب بھی ضرورت کی نفی ہوگی تو وہ دراصل کیا ہوگا؟ امکان ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَسَلْبُ كُلِّ ضَرُورَةٍ، اور ہر ضرورت کا جو سلب ہے، یعنی ہر ضرورت کی جو نفی ہے، هُوَ عَيْنُ إِمْكَانِ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ، وہ عینِ طرفِ مقابل کا امکان ہے، وہ عینِ طرفِ مقابل کا امکان ہے، یعنی یوں کہو: ضرورت کی نفی وہ عینِ امکان ہے جانبِ مخالف کا، توجہ ہے؟ پھر ادھر دیکھیے، ادھر دیکھیے، میں کہتا ہوں امکان، کیا معنی؟ جانبِ مخالف ضروری نہیں، اور جہاں ہو ضروری نہیں، معلوم ہوا جانبِ مخالف ممکن ہے، بات سمجھ، یہی بیان کر رہے ہیں کہ: وَسَلْبُ كُلِّ ضَرُورَةٍ، اور ہر ضرورت کا جو سلب ہے، هُوَ عَيْنُ إِمْكَانِ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ، وہ عینِ طرفِ مقابل کا امکان ہے، فَنَقِيضُ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ، جی، میں نے آپ کو کاپی میں کیا لکھوایا؟ ضرورتِ ایجاب، ضرورتِ ایجاب، اس کی نقیض کیا؟ امکانِ سلب، اور ضرورتِ سلب کی نقیض کیا؟ امکانِ ایجاب، یہی بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: فَنَقِيضُ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ إِمْكَانُ السَّلْبِ، تو ضرورتِ ایجاب کی نقیض جو ہے وہ امکانِ سلب ہے، وَنَقِيضُ ضَرُورَةِ السَّلْبِ إِمْكَانُ الْإِيجَابِ، اور ضرورتِ سلب کی نقیض جو ہے وہ امکانِ ایجاب۔ اب ذرا لفظوں پہ غور کرو، ضرورتِ ایجاب کا کیا معنی؟ ہونا ضروری ہے، ہونا ضروری، اس کی نقیض کیا؟ امکانِ سلب، نہ ہونے کا امکان، نہ ہونا ممکن ہے، نہ ہونا ممکن، تو ضرورتِ ایجاب کا کیا ترجمہ؟ ہونا ضروری، تو نقیض کیا؟ نہ ہونا ممکن ہے، ادھر کیا، پھر دہراؤ، ہونا ضروری، تو دوسرا کیا ہے؟ نہ ہونا ممکن ہے، اب ذرا ضرورتِ سلب پہ آ جاؤ، اپنی کاپی پر دیکھیں، ضرورتِ سلب کا کیا معنی؟ نہ ہونا ضروری ہے، سلب ضروری ہے، نہ ہونا ضروری، تو اس کے جانبِ مقابل کیا؟ امکانِ ایجاب، یعنی ہونا ممکن ہے، اس میں اس میں کیا ذکر؟ ضرورتِ سلب، نہ ہونا نہ ہونا ضروری ہے، تو مقابل کیا؟ ہونا ممکن ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: فَنَقِيضُ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ إِمْكَانُ السَّلْبِ، تو ضرورتِ ایجاب کی جو نقیض ہے وہ امکانِ سلب ہے، وَنَقِيضُ ضَرُورَةِ السَّلْبِ إِمْكَانُ الْإِيجَابِ، اور ضرورتِ سلب کی جو نقیض ہے وہ امکانِ ایجاب ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا پتہ چلا کہ ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا ہے؟ ممکنہ عامہ ہے، توجہ ہے؟ جب ضروریہ مطلقہ کی نقیض ممکنہ عامہ ہے تو ممکنہ عامہ کی نقیض کیا ہوئی؟ ضروریہ مطلقہ، دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں، اگر آپ سے کوئی پوچھے ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا، آپ کیا کہیں گے؟ ممکنہ عامہ، اور اگر آپ سے کوئی پوچھے ممکنہ عامہ کی نقیض کیا، آپ کیا کہیں گے؟ ضروریہ مطلقہ، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے بھئی، آگے دیکھیے متن میں: وَلِلدَّائِمَةِ الْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ، اور دائمہ کی نقیض وہ مطلقہ عامہ ہے، دائمہ کی نقیض مطلقہ عامہ ہے، یہ کس طرح؟ پہلے تو یہ بتائیے، دائمہ مطلقہ کسے کہتے ہیں اور مطلقہ عامہ کسے کہتے ہیں؟ بھئی، مطلقہ عامہ وہ ہے جس میں بالفعل والی جہت ہو، زَيْدٌ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ، کیا معنی؟ زید کاتب ہے، بالفعل کیا معنی؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں، توجہ ہے؟ یعنی بالقوۃ کاتب مراد نہیں ہے، بالفعل کاتب مراد ہے، تو زَيْدٌ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ کیا معنی؟ کہ زید کاتب ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں، یہ کون سا قضیہ ہے؟ مطلقہ عامہ، پھر دہراؤ، مطلقہ عامہ میں کون سی جہت ذکر ہوتی ہے؟ بالفعل والی، زَيْدٌ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ کیا معنی؟ کہ زید کاتب ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں، اور دائمہ مطلقہ کسے کہتے ہیں؟ کہ جس میں دوامِ ذاتی ذکر ہو، میں نے بتایا تھا کہ دوام دو قسم پر ہے، کبھی دوام ہوتا ہے ذات کے اعتبار سے اور کبھی دوام ہوتا ہے وصف کے اعتبار سے۔ ذات کے اعتبار سے دوام ہو تو وہ دائمہ مطلقہ میں ہوتا ہے، اور وصف کے اعتبار سے دوام ہو تو وہ عرفیہ عامہ میں ہوتا ہے۔ تو دائمہ مطلقہ میں دوامِ ذاتی ذکر ہوتا ہے، جیسے میں نے مثال لکھوائی تھی: كُلُّ فَلَكٍ مُتَحَرِّكٌ بِالدَّوَامِ، ہر فلک دائمی طور پر متحرک ہے، یعنی جب تک ذاتِ فلک موجود ہے وہ دائماً حرکت میں ہے، تو ایک دوامِ ذاتی ہے، ایک دوامِ وصفی ہے۔ دوامِ وصفی، جیسے آپ کہتے ہیں کہ ہر کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں دائماً جب تک وہ کتابت کرتا ہے، ہر کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں دائماً جب تک وہ کتابت کرتا ہے، تو دیکھو اس میں دوامِ وصفی کا ذکر ہے، کس کا؟ دوامِ وصفی کا ذکر ہے کہ جب تک اس کے لیے یہ کتابت والا وصف ہے اس کی انگلیاں حرکت کرتی رہیں گی، اور اس میں تھا کہ ہر آسمان حرکت کرتا ہے دائماً، وہاں دوامِ ذاتی تھا، یعنی جب تک یہ ذات ہے اس کی، جب تک یہ ذات ہے اس کی یہ دائماً حرکت کرتا ہے۔ تو دائمہ مطلقہ میں کیا بیان ہوتا ہے؟ اس میں بھی دوام، عرفیہ عامہ میں بھی دوام بیان ہوتا ہے، لیکن دائمہ مطلقہ میں دوامِ ذاتی اور عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی بیان ہوتا ہے۔ تو دیکھو، دائمہ مطلقہ میں ذکر ہے دوام، اور دوام کی نقیض کیا ہوگی؟ آپ کو بتایا تھا کہ ہر چیز کی نقیض اس چیز کا رفع ہے، اس کو اٹھا دینا ہے، تو دوام کی نقیض کیا ہوگی؟ لا دوام، یا یوں کہیں رفعِ دوام، ایک ہی بات ہے، تو دوام کی نقیض کیا؟ لا دوام، توجہ ہے؟ اور یہ دوام بھی کبھی ایجابی ہوگا کبھی سلبی، کبھی ایجابی ہوگا، یعنی دوام نسبت کا بیان ہوتا ہے نا کہ یہ نسبت دائمی ہے، یہ نسبت، اور نسبت دونوں طرح ہو سکتی ہے، ایجابی بھی اور سلبی بھی۔ ایجابی نسبت، جیسے میں نے بیان کر دیا: كُلُّ فَلَكٍ مُتَحَرِّكٌ بِالدَّوَامِ، اس میں ایجاب ہے، سلب ہے اس میں؟ نہیں، ہر آسمان کے لیے حرکت کو ثابت کر رہا ہوں یا نفی کر رہا ہوں؟ ثابت کر، کیا کر رہا ہوں؟ ثابت، تو یہ ایجاب ہے، اور کبھی سلب ہوتا ہے: لَا شَيْءَ مِنَ الْفَلَكِ بِسَاكِنٍ بِالدَّوَامِ، کوئی بھی آسمان ساکن نہیں ہے دوام کے طریقے پر، یعنی دائماً آسمانوں سے سکون کی نفی ہے، یوں کہو، دائماً آسمانوں سے سکون کی، تو دوام نسبت کا ہوگا اور وہ نسبت ایجابی بھی ہو سکتی ہے اور سلبی، کبھی بتایا جائے گا یہ ایجاب دائمی ہے، کبھی بتایا جائے گا یہ جو سلب والی نسبت ہے یہ کیا ہے؟ دائمی، توجہ ہے؟ تو دوام ایجابی بھی ہو، دوام ایجاب کا بھی ہو سکتا ہے اور دوام سلب کا بھی ہو سکتا ہے، اور دوام کی نقیض کیا؟ لا دوام، کیا؟ لا دوام، یا یوں کہو رفعِ دوام، رفعِ دوام، اور رفعِ دوام یا لا دوام کا کیا معنی؟ دوام نہیں ہے، اس کا کیا معنی؟ دوام نہیں، اور دوام نہیں ہے، جب دوام نہیں ہے ایک چیز میں، ایک چیز میں دوام نہیں، معلوم ہوا اس کی جانبِ مخالف تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہوتی ہے۔ اس کی جانبِ مخالف تین زمانوں میں سے، بھئی دیکھو نا، میں نے کہا: ہر آسمان متحرک ہے ہمیشہ، ہر آسمان متحرک، جب ہمیشہ متحرک ہے تو تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ساکن ہوگا؟ نہیں، جب دوام ہے تو جانبِ مخالف بالفعل نہیں ہوتی، توجہ ہے؟ جب جب آسمان دائماً متحرک ہے تو جانبِ مخالف کیا؟ حرکت نہ کرنا، اس میں حرکت کرنا ہے تو ادھر ہے حرکت نہ کرنا، جب حرکت کرنا دائماً ہے تو حرکت نہ کرنا کبھی بھی نہیں ہوگا، تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں بھی نہیں ہوگا، کیونکہ اگر کسی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں حرکت نہ کرنا پائی گئی تو معلوم ہوا حرکت دائمی نہیں ہے۔ ایک ہے حرکت کا ہونا، ایک ہے حرکت کا نہ ہونا، جب میں کہہ رہا ہوں یہ حرکت دائمی ہے تو اس کا مطلب ہے نہ حرکت یہ کبھی نہیں ہوتی، حرکت کا نہ کرنا کبھی بھی نہیں، یعنی سکون کہہ لو، سکون، جب میں کہہ رہا ہوں حرکت دائمی ہے معلوم ہوا سکون کبھی بھی نہیں ہوتا، اگر سکون کسی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں پایا گیا تو حرکت دائمی ہوئی؟ نہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جب جب دوام ذکر ہوتا ہے، جب دوام ہوتا ہے تو معلوم ہوا جانبِ مخالف بالفعل نہیں ہوتی، جب دوام ہوتا ہے، جب دوام ہوتا ہے تو جانبِ مخالف بالفعل نہیں ہوتی، اور جب لا دوام ہوتا ہے تو اس کے ساتھ کیا ضروری کہ جانبِ مخالف بالفعل بھی کبھی ہوتی ہے، بالفعل بھی کبھی ہوتی ہے۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ دوام کی نقیض کیا؟ لا دوام، اور جہاں بھی لا دوام ہو، معلوم ہوا اس کی جانبِ مخالف کبھی نہ کبھی ہوتی ہے جبھی لا دوام ہے، اگر جانبِ مخالف نہ ہوتی پھر تو یہاں بھی دوام ہوتا، تو لا دوام کے ساتھ لازم ہے جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا، لا دوام تبھی ہوگا جب جانبِ مخالف بالفعل کبھی پائی جائے، تو لا دوام کے ساتھ لازم ہوا کیا؟ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا، جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا۔ لہٰذا میں لا دوام کہہ دوں یا جانبِ مخالف بالفعل کہہ دوں، ایک ہی بات ہے۔ میں کہوں اس صفت میں دوام نہیں یا یہ کہہ دوں اس کی جانبِ مخالف کبھی تین زمانوں میں ہوتی، جب جانبِ مخالف تین زمانوں میں کسی نہ کسی وقت ہوتی ہے معلوم ہوا اس صفت میں، اس چیز میں دوام نہیں ہے، تو لا دوام کے ساتھ کیا لازم؟ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا، کیا ہونا؟ بالفعل ہونا۔ اچھا، اب ادھر دیکھیے، کیا بات ہوئی کہ دوام کی نقیض کیا؟ لا دوام، اور لا دوام کے ساتھ کیا لازم؟ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا، جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا، اچھا، اب آیا دائمہ مطلقہ، دائمہ مطلقہ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ دوام، کیا ذکر ہوتا ہے؟ دوام، اور دوام کی نقیض کیا؟ لا دوام، نقیض کیا؟ لا دوام، لیکن ہم نے موجہات میں تلاش کیا کسی کے اندر بھی لا دوام والی جہت نہیں ملی، کسی میں ہمیں اگر ہوگی بھی مناطقہ کے نزدیک معتبر نہیں۔ تو جتنے آپ نے موجہات پڑھے، کسی میں لادوام تھا؟ دوام تو ہمیں ملا۔ بِالضَّرُورَةِ بھی، بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ بھی، بِالدَّوَامِ بھی، اور بِالْفِعْلِ بھی۔ لیکن لادوام تو کوئی جہت ایسی نہیں ملی جو مناطقہ کے نزدیک معتبر ہو۔ جب لادوام والا کوئی موجہہ ہمیں نہیں ملا، دوام کی نقیض تو کیا ہے؟ لادوام ہے، لیکن لادوام والی جہت تو معتبر ہی نہیں۔ جب وہ معتبر نہیں، تو اس کے ساتھ اس لادوام کے ساتھ ایک لازم تھا اور وہ کیا؟ بِالْفِعْلِ۔ وہ کیا تھا؟ بِالْفِعْلِ۔ بِالْفِعْلِ والا قضیہ ہمیں مل گیا اور وہ کون سا ہے؟ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ۔ کیا ہے؟ مُطْلَقَةٌ۔ تو لہٰذا دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض لادوام کو بنانا تھا لیکن لادوام تو ہمیں ملا نہیں۔ ہاں، لادوام کے ساتھ ایک چیز لازم تھی اور وہ کیا؟ بِالْفِعْلِ۔ لہٰذا اس بالفعل کو اس کی نقیض قرار دے دیا۔ بالفعل کو اس کی نقیض قرار دے دیا۔ کیونکہ وہ جو بالفعل ہے وہ لادوام کے ساتھ لازم ہے۔ جہاں بھی لادوام ہوگا، وہاں بالفعل ضرور آئے گا بھئی جانبِ مخالف کا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لادوام کے ساتھ کیا لازم؟ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا۔ تو لادوام تو ہمیں ملا نہیں۔ چلو، وہ نہ ملا، لیکن اس کا لازم پھر ہم نے کیا کر دیا، اس کا قائم مقام۔ اور اب ہم یوں کہتے ہیں کہ دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ ہے۔ حقیقت میں مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ اس کی نقیض نہیں ہے، حقیقت میں اس کی نقیض کیا ہے؟ لادوام، لیکن لادوام تو کہیں پر بھی نہیں ہے۔ یہ تو مناطقہ کے نزدیک معتبر ہی نہیں۔ تو جب کوئی ایسی جہت جو مناطقہ کے نزدیک معتبر نہ ہو، تو پھر اس کے ساتھ جو لازم ہوتی ہے اسی کو اس کی نقیض قرار دے دیتے ہیں۔ تو لہٰذا دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض کس کو قرار دے دیا؟ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ کو۔ اگرچہ یہ اس کی نقیض حقیقت میں نہیں، ہاں یہ اس کی نقیض کے ساتھ لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہوتا۔ جہاں کہیں بھی لادوام ہوتا ہے تو جانبِ مخالف بالفعل ضرور ہوتی ہے۔ تو اس لیے دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض کس کو قرار دے دیا؟ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ کو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب ذرا کاپی پر لکھیے بھئی۔ کاپی پر لکھیے۔ ایک طرف لکھیں دوام۔ ایک طرف لکھیں دوام، اس سے تھوڑے سے فاصلے پر لکھیں رَفْعِ دوام۔ رَفْعِ دوام۔ تو دوام کی نقیض کیا ہوئی؟ رَفْعِ دوام۔ اور رَفْعِ دوام کے ساتھ کیا لازم؟ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا۔ لہٰذا وہ بین القوسین آگے لکھ دیں: جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا۔ تو جہاں بھی رَفْعِ دوام ہوتا ہے، وہاں جانبِ مخالف بالفعل ہوتی ہے۔ اب اس کے نیچے لکھیے۔ کیا لکھا آپ نے؟ دوام اور رَفْعِ دوام۔ یہ دوام کتنی قسم پر ہے؟ دو۔ یا تو دوامِ ایجاب ہوگا یا دوامِ سلب ہوگا، دو ہی صورتیں ہیں۔ لہٰذا دوام کے نیچے لکھیں دوامِ ایجاب۔ اور اس کی نقیض کیا؟ ادھر دیکھیے، اس کی نقیض کیا؟ لادوام۔ اور لادوام تو ہمیں ملا نہیں، البتہ اس کا لازم ہمیں مل گیا، وہ کیا؟ جانبِ مخالف کا بالفعل۔ تو یہاں ایجاب ہے، اس کی جانبِ مخالف کیا؟ سلب۔ ادھر دوامِ ایجاب ہے، جانبِ مخالف کیا؟ سلب۔ تو آگے لکھ دیں: سلب بالفعل۔ سلب بالفعل۔ تو دوامِ ایجاب کی جانبِ مخالف کیا؟ سلب بالفعل۔ نیچے لکھیں دوامِ سلب۔ دوامِ سلب۔ لکھ لیا؟ جی، دوامِ سلب کی جانبِ مخالف کیا؟ ایجاب، ایجاب بالفعل۔ ایجاب بالفعل۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جہاں دوامِ ایجاب ہوگا، اب اس کاپی پر نظر رکھیں، جہاں دوامِ ایجاب ہوگا تو اس کی نقیض کیا ہے؟ سلب بالفعل ہو۔ ایک طرف اگر یہ کہا جائے کہ ایسا ہونا دائماً ہے اور دوسری طرف کیا کہا جائے؟ کہ ایسا نہ ہونا تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہے، تو دونوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ اگر دوام ہے تو جانبِ مخالف تین زمانوں میں نہیں ہو سکتی، اور اگر جانبِ مخالف تین زمانوں میں ہے تو پھر دوام نہیں ہو سکتا۔ دونوں میں سے ایک کو سچا مانیں گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ اب آئیے بھئی کتاب پر۔ دیکھیے پہلے متن میں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِلدَّائِمَةِ الْمُطْلَقَةِ الْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ“ اور دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی جو نقیض ہے وہ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ ہے۔ وہ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ ہے۔ اب شرح میں آئیے۔ کہتے ہیں: ”وَنَقِيضُ الدَّوَامِ هُوَ سَلْبُ الدَّوَامِ“، عبارت مل گئی؟ شرح میں بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَنَقِيضُ الدَّوَامِ هُوَ سَلْبُ الدَّوَامِ“ اور دوام کی نقیض جو ہے وہ سلبِ دوام ہے۔ ”وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ يَلْزَمُهُ فِعْلِيَّةُ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ“ اور تحقیق آپ جان چکے ہیں کہ یہ جو سلبِ دوام ہے، ”يَلْزَمُهُ“ اس کے ساتھ لازم ہے، کیا لازم ہے؟ ”فِعْلِيَّةُ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ“ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا، جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا۔ ”فَرَفْعُ دَوَامِ الْإِيجَابِ“ تو دوامِ ایجاب کا رفع یعنی اس کی جو نقیض ہے، ”يَلْزَمُهُ فِعْلِيَّةُ السَّلْبِ“ اس کے ساتھ کیا لازم؟ سلب کا بالفعل ہونا۔ دوامِ ایجاب، میں نے آپ کو کاپی میں لکھوایا تھا دوامِ ایجاب، اس کی نقیض کیا ہے؟ سلب بالفعل، وہی ”فِعْلِيَّةُ السَّلْبِ“، سلب کا بالفعل ہونا۔ ”وَرَفْعُ دَوَامِ السَّلْبِ يَلْزَمُهُ فِعْلِيَّةُ الْإِيجَابِ“ اور دوامِ سلب کا رفع، وہ ایجاب کا بالفعل ہونا ہے۔ توجہ ہے؟ ”فَالْمُمْكِنَةُ الْعَامَّةُ نَقِيضٌ صَرِيحٌ لِلضَّرُورَةِ الْمُطْلَقَةِ“، ”لِلضَّرُورِيَّةِ“، ”لِلضَّرُورَةِ الْمُطْلَقَةِ“ ہے؟ ”لِلضَّرُورِيَّةِ“۔ ”فَالْمُمْكِنَةُ الْعَامَّةُ نَقِيضٌ“، بھئی ادھر دیکھیے۔ یہ جو دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ ہے اس کی نقیض، اس کی نقیض لادوام ہے یا مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ ہے؟ حقیقت میں، حقیقت میں دوام کی نقیض کیا؟ لادوام۔ تو لہٰذا دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ حقیقت میں نہیں ہے، یہ اس کی نقیض کے ساتھ لازم ہے۔ جہاں بھی لادوام ہوتا ہے وہاں وہ وہاں جانبِ مخالف بالفعل ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ کیا؟ کہ دوام کی نقیض تو لادوام ہے لیکن لادوام والا قضیہ تو ہے نہیں، لہٰذا اس کا جو لازم ہے وہ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ، وہ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا اس کو نقیض قرار دے دیا۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا، یہ جو دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض ہے، کیا؟ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ، یہ اس کی صریح نقیض نہیں ہے بلکہ یہ اس کی نقیض کے ساتھ لازم ہے۔ یہ جو دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض ہم نے کیا قرار دے دی؟ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ، یہ اس کی صریح نقیض نہیں، یعنی صاف لفظوں میں یہ اس کی نقیض نہیں ہے بلکہ یہ اس کی نقیض کے ساتھ لازم ہے۔ جبکہ پیچھے جو ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ آیا تھا، اس کی نقیض مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ وہ اس کی صریح نقیض تھی۔ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ میں وہ جو ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض کیا ذکر کی؟ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ۔ وہاں کوئی لازم کا ذکر کیا ہم نے؟ نہیں، لازم کا ذکر صرف دائمہ میں کیا ہے۔ تو وہ جو ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض کس کو بنایا؟ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ کو، وہ اس کی صریح نقیض ہے، اور یہ جو مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ کو دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض قرار دیا، یہ اس کی صریح نقیض نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْمُمْكِنَةُ الْعَامَّةُ نَقِيضٌ صَرِيحٌ لِلضَّرُورِيَّةِ الْمُطْلَقَةِ“ تو مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ جو ہے وہ صریح نقیض ہے ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ کی، ”وَالْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ لَازِمَةٌ لِنَقِيضِ الدَّائِمَةِ الْمُطْلَقَةِ“ اور مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ جو ہے وہ لازم ہے دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض کے ساتھ۔ ”وَلَمَّا لَمْ يَكُنْ“، اچھا اس کو ہم نے نقیض کیوں قرار دیا؟ دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ کو کیوں قرار دیا؟ کیونکہ لادوام والی جہت مناطقہ کے نزدیک معتبر ہو اور کسی قضیے میں ہو، ایسا کوئی قضیہ ہمیں نہیں ملا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَمَّا لَمْ يَكُنْ لِنَقِيضِهَا الصَّرِيحِ وَهُوَ اللَّادَوَامُ مَفْهُومٌ مُحَصَّلٌ مُعْتَبَرٌ بَيْنَ الْقَضَايَا الْمُتَدَاوَلَةِ الْمُتَعَارَفَةِ“ اور جب نہیں تھا، کیا نہیں تھا؟ ”لِنَقِيضِهَا الصَّرِيحِ“ یہ جو دائمہ کی صریح نقیض ہے، اور وہ کیا ہے؟ ”وَهُوَ اللَّادَوَامُ“، وہ یہ جو دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی جو صریح نقیض ہے ”وَهُوَ اللَّادَوَامُ“ اور وہ لادوام ہے، ”مَفْهُومٌ“ کوئی ایسا مفہوم ”مُحَصَّلٌ“ جو حاصل ہو، یعنی وجودی ہو، ”مُعْتَبَرٌ بَيْنَ الْقَضَايَا الْمُتَدَاوَلَةِ“ جو معتبر ہو ان قضیوں میں ”الْمُتَدَاوَلَةِ“ جو رائج ہیں، متداول کا کیا معنی؟ رائج ہیں، ”الْمُتَعَارَفَةِ“ اور جو مشہور ہیں۔ کہنا یہ چاہتے ہیں، ادھر دیکھیے۔ دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی جو صریح نقیض ہے، اور صریح نقیض کیا؟ لادوام۔ لادوام۔ جب یہ کوئی ایسا مفہوم نہیں جو مشہور اور رائج قضیے ہیں ان میں موجود ہو اور معتبر ہو، جو مشہور موجہات آپ نے پڑھے ان میں کوئی لادوام تھا؟ نہیں۔ تو جب لادوام جو ہے یہ کوئی مشہور اور رائج قضیوں میں سے کوئی کسی میں یہ موجود نہیں، تو اس لیے ہم نے کس کو نقیض قرار دے دیا؟ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ کو۔ یہی بیان کر رہے ہیں، ترجمہ دوبارہ دیکھ لیں۔ کہتے ہیں: ”وَلَمَّا لَمْ يَكُنْ لِنَقِيضِهَا الصَّرِيحِ وَهُوَ اللَّادَوَامُ“، یہ کس کا معنی بیان کر رہے ہیں؟ نقیض کا، یہ جو اس کی صریح نقیض ہے، دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی جو صریح نقیض ہے وہ کیا ہے؟ ”وَهُوَ اللَّادَوَامُ“، وہ وہ لادوام ہے۔ ذرا اس کو نکال دو پھر عبارت واضح ہوگی۔ کہتے ہیں: ”وَلَمَّا لَمْ يَكُنْ لِنَقِيضِهَا الصَّرِيحِ مَفْهُومٌ مُحَصَّلٌ مُعْتَبَرٌ بَيْنَ الْقَضَايَا الْمُتَدَاوَلَةِ الْمُتَعَارَفَةِ“ اور جب نہیں تھا ”لِنَقِيضِهَا الصَّرِيحِ“، دَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ کی صریح جو نقیض ہے جب نہیں تھا اس کے لیے ”مَفْهُومٌ“ کوئی ایسا مفہوم ”مُحَصَّلٌ“ جو وجودی ہو، جو موجود ہو اور معتبر ہو ان قضیوں کے درمیان جو رائج ہیں اور متعارف ہیں، مشہور، یعنی مشہور ہیں، ”قَالُوا“ تو مناطقہ نے کہا کہ ”نَقِيضُ الدَّائِمَةِ هُوَ الْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ“ کہ دائمہ کی نقیض کیا ہے؟ مُطْلَقَةٌ عَامَّةٌ ہے، اس لیے انہوں نے کہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، آگے دیکھیے بھئی آگے۔ متن میں دیکھیے۔ کہتے ہیں: ”وَلِلْمَشْرُوطَةِ الْعَامَّةِ الْحِينِيَّةُ الْمُمْكِنَةُ وَلِلْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ الْحِينِيَّةُ الْمُطْلَقَةُ“ اور مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ کی جو نقیض ہے وہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ ہے، ”وَلِلْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ“ اور عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ کی جو نقیض ہے، ”الْحِينِيَّةُ الْمُطْلَقَةُ“ وہ حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ ہے۔ یہ دو نئے موجہات آ گئے بھئی، دو نئے موجہات۔ ان کی ذرا تعریف لکھ لیں بھئی، تعریف لکھ لیں۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ، حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ کاپی پر لکھیں بھئی۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ وہ قضیہ موجہہ ہے، وہ قضیہ موجہہ ہے جس میں امکان فی بعض، جس میں ”إِمْكَانٌ فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ“، جس میں ”إِمْكَانٌ فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ“ کا حکم ہو۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ وہ قضیہ موجہہ ہے جس میں ”إِمْكَانٌ فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ“، وصف یعنی صفت، جس میں ”إِمْكَانٌ فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ“ کا حکم ہو، یعنی ضرورتِ وصفیہ کی نفی ہو۔ یعنی ضرورتِ وصفیہ کی نفی ہو۔ الگ سطر میں لکھیں: بعبارتِ دیگر، بعبارتِ دیگر حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ وہ قضیہ ہے، حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ وہ قضیہ ہے جس میں جس میں بحسب الوصف، جس میں بحسب الوصف، وصف یعنی صفت صفت، جس میں بحسب الوصف جانبِ مخالف سے جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی کا حکم لگایا جائے۔ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی کا حکم لگایا جائے۔ اس سے نیچے لکھیے: آسان لفظوں میں یوں کہیے، تین تعریفات میں لکھوا رہا ہوں بھئی حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ کی، جو آپ کو آسان لگے یاد کر لیجیے گا۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے، یوں کہیے کہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ وہ قضیہ ہے، کہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ وہ قضیہ ہے جس میں یہ حکم لگایا جائے، جس میں یہ حکم لگایا جائے کہ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت، کہ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا نفی ممکن ہے، کہ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا نفی ممکن ہے جب تک ذاتِ موضوع، جب تک ذاتِ موضوع وصفِ عنوانی سے موصوف ہے۔ جب تک ذاتِ موضوع وصفِ عنوانی سے موصوف ہے۔ مثلاً: ”كُلُّ كَاتِبٍ ضَاحِكٌ“، ”كُلُّ كَاتِبٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ“، ”كُلُّ كَاتِبٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“، ”حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“۔ اب دیکھو یہ کتاب میں بیان کریں گے کہ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ کی نقیض جو ہے وہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ ہے۔ وہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ۔ تو اس کی ایک مثال لکھ لیں جس میں تناقض آپ کو سمجھ میں آ جائے۔ لکھیں جی مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ اور اس کے آگے دو نقطے ڈال کر مثال لکھیں۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ، اس کے آگے دو نقطے ڈال دیں۔ ”مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ“ دو نقطے، آگے لکھیں: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ“، ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ“، ”بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا“، ”مَا دَامَ كَاتِبًا“۔ لکھ لیا؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا“۔ اسی کے نیچے لکھیں حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ، اس کی بھی مثال لکھیں، دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہوں گے آپ دیکھنا بھئی۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ، حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ، دو نقطے لگائیں آگے: ”بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ“، ”بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ“، ”بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“، ”حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“۔ حین کا معنی ہوتا ہے وقت بھئی وقت۔ ”حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“ جس وقت وہ کاتب ہو۔ لکھ لیا بھئی؟ پھر سن لیں: ”بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“۔ آگے حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ بھی آ رہا ہے بھئی، اس کی بھی تعریف لکھ لیں۔ ”حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ“، حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ۔ حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ وہ قضیہ موجہہ ہے، حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ وہ قضیہ موجہہ ہے جس میں فعلیت، جس میں فعلیت، فعلیت ”فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ“، ”فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ“، ”فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ“ کا حکم ہوتا ہے۔ ”فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ“ کا حکم ہوتا ہے۔ یعنی اس میں، یعنی اس میں دوامِ وصفی، اس میں دوامِ وصفی کی نفی ہوتی ہے۔ یعنی اس میں دوامِ وصفی کی نفی ہوتی ہے۔ الگ سطر میں لکھیں: بعبارتِ دیگر، بعبارتِ دیگر حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ وہ قضیہ ہے، حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ وہ قضیہ ہے جس میں بحسب الوصف، بحسب الوصف، واو، صاد اور فا، جس میں بحسب الوصف موضوع کے لیے محمول کا ثبوت، موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا نفی کا حکم لگایا جائے، یا نفی کا حکم لگایا جائے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ مثلاً: ”كُلُّ كَاتِبٍ ضَاحِكٌ بِالْفِعْلِ“، ”كُلُّ كَاتِبٍ ضَاحِكٌ بِالْفِعْلِ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“، ”حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“۔ اچھا، یہ یہاں بیان کریں گے کہ یہ جو حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ ہے یہ نقیض ہے عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ کی۔ یہ نقیض ہے عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ کی۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ۔ يَرْحَمُكَ اللَّهُ۔ یہ نقیض ہے عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ کی۔ بھئی ایک تھا مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ اور ایک ہے عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں ضرورتِ وصفی ذکر ہوتی ہے، اور عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ میں دوامِ وصفی ذکر ہوتا ہے۔ یعنی یوں کہو، مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں ضرورت ذکر ہے اور عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ میں دوام ذکر ہے۔ وہی ایک ہی مثال دونوں کی بنے گی، ایک میں بالضرورت آئے گا اور ایک میں بالدوام۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ یوں ہوگا: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا“، اور اسی بالضرورت کی جگہ بالدوام لے آؤ تو عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ بن جائے گا: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالدَّوَامِ مَا دَامَ كَاتِبًا“۔ تو یہ جو عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ اور حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ ایک دوسرے کی نقیض ہیں، تو اس کی بھی مثال لکھ لیں تاکہ آپ کو بات سمجھ میں آ جائے۔ نیچے لکھیں بھئی عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ۔ عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ لکھیں اور اس کے آگے دو نقطے لگائیں۔ عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ، جی لکھیں: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ“، ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالدَّوَامِ“، ”بِالدَّوَامِ مَا دَامَ كَاتِبًا“، ”مَا دَامَ كَاتِبًا“۔ لکھ لیا؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالدَّوَامِ مَا دَامَ كَاتِبًا“۔ نیچے حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ لکھیں بھئی، اس کی نقیض بھئی۔ حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ، حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ، دو نقطے لگائیں: ”بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ“، ”بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ“، ”بِالْفِعْلِ“، ”بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“، ”حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“۔ لکھ لیا؟ پھر سن لیں: ”بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“۔ آگے لکھیے بھئی، الگ سطر میں۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں ضرورتِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں ضرورتِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں ضرورتِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے، اور حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ میں ضرورتِ وصفی کی نفی ہوتی ہے۔ اور حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ میں، اور حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ میں ضرورتِ وصفی کی نفی ہوتی ہے۔ اور حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ میں ضرورتِ وصفی کی نفی ہوتی ہے۔ لکھ لیا؟ الگ سطر میں لکھیں: عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ میں دوامِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے۔ عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ میں دوامِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے۔ عُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ میں دوامِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے، وصفی یعنی وصف والا، اور حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ میں دوامِ وصفی کی نفی ہوتی ہے۔ اور حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ میں دوامِ وصفی کی نفی ہوتی ہے۔ لکھ لیا؟ اور حِينِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ میں دوامِ وصفی کی نفی ہوتی ہے۔ اب دیکھیے بھئی۔ دیکھیے، انہوں نے متن میں کیا کہا؟ کہتے ہیں: ”وَلِلْمَشْرُوطَةِ الْعَامَّةِ الْحِينِيَّةُ الْمُمْكِنَةُ“، مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ کی جو نقیض ہے وہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ ہے۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ میں نے آپ کو بتلایا۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ کسے کہتے ہیں؟ جس میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ ادھر دیکھیے، وہی مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ ہے بالکل اس جیسا۔ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ کیا تھا؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ یاد رکھو وہ جانبِ مخالف سے جو ضرورت کی نفی تھی وہ ذات کے اعتبار سے تھی۔ کس اعتبار سے؟ ذات کے اعتبار سے۔ اور حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ میں بھی جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے لیکن وصف کے اعتبار سے، صفت کے اعتبار سے۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ میں بھی کیا؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے، وصف کے اعتبار سے۔ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ میں جو تھا کہ جانبِ مخالف ضروری نہیں، وہ جو ضرورت تھی کون سی تھی؟ ذات، وہ جانبِ مخالف سے ضرورتِ ذاتیہ کی نفی تھی۔ اور یہاں جانبِ مخالف سے ضرورتِ وصفیہ کی نفی ہوگی۔ تو وہاں بھی جانبِ مخالف ضروری نہیں تھا، یہاں بھی جانبِ مخالف ضروری نہیں، لیکن وہاں تھا ذات کے اعتبار سے اور یہاں ہے وصف کے اعتبار سے۔ تو دیکھو، مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ضرورتِ وصفی کا ذکر ہوتا ہے۔ ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ“، ہر کاتب کیا ہے؟ اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں ضروری طور پر جب تک وہ کاتب ہے، یعنی جب تک کوئی شخص کتابت کر رہا ہے اس کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے۔ اور کون سی ضرورت ہے؟ ضرورتِ وصفی ہے، یعنی جب تک اس کے لیے وصفِ کتابت ہے یہ چیز اس کے لیے ضروری ہے۔ ذات کے اعتبار سے نہیں ضروری، وصف کے اعتبار سے جب تک کتابت کر رہا ہے تو یہ کتابت کے وصف کے اعتبار سے اس کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے۔ جیسے ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ، اس میں ضرورت تھی ذات کے اعتبار سے: ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ“، ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے ذات کے اعتبار سے۔ اور مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں بھی ضرورت ہے لیکن یہ ضرورت کس اعتبار سے؟ وصف۔ تو گویا آسان لفظوں میں یوں کہو: مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں ضرورتِ وصفی ذکر ہوتی ہے۔ کیا؟ ضرورتِ وصفی۔ اور ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ میں کیا تھا؟ اس میں ضرورتِ ذاتی ذکر تھی۔ کیا تھی؟ ضرورتِ ذاتی ذکر تھی، اور اس کی نقیض کیا تھی؟ ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ کی، آج آپ نے پڑھا ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ کی نقیض کیا آئے گی؟ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ آئے گی۔ ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ میں کیا تھا؟ ضرورت، اور اس کی نقیض کیا؟ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ۔ مُمْكِنَةٌ یعنی جانبِ مخالف کا امکان۔ ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ میں کیا ذکر ہوتا تھا؟ ضرورت۔ تو جانبِ مخالف اس کی کیا تھی؟ اس کی نقیض کیا تھی؟ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ تھی۔ توجہ ہے؟ ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ میں کیا ذکر ہوتا تھا؟ یہ نسبت ضروری ہے، اور اس کی نقیض کیا تھی؟ کہ جانبِ مخالف ممکن ہے۔ جانبِ مخالف ممکن ہے، معلوم ہوا یہ ضروری نہیں ہو سکتی، اور اگر یہ ضروری ہے تو جانبِ مخالف ممکن نہیں ہو سکتی۔ دونوں میں سے ایک صادق آئے گا، دونوں صادق نہیں، ایک صادق تو دوسرا کاذب۔ تو یہاں بھی بالکل اسی طرح ہے۔ یہاں بھی مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں کیا ذکر ہے؟ ضرورت ہے، ہے ضرورتِ وصفی، ذرا وصف کو چھوڑ دیں، اس میں ضرورت ذکر، تو جانبِ مخالف کیا ہوگی؟ اس میں ضرورت ہے تو ادھر کیا ہوگا؟ سلبِ ضرورت، یعنی جانبِ مخالف ضروری نہیں، اور جانبِ مخالف ضروری نہ ہو اس کا دوسرا نام کیا تھا؟ امکان۔ امکان۔ تو یہاں ادھر ضرورت کون سی ہے؟ وصفی، تو امکان بھی کیا ہوگا؟ وصفی ہوگا۔ ادھر ضرورت ذاتی تھی تو امکان بھی کون سا تھا؟ ذاتی تھا۔ یہاں ضرورت وصفی ہے تو امکان کیا ہے؟ تو مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ یہ نسبت ضروری ہے جب تک یہ وصف ہے، یعنی جب تک اس کے لیے وصف، میں نے مثال لکھوائی، مثال دیکھو: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا“، ہر کاتب جو ہے وہ متحرک الاصابع ہے ضروری طور پر ”مَا دَامَ كَاتِبًا“ جب تک وہ کاتب ہے۔ معلوم ہوا، جب تک کوئی شخص کتابت کر رہا ہے اس کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے۔ تو جانبِ مخالف کیا؟ دیکھیے: ”بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“، بعض کاتب جو ہیں ان کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں ”بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ“ یعنی یہ ممکن ہے ”حِينَ هُوَ كَاتِبٌ“ جب وہ کاتب، یعنی بعض کاتبوں کی انگلیوں کا حرکت نہ کرنا ممکن ہے جب وہ کیا کر رہا ہو؟ کتابت۔ تو اس میں امکان ذکر ہوا، اور امکان کس اعتبار سے؟ وصف کے اعتبار سے۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں کیا ذکر؟ ضرورتِ وصفی، اور اس میں ضرورتِ وصفی کی نفی ہے۔ ادھر دیکھیے، مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ ضرورتِ وصفی، اور ضرورتِ وصفی کی نقیض کیا ہوگی؟ سلبِ ضرورتِ وصفی۔ کیا نقیض ہوگی؟ سلبِ ضرورتِ وصفی، یعنی جانبِ مخالف ضروری نہیں وصف کے اعتبار سے، اور جانبِ مخالف ضروری نہیں وصف کے اعتبار سے یہی تو حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ ہے۔ اس میں بھی کیا ذکر ہوتا ہے؟ کہ جانبِ مخالف ضروری نہیں کس اعتبار سے؟ وصف کے اعتبار سے۔ پھر سنو، پھر سنو۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ ضرورتِ وصفی، کہ کاتب کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے کیوں؟ جب تک وہ کس وجہ سے؟ کیونکہ وہ کاتب ہے، تو جب تک کاتب ہے انگلیاں حرکت کرتی رہیں گی۔ اس کی جانبِ مخالف کیا؟ سلبِ ضرورتِ وصفی، یہ ضرورتِ وصفی کا کیا کر دو؟ سلب۔ یعنی ضرورتِ وصفی کا سلب، یعنی یوں کہو، جانبِ مخالف کا سلب، ایک میں ضرورتِ وصفی ہے تو دوسری میں کیا ہوگا؟ ایک میں ضرورتِ وصفی ہے تو دوسرے میں کیا ہوگا؟ ضرورتِ وصفی کا سلب، یعنی جانبِ مخالف ضروری نہیں وصف کے اعتبار سے، اور جانبِ مخالف وصف کے اعتبار سے ضروری نہیں اسی کا نام تو کیا ہے؟ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ۔ کیا ہے؟ جیسے دیکھو نا، جیسے دیکھو، آپ کیا کہتے تھے؟ امکانِ عام کسے کہتے ہیں؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ بھی بالکل وہی ہے، جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی، لیکن یہ ہے وصف کے اعتبار سے، اور وہ تھا ذات کے اعتبار سے۔ تو یہاں ایک طرف ضرورتِ وصفی ہے تو دوسری طرف کیا ہوگا؟ سلبِ ضرورتِ وصفی، اور سلبِ ضرورتِ وصفی کا کیا معنی؟ جانبِ مخالف کا امکان، جانبِ مخالف کا امکان، اور امکان بھی کون سا ہے؟ وصفی ہی ہے۔ لہٰذا مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ کی نقیض کیا ہوئی؟ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی اب شرح میں دیکھیے۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ نِسْبَةَ الْحِينِيَّةِ الْمُمْكِنَةِ إِلَى الْمَشْرُوطَةِ الْعَامَّةِ“ پھر تو جان لے کہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ کی نسبت مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ کی طرف وہ اسی طرح ہے ”كَنِسْبَةِ الْمُمْكِنَةِ الْعَامَّةِ إِلَى الضَّرُورِيَّةِ“ جیسے کہ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ کی نسبت ہے ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ کی طرف۔ جب دونوں ایک جیسے ہیں، ضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ کی طرف نسبت کس کی؟ مُمْكِنَةٌ عَامَّةٌ، یہ دونوں کیا ہیں ایک دوسرے کی؟ نقیض، تو اسی طرح حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ کی نسبت ہے کس کی طرف؟ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ کی طرف، تو دونوں کیا ہوں گے ایک دوسرے کی؟ نقیض ہوں گے۔ ”فَإِنَّ الْحِينِيَّةَ الْمُمْكِنَةَ“، اب تعریف کرنے لگے ہیں، میں نے آپ کو حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ کی تین تعریفیں لکھوا دیں۔ کہتے ہیں: ”فَإِنَّ الْحِينِيَّةَ الْمُمْكِنَةَ هِيَ الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِسَلْبِ الضَّرُورَةِ الْوَصْفِيَّةِ“ کیونکہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ جو ہے، جس میں حکم لگایا جاتا ہے ضرورتِ وصفی کے سلب کا، ترجمہ غور سے سن لینا، جس میں حکم لگایا جاتا ہے ضرورتِ وصفی کے سلب کا، ”أَيِ الضَّرُورَةِ مَا دَامَ الْوَصْفُ“ یعنی وہ ضرورت جب تک وصف ہے، وہ والی ضرورت جب تک وصف ہے اس کی نفی کی جاتی ہے، ”عَنِ الْجَانِبِ الْمُخَالِفِ“ کس سے؟ جانبِ مخالف سے۔ بھئی امکان کا کیا مطلب ہوتا تھا؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی، یہاں پر بھی اسی طرح ہے، ”بِسَلْبِ الضَّرُورَةِ“، ذرا یہ ”الْوَصْفِيَّةِ“ اور ”أَيِ الضَّرُورَةِ مَا دَامَ الْوَصْفُ“ ذرا اس کو چھوڑ دیں۔ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ ”هِيَ الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِسَلْبِ الضَّرُورَةِ“، حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ وہ قضیہ ہے جس میں سلبِ ضرورت کا حکم ہو ”عَنِ الْجَانِبِ الْمُخَالِفِ“ کس سے؟ جانبِ مخالف سے۔ البتہ ضرورت کون سی ہوگی یہاں پر؟ ضرورتِ وصفی۔ توجہ ہے؟ جی، کہتے ہیں ”بِسَلْبِ الضَّرُورَةِ الْوَصْفِيَّةِ“، کس کا سلب ہوگا؟ ”الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِسَلْبِ الضَّرُورَةِ الْوَصْفِيَّةِ“ جس میں حکم ہوگا ضرورتِ وصفی کے سلب کا۔ ضرورتِ وصفی کسے کہتے ہیں؟ درمیان میں بتلا دیا: ”أَيِ الضَّرُورَةِ مَا دَامَ الْوَصْفُ“، یعنی وہ ضرورت جو جب تک وصف ہے، یعنی ضرورت جب تک وہ وصف۔ اب ذرا ترجمہ غور سے سننا، ترجمہ کیسے کریں گے۔ یہ جو ہے نا ”أَيِ الضَّرُورَةِ مَا دَامَ الْوَصْفُ“، یہ ترجمہ ہے، یہ تفسیر ہے کس کی؟ ضرورتِ وصفیہ کی، اور ضرورتِ وصفیہ پر پھر سلب داخل ہے ”بِسَلْبِ الضَّرُورَةِ“، عبارت پہ نظر ہے؟ لہٰذا میں سلب سب سے آخر میں لاؤں گا، ترجمہ سننا۔ کہتے ہیں: ”فَإِنَّ الْحِينِيَّةَ الْمُمْكِنَةَ هِيَ الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِسَلْبِ الضَّرُورَةِ الْوَصْفِيَّةِ أَيِ الضَّرُورَةِ مَا دَامَ الْوَصْفُ“ کیونکہ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ جو ہے وہ قضیہ ہے جس میں حکم ہوتا ہے، ضرورتِ وصفی، سلب کا ترجمہ ابھی میں نہیں کر رہا، ضرورتِ وصفی یعنی وہ ضرورت جو جب تک وصف ہے اس کے سلب کا، جس میں ضرورتِ وصفی یعنی وہ ضرورت جو جب تک وصف ہے اس کے سلب کا حکم ہوتا ہے ”عَنِ الْجَانِبِ الْمُخَالِفِ“ کس سے؟ جانبِ مخالف سے۔ ”فَتَكُونُ نَقِيضًا صَرِيحًا لِمَا حُكِمَ فِيهَا بِضَرُورَةِ الْجَانِبِ الْمُوَافِقِ بِحَسَبِ الْوَصْفِ“ تو یہ صریح نقیض ہوگی اس قضیے کی جس میں حکم ہو ضروری ہونے کا، ”بِضَرُورَةِ الْجَانِبِ الْمُوَافِقِ“ جس میں جانبِ موافق کے ضروری ہونے کا حکم ہو ”بِحَسَبِ الْوَصْفِ“ کس اعتبار سے؟ وصف، جس قضیے میں جانبِ موافق کی ضرورت کا حکم ہو وصف کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ وصف کے اعتبار سے۔ مَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ ہر کاتب کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے جب تک وہ کاتب ہے، تو دیکھو اس میں ضرورتِ وصفی ہے۔ کیا ہے؟ ضرورتِ وصفی۔ جب اس میں ضرورتِ وصفی ہے، تو اس کی نقیض کیا آئے گی؟ جس میں ضرورتِ وصفی کی نفی ہو، اور ضرورتِ وصفی کی نفی کیا معنی؟ امکانِ وصفی۔ امکانِ وصفی، امکانِ وصفی آئے گا، اور امکانِ وصفی کس میں ہے؟ حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ میں۔ تو کہتے ہیں، پھر سنو ترجمہ: ”فَإِنَّ الْحِينِيَّةَ الْمُمْكِنَةَ هِيَ الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِسَلْبِ الضَّرُورَةِ الْوَصْفِيَّةِ أَيِ الضَّرُورَةِ مَا دَامَ الْوَصْفُ عَنِ الْجَانِبِ الْمُخَالِفِ فَتَكُونُ نَقِيضًا صَرِيحًا لِمَا حُكِمَ فِيهَا بِضَرُورَةِ الْجَانِبِ الْمُوَافِقِ بِحَسَبِ الْوَصْفِ“، تو حِينِيَّةٌ مُمْكِنَةٌ جو ہے وہ قضیہ ہے جس میں حکم ہو ضرورتِ وصفی، یعنی وہ ضرورت جب تک وصف ہے اس کے سلب کا جانبِ مخالف سے، تو وہ صریح نقیض ہوگی اس قضیے کی جس میں حکم ہو جانبِ موافق کے ضروری ہونے کا وصف کے اعتبار سے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ ”فَقَوْلُنَا“ پس ہمارا یہ قول کہ ”بِالضَّرُورَةِ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ مَا دَامَ كَاتِبًا“، بالضرورت یقینی طور پر ہر کاتب جو ہے اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں جب تک وہ کاتب ہوتا ہے، ”نَقِيضُهُ“ اس کی نقیض جو ہے ”لَيْسَ بَعْضُ الْكَاتِبِ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ“، کہ ایسا نہیں ہے کہ بعض کاتب جو ہیں وہ متحرک الاصابع ہوں جس وقت وہ کاتب ہوتے ہیں بالامکان، کس طرح؟ امکان کے طریقے پر۔ یعنی ممکن ہے کہ بعض کاتب متحرک الاصابع نہ ہوں جب وہ کتابت کر رہے ہوں۔ ایک میں کیا آیا؟ کاتب جب تک کتابت کر رہا ہے اس کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری، اور دوسرے میں آیا کہ کوئی کاتب جب کتابت کر رہا ہو تو اس کی انگلیوں کا حرکت نہ کرنا ممکن ہے۔ حرکت نہ کرنا، ایک میں ہے حرکت کرنا ضروری، ایک میں حرکت نہ کرنا ممکن، ایک دوسرے کی نقیض ہیں بھئی۔ اگر ضروری ہے تو جانبِ مخالف مخالف ممکن نہیں ہو سکتی بھئی، بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ جی۔ وہی نقشہ جو میں نے آپ کو بنوایا تھا بھئی، ضروریہ مطلقہ اور ممکنہ عامہ کے لیے، کہ اس میں کیا تھا؟ کہ ایک طرف ضرورت ہے تو دوسری طرف سلبِ ضرورت ہے، اور سلبِ ضرورت کا کیا معنیٰ؟ امکان ہے جانبِ مخالف کا، جانبِ مخالف کا۔ تو وہاں ضرورت کے ساتھ کوئی قید تھی؟ تو وہاں ضرورت کے ساتھ کوئی قید نہیں تھی۔ اسی طرح دوسری طرف سلبِ ضرورت اور امکان تھا، اس کے ساتھ بھی کوئی قید نہیں تھی۔ لیکن وہاں ضرورت سے مراد تھی ضرورتِ ذاتی، اسی طرح سلبِ ضرورت سے بھی کیا مراد تھا؟ سلبِ ضرورتِ ذاتی، اور امکان سے بھی کیا مراد تھا؟ امکانِ ذاتی۔ تو وہی نقشہ، وہی نقشہ مشروطہ عامہ اور حینیہ ممکنہ کے لیے بھی کام دے گا کہ وہاں وہ جو ضرورت ہے، اس سے ذاتی کے بجائے کون سی ضرورت مراد لے لیں؟ وصفی، اور سلبِ ضرورت سے بھی کون سی سلبِ ضرورت؟ وصفی، اور امکان سے بھی کون سا امکان مراد لے لیں؟ وصفی لے لیں، تو بِعَيْنِهِ وہی نقشہ بن جائے گا یہ مشروطہ عامہ اور حینیہ ممکنہ کے لیے۔ یہاں تک آپ کو بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔ انہوں نے کیا بتایا؟ کہ ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا ہے؟ ممکنہ عامہ۔ معلوم ہوا ممکنہ عامہ کی نقیض کیا ہے؟ ضروریہ مطلقہ، دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ اور دائمہ مطلقہ کی نقیض کیا؟ مطلقہ عامہ، تو مطلقہ عامہ کی نقیض کیا؟ دائمہ مطلقہ۔ اور اسی طرح مشروطہ عامہ کی نقیض کیا؟ حینیہ ممکنہ، اور حینیہ ممکنہ کی نقیض کیا ہے؟ مشروطہ عامہ، بات سمجھ میں آگئی؟ اور اسی طرح آگے وہ متن میں کہتے ہیں: ”وَلِلْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ الْحِيْنِيَّةُ الْمُطْلَقَةُ“، اور عرفیہ عامہ کی نقیض حینیہ مطلقہ ہے۔ معلوم ہوا حینیہ مطلقہ کی نقیض کیا ہے؟ عرفیہ عامہ ہے۔ اب اس کو بھی سمجھ لیں بھئی۔ عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی ذکر ہوتا ہے۔ دائمہ مطلقہ میں دوامِ ذاتی تھا اور عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ دوام دو قسم پر ہے: جب ایک نسبت کے دوام کو ذکر کیا جائے تو وہ دوام کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی وصف کے اعتبار سے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”كُلُّ فَلَكٍ مُتَحَرِّكٌ بِالدَّوَامِ“، ہر فلک متحرک ہے دائمًا۔ یہ کسی وصف کے اعتبار سے نہیں، فلک کی ذات کے اعتبار سے۔ فلک کی جب تک ذات ہے وہ کیا کرتی رہے گی؟ حرکت کرتی رہے گی۔ اور کبھی یہ جو دوام ہوتا ہے وصف کے اعتبار سے ہوتا ہے، جیسے میں کہتا ہوں کہ ہر کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں دائمًا جب تک وہ کتابت کرتا ہے۔ تو دیکھو انگلیوں کی حرکت دائمی ہے کس کے لیے؟ کتابت کرنے والے کے لیے۔ تو یہ دوام وصف کے اعتبار سے ہے، کتابت کے اعتبار سے ہے، اس شخص کی ذات کے اعتبار سے نہیں ہے۔ انگلیوں کا حرکت کرنا وصفِ کتابت کے اعتبار سے ہے۔ تو آگے جو ہے عرفیہ عامہ جو ہے، اس میں دوامِ وصفی ذکر ہوگا۔ دائمہ مطلقہ میں کیا ذکر تھا؟ دوامِ ذاتی، اور عرفیہ عامہ میں کیا ذکر ہوگا؟ دوامِ وصفی۔ اور دائمہ مطلقہ کی نقیض کیا تھی؟ مطلقہ عامہ۔ کیا تھی؟ کیونکہ دائمہ مطلقہ میں کیا ذکر ہے؟ دوام، اور دوام کی نقیض کیا ہونی چاہیے؟ لا دوام، لیکن لا دوام تو کسی موجہہ میں ہمیں نہیں ملا، تو اس کے ساتھ جو لازم تھا یعنی بالفعل، اس کو یعنی مطلقہ عامہ کو اس کی نقیض بنا دیا۔ اسی طرح عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی ہوگا۔ جیسے دائمہ مطلقہ میں دوامِ ذاتی تھا، عرفیہ عامہ میں کیا ہوگا؟ دوامِ وصفی۔ تو عرفیہ عامہ میں کیا ذکر ہوگا؟ دوامِ وصفی، اور دوامِ وصفی کی نقیض کیا ہوگی؟ لا دوامِ وصفی، اور لا دوامِ وصفی تو ہمیں کسی قضیے میں ملا نہیں، ہاں اس کے ساتھ لازم ہے کیا؟ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا باعتبار وصف کے۔ یہ قید وصف بڑھاتے جاؤ ہر جگہ۔ جانبِ مخالف کا ممکن ہونا باعتبار وصف کے۔ تو دوامِ وصفی کی نقیض تو لا دوامِ وصفی ہے، لیکن لا دوامِ وصفی پر ہمیں کوئی قضیہ ملا نہیں، تو اس کے ساتھ جو لازم تھا یعنی وصف کے اعتبار سے بالفعل جو ہے جانبِ مخالف یعنی حینیہ مطلقہ، ہم نے اسی کو عرفیہ عامہ کی نقیض قرار دے دیا۔ تقریر سمجھ میں آگئی؟ بس وہی تقریر، وہی نقشہ جو میں نے دائمہ مطلقہ اور مطلقہ عامہ کے لیے بنوایا تھا، وہی نقشہ بِعَيْنِهِ عرفیہ عامہ اور حینیہ مطلقہ کے لیے ہے۔ بس وہاں جو دوام ذکر تھا، اس سے مراد دوامِ ذاتی تھا اور لا دوام سے مراد بھی کیا تھا؟ لا دوامِ ذاتی، اور باقی بالفعل ذکر تھا۔ تو یہاں پر جو دوام ہوگا وہ دوامِ وصفی ہوگا اور اس کی نقیض کیا ہوگی؟ لا دوامِ وصفی، اور اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا باعتبار وصف کے، تو وہی نقشہ اس کے لیے بھی کام دے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے کتاب پر۔ ”وَ نِسْبَةُ الْحِيْنِيَّةِ الْمُطْلَقَةِ وَهِيَ قَضِيَّةٌ“، مل گیا بھئی شرح میں؟ کہتے ہیں: ”وَ نِسْبَةُ الْحِيْنِيَّةِ الْمُطْلَقَةِ“، حینیہ مطلقہ کی نسبت جو ہے، آٹھ دس لفظ چھوڑ کر آگے آ رہا ہے: ”إِلَى الْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ“، مل گیا؟ ہاں، اس کو اس کے ساتھ جوڑیں: ”وَ نِسْبَةُ الْحِيْنِيَّةِ الْمُطْلَقَةِ إِلَى الْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ“، حینیہ مطلقہ کی نسبت جو ہے عرفیہ عامہ کی طرف، یہ اسی طرح ہے ”كَنِسْبَةِ الْمُطْلَقَةِ الْعَامَّةِ إِلَى الدَّائِمَةِ“، جیسے کہ مطلقہ عامہ کی نسبت تھی کس کی طرف؟ دائمہ کی طرف۔ بات سمجھ میں آگئی؟ درمیان میں حینیہ مطلقہ کی تعریف کر دی کہ ”وَهِيَ قَضِيَّةٌ حُكِمَ فِيْهَا بِفِعْلِيَّةِ النِّسْبَةِ حِيْنَ اتِّصَافِ ذَاتِ الْمَوْضُوْعِ بِالْوَصْفِ الْعُنْوَانِيِّ“، کہ یہ وہ قضیہ ہے جس میں حکم لگایا جاتا ہے نسبت کے بالفعل ہونے کا حینِ اتصافِ ذاتِ موضوع، جس وقت ذاتِ موضوع متصف ہو یعنی موصوف ہو بالوصف العنوانی، کس کے ساتھ؟ وصفِ عنوانی یعنی جو موضوع کے لیے جو وصف ذکر کیا جا رہا ہے۔ کیا ذکر تھا؟ اس کی مثال میں نے کیا لکھوائی تھی؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ ضَاحِكٌ“، ”كُلُّ كَاتِبٍ ضَاحِكٌ بِالْفِعْلِ“، ہر کاتب ضاحک ہے تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ”مَا دَامَ كَاتِبًا“ جب تک وہ کاتب ہے۔ یعنی جب تک اس کے لیے وصفِ کتابت ہے، وہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ضاحک ہے، یعنی اس کے لیے ضحک ثابت ہے۔ جب وہ کتابت کر رہا ہو تو کیا اس کے لیے ضحک ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ جی، ہو سکتا ہے۔ تو ہر کاتب ضاحک ہے، کب؟ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں۔ یہاں بالفعل کی قید ہے نا حینیہ مطلقہ میں۔ ہر کاتب، متحرک الاصابع کی جگہ ہم ضاحک لے آئے، ہر کاتب کیا ہے؟ ضاحک ہے۔ کب؟ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں جب تک وہ کاتب ہے۔ ہر کاتب جب کتابت کر رہا ہے تو وہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ضاحک ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ لِأَنَّ الْحُكْمَ فِي الْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ“ اب وہی تقریر کریں گے۔ دائمہ مطلقہ میں کیا تقریر کی تھی؟ کہ دائمہ مطلقہ میں دوام ہے اور دوام کی نقیض کیا؟ لا دوام، اور لا دوام کے لیے تو کوئی قضیہ ہے نہیں، تو لا دوام کے ساتھ جو لازم ہے جانبِ مخالف کا بالفعل ہونا، اسی کو کیا بنا دیا؟ اس کی نقیض بنا دیا۔ اب یہاں یہی تقریر کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ لِأَنَّ الْحُكْمَ فِي الْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ بِدَوَامِ النِّسْبَةِ مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوْعِ مُتَّصِفَةً بِالْوَصْفِ الْعُنْوَانِيِّ“، کیونکہ عرفیہ عامہ میں حکم ہوتا ہے نسبت کے دوام کا جب تک ذاتِ موضوع جو ہے وہ متصف ہے وصفِ عنوانی کے ساتھ، ”فَنَقِيْضُهَا الصَّرِيْحُ هُوَ سَلْبُ ذَلِكَ الدَّوَامِ“، تو اس کی صریح نقیض جو ہے وہ اس دوام کا سلب ہے۔ اس دوام کا سلب ہے لیکن وہ تو موجود ہی نہیں ہے، اس پر کوئی قضیہ ہی نہیں ہے۔ ”وَيَلْزَمُهُ وُقُوْعُ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ فِي بَعْضِ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ الْعُنْوَانِيِّ“، اور اس کے ساتھ لازم ہے، اس لا دوام کے ساتھ لازم ہے کہ طرفِ مقابل کا واقع ہونا وصفِ عنوانی کے بعض اوقات میں، ”وَهَذَا مَعْنَى الْحِيْنِيَّةِ الْمُطْلَقَةِ الْمُخَالِفَةِ لِلْعُرْفِيَّةِ الْعَامَّةِ“، اور یہ معنیٰ ہے اس حینیہ مطلقہ کا جو مخالف ہو عرفیہ عامہ کے، ”فِي الْكَيْفِ“، کس میں؟ کیفیت میں۔ اگر وہ موجبہ تو یہ سالبہ، اور اگر یہ سالبہ تو وہ موجبہ۔ ”فَنَقِيْضُ قَوْلِنَا“، تو ہمارے اس قول کی نقیض: ”بِالدَّوَامِ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ مَا دَامَ كَاتِبًا“، کہ دائمی طور پر ہر کاتب جو ہے اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں جب تک وہ کاتب ہوتا ہے، تو اس کی جو نقیض ہے ”قَوْلُنَا“ وہ ہمارا یہ قول ہے: ”لَيْسَ بَعْضُ الْكَاتِبِ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ حِيْنَ هُوَ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ“، کہ بعض کاتب جو ہیں ان کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں جس وقت وہ کاتب ہوتے ہیں بالفعل بھئی۔ جی۔ بعض کاتب کی انگلیاں بالفعل حرکت نہیں کرتیں، یہ بالفعل کو وہ نسبت سے جوڑیں بھئی، کس سے جوڑیں؟ نسبت سے۔ کہ بعض کاتب ان کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں بالفعل، یعنی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ”حِيْنَ هُوَ كَاتِبٌ“ جس وقت وہ کاتب ہوتے ہیں۔ ادھر دیکھیے، ایک میں کیا ذکر؟ کہ جب تک کوئی کاتب کتابت کرتا ہے اس کی انگلیاں ہمیشہ، دوام ہے، ہمیشہ کیا کرتی ہیں؟ حرکت، یہ عرفیہ عامہ میں ہے۔ جب تک کوئی کاتب کتابت کرتا ہے ہمیشہ اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں، دوام کا ذکر ہے، اور دوسرے میں آیا بعض کاتبوں کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں جب وہ کاتب ہوتے ہیں۔ تو یہ تو اس کی نقیض بن گیا۔ اگر وہ دائمًا حرکت کرتی ہیں تو پھر تین زمانوں میں حرکت نہ کریں ایسا نہیں ہو سکتا۔ جب انگلیوں کی حرکت دائمی ہے تو انگلیوں کے حرکت کا نہ ہونا ممکن نہیں ہے، لیکن یہ تو بتا رہے ہیں، بات سمجھ؟ جی۔ انہوں نے کیا کہا؟ ہر کاتب کی انگلیاں ہمیشہ حرکت کرتی ہیں جب تک وہ کاتب ہے، اور دوسری طرف کیا کہا؟ بعض کاتبوں کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں جب وہ کاتب ہوتے ہیں، یہ تو دونوں، یہ دیکھو دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ اگر ہمیشہ انگلیاں حرکت کرتی ہیں تو پھر ایسا نہیں ہو سکتا کہ تین زمانوں میں سے کسی میں حرکت نہ کریں بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ ”وَالْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَتَعَرَّضْ لِبَيَانِ نَقِيْضِ الْوَقْتِيَّةِ وَالْمُنْتَشِرَةِ الْمُطْلَقَتَيْنِ“، کتنے قضیے ذکر ہوئے؟ بھئی ادھر دیکھیے۔ آپ نے بسائط پڑھے، بسائط میں سے کتنے تھے بسائط؟ آٹھ۔ نمبر ایک: ضروریہ مطلقہ، اس کی نقیض بیان کر دی۔ نمبر دو: مشروطہ عامہ، اس کی نقیض بھی بیان کر دی۔ نمبر تین کیا ہے؟ وقتیہ مطلقہ، اور نمبر چار ہے منتشرہ مطلقہ، ان دو کی نقیض بیان نہیں کی۔ اس سے آگے کیا ہے؟ دائمہ مطلقہ، اس کی بھی نقیض بیان کر دی۔ اس سے آگے عرفیہ عامہ ہے، اس کی بھی نقیض بیان کر دی۔ مطلقہ عامہ، اس کی بھی نقیض بیان کر دی۔ مطلقہ عامہ کی کیا نقیض؟ دائمہ مطلقہ۔ تو مطلقہ عامہ کی نقیض کیا ہے؟ دائمہ مطلقہ، بات سمجھ میں آگئی؟ دائمہ مطلقہ کی نقیض مطلقہ عامہ ہے تو مطلقہ عامہ کی نقیض کیا ہے؟ دائمہ مطلقہ، تو مطلقہ عامہ کی بھی نقیض ذکر کر دی۔ اور ممکنہ عامہ کی بھی نقیض ذکر کر دی، کیونکہ ممکنہ عامہ کس کی نقیض؟ ممکنہ عامہ، ضروریہ مطلقہ کی، اور ضروریہ مطلقہ کی نقیض ممکنہ عامہ ہے تو ممکنہ عامہ کی نقیض ضروریہ مطلقہ ہوا۔ تو دیکھو آٹھ میں سے چھ کی نقیضیں ذکر کر دیں، اور وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ کی نقیضیں ذکر نہیں کیں، تو وہ کیوں ذکر نہیں کیں؟ اب وہ شارح ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَتَعَرَّضْ لِبَيَانِ نَقِيْضِ الْوَقْتِيَّةِ وَالْمُنْتَشِرَةِ الْمُطْلَقَتَيْنِ مِنَ الْبَسَائِطِ“، اور مصنف پیچھے نہیں پڑے کس چیز کے؟ کہ وہ وقتیہ اور منتشرہ مطلقَتان جو ہیں یعنی وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ جو ہیں، ان کی نقیض کو بیان کریں ”مِنَ الْبَسَائِطِ“، کس میں سے؟ بسائط۔ مصنف بسائط میں سے منتشرہ مطلقہ اور وقتیہ مطلقہ کی نقیض بیان کرنے کے پیچھے نہیں پڑے، یعنی ان کی نقیضوں کو اس نے ذکر نہیں کیا، کیوں؟ کہتے ہیں: ”إِذْ لَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ غَرَضٌ فِيْمَا سَيَأْتِيْ مِنْ مَبَاحِثِ الْعُكُوْسِ وَالْأَقْيِسَةِ“۔ کہتے ہیں بھئی آگے عکسوں کی بحث آ رہی ہے، کس کی؟ عکسوں کی بحث۔ اسی طرح قیاس کی بحث آگے آ رہی ہے، قیاس کی جمع ہے اقیسہ، یا کے نیچے زیر ہے۔ تو آگے عکسوں اور قیاسوں کی بحث آ رہی ہے اور یہ وقتیہ اور منتشرہ، ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ان بحثوں سے۔ آگے عکسوں اور قیاسوں کی بحث آ رہی ہے اور یہ وقتیہ اور منتشرہ اور ان کی نقیضوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں، جب اس سے کوئی تعلق نہیں تو ان کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں تھا، اس لیے مصنف نے ان کو ذکر نہیں کیا۔ یہ معنیٰ ہے ”إِذْ لَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ غَرَضٌ فِيْمَا سَيَأْتِيْ مِنْ مَبَاحِثِ الْعُكُوْسِ وَالْأَقْيِسَةِ“، اس لیے کیونکہ ان کے ساتھ کوئی غرض متعلق نہیں ہے اس میں جو آگے آ رہی ہیں عکسوں اور قیاسوں کی بحثیں، ”بِخِلَافِ بَاقِي الْبَسَائِطِ“، بخلاف باقی بسائط کے کہ ان کا تعلق چونکہ تھا اس لیے ان کو ذکر کیا، اور وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ اور ان کی نقیضوں کا آگے آنے والی عکسوں اور قیاسوں کی بحث سے کوئی غرض متعلق نہیں تھی یعنی کوئی فائدہ اس میں نہیں تھا، اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا۔ ”فَتَأَمَّلْ“، آپ اس میں غور کر لیجیے۔ تامل میں اشارہ کر رہے ہیں: جب تمام بسائط کی نقیضوں کو ذکر کر دیا تو وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ کی نقیضوں کو بھی ذکر کر دیتے، اگرچہ ان سے کوئی غرض تو متعلق نہیں ہے، کوئی مقصد تو ان سے متعلق نہیں ہے، لیکن کم از کم بحث مکمل ہو جاتی، ساروں کی نقیضوں کا پتہ چل جاتا طلبہ کو، بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ“۔