آگے سبق دیکھیے بھئی! ”ثُمَّ وُقُوْعُ الْبَائِنِ بِمَا سِوَى الثَّلَاثِ الْأُوَلِ مَذْهَبُنَا، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: يَقَعُ بِهَا رَجْعِيٌّ؛ لِأَنَّ الْوَاقِعَ بِهَا طَلَاقٌ؛ لِأَنَّهَا كِنَايَاتٌ عَنِ الطَّلَاقِ، وَلِهَذَا تُشْتَرَطُ النِّيَّةُ وَيَنْتَقِصُ بِهَا الْعَدَدُ، وَالطَّلَاقُ مُعَقِّبٌ لِلرَّجْعَةِ كَالصَّرِيحِ“. گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ غیر مدخول بہا عورت، یعنی جس کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی، جس سے خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی، وہ ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جاتی ہے اور اس پر عدت بھی نہیں ہے اور وہ فوراً ہی آگے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، اور دلیل اس کی کہ اس پر کوئی عدت نہیں ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا} کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! {إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ} جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کر لو {ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} پھر ان کو تم طلاق دے دو صحبت کرنے سے پہلے {فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا} تو پھر ان پر تمہاری طرف سے کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرو۔ تو معلوم ہوا غیر مدخول بہا پر عدت نہیں ہے، اور غیر مدخول بہا کو اگر خاوند نے تین طلاقیں دیں تو پھر اگر وہ تین طلاقیں الگ الگ لفظوں کے ساتھ ہیں، مثلاً خاوند کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ، طَالِقٌ، طَالِقٌ“ تو پھر اس صورت میں پہلی طلاق سے ہی وہ بائنہ ہو جائے گی اور دوسری اور تیسری طلاق لغو چلی جائے گی، اور اگر خاوند نے تینوں طلاقیں ایک ہی لفظ سے دیں، یعنی کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ تو پھر اس صورت میں تینوں طلاقیں اکٹھی اس پر واقع ہو جائیں گی بھئی۔ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“ یعنی حرفِ عطف کے ساتھ دو طلاقیں الگ الگ دیں تو اس صورت کے اندر بھی پہلی واقع ہو جائے گی اور دوسری طلاق لغو ہو جائے گی، کیونکہ وہ پہلی سے ہی بائنہ ہو چکی۔ اور اسی طرح اگر خاوند نے بیوی کو دو طلاقیں دیں اور ان کے درمیان ”قَبْلُ“ یا ”بَعْدُ“ کا لفظ ذکر کیا اور پھر اس میں دو صورتیں ہیں: یا تو ”قَبْلُ“ اور ”بَعْدُ“ بغیر ضمیر کے استعمال ہوں گے یا ان کے ساتھ ضمیر بھی جڑی ہوئی ہوگی، مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“ یا قبل کے ساتھ ضمیر بھی جوڑ دیتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“، یا اسی طرح خاوند اگر دو طلاقوں کے درمیان ”بَعْدُ“ کا لفظ لے آئے بغیر ضمیر کے یا ضمیر کے ساتھ، تو یہ چار صورتیں بنتی ہیں بھئی۔ اور ان چار صورتوں کے اندر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر بعد والی طلاق پہلے ہے تو پھر دونوں اکٹھی ہوں گی، کیونکہ پہلی طلاق تو زمانۂ حال میں ہے اور بعد والی اس سے بھی پہلے ہے معلوم ہوا وہ زمانۂ ماضی میں ہے، اور زمانۂ ماضی کے اندر تو خاوند طلاق واقع نہیں کر سکتا تو وہ بھی زمانۂ حال میں اسی طلاق کے ساتھ واقع ہوگی تو دو طلاقیں اکٹھی ہو جائیں گی۔ لہٰذا اگر وہ طلاق جو بعد میں ذکر ہے اگر وہ پہلے واقع کر رہا ہے خاوند تو پھر اس صورت میں دو طلاقیں ہوں گی، اور اگر وہ طلاق جو بعد میں ذکر ہے وہ پہلے نہیں ہے تو پھر اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور اسی ایک سے عورت بائنہ ہو جائے گی اور دوسری طلاق لغو چلی جائے گی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ اگر ظرف کے ساتھ ضمیر جڑی ہوئی ہو تو پھر یہ مابعد کی صفت ہوتی ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ تو یہ ”قَبْلَهَا“ دیکھو قبل کے ساتھ ”هَا“ ضمیر جڑی ہوئی ہے تو یہ بعد والی طلاق کی صفت ہے، معلوم ہوا ”قَبْلَهَا“ پہلے ہونا یہ بعد والی طلاق کی صفت ہے، وہ پہلے ہے۔ قبل کا لفظ ذکر ہے نا تو یہ پہلے ہونا بعد والی طلاق کی صفت ہے، لہٰذا اس صورت میں دو طلاقیں ہو جائیں گی بھئی۔ اور اگر ”قَبْلُ“ یا ”بَعْدُ“ کے ساتھ ضمیر نہیں ہے تو پھر اس صورت کے اندر یہ ”قَبْلُ“ اور ”بَعْدُ“ پہلی طلاق کی صفت ہوں گے بھئی۔ لہٰذا خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً قَبْلَ وَاحِدَةٍ“، یہاں قبل کے ساتھ ضمیر نہیں، لہٰذا یہ پہلے ہونا کس کی صفت ہے؟ پہلی طلاق کی۔ لہٰذا اس صورت میں پہلی طلاق ہوگی اور دوسری لغو چلی جائے گی کیونکہ وہ عورت بائنہ ہو چکی ہے پہلی ہی طلاق سے۔ اور اگر ساتھ ضمیر جوڑی: ”أَنْتِ طَالِقٌ قَبْلَهَا وَاحِدَةٌ“ تو یہ قبل کے ساتھ ”هَا“ ضمیر جڑی ہوئی ہے تو یہ قبل ہونا، پہلے ہونا یہ دوسری طلاق کی صفت ہے، تو لہٰذا اس صورت میں دو طلاقیں ہوں گی۔ اور اگر ”بَعْدُ“ کا لفظ لاتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ“ تو یہاں ضمیر ساتھ نہیں ہے لہٰذا یہ بعد میں ہونا یہ پہلی طلاق کی صفت ہے لہٰذا اس میں بھی دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ اور اگر ”بَعْدَهَا وَاحِدَةٌ“ کہا تو اس صورت میں بعد کے ساتھ ”هَا“ ضمیر جڑی ہوئی ہے لہٰذا یہ بعد والی طلاق کی صفت ہے، معلوم ہوا وہ بعد میں ہے، تو پہلی طلاق ہی واقع ہو جائے گی اور دوسری لغو چلی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر خاوند نے ”مَعَ“ یا ”مَعَهَا“ ذکر کیا دونوں طلاقوں کے بیچ میں پھر دونوں اکٹھی واقع ہو جائیں گی کیونکہ ”مَعَ“ جو ہے وہ ساتھ ملانے کے لیے آتا ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر خاوند نے بیوی کو حرفِ عطف کے ساتھ دو طلاقیں دیں اور شرط بھی ساتھ ذکر کر دی، تو اگر شرط شروع میں ذکر کی ہے مثلاً خاوند نے کہا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً“ تو اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک ایک طلاق واقع ہوگی، کیونکہ یہ جو دوسری طلاق ہے یہ پہلی طلاق کے واسطے سے شرط کے ساتھ جڑ رہی ہے، لہٰذا یہ مؤخر ہوگی اور پہلی طلاق پہلے ہوگی اور اسی سے وہ عورت بائنہ ہو جائے گی تو دوسری طلاق لغو ہو جائے گی۔ لیکن اگر شرط کو مؤخر کر دیا کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً وَوَاحِدَةً إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو یہ جو آخر میں شرط آئی اس نے ماقبل سارے کلام کو بدل دیا اور دونوں طلاقیں شرط کے ساتھ معلق ہو گئیں، پہلی بھی معلق ہوئی، دوسری بھی معلق ہو گئی تو لہٰذا یعنی پہلی بھی براہِ راست معلق ہوئی اور دوسری بھی براہِ راست شرط کے ساتھ معلق ہو گئی لہٰذا جیسے ہی شرط آئے گی اس کے ساتھ ہی پہلی اور دوسری دونوں طلاقیں آ جائیں گی کیونکہ دونوں شرط کے ساتھ معلق تھیں بھئی، تو اس صورت میں دو طلاقیں ہوں گی اگر شرط کو مؤخر کیا بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں شرط کو چاہے مقدم کریں چاہے مؤخر کریں دونوں صورتوں میں دو دو طلاقیں واقع ہوں گی کیونکہ دونوں طلاقیں معلق ہو چکی ہیں بھئی۔ اس کے بعد کنایات کا ذکر آیا تھا بھئی۔ کنایات، کنایات آپ نے پڑھا کنایات یہ ہیں کہ گول مول الفاظ کے ساتھ طلاق دی جائے، یعنی جن میں طلاق کا معنی بھی ہو اور دوسرا معنی بھی ہو، تو کنایات میں نیت کا ہونا ضروری ہے اور تمام کنایات سے طلاقِ بائن ہوتی ہے سوائے تین کنایات کے، اور وہ تین کنایات کون سے ہیں؟ ”اِعْتَدِّي“، ”اِسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ اور ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“۔ ”اِعْتَدِّي“ تو، تو ”اِعْتَدِّي“ کے اندر دیکھو یا تو اس کا معنی یہ ہے: ”اِعْتَدِّي“ تو عدت شمار کر، یا اس کا معنی ہے: ”اِعْتَدِّي“ تو شمار کر یعنی اللہ کے تیرے اوپر کتنے انعامات ہیں، کتنی نعمتیں ہیں یا تو میرے احسانات کو شمار کر، تو دیکھو غیرِ طلاق کا معنی بھی ہے۔ تو اگر خاوند اس میں طلاق کی نیت کرتا ہے کہ تو عدت شمار کر تو معلوم ہوا اس سے پہلے اقتضاءً طلاق کو ماننا پڑے گا کیونکہ بغیر طلاق کے تو عورت پر عدت نہیں آتی۔ اسی طرح ”اِسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ اس کا بھی وہی معنی ہے اپنے رحم کو صاف کر لے یعنی عدت گزار لے کیونکہ عدت بھی عورت کس لیے گزارتی ہے؟ اپنے رحم کو صاف کرنے کے لیے، تو جو عدت کے ذریعے مقصود ہے اس کو ہی صراحۃً لفظوں میں خاوند نے ذکر کر دیا ”اِسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ“ تو اپنے رحم کو صاف کر لے، تو اگر اس میں وہ طلاق کی نیت کرتا ہے کہ تو عدت گزار تو اس سے پہلے اقتضاءً ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو ماننا پڑے گا کیونکہ بغیر طلاق کے تو عورت پر عدت نہیں آتی بھئی۔ اور تیسرا لفظ جو تھا وہ ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“، ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“ یہاں پر یہ جو ”وَاحِدَةٌ“ ہے اس کو صفت بنائیں گے طلاقِ محذوف کی، تو گویا اصلِ کلام یوں ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“، ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ لہٰذا اس صورت میں یہاں پر ”وَاحِدَةً“ کا موصوف ”تَطْلِيقَةً“ محذوف ہے، مقدر ہے، تو یہ جو تین کنایات ہیں ان کے ذریعے طلاقِ رجعی ہوتی ہے، اور ان میں دو کے اندر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ثابت ہوگا اقتضاءً، اور آخری جو ہے اس کے اندر مصدر مقدر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال ان سب سے طلاقِ رجعی ہوگی بھئی۔ جبکہ باقی کنایات کہتے ہیں اس کے اندر اگر خاوند نے طلاق کی نیت کی تو ایک طلاقِ بائن ہو جائے گی اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں بھی ہو جائیں گی، اس لیے کیونکہ مثلاً ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کہتا ہے کہ تو جدا ہے، اور یہ بینونت کی تو دو قسم پر ہے: ایک بینونتِ خفیفہ ہے، ایک بینونتِ غلیظہ ہے، ایک ہلکی جدائی ہے، ایک سخت جدائی ہے، ہلکی جدائی ایک یا دو طلاقوں میں آئے گی اور سخت جدائی جو ہے وہ تین طلاقوں کے اندر آتی ہے، تو لہٰذا خاوند یہاں ہلکی جدائی یعنی ایک طلاقِ بائن کی نیت بھی کر سکتا ہے اور تین طلاقوں کی بھی نیت کر سکتا ہے، البتہ دو کی نیت صحیح نہیں کیونکہ دو عدد ہے بھئی۔ پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو تفصیل بتلائی تھی کہ کنائے کا لفظ بولتے ہوئے خاوند کی تین طرح کی حالت ہو سکتی ہے: یا تو عام حالت ہوگی یا مذاکرۂ طلاق چل رہا ہوگا یا غضب کی حالت ہوگی خاوند غصے میں ہے بھئی۔ تو اگر اگر عام حالت ہے تو پھر اس صورت میں تو سارا دارومدار خاوند کی نیت پر ہے۔ یعنی قاضی کے پاس مسئلہ جائے گا تو قاضی بھی خاوند سے اس کی نیت پوچھے گا، اگر خاوند کہہ دے میری نیت نہیں تھی تو قاضی بھی یہی فیصلہ کرے گا، لیکن اگر مذاکرۂ طلاق چل رہا تھا اور خاوند نے کنایہ لفظ استعمال کیا اور اس کنائے میں جواب بننے کی صلاحیت تو ہے رد بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔ جواب؟ جواب کا کیا مطلب؟ یعنی خاوند اس کو واقع طلاق دے رہا ہے، اس کا مطالبہ جو طلاق کا ہے اس کو قبول کر رہا ہے، تو اگر خاوند نے ایسا کنایہ بولا جس میں جواب بننے کی صلاحیت تو ہے لیکن رد کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر قاضی جدائی کا فیصلہ کر دے گا اور خاوند کی تصدیق نہیں کی جائے گی، وہ کہتا رہے میری نیت نہیں تھی لیکن بھئی یہ جو آپ نے لفظ بولا ہے اس میں رد کرنے اور واپس کرنے کا تو احتمال ہی نہیں ہے، عورت طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے آپ نے جو لفظ بولا ہے اس میں تو عورت کے مطالبے کو رد کرنے کا معنی نہیں بنتا، لہٰذا اس صورت میں قاضی اس کی بات کا اس کی بات کی تصدیق نہیں کرے گا۔ لیکن اگر خاوند نے ایسا لفظ استعمال کیا ہے مذاکرۂ طلاق میں جو جواب دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے یعنی طلاق دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اور رد کی بھی صلاحیت رکھتا ہے تو پھر اس صورت میں قاضی اس کی تصدیق کرے گا بھئی، قسم کے ساتھ بھئی۔ اور اگر خاوند غضب کی حالت میں تھا تو پھر اس صورت کے اندر اگر خاوند نے ایسا کنایہ استعمال کیا ہے جو رد یا گالی کا احتمال رکھتا ہے، گالی یعنی ڈانٹ ڈپٹ یا برا بھلا کہنا، تو اگر وہ رد کرنے کا یا ڈانٹ ڈپٹ کا اور گالی دینے کا احتمال رکھتا ہے تو اس صورت میں بھی قاضی خاوند کی تصدیق کرے گا اور اگر وہ گالی دینے یا رد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو پھر قاضی خاوند کی تصدیق نہیں کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”ثُمَّ وُقُوْعُ الْبَائِنِ بِمَا سِوَى الثَّلَاثِ الْأُوَلِ مَذْهَبُنَا، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: يَقَعُ بِهَا رَجْعِيٌّ“ بھئی احناف کا مذہب تو صاحبِ ہدایہ نے بیان کر دیا کہ ہمارے نزدیک تین کنایات جو ہیں ان سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے اور باقی جتنے مشہور کنایات ہیں ان سے طلاقِ بائن ہوتی ہے، جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کنایات سے ہمیشہ طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔ کنایات سے ہمیشہ طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: ”ثُمَّ وُقُوْعُ الْبَائِنِ بِمَا سِوَى الثَّلَاثِ الْأُوَلِ“، اُوَل جمع ہے اولیٰ کی، اُوَل جمع ہے اولیٰ کی بھئی۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ وُقُوْعُ الْبَائِنِ بِمَا سِوَى الثَّلَاثِ الْأُوَلِ“ پھر طلاقِ بائن کا واقع ہونا پہلے تین کنایوں کے علاوہ سے، پہلے تین کنایوں کے علاوہ باقی کنایات سے طلاقِ بائن کا واقع ہونا ”مَذْهَبُنَا“ یہ ہمارا مذہب ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَقَعُ بِهَا رَجْعِيٌّ“ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کنایات کے ذریعے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے۔ ”لِأَنَّ الْوَاقِعَ بِهَا طَلَاقٌ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ان کے ذریعے طلاق واقع ہوتی ہے، ان کنایات کے ذریعے طلاق واقع ہوتی ہے بھئی کیوں طلاق کیوں واقع ہوتی ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا كِنَايَاتٌ عَنِ الطَّلَاقِ“ کیونکہ یہ طلاق سے کنایہ ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ طلاق سے کنایہ ہیں، بعض اوقات خاوند صاف لفظوں میں طلاق بولتا ہے بعض اوقات کنائے کے انداز میں ہی طلاق بولتا ہے، یعنی طلاق سے کنایہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خاوند کا ارادہ طلاق ہی کا ہوتا ہے ان کے ذریعے، جیسے دیکھو، جیسے دیکھو میں اور آپ زید کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، اچانک ایک تیسرا آدمی آ گیا لیکن اب میں اس کو نہیں بتانا چاہتا کہ میں زید کے بارے میں بات کر رہا تھا تو اب میں زید کا لفظ ذکر نہیں کروں گا بلکہ فلاں کا لفظ بولوں گا، اور یہ فلاں کنایہ ہے کس سے؟ زید سے، کہ فلاں میرے پاس آیا تھا اور پھر فلاں نے یہ بات کی اور میں نے یہ بات کی، تو دیکھا یہ فلاں کے ذریعے میں زید سے کنایہ کر رہا ہوں۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ”أَنْتِ بَائِنٌ“ اور ”أَنْتِ بَتَّةٌ“ یا ”بَتْلَةٌ“ وغیرہ جو کنایات ہیں یہ بھی طلاق سے کنایہ ہیں، ان کے ذریعے طلاق کا ارادہ ہے بھئی، یہ کنایہ ہیں کس سے؟ طلاق ہی سے کنایہ ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا كِنَايَاتٌ عَنِ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ یہ طلاق سے کنایہ ہیں یعنی ان کے ذریعے طلاق کا ارادہ ہے، یعنی ان سے مراد طلاق ہی ہے۔ خاوند نے کہا ”أَنْتِ بَائِنٌ“ ہے لیکن مراد ”أَنْتِ طَالِقٌ“ ہے۔ یہ اسی طرح ہے میں نے کہا تو فلاں ہے لیکن مراد زید ہے بھئی، توجہ ہے؟ تو یہاں بھی طلاق سے کنایہ ہونے کا کیا معنی؟ کہ طلاق ہی مراد ہے ان سے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا كِنَايَاتٌ عَنِ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ یہ طلاق سے کنایات ہیں یعنی ان سے طلاق ہی مراد ہوتی ہے۔ بھئی کیسے دلیل آگے دے رہے ہیں کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا تُشْتَرَطُ النِّيَّةُ“ اور اسی لیے تو طلاق کی نیت ان میں شرط ہے۔ بھئی بات گزر چکی ہے ایک صریح ہوتا ہے ایک کنایہ، صریح کے اندر کسی نیت کی ضرورت نہیں خاوند اپنی بیوی سے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہے تو اس سے نیت نہیں پوچھی جائے گی طلاق واقع ہو گئی، کیونکہ صریح کے اندر نیت کی حاجت نہیں، لیکن کنائے کے اندر اور معانی کا بھی احتمال ہوتا ہے اس لیے آپ پڑھ چکے ہیں کنائے میں نیت کا ہونا ضروری ہے، کس کا ہونا؟ نیت کا ہونا ضروری ہے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی کنائے میں طلاق کی نیت شرط ہے، معلوم ہوا یہ طلاق ہی سے کنایہ ہے، طلاق ہی کا ارادہ ہے، اسی لیے تو طلاق کی نیت بھی شرط ہے اس کے اندر بھئی، اور نیز اس کی وجہ سے طلاق کے عدد بھی کم ہو جاتے ہیں مثلاً خاوند نے اگر کنایہ استعمال کیا تو جدائی آ جائے گی اور خاوند اگر بعد میں دوبارہ اس عورت سے نکاح کرتا ہے تو اب ایک طلاق گزر چکی ہے اب وہ تمام عمر صرف دو طلاقوں کا مالک ہوگا، اور اگر اس نے دوبارہ کنایہ استعمال کیا تو پھر ایک اور طلاق ہو گئی وہ پھر اگر دوبارہ اسی عورت سے نکاح کرے گا تو اب تمام زندگی صرف ایک طلاق کا مالک ہوگا۔ معلوم ہوا کنائے کے ساتھ طلاق کا عدد بھی کم ہوتا ہے، اور نیز کنائے کے اندر طلاق کی نیت بھی شرط ہے، تو معلوم ہوا یہ طلاق ہی سے کنایہ ہے، ”أَنْتِ بَائِنٌ“ بائن بول رہا ہے لیکن مراد کیا ہے؟ طالق ہی ہے، طلاق ہی مراد ہے۔ تو دیکھیے کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا كِنَايَاتٌ عَنِ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ یہ طلاق سے کنائے ہیں، طلاق سے کنائے ہیں اس کی دو دلیلیں ذکر کر رہے ہیں امامِ شافعی رحمہ اللہ کی طرف سے صاحبِ ہدایہ، کہ یہ طلاق سے کنایہ ہیں کیوں؟ کس طرح بھئی؟ کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا تُشْتَرَطُ النِّيَّةُ“ کہتے ہیں اسی وجہ سے اس کے اندر نیت کی شرط ہے کہ طلاق کی نیت کی جائے، اور نیز ”وَيَنْتَقِصُ بِهَا الْعَدَدُ“ اور نیز ان کی وجہ سے طلاق کا عدد کم ہو جاتا ہے، طلاق کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی ان کی وجہ سے، تو معلوم ہوا یہ طلاق سے کنایہ ہیں بھئی، ”وَالطَّلَاقُ مُعَقِّبٌ لِلرَّجْعَةِ كَالصَّرِيحِ“ اور طلاق تو اپنے پیچھے رجوع کو لاتی ہے، طلاق کے بعد تو خاوند رجوع کر سکتا ہے ”كَالصَّرِيحِ“ جیسے صریح طلاق کے اندر جو ہے اس کے بعد رجوع کا حق ہوتا ہے خاوند کو، تو یہاں پر بھی یہ جو کنایات ہیں یہ طلاق سے کنایہ ہیں، جب یہ طلاق سے کنایہ ہے تو یہ طلاق جیسا عمل کریں گے اور طلاق کے بعد تو رجوع کا حق ہوتا ہے لہٰذا یہاں بھی خاوند کو رجوع کا حق ہوگا، معلوم ہوا کنایات سے بھی رجعی طلاق ہوگی، کنایات سے بھی رجعی طلاق ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالطَّلَاقُ مُعَقِّبٌ لِلرَّجْعَةِ كَالصَّرِيحِ“ اور طلاق جو ہے وہ اپنے پیچھے رجوع کو لاتی ہے جیسے کہ صریح طلاق ہے، ”وَلَنَا: أَنَّ تَصَرُّفَ الْإِبَانَةِ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ عَنْ وِلَايَةٍ شَرْعِيَّةٍ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ خاوند کنایہ استعمال کرتا ہے تو اس سے طلاقِ بائن ہوگی، یعنی اس سے ابانت والا فعل پایا جائے گا، جدا کر دینے والا، خاوند کیا کر رہا ہے؟ بیوی کو اپنے سے جدا کر رہا ہے، تو یہ جو جدا کرنے والا تصرف ہے یہ خاوند نے کیا ہے اور خاوند جدا کرنے کے تصرف کا مالک ہے، خاوند بیوی کو کیا کر سکتا ہے اپنے سے؟ جدا کر سکتا ہے، تو خاوند میں اس ابانت کے تصرف کی اہلیت ہے، اور بیوی اس تصرف کا محل ہے یعنی اس کو خاوند جدا کر سکتا ہے معلوم ہوا وہ ابانت کا محل ہے، خاوند میں ابانت کی اہلیت ہے اور بیوی ابانت کا محل ہے، اور نیز خاوند کو یہ شریعت نے اس تصرف کا حق دیا ہے وہ ابانت کر سکتا ہے بیوی کو اپنے سے جدا کر سکتا ہے۔ تو ایک خاوند میں ابانت کی اہلیت موجود ہے اور یہ ابانت اس نے کہاں پر واقع کی ہے؟ بیوی پر، اور بیوی ابانت کا محل بھی ہے، اور نیز خاوند کو یہ ابانت کا تصرف کس نے دیا؟ یہ حق کس نے دیا؟ شریعت نے دیا، تو جب شریعت نے ایک حق خاوند کو دیا ہے اور خاوند جو اہل ہے عاقل بالغ ہے وہ اس حق کو استعمال کر رہا ہے اور اپنے محل میں یعنی اپنی بیوی پر استعمال کر رہا ہے تو اس کی وجہ سے جدائی آ جائے گی۔ کیا آ جائے گی؟ جدائی آ جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ خاوند میں ہے اہلیت، بیوی میں ہے محلیت، اور نیز یہ ولایت کس نے دی ہے؟ شریعت نے دی ہے، تو ان تینوں کو ملانے سے معلوم ہو گیا کہ خاوند ابانت کا تصرف کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا: أَنَّ تَصَرُّفَ الْإِبَانَةِ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ ابانت یعنی جدا کر دینے والا تصرف ”صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ“ یہ پیش آیا ہے ”مِنْ أَهْلِهِ“ یعنی تصرف کے اہل شخص سے، یعنی جو خاوند ہے اس نے یہ ابانت والا تصرف کیا ہے، ”مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ“ اور خاوند نے اس ابانت کی نسبت کی ہے ”إِلَى مَحَلِّهِ“ اس تصرفِ ابانت کے محل کی طرف نسبت کی ہے، اور یہ ابانت جو ہے ”عَنْ وِلَايَةٍ شَرْعِيَّةٍ“ اور یہ تصرف ثابت ہے خاوند کے لیے ”عَنْ وِلَايَةٍ شَرْعِيَّةٍ“ شرعی ولایت سے، کہ یہ ولایت اس کو کس نے دی ہے؟ شریعت نے دی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بس صاحبِ ہدایہ کے الفاظ ذرا ذہن میں رکھیں، وہ آگے تفصیل بیان کریں گے تو بات خوب واضح ہو جائے گی۔ تو یہاں تک کیا بات ہوئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَلَنَا: أَنَّ تَصَرُّفَ الْإِبَانَةِ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ابانت والا تصرف صادر ہوا ہے اہلِ تصرف سے جس میں ابانت والے تصرف کی صلاحیت تھی، ”مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ“ اور اس حال میں کہ اس کی نسبت ہو رہی ہے محلِ تصرف کی طرف جہاں ابانت والا تصرف ہو سکتا ہے بھئی، ”عَنْ وِلَايَةٍ شَرْعِيَّةٍ“ اور یہ ابانت والا تصرف جو ہے خاوند کے لیے ثابت ہے کس سے؟ ولایتِ شرعیہ سے یعنی شریعت کی جانب سے۔ اب یہاں تین باتیں آ گئیں: ایک تو یہ کہ خاوند کو ابانت کے تصرف کا حق ہے، دوسرا بیوی ابانت کے تصرف کا محل ہے، اور چوتھی چیز یہ آئی کہ خاوند جو ہے اس کو یہ حق شریعت نے دیا ہے۔ تو تین چیزیں ہیں، اب ان تین کے بارے میں صاحبِ ہدایہ آگے بتلائیں گے کہ بھئی خاوند کا ابانت کا اہل ہونا، خاوند کا ابانت کا اہل ہونا یہ بات تو واضح ہے، خاوند کیا کر سکتا ہے؟ طلاق دے کر بیوی کو اپنے سے جدا کر سکتا ہے، اور بیوی ابانت کا محل ہے اس کو خاوند طلاق دے دے گا تو بیوی کیا ہوگی؟ خاوند سے جدا ہو جائے گی، تو خاوند کی اہلیت اور بیوی کی محلیت میں تو کوئی خفاء ہے ہی نہیں، یہ بات تو ظاہر ہے۔ ہاں صرف ایک بات رہ گئی کہ شریعت کی طرف سے خاوند کو یہ ابانت کا حق ملا ہے، یہ ابانت کا تصرف ملا ہے، یہ آپ نے نئی بات کر دی، یہ کہاں سے ثابت ہے؟ بھئی ہم دلیل دے رہے ہیں امامِ شافعی رحمہ اللہ کو، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کنایوں کے ذریعے طلاقِ رجعی ہوگی، طلاقِ بائن نہیں ہوگی، اب ہم نے ثابت کرنا ہے کہ اس کے ذریعے طلاقِ بائن ہوگی، اور ہم نے بتایا کہ خاوند اہل ہے وہ ابانت والا تصرف کر سکتا ہے اور بیوی اس کا محل ہے کہ خاوند اس کی طرف اس ابانت کی نسبت کرتا ہے، ان دو چیزوں میں تو کوئی خفاء نہیں ہے، اب صرف ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ شرعاً خاوند کے پاس ابانت کا حق ہے۔ شرعاً خاوند کے پاس ابانت کا حق ہے وہ ہم نے ثابت کرنا ہے تو وہ بیان کریں گے صاحبِ ہدایہ اور بتلائیں گے کہ وجہ یہ کہ خاوند جو ہے وہ اس ابانت کے تصرف کا محتاج ہے۔ خاوند کیا ہے؟ خاوند ابانت کے تصرف کا محتاج ہے کہ وہ بیوی کو اپنے سے فوراً کیا کر سکے؟ الگ کر سکے، نکاح کو توڑ سکے، خاوند اس کا محتاج ہے، اس کو حاجت ہے اور جیسے حاجت کی وجہ سے شریعت اور تصرفات کی اجازت دیتی ہے تو اسی طرح یہ ابانت کی بھی خاوند کو اجازت ہوگی کہ وہ طلاقِ بائن واقع کر سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ بات کیا ہوئی؟ کہ شریعت کی طرف سے خاوند کو ابانت کا حق ہے، اس کے لیے ہم دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ خاوند ابانت کا محتاج ہے، اور انسان جس چیز کا محتاج ہوتا ہے شریعت کی طرف سے اس کو اس تصرف کا حق ملتا ہے ورنہ تو انسان حرج میں پڑ جائے گا، مشکل اور تکلیف میں پڑ جائے گا، ایک چیز کی اس کو حاجت ہے اور اس کو اس کی ولایت حاصل نہیں ہے، تو جب انسان کو کسی چیز کی حاجت ہوگی جس کے بغیر چارہ نہیں ہے، گزارہ نہیں ہے تو شریعت اس کو اس تصرف کا حق دے دیتی ہے تو یہاں بھی خاوند کیا ہے؟ ابانت کا محتاج ہے، اس کو ابانت کی حاجت ہے لہٰذا اس کو اس ابانت کا حق ہوگا، وہ ابانت کا تصرف کر سکتا ہے۔ بھئی کس طرح خاوند محتاج ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی دیکھیے بعض اوقات خاوند جو ہے اپنی بیوی سے بڑا تنگ آ گیا، کوئی بیوی ہے بڑی ہی بد اخلاق ہے یا بد زبان ہے، اب خاوند اس سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے، کیا کرنا چاہتا ہے؟ چھٹکارا پانا چاہتا ہے، تو ایک صورت یہ ہے خاوند اس کو طلاقِ رجعی دے دے لیکن اگر خاوند طلاقِ رجعی دے گا تو اس میں تو پھر بھی دوبارہ رجوع کا احتمال ہے، بیوی سے تو جان پوری طرح ابھی بھی نہیں چھوٹی، عدت کے اندر خاوند بھی رجوع کر سکتا ہے اور نیز اگر خاوند کی رجوع کی نیت نہ بھی ہو لیکن بیوی نے آ کر اچانک خاوند کا بوسہ لے لیا تو بھی رجوع ہو جائے گا، تو دیکھو بغیر خاوند کے ارادے کے بھی رجوع ہو سکتا ہے، معلوم ہوا طلاقِ رجعی دی تو ابھی بھی جان نہیں چھوٹی، خاوند تو اس عورت سے جان چھڑانا چاہتا ہے لیکن طلاقِ رجعی دینے سے تو جان نہیں چھوٹ رہی۔ پھر دوسری صورت یہ ہے کہ خاوند تین طلاقیں دے دے، جب تین طلاقیں دے گا تو نکاح بالکل ٹوٹ گیا اب رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے لیکن اس صورت میں نقصان یہ لازم آتا ہے کہ اب اس کی تلافی ممکن نہیں، اب نکاح ایسا ٹوٹ چکا ہے کہ خاوند دوبارہ اس عورت سے نکاح کر ہی نہیں سکتا الّا یہ کہ یہ عورت کسی اور سے نکاح کرے اور پھر اس شخص کا انتقال ہو جائے یا وہ طلاق دے دے تو پھر یہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوگی۔ تو لہٰذا اگر خاوند ایک طلاقِ رجعی دے گا تو عورت سے جان نہیں چھوٹ رہی اور وہ جان چھڑانا چاہتا ہے، اور اگر تین طلاقیں دے گا تو پھر تلافی کی کوئی صورت نہ رہے گی تو لہٰذا خاوند محتاج ہے اس کو ابانت کے تصرف کا حق ہونا چاہیے کہ یہ ابانت کا تصرف کر سکے، یہ طلاقِ بائن دے سکے بھئی، اس کو حق ہونا چاہیے یہ محتاج ہے، تو جب یہ طلاقِ بائن دے گا تو اب اس کی حاجت پوری ہو گئی، جب طلاقِ بائن دے دی تو نکاح ٹوٹ گیا اب رجوع کی کوئی صورت نہیں اور نیز اس کی تلافی بھی ہو سکتی ہے، بعد میں اگر یہ دونوں پھر نکاح کرنا چاہیں تو دوبارہ نکاح بھی کر سکتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا خاوند کو ابانت کے تصرف کی احتیاج ہے کہ وہ عورت کو اپنے آپ سے فوراً کیا کر سکے؟ جدا کر سکے یعنی طلاقِ بائن دے سکے بھئی، طلاقِ بائن دے سکے، کیونکہ اگر طلاقِ رجعی دے گا تو وہاں تو بغیر ارادے کے بھی رجوع ممکن رہے گا تو جان نہیں چھوٹی، اور اگر تین طلاقیں دے دے گا پھر تو تلافی کی کوئی صورت نہ رہے گی لیکن طلاقِ بائن دے گا تو اب اس کی حاجت پوری ہو گئی، معلوم ہوا خاوند طلاقِ بائن کا یا یوں کہو ابانت کا بھی محتاج ہے، اس کو ابانت کے تصرف کی حاجت ہے اور انسان کو جس تصرف کی حاجت ہوتی ہے شریعت کی طرف سے اس کو وہ تصرف ملتا ہے بھئی لہٰذا خاوند کو بھی ابانت کے تصرف کا حق ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی: ”وَلَنَا: أَنَّ تَصَرُّفَ الْإِبَانَةِ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ جدائی والا تصرف صادر ہوا ہے یہ پیش آیا ہے ”مِنْ أَهْلِهِ“ اہلِ تصرف سے یعنی خاوند کی طرف سے، ”مُضَافًا إِلَى مَحَلِّهِ“ اس حال میں کہ اس تصرف کی نسبت ہو رہی ہے اس کے محل یعنی بیوی کی طرف، ”عَنْ وِلَايَةٍ شَرْعِيَّةٍ“ اور یہ تصرف ثابت ہے خاوند کے لیے کس سے؟ ولایتِ شرعیہ سے۔ ”وَلَا خَفَاءَ فِي الْأَهْلِيَّةِ وَالْمَحَلِّيَّةِ“ اور اہلیت اور محلیت میں تو کوئی خفاء نہیں، خاوند کا ابانت کا اہل ہونا اور بیوی کا ابانت کا محل ہونا اس میں تو کوئی خفاء نہیں ہے باقی رہ گئی کہ یہ خاوند کو یہ تصرف کا حق ملا ہے شریعت کی طرف سے اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالدَّلَالَةُ عَلَى الْوِلَايَةِ“ اور یہ ابانت کی جو ولایت ہے اس پر دلالت جو ہے یعنی اس پر دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْحَاجَةَ مَاسَّةٌ إِلَى إِثْبَاتِهَا“ کہ حاجت پیش آتی ہے ”إِلَى إِثْبَاتِهَا“ اس ولایت کے ثابت کرنے کی، کیونکہ حاجت پیش آتی ہے اس ولایت کے ثابت کرنے کی کہ خاوند کے پاس ابانت کی ولایت ہونی چاہیے بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَالدَّلَالَةُ عَلَى الْوِلَايَةِ“ اور اس ابانت کی ولایت پر دلالت یہ ہے ”أَنَّ الْحَاجَةَ مَاسَّةٌ“ کہ حاجت پیش آتی ہے ”إِلَى إِثْبَاتِهَا“ کہ اس ولایتِ ابانت کو ثابت کیا جائے خاوند کے لیے ”كَيْ لَا يَنْسَدَّ عَلَيْهِ بَابُ التَّدَارُكِ“ کیلا ینسد، انْسَدَّ يَنْسَدُّ کے معنی ہیں بند ہونا، ”كَيْ لَا يَنْسَدَّ عَلَيْهِ“ تاکہ کہیں خاوند پر بند نہ ہو جائے ”بَابُ التَّدَارُكِ“ تلافی کا باب، کیونکہ اگر تین دے کر وہ جدائی کرے گا پھر تو تلافی نہیں ہو سکتی بعد میں تو دوبارہ نکاح کی گنجائش نہ رہے گی اور اگر طلاقِ رجعی دیتا ہے تو اس کے اندر بغیر ارادے کے بھی رجوع ہو سکتا ہے کہ بیوی نے آ کر اس کا بوسہ لے لیا تو اس سے کیا ہو گیا؟ رجوع ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں خاوند کے لیے اس ولایت کی حاجت ہے ”كَيْ لَا يَنْسَدَّ عَلَيْهِ بَابُ التَّدَارُكِ“ تاکہ کہیں خاوند پر تلافی کا دروازہ بند نہ ہو جائے، ”وَلَا يَقَعَ فِي عُهْدَتِهَا بِالْمُرَاجَعَةِ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ“ اور تاکہ کہیں خاوند واقع نہ ہو جائے اس عورت کی ذمہ داری میں ”بِالْمُرَاجَعَةِ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ“ بغیر ارادے کے رجوع کرنے سے۔ بغیر ارادے کے رجوع کر لیا کس طرح؟ میں نے بتایا بیوی نے آ کر خاوند کا بوسہ لے لیا، اور جب بیوی نے آ کر بوسہ لے لیا رجوع ہو گیا، رجوع ہو گیا تو اب بھی یہ اس کی بیوی ہے لہٰذا اب بھی اس عورت کی ذمہ داریاں خاوند پر ہی ہیں، نفقہ بھی خاوند کو دینا پڑے گا اور اور رہائش وغیرہ بھی خاوند ہی کو دینا پڑے گی۔ تو بغیر ارادے کے مراجعت کی وجہ سے خاوند جو ہے پھر اس عورت کی ذمہ داری میں واقع ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَقَعَ“ اور تاکہ کہیں ایسا نہ ہو خاوند واقع ہو جائے ”فِي عُهْدَتِهَا“ اس عورت کی ذمہ داری میں ”بِالْمُرَاجَعَةِ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ“ بغیر ارادے کے رجوع کر لینے سے، ”وَلَيْسَتْ بِكِنَايَاتٍ عَلَى التَّحْقِيقِ“ تو یہاں تک یہ بات ثابت ہو گئی کہ خاوند کے پاس ابانت کی ولایت موجود ہے، وہ بیوی کو ایک دم بھی اپنے سے جدا کر سکتا ہے بھئی طلاقِ بائن کے ذریعے۔ اور نیز امامِ شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا تھا کہ یہ جو کنایات ہیں یہ طلاق سے کنایات ہیں یعنی ”أَنْتِ بَائِنٌ“ بول کر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ مراد ہوتا ہے، یہ کس سے کنایہ ہیں؟ طلاق سے، تو اس کا بھی جواب دیں گے کہ نہیں یہ طلاق سے کنایہ نہیں ہیں تحقیق کے مطابق یہ طلاق سے کنایہ نہیں ہیں، یہ اپنے معنی کا عمل کرتے ہیں، یہ کیا کرتے ہیں؟ اپنے معنی کا عمل کرتے ہیں جیسے ”أَنْتِ بَائِنٌ“، بائن کا کیا معنی؟ جدا، تو ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کا معنی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ نہیں ہے، ”أَنْتِ بَائِنٌ“ اپنا عمل کر رہا ہے اور بائن کا کیا معنی؟ جدا، تو یہ لفظ خاوند سے بیوی کو جدا کر رہا ہے اگر طلاق کی نیت کی ہے تو بائن طلاق سے کنایہ نہیں ہے بلکہ بائن اپنا عمل کر رہا ہے، بائن بول کر طلاق مراد نہیں بائن اپنے معنی کا عمل کر رہا ہے اور بائن کا کیا معنی ہے؟ جدا کرنا، تو یہ بھی بیوی کو خاوند سے جدا کر دے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَتْ بِكِنَايَاتٍ عَلَى التَّحْقِيقِ“ اور یہ الفاظ جو ہیں یہ طلاق سے کنایات نہیں ہیں ”عَلَى التَّحْقِيقِ“ بنا بر تحقیق کے، یعنی تحقیق کے مطابق یہ طلاق سے کنایات نہیں ہیں، ”لِأَنَّهَا عَوَامِلُ فِي حَقَائِقِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ کنایات جو ہیں یہ عمل کرنے والے ہیں اپنی حقیقتوں میں، یہ اپنی حقیقتوں میں عمل کر رہے ہیں یعنی اپنے حقیقی معنی کا فائدہ دے رہے ہیں، ”أَنْتِ بَائِنٌ“ کا کیا معنی جدا کرنا تو لہٰذا اس نے بھی جدائی والا عمل کر دیا، تو یہ اپنے عمل کا فائدہ دیتے ہیں، ”لِأَنَّهَا عَوَامِلُ فِي حَقَائِقِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ عمل کرنے والے ہیں اپنی حقیقتوں میں، ”وَالشَّرْطُ تَعَيُّنُ أَحَدِ نَوْعَيِ الْبَيْنُونَةِ دُونَ الطَّلَاقِ“ امامِ شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا ادھر دیکھیے کہ یہ طلاق سے کنایہ ہیں، یہ طلاق سے کنایہ ہیں اسی وجہ سے ان میں طلاق کی نیت بھی ضروری ہے، اسی لیے اس وجہ سے اَنْتِ بَائِنٌ میں طلاق کی نیت بھی ضروری ہے، معلوم ہوا یہ طلاق سے کنایہ ہے، جبھی تو طلاق کی نیت ضروری ہے۔ جیسے میں اور آپ زید کے بارے میں باتیں کر رہے تھے اور ایک اور شخص آ گیا، اب میں زید کے بجائے فلاں کا لفظ بولتا ہوں کہ فلاں میرے پاس آیا تھا، تو دیکھو یہاں بھی میری نیت کیا ہے؟ فلاں کے ذریعے کون مراد ہے؟ زید مراد ہے۔ کون؟ زید۔ تو یہاں پر بھی جب خاوند اَنْتِ بَائِنٌ کہتا ہے تو بَائِنٌ کے ذریعے اس کی نیت کیا ہوتی ہے؟ طَالِقٌ کی نیت ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کنایات جو ہیں یہ طلاق سے کنایہ ہیں، اسی لیے طلاق کی نیت ان میں ضروری ہے۔ ہم جواب دیتے ہیں نہیں۔ یہ طلاق سے کنایہ نہیں ہیں اور یہ اپنے معنی کا عمل کرتے ہیں اور نیت شرط ہے لیکن طلاق کی نیت شرط نہیں ہے۔ بلکہ بَیْنُونَت کی نوع متعین کرنے کی شرط ہے۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کیا کہا ہے؟ اَنْتِ بَائِنٌ، تو جدا ہے۔ یہ بَیْنُونَت، یہ جو جدائی ہے، یہ بایں لحاظ بھی ہو سکتی ہے کہ تو مجھ سے جدا ہے، خاوند بیوی کو طلاق دے رہا ہے۔ اور بات سمجھ میں آ گئی؟ بلکہ طلاق کا لفظ ذرا نکال دو یہاں سے، اس کی وجہ سے آپ کو شبہ پڑے گا۔ اَنْتِ بَائِنٌ، اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو جدا ہے مجھ سے، یعنی میرے نکاح سے تو جدا ہے۔ اور اَنْتِ بَائِنٌ کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو اور عورتوں سے جدا ہے، تیرے جیسے حسن و جمال والی یا تیرے جیسی صفات والی تو اور کوئی نہیں، تو جدا ہے سب سے۔ تو یہاں معلوم ہوا بَیْنُونَت کی دو قسمیں آ گئیں، ایک بَیْنُونَت عَنِ النِّکَاحِ ہے اور ایک بَیْنُونَت عَنْ شَیْءٍ آخَرَ ہے بھئی، کسی دوسری چیز میں جدائی۔ تو یہاں جو نیت کی شرط لگائی گئی ہے خاوند اَنْتِ بَائِنٌ کہتے ہوئے طلاق کی نیت شرط نہیں ہے کہ خاوند طلاق کی نیت کرے۔ بلکہ بَیْنُونَت کی نوع متعین کرے، خاوند کا ارادہ کیا ہے؟ اَنْتِ بَائِنٌ، تو میرے نکاح سے جدا ہے یا تو اور عورتوں سے جدا ہے؟ یہ دو انواع میں سے ایک نوع کا تعین ضروری ہے، کیونکہ کنایہ میں دونوں معانی کا احتمال ہے۔ کنایہ میں دونوں معانی کا احتمال ہے، تو یہاں طلاق کی نیت شرط نہیں ہے بلکہ بَیْنُونَت کی نوع کی شرط ہے، کون سی بَیْنُونَت کر رہے ہو؟ تو لہٰذا وہ اگر نکاح سے بَیْنُونَت کی نیت کرے گا تو پھر جدا ہو جائے گی۔ تو دیکھو کس چیز کی نیت کی؟ طلاق کی نیت کی یا ایک نوعِ بَیْنُونَت کی نیت کی؟ ایک نوعِ بَیْنُونَت کی نیت کی کہ تو نکاح سے جدا ہے، دیکھو طلاق کا تو لفظ ہی ہم نے ذکر نہیں کیا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ یہ طلاق سے کنایہ ہے، اسی لیے طلاق کی نیت ضروری ہے، ہم کہتے ہیں نہیں طلاق کی نیت نہیں ضروری بلکہ بَیْنُونَت کی نوع متعین کرنا ضروری ہے کہ نکاح سے بَیْنُونَت کا ارادہ کیا ہے خاوند نے یا کسی اور چیز میں بَیْنُونَت کا ارادہ کیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا طلاق کی نیت بھی شرط نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالشَّرْطُ تَعَیُّنُ اَحَدِ نَوْعَیِ الْبَیْنُونَةِ۔ اور شرط جو ہے: تَعَیُّنُ اَحَدِ نَوْعَیِ الْبَیْنُونَةِ، اصل میں تھا نَوْعَیْنِ، نَوْعَیْنِ اور اس کی اضافت اَلْبَیْنُونَة کی طرف ہوئی تو نون اضافت سے گر گیا۔ تو کہتے ہیں: وَالشَّرْطُ، اور شرط جو ہے: تَعَیُّنُ اَحَدِ نَوْعَیِ الْبَیْنُونَةِ، وہ بَیْنُونَت کی دو قسموں میں سے ایک کا تعین ہے۔ شرط کیا ہے؟ کہ بَیْنُونَت کی دو قسموں میں سے ایک کا تعین کیا جائے۔ دُونَ الطَّلَاقِ، نہ کہ طلاق، طلاق کا تعین ضروری نہیں ہے۔ وَانْتِقَاصُ الْعَدَدِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے یہ کنایات طلاق سے کنایہ ہیں، اسی لیے ان کی وجہ سے طلاق کا عدد بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہ طلاق سے کنایہ ہیں، جبھی تو ان کی وجہ سے طلاق کا عدد کم ہو جاتا ہے۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ بھئی طلاق کا عدد اس لیے کم ہوتا ہے کہ نکاح ختم ہوا ان کی وجہ سے، کیا ہوا؟ اور نکاح ختم ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں، یا نکاح کو فسخ قرار دیا جائے یا اس کو طلاق قرار دیا جائے۔ اور ان کی وجہ سے کیا ہوتا ہے؟ نکاح ختم ہوتا ہے، اور نکاح کے ختم ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں، یا وہ طلاق سے ختم ہوتا ہے نکاح یا وہ نکاح فسخِ نکاح کی وجہ سے ختم ہوتا ہے کہ نکاح کو فسخ قرار دے دیا جائے، اور بالاتفاق سب کے نزدیک یہ جو کنایات ہیں یہ فسخِ نکاح کا فائدہ نہیں دیتے۔ یہ فسخِ نکاح کے لیے نہیں ہیں، تو جب فسخِ نکاح کے لیے نہیں ہیں تو دوسری صورت صرف طلاق والی رہ گئی تو لہٰذا اس لیے ان کی وجہ سے طلاق ثابت ہو گی۔ فسخِ نکاح تو ثابت نہیں ہوا لیکن طلاق پھر ثابت ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بالاتفاق یہ جو کنایات ہیں یہ فسخِ نکاح نہیں، جب فسخِ نکاح نہیں تو پھر ان کو طلاق ہی قرار دینا پڑے گا، اس لیے طلاق کا عدد کم ہوتا ہے ان کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: وَانْتِقَاصُ الْعَدَدِ لِثُبُوتِ الطَّلَاقِ، اور طلاق کے عدد کا کم ہونا: لِثُبُوتِ الطَّلَاقِ، وہ طلاق کے ثابت ہونے کی وجہ سے ہے۔ بِنَاءً عَلَى زَوَالِ الْوُصْلَةِ، بوجہ اس کے کہ اس کی وجہ سے جوڑ جو ہے یعنی نکاح کا جوڑ زائل ہو جاتا ہے۔ وُصْلَةٌ، صاد کے ساتھ، وُصْلَةٌ کہتے ہیں جوڑ کو، جوڑ اور ربط دو چیزوں کے درمیان، مراد نکاح ہے۔ تو چونکہ ان کنایات سے نکاح کا جوڑ ختم ہوتا ہے، جب جوڑ ختم ہوا تو پھر اس کو یا تو فسخِ نکاح قرار دینا پڑے گا یا طلاق قرار دینا پڑے گا، نکاح ختم ہونے کی تو یہی دو صورتیں ہیں۔ اور بالاتفاق یہ فسخ تو نہیں، جب فسخ نہیں تو پھر ان کو طلاق ہی قرار دینا پڑے گا، تو اس صورت میں طلاق کا عدد کیا ہو جاتا ہے؟ کم ہو جاتا ہے۔ پھر دیکھیے ترجمہ، کہتے ہیں: وَانْتِقَاصُ الْعَدَدِ لِثُبُوتِ الطَّلَاقِ، اور طلاق کے عدد کا کم ہونا وہ طلاق کے ثابت ہونے کی وجہ سے ہے۔ بِنَاءً عَلَى زَوَالِ الْوُصْلَةِ، بنا بر اس کے کہ اس کی وجہ سے نکاح کا جو جوڑ ہے وہ زائل ہو جاتا ہے۔ وَإِنَّمَا یَصِحُّ نِیَّةُ الثَّلَاثِ فِیهَا، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ یہ جو کنایات ہیں یہ اپنے معنی کا فائدہ دیتے ہیں۔ تو اَنْتِ بَائِنٌ نے جدائی کے معنی کا فائدہ دیا، تو پھر تو اس سے ایک ہی طلاق ہونی چاہیے، تین تو ہونی ہی نہیں چاہئیں۔ لیکن آپ احناف کہتے ہیں کہ تین کی نیت بھی صحیح ہے۔ تو اس کا بھی اب جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا یَصِحُّ نِیَّةُ الثَّلَاثِ فِیهَا، کہ ان کے اندر تین کی نیت بھی صحیح ہے۔ لِتَنَوُّعِ الْبَیْنُونَةِ إِلَى غَلِیظَةٍ وَخَفِیفَةٍ، بوجہ بَیْنُونَت کے متنوع ہونے کے غلیظہ اور خفیفہ کی طرف۔ اس لیے کیونکہ بَیْنُونَت کی دو انواع ہیں، ایک بَیْنُونَتِ خفیفہ ہے ہلکی جدائی اور ایک بَیْنُونَتِ غلیظہ ہے سخت جدائی جو تین طلاقوں سے آتی ہے، تو لہٰذا ایک کی نیت بھی صحیح اور تین کی نیت بھی صحیح ہے لیکن دو کی نیت صحیح نہیں کیونکہ وہ عددِ محض ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا یَصِحُّ نِیَّةُ الثَّلَاثِ فِیهَا، اور ان کے اندر تین کی نیت بھی صحیح ہے۔ لِتَنَوُّعِ الْبَیْنُونَةِ إِلَى غَلِیظَةٍ وَخَفِیفَةٍ، اس لیے کیونکہ بَیْنُونَت متنوع ہوتی ہے غلیظہ اور خفیفہ دو قسموں کی طرف۔ وَعِنْدَ انْعِدَامِ النِّیَّةِ یَثْبُتُ الْأَدْنَى، اور نیت جب نہ پائی جائے تو اس وقت ادنیٰ ثابت ہو جائے گا۔ معلوم ہوا اَنْتِ بَائِنٌ میں بَیْنُونَتِ خفیفہ کا بھی احتمال اور بَیْنُونَتِ غلیظہ کا بھی۔ تو اگر بَیْنُونَتِ غلیظہ کی نیت نہیں ہے، تین کی نیت نہیں ہے تو پھر ادنیٰ یعنی ایک طلاق تو ضرور ثابت ہو جائے گی، یہ معنی ہے۔ وَعِنْدَ انْعِدَامِ النِّیَّةِ، اور نیت کے معدوم ہوتے وقت یعنی جس وقت نیت نہ پائی جائے تین طلاقوں کی یا بَیْنُونَتِ غلیظہ کی نیت جب نہ پائی جائے: یَثْبُتُ الْأَدْنَى، تو ادنیٰ بَیْنُونَت ثابت ہو جائے گی یعنی بَیْنُونَتِ خفیفہ بھئی، ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ آگے دیکھیے: وَلَا تَصِحُّ نِیَّةُ الثِّنْتَیْنِ عِنْدَنَا خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَہُ اللہُ۔ یہ بات پہلے بھی بیان ہو گئی کہ کنایات کے ذریعے ایک کی نیت بھی صحیح اور تین کی نیت بھی صحیح لیکن دو کی نیت صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلَا تَصِحُّ نِیَّةُ الثِّنْتَیْنِ، اور ان کے ذریعے دو کی نیت صحیح نہیں ہے۔ عِنْدَنَا، ہمارے نزدیک۔ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَہُ اللہُ، بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے۔ ہمارے نزدیک کیوں نہیں دو کی نیت صحیح؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عَدَدٌ، اس لیے کیونکہ دو جو ہے وہ عدد ہے۔ وَقَدْ بَیَّنَّاهُ مِنْ قَبْلُ، اور تحقیق یہ بات ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، کیونکہ دو عدد ہے اور بَائِنٌ کا لفظ تو مفرد ہے اور مفرد الفاظ کے اندر مفرد معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے، اس سے یا تو مفردِ حقیقی مراد لیں گے یا مفردِ حکمی مراد لیں گے یعنی سب کا مجموعہ یعنی پوری جنس، جبکہ دو وہ تو مفرد نہیں ہے، وہ تو عدد ہے بھئی۔ تو مفرد الفاظ کے اندر مفرد کا معنی ملحوظ ہوتا ہے، یہ بات چند سبق قبل گزری تھی بھئی۔ ہاں البتہ امام زفر رحمہ اللہ اس میں اختلاف فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ان میں دو کی نیت بھی صحیح ہے، اور ان کی دلیل بھی پیچھے گزری تھی دو تین سبق قبل بھئی۔ امام زفر فرماتے ہیں کہ جب ان کنایات کے ذریعے تین کی نیت صحیح ہے تو تین تو ہے کل اور دو ہے اس کا جز، تو جب کل کی نیت صحیح ہے تو اس کے جز یعنی دو کی نیت بھی صحیح ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ قَالَ لَهَا اعْتَدِّی اعْتَدِّی اعْتَدِّی وَقَالَ نَوَیْتُ بِالْأُولَى طَلَاقًا وَبِالْبَاقِی حَیْضًا دُیِّنَ فِی الْقَضَاءِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے، خاوند نے بیوی سے کہا: اعْتَدِّی، اعْتَدِّی، اعْتَدِّی، تین مرتبہ کہا، اور اعْتَدِّی یہ تو کنایہ ہے طلاق سے، اس میں طلاق کے معنی کا بھی احتمال اور غیرِ طلاق کا بھی احتمال۔ اب خاوند سے پوچھا گیا کہ تمہاری کیا نیت تھی؟ وہ کہتا ہے پہلا لفظ اعْتَدِّی جب میں نے کہا تو میری طلاق کی نیت تھی، اور باقی جو میں نے اعْتَدِّی کہا اس کے ذریعے میری نیت تھی کہ تو عدت گزار یعنی حیض گزار۔ تو پہلے سے میں نے طلاق دی ہے اور باقیوں میں اس کو حیض گزارنے کا حکم دے رہا ہوں یعنی عدت اب تو گزار، میں نے تجھے طلاق دے دی ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں قضاءً بھی خاوند کی تصدیق کی جائے گی۔ قاضی بھی کیا کرے گا؟ خاوند کی تصدیق کرے گا قسم کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَالَ لَهَا اعْتَدِّی اعْتَدِّی اعْتَدِّی وَقَالَ، اور پھر خاوند کہتا ہے: نَوَیْتُ بِالْأُولَى طَلَاقًا، کہ پہلے اعْتَدِّی کے ذریعے میں نے طلاق کا ارادہ کیا تھا، وَبِالْبَاقِی حَیْضًا، اور باقی دو کے ذریعے میں نے حیض کا ارادہ کیا تھا، دُیِّنَ فِی الْقَضَاءِ، تو قضا کے اندر بھی اس خاوند کی تصدیق کی جائے گی۔ لِأَنَّهُ نَوَى حَقِیقَةَ کَلَامِهِ، اس لیے کیونکہ اس نے اپنے کلام کی حقیقت کا ارادہ کیا تھا۔ اعْتَدِّی کا کیا معنی ہے؟ تو عدت گزار۔ تو اس نے بھی حقیقی معنی کا ہی ارادہ کیا، پہلے سے طلاق کا ارادہ کیا اور باقی دو سے حقیقتاً عدت گزارنے کا یعنی حیض گزارنے کا ارادہ کیا ہے اور یہ اس کا حقیقی معنی ہے۔ تو لہٰذا قاضی بھی کیا کرے گا؟ اس کی تصدیق کرے گا بھئی۔ لِأَنَّهُ نَوَى حَقِیقَةَ کَلَامِهِ، اس لیے کیونکہ خاوند نے اپنے کلام کی حقیقت کی نیت کی ہے۔ وَلِأَنَّهُ یَأْمُرُ امْرَأَتَهُ فِی الْعَادَةِ بِالِاعْتِدَادِ بَعْدَ الطَّلَاقِ، اور نیز عادت بھی اسی طرح ہے، خاوند جب بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو پھر اس کو عدت گزارنے کا حکم دیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی پہلے سے طلاق دے دی اور بعد والوں کے ذریعے عدت گزارنے کا حکم دے رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ یَأْمُرُ امْرَأَتَهُ فِی الْعَادَةِ، اس لیے کیونکہ خاوند اپنی بیوی کو حکم دیتا ہے فی العادۃ عام لوگوں کی عادت میں، بِالِاعْتِدَادِ بَعْدَ الطَّلَاقِ، عدت گزارنے کا طلاق کے بعد، فَکَانَ الظَّاهِرُ شَاهِدًا لَهُ، تو ظاہر بھی اس کا گواہ ہے، ظاہر بھی خاوند کی سچائی کی گواہی دے رہا ہے۔ وَإِنْ قَالَ لَمْ أَنْوِ بِالْبَاقِی شَیْئًا فَهِیَ ثَلَاثٌ، اور اگر خاوند سے پوچھا گیا ہاں بھئی آپ نے کیا نیت کی تھی؟ اس نے کہا پہلی کے ذریعے تو میں نے طلاق کی نیت کی تھی اور باقی دو کے ذریعے میں نے کوئی نیت نہیں کی، تو کہتے ہیں اس صورت میں تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ اس صورت میں تین طلاقیں ہو جائیں گی، بھئی کیوں؟ تین طلاقیں کیوں ہوں گی؟ اس نے تو صرف پہلی کے ذریعے طلاق کا ارادہ کیا، تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جب خاوند نے پہلا کہا اعْتَدِّی اور ارادہ کس کا کیا؟ طلاق کا، تو گویا مذاکرۂ طلاق شروع ہو گیا۔ کیونکہ طلاق کی بات چل پڑی ہے اور مذاکرۂ طلاق کے اندر ہم نے بتایا تھا اعْتَدِّی کو کوئی شخص ذکر کرے گا تو کیا واقع ہو گی؟ طلاق واقع ہو گی، کیونکہ قاضی کو دلیل چاہیے اور دلیل تو خاوند کی نیت ہے، خاوند کی نیت ہم پوچھیں گے لیکن یہاں مذاکرۂ طلاق خاوند کو جھٹلا رہا ہے۔ جب پہلی دفعہ اَنْتِ طَالِقٌ کہہ دیا، معلوم ہوا طلاق کی بات شروع ہو گئی تو اگلے اعْتَدِّی سے بھی اب کیا مراد لیں گے؟ طلاق ہی مراد لیں گے بھئی، کوئی اور معنی مراد نہیں لیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَالَ لَمْ أَنْوِ بِالْبَاقِی شَیْئًا، اور اگر خاوند کہتا ہے میں نے باقی کے ذریعے کسی چیز کی نیت نہیں کی، فَهِیَ ثَلَاثٌ، تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ لِأَنَّهُ لَمَّا نَوَى بِالْأُولَى الطَّلَاقَ، اس لیے کیونکہ خاوند نے جب پہلے اعْتَدِّی کے ذریعے طلاق کی نیت کر لی، صَارَ الْحَالُ حَالَ مُذَاکَرَةِ الطَّلَاقِ، تو یہ حالت مذاکرۂ طلاق والی حالت ہو گئی، فَتَعَیَّنَ الْبَاقِیَانِ لِلطَّلَاقِ بِهٰذِهِ الدَّلَالَةِ، تو باقی دو بھی طلاق کے لیے ہی متعین ہو گئے اس دلالت کی وجہ سے۔ معلوم ہوا مذاکرۂ طلاق صرف بیوی کے طلاق کے بارے میں بحث کرنے سے ہی نہیں ثابت ہوتا، بلکہ طلاق کی بات بھی آ جائے تو مذاکرۂ طلاق ثابت ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَتَعَیَّنَ الْبَاقِیَانِ لِلطَّلَاقِ بِهٰذِهِ الدَّلَالَةِ، تو باقی دو بھی طلاق کے لیے ہی متعین ہو جائیں گے اس دلالت کی وجہ سے، فَلَا یُصَدَّقُ فِی نَفْیِ النِّیَّةِ، لہٰذا نیت کی نفی میں خاوند کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ خاوند تو کہتا ہے میری کوئی نیت نہیں تھی لیکن ہم اس کی تصدیق نہیں کریں گے۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ لَمْ أَنْوِ بِالْکُلِّ الطَّلَاقَ، بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند کہتا ہے: لَمْ أَنْوِ، کہ میں نے نیت نہیں کی، بِالْکُلِّ، سب کے ذریعے، اَلطَّلَاقَ، طلاق کی، میں نے سب کے ذریعے طلاق کی نیت نہیں کی یعنی کسی کے ذریعے بھی میں نے طلاق کی نیت نہیں کی، تو اگر خاوند یہ کہتا ہے لَمْ أَنْوِ بِالْکُلِّ الطَّلَاقَ کہ میں نے کسی کے ذریعے بھی طلاق کی نیت نہیں کی، حَیْثُ لَا یَقَعُ شَیْءٌ، اس صورت میں کچھ بھی واقع نہیں ہو گا۔ جب کہا تھا پہلی میں میں نے طلاق کی نیت کی ہے تو مذاکرۂ طلاق شروع ہو گیا، لہٰذا اگلی دو کو بھی کیا شمار کریں گے جب خاوند نے کوئی نیت نہیں کی؟ تو وہ بھی طلاق شمار کریں گے۔ اور اگر خاوند نے یہ تینوں لفظ ذکر کیے: اعْتَدِّی، اعْتَدِّی، اعْتَدِّی، اور کسی میں کوئی نیت نہیں کی، اور اب وہ کہتا ہے کہ میری تو نیت طلاق کی نہیں تھی تو اب ہم تصدیق کریں گے کیونکہ یہاں کوئی مذاکرۂ طلاق نہیں ہے بھئی۔ یہاں کوئی مذاکرۂ طلاق نہیں کیونکہ پہلی سے بھی اس نے طلاق کی نیت نہیں کی بھئی، یہ دوسری صورت ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے: حَیْثُ لَا یَقَعُ شَیْءٌ، اس کیونکہ کچھ بھی واقع یہاں نہیں ہو گا۔ لِأَنَّهُ لَا ظَاهِرَ یُکَذِّبُهُ، اس لیے کیونکہ یہاں پر کوئی ایسا ظاہر نہیں ہے جو اس خاوند کو جھٹلا رہا ہو۔ وَبِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ، اور بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند یوں کہتا ہے، اگر خاوند یوں کہتا ہے میں نے آخری اعْتَدِّی کے ذریعے طلاق کی نیت کی تھی، پہلی دو میں میں نے کوئی نیت نہیں کی، تو اس صورت میں بھی ایک ہی طلاق واقع ہو گی، کیونکہ آخری میں اس نے طلاق کی نیت کی ہے اور پہلی دو وہ تو مذاکرۂ طلاق سے پہلے کی بات ہے، تو وہ جو پہلے دو اعْتَدِّی ہیں وہ تو مذاکرۂ طلاق سے پہلے تھے لہٰذا ان کو طلاق نہیں قرار دیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَبِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ، اور بخلاف اس صورت کے کہ جب خاوند نے کہا: نَوَیْتُ بِالثَّالِثَةِ الطَّلَاقَ دُونَ الْأُولَیَیْنِ، کہ میں نے تیسری کے ذریعے طلاق کا ارادہ کیا ہے نہ کہ پہلی دو کے ذریعے، حَیْثُ لَا یَقَعُ إِلَّا وَاحِدَةٌ، کیونکہ یہاں پر صرف ایک ہی طلاق واقع ہو گی۔ لِأَنَّ الْحَالَ عِنْدَ الْأُولَیَیْنِ لَمْ تَکُنْ حَالَ مُذَاکَرَةِ الطَّلَاقِ، اس لیے کیونکہ پہلے دو کنایوں کے وقت حال جو ہے وہ مذاکرۂ طلاق والا نہیں تھا۔ وَفِی کُلِّ مَوْضِعٍ یُصَدَّقُ الزَّوْجُ عَلَى نَفْیِ النِّیَّةِ إِنَّمَا یُصَدَّقُ مَعَ الْیَمِینِ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ ہم جو ذکر کر رہے ہیں بعض جگہ کہ قاضی خاوند کی تصدیق کرے گا تو یہ ویسے تصدیق نہیں کرے گا، قسم کے ساتھ اس کی تصدیق کرے گا۔ خاوند قسم اٹھا کر کہے گا کہ واللہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَفِی کُلِّ مَوْضِعٍ یُصَدَّقُ الزَّوْجُ عَلَى نَفْیِ النِّیَّةِ، اور ہر ایسا مقام جس میں خاوند کی تصدیق کی جائے گی نیت کی نفی پر، إِنَّمَا یُصَدَّقُ مَعَ الْیَمِینِ، تو وہ قسم کے ساتھ ہی تصدیق کی جائے گی۔ لِأَنَّهُ أَمِینٌ فِی الْإِخْبَارِ عَمَّا فِی ضَمِیرِهِ، خاوند کیا کہتا ہے کہ میری نیت نہیں تھی، معلوم ہوا وہ اپنے دل کی خبر دے رہا ہے۔ اپنے دل کی خبر دے رہا ہے، اور دل کی خبر دینے میں تو انسان امین ہے امانت دار ہے، اور امین کی بات جیسے قسم کے ساتھ قبول کی جاتی ہے تو اس خاوند کی بات بھی قسم کے ساتھ قبول کی جائے گی، کیونکہ دل کی بات کو تو اس کے علاوہ کسی اور کو پتہ نہیں، تو وہ اس میں امین کی طرح ہے جیسے کہ کسی کے پاس کوئی امانت رکھوائی جائے تو اس کی بات جیسے قسم کے ساتھ قبول کی جاتی ہے یہاں اس کی بات بھی قسم کے ساتھ قبول کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ أَمِینٌ فِی الْإِخْبَارِ عَمَّا فِی ضَمِیرِهِ، اس لیے کیونکہ وہ امانت دار ہے خبر دینے میں وہ جو اس کے دل میں ہے۔ وَالْقَوْلُ قَوْلُ الْأَمِینِ مَعَ الْیَمِینِ، اور قول جو ہے وہ امین کا معتبر ہوتا ہے ساتھ قسم کے۔ آگے دیکھیے: بَابُ تَفْوِیضِ الطَّلَاقِ، فَصْلٌ فِی الِاخْتِیَارِ۔ بَابُ تَفْوِیضِ الطَّلَاقِ، فَّوَضَ یُفَوِّضُ تَفْوِیض کا معنی ہے سپرد کرنا۔ بعض اوقات خاوند طلاق کو بیوی کے سپرد کر دیتا ہے کہ تو اپنے آپ کو طلاق دینا چاہتی ہے تو طلاق دے دے۔ تو خاوند نے اختیار کس کو دے دیا؟ بیوی کو دے دیا۔ تو اس باب کے اندر صاحبِ ہدایہ اس تفویضِ طلاق کو بیان کریں گے کہ خاوند طلاق کس کے سپرد کر دے؟ بیوی کے۔ یا بعض اوقات خاوند کسی اور کے سپرد کر دیتا ہے، خاوند ایک آدمی سے کہتا ہے کہ تم جا کر میری طرف سے میری بیوی کو طلاق دے دو۔ دیکھو خاوند نے اس کو وکیل بنا دیا، اس کو اختیار دے دیا طلاق دینے کا، تو اس کو تفویضِ طلاق کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: بَابُ تَفْوِیضِ الطَّلَاقِ، یہ باب ہے طلاق سپرد کرنے کے بارے میں۔ فَصْلٌ فِی الِاخْتِیَارِ، یہ فصل ہے اختیار کے بارے میں۔ یاد رکھو جیسے طلاق دو قسم پر ہے، ایک صریح اور ایک کنایہ۔ صریح ہے صاف لفظوں میں طلاق، اور کنایہ جس میں اور معانی کا بھی احتمال ہو یعنی گول مول بات ہو۔ اسی طرح یہ جو خاوند بیوی کو طلاق کا اختیار دیتا ہے، یہ بھی دو قسم پر ہے: یا صریح ہو گا یا کنایہ۔ صریح مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے: طَلِّقِی نَفْسَکِ، تو اپنے آپ کو طلاق دے دے۔ دیکھو طَلِّقِی نَفْسَکِ، صریح لفظ استعمال کر رہا ہے خاوند، تو دیکھو یہ اختیار دے رہا ہے طلاق کا اور صریح لفظ کے ساتھ۔ اور بعض اوقات گول مول لفظ کے ساتھ خاوند اختیار دے گا، مثلاً خاوند کہتا ہے: اِخْتَارِی، تو اختیار کر لے، اب اس میں طلاق کا بھی احتمال ہے کہ تو مجھ سے جدائی چاہتی ہے تو اپنے آپ کو اختیار کر لے تو مجھ سے جدا ہو جائے گی۔ یا کسی اور چیز میں اختیار دیتا ہے اس کو خاوند کہ اس نفقے یا اس نفقے میں سے جو تو چاہتی ہے اختیار کر لے، یا اس کپڑے اور اس کپڑے میں سے جو تو چاہتی ہے اختیار کر لے وہ تو لے لے، تو اِخْتَارِی اس کے اندر طلاق حوالے کرنے کا بھی احتمال اور غیرِ طلاق کا بھی احتمال۔ تو معلوم ہوا خاوند جو بیوی کو طلاق سپرد کرتا ہے یا تو یہ صریح لفظ سے ہو گا یا کنائے سے۔ اور پھر کنائے کے اندر یا تو خاوند اِخْتَارِی کا لفظ استعمال کرے گا یا اَمْرُکِ بِیَدِکِ، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو یا اس کو استعمال کرے گا، یا صریح لفظ استعمال کرے گا، یا ساتھ مشیت وغیرہ کہ اگر تو چاہتی ہے، تو چاہتی ہے، تو ان کو الگ الگ فصلوں میں صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ یہ پہلی فصل ہے اختیار کے بارے میں کہ خاوند نے اِخْتَارِی کہا ہے، کیا کہا ہے؟ اِخْتَارِی، تو اختیار کر لے، اگلی فصل آئے گی: فَصْلٌ فِی الْأَمْرِ بِالْیَدِ کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے اس کے بارے میں مسائل صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے، اور پھر اس کے بعد مشیت کے بارے میں اگر خاوند مشیت کو بھی ذکر کر دیتا ہے: إِذَا شِئْتِ، جب تو چاہتی ہے، تو ان تینوں کو الگ الگ فصلوں میں صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے، اور یہ سب کس میں ہیں؟ بَابُ تَفْوِیضِ الطَّلَاقِ کے اندر، ان سب میں خاوند بیوی کو طلاق حوالے کر رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: بَابُ تَفْوِیضِ الطَّلَاقِ، یہ باب ہے طلاق سپرد کرنے کے بارے میں۔ فَصْلٌ فِی الِاخْتِیَارِ، یہ فصل ہے اختیار کے بارے میں یعنی وہ اِخْتَارِی کا لفظ جو خاوند ذکر کرتا ہے اس کے بارے میں مسائل ذکر کریں گے۔ وَإِذْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ اخْتَارِی، اور جب خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: اخْتَارِی، کہ تو اختیار کر لے، یَنْوِی بِذٰلِکَ الطَّلَاقَ، اور خاوند اس کے ذریعے طلاق کی نیت کرتا ہے، یہ قید ضروری ہے بھئی، کیونکہ اخْتَارِی کنایہ ہے اور کنائے کے اندر نیت ضروری ہے کیونکہ وہاں اور معانی کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِذْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ، اور جب خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: اخْتَارِی، کہ تو اختیار کر لے، یَنْوِی بِذٰلِکَ الطَّلَاقَ، اس کے ذریعے خاوند طلاق کی نیت کرتا ہے، أَوْ قَالَ لَهَا طَلِّقِی نَفْسَکِ، یا خاوند بیوی سے کہتا ہے: طَلِّقِی نَفْسَکِ، تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، دیکھو یہ صریح آ گیا اس میں نیت کی ضرورت نہیں۔ فَلَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا مَا دَامَتْ فِی مَجْلِسِهَا ذٰلِکَ، تو عورت کو یہ حق ہے: أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا، کہ وہ اپنی ذات کو طلاق دے دے، مَا دَامَتْ فِی مَجْلِسِهَا ذٰلِکَ، جب تک وہ اس مجلس میں موجود ہے۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو طلاق کا اختیار دیتا ہے تو وہ مجلس تک رہے گا، وہ مجلس تک رہے گا اور مجلس ختم تو اختیار بھی ختم۔ اور اگر مجلس تو نہیں ختم ہوئی لیکن بیوی نے کوئی ایسا عمل کیا جو اعراض پر دلالت کر رہا ہے، منہ موڑنے پر کہ وہ اس بات سے منہ موڑ رہی ہے، اس کو یہ بات پسند نہیں آئی، تو پھر اس صورت کے اندر بھی مجلس بے شک وہی ہو لیکن اس صورت میں جب اعراض پایا جائے گا تو اس کا اختیار ختم ہو جائے گا۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: اخْتَارِی، اور بیوی یہ بات سنتے ہی کھڑی ہو گئی، بس اس کا اٹھنا یہ اعراض پر دلالت کر رہا ہے معلوم ہوا اس کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ تو دیکھو ابھی مجلس نہیں بدلی وہ وہیں پر ہے عورت لیکن صرف اعراض والی ایک چیز آ گئی تو اس کا اختیار ختم۔ لیکن اگر وہ صرف اس لیے کھڑی ہوئی ہے کہ آواز دے کر گواہوں کو بلا رہی ہے گھر کے باقی افراد کو کہ یہ مجھے اختیار اس نے دے دیا ہے تم سب آ جاؤ گواہ ہو جاؤ میں اپنے آپ کو طلاق دینے لگی ہوں، تو اس صورت میں پھر اس کا یہ کھڑا ہونا اعراض پہ نہیں دلالت کرے گا لہٰذا اس کو اختیار رہے گا۔ یا اسی طرح خاوند نے بیوی سے کہا: اخْتَارِی، تو اپنے آپ کو اختیار کر یعنی اپنے آپ کو طلاق دینا چاہتی ہے تو طلاق دے دے، اور عورت نے موبائل نکالا اور اپنی والدہ کو فون کیا اور ان کے ساتھ گپ شپ لگانا شروع کر دی، دیکھو اس نے یہ والی بات چھوڑ کر ایک اور بات شروع کر دی ایک نیا کام شروع کر دیا، تو یہ بھی اعراض پر دلالت کر رہا ہے۔ اب بے شک وہ وہیں بیٹھی ہے مجلس وہی ہے لیکن اس کا اختیار ختم ہو گیا کیونکہ اس کا نئی بات کے اندر شروع ہو جانا وہ اعراض پہ دلالت کر رہا ہے۔ لیکن اگر اس نے فون صرف اس لیے ملایا ہے کہ اب اپنی ماں سے مشورہ کرنا چاہتی ہے تو پھر یہ فون ملانا اعراض پر دلالت نہیں کرے گا۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ اگر خاوند بیوی کو اختیار دے گا تو کب تک رہے گا؟ مجلس کے اختتام تک، جتنی بھی لمبی مجلس ہو جائے، چاہے ایک گھنٹہ ہے، دو گھنٹے ہے، چار گھنٹے ہے، چھ گھنٹے ہے، جب تک مجلس ہے عورت کو اختیار ہے، لیکن اگر کوئی ایسا کام پایا گیا جو اعراض پہ دلالت کر رہا ہے تو پھر اختیار ختم ہو جائے گا۔ چاہے مجلس وہی ہو لیکن اعراض والی چیز آ گئی تو اختیار ختم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَلَهَا أَنْ تُطَلِّقَ نَفْسَهَا مَا دَامَتْ فِی مَجْلِسِهَا ذٰلِکَ، تو اس عورت کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو طلاق دے دے جب تک وہ اس مجلس میں ہے۔ فَإِنْ قَامَتْ مِنْهُ، اگر وہ عورت اس مجلس سے اٹھ گئی، أَوْ أَخَذَتْ فِی عَمَلٍ آخَرَ، یا وہ کسی اور کام میں شروع ہو گئی، کسی اور کام میں شروع ہو گئی اگرچہ مجلس وہی ہے، خَرَجَ الْأَمْرُ مِنْ یَدِهَا، تو معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا، اختیار ختم ہو جائے گا۔ لِأَنَّ الْمُخَیَّرَةَ لَهَا الْمَجْلِسُ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالَى عَنْهُمْ۔ لِأَنَّ الْمُخَیَّرَةَ، مخیرہ وہ عورت جس کو خاوند نے اختیار دیا ہے تو یہ عورت کیا کہلاتی ہے؟ مخیرہ۔ اس لیے کیونکہ مخیرہ کے لیے: لِأَنَّ الْمُخَیَّرَةَ لَهَا الْمَجْلِسُ، مخیرہ کے لیے مجلس ہی ہوتی ہے یعنی مجلس تک کیوں اس کو اختیار رہتا ہے؟ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالَى عَنْهُمْ، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اجماع سے، یعنی ان کے اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ جس عورت کو خاوند اختیار دیتا ہے اس کے لیے وہ مجلس ہے، اس مجلس تک اس کو اختیار رہتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُخَیَّرَةَ لَهَا الْمَجْلِسُ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ، اس لیے کیونکہ مخیرہ جو ہے اس کے لیے مجلس ہوتی ہے صحابہ کے اجماع سے۔ وَلِأَنَّهُ تَمْلِیکُ الْفِعْلِ مِنْهَا، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو خاوند نے کیا کیا ہے؟ اخْتَارِی کہا ہے یا طَلِّقِی نَفْسَکِ کہا ہے تو اس میں خاوند بیوی کو طلاق کا مالک بنا رہا ہے، طلاق کا مالک بنا رہا ہے، اور یاد رکھو تملیکات جواب کا تقاضا کرتی ہیں اسی مجلس میں۔ تملیکات جب بھی ایک آدمی کو آپ کسی چیز کا مالک بنائیں تو اسی مجلس میں اس کی طرف سے جواب ضروری ہے ورنہ وہ اس کا اختیار ختم ہو جائے گا۔ مثلاً آپ بیع و شراء کرتے ہیں تو جس مجلس میں ایجاب ہو اسی مجلس میں قبول ضروری ہے۔ مثلاً آپ کی یہ کتاب ہے آپ نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں بیچ دی، آپ اس کو اس کتاب کا مالک بنا رہے ہیں بیع کے ذریعے، تو اسی مجلس میں اس کی طرف سے قبول بھی ضروری ہے۔ اسی مجلس میں اس کی طرف سے قبول بھی ضروری ہے، اگر وہ اس مجلس میں قبول نہیں کرے گا تو پھر آپ کا یہ ایجاب باطل ہو جائے گا۔ کیونکہ اگر یہ ایجاب مجلس کے بعد بھی باقی رہے پھر تو لوگ مشکل میں پڑ جائیں گے۔ مثلاً ایک آدمی کو آپ کہتے ہیں یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں بیچ دی اور اگر یہ اختیار مجلس کے بعد بھی رہا تو اب اس نے کوئی جواب نہیں دیا اٹھ کر چلا گیا، اب آپ کو نہیں پتہ پتہ نہیں یہ خریدتا ہے یا نہیں خریدتا، اور کسی اور کو بھی نہیں بیچ سکتے کیونکہ آپ اس کو ایجاب کر چکے ہیں، تو لوگ تنگی اور مشکل میں پڑ جائیں گے، حرج میں پڑ جائیں گے۔ لہٰذا تملیکات میں کیا ضروری ہے؟ کہ اسی مجلس میں جواب ہونا چاہیے، اسی مجلس میں قبول ہونا چاہیے۔ تو ایک تو صحابہ کا اجماع آ گیا بھئی کہ مجلس تک اختیار رہے گا، اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ تَمْلِیکُ الْفِعْلِ مِنْهَا، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ خاوند کی طرف سے عورت کو فعل کا مالک بنانا ہے، خاوند اس کو فعلِ طلاق کا مالک بنا رہا ہے، وَالتَّمْلِیکَاتُ تَقْتَضِی جَوَابًا فِی الْمَجْلِسِ، اور تملیکات جو ہیں یہ تقاضا کرتی ہیں جواب کا اسی مجلس میں۔ مالک بنانا اسی مجلس میں جواب کا تقاضا کرتا ہے ورنہ تو میں نے بتایا لوگ حرج میں اور تنگی میں پڑ جائیں گے کہ کسی کو ایک دفعہ ایجاب کر دیا اب وہ ساری زندگی جب مرضی چاہے قبول کر لے، لوگ تنگی اور حرج میں پڑ جائیں گے۔ مثلاً آپ ایک آدمی کو کہتے ہیں یہ گاڑی آپ کو میں نے دس لاکھ میں بیچ دی، اور اس نے مجلس میں قبول نہیں کیا لیکن اگر اختیار بعد میں بھی باقی رہتا ہے قبول کا تو بعد میں وہ کسی دن آ کر کہہ دے گا مجھے قبول ہے، حالانکہ آپ کا تو ارادہ بدل چکا ہے اب گاڑی بیچنے کا ارادہ نہیں، تو دیکھو لوگ تنگی اور حرج میں پڑ جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: کَمَا فِی الْبَیْعِ، جیسے کہ بیع کے اندر ہوتا ہے۔ لِأَنَّ سَاعَاتِ الْمَجْلِسِ اعْتُبِرَتْ سَاعَةً وَاحِدَةً، لِأَنَّ سَاعَاتِ الْمَجْلِسِ، اس لیے کیونکہ مجلس کی جو گھڑیاں ہیں، مجلس کے جو اوقات ہیں، اعْتُبِرَتْ سَاعَةً وَاحِدَةً، ان کو ایک ہی گھڑی شمار کیا جاتا ہے، مجلس کے اوقات کو ایک ہی وقت سارا شمار کیا جاتا ہے۔ آپ بھی جیسے دیکھتے ہیں کہ حافظِ قرآن مثلاً آیتِ سجدہ کا تکرار کر رہا ہے تو ایک مجلس کے اندر ایک آیتِ سجدہ کو جتنی مرتبہ بھی حافظِ قرآن پڑھ لے ایک ہی سجدہ اس پر واجب ہو گا، اس لیے کیونکہ مجلس کے اوقات کو ایک ہی وقت شمار کیا جاتا ہے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ سَاعَاتِ الْمَجْلِسِ اعْتُبِرَتْ سَاعَةً وَاحِدَةً، اس لیے کیونکہ مجلس کی جو گھڑیاں ہیں جو اوقات ہیں ان کو ایک ہی وقت شمار کیا جاتا ہے۔ إِلَّا أَنَّ الْمَجْلِسَ تَارَةً یَتَبَدَّلُ بِالذَّهَابِ عَنْهُ، مگر ایک بات ہے کہ مجلس کبھی کبھار بدل جاتی ہے بالذھاب عنہ اس سے چلے جانے سے، کبھی کبھار مجلس کیسے بدلتی ہے؟ کہ آپ وہاں سے اٹھ کر چلے جائیں۔ وَمَرَّةً بِالِاشْتِغَالِ بِعَمَلٍ آخَرَ، اور کبھی کبھار مجلس بدل جاتی ہے بالاشتغال بعمل آخر کسی دوسرے کام میں مشغول ہونے سے۔ تو یہاں بھی حقیقتاً تو مجلس نہیں بدلی لیکن حکماً مجلس بدل گئی۔ إِذْ مَجْلِسُ الْأَکْلِ غَیْرُ مَجْلِسِ الْمُنَاظَرَةِ وَمَجْلِسُ الْقِتَالِ غَیْرُهُمَا، جیسے کھانے پینے کی جو مجلس ہے وہ غیر ہے مجلسِ مناظرہ سے، یہ غیر ہے مجلسِ مناظرہ سے، جیسے چند ساتھی بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں یہ ایک مجلس ہے، اور کھانے کے اختتام تک ان میں بحث و تکرار اور مناظرہ شروع ہو گیا کسی مسئلے پر تو اب ہم کہیں گے مجلس بدل گئی کیونکہ پہلے مجلس اور تھی وہ کھانا کھانے کی مجلس تھی اور یہ مناظرے کی مجلس ہے، تو دیکھو حالت بدل گئی ایک نئے کام میں شروع ہو گئے۔ یا اسی طرح پھر بعد میں لڑائی جھگڑا شروع ہو گیا تو اب یہ لڑائی جھگڑا یہ تیسری مجلس گویا شروع ہو گئی، کھانے کی مجلس اور تھی، مناظرے کی مجلس اور تھی اور یہ اب لڑائی ہاتھا پائی کی جو مجلس ہے یہ اور ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: إِذْ مَجْلِسُ الْأَکْلِ غَیْرُ مَجْلِسِ الْمُنَاظَرَةِ، اس لیے کیونکہ کھانے پینے کی مجلس وہ غیر ہے مناظرے کی مجلس سے، وَمَجْلِسُ الْقِتَالِ غَیْرُهُمَا، اور لڑائی جھگڑے کی جو مجلس ہے وہ ان دونوں کے علاوہ ہے۔ وَیَبْطُلُ خِیَارُهَا بِمُجَرَّدِ الْقِیَامِ، میں نے آپ کو بتلایا کہ اگر خاوند نے بیوی کو اختیار دیا اور بیوی کھڑی ہو گئی تو اس کا اٹھنا اعراض پر دلالت کرتا ہے لہٰذا اس کا اختیار باطل ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَیَبْطُلُ خِیَارُهَا بِمُجَرَّدِ الْقِیَامِ، اور عورت کا خیار باطل ہو جائے گا بمجرد القیام محض اٹھنے سے ہی، لِأَنَّهُ دَلِیلُ الْإِعْرَاضِ، اس لیے کیونکہ یہ اعراض کی دلیل ہے منہ موڑنے کی دلیل ہے، لیکن میں نے بتایا اگر وہ گواہوں کو بلانے کے لیے کھڑی ہوئی ہے ان کو آواز دینے کے لیے تو پھر اس کا اختیار باطل نہیں ہے بھئی۔ بِخِلَافِ الصَّرْفِ وَالسَّلَمِ، بخلاف بیعِ صرف اور بیعِ سلم کے، لِأَنَّ الْمُفْسِدَ هُنَاکَ الِافْتِرَاقُ مِنْ غَیْرِ قَبْضٍ، اس لیے کیونکہ وہاں پر مفسد کرنے والی چیز جو ہے: الِافْتِرَاقُ مِنْ غَیْرِ قَبْضٍ، وہ بغیر قبضے کے جدا ہونا ہے۔ بھئی دیکھیے، ایک تو عام بیع ہے، ایک بیعِ صرف ایک خاص قسم کی بیع ہے اور اسی طرح ایک بیعِ سلم یہ بھی خاص قسم کی بیع ہے۔ عام قسم کی جو بیوع ہوتی ہیں یاد رکھو ان میں تعینِ مبیعہ اور ذکرِ ثمن ضروری ہے، کیا ضروری؟ تعینِ مبیعہ، مبیع کی تعین ہونی چاہیے کہ یہ والی چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں، تو تعینِ مبیعہ تعیین مبیع بھی ضروری اور ذکر ثمن، ثمن کا ذکر بھی ضروری ہے کہ کتنے میں بیچ رہا ہوں۔ جی۔ تو عام بیع کے اندر تعیین مبیع بھی ضروری اور ذکر ثمن بھی ضروری۔ دونوں میں سے اگر ایک چیز بھی نہ پائی گئی تو اس صورت میں بیع فاسد ہو جائے گی۔ مثلاً ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ میں نے آپ کو ایک گائے اسی ہزار روپے میں بیچ دی۔ گائے وہاں موجود نہیں ہے۔ اب ثمن کو تو ذکر کر دیا ہے لیکن مبیع متعین نہیں، بعد میں جھگڑا ہو گا۔ جی۔ بائع چاہے گا ایک سستی سی گائے دے دوں اور مشتری چاہے گا اعلیٰ قسم کی گائے مجھے ملے، تو دیکھو جھگڑا آئے گا۔ تو تعیین مبیع ضروری ہے کہ یہ چیز ہے، یہ گائے ہے جو میں آپ کو بیچ رہا ہوں اور نیز ذکر ثمن بھی ضروری ہے بھئی۔ اور یہ تو عام بیع میں، اور جبکہ بیع صرف وہ ہے جس کے اندر دونوں طرف دونوں طرف جو عوض ہیں وہ ثمن کی قبیل سے ہوں۔ یاد رکھو ثمن تین چیزیں ہیں: سونا، چاندی اور کرنسی۔ جی۔ سونا، چاندی اور کرنسی یہ جو نوٹ وغیرہ ہم استعمال کرتے ہیں۔ تو سونا اور چاندی یہ خلقتاً ثمن ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا ہی بطور ثمن کے کیا ہے، چنانچہ اسی سونے سے پھر اشرفی بنتی ہے یعنی دینار اور اس چاندی سے درہم پھر بنائے جاتے ہیں۔ تو یہ خلقتاً ہی ثمن ہیں۔ جبکہ کرنسی جو ہے اس کو ہم نے مقرر کیا ہے ثمن کے طور پر۔ سونے اور چاندی کو اللہ نے مقرر فرمایا ہے اور کرنسی کو ہم نے مقرر کیا ہے۔ تو بہرحال یہ تین چیزیں ثمن کی قبیل سے ہیں۔ تو بیع صرف اسے کہتے ہیں کہ دونوں طرف جو عوض ہیں وہ ثمن کی قبیل سے ہوں یعنی سونا، چاندی یا کرنسی ہو۔ جی۔ مثلاً آپ سونا دے کر سونا خریدتے ہیں یا چاندی دے کر چاندی خریدتے ہیں یا کرنسی دے کر کرنسی خریدتے ہیں، یہ سب بیع صرف ہیں۔ چاہے دونوں طرف ایک جنس ہو پھر تو برابری ضروری ہے اور اگر جنسیں الگ الگ ہوں پھر کمی بیشی جائز ہے۔ مثلاً آپ نے سونا دیا اور چاندی خرید لی یا چاندی دی اور سونا خرید لیا یا کرنسی دی اور سونا خرید لیا۔ اب سنار کے پاس زیور بنوانے گئے، کرنسی دی اور زیور خرید لیا تو یہ سب کیا ہیں؟ بیع صرف ہیں، جس میں دونوں طرف عوض جو ہیں وہ ثمن کی قبیل میں سے ہیں۔ اور بیع صرف میں یاد رکھو عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ ضروری ہے۔ جی۔ اگر قبضے کے بغیر دونوں جدا ہو گئے تو بیع صرف باطل۔ مثلاً ایک آدمی کے ساتھ آپ نے بیع صرف کی، آپ نے اس کو کہا میں آپ کو یہ ایک لاکھ ڈالر دیتا ہوں اور آپ مجھے اس کے عوض پاکستانی کرنسی دے دیں۔ جی۔ تو اب یہ دیکھو دونوں طرف کرنسی ہے تو یہ بیع صرف ہے۔ اور بیع صرف میں کیا ضروری؟ مجلس کے اندر عوضین پر قبضہ ضروری ہے۔ آپ نے بیع کر لی، آپ نے اس کو ڈالر دے دیے، اس نے کہا بیٹھیں میں ساتھ والے کمرے سے پیسے لے کر آتا ہوں، نہیں بھئی۔ آپ جیسے ہی یہاں سے اٹھیں گے بیع باطل ہو جائے گی۔ ضروری ہے کہ دونوں اسی مجلس میں عوضین پر قبضہ کریں۔ اور اسی طرح بیع سلم ہے۔ بیع سلم اس کو کہتے ہیں کہ آپ کسی شخص کو پیسے دیتے ہیں کہ مثلاً مجھے تین ماہ بعد فلاں قسم کی گندم آپ نے دینی ہے۔ یہ پیسے آپ لے لیں اور تین ماہ بعد فلاں فلاں قسم کی اتنی اتنی گندم آپ نے دینی ہے۔ جی۔ تو اس کے اندر دیکھو ثمن اسی مجلس میں دیے جاتے ہیں اور مبیع جو ہے وہ خاص متعین مدت کے بعد ملے گا۔ اس کو بیع سلم کہتے ہیں۔ اور اس کی شرائط ہیں باقاعدہ جو علماء ذکر فرماتے ہیں کتب فقہ کے اندر ذکر ہیں۔ تو یہ جو بیع سلم ہے اس کے اندر جو ثمن آپ دیں گے اسی مجلس میں گندم تو تین مہینے بعد مثلاً ملے گی لیکن ثمن آپ ابھی دیں گے، اس ثمن کو راس المال کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ راس المال۔ تو راس المال پر اسی مجلس میں قبضہ شرط ہے۔ تو اب بات چل رہی تھی کہ خاوند نے بیوی کو اختیار دیا اور بیوی اٹھ کر کھڑی ہو گئی، کہتے ہیں اس کا اختیار باطل ہو گیا کیونکہ اس کا اٹھنا اعراض پر دلالت کرتا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بیع صرف میں دونوں عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ ضروری ہے اور بیع سلم میں راس المال پر اسی مجلس میں قبضہ ضروری ہے لیکن وہاں آپ کہتے ہیں اگر دونوں میں سے کوئی کھڑا ہو گیا پھر بھی بیع باطل نہیں۔ جی۔ پھر بھی بیع باطل نہیں، تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی وہاں پر بغیر قبضے کے مجلس سے جدا ہونا یہ بیع کو باطل کرے گا۔ جی۔ اعراض والی کوئی چیز وہ اس بیع کو باطل نہیں کرے گی جبکہ یہ اختیار یہ تو اعراض والی چیز سے بھی باطل ہو جاتا ہے، تو دونوں میں فرق ہے۔ اختیار کے اندر اعراض سے بھی اختیار ختم ہو جائے گا جبکہ بیع صرف اور بیع سلم میں اعراض وغیرہ سے عقد ختم نہیں ہو گا بلکہ اگر عوضین پر قبضہ کیے بغیر مجلس سے جدا ہو جائیں پھر بیع باطل ہو گی بھئی۔ کہتے ہیں: بِخِلَافِ الصَّرْفِ وَالسَّلَمِ؛ لِأَنَّ الْمُفْسِدَ هُنَاكَ الِافْتِرَاقُ مِنْ غَيْرِ قَبْضٍ بخلاف بیع صرف اور بیع سلم کے، اس لیے کیونکہ عقد کو فاسد کرنے والی چیز وہاں پر ”الِافْتِرَاقُ مِنْ غَيْرِ قَبْضٍ“ وہ جدا ہونا ہے بغیر قبضے کے۔ وہاں عقد کو فاسد کرنے والی چیز کیا ہے؟ بغیر قبضے کے جدا ہونا، یہ عقد کو فاسد کرتا ہے، اعراض عقد کو فاسد نہیں کرتا۔ ثُمَّ لَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ فِي قَوْلِهِ: ”اخْتَارِي“؛ لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ جی، پھر اس میں نیت بھی ضروری ہے ”اخْتَارِي“ کے اندر کیونکہ اس میں اور معنیٰ کا بھی احتمال ہے۔ ثُمَّ لَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ فِي قَوْلِهِ: ”اخْتَارِي“ کہتے ہیں پھر خاوند کے قول ”اخْتَارِي“ کے اندر اس کی نیت بھی ضروری ہے: لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ تَخْيِيرَهَا اس لیے کیونکہ یہ کلام یہ بھی احتمال رکھتا ہے: تَخْيِيرَهَا فِي نَفْسِهَا کہ خاوند اس کو اختیار دے رہا ہے اس کی ذات کے بارے میں، وَيَحْتَمِلُ تَخْيِيرَهَا فِي تَصَرُّفٍ آخَرَ غَيْرَهُ اور یہ احتمال بھی ہے اس میں کہ: تَخْيِيرَهَا فِي تَصَرُّفٍ آخَرَ غَيْرَهُ کہ خاوند اس کو اختیار دے رہا ہے کسی دوسرے تصرف کا ”غَيْرَهُ“ اس طلاق کے علاوہ کسی اور تصرف کا اختیار دے رہا ہو۔ آگے دیکھیے: فَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فِي قَوْلِهِ: ”اخْتَارِي“ كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً اگر عورت جواب میں کہتی ہے، خاوند نے کہا تھا ”اخْتَارِي“، عورت کہتی ہے ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، جی۔ تو پھر اس صورت میں طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فِي قَوْلِهِ: ”اخْتَارِي“ اور اگر خاوند کے قول ”اخْتَارِي“ کے اندر عورت نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً تو ایک طلاقِ بائن ہو جائے گی۔ وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يَقَعَ بِهَذَا شَيْءٌ وَإِنْ نَوَى الزَّوْجُ الطَّلَاقَ اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ ”أَنْ لَا يَقَعَ بِهَذَا شَيْءٌ“ کہ اس کے ذریعے کچھ بھی واقع نہیں ہونا چاہیے ”وَإِنْ نَوَى الزَّوْجُ الطَّلَاقَ“ اگرچہ خاوند طلاق کی نیت کر لے، لِأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ الْإِيقَاعَ بِهَذَا اللَّفْظِ اس لیے کیونکہ خاوند خود مالک نہیں ہے کہ وہ طلاق واقع کرے ”بِهَذَا اللَّفْظِ“ اس لفظ کے ذریعے، فَلَا يَمْلِكُ التَّفْوِيضَ إِلَى غَيْرِهِ تو وہ غیر کو بھی طلاق سپرد کرنے کا مالک نہیں اس لفظ کے ذریعے، بھئی دیکھو! ”اخْتَارِي“، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کے ذریعے طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے اگرچہ خاوند نیت بھی کرے۔ اس لیے کیونکہ اختار یختار اس مادے سے تو خود خاوند طلاق واقع نہیں کر سکتا۔ خاوند اگر بیوی کو یوں کہے ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ تو اس سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو جب اختار کے لفظ کے ذریعے خاوند خود طلاق واقع نہیں کر سکتا تو اس لفظ کے ذریعے دوسرے کو بھی طلاق کا مالک نہیں بنا سکتا۔ جی۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے۔ یہ معنیٰ ہے۔ دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے۔ وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يَقَعَ بِهَذَا شَيْءٌ کہ اور قیاس تو یہ ہے کہ اس کے ذریعے کوئی چیز واقع نہ ہو، وَإِنْ نَوَى الزَّوْجُ الطَّلَاقَ اگرچہ خاوند طلاق کی نیت کر لے، لِأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ الْإِيقَاعَ بِهَذَا اللَّفْظِ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ مالک نہیں ہے طلاق واقع کرنے کا اس لفظ کے ذریعے، فَلَا يَمْلِكُ التَّفْوِيضَ إِلَى غَيْرِهِ تو وہ دوسرے کو طلاق سپرد کرنے کا مالک بھی نہیں ہو گا اس لفظ کے ذریعے، إِلَّا أَنَّا اسْتَحْسَنَّاهُ لِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ”إِلَّا أَنَّا اسْتَحْسَنَّاهُ“ مگر یہ کہ ہم نے اس کو استحسان قرار دیا ہے ”لِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ صحابہ کے اجماع کی وجہ سے۔ جی۔ صحابہ کا اس پر اجماع ہے کہ اس کی وجہ سے اگر عورت اپنے آپ کو اختیار کرے گی تو طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔ دیکھو پھر استحسان کا ذکر آیا۔ جی۔ اور کس کو استحسان کہا؟ اجماعِ صحابہ کو۔ حالانکہ طلبہ میں عموماً کیا مشہور ہے کہ صرف قیاسِ خفی کو استحسان کہتے ہیں۔ میں نے بتایا تھا آپ کو کہ استحسان وہ متفق علیہ دلیل جس کے مقابلے میں قیاس آ جائے۔ ہاں، زیادہ تر اس کا اطلاق قیاسِ خفی پر ہوتا ہے لیکن قیاسِ خفی کو بھی استحسان تب کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی ہو۔ تو یہاں پر دیکھو اجماعِ صحابہ کو استحسان کہہ رہے ہیں کیونکہ اس کے مقابلے میں قیاس موجود ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس سے طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے بھئی، کیونکہ خاوند خود طلاق اس سے نہیں دے سکتا تو دوسرے کو بھی اس سے طلاق کا مالک نہیں بنا سکتا۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّا اسْتَحْسَنَّاهُ لِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ مگر یہ کہ ہم نے اس کو استحسان قرار دیا ہے اجماعِ صحابہ کی وجہ سے۔ وَلِأَنَّهُ بِسَبِيلٍ مِنْ أَنْ يَسْتَدِيمَ نِكَاحَهَا أَوْ يُفَارِقَهَا اب عقلی دلیل بھی دے رہے ہیں کہ خاوند نے ”اخْتَارِي“ کہا اور عورت نے ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ کہا تو طلاقِ بائن ہونی چاہیے۔ جی۔ اب اس کی عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ وَلِأَنَّهُ بِسَبِيلٍ مِنْ أَنْ يَسْتَدِيمَ استدام یستدیم کے معنیٰ ہیں دائم رکھنا۔ دائم رکھنا۔ وَلِأَنَّهُ بِسَبِيلٍ اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے ایسے راستے پر ہے: مِنْ أَنْ يَسْتَدِيمَ نِكَاحَهَا أَوْ يُفَارِقَهَا کہ وہ نکاح کو دائم بھی رکھ سکتا ہے ”أَوْ يُفَارِقَهَا“ یا اس عورت سے جدا بھی ہو سکتا ہے۔ خاوند کو شریعت نے اختیار دیا ہے وہ ایسے راستے پر ہے کہ وہ نکاح کو دائم بھی رکھ سکتا ہے اور اس عورت سے جدائی بھی جدا بھی ہو سکتا ہے۔ وَلِأَنَّهُ بِسَبِيلٍ مِنْ أَنْ يَسْتَدِيمَ نِكَاحَهَا أَوْ يُفَارِقَهَا اس لیے کیونکہ خاوند ایسے راستے پر ہے کہ وہ اس عورت کے نکاح کو دائم بھی رکھ سکتا ہے یا اس عورت سے جدا بھی ہو سکتا ہے، فَيَمْلِكُ إِقَامَتَهَا مَقَامَ نَفْسِهِ لہٰذا خاوند اس بات کا بھی مالک ہو گا کہ وہ اس عورت کو اپنا قائم مقام کر دے: فِي حَقِّ هَذَا الْحُكْمِ اس حکم کے حق میں۔ کون سا حکم؟ کہ وہ نکاح کو دائم بھی رکھ سکتا ہے اور عورت سے جدائی بھی اختیار کر سکتا ہے۔ تو جب خاوند خود اس کا مالک ہے تو بیوی کو بھی اس کا مالک بنا سکتا ہے کہ وہ چاہے تو نکاح کو دائم رکھے اور چاہے تو نکاح کو توڑ دے، جدائی اختیار کر لے۔ تو کہتے ہیں: فَيَمْلِكُ إِقَامَتَهَا مَقَامَ نَفْسِهِ فِي حَقِّ هَذَا الْحُكْمِ تو خاوند اس بات کا بھی مالک ہو گا کہ وہ اپنی ذات کا قائم مقام اس عورت کو کر دے اس حکم کے حق میں یعنی یہ دائم رکھنے یا جدائی کے حکم میں، ثُمَّ الْوَاقِعُ بِهَا بَائِنٌ پھر اس کے ذریعے جو طلاق واقع ہو گی وہ بائن ہو گی۔ خاوند نے کہا ”اخْتَارِي“ اور عورت نے کیا کہا ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“، اس سے کون سی طلاق ہو گی؟ طلاقِ بائن۔ اب اس کی وجہ بھی بتلائیں گے۔ وجہ یہ ہے کیونکہ عورت نے کہا ہے ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ میں نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا۔ جی۔ معلوم ہوا عورت نے اپنے نفس کو اپنے لیے خاص کر لیا۔ پہلے عورت کا نفس اپنے لیے خاص نہیں تھا، خاوند کو بھی اس پر ملکِ نکاح حاصل تھی، خاوند بھی جب چاہتا اس سے صحبت کر سکتا تھا۔ تو پہلے عورت کی ذات اس کے ساتھ خاص نہیں تھی، خاوند بھی صحبت کا مالک تھا بھئی، لیکن جب عورت نے کہا ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ میں نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا، معلوم ہوا وہ اپنے نفس کو اپنے ساتھ خاص کر رہی ہے اور اپنے ساتھ خاص ہونے کی یہی صورت ہے کہ خاوند سے جدا ہو جائے یعنی طلاقِ بائن آ جائے۔ کون سی طلاق آ جائے؟ طلاقِ بائن۔ اس میں پھر عورت اپنے نفس کی مالک بن گئی، خاوند اب رجوع وغیرہ نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ الْوَاقِعُ بِهَا بَائِنٌ پھر اس کے ذریعے طلاقِ بائن واقع ہو گی، لِأَنَّ اخْتِيَارَهَا نَفْسَهَا بِثُبُوتِ اخْتِصَاصِهَا بِهَا ”لِأَنَّ اخْتِيَارَهَا نَفْسَهَا“ اس لیے کیونکہ عورت کا اپنے نفس کو اختیار کرنا، عورت کا اپنی ذات کو اختیار کرنا ”بِثُبُوتِ اخْتِصَاصِهَا بِهَا“ وہ اس نفس کے عورت کے ساتھ خاص ہونے سے ہی ثابت ہو گا۔ عورت کا اپنے نفس کو اختیار کرنا یہ کب ثابت ہو گا؟ جب عورت کا نفس عورت کے ساتھ ہی خاص ہو جائے، عورت کی ذات عورت کے ساتھ ہی خاص ہو جائے۔ اب ہم کہیں گے کہ یہ اس نے کیا کیا ہے؟ اپنے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ہے، اس کی ذات اسی کے ساتھ خاص ہو گئی ہے، اب خاوند کا اس پر کوئی حق باقی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ اخْتِيَارَهَا نَفْسَهَا بِثُبُوتِ اخْتِصَاصِهَا بِهَا اس لیے کیونکہ عورت کا اپنی ذات کو اختیار کرنا وہ یہ ثابت کرنے سے ہو گا کہ اس کی ذات اسی کے ساتھ خاص ہو، وَذَلِكَ فِي الْبَائِنِ اور یہ کس میں ہوتا ہے؟ طلاقِ بائن میں ہوتا ہے کہ عورت کی ذات عورت کے ساتھ خاص ہو جاتی ہے، خاوند رجوع وغیرہ نہیں کر سکتا۔ وَلَا يَكُونُ ثَلَاثًا ہاں، اس کے ذریعے تین طلاقیں نہیں ہو سکتیں۔ خاوند نے کیا کہا ”اخْتَارِي“، عورت نے کہا ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ تو تین طلاقوں کی نیت کرے بھی تو بھی تین طلاقیں نہیں ہوں گی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَكُونُ ثَلَاثًا اور تین طلاقیں نہیں ہوں گی، وَإِنْ نَوَى الزَّوْجُ ذَلِكَ اگرچہ خاوند اس کی نیت بھی کر لے، لِأَنَّ الِاخْتِيَارَ لَا يَتَنَوَّعُ اس لیے کیونکہ اختیار متنوع نہیں، اختیار کی اقسام نہیں ہوتیں۔ جی۔ اختیار میں تو اختیار کیا ہے یا اختیار نہیں کیا، اس میں انواع نہیں۔ جبکہ بینونت کے اندر وہاں اقسام تھیں، ایک بینونتِ خفیفہ تھی، ایک بینونتِ غلیظہ تھی تو وہاں پر جو ہے تین کی نیت سے بینونتِ غلیظہ ثابت ہو جاتی تھی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الِاخْتِيَارَ لَا يَتَنَوَّعُ اس لیے کیونکہ جو اختیار ہے اس میں تنوع نہیں ہے، اس میں اقسام نہیں ہیں، بِخِلَافِ الْإِبَانَةِ بخلاف جدا کرنے کے، لِأَنَّ الْبَيْنُونَةَ قَدْ تَتَنَوَّعُ کیونکہ بینونت جو ہے وہ متنوع ہے، اس میں انواع ہیں۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَلَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ النَّفْسِ فِي كَلَامِهِ أَوْ فِي كَلَامِهَا جی، یاد رکھنا! خاوند نے کہا ”اخْتَارِي“ اور عورت نے کہا ”اخْتَرْتُ“ تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔ خاوند نے کیا کہا ”اخْتَارِي“، عورت نے کیا کہا ”اخْتَرْتُ“، بلکہ یہاں نفس کا لفظ ملانا ضروری ہے یا ”اخْتِيَارَةً“ مصدر کا ملانا ضروری ہے یا طلاق کا لفظ ملانا ضروری ہے یا خود اس ”اخْتَارِي“ کے اندر تکرار ضروری ہے۔ بھئی، اس ”اخْتَارِي“ کو ہم طلاق سے کنایہ بنا رہے ہیں، توجہ ہے؟ لہٰذا یا تو ضروری ہے کہ خاوند نفس کا لفظ ذکر کرے یا دونوں ذکر کریں یا بیوی ذکر کرے، ایک جگہ نفس کا لفظ ضرور ہونا چاہیے۔ یا ”اخْتِيَارَةً“ مصدر ضرور ہونا چاہیے، یا تطلیق کا طلاق کا لفظ ضرور ہونا چاہیے، یا اسی ”اخْتَارِي“ میں تکرار ضروری ہے۔ تکرار ضروری ہے بھئی، اب اس کو بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَلَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ النَّفْسِ فِي كَلَامِهِ أَوْ فِي كَلَامِهَا اور نفس کے لفظ کو ذکر کرنا خاوند کے کلام میں یا بیوی کے کلام میں ضروری ہے، حَتَّى لَوْ قَالَ لَهَا: ”اخْتَارِي“، فَقَالَتْ: ”قَدِ اخْتَرْتُ“ یہاں تک کہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”اخْتَارِي“ اور عورت نے کہا ”قَدِ اخْتَرْتُ“، دیکھو نفس کا لفظ یا مصدر یا تطلیقۃ یا تکرار کوئی بھی چیز یہاں نہیں پائی جا رہی، تو لہٰذا یہ قول باطل ہو گا، اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔ خاوند نے کیا کہا ”اخْتَارِي“، عورت نے کیا کہا ”قَدِ اخْتَرْتُ“ تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی، اگرچہ خاوند نیت بھی کر رہا ہے پھر بھی نہیں واقع ہو گی کیونکہ نفس کا لفظ ذکر کرنا ضروری تھا یا مصدر کا ذکر کرنا ضروری تھا یا ”اخْتَارِي“ کے اندر تکرار ضروری تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى لَوْ قَالَ لَهَا: ”اخْتَارِي“ یہاں تک کہ خاوند نے اگر بیوی سے کہا ”اخْتَارِي“، دیکھو نفس کا لفظ ذکر نہیں کیا، فَقَالَتْ اور عورت کہتی ہے: ”قَدِ اخْتَرْتُ“ تحقیق میں نے اختیار کر لیا، اس نے بھی نفس کا لفظ ذکر نہیں کیا، فَهُوَ بَاطِلٌ تو یہ باطل ہے، لِأَنَّهُ عُرِفَ بِالْإِجْمَاعِ ادھر دیکھیے، یہ جو اختیار لفظ کے ذریعے طلاق واقع ہوتی ہے یہ اجماعِ صحابہ سے خلافِ قیاس طریقے پر ہم نے جانا ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اختیار لفظ سے خاوند خود طلاق نہیں دے سکتا تو دوسرے کو بھی طلاق کا مالک نہیں بنا سکتا، لیکن اجماعِ صحابہ سے معلوم ہوا کہ اس سے طلاق ہو جاتی ہے۔ تو یہ بات اجماعِ صحابہ سے معلوم ہوئی ہے خلافِ قیاس طور پر اور جو چیز خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے۔ اور صحابہ سے جو اجماع ہے اس کے اندر نفس کا لفظ ضروری ہے بھئی، لہٰذا بغیر نفس کے لفظ کے یہ طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عُرِفَ بِالْإِجْمَاعِ اس لیے کیونکہ اختیار کے لفظ سے طلاق کا واقع ہونا اس کو اجماع کے ذریعے جانا گیا ہے، وَهُوَ فِي الْمُفَسَّرِ مِنْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ اور یہ اس صورت میں ہو گا جب اختیار مفسر ہو ”مِنْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ“ دونوں جانب میں سے کسی ایک میں۔ کہ کس چیز کا اختیار دے رہا ہے یا کس چیز کو وہ اختیار کر رہی ہے، تو اس کو مفسر ہونا چاہیے، اس کی تفسیر آنی چاہیے کہ خاوند کہے ”اخْتَارِي نَفْسَكِ“ یا بیوی کہے ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“، توجہ ہے؟ تو ایک میں اس اختیار کی تفسیر ضرور چاہیے اور جب دونوں تفسیر ذکر نہیں کریں گے تو پھر طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عُرِفَ بِالْإِجْمَاعِ اس لیے کیونکہ اختیار کے لفظ سے طلاق کا واقع ہونا اس کو اجماع کے ذریعے جانا گیا ہے یعنی خلافِ قیاس طریقے پر، وَهُوَ فِي الْمُفَسَّرِ مِنْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ اور یہ اس لفظ کے ذریعے طلاق کا واقع ہونا اس اختیار میں ہے ”الْمُفَسَّرِ“ جس کی تفسیر کی گئی ہو یعنی نفس کے لفظ کے ساتھ ”مِنْ أَحَدِ الْجَانِبَيْنِ“ دونوں جانب میں سے کسی ایک طرف سے یعنی میاں یا بیوی کی طرف سے، وَلِأَنَّ الْمُبْهَمَ لَا يَصْلُحُ تَفْسِيرًا لِلْمُبْهَمِ اور اس لیے کیونکہ مبہم وہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ تفسیر بن جائے مبہم کے لیے۔ بھئی خاوند نے کہا ”اخْتَارِي“ کوئی تفسیر نہیں کی کہ کس چیز کا اختیار دے رہا ہے اور بیوی نے بھی کہا ”قَدِ اخْتَرْتُ“ اس نے بھی کوئی تفسیر نہیں کی، تو خاوند کا کلام بھی مبہم، بیوی کا کلام بھی مبہم اور مبہم مبہم کی تفسیر نہیں کر سکتا بھئی، کیونکہ وہ تو خود مبہم ہے دوسرے کی کیا تفسیر کرے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْمُبْهَمَ لَا يَصْلُحُ تَفْسِيرًا لِلْمُبْهَمِ اس لیے کیونکہ جو چیز مبہم ہوتی ہے وہ صلاحیت نہیں رکھتی کہ وہ مبہم کی تفسیر بنے، وَلَا تَعَيُّنَ مَعَ الْإِبْهَامِ اور ابہام کے ساتھ تو تعین نہیں ہو سکتی۔ جی۔ خاوند نے کہا ”اخْتَارِي“ اور بیوی نے کہا ”قَدِ اخْتَرْتُ“ دونوں مبہم ہیں اور ابہام کے ساتھ تو تعین نہیں ہو سکتی حالانکہ یہاں تو تعین ضروری تھی کہ کس چیز کا اختیار دے رہا ہے یا کس چیز کو اختیار کر رہی ہے بھئی۔ تو بغیر تعین کے تو طلاق نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ کنایہ ہے بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا تَعَيُّنَ مَعَ الْإِبْهَامِ اور ابہام کے ساتھ تو تعین نہیں ہو سکتا یعنی طلاق کا۔ وَلَوْ قَالَ: ”اخْتَارِي نَفْسَكِ“، فَقَالَتْ: ”اخْتَرْتُ“ اور اگر خاوند نے کہا ”اخْتَارِي نَفْسَكِ“ تو اپنی ذات کو اختیار کر لے، ”فَقَالَتْ: اخْتَرْتُ“ عورت نے ”اخْتَرْتُ“ کہا، اس نے نفس کے لفظ کو ذکر نہیں کیا، تو بھی: تَقَعُ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، لِأَنَّ كَلَامَهُ مُفَسَّرٌ کیونکہ خاوند کا کلام مفسر ہے، اس میں تفسیر یعنی نفس کا لفظ آ رہا ہے، وَكَلَامُهَا خَرَجَ جَوَابًا لَهُ اور عورت کا کلام جو ہے وہ اس کے لیے بطور جواب کے نکلا ہے، فَيَتَضَمَّنُ إِعَادَتَهُ تو لہٰذا عورت کا کلام جو ہے وہ خاوند کے کلام کے اعادے کو متضمن ہے۔ بھئی یاد رکھو! جواب جو ہے وہ سوال کے مطابق ہوتا ہے۔ جواب سوال کے مطابق ہوتا ہے، جواب کے اندر چاہے سوال والی پوری بات ذکر کی جائے یا نہ کی جائے لیکن اس کو اعادہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً آپ نے کسی سے پوچھا کیا زید آ گیا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ تو یہ جو جواب ہے یہ متضمن ہے سوال کی عبارت کو بھی۔ یعنی کہنے والے نے تو صرف جواب میں جی ہاں کہا ہے لیکن حقیقت میں پورا کلام گویا اس نے یوں کہا جی ہاں زید آ گیا ہے۔ لیکن چونکہ زید آ گیا ہے یہ بات سوال میں بھی ذکر تھی اس لیے اس نے اس کو ذکر نہیں کیا۔ جی۔ تو جواب جو ہے وہ سوال کے مطابق ہوتا ہے، وہ سوال کی بات کو متضمن ہوتا ہے، اس کے ضمن میں وہ بات آ جاتی ہے۔ تو یہاں بھی خاوند نے کیا کہا ”اخْتَارِي نَفْسَكِ“ اور عورت نے صرف ”اخْتَرْتُ“ کہا، تو یہ ”اخْتَرْتُ“ کے اندر تو نفس کا لفظ نہیں ذکر لیکن یہ جواب ہے اور جواب سوال کے مطابق ہوتا ہے اور وہاں تفسیر آ گئی تھی تو یہ بھی متضمن ہے خاوند کے کلام کو یعنی اس میں بھی یوں سمجھو تفسیر آ گئی ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ كَلَامَهُ مُفَسَّرٌ کیونکہ خاوند کا کلام مفسر ہے یعنی اس میں تفسیر کی گئی ہے نفس کے لفظ کے ساتھ، وَكَلَامُهَا خَرَجَ جَوَابًا لَهُ اور عورت کا کلام جو ہے وہ تو خاوند کے جواب کے طور پر نکلا ہے، فَيَتَضَمَّنُ إِعَادَتَهُ تو عورت کا کلام اس خاوند کے کلام کے اعادے کو یعنی اس کے لوٹانے کو متضمن ہے، کہ گویا وہ سارا اس کے اندر لوٹا رہی ہے بھئی، اگرچہ لفظوں سے ذکر نہیں کیا لیکن ضمناً موجود ہے۔ وَكَذَا لَوْ قَالَ: ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“، فَقَالَتْ: ”اخْتَرْتُ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ اگر خاوند نے کہا ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“، جی۔ ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“، تو اب ”اخْتِيَارَةً“ مصدر کو ساتھ ذکر کر دیا، نفس کا لفظ ذکر نہیں کیا کہتے ہیں اس صورت میں بھی طلاق ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ ”اخْتِيَارَةً“ مصدر ہے اور اس کے ساتھ گول تا جڑی ہوئی ہے اور مصدر کے ساتھ گول تا وحدت کے لیے عموماً جوڑی جاتی ہے۔ جی۔ جیسے ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا اور اگر آپ ایک ضرب بتانا چاہتے ہیں تو آپ کہیں گے ضَرْبَةٌ، دو بتلانا چاہتے ہیں تو ضَرْبَتَيْنِ یا ضَرْبَتَانِ۔ تو لہٰذا یہاں ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“ یہاں خاوند نے اختیار مصدر کو ساتھ جوڑ دیا اور اختیار مصدر کے ساتھ تا ملی ہوئی ہے وحدت والی تا بھئی۔ اور وحدت والی تا یہ دلالت کر رہی ہے کہ خاوند طلاق کا اختیار دے رہا ہے۔ جی۔ بھئی وحدت والی تا سے طلاق کے اختیار کا کیسے پتہ چلا؟ کہتے ہیں دیکھو! جب کسی چیز کا اختیار دیا جاتا ہے کسی کو تو وہاں تعدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ بیوی سے کہتے ہیں یہ کپڑا لے لو یا یہ والا کپڑا لے لو، تو ”اخْتَارِي“ دیکھو ایک ہی دفعہ اختیار دینا کافی ہے۔ اور یا آپ بیوی سے کہتے ہیں جتنے کپڑے پڑے ہیں جتنے لینا چاہتی ہو تمہیں اختیار ہے، تو ”اخْتَارِي“ تو اختیار کر لے! جی۔ تو یہاں تعدد کی ضرورت نہیں، لیکن طلاق کے اندر اختیار میں کبھی تعدد آتا ہے، کبھی خاوند ایک طلاق کا اختیار دیتا ہے، جی۔ کبھی دو طلاقوں کا اختیار دیتا ہے، کبھی تین طلاقوں کا اختیار دیتا ہے بیوی کو۔ تو وہ اختیار جو طلاق کے لیے دیا جائے اس میں وحدت اور تعدد کا احتمال ہے، باقی اختیاروں میں تعدد کا احتمال نہیں ہے بھئی۔ تو ”اخْتِيَارَةً“ کے اندر یہ تا وحدت والی آ گئی، معلوم ہوا ایسا اختیار مراد ہے جس میں وحدت اور تعدد ہو سکے۔ اب یہاں پر وحدت مراد ہے لیکن ایسا اختیار ہے جس میں وحدت کے ساتھ ساتھ تعدد بھی ہو سکتا ہے اور وہ تو طلاق والا اختیار ہوتا ہے کہ خاوند کبھی ایک طلاق کا اختیار دیتا ہے، کبھی دو طلاق کا اور کبھی تین طلاق کا بھئی۔ تو یہ ”اخْتِيَارَةً“ کی گول تا نے بتلایا۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا لَوْ قَالَ: ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“، فَقَالَتْ: ”اخْتَرْتُ“ اور اسی طرح اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“ تو عورت نے کہا ”اخْتَرْتُ“ تو ایک طلاقِ بائن ہو جائے گی، لِأَنَّ الْهَاءَ فِي الِاخْتِيَارَةِ اس لیے کیونکہ اختیارہ کے اندر جو ہا ہے یعنی گول تا جو وقف کی حالت میں ہا بن جاتی ہے، تو کہتے ہیں اختیارہ کے اندر یہ جو ہا ہے: تُنْبِئُ عَنِ الِاتِّحَادِ وَالِانْفِرَادِ انبا ینبئ کے معنیٰ خبر دینا۔ آپ کی کتاب میں ”تُنْبِئُ“ کس طرح لکھا ہے؟ تا، نون، با، یا اور ہمزہ، ہمزہ یا کے اوپر ہے یا یا سے آگے الگ ہے؟ اوپر ہے، ہاں اوپر ہی ہونی چاہیے، میری کتاب میں یا کے بعد ہمزہ ہے یہ درست نہیں ہے بھئی۔ جی۔ یہ درست نہیں کیونکہ ہمزہ جو ہے میں نے بتایا، ہمزہ کبھی الف کی صورت میں ہمزہ کو لکھتے ہیں کبھی واؤ کی صورت میں اور کبھی یا کی صورت میں۔ تو یہاں پر یہ جو یا ہے یہ یا نہیں ہے یہ ہمزہ ہی ہے لیکن یا کی شکل میں لکھی گئی ہے، لہٰذا اس کے اوپر ہمزہ ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْهَاءَ فِي الِاخْتِيَارَةِ اس لیے کیونکہ اختیارہ لفظ کے اندر جو یہ ہا ہے یعنی گول تا جو ہے: تُنْبِئُ عَنِ الِاتِّحَادِ وَالِانْفِرَادِ اتحاد و انفراد کا ایک معنیٰ ہے۔ اتحاد وحدت سے ہے، ایک ہونا اور انفراد منفرد ہونا یعنی ایک ہونا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْهَاءَ فِي الِاخْتِيَارَةِ تُنْبِئُ عَنِ الِاتِّحَادِ وَالِانْفِرَادِ اس لیے کیونکہ اختیارہ لفظ کے اندر یہ جو گول تا ہے یہ ایک ہونے کی خبر دیتی ہے، اس سے اختیار کے ایک ہونے کا پتہ چل رہا ہے، وَاخْتِيَارُهَا نَفْسَهَا هُوَ الَّذِي يَتَّحِدُ مَرَّةً وَيَتَعَدَّدُ أُخْرَى اور عورت کا اپنے نفس کو اختیار کرنا، ”وَاخْتِيَارُهَا نَفْسَهَا“ اور عورت کا اپنے نفس کو اختیار کرنا ”هُوَ الَّذِي“ یہی وہ چیز ہے ”يَتَّحِدُ مَرَّةً وَيَتَعَدَّدُ أُخْرَى“ جو کبھی متحد ہوتا ہے یعنی ایک ہوتا ہے اور کبھی اس میں تعدد ہوتا ہے۔ عورت کا اپنے نفس کو اختیار کرنا اسی میں کبھی وحدت ہوتی ہے اور کبھی تعدد ہوتا ہے، اگر خاوند نے ایک طلاق کا اختیار دیا ہے تو وحدت ہے، دو کا یا تین کا اختیار دیا ہے تو اس میں تعدد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَاخْتِيَارُهَا نَفْسَهَا هُوَ الَّذِي يَتَّحِدُ مَرَّةً وَيَتَعَدَّدُ أُخْرَى اس لیے کیونکہ عورت کا اپنی ذات کو اختیار کرنا یہی وہ چیز ہے جو کبھی اس میں وحدت ہوتی ہے اور کبھی اس میں تعدد ہوتا ہے، فَصَارَ مُفَسَّرًا مِنْ جَانِبِهِ تو یہ اختیار بھی مفسر ہو گیا خاوند کی جانب سے کہ اس نے ”اخْتِيَارَةً“ لفظ کو ذکر کر دیا۔ تو معلوم ہوا عورت کا اپنے نفس کو اختیار کرنا اس میں کبھی وحدت ہوتی ہے اور کبھی تعدد ہوتا ہے۔ جی۔ لیکن اور چیزوں کے اختیار میں تعدد کی حاجت نہیں، وہاں تعدد نہیں ہوتا۔ نیز عورت کا اپنے خاوند کو اختیار کرنا اس میں بھی تعدد نہیں ہے۔ جی۔ اس میں بھی تعدد نہیں ہے کہ ایک دفعہ اختیار کرتی ہے یا دو دفعہ یا تین دفعہ، نہیں بھئی۔ وہاں طلاقیں تو ایک دو تین ہیں ان کا اختیار خاوند دے گا، تو وہ اپنے نفس کو اختیار کرنا اس میں تو تعدد ہے لیکن خاوند کو اختیار کرنا اس میں تو تعدد نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہ جو اختیار دیا ”اخْتَارِي اخْتِيَارَةً“ کے ساتھ یہ طلاق ہی کا اختیار ہے۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: ”اخْتَارِي“، فَقَالَتْ: ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ اگر خاوند نے ”اخْتَارِي“ کہا، ”فَقَالَتْ“ عورت کہتی ہے ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، تو اب دیکھو ایک میں تفسیر آ گئی، عورت کے کلام میں کیا آ گئی؟ تفسیر آ گئی، تو اس صورت میں طلاق واقع ہو گی بشرطیکہ خاوند نے نیت کی ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ: ”اخْتَارِي“ اگر خاوند نے کہا اختیار کر لے، فَقَالَتْ: ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ تو عورت کہتی ہے میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، يَقَعُ الطَّلَاقُ إِذَا نَوَى الزَّوْجُ طلاق واقع ہو جائے گی جب خاوند نے نیت کی ہو۔ اگر خاوند نے نیت نہیں کی طلاق کی پھر وہ ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ کہے بھی تو بھی طلاق واقع نہیں کیونکہ یہ کنایہ ہے، کنایہ کے اندر نیت کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ لِأَنَّ كَلَامَهَا مُفَسَّرٌ اس لیے کیونکہ عورت کا جو کلام ہے وہ مفسر ہے، اس کے اندر نفس کا لفظ موجود ہے، وَمَا نَوَاهُ الزَّوْجُ مِنْ مُحْتَمَلَاتِ كَلَامِهِ اور وہ جس کی خاوند نے نیت کی ہے وہ اس کے کلام کے محتملات میں سے ہے۔ خاوند نے کیا کہا ہے ”اخْتَارِي“ اور ”اخْتَارِي“ کے اندر طلاق کی نیت بھی ہو سکتی ہے اور غیرِ طلاق کی نیت بھی، تو معلوم ہوا ”اخْتَارِي“ میں طلاق کا بھی احتمال ہے۔ تو خاوند ایسی چیز کی نیت کرتا ہے جس کا کلام میں احتمال بھی ہو، کلام میں احتمال بھی ہو تو وہ ثابت ہو گا، اگر احتمال ہی نہ ہو تو وہ ثابت بھی نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَا نَوَاهُ الزَّوْجُ اور وہ جو خاوند نے نیت کی ہے یعنی طلاق کی، مِنْ مُحْتَمَلَاتِ كَلَامِهِ یہ اس کے کلام کے محتملات میں سے ہے یعنی اس کے کلام میں اس کا احتمال ہے اور کلام کے اندر جب ایک چیز کا احتمال بھی ہو اور خاوند اس کی نیت بھی کر لے تو وہ ثابت ہو جائے گا اور عورت کو اختیار مل جائے گا، پھر جب اس نے ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ کہا تو اس کو طلاق ہو جائے گی بھئی۔ وَلَوْ قَالَ: ”اخْتَارِي“، فَقَالَتْ: ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ فَهِيَ طَالِقٌ صورتِ مسئلہ یہ ہے، خاوند نے کہا ”اخْتَارِي“ تو اختیار کر لے، عورت جواب میں کہتی ہے ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“۔ جی۔ پہلے ماضی کے صیغے استعمال ہو رہے تھے، ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ میں نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا، لیکن اب اگر وہ مضارع کا صیغہ استعمال کرتی ہے تو پھر کیا اس سے بھی طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟ تو یاد رکھو مضارع کے اندر تو دو احتمال ہیں: حال کا بھی احتمال ”أَخْتَارُ نَفْسِي“ میں اپنے نفس کو اختیار کرتی ہوں اور اس میں مستقبل کا بھی احتمال ہے ”أَخْتَارُ نَفْسِي“ میں اپنے نفس کو اختیار کروں گی یعنی صرف وعدہ کر رہی ہے۔ کیا کر رہی ہے؟ مستقبل کی بات ہے نا، ”أَخْتَارُ نَفْسِي“ میں اپنے نفس کو اختیار کروں گی، گویا صرف وعدہ کر رہی ہے، اپنے نفس کو فی الحال اختیار نہیں کر رہی۔ تو لہٰذا مضارع اس نے استعمال کیا اور مضارع کے اندر تو حال کے ساتھ استقبال کا بھی احتمال ہوتا ہے، لہٰذا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ جو ہے اس کے ذریعے طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ بات قطعی نہیں ہے، اس میں حال کے ساتھ ساتھ استقبال کے معنیٰ کا بھی احتمال ہے۔ تو قیاس کیا تقاضا کرتا ہے کہ ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ یعنی مضارع کے صیغے کے ساتھ عورت کو طلاق نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ عربی کے اندر حال کے لیے کوئی الگ صیغہ ہے ہی نہیں، اسی لیے نکاح، بیع وغیرہ جو بھی کرنا ہے تو ایجاب اور قبول کا ماضی کے صیغے ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ مضارع کے اندر تو مستقبل کا بھی احتمال ہے، مضارع کا صیغہ کوئی بولے گا تو پتہ نہیں چلے گا کہ اس کا ارادہ فی الحال کا ہے یا مستقبل کا ارادہ وہ کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ اسی لیے تمام عقود کے اندر کیا ضروری کہ ایجاب اور قبول ماضی کے صیغے ہونے چاہییں۔ تو یہاں اگر عورت نے مضارع کا صیغہ استعمال کیا تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی طلاق ہو جائے گی۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے نہیں ہونی چاہیے لیکن طلاق ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ: ”اخْتَارِي“، فَقَالَتْ: ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ فَهِيَ طَالِقٌ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”اخْتَارِي“ تو عورت نے کہا ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ کہ میں اپنی ذات کو اختیار کرتی ہوں مضارع کے صیغے کے ساتھ اس نے یہ کہا، ”فَهِيَ طَالِقٌ“ تو یہ عورت طلاق والی ہے، وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا تُطَلَّقَ اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس عورت کو طلاق نہ ہو، لِأَنَّ هَذَا مُجَرَّدُ وَعْدٍ أَوْ يَحْتَمِلُهُ اس لیے کیونکہ یہ تو صرف ایک وعدہ ہے ”أَوْ يَحْتَمِلُهُ“ یا یہ وعدے کا احتمال رکھتا ہے۔ کیونکہ اگر صرف مستقبل والا معنیٰ کریں تو وعدہ ہو رہا ہے کہ میں ایسا کروں گی اور اگر حال والا معنیٰ کر لیں پھر بھی مستقبل کا تو اس میں پھر بھی احتمال ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے۔ وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا تُطَلَّقَ لِأَنَّ هَذَا مُجَرَّدُ وَعْدٍ أَوْ يَحْتَمِلُهُ اور قیاس یہ ہے کہ عورت کو طلاق نہ ہو اس لیے کیونکہ یہ مضارع کے صیغے کے ذریعے تو یا تو صرف وعدہ ہے ”أَوْ يَحْتَمِلُهُ“ یا وہ اس وعدے کا احتمال رکھتا ہے، فَصَارَ كَمَا إِذَا قَالَ لَهَا: ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جب خاوند نے بیوی سے کہا ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ ”طَلِّقِي نَفْسَكِ“ تو اپنے آپ کو طلاق دے دے۔ ”فَقَالَتْ“ عورت نے کہا: ”أَنَا أُطَلِّقُ نَفْسِي“، مضارع کا صیغہ استعمال کر لیا، تو یاد رکھو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ مضارع کے صیغے کے ساتھ طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تو جب ”أَنَا أُطَلِّقُ نَفْسِي“ اس کے اندر طلاق واقع نہیں ہو رہی تو ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ اس کے اندر بھی طلاق واقع نہیں ہونی چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ لیکن استحساناً طلاق واقع ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ جو ہے ”حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا“ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے ”فَإِنَّهَا قَالَتْ“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: ”لَا بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں۔ ”أَخْتَارُ“ دیکھو مضارع کا صیغہ استعمال کیا۔ ”وَاعْتَبَرَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَوَابًا مِنْهَا“ اور حضور علیہ السلام نے بھی اس کو ان کی طرف سے جواب اعتبار کیا۔ ان کی طرف سے اس کو جواب شمار کیا۔ کیا کیا؟ جواب شمار کیا۔ بھئی واقعہ یوں ہوا کہ ایک موقع پر غزوات سے مسلمانوں کو کچھ مال و دولت حاصل ہوئی، تو ازواج مطہرات نے بھی حضور علیہ السلام سے درخواست کی کہ ہمارے نفقے میں کچھ اضافہ کر دیا جائے۔ حضور علیہ السلام کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی، آپ ان سے ناراض ہوئے، اور اللہ کی طرف سے بھی یہ حکم نازل ہو گیا۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ“ اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے: ”إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا“ کہ اگر تمہیں دنیاوی زندگی اور اس کی زینت کی خواہش ہے، اس کا تم ارادہ کرتی ہو ”فَتَعَالَيْنَ“ تو آ جاؤ ”أُمَتِّعْكُنَّ“ میں تمہیں کچھ فائدہ دے دیتا ہوں ”وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا“ اور اچھے طریقے سے تمہیں رخصت کر دیتا ہوں۔ یعنی کچھ دنیاوی مال و دولت دے کر تمہیں اچھے طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں۔ ”وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا ارادہ کرتی ہو ”وَالدَّارَ الْآخِرَةَ“ اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتی ہو ”فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا“ تو اللہ نے تم میں سے جو نیک عورتیں ہیں ان کے لیے اجر عظیم تیار کیا ہوا ہے۔ تو اللہ کی طرف سے یہ حکم نازل ہو گیا۔ ازواج مطہرات نے نفقے میں اضافے کی درخواست کی تھی اور حضور علیہ السلام کو بھی ان کے اس مطالبے سے تکلیف ہوئی، آپ ناراض ہوئے اور اللہ کی طرف سے بھی حکم آ گیا۔ تو حضور علیہ السلام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اے عائشہ، میں تمہیں ایک بات ذکر کرتا ہوں لیکن جلدی نہ کرنا، اپنے والدین سے مشورہ کر لینا اور پھر اس کے بعد یہ آیت حضور نے ان کے سامنے ذکر فرمائی۔ تو حضرت عائشہ فرمانے لگیں: یا رسول اللہ، آپ کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھے والدین کے ساتھ مشورے کا اس لیے کہا کیونکہ حضور جانتے تھے کہ وہ مجھے کبھی بھی حضور سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے۔ تو حضرت عائشہ کہتی ہیں: یا رسول اللہ، کیا آپ کے بارے میں بھی میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ کو اور آپ کو اور آخرت کو اختیار کرتی ہوں اور اسی طرح دیگر ازواج مطہرات نے بھی یہی جواب دیا۔ تو اس واقعے میں حضرت عائشہ کی وہ بات ذکر ہو رہی ہے، ”فَإِنَّهَا قَالَتْ“ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ”لَا بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“ نہیں بلکہ میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں ”وَاعْتَبَرَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَوَابًا مِنْهَا“ اور حضور علیہ السلام نے بھی اس کو ان کی طرف سے جواب شمار کیا۔ اگرچہ مضارع کا صیغہ استعمال کیا انہوں نے لیکن حضور نے اس کو جواب شمار فرمایا۔ تو جیسے اس حدیث کے اندر مضارع کے صیغے کو جواب شمار کیا گیا، اسی طرح عورت نے یہ جو کہا ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ یہاں پر بھی مضارع کو جواب شمار کیا جائے گا۔ اچھا یہ تو تھی عقلی دلیل اور اس کو بھی استحسان قرار دیا کیونکہ یہاں پر بھی اس کے مقابلے میں قیاس موجود ہے بھئی۔ ”وَلِأَنَّ هَذِهِ الصِّيغَةَ حَقِيقَةٌ فِي الْحَالِ وَتَجَوُّزٌ فِي الِاسْتِقْبَالِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ صیغہ جو ہے یعنی مضارع کا جو صیغہ ہے، ”حَقِيقَةٌ فِي الْحَالِ“ یہ حال میں حقیقت ہے ”وَتَجَوُّزٌ فِي الِاسْتِقْبَالِ“ اور استقبال میں مجاز ہے۔ یاد رکھو فعل مضارع کے بارے میں علمائے نحو کے تین مذاہب ہیں۔ بعض علمائے نحو فرماتے ہیں کہ یہ فعل مضارع حال اور مستقبل دونوں میں مشترک ہے، یعنی یہ دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ حال جو ہے یہ مضارع کا حقیقی معنی ہے اور مستقبل جو ہے وہ مضارع کا مجازی معنی ہے۔ اور جبکہ بعض علماء اس کے برعکس فرماتے ہیں کہ حال جو ہے یہ مجازی معنی ہے اور مستقبل وہ مضارع کا حقیقی معنی ہے۔ لیکن علماء فرماتے ہیں زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ فعل مضارع کا حقیقی معنی حال ہے اور مستقبل مجاز ہے، جیسے کہ صاحب ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ هَذِهِ الصِّيغَةَ حَقِيقَةٌ فِي الْحَالِ وَتَجَوُّزٌ فِي الِاسْتِقْبَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ مضارع کا جو صیغہ ہے یہ حال کے اندر تو حقیقت ہے ”وَتَجَوُّزٌ فِي الِاسْتِقْبَالِ“ اور استقبال میں مجاز ہے ”كَمَا فِي كَلِمَةِ الشَّهَادَةِ وَأَدَاءِ الشَّهَادَةِ“ جیسے کلمہ شہادت میں ہے اور ادائے شہادت میں ہے۔ یاد رکھو عربی زبان میں کلمہ، کلام کو کہتے ہیں۔ علمائے نحو کے نزدیک تو کلمہ با معنی لفظ کو کہتے ہیں۔ کلمہ با معنی لفظ، لیکن عربی زبان میں کلمہ، کلام کو کہتے ہیں بھئی۔ جیسے کلمہ شہادت، ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ“، تو دیکھو یہ کلام ہے لیکن اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ شہادت۔ تو صاحب ہدایہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ مضارع کا صیغہ حال کے اندر حقیقت ہے اور مستقبل میں مجاز ہے، جیسے کہ آپ دیکھتے ہیں کلمہ شہادت جو ہے۔ کلمہ شہادت ”أَشْهَدُ“ دیکھو فعل مضارع ہے۔ لیکن اس کا اعتبار کیا جاتا ہے، کوئی یہ کلمہ شہادت کہہ دے تو مسلمان شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح قاضی کے پاس جا کر کوئی گواہی دیتا ہے تو وہ بھی گواہی دیتے ہوئے کیا کہتا ہے؟ ”أَشْهَدُ“ میں گواہی دیتا ہوں، تو وہاں بھی دیکھو فعل مضارع استعمال کر رہا ہے۔ معلوم ہوا فعل مضارع حال کے اندر حقیقت ہے بھئی۔ تو جیسے وہاں پر کلمہ شہادت اور ادائے شہادت میں اس کو حال پر محمول کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کا حقیقی معنی ہے، تو یہاں بھی ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ کے اندر اس کو حال پر محمول کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي كَلِمَةِ الشَّهَادَةِ“ جیسے کلمہ شہادت کے اندر ہے ”وَأَدَاءِ الشَّهَادَةِ“ اور جیسے ادائے شہادت کے اندر ہے ”بِخِلَافِ قَوْلِهَا أُطَلِّقُ نَفْسِي“ بخلاف عورت کے قول ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ کے۔ ہاں ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ اگر عورت کہے گی، اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ یہ متعارف نہیں ہے۔ طلاق دینے کے لیے لوگوں میں یہ لفظ رائج نہیں ہے بلکہ ماضی کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے، ”طَلَّقْتُ نَفْسِي“۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ قَوْلِهَا أُطَلِّقُ نَفْسِي“ بخلاف عورت کے قول ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ ”لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ حَمْلُهُ عَلَى الْحَالِ“ اس لیے کیونکہ اس کو حال پر محمول کرنا متعذر ہے، ممکن نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ اس کو حال پر ہم محمول نہیں کر سکتے، حال پر اس کو محمول کرنا ممکن نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ یہ جو حال کا صیغہ ہوتا ہے یہ خبر دینے کے لیے وضع ہے۔ حال کا صیغہ کس لیے وضع ہے؟ خبر دینے کے لیے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: ”أَضْرِبُ زَيْدًا“ میں زید کی پٹائی کر رہا ہوں، تو دیکھو یہ آپ خبر دے رہے ہیں کسی کو۔ یا آپ کسی سے کہتے ہیں: ”أَدْرُسُ“ میں پڑھ رہا ہوں، تو دیکھو یہ مضارع کا صیغہ کس لیے ہوتا ہے؟ خبر کے لیے وضع ہے۔ لیکن یہاں اس ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ اس کو حال پر محمول نہیں کر سکتے کیونکہ حال کا صیغہ خبر دینے کے لیے وضع ہوتا ہے اور ہر خبر کے لیے کوئی محکی عنہ چاہیے۔ ہر خبر کے لیے محکی عنہ چاہیے جس سے آپ حکایت کر رہے ہیں، جس کی آپ خبر دے رہے ہیں۔ مثلاً میں کسی سے کہتا ہوں: ”زَيْدٌ يَضْرِبُ“ زید پٹائی کر رہا ہے، تو اس کے لیے کیا ہوگا؟ خارج میں زید کیا کر رہا ہے؟ پٹائی کر رہا ہے تو تب میں کہوں گا: ”يَضْرِبُ زَيْدٌ“۔ تو یہ ”يَضْرِبُ زَيْدٌ“ یہ لفظ ہے، یہ حکایت ہے اور اس کے لیے محکی عنہ یعنی جس سے حکایت کی گئی، جس کے بارے میں خبر دی گئی وہ بھی چاہیے بھئی۔ لہٰذا یہ جو ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ ہے اس کو حال پر محمول کرنا متعذر ہے۔ اس لیے کیونکہ اس کے لیے کوئی محکی عنہ نہیں ہے۔ جب اس کے لیے محکی عنہ ہی نہیں ہے تو اس کو آپ حال پر کیسے محمول کر سکتے ہیں؟ میں نے کیا بتایا؟ حال کے صیغے کے ذریعے خبر دی جاتی ہے اور اس کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ محکی عنہ چاہیے۔ محکی عنہ ہوگا تو آپ کا خبر دینا بھی صحیح، محکی عنہ نہیں ہے تو آپ کا خبر دینا بھی صحیح نہیں۔ تو ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ اس کے لیے تو محکی عنہ ہے، ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ کے لیے محکی عنہ نہیں۔ بھئی کس طرح؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ میں اپنی ذات کو اختیار کرتی ہوں، یہ لفظ اس نے زبان سے کہے ہیں۔ اور اختیار کس کے ذریعے کیا جاتا ہے؟ زبان سے اختیار کرتے ہیں یا دل سے؟ اختیار تو دل کا فعل ہے، ایک آدمی ایک چیز کو اختیار کرتا ہے یا اختیار نہیں کرتا، تو معلوم ہوا دل کا اختیار کرنا وہ ہوا محکی عنہ اور زبان کے ذریعے اس کی خبر دی جا رہی ہے۔ عورت نے کہا ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ معلوم ہوا یہ اپنے دل کی حالت کی خبر دے رہی ہے۔ دل کی جو حالت ہے وہ ہے محکی عنہ۔ اختیار کس نے کیا ہے؟ دل نے، اور زبان کے ذریعے وہ اظہار کر رہی ہے۔ اس دل کے فعل کا اظہار کر رہی ہے۔ تو یہ تو تھا اختیار، اختیار دل کا فعل ہے اور زبان کے ذریعے اس کا اظہار ہوتا ہے، جبکہ طلاق وہ تو زبان ہی کا فعل ہے۔ طلاق وہ تو زبان کا فعل ہے، خاوند دل میں سوچے میں نے طلاق دے دی، اس سے طلاق نہیں ہوتی۔ زبان سے کہے گا میں نے طلاق دے دی تو تب طلاق ہوگی۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا طلاق دینا یہ دل کا فعل نہیں ہے بلکہ زبان کا فعل ہے۔ تو لہٰذا ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ اس کے لیے کوئی محکی عنہ نہیں۔ اس کے لیے کوئی محکی عنہ نہیں ہے اور حال کے لیے تو محکی عنہ ضرور چاہیے ہوتا ہے، لہٰذا اس ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ کو حال پر محمول نہیں کر سکتے۔ کیا بات ہوئی؟ حاصل کلام کیا؟ کہ حال کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ محکی عنہ، کیونکہ حال کے صیغے کے ذریعے خبر دی جاتی ہے اور خبر کے لیے محکی عنہ چاہیے، محکی عنہ ہے تو یہ خبر بھی ہے، محکی عنہ نہیں تو خبر بھی نہیں۔ تو ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ اس کے اندر اختیار کا لفظ آ رہا ہے اور اختیار تو دل کا فعل ہے، تو ”أَخْتَارُ نَفْسِي“ جب زبان سے کہا تو وہ دل کا جو اختیار کرنا ہے وہ ہوا محکی عنہ، تو ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ کے لیے تو محکی عنہ ہے، اس کو تو ہم حال پر محمول کر سکتے ہیں کہ وہ دل کی بات زبان سے بتلا رہی ہے، لیکن طلاق یہ تو زبان ہی کا فعل ہے، اس کے لیے کوئی محکی عنہ الگ ہے ہی نہیں، لہٰذا اس کو حال پر محمول کرنا ممکن نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ قَوْلِهَا أُطَلِّقُ نَفْسِي“ بخلاف عورت کے قول ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ کے ”لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ حَمْلُهُ عَلَى الْحَالِ“ اس لیے کیونکہ اس کو حال پر محمول کرنا متعذر ہے یعنی ممکن نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِحِكَايَةٍ عَنْ حَالَةٍ قَائِمَةٍ“ حالت قائمہ ای حالت ثابتہ، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِحِكَايَةٍ عَنْ حَالَةٍ قَائِمَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ کسی ثابت شدہ حالت سے حکایت نہیں ہے، کیونکہ ”أُطَلِّقُ نَفْسِي“ کسی ثابت شدہ حالت سے حکایت نہیں ہے یعنی اس کے لیے محکی عنہ نہیں ہے بھئی۔ ”وَلَا كَذَلِكَ قَوْلُهَا أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ جبکہ عورت کا قول ”أَنَا أَخْتَارُ نَفْسِي“ وہ ایسا نہیں ہے ”لِأَنَّهُ حِكَايَةٌ عَنْ حَالَةٍ قَائِمَةٍ“ اس لیے کیونکہ وہ تو حکایت ہے یعنی وہ تو خبر ہے ”عَنْ حَالَةٍ قَائِمَةٍ“ ایک ثابت شدہ حالت سے ”وَهُوَ اخْتِيَارُهَا نَفْسَهَا“ اور وہ عورت کا اپنی ذات کو اختیار کرنا ہے یعنی دل میں، اس کے بارے میں وہ خبر ہے تو اس کو تو ہم حال پر محمول کر سکتے ہیں، لیکن ”أُطَلِّقُ“ کو حال پر محمول نہیں کر سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ ”أُطَلِّقُ“ زبان کا فعل ہے اور یہ حال کے ذریعے خبر دی جاتی ہے تو اس کے لیے محکی عنہ چاہیے ہوتا ہے اور یہاں ”أُطَلِّقُ“ کے لیے کوئی محکی عنہ نہیں ہے بھئی۔ اور نیز میں نے وجہ ذکر کر دی کیونکہ یہ متعارف نہیں ہے۔ مضارع کے صیغے کے ساتھ طلاق کا واقع کرنا متعارف نہیں ہے، اگر یہ متعارف ہوتا پھر طلاق واقع ہو جانی تھی۔ ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: اخْتَارِي اخْتَارِي اخْتَارِي، فَقَالَتْ: اخْتَرْتُ الْأُولَى أَوِ الْوُسْطَى أَوِ الْأَخِيرَةَ، طُلِّقَتْ ثَلَاثًا فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَلَا يُحْتَاجُ إِلَى نِيَّةِ الزَّوْجِ، وَقَالَا: تُطَلَّقُ وَاحِدَةً“ صورت مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا: ”اخْتَارِي اخْتَارِي اخْتَارِي“ تین دفعہ اختیار کا لفظ بولا۔ تو یاد رکھو میں نے بتلایا تھا کہ اور چیزوں کے اندر جو اختیار ہوتا ہے اس میں تعدد نہیں ہوتا، صرف طلاق کے اندر تعدد ہوتا ہے کہ خاوند ایک طلاق کا اختیار دے رہا ہے یا دو کا یا تین کا، لہٰذا یہاں پر بے شک نفس کا لفظ ذکر نہیں ہے لیکن ”اخْتَارِي“ تو تین دفعہ آ رہا ہے اور تین دفعہ اختیار تو طلاق میں ہو سکتا ہے، اور چیزوں میں تو نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہاں خاوند کی نیت کی بھی حاجت نہیں ہے اور اس سے عورت کہے گی ”اخْتَرْتُ“ تو ”اخْتَرْتُ“ کہتے ہی تینوں طلاقیں ہو جائیں گی، کیونکہ خاوند نے کیا کہا: ”اخْتَارِي اخْتَارِي اخْتَارِي“ تین طلاقوں کا اس کو مالک بنا دیا۔ تین طلاقوں کا اس کو مالک بنا دیا اور جب وہ کہے گی ”اخْتَرْتُ“ تو خاوند نے جس چیز کا مالک بنایا تھا اس کو اس نے اختیار کر لیا اور خاوند نے تو تین طلاقوں کا مالک بنایا تھا، لہٰذا تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔ لیکن اگر عورت کہتی ہے، عورت کہتی ہے: ”اخْتَرْتُ الْأُولَى“ میں نے پہلی والی کو اختیار کر لیا یا پہلے کلمے کو اختیار کر لیا، یا کہتی ہے: ”اخْتَرْتُ الْوُسْطَى“ میں نے درمیان والی کو اختیار کر لیا، یا کہتی ہے: ”اخْتَرْتُ الْأَخِيرَةَ“ میں نے آخر والی کو اختیار کر لیا، تو بھی امام صاحب فرماتے ہیں تینوں طلاقیں ہو جائیں گی۔ یہ جو ”الْأُولَى“ ”الْوُسْطَى“ ”الْأَخِيرَةَ“ وغیرہ جو صفت ذکر کرے گی اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ بس ”اخْتَرْتُ“ پایا گیا اور ”اخْتَرْتُ“ سے تین ہوتی تھیں تو یہاں بھی ”اخْتَرْتُ“ سے تین ہو جائیں گی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اس صورت میں ایک طلاق واقع ہوگی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ ”وَلَوْ قَالَ لَهَا: اخْتَارِي اخْتَارِي اخْتَارِي“ اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”اخْتَارِي اخْتَارِي اخْتَارِي“، ”فَقَالَتْ“ عورت کہتی ہے ”اخْتَرْتُ الْأُولَى“ میں نے پہلی کو اختیار کر لیا ”أَوِ الْوُسْطَى“ یا میں نے درمیان والی کو اختیار کر لیا ”أَوِ الْأَخِيرَةَ“ یا میں نے آخر والی کو اختیار کر لیا، ”طُلِّقَتْ ثَلَاثًا فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو اس کو تین طلاقیں ہو جائیں گی امام صاحب کے قول میں ”وَلَا يُحْتَاجُ إِلَى نِيَّةِ الزَّوْجِ“ اور خاوند کا یہ قول خاوند کی نیت کا بھی محتاج نہیں ہے، نیت نہ بھی ہو پھر بھی اس سے طلاق ہو جائے گی ”وَقَالَا: تُطَلَّقُ وَاحِدَةً“ اور صاحبین فرماتے ہیں اس صورت میں عورت کو ایک طلاق ہوگی۔ اب خاوند کی نیت کی کیوں نہیں ضرورت؟ میں نے بتلا دیا، کیونکہ وہ اختیار جو طلاق کے بارے میں ہو اس میں تعدد ہو سکتا ہے، اور کسی اختیار میں تعدد نہیں ہو سکتا، تو یہاں خاوند کا تکرار کے ساتھ ”اخْتَارِي“ لانا یہی بتلا رہا ہے کہ وہ طلاق کا اختیار دے رہا ہے، لہٰذا نیت کی حاجت نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا لَا يُحْتَاجُ إِلَى نِيَّةِ الزَّوْجِ“ اور اس کے اندر خاوند کی نیت کی بھی احتیاج نہیں ہوگی ”لِدَلَالَةِ التَّكْرَارِ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ تکرار جو ہے وہ اس طلاق پر دلالت کر رہی ہے ”إِذِ الِاخْتِيَارُ فِي حَقِّ الطَّلَاقِ هُوَ الَّذِي يَتَكَرَّرُ“ اس لیے کیونکہ وہ اختیار جو طلاق کے بارے میں ہو اسی اختیار میں تکرار ہوتا ہے اور کسی اختیار میں تکرار نہیں ہوتا۔ ”لَهُمَا“ اب صاحبین کی دلیل آ گئی۔ صاحبین فرماتے تھے اگر اس نے اولیٰ یا وسطیٰ یا اخیرہ کا لفظ ذکر کیا تو ایک طلاق ہوگی، امام صاحب فرماتے ہیں تینوں ہو جائیں گی۔ اب صاحبین کی دلیل: ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ ذِكْرَ الْأُولَى وَمَا يَجْرِي مَجْرَاهُ“ کہ اولیٰ کو جو عورت نے ذکر کیا یا جو بھی اس کے قائم مقام لفظ جس کو عورت نے ذکر کیا ”إِنْ كَانَ لَا يُفِيدُ مِنْ حَيْثُ التَّرْتِيبِ“ اگرچہ یہ فائدہ نہیں دیتا ترتیب کے اعتبار سے۔ عورت کا قول ترتیب کا فائدہ نہیں دے سکتا، اس لیے کیونکہ یہاں ترتیب ہے ہی نہیں بھئی، یہ ترتیب کا محل ہی نہیں ہے۔ ترتیب ہوتی ہے افعال میں، آپ ایک کام پہلے کرتے ہیں، دوسرا بعد میں کرتے ہیں، تیسرا بعد میں کرتے ہیں، تو ترتیب افعال میں ہوتی ہے، مجموعے کے اندر ترتیب نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک کمرے کے اندر دس آدمی بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے یہ پہلا ہے، یہ دوسرا ہے، یہ تیسرا ہے، یہ چوتھا ہے۔ آپ کسی کو بھی پہلے، دوسرے یا تیسرے کے ساتھ موصوف نہیں کر سکتے بھئی کیونکہ وہ سارے جمع ہیں کمرے میں اور ترتیب افعال میں ہوتی ہے، مجموعے کے افراد میں ترتیب نہیں ہوتی۔ پہلا، دوسرا یا تیسرا ہونا فعل کے اعتبار سے ہو سکتا ہے، مثلاً ایک ہو سکتا ہے پہلے آیا ہو، ایک بعد میں آیا ہو، ایک تیسرے نمبر پر آیا ہو تو آنے میں تو یہ پہلا، دوسرا، تیسرا ہو سکتے ہیں لیکن خود مجموعے کے اندر جمع ہونے کے اعتبار سے ان میں ترتیب نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا عورت کا ”الْأُولَى“ ”الْوُسْطَى“ اور ”الْأَخِيرَةَ“ یہ ترتیب کا فائدہ تو نہیں دے گا۔ ترتیب کا فائدہ نہیں دے گا۔ ترتیب کا فائدہ تو کہتے ہیں نہیں دے گا لیکن افراد کا فائدہ دے گا۔ خاوند نے بیوی کو تین طلاقوں کا مالک بنایا ہے، ان میں سے کوئی بھی پہلی، دوسری یا تیسری نہیں ہے۔ بس تینوں عورت کی ملک میں جمع ہو گئیں۔ اب جب اس نے ”الْأُولَى“ کہا تو اولیٰ تو ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، ہاں تو اولیٰ نے ترتیب کا فائدہ تو نہیں دیا لیکن ایک ہونے کا تو فائدہ دیا، معلوم ہوا ایک ہی نیت ہے عورت کی۔ ترتیب کا تو فائدہ نہیں لیکن افراد کا فائدہ دیا، اسی طرح اگر ”الْوُسْطَى“ کہا اس نے بھی ترتیب کا فائدہ نہیں دیا کیونکہ وسطیٰ کوئی ہے ہی نہیں، ہاں لیکن وسطیٰ سے اتنا پتہ چل گیا ایک مراد ہے عورت کی، تو ترتیب کا تو فائدہ نہیں ہوگا لیکن افراد کا فائدہ ہوگا اور ایک طلاق ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ صاحبین کی دلیل تھی۔ ”لَهُمَا أَنَّ ذِكْرَ الْأُولَى وَمَا يَجْرِي مَجْرَاهُ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ اولیٰ کا ذکر کرنا یا جو بھی لفظ اس کے قائم مقام ہے اس کو ذکر کرنا ”إِنْ كَانَ لَا يُفِيدُ مِنْ حَيْثُ التَّرْتِيبِ“ اگرچہ یہ ترتیب کے اعتبار سے تو فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ تو محل ترتیب ہی نہیں ہے ”وَلَكِنْ يُفِيدُ مِنْ حَيْثُ الْإِفْرَادِ“ لیکن یہ مفرد ہونے کے اعتبار سے فائدہ دے گا ”فَيُعْتَبَرُ فِيمَا يُفِيدُ“ لہٰذا یہ معتبر ہوگا اس چیز میں جس کا یہ فائدہ دے رہا ہے، لہٰذا ایک طلاق ہوگی۔ ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ هَذَا وَصْفٌ لَغْوٌ“ کہ یہ وصف لغو ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ”لِأَنَّ الْمُجْتَمِعَ فِي الْمِلْكِ لَا تَرْتِيبَ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ وہ طلاقیں جو عورت کی ملکیت میں جمع ہو گئی ہیں ان میں کوئی ترتیب نہیں ہے ”كَالْمُجْتَمِعِ فِي الْمَكَانِ“ جیسے وہ لوگ جو جمع ہو جائیں کسی جگہ میں، جیسے ان میں کوئی ترتیب نہیں ہوتی، کسی کو آپ پہلا یا دوسرا وغیرہ نہیں کہہ سکتے بھئی، تو ان طلاقوں میں بھی کوئی ترتیب نہیں ہے ”وَالْكَلَامُ لِلتَّرْتِيبِ“ اور یہ کلام تو ترتیب کا فائدہ دے رہا ہے، اولیٰ کا کیا معنی؟ پہلی، وسطیٰ کا کیا معنی؟ درمیان والی، اخیرہ کا کیا معنی؟ آخر والی، تو یہ کلام ترتیب کا فائدہ دینے کے لیے ہوتا ہے، اور ترتیب کا جب یہ فائدہ نہیں دے رہا تو پھر مفرد ہونا اس کی بنیاد اسی ترتیب پر تھی، مفرد ہونے کی بنیاد کس پر ہے؟ بھئی دیکھو اولیٰ کا کیا معنی؟ پہلے، اولیٰ کا کیا معنی؟ پہلا نا، یا طلاق ہے تو پہلی طلاق، تو اولیٰ کا معنی ہوا پہلی طلاق، اور پہلی طلاق تو کوئی بھی نہیں، تو معلوم ہوا یہ اولیٰ کا لفظ ترتیب کا فائدہ نہیں دے رہا اور اسی ترتیب پر مبنی تھا مفرد ہونا بھی۔ مفرد کیوں ہے؟ یہ پہلا ہے، یہ ایک ہے، یہ وسطیٰ ہے درمیان والا ہے معلوم ہوا یہ بھی ایک ہے، اخیرہ یہ آخر والا ہے یہ بھی ایک ہے، تو یہ کلام اصل میں کس لیے ہے؟ ترتیب کے لیے ہے، یوں کہو اصل میں یہ کلام ترتیب کے لیے ہے اور افراد ضمناً معلوم ہو رہی ہے۔ افراد، واحد ہونا ضمناً معلوم ہو رہی ہے، مثلاً عورت نے کہا ”اخْتَرْتُ الْأُولَى“، تو یہ اولیٰ ترتیب کے لیے ہے اصل میں، تو اصل یہ ترتیب کا فائدہ دے گا اور ضمناً مفرد ہونا بھی معلوم ہو جائے گا کہ ایک ہے۔ لیکن جب یہ ترتیب کا فائدہ نہیں دے گا تو ترتیب کے اوپر ہی تو بنیاد تھی مفرد ہونے کی، تو مفرد ہونے کا بھی فائدہ نہیں دے گا۔ جب ترتیب کا فائدہ نہیں یعنی جب اصل کا فائدہ نہیں تو جس اصل پر جس چیز کی بنیاد تھی یعنی مفرد ہونا اس کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو یہ اولیٰ، وسطیٰ، اخیرہ یہ صفت بالکل لغو ہوگی، اس کا اعتبار ہی نہیں، گویا عورت نے صرف ”اخْتَرْتُ“ کہا ہے اور ”اخْتَرْتُ“ تو خاوند نے تو اس کو تین طلاقوں کا مالک بنایا تھا، لہٰذا تینوں طلاقوں کو اس نے اختیار کر لیا اور تینوں واقع ہو گئیں۔ امام صاحب کی دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ هَذَا وَصْفٌ لَغْوٌ“ کہ یہ وصف لغو ہے ”لِأَنَّ الْمُجْتَمِعَ فِي الْمِلْكِ لَا تَرْتِيبَ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ وہ طلاقیں جو ملکیت کے اندر جمع ہیں ان میں کوئی ترتیب نہیں ہے ”كَالْمُجْتَمِعِ فِي الْمَكَانِ“ جیسے کہ وہ لوگ جو جمع ہوں ایک جگہ کے اندر ان میں کوئی ترتیب نہیں ہوتی ”وَالْكَلَامُ لِلتَّرْتِيبِ“ اور یہ کلام تو اصل میں کس لیے ہے؟ ترتیب کے لیے ہے ”وَالْإِفْرَادُ مِنْ ضَرُورَاتِهِ“ اور مفرد ہونا اس کی ضرورت میں سے ہے، پہلا ہوگا تو معلوم ہوا مفرد ہوگا، درمیان والا ہوگا معلوم ہوا مفرد ہوگا، آخر والا ہوگا معلوم ہوا مفرد ہوگا، تو اصل یہ کلام ترتیب کے لیے ہے اور مفرد ہونا اس کے ساتھ ضروری ہے بھئی، لیکن جب ترتیب کا فائدہ نہیں تو جب اصل کا فائدہ نہیں تو جس چیز کی بنیاد اس ترتیب پر تھی یعنی مفرد ہونا اس کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْكَلَامُ لِلتَّرْتِيبِ“ اور یہ کلام ترتیب کے لیے ہے ”وَالْإِفْرَادُ مِنْ ضَرُورَاتِهِ“ اور مفرد ہونا اس کی ضرورت میں سے ہے ”فَإِذَا لَغَا فِي حَقِّ الْأَصْلِ“ تو جب یہ کلام اصل کے حق میں لغو ہو گیا ”لَغَا فِي حَقِّ الْبِنَاءِ“ تو یہ مبنی ہونے کے حق میں بھی لغو ہو گیا، بناء کا معنی ہے بنیاد رکھنا، تو بنیاد رکھنے کے حق میں بھی لغو ہو گیا، جب یہ اصل یعنی ترتیب کا فائدہ نہیں دے رہا تو اس ترتیب پر جس چیز کی بنیاد تھی یعنی مفرد ہونا اس کا بھی فائدہ نہیں دے گا، یہ معنی ہے ”فَإِذَا لَغَا فِي حَقِّ الْأَصْلِ“ جب یہ کلام لغو ہو گیا اصل یعنی ترتیب کے حق میں ”لَغَا فِي حَقِّ الْبِنَاءِ“ تو وہ جس کی بنیاد رکھی گئی تھی اس کے حق میں بھی لغو ہو گیا یعنی مفرد ہونے کے حق میں بھی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَتْ: اخْتَرْتُ اخْتِيَارَةً، فَهِيَ ثَلَاثٌ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ اچھا بھئی خاوند نے کیا کہا: ”اخْتَارِي اخْتَارِي اخْتَارِي“ تین دفعہ کہا، عورت نے کہا: ”اخْتَرْتُ اخْتِيَارَةً“، تو کہتے ہیں اس صورت میں بالاتفاق تینوں طلاقیں ہو جائیں گی، اب صاحبین بھی فرماتے ہیں تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ”اخْتِيَارَةً“ مصدر لائی، اور ”اخْتِيَارَةً“ مصدر کا کیا معنی؟ اس کے ساتھ گول تا جڑی ہوئی ہے، اس کا معنی ایک مرتبہ اختیار کرنا، تو خاوند نے اس کو تین طلاقوں کا مالک بنایا ہے اور عورت کے کہنے کا مطلب ہے ”اخْتَرْتُ اخْتِيَارَةً“ کہ میں نے ایک مرتبہ اس کو اختیار کر لیا، اور جب ایک مرتبہ اختیار کیا تو خاوند نے تو تین کا مالک بنایا تھا تو اس نے ایک ہی مرتبہ میں تینوں کو اختیار کر لیا۔ ”وَلَوْ قَالَتْ: اخْتَرْتُ اخْتِيَارَةً“ اور اگر عورت نے ”اخْتَرْتُ اخْتِيَارَةً“ کہا ”فَهِيَ ثَلَاثٌ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ تو یہ تین طلاقیں ہوں گی ہمارے تینوں ائمہ کے قول میں ”لِأَنَّهَا لِلْمَرَّةِ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک مرتبہ کے لیے آتا ہے، یہ گول تا کس لیے آتی ہے؟ ایک مرتبہ کے لیے، ”فَصَارَتْ كَمَا إِذَا صَرَّحَتْ بِهَا“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے عورت نے مرہ کی تصریح کر دی ہے، یہ ”اخْتِيَارَةً“ کس لیے آتا ہے؟ یہ گول تا کس لیے آتی ہے؟ ”مَرَّةً“ کے لیے، تو گویا عورت نے ”مَرَّةً“ کی تصریح کر دی اور یوں کہا: ”اخْتَرْتُ مَرَّةً“ میں نے ایک مرتبہ اختیار کر لیا، تو جس چیز کا مالک بنایا تھا وہ ساری واقع ہو جائیں گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهَا لِلْمَرَّةِ“ اس لیے کیونکہ یہ وحدت والی تا جو ہے یہ ایک مرتبہ کے لیے ہوتی ہے ”فَصَارَتْ كَمَا إِذَا صَرَّحَتْ بِهَا“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے عورت نے ”مَرَّةً“ کی تصریح کر دی ہو ”وَلِأَنَّ الِاخْتِيَارَةَ لِلتَّأْكِيدِ“ دوسری دلیل، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ کہ بھئی یہ جو مصدر ہے ماقبل کلام کی تاکید کے لیے آتا ہے، تو اگر عورت صرف ”اخْتَرْتُ“ کہتی تو اس صورت میں بھی بالاتفاق تین طلاقوں نے ہونا تھا، تو اگر ”اخْتَرْتُ اخْتِيَارَةً“ مصدر کے ساتھ اس میں تاکید بھی پیدا کر دیں تو جب بغیر تاکید کے تین طلاقیں ہوں گی تو تاکید کے ساتھ بطریق اولیٰ تین طلاقیں ہوں گی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ الِاخْتِيَارَةَ لِلتَّأْكِيدِ“ اور اس لیے کیونکہ ”اخْتِيَارَةً“ کا مصدر جو ہے وہ تاکید کے لیے ہے ”وَبِدُونِ التَّأْكِيدِ يَقَعُ الثَّلَاثُ“ اور بغیر تاکید کے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ”فَمَعَ التَّأْكِيدِ أَوْلَى“ تو تاکید کے ساتھ بطریق اولیٰ تین طلاقیں ہوں گی۔ ”وَلَوْ قَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي أَوْ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ فَهِيَ وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ صورت مسئلہ یہ: خاوند نے بیوی سے کہا ”اخْتَارِي“، اور آپ نے پڑھا ہے عورت اگر کہے گی ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ تو ایک طلاق بائن ہو جائے گی، طلاق بائن، خاوند رجوع نہیں کر سکتا، لیکن اس کے جواب میں عورت دوسرے الفاظ استعمال کرتی ہے، صریح الفاظ، اور صریح سے تو طلاق رجعی ہوتی ہے، تو کیا یہاں طلاق رجعی ہوگی یا نہیں؟ اب وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَتْ“ اور اگر عورت نے کہا ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي“ تحقیق میں نے اپنی ذات کو طلاق دے دی، خاوند نے تو کہا تھا ”اخْتَارِي“ اور عورت نے کیا کہا ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي“، یعنی صریح لفظ استعمال کر لیا، ”أَوِ اخْتَرْتُ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ“ یا عورت کہتی ہے میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ”بِتَطْلِيقَةٍ“ ایک طلاق کے ساتھ، تو اب اس نے طلاق کا صریح لفظ ذکر کر دیا، ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ تو اب ایک ہی طلاق ہوگی ”يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ اور خاوند رجوع کا مالک ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هَذَا اللَّفْظَ يُوجِبُ الِانْطِلَاقَ“ انطلاق کا معنی ہے جدائی، انطلاق کا کیا معنی؟ جدائی، ”لِأَنَّ هَذَا اللَّفْظَ يُوجِبُ الِانْطِلَاقَ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ اس لیے کیونکہ یہ والا جو لفظ ہے، یہ جو ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي“ کہا یا ”اخْتَرْتُ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ“ کہا، توجہ ہے؟ یہ جو لفظ ہے ”يُوجِبُ الِانْطِلَاقَ“ یہ جدائی کو ثابت کرتا ہے ”بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ عدت کے گزر جانے کے بعد، بھئی صریح طلاق میں جدائی کب آتی ہے؟ صریح طلاق میں عدت کے گزرنے کے بعد بینونت اور جدائی آتی ہے، اس سے پہلے خاوند رجوع کر سکتا ہے، تو یہاں پر بھی عورت نے صریح لفظ استعمال کیا ہے، یہ تقاضا کرتا ہے کہ جدائی کب آئے گی؟ عدت کے بعد آئے گی، لہٰذا خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ هَذَا اللَّفْظَ يُوجِبُ الِانْطِلَاقَ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو صریح لفظ ہے یہ جدائی کو ثابت کرتا ہے عدت کے گزر جانے کے بعد ”فَكَأَنَّهَا اخْتَارَتْ نَفْسَهَا بَعْدَ الْعِدَّةِ“ تو گویا عورت نے اپنی ذات کو اختیار کیا ہے عدت کے بعد، کس کے بعد؟ عدت کے بعد، فی الحال اس نے اپنے آپ کو اختیار نہیں کیا تو ابھی طلاق بائن نہیں ہوئی، طلاق رجعی ہوئی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ یاد رکھو یہ جو مسئلہ آیا، شارحین یہاں اعتراض کرتے ہیں، وجہ یہ کہ اس مسئلے کے اندر کیا آیا کہ خاوند رجوع کر سکتا ہے، خاوند نے کیا کہا تھا؟ ”اخْتَارِي“ تو اپنے آپ کو اختیار کر لے، اور عورت نے جواب میں کیا کہا؟ ”قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي“ یا ”اخْتَرْتُ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ“، اور متن میں بتایا کہ اس صورت میں خاوند رجوع کر سکتا ہے، لیکن اور علماء، فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اس مسئلے میں خاوند رجوع نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ اعتبار اس طلاق کا ہے جو خاوند نے سپرد کی ہے، عورت نے جو طلاق واقع کی ہے اس کا اعتبار نہیں، اور ”اخْتَارِي“ کے ذریعے خاوند طلاق بائن سپرد کرتا ہے۔ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ عورت اپنی ذات کو اختیار کرتی ہے کہ یعنی میری ذات میرے ساتھ خاص ہے، میرے خاوند کا اب اس میں کوئی حق نہیں ہے، تو اس کے ذریعے طلاق بائن آتی ہے۔ تو لہٰذا یہاں خاوند نے عورت کو طلاق بائن حوالے کی ہے، تو جو عورت واقع کرے گی وہ بھی طلاق بائن ہی ہوگی، وہ طلاق رجعی کو واقع کر ہی نہیں سکتی کیونکہ طلاق رجعی کا تو مالک اس کو خاوند نے بنایا ہی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ لیکن یہاں تو آیا متن میں آیا: ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“، تو یاد رکھو شارحین فرماتے ہیں کہ یہ جو متن ہے یہ جامع صغیر کا متن ہے، آپ جانتے ہیں کہ ہدایہ کا متن جامع صغیر یا قدوری سے اخذ کیا ہے صاحب ہدایہ نے، تو یہ جامع صغیر کی عبارت ہے اور جامع صغیر میں یہ عبارت اسی طرح ہے: ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“، لیکن جامع کبیر کے اندر یہاں ”لَا“ موجود ہے، یہاں ”لَا“، یعنی ”لَا يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ خاوند رجوع کا مالک نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا جامع صغیر کے اندر لکھتے ہوئے یہ لفظ یہاں رہ گیا، ورنہ اصل میں کیا ہے؟ ”لَا يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“۔ تو جامع صغیر سے یہ متن لیا صاحب ہدایہ نے اور جامع صغیر کے اندر ”لَا“ نہیں تھا، اس عبارت سے کیا پتہ چل رہا تھا؟ خاوند رجوع کر سکتا ہے، اسی لیے صاحب ہدایہ نے دلیل بھی یہی ذکر کی کہ رجوع کر سکتا ہے خاوند، حالانکہ یہاں یہاں اصل مسئلہ کیا ہے؟ شارحین کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہاں رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ اعتبار کس کا ہے؟ جس طلاق کا خاوند نے مالک بنایا ہے، خاوند کے مالک بنانے کا اعتبار ہے، خاوند نے جس طلاق کا مالک بنایا ہے وہ معتبر ہے، عورت جو طلاق واقع کرتی ہے وہ معتبر نہیں ہے اور خاوند نے تو بائن کا مالک بنایا تھا تو واقع بھی کون سی ہوگی؟ بائن ہی ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا: أَمْرُكِ بِيَدِكِ فِي تَطْلِيقَةٍ أَوْ اخْتَارِي تَطْلِيقَةً فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ اچھا اگر خاوند نے بیوی سے یوں کہا: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ فِي تَطْلِيقَةٍ“، اگر خاوند صرف اتنا کہتا ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو پھر اس صورت میں طلاق بائن کا اختیار ہوتا، لیکن خاوند ”فِي تَطْلِيقَةٍ“ کہہ رہا ہے، تو صریح لفظ ساتھ ذکر کر رہا ہے، لہٰذا جب ایک صریح طلاق کا اختیار دے رہا ہے معلوم ہوا کون سی طلاق واقع ہوگی؟ رجعی واقع ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ فِي تَطْلِيقَةٍ“ کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے ایک طلاق کے اندر ”أَوْ اخْتَارِي تَطْلِيقَةً“ یا خاوند نے کہا ”اخْتَارِي تَطْلِيقَةً“ تو ایک طلاق کو اختیار کر لے، تو تطلیقہ یعنی صریح لفظ ذکر کر دیا ”فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا“ تو عورت نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ”فَهِيَ وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ“ تو یہ ایک طلاق ہوگی اور خاوند رجوع کا مالک ہوگا ”لِأَنَّهُ جَعَلَ لَهَا الِاخْتِيَارَ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے اختیار اس کو دے دیا ”لَكِنْ بِتَطْلِيقَةٍ“ لیکن کس چیز کا؟ ایک طلاق کا ”وَهِيَ مُعَقِّبَةٌ لِلرَّجْعَةِ“ اور طلاق جو ہے وہ تو اپنے پیچھے رجوع کو لاتی ہے، لہٰذا وہ رجوع کر سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.