سَبَق دیکھیے بھئی آگے: ”وَمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ تَزَوَّجْ هَذِهِ الْأَمَةَ فَتَزَوَّجَهَا نِكَاحًا فَاسِدًا وَدَخَلَ بِهَا فَإِنَّهُ يُبَاعُ فِي الْمَهْرِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا يُؤْخَذُ مِنْهُ إِذَا عَتَقَ، وَأَصْلُهُ أَنَّ الْإِذْنَ فِي النِّكَاحِ يَنْتَظِمُ الْفَاسِدَ وَالْجَائِزَ عِنْدَهُ فَيَكُونُ هَذَا الْمَهْرُ ظَاهِرًا فِي حَقِّ الْمَوْلَى“. گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے کفار کے مہر کے بارے میں چند مسائل ذکر فرمائے تھے۔ ایک صورت یہ ذکر فرمائی کہ اگر کوئی ذمی کسی ذمیہ کے ساتھ نکاح کر لیتا ہے دار الاسلام میں غیرِ مہر پر، یعنی مہر کو ذکر نہیں کیا یا مہر کی نفی کر دی، یا مردار پر نکاح کر لیا جو کہ کسی کے نزدیک بھی مال نہیں، اور یہ ان کے دین میں بھی جائز ہو کہ بغیر مہر کے بھی نکاح ہو سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب خاوند اس کو طلاق دے گا، چاہے صحبت سے پہلے طلاق دے، چاہے صحبت کے بعد طلاق دے، یا چاہے خاوند اس کو چھوڑ کر مرے، یعنی خاوند کا انتقال ہو جائے اور بیوی زندہ ہے، کسی بھی صورت میں بیوی کو مہر یا متعہ وغیرہ نہیں ملے گا۔ یعنی امام صاحب کے نزدیک ذمیوں کے ساتھ دار الاسلام میں بھی ان کے عقیدے کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا۔ تو ان دونوں میں سے کوئی مسلمان ہو گیا یا یہ دونوں ویسے ہی اپنا مقدمہ قاضی کے پاس لے آئے، اور مہر مقرر نہیں کیا تھا اور یہ ان کے دین میں جائز تھا تو قاضی انہی کے عقیدے کے مطابق فیصلہ کرے گا اور عورت کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اور نیز حربـیوں کے اندر بھی مسئلہ اسی طرح ہے۔ جب دار الاسلام کے ذمیوں کے اندر مسئلہ اس طرح ہے تو دار الحرب کے حربـیوں کے اندر بھی مسئلہ اسی طرح ہو گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ حربـیوں کے اندر تو قاضی یہی فیصلہ کرے گا کہ عورت کے لیے کچھ بھی مہر یا متعہ وغیرہ نہیں ہے، لیکن ذمی وہ تو دار الاسلام میں رہتے ہیں، انہوں نے تو ہمارے قوانین ماننے کا التزام کیا ہے اپنے اوپر، اور نیز ہمارے پاس ولایتِ الزام بھی ہے کیونکہ حکومت ہماری ہے، تو لہٰذا ذمی جو ہیں یہاں پر مملکتِ اسلامیہ کے اصولوں کے مطابق یہاں فیصلہ ہو گا، اور مملکتِ اسلامیہ کے اندر تو کوئی نکاح بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس عورت کو یا تو مہرِ مثل ملے گا اور اگر صحبت سے پہلے طلاق دی ہے تو متعہ ملے گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاہے ذمی ہوں، چاہے حربی ہوں، ہر صورت میں قاضی یہی فیصلہ کرے گا کہ عورت کو مہرِ مثل ملے گا اور اگر صحبت سے پہلے طلاق دی ہے تو متعہ ملے گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کی شریعت کے احکام عام ہیں، حضور علیہ السلام کو سب کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا، لہٰذا یہ سب حضور علیہ السلام کے امتی ہیں اور یہ شریعت کے قوانین ان پر بھی لاگو ہوں گے، لہٰذا ذمی ہوں یا حربی ہوں قاضی کے پاس اگر ان کا مقدمہ آئے تو قاضی شریعتِ اسلامی کے مطابق عورت کے لیے مہرِ مثل کا یا متعہ کا فیصلہ کرے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، ذمیوں سے بھی ان کے عقیدے کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا اور قاضی ان کے عقیدے کے مطابق فیصلہ کرے گا، اگر ان کے مذہب کے مطابق بغیر مہر کے نکاح جائز ہے تو قاضی بھی یہی فیصلہ کرے گا۔ وجہ یہ کہ ذمیوں نے دین کے اندر اور نیز وہ معاملات جن میں وہ ہمارے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں، ہمارے مخالف عقیدہ رکھتے ہیں، تو ان معاملات کے اندر ہمارے قوانین کا اپنے اوپر التزام نہیں کیا بھئی۔ اور نیز ہمیں ولایتِ الزام بھی ان پر حاصل نہیں ہے، کیونکہ ولایتِ الزام تو تلوار کے ذریعے ہوتی ہے یا بحث و مباحثے کے ذریعے ہوتی ہے، لیکن شریعت نے ہمیں ان دونوں چیزوں سے منع کیا ہے کیونکہ ذمیوں کے ساتھ ہم نے عقدِ ذمہ کیا ہوا ہے، ان کی جان و مال کی حفاظت کی ہم نے ذمہ داری لی ہوئی ہے، لہٰذا نہ تو تلوار کے ساتھ زبردستی ان پر یہ چیزیں لاگو کی جائیں گی اور نہ بحث و مباحثے کے ذریعے۔ تو جب نہ ان کے لیے التزام ہے اور نہ ان پر الزام ہو سکتا ہے، تو لہٰذا ان کے ساتھ ان کے عقیدے کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا، اور ان کے عقیدے کے مطابق تو بغیر مہر کے بھی نکاح جائز ہے تو پھر عورت کے لیے مہر یا متعہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ تو یہ ذمی بھی حربـیوں کی طرح ہو گئے، جیسے حربـیوں نے ہمارے قوانین کو ماننے کا التزام بھی نہیں کیا اور وہاں پر ہمارے لیے ولایتِ الزام بھی نہیں کیونکہ وہاں ہمارے حاکم کی حکومت نہیں ہے۔ تو یہ ذمی بھی کس کی طرح ہو گئے؟ حربـیوں کی طرح، اور حربـیوں میں تو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں اے صاحبین کہ وہاں عورت کو کچھ نہیں ملے گا، تو یہاں پر بھی ذمیوں کا بھی مسئلہ اسی طرح ہو گا، عورت اگر قاضی کے پاس یہ مسئلہ لے آئی تو عورت کے لیے کوئی مہر یا متعہ وغیرہ نہیں ہو گا بھئی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ایک اور مسئلہ ذکر فرمایا کہ ایک ذمی نے ذمیہ کے ساتھ نکاح کر لیا کسی معین شراب پر یا معین خنزیروں پر، اور پھر ان پر قبضہ کرنے سے پہلے یہ دونوں مسلمان ہو گئے یا دونوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو گیا، تو بھی امام صاحب فرماتے ہیں اس ذمیہ عورت کے لیے وہی معین شراب یا وہی معین خنزیر ہوں گے، یہی اس کو ملیں گے بھئی۔ اور اگر شراب اور خنزیر غیرِ معین ہوئے جن پر نکاح کیا ہے، تو اس صورت میں شراب کی تو قیمت دیں گے جبکہ خنزیر کے اندر پھر مہرِ مثل آئے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ معین اور غیرِ معین شراب اور خنزیر کا ایک ہی حکم ہے۔ البتہ آپس میں صاحبین کا اختلاف ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شراب اور خنزیر چاہے معین ہوں یا غیرِ معین، ایک ہی حکم ہو گا اور مہرِ مثل آئے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شراب اور خنزیر معین ہوں یا غیرِ معین، ایک ہی حکم ہو گا اور دونوں صورتوں میں اس شراب یا خنزیر کی قیمت دینا پڑے گی۔ اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے ان کی دلیل ذکر فرمائی، اور وہاں میں نے آپ کو ایک دو باتیں تمہید کے طور پر بتلائی تھیں کہ یاد رکھو بیع کے اندر مبیع کے اندر قبل القبض تصرف جائز نہیں، البتہ ثمن کے اندر قبل القبض بھی تصرف جائز ہے۔ ہاں، مشتری جب مبیع پر قبضہ کر لے گا پھر اس کے لیے مبیع میں بھی تصرف جائز ہے۔ تو لہٰذا یہاں بیع کے اندر قبضے کی مشابہت آ گئی عقد کے ساتھ، کیونکہ عقد کی وجہ سے ملکِ عین آتی ہے، مشتری اس چیز کی عین یعنی ذات کا ہی مالک بن جاتا ہے، اور جب اس پر قبضہ کر لے گا تو ملکِ تصرف بھی اس کو حاصل ہو جائے گی، اب وہ اس میں تصرف بھی کر سکتا ہے۔ تو جیسے عقد کی وجہ سے ملکِ عین آئی، یعنی ایک ایسی چیز آئی جو پہلے نہیں تھی، اسی طرح قبضے کی وجہ سے بھی ملکِ تصرف آ گئی، یعنی ایک ایسی چیز جو پہلے نہیں تھی، تو قبضہ مشابہ ہو گیا عقد کے۔ قبضہ کس کے مشابہ ہوا؟ عقد کے مشابہ ہو گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معین شراب اور معین خنزیر کی بات چل رہی ہے۔ تو قبضہ جو ہے عقد کے مشابہ ہو گیا، اور شراب اور خنزیر پر تو اسلام نے عقد سے منع کیا ہے، جب عقد سے منع کیا ہے تو قبضے سے بھی منع کیا ہے، اس لیے کیونکہ قبضہ بھی عقد کے مشابہ ہے بھئی۔ اور نیز میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر غیرِ معین شراب یا خنزیر پر عقد کیا جائے، تو جس وقت عورت اس غیرِ معین شراب یا خنزیر پر قبضہ کرے گی اسی وقت وہ مالک بھی بنے گی اور اسی وقت اس کو تصرف کا حق بھی ملے گا۔ تو غیرِ معین شراب اور خنزیر میں تو بالاتفاق عورت ان پر قبضہ کر ہی نہیں سکتی جب دونوں مسلمان ہو جائیں یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہو جائے، اس لیے کیونکہ اس صورت میں اگر دونوں مسلمان ہوئے ہیں تو شراب اور خنزیر کا نہ تملک جائز ہے نہ تملیک جائز ہے، عورت اگر ان پر قبضہ کرے گی، کس میں؟ غیرِ معین، عورت قبضہ کرے گی تو خاوند کی طرف سے تملیک لازم آئے گی اور عورت کی طرف سے تملک یعنی مالک بننا لازم آئے گا، اور یہ دونوں تو منع ہیں شریعتِ اسلامیہ میں۔ اور اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہوا ہے، مثلاً عورت مسلمان ہوئی ہے، تو اس صورت میں اگر وہ غیرِ معین شراب اور خنزیر پر قبضہ کرے گی تو اس وقت تملک لازم آئے گا اور تملک بھی منع ہے۔ اور اگر صرف خاوند مسلمان ہوا ہے تو خاوند کی طرف سے تملیک لازم آئے گی اور تملیک بھی منع ہے۔ تو معلوم ہوا غیرِ معین شراب اور خنزیر پر عورت قبضہ کر ہی نہیں سکتی جب دونوں مسلمان ہو جائیں یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہو جائے، تو غیرِ معین شراب اور خنزیر پر عورت قبضہ نہیں کر سکتی۔ اور معین کے اندر بھی ہم نے بتلا دیا تھا کہ اس کے اندر بھی عورت قبضہ نہیں کر سکتی کیونکہ اس قبضے کی مشابہت ہے کس کے ساتھ؟ عقد کے ساتھ۔ تو لہٰذا معین اور غیرِ معین دونوں کا ایک ہی حکم ہو گیا، دونوں میں سے کسی ایک پر بھی عورت کے لیے قبضہ جائز نہیں ہے۔ تو دونوں کا ایک جیسا حکم ہو گیا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اسلام کی حالت میں یہ دونوں میاں بیوی عقد کرتے اور شراب یا خنزیر پر عقد کرتے چاہے وہ معین ہوتے چاہے غیرِ معین، تو اس صورت میں مہرِ مثل نے آنا تھا، تو یہاں بھی دونوں صورتوں میں مہرِ مثل آئے گا، چاہے شراب اور خنزیر معین ہوں چاہے غیرِ معین۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر دونوں نے ذمی ہونے کی حالت میں نکاح کیا ہے، اور ذمیوں کے نزدیک تو شراب اور خنزیر مال ہیں، لہٰذا مسمیٰ تو ٹھیک ہوا، یعنی وہ مقررہ مہر تو ان کے مذہب کے مطابق ٹھیک ہوا، لیکن اب دونوں میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہے یا دونوں مسلمان ہو چکے ہیں، اب خاوند ادائیگی سے عاجز آ گیا کیونکہ ادائیگی کرے گا تو تملیک یا تملک لازم آئے گا اور وہ تو جائز نہیں۔ اور جب خاوند مقررہ مہر کی ادائیگی سے عاجز آ جائے تو وہاں بالاتفاق قیمت آیا کرتی ہے، جیسے کسی شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور کہا یہ جو میرا غلام ہے یہ میں تمہیں بطورِ مہر کے دوں گا، چنانچہ نکاح ہو گیا، بعد میں ابھی خاوند نے یہ غلام عورت کے حوالے نہیں کیا تھا کہ اس سے پہلے ہی غلام کا انتقال ہو گیا، تو دیکھو خاوند مہرِ مسمیٰ کو حوالے کرنے سے عاجز آ گیا، اور اس صورت میں بالاتفاق خاوند کو اب اس غلام کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو یہاں پر بھی، یہاں پر بھی خمر یا خنزیر پر نکاح کیا ہے، اور دونوں مسلمان ہوئے یا دونوں میں سے ایک مسلمان ہوا تو اب اس خمر یا خنزیر کی ادائیگی متعذر ہو گئی، خاوند اس کی ادائیگی سے عاجز آ گیا، تو اب اس صورت میں اس کو ان کی قیمت دینا پڑے گی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، مبیع اور مہر کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مبیع کے اندر عقد سے صرف ملکیت آتی ہے اور قبضے سے تصرف آتا ہے، لیکن مہر کے معاملے میں جب مہرِ معین پر نکاح کیا جاتا ہے تو عقد کرتے ہی عورت اس مہرِ معین کی مالکن بھی بن جاتی ہے اور ساتھ ہی اس کو حقِ تصرف بھی مل جاتا ہے۔ بیع میں تو حقِ تصرف قبضے کے بعد ملتا تھا، لیکن مہرِ معین کے اندر عقد ہوتے ہی عورت کو، عورت کو ملکِ تصرف بھی حاصل ہو گئی۔ اب صرف خاوند کے قبضے میں ہے وہ معین شراب یا خنزیر، باقی مالک بھی عورت ہے اور تصرف کا حق بھی عورت کو ہے، تو لہٰذا جب خاوند اس کے حوالے کرے گا تو خاوند کے ضمان سے وہ چیز نکل کر عورت کے ضمان میں آ جائے گی، صرف اتنا فرق پڑے گا، یعنی صرف قبضہ بدلے گا، باقی ملکیت اور تصرف تو پہلے سے ہی عورت کے لیے ثابت ہے، اور صرف قبضہ بدلنا یہ تو شریعتِ اسلامیہ کے اندر ممتنع نہیں ہے، جیسے کوئی شخص کسی ذمی کی شراب غصب کر لے، غصب کر لے اور پھر وہ ذمی مسلمان ہو گیا، تو اب بھی اس کو حق حاصل ہے یہ اپنی شراب اس شخص سے واپس لے سکتا ہے، تو دیکھو یہاں پر بھی اس شخص کے قبضے سے شراب نکلے گی اور اس ذمی جو اب مسلمان ہو چکا ہے اس کے قبضے میں آ جائے گی، اور شریعت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے، اسی لیے تو اس کو واپس لینے کا حق ہے اس جو یہ ذمی جو مسلمان ہو گیا ہے۔ اگر قبضہ ہی جائز نہ ہوتا تو اس کے لیے وہ غصب شدہ شراب واپس لینا بھی جائز نہ ہوتا۔ تو معلوم ہوا کہ معین شراب اور خنزیر کے اندر وہی شراب یا خنزیر عورت کو ملے گی کیونکہ وہ پہلے سے اس کی مالک بھی بن چکی ہے اور صاحبِ تصرف بھی بن چکی ہے۔ جبکہ غیرِ معین شراب اور خنزیر کے اندر تو قبضہ ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ عورت قبضہ کرے گی تو اسی وقت مالکن بھی بنے گی اور اسی وقت صاحبِ تصرف بھی بنے گی بھئی، لہٰذا اس پر تو قبضہ نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا جب وہاں پر قبضہ متعذر ہو گیا، عورت غیرِ معین شراب اور خنزیر پر قبضہ نہیں کر سکتی، تو پھر ہم نے کہا اگر خنزیر مہر مقرر کیا تھا تو پھر مہرِ مثل دینا پڑے گا، خنزیر کی قیمت بھی نہیں دے سکتے، اس لیے کیونکہ خنزیر ذوات القیم میں سے ہے، اور ذوات القیم کے اندر قیمت دینا اسی طرح ہے گویا عین وہی شے دے رہا ہے، تو لہٰذا خنزیر میں قیمت بھی نہیں دے سکتا بلکہ مہرِ مثل دینا پڑے گا۔ جبکہ شراب کے اندر، شراب تو مثلیات میں سے ہے، اور مثلیات کے اندر اگر کسی کے ذمے مثلیات ہوں تو اس کا مثل دینا پڑتا ہے، لیکن یہاں تو شراب ہے، اس کا مثل تو شراب ہی ہے وہ تو نہیں دے سکتے تو پھر اس کی قیمت دیں گے، اور مثلیات کی قیمت یہ عینِ مثلی دینا نہیں ہے بلکہ یہ اس کا بدل دے رہا ہے، اور شراب کا بدل دینا تو مسلمان کے لیے جائز ہے، شراب دینا تو جائز نہیں لیکن اس کا بدل دینا تو جائز ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتایا کہ اگر خاوند نے صحبت سے پہلے بیوی کو طلاق دے دی، تو پھر اس صورت میں جن ائمہ نے مہرِ مثل کو واجب کیا ہے تو ان صورتوں میں عورت کو متعہ ملے گا بھئی، متعۃ الطلاق وہ تین کپڑے ملیں گے، اور جن ائمہ نے، جن مسئلوں کے اندر قیمت کو واجب کیا ہے تو صحبت سے پہلے اگر خاوند نے طلاق دی تو عورت کو نصفِ قیمت یعنی نصفِ مہر ملے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد ہم نے غلاموں کے نکاح کے مسائل پڑھنا شروع کیے تھے۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ غلام اور باندی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ غلام کو شریعت نے جو نکاح کی اجازت دی ہے وہ اس کے آدمی ہونے کے اعتبار سے دی ہے، اور آقا جو غلام کا مالک ہوتا ہے وہ اس کے مال ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے، تو غلام کو جس اعتبار سے نکاح کی اجازت ہے اس اعتبار سے آقا اس کا مالک ہی نہیں ہے، لہٰذا غلام اپنی مرضی سے نکاح کر سکتا ہے۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ غلام طلاق کا مالک ہوتا ہے، جب نکاح کر لے تو طلاق کا مالک خود غلام ہوتا ہے، تو جب غلام طلاق کا مالک ہے تو وہ نکاح کا بھی مالک ہو گا، اس لیے کیونکہ طلاق نام ہے ازالۂ نکاح کا، نکاح کو ختم کرنا، نکاح کا ازالہ کرنا، تو جب غلام ازالۂ نکاح کا مالک ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ وجودِ نکاح کا بھی اسی کو مالک ہونا چاہیے بھئی۔ جبکہ عند الاحناف غلام یا باندی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے، اگر یہ نکاح کریں گے بھی تو بھی وہ آقا کی اجازت پر موقوف رہے گا، اگر آقا نے اجازت دے دی تو وہ نافذ ہو جائے گا، اگر آقا نے رد کر دیا تو وہ نکاح باطل ہو جائے گا۔ اور ہم دلیل کے طور پر حدیث پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُ فَهُوَ عَاهِرٌ“، کہ جس غلام نے بھی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا وہ زناکار ہے۔ اور نیز عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر کی کہ غلام یا باندی کے اندر جو نکاح ہے یہ تاجروں کے ہاں عیب شمار ہوتا ہے، اس کی وجہ سے اس غلام یا باندی کی قیمت کم ہو جاتی ہے، لہٰذا غلام یا باندی کو نکاح کرنے کی یعنی آقا کے مال میں عیب پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہو گی بھئی۔ اور اسی طرح حکم ہے مکاتب کا بھی، اور مکاتب وہ غلام ہے جس سے آقا نے عقدِ کتابت کر لیا کہ اتنے عرصے میں اتنا مال لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ یہ جو مکاتب ہے، یاد رکھو باقی پابندیاں تو اس پر ہیں البتہ کمائی کے معاملے میں شریعت نے اس کو آزاد انسان جیسا کر دیا، اب یہ جائے گا جا کر پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، آزادی بہت بڑی نعمت ہے، یہ کوئی معمولی چیز نہیں، کون اپنے غلام کو مکاتب بناتا ہے، کون اس کو آزادی کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن یہاں اس کے آقا نے اس کو موقع فراہم کر دیا ہے آزادی کا تو شریعت نے بھی اس کو، شریعت نے بھی اس پر سے پابندی ہٹا دی کہ یہ جائے پوری کوشش کرے اپنے آپ کو آزاد کروا لے۔ تو کمائی کے معاملے میں مکاتب جو ہے آزاد آدمی کی طرح ہے، البتہ نکاح کے معاملے میں وہ عام غلاموں کی طرح ہے، آقا کی اجازت کے بغیر وہ نکاح نہیں کر سکتا بھئی۔ اور اسی طرح مکاتبہ بھی ہے۔ البتہ یہ مکاتب اور مکاتبہ اپنی باندی کا نکاح کروا سکتے ہیں، وجہ یہ کہ باندی کا نکاح کروائیں گے تو باندی کا مہر ملے گا اور نیز اس سے جو اولاد حاصل ہو گی وہ بھی غلام اور باندیاں شمار ہوں گے، تو اس میں تو کمائی کی صورت ہے لہٰذا اس کی تو ان کو اجازت ہو گی مکاتب اور مکاتبہ کو کہ اپنی باندیوں کا نکاح کروا سکتے ہیں، لیکن یہ خود نکاح نہیں کر سکتے اور اپنے غلام کا نکاح بھی نہیں کروا سکتے بھئی۔ اور مدبر اور ام ولد کا بھی یہی حکم ہے، وہ بھی آقا کی مرضی کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے، مدبر وہ غلام جسے آقا نے کہہ دیا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، اور ام ولد وہ باندی جس نے ایک بچے کو جنم دیا اور آقا نے پھر اقرار کر لیا کہ یہ میرا بچہ ہے تو یہ اس کی ام ولد بن گئی، تو یہ دونوں بھی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے۔ اور اگر غلام کو آقا نکاح کی اجازت دے دے اور غلام نکاح کر لے، تو وہ جو مہر ہو گا وہ غلام کے رقبے میں دین ہو گا، اس کی ذات پر دین ہو گا۔ اور چونکہ وہ نکاح آقا کی اجازت سے کیا تھا تو یہ دین آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے بھئی، کیونکہ اس کی اجازت سے نکاح کیا تھا، تو لہٰذا آقا کو یا تو اب غلام کا مہر خود ادا کرنا پڑے گا یا اس غلام کو اس مہر کی ادائیگی کے لیے بیچا جائے گا اور پھر جو پیسے وصول ہوں گے اس کے ذریعے مہر کی ادائیگی کی جائے گی بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں مدبر یا مکاتب نے اپنے آقا کی اجازت سے نکاح کیا ہے تو پھر ان کو نہیں بیچا جائے گا کیونکہ ان کا حقِ آزادی ضائع ہوتا ہے، تو لہٰذا وہ جائیں گے اور جا کر کوئی کام کاج کریں گے، پیسے کمائیں گے اور اپنی کمائی کے ذریعے وہ مہر ادا کریں گے۔ اس کے بعد آخر میں صاحبِ ہدایہ نے ایک مسئلہ ذکر فرمایا کہ غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا اور آ کر آقا کو بتلایا تو آقا نے کہا ”طَلِّقْهَا“، اس عورت کو طلاق دے دے، یا ”فَارِقْهَا“، اس عورت سے جدائی اختیار کر لے، تو کیا اس کو اجازت پر محمول کریں گے یا رد پر؟ بھئی آقا اجازت دے گا تو نکاح ہو جائے گا اور آقا رد کرے گا تو نکاح باطل ہو جائے گا۔ اب دیکھو ان کے اندر اجازت کا بھی احتمال ہے، ”طَلِّقْهَا“ کہ تو اس عورت کو طلاق دے دے، اور طلاق تو نکاح کے بعد آتی ہے، معلوم ہوا نکاح کی اجازت دے رہا ہے اور اس کے بعد طلاق کا حکم دے رہا ہے۔ ”فَارِقْهَا“ میں بھی اسی طرح ہے کہ جدا ہو جائے، یعنی نکاح تو ہو گیا ہے لیکن اب تو کیا کر لے؟ اس عورت سے جدا ہو جا۔ تو اس میں اجازت والا بھی احتمال ہے اور نیز اس میں رد کا بھی احتمال ہے کہ آقا نکاح کو رد کر رہا ہے، اور آقا نکاح کو رد کرے گا تو وہ منعقد ہی نہیں ہو گا، نافذ ہی نہیں ہو گا، باطل ہو جائے گا۔ تو اب اس کو کس پر محمول کیا جائے؟ اجازت پر یا رد پر؟ کہتے ہیں یہاں یہ جو غلام ہے یہ نافرمان ہے اور اس کے لائق یہی ہے کہ اس کو رد پر محمول کیا جائے، اور نیز یہ جو عقد ہے اس کو ترک کرنا اور اس میں جدائی اختیار کرنا اس کے لیے بھی طلاق کا لفظ مجازاً استعمال کر لیا جاتا ہے، تو یہاں اس سے مجازاً اس سے رد ہی مراد لیا جائے گا۔ اور نیز اس لیے بھی، نیز اس لیے بھی کیونکہ ایک ہے دفعِ نکاح اور ایک ہے رفعِ نکاح، دفعِ نکاح نکاح کے آنے سے پہلے ہی اس کو دفع کر دینا یعنی رد کر دینا، باطل کر دینا، اور ایک ہے رفعِ نکاح کہ پہلے نکاح کو ثابت مانا جائے اور پھر اس کو طلاق وغیرہ کے ذریعے اٹھایا جائے بھئی۔ تو دفعِ نکاح میں صرف ایک چیز ہے کہ اس کو رد کر دیا، اور رفعِ نکاح میں دو چیزیں ہیں کہ پہلے نکاح کو مانا جائے اور پھر اس کو رفع کیا جائے، اٹھایا جائے۔ تو معلوم ہوا دفع آسان ہے رفع کے مقابلے میں، دفع کے اندر ایک چیز ہے اور رفع میں دو چیزیں ہیں: نکاح بھی اور پھر اس کو اٹھانا بھی۔ تو لہٰذا جو ادنیٰ ہے، کم درجے والا ہے اس کو ماننا آسان ہے، تو اس لیے اس کو دفع یعنی رد پر محمول کیا جائے گا، رفع پر یعنی اجازت پر محمول نہیں کیا جائے گا۔ اور جبکہ اس کے مقابلے میں اگر غلام آقا کے پاس آیا، اس نے بغیر اجازت کے نکاح کیا ہے اور آقا کو بتلایا، اور آقا نے اس کو کہا کہ اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دے دے، تو اس صورت میں پھر یہ اجازت ہے کیونکہ طلاقِ رجعی تو نکاحِ صحیح کے بعد ہی آیا کرتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ تَزَوَّجْ هَذِهِ الْأَمَةَ فَتَزَوَّجَهَا نِكَاحًا فَاسِدًا وَدَخَلَ بِهَا فَإِنَّهُ يُبَاعُ فِي الْمَهْرِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا يُؤْخَذُ مِنْهُ إِذَا عَتَقَ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ آقا نے غلام کو نکاح کی اجازت دے دی کہ ”تَزَوَّجْ هَذِهِ الْأَمَةَ“، اس باندی سے نکاح کر لو۔ یاد رکھو یہ ”هَذِهِ الْأَمَةَ“ کی قید متن میں موجود ہے، آقا نے غلام سے کیا کہا؟ ”تَزَوَّجْ هَذِهِ الْأَمَةَ“، اس باندی سے نکاح کر لو۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ قیدِ اتفاقی ہے بھئی، یہ ضروری نہیں کہ باندی کے ساتھ ہی نکاح کی اجازت دے، آزاد عورت کے ساتھ بھی اگر آقا نکاح کی اجازت دے گا تو مسئلہ اسی طرح ہو گا۔ تو صورت یہ: آقا نے اپنے غلام کو اجازت دے دی کہ نکاح کر لو، اور اس نے جا کر نکاحِ فاسد کر لیا، یعنی اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس نے بغیر گواہوں کے ہی اس عورت کے ساتھ ایجاب و قبول کر لیا، اور پھر اس کے ساتھ اس نے صحبت بھی کر لی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاحِ فاسد کا کوئی حکم نہیں ہے، وہ کالعدم ہے، اس کا اعتبار ہی کوئی نہیں۔ ہاں، اگر نکاحِ فاسد کے بعد خاوند نے بیوی سے صحبت کر لی پھر اب احکام آ جائیں گے، اب مہر بھی دینا پڑے گا، اب عورت کو بعد میں عدت بھی گزارنا پڑے گی جدائی کے بعد، اور نیز اگر عورت حاملہ ہو گئی اور اس نے کسی بچے کو جنم دیا تو وہ بچہ بھی اسی خاوند کا شمار ہو گا، وہ ثابت النسب ہو گا، اس کو ولد الزنا شمار نہیں کیا جائے گا بھئی۔ تو اب آقا نے اجازت دی اور غلام نے جا کر نکاحِ فاسد کر لیا اور صحبت بھی کر لی، تو اب کیا یہ جو غلام کے اوپر مہر آ گیا، کیونکہ صحبت کر لی ہے نکاحِ فاسد میں، مہر اس کے اوپر آ گیا، تو یہ جو مہر ہے کیا یہ آقا کے حق میں ظاہر ہے؟ کیا یہ آقا کو ادا کرنا پڑے گا اور اگر وہ ادا نہیں کرتا تو غلام کو بیچنا پڑے گا؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں ہاں، آقا نے جب اس کو اجازت دی تھی نکاح کی تو یہ اجازت عام ہے، مطلق ہے، یہ نکاحِ صحیح کو بھی شامل اور نکاحِ فاسد کو بھی شامل ہے، لہٰذا آقا کی اجازت سے گویا یہ نکاح ہوا اور آقا کی اجازت سے یہ مہر اس غلام پر واجب ہوا ہے، لہٰذا آقا کے حق میں بھی یہ مہر ظاہر ہے، لہٰذا یہ مہر یا تو آقا ادا کرے ورنہ اس غلام کو بیچنا پڑے گا اور اس کے ذریعے مہر ادا کیا جائے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، آقا نے اس کو اجازت دی تھی نکاح کی اور اس سے مراد نکاحِ صحیحہ ہے، نکاحِ فاسد مراد نہیں، جب نکاحِ فاسد اس سے مراد ہی نہیں ہے تو معلوم ہوا یہ جو اس نے نکاح کیا ہے اور یہ جو صحبت کی ہے اس کی تو آقا نے اس کو اجازت ہی نہیں دی تھی۔ جب اجازت ہی نہیں دی تھی تو غلام نے یہ گویا اپنی طرف سے ایک کام کیا ہے، جب اپنی طرف سے ایک کام کیا ہے تو اس دین کا ذمہ دار آقا نہیں ہے، لہٰذا آقا سے نہ تو یہ دین وصول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس غلام کو بیچ کر اس کو وصول کیا جائے گا، بلکہ یہ دین غلام پر لازم ہے۔ غلام کی ذات پر یہ دین آ گیا، اگر کبھی زندگی میں آقا نے اس کو آزاد کر دیا یا کسی اور نے خرید کر آزاد کر دیا تو پھر اس وقت اس سے اس دین کا مطالبہ کیا جائے گا اور یہ جا کر کمائی کرے گا اور اس مہر کو ادا کرے گا۔ یعنی فی الحال نہ آقا سے اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے اور نہ اس غلام کو بیچ کر یہ مہر وصول کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے آقا کی مخالفت کی ہے۔ آقا کی اجازت کے مطابق اس نے نکاح نہیں کیا، جب آقا کی اجازت کے مطابق نکاح نہیں کیا تو یہ جو مہر اس کے اوپر آیا ہے نکاحِ فاسد اور پھر وطی کی وجہ سے یہ آقا کے حق میں ظاہر ہی نہیں ہے، آقا نے تو اس کی اجازت نہیں دی تھی لہٰذا آقا سے اس کا مطالبہ بھی نہیں اور اس غلام کو بیچ کر اس دین کو وصول بھی نہیں کیا جائے گا۔ بھئی جب آپ غلام کو بیچیں گے تو آقا کا نقصان ہو گا یا نہیں؟ اس کے ہاتھ سے غلام نکل جائے گا اور اسی سے پھر مہر وصول ہو جائے گا اور جو باقی بچے گا وہ آقا کو ملے گا، تو آقا کا تو نقصان ہو گیا، کہتے ہیں نہیں، آقا کا اس نکاحِ فاسد میں اور اس وطی کے اندر آقا کی کوئی اجازت نہیں تھی، لہٰذا یہ دین آقا کے حق میں ظاہر نہیں ہے۔ یہ غلام پر ہی آئے گا، اور غلام اگر کبھی آزاد ہو گیا پھر اس سے یہ مطالبہ ہو گا اور پھر اس کو ادا کرنا پڑے گا، اس سے پہلے اس کی وصولی کی اب کوئی صورت نہیں ہے۔ جبکہ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ آقا نے نکاح کی اجازت دی ہے اور نکاح کا لفظ مطلق ہے، یہ نکاحِ صحیح کو بھی شامل اور نکاحِ فاسد کو بھی شامل، لہٰذا یہ جو مہر بھی غلام پر آیا ہے یہ گویا آقا کی اجازت سے آیا ہے تو یہ آقا کے حق میں ظاہر ہے، جب آقا کے حق میں ظاہر ہے تو اب آقا سے یہ وصول کیا جائے گا، اگر وہ نہیں دیتا تو اس غلام کو بیچ کر وہ وصول کیا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ“ اور جس شخص نے اپنے غلام سے کہا ”تَزَوَّجْ هَذِهِ الْأَمَةَ“ کہ اس باندی سے نکاح کر لے، نکاح کا حکم دے رہا ہے یعنی اجازت دے رہا ہے، اور میں نے بتایا ”هَذِهِ الْأَمَةَ“ کی قید اتفاقی ہے، آزاد عورت سے نکاح کی اجازت دے تب بھی یہی مسئلہ ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ قَالَ لِعَبْدِهِ“ اور جس شخص نے اپنے غلام سے کہا ”تَزَوَّجْ هَذِهِ الْأَمَةَ“ کہ تو اس باندی سے نکاح کر لے ”فَتَزَوَّجَهَا نِكَاحًا فَاسِدًا“ تو اس غلام نے اس باندی سے نکاحِ فاسد کر لیا، یعنی بغیر گواہوں کے مثلاً نکاح کر لیا، ”وَدَخَلَ بِهَا“ اور اس نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ”فَإِنَّهُ يُبَاعُ فِي الْمَهْرِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو یہ غلام جو ہے اس کو مہر کے لیے بیچا جائے گا امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا يُؤْخَذُ مِنْهُ إِذَا عَتَقَ“ اور صاحبین فرماتے ہیں ”يُؤْخَذُ مِنْهُ“ کہ یہ مہر اسی غلام سے لیا جائے گا ”إِذَا عَتَقَ“ جب یہ آزاد ہو جائے، آزاد ہونا کوئی یقینی تو نہیں ہے لیکن آزادی کے بعد ہی وصول کریں گے اگر موقع بن گیا، اگر نہ بنا تو پھر وصولی کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَا“ صاحبین فرماتے ہیں ”يُؤْخَذُ مِنْهُ إِذَا عَتَقَ“ کہ غلام سے مہر لیا جائے گا ”إِذَا عَتَقَ“ جب وہ آزاد ہو جائے، ”وَأَصْلُهُ“ اور امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے ”أَنَّ الْإِذْنَ فِي النِّكَاحِ يَنْتَظِمُ الْفَاسِدَ وَالْجَائِزَ عِنْدَهُ“، ”أَنَّ الْإِذْنَ فِي النِّكَاحِ“ کہ نکاح کے اندر جو اجازت ہے ”يَنْتَظِمُ الْفَاسِدَ وَالْجَائِزَ“ یہ شامل ہے نکاحِ فاسد کو بھی اور نکاحِ جائز کو بھی ”عِنْدَهُ“ امام صاحب کے نزدیک، ”فَيَكُونُ هَذَا الْمَهْرُ ظَاهِرًا فِي حَقِّ الْمَوْلَى“ تو یہ مہر ظاہر ہو جائے گا مولیٰ کے حق میں بھی۔ ”فَيَكُونُ هَذَا الْمَهْرُ ظَاهِرًا فِي حَقِّ الْمَوْلَى“ لہٰذا یہ جو مہر ہے یہ آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے، کیونکہ اس نے اجازت دی تھی۔ ”وَعِنْدَهُمَا: يَنْصَرِفُ إِلَى الْجَائِزِ لَا غَيْرُ“ اور صاحبین کے نزدیک نکاح کے اندر جو اجازت ہے ”يَنْصَرِفُ إِلَى الْجَائِزِ“ یہ صرف جائز نکاح کی طرف پھرتی ہے ”لَا غَيْرُ“ اس کے علاوہ نہیں، یعنی آقا جب نکاح کی اجازت دے تو یہ صرف جائز نکاح کو شامل ہے یہ اجازت، نکاحِ فاسد کو شامل نہیں، اس کی اجازت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَهُمَا يَنْصَرِفُ إِلَى الْجَائِزِ لَا غَيْرُ“ کہ یہ اجازت جائز نکاح کی طرف پلٹ جائے گی لا غیر نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف، ”فَلَا يَكُونُ ظَاهِرًا فِي حَقِّ الْمَوْلَى“ لہٰذا یہ جو نکاحِ فاسد اور وطی کی وجہ سے جو مہر آیا ہے یہ آقا کے حق میں ظاہر نہیں ہے، ”فَيُؤَاخَذُ بِهِ بَعْدَ الْعَتَاقِ“ تو لہٰذا غلام کا مواخذہ ہوگا اس مہر کے ساتھ ”بَعْدَ الْعَتَاقِ“ آزادی کے بعد۔ جب یہ آزاد ہو جائے گا پھر اس کا مواخذہ کیا جائے گا۔ آزاد ہوگا تو اس کے بعد اس کا مواخذہ کیا جائے گا۔ ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ النِّكَاحِ“ کہ نکاح کے ذریعے جو مقصود ہوتا ہے ”فِي الْمُسْتَقْبَلِ الْإِعْفَافُ وَالتَّحْصِينُ“۔ دیکھو عف يعف باب ضرب سے ہے، عف يعف کا معنی ہے پاکدامن ہونا یعنی خود پاکدامن ہونا، اور باب افعال میں لے جائیں: اعف يعف اعفافاً اس کے معنی ہیں پاکدامن بنانا۔ اور آگے تحصین کا لفظ آ رہا ہے صاد کے ساتھ: حصن يحصن تحصيناً اس کے معنی ہیں محفوظ بنانا، حفاظت کرنا۔ تو کہتے ہیں صاحبین کی دلیل چل رہی ہے: ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْمَقْصُودَ فِي النِّكَاحِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ الْإِعْفَافُ وَالتَّحْصِينُ“ کہ وہ چیز جو نکاح کے اندر مقصود ہوتی ہے مستقبل کے اندر وہ اپنے آپ کو پاکدامن بنانا ہے اور اپنی ذات کو محفوظ کرنا ہے، یعنی زنا اور حرام کاری سے۔ نکاح کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اپنے آپ کو پاکدامن بنانا تاکہ انسان گناہوں سے بچ جائے اور تحصین یعنی اپنی ذات کو محفوظ بنانا حرام سے، زنا سے۔ تو کہتے ہیں: ”أَنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ النِّكَاحِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ الْإِعْفَافُ وَالتَّحْصِينُ“ کہ وہ چیز جو نکاح کے ذریعے مقصود ہوتی ہے مستقبل کے اندر اپنے آپ کو پاکدامن بنانا اور محفوظ بنانا ہوتا ہے، ”وَذَلِكَ بِالْجَائِزِ“ اور یہ مقصد تو جائز نکاح کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ ”وَلِهَذَا لَوْ حَلَفَ لَا يَتَزَوَّجُ“ اور اسی لیے اگر کسی شخص نے یہ قسم اٹھا لی کہ وہ نکاح نہیں کرے گا ”يَنْصَرِفُ إِلَى الْجَائِزِ“ تو یہ پلٹ جائے گی جائز نکاح کی طرف۔ صاحبین اس کو قیاس کرتے ہیں قسم پر، کہ مثلاً ایک شخص قسم اٹھا لیتا ہے کہ واللہ میں نکاح نہیں کروں گا، اور پھر اس شخص نے نکاحِ فاسد کر لیا، تو بالاتفاق یہ شخص حانث نہیں ہوا۔ بھئی نکاحِ فاسد کیا ہے اس کو مسئلے کا پتہ نہیں، بات چل رہی ہے کہ قسم ٹوٹی ہے یا نہیں؟ تو صاحبین فرماتے ہیں بالاتفاق اس کی قسم ابھی بھی نہیں ٹوٹی، یہ حانث نہیں ہوا، کیونکہ اس نے کیا کہا تھا کہ واللہ میں نکاح نہیں کروں گا اور نکاح سے کون سا نکاح مراد لیتے ہیں؟ جائز نکاح مراد لیتے ہیں، فاسد نکاح مراد نہیں لیتے۔ تو جائز نکاح یہ کرے گا تو حانث ہو جائے گا، اور اس نے اس وقت فاسد نکاح کیا ہے تو حانث نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَوْ حَلَفَ لَا يَتَزَوَّجُ يَنْصَرِفُ إِلَى الْجَائِزِ“ اور اسی لیے اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ نکاح نہیں کرے گا تو یہ قسم پلٹ جائے گی جائز نکاح کی طرف اور فاسد نکاح سے وہ حانث نہیں ہوگا، ”بِخِلَافِ الْبَيْعِ“ بخلاف بیع کے۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاحِ فاسد اور نکاحِ باطل ایک ہی چیز ہیں۔ جبکہ بیع کے اندر بیعِ باطل اور ہے، بیعِ فاسد اور ہے۔ بیعِ باطل وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی جائز نہ ہو یعنی مبیع مال ہی نہ ہو۔ جب مبیع مال ہی نہیں ہے تو بیع ہوئی ہی نہیں بھئی، بیع کہاں سے ہوگی جب مبیع ہی مال نہیں ہے، جبکہ بیعِ فاسد جو ہے وہ ذات کے اعتبار سے تو جائز ہے لیکن وصف کے اعتبار سے جائز نہیں ہوتی۔ مثلاً بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک اپنے فائدے کی شرط لگا دیتا ہے عقد کے اندر، تو اس صورت میں یہ عقد فاسد ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اپنی گاڑی دوسرے کو فروخت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں یہ گاڑی فروخت کرتا ہوں دس لاکھ میں لیکن شرط یہ ہے کہ ایک ہفتے بعد گاڑی دوں گا۔ دیکھو عقد ابھی کر رہا ہے اور ایک ہفتہ یہ خود گاڑی استعمال کرنا چاہتا ہے تو یہ شرطِ فاسد ہے، اس میں بائع کا فائدہ ہے تو یہ بیعِ فاسد ہو گئی۔ یا اسی طرح آج کل جیسے اکثر لوگ کرتے ہیں، مکان کسی کو بیچتے ہیں کہ یہ مکان میں آپ کو مثلاً پچاس لاکھ میں بیچتا ہوں لیکن شرط یہ ہے ہم تین مہینے بعد خالی کریں گے۔ ہم تین مہینے بعد خالی کریں گے، بھئی یہ شرط تو مقتضائے عقد کے خلاف ہے، عقد تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ عقد ہوتے ہی مشتری اس مکان کا مبیع کا مالک بن گیا ہے، فوراً یہ اس کے حوالے کیا جائے۔ تو لہٰذا اس طرح عقد کرنا یہ بیعِ فاسد ہے۔ ہاں شرط نہ لگائی جائے کہ یہ مکان میں نے آپ کو پچاس لاکھ میں فروخت کیا اور پھر عقد کے بعد کہتا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو ایک مہینے میں ہم خالی کر دیں گے، ایک مہینے کا وقت دے دیں اور پھر مشتری راضی ہو جاتا ہے کہ ٹھیک ہے ایک مہینے میں آپ خالی کر دیں، تو دیکھو اب وہی صورت جو شرط کی وجہ سے ناجائز تھی اب بغیر شرط کے جائز ہو گئی بھئی۔ تو لہٰذا بیع کے اندر ایسی شرط لگانا جس میں مشتری یا بائع میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو تو اس صورت میں یہ بیعِ فاسد ہے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ بیع بھی شرعاً کالعدم ہے، اس کا شمار نہیں۔ البتہ اس کے اندر دونوں نے ایجاب اور قبول تو بہرحال کیا ہے اور نیز مبیع مال بھی ہے، تو مشتری جب مبیع پر قبضہ کر لے گا تو مشتری پھر اس کا مالک بن جائے گا۔ بیعِ صحیح کے اندر تو ایجاب اور قبول کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، لیکن بیعِ فاسد کے اندر جب وہ مبیع پر قبضہ کرے گا تب مالک بنے گا۔ اور یہ بیع چونکہ فاسد ہے لہٰذا دونوں گناہ گار ہوں گے، دونوں پر لازم ہے اس بیع کو توڑ دیں، نئے سرے سے صحیح طریقے سے بیع کریں بھئی۔ لیکن بہرحال اگر وہ مسئلے کا ان کو پتہ نہیں ہے وہ اسی طرح بیع کر لیتے ہیں اور پھر مشتری مبیع پر قبضہ کر لے گا تو مالک بن جائے گا اور پھر وہ اس مبیع میں جو تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے، اس کو آگے بیچنا چاہے، کسی کو ہبہ کرنا چاہے وغیرہ جو بھی تصرف کرنا چاہے۔ تو گناہ گار تو ہے لیکن وہ بہرحال مبیع کا مالک بن چکا ہے اور اس میں تصرف کر سکتا ہے بھئی۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ بیعِ فاسد کے اندر ثمن نہیں آتے مشتری پر بلکہ اس پر اس کی قیمت آئے گی کیونکہ بیع ہوتی تو ثمن آتے، جب بیع کا ہی اعتبار نہیں تو اس میں ذکر کردہ ثمن کا بھی کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا مشتری کو اس مبیع کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو اب بات چل رہی تھی کہ اگر آقا نے اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دی تو امام صاحب کے نزدیک یہ اجازت نکاحِ فاسد کو بھی شامل اور نکاحِ صحیح کو بھی شامل ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ اجازت صرف نکاحِ صحیح کو شامل ہے، نکاحِ فاسد کو شامل نہیں ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں صاحبین فرماتے ہیں اگر آقا اپنے غلام کو بیع کی اجازت دے دے تو یہ اجازت بیعِ صحیح اور فاسد دونوں کو شامل ہے۔ نکاح میں اجازت دے گا تو صرف نکاحِ صحیح کو شامل ہے، فاسد کو یہ اجازت شامل نہیں، جبکہ بیع کی اگر آقا اپنے غلام کو اجازت دیتا ہے تو پھر اس صورت میں بالاتفاق بیعِ صحیح کی بھی اجازت ہے اس کو اور بیعِ فاسد کی بھی اجازت ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ بیعِ فاسد سے بھی بیع کے بعض مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں۔ بیعِ فاسد سے بھی بیع کے بعض مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں۔ بیع کا ایک مقصد کیا ہوتا ہے؟ کہ مشتری مبیع کا مالک بن جائے، اور بیعِ فاسد کے اندر بھی مشتری جب مبیع پر قبضہ کرے گا تو اس مبیع کا مالک بن جائے گا، اور پھر مشتری اس میں جو تصرفات کرنا چاہے وہ تصرفات اس مبیع میں کر سکتا ہے۔ معلوم ہوا بیعِ فاسد سے بھی بیع کے بعض مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں کہ مشتری مبیع میں ہر طرح کے تصرفات پھر کر سکتا ہے جب اس کا مالک بن جائے۔ توجہ ہے؟ بیعِ صحیح میں بھی مشتری بیع کرتے ہی مبیع کا مالک بن جاتا ہے اور پھر جب قبضہ بھی کر لے گا تو وہ اس میں ہر طرح کے تصرفات کر سکتا ہے، بیعِ فاسد کے اندر بھی اسی طرح مشتری جب مبیع پر قبضہ کرے گا تو مالک بن جائے گا وہ اس میں ہر طرح کے تصرفات کر سکتا ہے۔ تو بات یہ چل رہی تھی کہ اگر آقا نے غلام کو بیع کی اجازت دی تو یہ بیعِ صحیح کو بھی شامل اور بیعِ فاسد کو بھی، اس لیے کیونکہ بیعِ فاسد سے بھی بیع کے بعض مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں یعنی مشتری مبیع میں تصرفات کر سکتا ہے۔ لیکن نکاح کے اندر، نکاح کے اندر مقصد کیا تھا؟ اپنی پاکدامنی مقصود تھی، نکاح کے اندر پاکدامنی مقصود تھی اور نکاحِ فاسد سے تو وہ پاکدامنی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ عورت ابھی بھی اس شخص کے لیے حلال نہیں ہوئی بھئی، کیونکہ یہ نکاحِ فاسد ہے بھئی۔ تو صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ نکاح کی اجازت دے آقا تو نکاحِ صحیح کو شامل ہے، نکاحِ فاسد کو شامل نہیں کیونکہ نکاحِ فاسد کے ذریعے نکاح کے مقاصد حاصل نہیں ہوتے، لیکن اگر آقا غلام کو بیع کی اجازت دے گا تو بیعِ صحیح کی بھی اجازت ہو گئی، بیعِ فاسد کی بھی اجازت ہو گئی کیونکہ بیعِ فاسد کے ذریعے بھی بیع کے مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْبَيْعِ“ بخلاف بیع کے کہ جب آقا اپنے غلام کو بیع کی اجازت دے تو وہ فاسد کو بھی شامل ہوگی ”لِأَنَّ بَعْضَ الْمَقَاصِدِ حَاصِلٌ“ اس لیے کیونکہ بیعِ فاسد کے ذریعے بھی بعضِ مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں ”وَهُوَ مِلْكُ التَّصَرُّفَاتِ“ اور وہ تصرفات کا مالک ہونا ہے کہ مشتری قبضے کے بعد اس مبیع میں تصرفات کا مالک ہو جاتا ہے۔ ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ اللَّفْظَ مُطْلَقٌ“ کہ یہ لفظ مطلق ہے، آقا نے غلام سے کیا کہا تھا؟ ”تَزَوَّجْ هَذِهِ الْأَمَةَ“ تو تزوج کا لفظ مطلق ہے، نکاح کر لے، اور اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ صحیح نکاح کر یا فاسد نکاح کر، نہیں، تو یہ مطلق ہے اور المطلق يجري على إطلاقه، مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوگا۔ جب یہ مطلق ہے یہ ہر قسم کے نکاح کو شامل ہو گیا چاہے نکاحِ صحیح ہو چاہے نکاحِ فاسد۔ آقا نے کیا کہا؟ نکاح کر لے، تو نکاحِ صحیح کر لے گا وہ بھی نکاح ہے، نکاحِ فاسد کرے گا وہ بھی نکاح ہے، تو دیکھو دونوں کو شامل ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ اللَّفْظَ مُطْلَقٌ“ کہ یہ تزوج کا لفظ مطلق ہے ”فَيَجْرِي عَلَى إِطْلَاقِهِ“ تو یہ اپنے اطلاق پر جاری ہوگا ”كَمَا فِي الْبَيْعِ“ جیسے کہ کس کے اندر ہے؟ بیع کے اندر۔ بیع کے اندر تو صاحبین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بیع کی اجازت دے گا تو وہ بیعِ صحیح کو بھی شامل اور بیعِ فاسد، تو نکاح کے اندر بھی تزوج کا لفظ مطلق ہے لہٰذا یہ نکاحِ صحیح کو بھی شامل ہوگا اور نکاحِ فاسد کو بھی۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھیے: ”وَلَهُ أَنَّ اللَّفْظَ مُطْلَقٌ فَيَجْرِي عَلَى إِطْلَاقِهِ كَمَا فِي الْبَيْعِ“۔ ”وَبَعْضُ الْمَقَاصِدِ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ حَاصِلٌ“ صاحبین نے کیا کہا تھا کہ بیعِ فاسد کے اندر بھی بیع کے بعض مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں اس لیے بیعِ فاسد شامل ہے مطلق بیع کی اجازت میں، لیکن نکاح کے ذریعے نکاح کے مقاصد یعنی پاکدامنی حاصل نہیں ہوتی لہٰذا مطلق نکاح کے لفظ میں نکاحِ فاسد شامل نہیں، اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی بعض مقاصد تو نکاحِ فاسد کے ذریعے بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ جیسے نکاحِ صحیح کی وجہ سے اولاد ہو تو اس کا نسب خاوند سے ثابت ہوتا ہے، تو نکاحِ فاسد میں بھی اولاد ہو تو اس کا نسب خاوند سے ثابت ہوتا ہے۔ نیز جیسے نکاحِ صحیح کے اندر جدائی کی صورت میں عورت پر عدت آتی ہے تو نکاحِ فاسد میں بھی اگر صحبت کر لی ہے تو جدائی کے بعد عورت پر عدت آئے گی۔ اور نیز جس طرح نکاحِ صحیح کی وجہ سے خاوند پر مہر واجب ہوتا ہے، نکاحِ فاسد میں بھی جب وطی کر لے گا تو خاوند پر مہر واجب ہوگا۔ تو دیکھو نکاح کے بعض مقاصد تو نکاحِ فاسد سے بھی حاصل ہو رہے ہیں، لہٰذا مطلقِ نکاح جو ہے نکاحِ صحیح کو بھی شامل ہوگا اور نکاحِ فاسد کو بھی شامل ہوگا جیسے مطلقِ بیع کی اجازت بیعِ صحیح کو بھی شامل ہے اور بیعِ فاسد کو بھی شامل ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبَعْضُ الْمَقَاصِدِ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ حَاصِلٌ“ اور بعض مقاصد تو نکاحِ فاسد میں بھی حاصل ہیں ”كَالنَّسَبِ وَوُجُوبِ الْمَهْرِ وَالْعِدَّةِ“ جیسے کہ نسب ہے اور مہر کا واجب ہونا ہے اور عدت کا واجب ہونا ہے ”عَلَى اعْتِبَارِ وُجُودِ الْوَطْءِ“ وطی کے پائے جانے کے اعتبار سے یعنی صحبت کے پائے جانے کے اعتبار سے۔ ”وَمَسْأَلَةُ الْيَمِينِ مَمْنُوعَةٌ عَلَى هَذِهِ الطَّرِيقَةِ“ اور قسم کا جو مسئلہ ہے، صاحبین نے قسم کے مسئلے پر قیاس کیا تھا، صاحبین فرماتے ہیں آقا نے غلام کو نکاح کی اجازت دی ہے تو یہ صرف نکاحِ صحیح کو شامل ہے نکاحِ فاسد کو شامل نہیں، کہتے ہیں جیسے ایک شخص قسم کھا لیتا ہے کہ واللہ میں نکاح نہیں کروں گا تو یہ قسم صرف نکاحِ صحیح کو شامل ہے، نکاحِ صحیح کرے گا تب ہی یہ حانث ہوگا اگر نکاحِ فاسد کر لے گا تو حانث نہیں ہوگا۔ تو انہوں نے اس نکاح کی اجازت کو قسم پر قیاس کیا تھا، اس کا بھی جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ: ”وَمَسْأَلَةُ الْيَمِينِ مَمْنُوعَةٌ عَلَى هَذِهِ الطَّرِيقَةِ“ کہ قسم کا جو مسئلہ ہے ممنوعہ وہ ممنوع ہے یعنی ہمیں تسلیم نہیں ہے اس طریقے پر۔ قسم کا مسئلہ بھی ہمیں اسی طریقے پر تسلیم نہیں، آپ نے کہا تھا کہ قسم کی صورت میں نکاحِ صحیح سے حانث ہوگا نکاحِ فاسد سے حانث نہیں، ہمیں یہ تسلیم نہیں ہے، نکاحِ فاسد سے بھی وہ حانث ہو جائے گا کیونکہ وہاں بھی اس نے مطلق نکاح کی بات کی ہے کہ واللہ میں نکاح نہیں کروں گا۔ تو وہ لفظ کیا ہے؟ مطلق، اور المطلق يجري على إطلاقه، تو وہ جو بھی نکاح کرے گا حانث ہو جائے گا چاہے نکاحِ صحیح ہو چاہے نکاحِ فاسد ہو۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَسْأَلَةُ الْيَمِينِ مَمْنُوعَةٌ عَلَى هَذِهِ الطَّرِيقَةِ“ اور یمین کا جو مسئلہ ہے وہ ممنوع ہے یعنی ہمیں تسلیم نہیں ہے علیٰ ہذہ الطریقۃ اسی طریقے پر کہ وہ بھی مطلق ہے، وہ بھی اپنے اطلاق پر جاری ہوگا، یا یہ جواب دیا جائے گا امام صاحب کی طرف سے اگر تسلیم کر لیں ہم، امام صاحب کے نزدیک بھی وہ قسم صرف نکاحِ صحیح پر محمول ہے نکاحِ فاسد سے وہ حانث نہیں، اگر توجہ ہے؟ پہلا جواب تو منعی دیا، ہمیں تسلیم ہی نہیں ہے کہ وہ قسم صرف نکاحِ صحیح کو شامل ہے بلکہ وہ نکاحِ فاسد کو بھی شامل ہے، نکاحِ فاسد بھی کرے گا تو حانث ہو جائے گا، یا دوسرا جواب یہ دیا جا سکتا ہے امام صاحب کی طرف سے کہ اگر تسلیم کر لیا جائے امام صاحب کے نزدیک بھی قسم صرف نکاحِ صحیح کو شامل ہے فاسد کو شامل نہیں ہے، اگر یہ مان لیا جائے اولاً تو بتلا دیا کہ ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ امام صاحب کے نزدیک یہ صرف صحیح کو شامل ہے بلکہ یہ فاسد کو بھی شامل ہے، لیکن اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے کہ امام صاحب کے نزدیک بھی یہ قسم صرف نکاحِ صحیح کو شامل ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے۔ عرف یعنی عام لوگوں کی عادت پر۔ یاد رکھو جب بھی کوئی شخص کسی مسئلے میں قسم کھائے تو دیکھا جائے گا کہ عام لوگ اس کا کیا معنی لیتے ہیں اور اس کے مطابق وہی مراد ہوگا وہاں پر بھئی۔ تو یہاں پر بھی جب ایک شخص نے کہا واللہ میں نکاح نہیں کروں گا تو عام لوگ اس سے کون سا نکاح مراد لیتے ہیں؟ نکاحِ صحیح مراد لیتے ہیں تو یہ عرف کی وجہ سے نکاحِ صحیح مراد ہوگا یہاں پر۔ تو یہ قسم کا مسئلہ تو باقی مسئلوں سے الگ ہے، اے صاحبین آپ اس پر قیاس نہیں کر سکتے، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ زَوَّجَ عَبْدًا مَدْيُونًا مَأْذُونًا لَهُ امْرَأَةً جَازَ، وَالْمَرْأَةُ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ فِي مَهْرِهَا“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص جو ہے اس نے اپنے غلام کو تجارت کی اجازت دے دی۔ غلام ہوشیار آدمی تھا تو آقا نے کہا جاؤ بھئی تجارت کرو اور پیسے کما کر لاؤ۔ تو یہ غلام جس کو آقا نے تجارت کی اجازت دی ہو اس کو کہتے ہیں عبدِ ماذون لہ، ماذون لہ یعنی وہ غلام جس کو اجازت دی گئی ہے یعنی تجارت کی، ماذون لہ للتجارۃ بھئی یعنی جس کو تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔ تو یہ عبدِ ماذون لہ جو ہے یہ گیا اور اس نے تجارت شروع کر دی لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ پے درپے اس کو نقصانات ہوئے اور اس پر بہت سا قرضہ چڑھ گیا، یہ مقروض ہو گیا اس پر دیون آ گئے۔ اب یہ مدیون ہو گیا، توجہ ہے؟ اور آپ نے پڑھا ہے کہ غلام پر جب آقا کی مرضی سے دیون آ جائیں تو آقا کو وہ ادا کرنے پڑیں گے اور اگر آقا ادا نہیں کرتا تو اس کے اس غلام کو پکڑ کر بیچیں گے اور قرضے ادا کریں گے۔ اب یہ جو عبدِ ماذون لہ تھا اور مدیون تھا پھر آقا نے اس کا نکاح کروا دیا یا اس کو نکاح کی اجازت دے دی اور اس نے نکاح کر لیا، اب اس کے اوپر مہر والا بھی دین آ گیا۔ تو اس کی وجہ سے اب تو باقی جو قرض خواہ تھے ان کا نقصان ہو رہا ہے۔ پہلے غلام کو بیچتے جتنے پیسے وصول ہونے تھے وہ سارے ان قرض خواہوں میں تقسیم ہونے تھے، لیکن اب اس عورت کا مہر بھی اس غلام پر آ گیا اس کو بھی پیسے دینے پڑیں گے تو کیا ایسا کرنا آقا کے لیے جائز ہے؟ کیا وہ عبدِ ماذون لہ جو کہ مدیون ہو چکا ہے مقروض ہو چکا ہے اس کا نکاح کروا سکتا ہے یعنی اس پر اور دین بھی لازم کر سکتا ہے وہ مہر کو؟ توجہ ہے؟ تو اس میں تو باقی مقروضوں کا حق باطل ہو رہا ہے، تو کہتے ہیں ہاں بھئی آقا نکاح کروا سکتا ہے۔ آقا نکاح کروا سکتا ہے، تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ زَوَّجَ عَبْدًا مَدْيُونًا مَأْذُونًا لَهُ امْرَأَةً جَازَ“ کہتے ہیں جس نے نکاح کروایا ایک ایسے غلام کا جو مقروض ہے اور ماذون لہ ہے اس کا نکاح کروایا آقا نے کسی عورت سے تو یہ جائز ہے، آقا یہ نکاح کروا سکتا ہے۔ ”وَالْمَرْأَةُ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ“ غرماء جمع ہے غریم کی، غریم قرض خواہ کو بھی کہتے ہیں اور مقروض کو بھی کہتے ہیں۔ جس پر قرضہ ہے اس کو بھی غریم کہتے ہیں اور جس نے قرضہ وصول کرنا ہے اس کو بھی غریم کہتے ہیں تو یہاں اس سے مراد قرض خواہ ہیں، وہ جو قرضہ وصول کرنا جن کا حق ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمَرْأَةُ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ فِي مَهْرِهَا“ اور عورت جو ہے وہ برابر ہوگی قرض خواہوں کے اپنے مہر میں۔ یعنی عورت بھی اور قرض خواہوں کے ساتھ اپنے مہر میں برابر ہو گئی، یعنی جیسے اوروں نے اپنا اپنا حصہ وصول کرنا ہے عورت نے بھی اپنا حصہ وصول کرنا ہے۔ لہٰذا اس غلام کو بیچیں گے اور اگر اس کے ذریعے ساری ادائیگی ہو سکتی ہے تو پھر تو کوئی خرابی نہیں پھر تو سب کو ان کے دیون ادا کر دیں گے، لیکن اگر سب کے دیون ادا نہیں ہوتے اس غلام سے تو اب عورت بھی شامل ہو گئی تو اب تو باقیوں کے حصے میں اور زیادہ کمی آ جائے گی۔ کہتے ہیں بے شک باقیوں کے حصے میں کمی آ جائے عورت بھی باقیوں کے ساتھ شریک ہو گئی، اب غلام کو بیچیں گے جو پیسے وصول ہوں گے ہر ایک کو اس کے حصے کے بقدر جتنی ادائیگی ممکن ہوئی کر دیں گے، یعنی جس کا قرض زیادہ ہوگا اس کو حصہ بھی زیادہ ملے گا جس کا قرض کم ہے اس کو حصہ بھی کم ملے گا، بات سمجھ میں آ گئی کیونکہ سارا قرضہ تو ادا ہو نہیں سکتا تو سب کا کچھ نہ کچھ قرضہ ادا کریں گے اور وہ ان کے قرضوں کے تناسب سے ہے۔ توجہ ہے؟ مثلاً فرض کرو اگر دو آدمیوں کا قرضہ ہوتا، دو آدمیوں کا قرضہ ہوتا، ایک آدمی کے غلام نے دس لاکھ دینے ہیں اور دوسرے کے غلام نے پانچ لاکھ دینے ہیں تو دیکھو ایک کا قرضہ دوسرے کے مقابلے میں دگنا ہے لہٰذا اس غلام کو بیچا گیا اور مثلاً اس غلام کی قیمت تین لاکھ تھی تو اب یہ تین لاکھ دونوں میں اس طرح تقسیم کریں گے کہ زیادہ والے کو کم والے سے دگنا دیں گے کیونکہ اس کا قرض بھی دگنا ہے تو تین لاکھ میں سے دو لاکھ جو ہے وہ دس لاکھ والے کو دے دیں گے اور ایک لاکھ وہ پانچ لاکھ والے کو دے دیں گے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں بھی اسی طرح مسئلہ ہے کہ وہ عورت بھی اور قرض خواہوں کے ساتھ شریک ہو جائے گی اور غلام کو بیچ کر جو پیسے آئیں گے وہ اس عورت سمیت تمام قرض خواہوں کو ان کے حصے کے تناسب سے جتنی جتنی ادائیگی ہو سکتی ہے وہ کر دی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمَرْأَةُ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ فِي مَهْرِهَا“ اور عورت جو ہے برابر ہے اور قرض خواہوں کے اپنے مہر کے سلسلے میں، ”وَمَعْنَاهُ إِذَا كَانَ النِّكَاحُ بِمَهْرِ الْمِثْلِ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں ”وَمَعْنَاهُ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کا معنی یہ ہے یہ جو انہوں نے پیچھے مسئلہ ذکر کیا کہ عورت اور قرض خواہوں کے ساتھ برابر ہوگی تو اس کا معنی یہ ہے: ”إِذَا كَانَ النِّكَاحُ بِمَهْرِ الْمِثْلِ“ کہ جب نکاح مہر مثل کے ساتھ ہو بھئی۔ یعنی آقا نے اپنے غلام کا جو نکاح کروایا ہے اس عورت کے ساتھ وہ اس عورت کے مہر مثل کے ساتھ کروایا ہو تو پھر یہ عورت اور قرض خواہوں کے ساتھ برابر ہوگی قرض کی وصولی میں۔ لیکن اگر آقا نے اس عورت کا مہر زیادہ مقرر کر دیا مثلاً اس جیسی عورت کا مہر تو ایک ہزار درہم ہوتا ہے لیکن آقا نے اس کا مہر دو ہزار یا تین ہزار درہم مقرر کر دیا ہے تو پھر یاد رکھو مہر مثل تک یعنی مہر مثل تک یہ عورت اور قرض خواہوں کے ساتھ برابر ہوگی اور جو مہر مثل سے زائد ہوگا وہ دینِ مرض کے درجے میں ہوگا۔ یعنی مہر مثل تک جو مقدار ہے وہ دینِ صحت کے درجے میں اور جو مہر مثل سے جو زائد ہے وہ دینِ مرض کے درجے میں ہوگا بھئی۔ بھئی دینِ صحت اور دینِ مرض اس کو سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھو جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کے مال میں سے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر اس کے قرضے ادا کیے جاتے ہیں چاہے ان قرضوں کی ادائیگی میں اس کا سارا مال ہی کیوں نہ خرچ ہو جائے۔ اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد پھر اگر مال بچ جاتا ہے تو پھر اس باقی مال کے ثلث کے اندر جو ہے اس شخص نے اگر کوئی وصیت کی ہے تو اس کو نافذ کیا جاتا ہے۔ وصیت صرف ثلث مال میں نافذ ہوگی اور باقی کا مال جو ہے وہ وارثوں کا حق ہے پھر وہ وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ تو معلوم ہوا کہ قرضے وصیت پر بھی مقدم ہیں اور وارثوں کے حق پر بھی مقدم ہیں تو قرضے سارے ادا کرنے پڑیں گے، اور پھر یاد رکھنا یہ قرضے دو قسم پر ہیں: کچھ کو دینِ صحت کہتے ہیں اور کچھ کو دینِ مرض کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو دینِ صحت کا درجہ مقدم ہوتا ہے، پہلے دینِ صحت سارے ادا کیے جائیں گے اور اگر کچھ مال بچ گیا تو پھر اس کے بعد دینِ مرض ادا کیے جائیں گے اور اس کے بعد پھر وصیت اور وارثوں کا نمبر آتا ہے، ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اگر وہ مرنے والے کا مال اتنا ہے کہ جس سے سارے قرضے ادا ہو سکتے ہیں دینِ صحت بھی اور دینِ مرض بھی پھر تو کوئی اشکال نہیں پھر تو سارے قرضے ادا کر دیے جائیں گے، لیکن اگر اس شخص کا مال اتنا زیادہ نہیں ہے اس کے ذریعے سارے دین ادا نہیں ہو سکتے تو پھر یاد رکھو پہلے دینِ صحت ادا کیے جائیں گے۔ اگر دینِ صحت سارے ادا ہو گئے اور کچھ مال بچ گیا تو پھر وہ دینِ مرض والوں کو دیں گے اور اگر دینِ صحت کے اندر ہی سارا مال ختم ہو گیا تو پھر دینِ مرض والوں کو بھی کچھ نہیں ملے گا، معلوم ہوا دینِ صحت مقدم ہے دینِ مرض پر۔ اور دینِ صحت کسے کہتے ہیں اور دینِ مرض کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھو دینِ صحت وہ دین ہے جس کا حالتِ صحت کے اندر کوئی شخص اقرار کر لے یا اسی طرح وہ دین جس کا سبب سب کو پتہ ہے کہ اس وجہ سے اس پر یہ دین آیا ہے یا اسی طرح وہ دین جس پر گواہ موجود ہیں، یہ سب دینِ صحت ہیں۔ صحت کی حالت میں ایک شخص اقرار کر لیتا ہے کہ مثلاً میں نے فلاں آدمی کے پانچ لاکھ روپے دینے ہیں، کوئی وجہ ذکر کرے یا نہ کرے لیکن بہرحال اس نے صحت کی حالت میں ایک شخص کے لیے پیسوں کا اقرار کیا تو یہ اس کے ذمے دین ہو گیا اور یہ دینِ صحت ہے کیونکہ اس نے صحت کی حالت میں اقرار کیا ہے۔ یا اسی طرح کوئی ایسا دین ہے جس کا سبب سب کو پتہ ہے، مثلاً زید نے بکر سے گاڑی خریدی تھی اور گاڑی کے دس لاکھ روپے اب زید کے ذمہ ہیں تو دیکھو یہ ایسا دین ہے زید کے ذمے جس کا سبب سب کو پتہ ہے کہ گاڑی خریدنے کی وجہ سے یہ پیسے اس پر واجب ہیں۔ اور اسی طرح ایک وہ دین ہے جس پر گواہ موجود ہیں، یاد رکھو یہ سب دینِ صحت میں ہیں۔ جس کا اقرار صحت میں کرے وہ بھی دینِ صحت، جس کا سبب سب کو پتہ ہو وہ بھی دینِ صحت، اور جس پر گواہ موجود ہوں وہ بھی دینِ صحت۔ جبکہ دینِ مرض وہ ہے جس پر گواہ بھی موجود نہیں اور جس کا سبب بھی پتہ نہیں اور وہ حالتِ مرض الموت میں انسان کسی کے بارے میں اقرار کر لے۔ مرض الموت ایک شخص بہت زیادہ بیمار ہو گیا اور بستر سے لگ گیا، اب لوگوں کو نظر آ رہا ہے کہ اب اس کا بچنا بہت مشکل ہے یہ بہت زیادہ بیمار ہو گیا ہے، تو یاد رکھو یہ دینِ مرض ہے بھئی۔ اور اس دینِ مرض کے اندر اگر یہ شخص اقرار کرتا ہے کہ میں نے فلاں کے اتنے لاکھ روپے دینے ہیں تو یہ دینِ مرض کہلائے گا، یہ کیا کہلائے گا؟ دینِ مرض کہلائے گا۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ مرض الموت کے اندر ایک شخص گرفتار ہے اور اس کے اندر وہ دوسرے شخص سے گاڑی خرید رہا ہے یا کوئی چیز خرید رہا ہے اور یہ تو سب کو اب نظر آ رہا ہے کہ یہ چیز خریدنے کی وجہ سے اب اس پر دین آ گیا ہے، تو مرض الموت کے اندر کسی کے ساتھ بیع کی اور اس کی وجہ سے اس مرنے والے پر دین آ گیا تو یاد رکھو یہ دینِ مرض نہیں ہے یہ دینِ صحت ہے، کیونکہ دینِ صحت میں نے کیا کہا تھا جس کا صحت کی حالت میں اقرار کیا ہو یا وہ دین جس کے سبب کا سب کو پتہ ہو، دیکھو اس کے بھی سبب کا سب کو پتہ ہے، یا اسی طرح ایسا دین جس پر گواہ موجود ہیں، تو یہ سب دینِ صحت کے اندر شمار ہوں گے۔ مثلاً مرض الموت کے اندر مرنے والا کہتا ہے کہ بھئی میں نے فلاں آدمی کے دس لاکھ روپے دینے ہیں، اور وہ فلاں آدمی بھی کہتا ہے ہاں اس نے میرے دس لاکھ دینے ہیں اور دو گواہ بھی میرے پاس موجود ہیں تو یہ اب اقرار کس وقت کر رہا ہے؟ مرض الموت میں، لیکن یہ ایسا دین اور قرضہ ہے جس پر گواہ بھی موجود ہیں تو یہ بھی دینِ صحت ہی میں شمار ہوگا۔ توجہ ہے؟ تو دینِ مرض صرف وہ دین ہے جس کا اقرار اس نے مرض الموت میں کیا ہے اور اس پر گواہ وغیرہ کوئی موجود نہیں۔ تو صرف یہ ہے دینِ مرض۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا مالِ وراثت میں سے سب سے پہلے دینِ صحت کو ادا کیا جاتا ہے اور اگر کچھ مال بچ جائے اس کے بعد دینِ مرض کو ادا کرتے ہیں۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی ایک آقا نے اپنے غلام کا نکاح کروایا ہے اور وہ غلام پہلے سے ہی مدیون ہے، اس پر بہت سے قرضے ہیں۔ تو اب عورت کا مہر بھی اس کو دینا پڑے گا، تو کیا آقا نکاح کروا سکتا ہے؟ کیا آقا کے لیے یہ جائز ہے بھئی؟ یہ تو اور قرض خواہوں کے حق کو باطل کر رہا ہے۔ مثلاً اس غلام کے ذریعے تو باقی قرض خواہوں کے پیسے ہی سارے ادا نہیں ہو رہے، اب عورت بھی بیچ میں شامل ہو جائے گی، اس نے بھی اپنا مہر وصول کرنا ہے تو سب کے حصوں میں اسی کے بقدر کمی آجائے گی۔ تو کیا یہ جائز ہے؟ تو متن میں آپ نے پڑھ لیا کہ یہ جائز ہے، آقا اپنے مدیون غلام کا نکاح کروا سکتا ہے۔ لیکن بتلایا کہ یہ عورت اپنے مہر مثل کے بقدر مقدار میں اور قرض خواہوں کے ساتھ برابر ہوگی۔ یعنی مہر مثل تک جو مہر ہوا وہ دینِ صحت شمار ہوگا۔ اور مہر مثل سے اگر زائد مقدار ہوئی وہ دینِ مرض شمار ہوگا۔ لہٰذا اس غلام کو بیچنے کے بعد اگر دینِ صحت اور دینِ مرض سارے ادا ہو سکتے ہیں پھر تو سارے ادا کریں گے۔ اور اگر سارے ادا نہیں ہو سکتے تو پھر باقی قرض خواہوں کے ساتھ مہر مثل تک جو عورت کا مہر بنتا ہے وہ سارے ادا کیے جائیں گے۔ اور اگر کچھ مال بچ گیا، پھر وہ جو مہر مثل سے زائد مہر تھا اس کی وجہ سے عورت کو وہ ادا کریں گے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو حاصلِ کلام یہ کہ آقا اپنے مدیون غلام کا نکاح کروا سکتا ہے اور اس پر جو مالِ مہر واجب ہوگا اگر وہ مہر مثل تک ہے تو عورت اور قرض خواہوں کے ساتھ اس میں برابر ہے بھئی۔ اور اگر وہ مہر مثل سے زائد ہے تو وہ جو زائد مقدار ہے وہ دینِ مرض کی طرح ہے، وہ باقی قرضے ادا کرنے کے بعد اگر مال بچ جاتا ہے تو پھر اس کے بعد اس کی ادائیگی کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَاهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کا معنی یہ ہے: ”إِذَا كَانَ النِّكَاحُ بِمَهْرِ الْمِثْلِ“ کہ جب یہ نکاح مہر مثل کے ساتھ ہو۔ ”وَوَجْهُهُ“ اور وجہ اس کی یہ ہے، یہ جو انہوں نے کہا کہ نکاح جائز ہے۔ بھئی یہاں اشکال ہوتا ہے نا، کہ پہلے مثلاً پانچ قرض خواہ ہیں تو غلام کو بیچنے کے بعد جو مال وصول ہوگا وہ پانچ افراد میں تقسیم ہوگا لیکن جب عورت کے ساتھ نکاح کروا دیا تو عورت کا بھی مہر اب ادا کرنا ہے تو اب وہی مال چھ افراد میں تقسیم ہوگا۔ تو بظاہر دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ آقا قرض خواہوں کا حق باطل کرنا چاہتا ہے۔ آقا قرض خواہوں کا حق باطل کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہی مال اب جب چھ افراد کو ملے گا تو ہر ایک کے حصے میں کمی آگئی بھئی۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی دیکھیے کہ آقا اپنے غلام اور باندی کا مالک ہوتا ہے اور جب اپنے غلام اور باندی کا مالک ہے تو آقا کو حق ہے وہ ان کا نکاح کروا سکتا ہے، اس لیے کیونکہ نکاح کے اندر ان کی پاکدامنی ہے اور ہلاکت سے ان کی حفاظت ہے۔ جیسے جو بھی شخص جس چیز کا مالک ہوتا ہے تو ہر شخص اپنی چیز کا خیال رکھتا ہے، اچھے طریقے سے اس کو رکھتا ہے۔ تو اسی طرح یہ آقا جو ہے یہ غلام اور باندی جو ہیں اس کے مملوک ہیں، لہٰذا یہ ان کا نکاح کروا سکتا ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو یہ زنا میں مبتلا نہ ہو جائیں اور ہلاکت تک نہ پہنچ جائیں کیونکہ ورنہ تو پھر ان پر حد جاری ہوگی اور حد کی وجہ سے ان کی جان بھی جا سکتی ہے یا کوئی اور نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ تو لہٰذا ہلاکت سے اپنی چیز کو بچانا ہر مالک کا حق ہے تو اس آقا کا بھی یہ حق ہے یہ اپنے غلام یا باندی کا نکاح کروا سکتا ہے۔ یہ حق اس کو شریعت نے دیا ہے۔ تو لہٰذا اس کے لیے اپنے غلام یا باندی کا نکاح جب جائز ہے تو یہ اپنے مدیون غلام کا بھی نکاح کروا سکتا ہے۔ اگرچہ اس کی وجہ سے دوسرے قرض خواہوں کا حق باطل ہو رہا ہے لیکن وہ حق ضمناً باطل ہو رہا ہے۔ اصل مقصود تو یہاں غلام کو ہلاکت سے بچانا ہے اور ضمناً اگر دوسروں کا حق باطل ہو رہا ہے تو اس کی پروا نہیں کی جائے گی۔ اگر یہاں قصداً دوسروں کا حق باطل ہوتا تو پھر اس صورت میں اس کی اجازت نہ ہوتی لیکن دوسروں کا حق تو ضمناً باطل ہو رہا ہے، اصل میں تو آقا اپنے غلام کو ہلاکت سے بچانا چاہتا ہے۔ لہٰذا یہ جائز ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ”وَوَجْهُهُ أَنَّ سَبَبَ وِلَايَةِ الْمَوْلَى“ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ آقا کی ولایت کا سبب جو ہے، آقا کو جو ولایت ہے یعنی آقا کو جو ولایتِ نکاح حاصل ہے کہ یہ اپنے غلام یا باندی کا نکاح کروا سکتا ہے، تو آقا کی اس ولایتِ نکاح کا سبب جو ہے: ”مِلْكُهُ الرَّقَبَةَ“ وہ اس آقا کا اس غلام کی ذات کا مالک ہونا ہے، ”عَلَى مَا نَذْكُرُهُ“ اس وجہ سے جو ہم ذکر کریں گے۔ آگے چند سطروں کے بعد صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ آقا کو شریعت نے اجازت دی ہے وہ اپنے غلام یا باندی کا نکاح کروا سکتا ہے تاکہ ان کو ہلاکت سے بچا لے تاکہ کہیں وہ زنا نہ کریں اور اس کی وجہ سے ان پر حد جاری ہوگی اور حد کی وجہ سے تو ان کی جان بھی جا سکتی ہے یا اعضا بھی ضائع ہو سکتے ہیں تو لہٰذا اس کو شریعت نے اجازت دی ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَوَجْهُهُ أَنَّ سَبَبَ وِلَايَةِ الْمَوْلَى مِلْكُهُ الرَّقَبَةَ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ وَالنِّكَاحُ لَا يُلَاقِي حَقَّ الْغُرَمَاءِ بِالْإِبْطَالِ مَقْصُودًا“ اور نکاح نے ملاقات نہیں کی قرض خواہوں کے حق کے ساتھ، بھئی دیکھو نا اور قرض خواہوں کا بھی تو حق ہے اس غلام پر اور ساتھ نکاح آگیا یعنی مہر بھی آگیا، توجہ ہے؟ تو یہاں پر اس نکاح کی وجہ سے اور قرض خواہوں کے حصوں میں کمی آرہی ہے، ان کا حق باطل ہو رہا ہے لیکن ان کا حق باطل ہونا یہ قصداً نہیں ہے بلکہ ضمناً ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالنِّكَاحُ لَا يُلَاقِي حَقَّ الْغُرَمَاءِ“ اور اس نکاح نے ملاقات نہیں کی قرض خواہوں کے حق کے ساتھ ”بِالْإِبْطَالِ مَقْصُودًا“ اس طور پر کہ یہ ان کو باطل کر رہا ہو مقصوداً، باعتبارِ مقصود ہونے کے۔ یعنی ان کا ابطال ہی مقصود ہو، یہاں ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں اپنی چیز کو ہلاکت سے بچانا اصل مقصود ہے اور قرض خواہوں کا جو حق باطل ہو رہا ہے وہ قصداً نہیں ہے بلکہ ضمناً ہے، لہٰذا وہ جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالنِّكَاحُ لَا يُلَاقِي حَقَّ الْغُرَمَاءِ بِالْإِبْطَالِ مَقْصُودًا“ اور نکاح نے قرض خواہوں کے حق سے ملاقات نہیں کی مقصوداً ان کو باطل کرتے ہوئے، بلکہ ضمناً ان کو باطل کرتے ہوئے اس سے ملاقات کی ہے۔ ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا صَحَّ النِّكَاحُ“ مگر یہ کہ جب نکاح صحیح ہوگیا ”وَجَبَ الدَّيْنُ بِسَبَبٍ لَا مَرَدَّ لَهُ“ تو دین واجب ہوگیا یعنی مہر واجب ہوگیا ایک ایسے سبب کی وجہ سے جس کے لیے لوٹنا نہیں ہے، یعنی ایسا سبب آگیا جو لوٹ نہیں سکتا کیونکہ نکاح کے ساتھ مال ضرور آتا ہے، نکاح کی صورت میں مہر ضرور دینا پڑتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا صَحَّ النِّكَاحُ وَجَبَ الدَّيْنُ بِسَبَبٍ لَا مَرَدَّ لَهُ“ مگر یہ کہ جب نکاح صحیح ہوگیا تو یہ دین واجب ہوگیا ایک ایسے سبب کی وجہ سے جس کے لیے واپسی نہیں ہے، جو لوٹ نہیں سکتا، ”فَشَابَهَ دَيْنَ الِاسْتِهْلَاكِ“ تو یہ دینِ استہلاک کے مشابہ ہوگیا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے دینِ استہلاک بھئی۔ بھئی ہَلَکَ یَھْلِكُ کے معنی ہلاک ہونا، اور اِسْتَھْلَکَ یَسْتَھْلِكُ کے معنی ہیں ہلاک کرنا۔ مثلاً غلام نے کسی کا کوئی مال ہلاک کر دیا۔ یہ غلام جو مقروض ہے جس پر پہلے سے ہی قرضے ہیں، یہ غلام اگر کسی کی کوئی چیز توڑ دیتا ہے یا جلا دیتا ہے تو دیکھو یہاں غلام کی طرف سے استہلاک پایا گیا، اس نے دوسرے کی چیز ضائع کر دی ہے تو اس چیز کے پیسے بھی اب غلام کو دینے پڑیں گے۔ توجہ ہے؟ اگر وہ مثلیات میں سے ہے تو اس کا مثل آئے گا اور اگر ذوات القیم میں سے ہے تو اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو دیکھو یہ غلام پر مزید دین آرہا ہے، غلام پہلے سے مدیون ہے اور مزید دین آرہا ہے، کس وجہ سے؟ استہلاک کی وجہ سے۔ تو بالاتفاق غلام چاہے مدیون ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ کسی کی چیز کو نقصان پہنچائے گا تو وہ بھی اس کے ذمے دین ہو جائے گا۔ تو جیسے یہ دینِ استہلاک مدیون غلام پر بھی آجاتا ہے، اسی طرح یہ نکاح کی وجہ سے جو مہر ہے یہ دین بھی غلام پر آجائے گا۔ تو یہ مہر بھی کس کے مشابہ ہوگیا؟ دینِ استہلاک کے، اور دینِ استہلاک تو مدیون غلام پر بھی آجاتا ہے تو یہ مہر بھی غلام پر آجائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَشَابَهَ دَيْنَ الِاسْتِهْلَاكِ“ تو یہ مہر مشابہ ہوگیا دینِ استہلاک کے، ”وَصَارَ كَالْمَرِيضِ الْمَدْيُونِ إِذَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَبِمَهْرِ مِثْلِهَا أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ“ ”وَصَارَ كَالْمَرِيضِ الْمَدْيُونِ“ اور یہ اس مریض کی طرح ہوگیا جو مدیون ہے مقروض ہے ”إِذَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً“ جب اس نے نکاح کر لیا ایک عورت سے۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے، ایک شخص ہے اور وہ مرض الموت میں گرفتار ہے اور اس پر بہت سارے قرضے ہیں بھئی، اور اسی مرض الموت کی حالت میں وہ نیا نکاح کر لیتا ہے۔ وہ نیا نکاح کر لیتا ہے، اب دیکھو عورت کا مہر اس کے اوپر آئے گا لیکن شرعاً اس کے لیے یہ جائز ہے۔ شرعاً اس کے لیے جائز ہے وہ نکاح کر سکتا ہے بھئی، اور پھر یہ عورت جس کے ساتھ اس نے نکاح کیا ہے یہ اپنے مہر مثل کے برابر اور قرض خواہوں کے ساتھ شریک ہو جائے گی، لیکن اگر مہر مثل سے زائد ہوا وہ دینِ مرض شمار ہوگا۔ توجہ ہے؟ اگر اس عورت سے جو نکاح کیا ہے وہ مہر مثل میں کیا ہے، پھر تو یہ اور قرض خواہوں کے ساتھ برابر ہے اس شخص کے مرنے کے بعد، جتنے قرض خواہ ہیں ان کو ان کے حصے کے بقدر مالِ وراثت میں سے ادائیگی کی جائے گی بشمول اس عورت کے جس کے ساتھ اس نے نکاح کیا تھا۔ تو بشمول اس عورت کے کہ وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگی اپنا دین وصول کرنے میں، یہ جو مہر اس نے وصول کرنا ہے۔ ہاں اگر اس عورت کا مہر مہر مثل سے اس نے زائد مقرر کیا تھا تو پھر یہ دینِ مرض شمار ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَالْمَرِيضِ الْمَدْيُونِ إِذَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً“ اور یہ اسی طرح ہوگیا جیسے کہ ایک مقروض مریض جو ہے یعنی جو مرض الموت میں مبتلا ہے، جب وہ کسی عورت سے نکاح کر لے ”فَبِمَهْرِ مِثْلِهَا أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ“ تو عورت اپنے مہر مثل کے بقدر وہ برابر ہوگی قرض خواہوں کے، اپنے مہر مثل کی مقدار کے بقدر وہ اور قرض خواہوں کے ساتھ برابر ہوگی بھئی قرض کی وصولی میں۔ ”وَمَنْ زَوَّجَ أَمَتَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُبَوِّئَهَا بَيْتَ الزَّوْجِ وَلَكِنَّهَا تَخْدُمُ الْمَوْلَى وَيُقَالُ لِلزَّوْجِ مَتَى ظَفِرْتَ بِهَا وَطِئْتَهَا لِأَنَّ حَقَّ الْمَوْلَى فِي الِاسْتِخْدَامِ بَاقٍ وَالتَّبْوِئَةُ إِبْطَالٌ لَهُ“ بھئی بَوَّأَ يُبَوِّئُ تَبْوِئَةً کا معنی ہے ٹھکانہ دینا، کسی جگہ میں کسی کو ٹھہرانا، اس کو کہتے ہیں تبوئہ بھئی۔ یاد رکھو مسئلہ یہ ہے کہ آقا اپنی باندی کا نکاح کروا دیتا ہے تو کیا آقا پر لازم ہے کہ اس باندی کو خاوند کے گھر بھیج دے کہ وہیں اپنے خاوند کے پاس باندی رہے؟ کہتے ہیں: نہیں۔ آقا جو ہے اس باندی کی ذات کا مالک ہے تو آقا کا حق اعلیٰ ہے، اور جو خاوند ہے وہ صرف باندی کے منافع کا مالک ہے لہٰذا اس کا حق ادنیٰ ہے۔ تو خاوند کی وجہ سے باندی کے ذمے جو آقا کی خدمت کا حق ہے وہ باطل نہیں ہوگا، اور آقا پر لازم نہیں ہے کہ باندی خاوند کے پاس ٹھہرائے بلکہ باندی سے خدمت لیتا رہے اور خاوند جو ہے اس کو جب موقع مل جائے اس وقت وہ صحبت کر لے، تو آقا پر لازم نہیں ہے کہ باندی کو خاوند کے پاس ٹھکانہ دے اور وہیں رہنے دے، یہ اس پر لازم نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ زَوَّجَ أَمَتَهُ“ اور جس نے اپنی باندی کا نکاح کروایا ”فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُبَوِّئَهَا بَيْتَ الزَّوْجِ“ تو آقا پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اس باندی کو ٹھہرائے خاوند کے گھر میں۔ بیت ویسے کمرے کو کہتے ہیں مراد گھر ہے۔ تو آقا پر یہ لازم نہیں ہے: ”أَنْ يُبَوِّئَهَا بَيْتَ الزَّوْجِ“ کہ اس باندی کو خاوند کے گھر میں ٹھکانہ دے یعنی وہاں پر اس کو رہنے دے، ”وَلَكِنَّهَا تَخْدُمُ الْمَوْلَى“ لیکن یہ باندی جو ہے اپنے آقا کی خدمت کرتی رہے گی ”وَيُقَالُ لِلزَّوْجِ مَتَى ظَفِرْتَ بِهَا وَطِئْتَهَا“ اور خاوند سے کہا جائے گا کہ جب آپ اس پر کامیاب ہو جائیں یعنی جب آپ اس کو پا لیں تو تب آپ اس سے صحبت کر لیں، ”لِأَنَّ حَقَّ الْمَوْلَى فِي الِاسْتِخْدَامِ بَاقٍ“ اس لیے کیونکہ آقا کا حق خدمت طلب کرنے میں ابھی بھی باقی ہے، وہ اس باندی سے خدمت طلب کر سکتا ہے، ”وَالتَّبْوِئَةُ إِبْطَالٌ لَهُ“ اور ٹھکانہ دینا یہ تو اس حق کو باطل کرنا ہوگا۔ یعنی اگر ہم یہ کہیں کہ آقا پر لازم ہے کہ اب اس باندی کو اپنے خاوند کے گھر اس کے پاس رہنے دے، یہ تو پھر ہم آقا کے حق کو باطل کر رہے ہیں حالانکہ آقا کا حق اعلیٰ ہے کیونکہ آقا باندی کی پوری ذات کا مالک ہے اور خاوند کا حق ادنیٰ ہے کیونکہ وہ تو صرف باندی کے منافع کا مالک ہے، تو ادنیٰ حق کے لیے اعلیٰ حق کو باطل نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا آقا پر ضروری نہیں کہ اس کو ٹھکانہ دے خاوند کے پاس۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ حَقَّ الْمَوْلَى فِي الِاسْتِخْدَامِ بَاقٍ“ اس لیے کیونکہ آقا کا حق جو ہے خدمت لینے کے اندر باقی ہے ”وَالتَّبْوِئَةُ إِبْطَالٌ لَهُ“ اور باندی کو خاوند کے پاس ٹھکانہ دینا یہ تو آقا کے حق کو باطل کرنا ہے، لہٰذا اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ ”فَإِنْ بَوَّأَهَا مَعَهُ بَيْتًا“ پھر یاد رکھو، اگر آقا نے باندی کو خاوند کے پاس ٹھہرنے کی اجازت دے دی کہ بس میری خدمت کی ضرورت نہیں ہے، بس اب اپنے خاوند کے پاس رہا کرو تو اس صورت میں خاوند پر نفقہ بھی لازم ہوگا اور باندی کو رہائش دینا بھی لازم ہے۔ بھئی جیسے نکاح کی وجہ سے خاوند پر لازم ہو جاتا ہے کہ بیوی کو وہ خرچہ بھی دے گا اور اس کو رہائش بھی دے گا تو جب یہاں پر بھی آقا نے اپنا حق چھوڑ دیا اور باندی کو خاوند کے پاس رہنے دیا تو اب وہ جو نفقہ اور رہائش ہے خاوند کے ذمے ہے، وہ اس کو دینا پڑے گی۔ اور جب تک آقا اس سے خدمت لے رہا ہے تب تک خاوند کے ذمے نہ نفقہ ہے اور نہ رہائش ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ بَوَّأَهَا مَعَهُ بَيْتًا“ اگر آقا نے اس باندی کو ٹھہرا دیا خاوند کے ساتھ کسی گھر میں ”فَلَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى“ تو اس باندی کے لیے نفقہ بھی ہوگا اور رہائش بھی ہوگی، یعنی یہ خاوند کے ذمے ہوگی بھئی۔ ”وَإِلَّا فَلَا“ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی خاوند کے پاس باندی کو نہیں ٹھہرایا تو پھر باندی کے لیے نفقہ اور سکنیٰ بھی نہیں ہوگا، ”وَإِلَّا“ بھئی یاد رکھنا، یہ إِلَّا سے پہلے واؤ آجائے تو پھر یہ حرفِ استثنا نہیں ہے، یہ دراصل ہے ”إِنْ لَا“ اور پھر نون کو بھی لام کر کے لام میں ادغام کر دیا گیا تو ”وَإِلَّا“ ہوا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِلَّا فَلَا“ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی آقا باندی کو خاوند کے پاس نہ ٹھہرائے، ”فَلَا“ تو پھر اس کے لیے نفقہ اور سکنیٰ بھی نہیں ہوگا یعنی خاوند پر۔ ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ تُقَابِلُ الِاحْتِبَاسَ“ احتباس کا معنی ہے روکنا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ تُقَابِلُ الِاحْتِبَاسَ“ اس لیے کیونکہ نفقہ احتباس کے مقابل ہے، کہ عورت اپنے آپ کو خاوند کے لیے اس کے گھر میں روکے رکھے، عورت خاوند کے لیے گھر میں اپنے آپ کو روکے رکھے تو اس کی وجہ سے خاوند پر عورت کا نفقہ لازم ہوتا ہے۔ تو یہاں پر تو باندی آقا کی خدمت کر رہی ہے خاوند کے پاس آقا نے اس کو ٹھکانہ دیا ہی نہیں ہے تو احتباس بھی نہیں۔ باندی نے اپنی ذات کو خاوند کے لیے روکا نہیں، احتباس نہیں پایا گیا اور جب احتباس نہیں ہے تو خاوند کے ذمے اس کا نفقہ بھی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ تُقَابِلُ الِاحْتِبَاسَ“ اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے احتباس کے مقابل ہے یعنی اس کے مقابلے میں ہے، احتباس ہوگا تو نفقہ بھی ہے، احتباس نہیں تو نفقہ بھی نہیں۔ ”وَلَوْ بَوَّأَهَا بَيْتًا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَسْتَخْدِمَهَا لَهُ ذَلِكَ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ آقا نے باندی کو اجازت دے دی کہ رہو اپنے خاوند کے پاس ہی رہو، یعنی اپنا خدمت لینے کا حق چھوڑ دیا آقا نے، باندی اپنے خاوند کے ساتھ رہنے لگی۔ پھر بعد میں آقا کو خدمت کی ضرورت ہوئی تو آقا نے پھر اسے کہا کہ تم میری خدمت کیا کرو، تو کیا آقا جو پہلے اپنا حق چھوڑ چکا تھا کیا اس کو اب حق ہے کہ اس سے پھر خدمت لے؟ کہتے ہیں: ہاں بھئی، جیسے نکاح کی وجہ سے آقا کا حق ساقط نہیں ہوا تھا، اسی طرح اگر آقا اس کو ٹھہرنے کی اجازت دے دے تو اس اجازت دینے سے بھی آقا کا کوئی حق ساقط نہیں ہوگیا، وہ پھر بھی اپنا حق وصول کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ بَوَّأَهَا بَيْتًا“ اور اگر آقا نے اس کو ٹھکانہ دیا گھر میں یعنی خاوند کے ”ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَسْتَخْدِمَهَا“ پھر آقا کی یہ رائے بنی، بدا لہٗ کا معنی ہے رائے بننا، ”ثُمَّ بَدَا لَهُ“ پھر آقا کی یہ رائے بن گئی ”أَنْ يَسْتَخْدِمَهَا“ کہ وہ اس باندی سے خدمت لے ”لَهُ ذَلِكَ“ تو آقا کو یہ حق ہے، ”لِأَنَّ الْحَقَّ بَاقٍ لِبَقَاءِ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ آقا کا حق ابھی بھی باقی ہے، ”لِبَقَاءِ الْمِلْكِ“ کیونکہ اس کی ملکیت اس باندی میں باقی ہے، ”فَلَا يَسْقُطُ بِالتَّبْوِئَةِ“ تو ٹھکانہ دینے سے آقا کا حق ساقط نہیں ہوگا، ”كَمَا لَا يَسْقُطُ بِالنِّكَاحِ“ جیسے کہ نکاح کی وجہ سے آقا کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: ذَكَرَ تَزْوِيجَ الْمَوْلَى عَبْدَهُ وَأَمَتَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ رِضَاهُمَا“ ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر میں یہ مسئلہ ذکر فرمایا ہے۔ یہ جو پچھلے ایک دو مسئلے گزرے ہیں کہ آقا اپنے مدیون غلام کا نکاح کرواتا ہے یا آقا اپنی باندی کا نکاح کرواتا ہے، لیکن ان دونوں مسئلوں میں امام محمد رحمہ اللہ نے غلام یا باندی کی رضامندی کو ذکر نہیں کیا۔ اور کہتے ہیں: یہ ہمارے مذہب کی تائید کرتا ہے کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ آقا کو غلام اور باندی پر ولایتِ اجبار حاصل ہے، جیسے ولی کو صغیر اور صغیرہ پر ولایتِ اجبار حاصل ہے کہ باپ دادا جہاں چاہیں ان کا نکاح کروا سکتے ہیں، اسی طرح آقا کو بھی غلام اور باندی پر ولایتِ اجبار حاصل ہے، جہاں چاہے آقا ان کا نکاح کروا سکتا ہے، چاہے یہ راضی ہوں چاہے راضی نہ ہوں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”ذَكَرَ تَزْوِيجَ الْمَوْلَى عَبْدَهُ وَأَمَتَهُ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر میں ذکر فرمایا ہے آقا کا اپنے غلام اور باندی کا نکاح کروانا ”وَلَمْ يَذْكُرْ رِضَاهُمَا“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے غلام اور باندی کی رضامندی کو ذکر نہیں فرمایا، ”وَهَذَا يَرْجِعُ إِلَى مَذْهَبِنَا“ اور یہ بات ہمارے مذہب کی طرف لوٹتی ہے، ہمارا مذہب یہی ہے ”أَنَّ لِلْمَوْلَى إِجْبَارَهُمَا عَلَى النِّكَاحِ“ کہ آقا جو ہے غلام اور باندی کو مجبور کر سکتا ہے نکاح پر۔ ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا إِجْبَارَ فِي الْعَبْدِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام کے اندر اجبار نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آقا غلام کا زبردستی نکاح نہیں کروا سکتا بلکہ غلام کی مرضی ہو تو پھر ہی نکاح کروا سکتا ہے۔ ہاں باندی کا آقا جبراً نکاح کروا سکتا ہے لیکن غلام کا جبراً نکاح نہیں کروا سکتا۔ ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ”لَا إِجْبَارَ فِي الْعَبْدِ“ غلام کے اندر اجبار نہیں ہے، ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت امام صاحب سے بھی ہے، وہ بھی فرماتے ہیں آقا غلام کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النِّكَاحَ مِنْ خَصَائِصِ الْآدَمِيَّةِ“ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے آدمی ہونے کی خصوصیات میں سے ہے، یہ انسان کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ نکاح کرتا ہے، اس کو شریعت نے نکاح کی اجازت دی ہے تو غلام کو بھی جو نکاح کی اجازت شریعت نے دی ہے وہ آدمی ہونے کے اعتبار سے دی ہے۔ اور آقا جو اس کا مالک ہوتا ہے وہ مال ہونے کے اعتبار سے ہے کہ غلام کو مال شمار کیا جاتا ہے، اس کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، تو آقا اپنے غلام کا مالک ہے مال ہونے کے اعتبار سے اور غلام کو جو نکاح کی اجازت دی ہے شریعت نے وہ آدمی ہونے کی حیثیت سے دی ہے، تو آقا اس کا اور اعتبار سے مالک ہے اور اس کو جو نکاح کی اجازت ملی ہے وہ اور اعتبار سے ملی ہے لہٰذا آقا اس پر جبر نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النِّكَاحَ مِنْ خَصَائِصِ الْآدَمِيَّةِ“ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے آدمی ہونے کی خصوصیات میں سے ہے ”وَالْعَبْدُ دَاخِلٌ تَحْتَ مِلْكِ الْمَوْلَى مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ مَالٌ“ اور غلام جو ہے وہ تو آقا کی ملکیت کے تحت داخل ہوتا ہے اس حیثیت سے کہ غلام مال ہے، ”فَلَا يَمْلِكُ إِنْكَاحَهُ“ لہٰذا آقا مالک نہیں ہے کہ اس کا نکاح کروائے یعنی زبردستی اس کی مرضی کے بغیر، کیونکہ یہ جو نکاح کی اجازت ملی ہے اس کو اس غلام کو وہ آدمی ہونے کی حیثیت سے ملی ہے اور آدمی ہونے کی حیثیت سے تو آقا اس کا مالک نہیں، وہ اس پر جبر نہیں کر سکتا۔ تو یہ امام صاحب کی ایک روایت ہے بھئی۔ ”بِخِلَافِ الْأَمَةِ“ بخلاف باندی کے، کہ باندی کا نکاح آقا جبراً کروا سکتا ہے۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْأَمَةِ“ بخلاف باندی کے ”لِأَنَّهُ مَالِكٌ مَنَافِعَ بُضْعِهَا“ اس لیے کیونکہ آقا اس باندی کے منافعِ بضع کا مالک ہے، باندی کے منافعِ بضع کا مالک آقا ہے، جب وہ خود اس کا مالک ہے تو دوسرے کو بھی اس کا مالک بنا سکتا ہے، جس سے چاہے اس باندی کا نکاح کروا سکتا ہے، پھر اس صورت میں آقا کے لیے یہ باندی حرام ہو جائے گی اور اپنے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْأَمَةِ لِأَنَّهُ مَالِكٌ مَنَافِعَ بُضْعِهَا“ بخلاف باندی کے کیونکہ آقا اس باندی کے منافعِ بضع کا مالک ہے ”فَيَمْلِكُ تَمْلِيكَهَا“ تو آقا اس بات کا بھی مالک ہے: ”تَمْلِيكَهَا“ کہ دوسرے کو اس کا مالک بنا دے۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل، ہمارے نزدیک، یہ تو ایک روایت تھی امام صاحب کی اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ غلام کا جبراً نکاح نہیں کروایا جا سکتا، لیکن احناف کا مذہب کیا ہے؟ کہ غلام اور باندی دونوں پر آقا کو ولایتِ اجبار حاصل ہے، وہ جہاں چاہے ان کا نکاح کروا سکتا ہے ان کی مرضی کے بغیر بھی۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْإِنْكَاحَ إِصْلَاحُ مِلْكِهِ“ کہ نکاح کروانا یہ اپنی ملکیت کی اصلاح ہے، بھئی دیکھو جو شخص جس چیز کا مالک ہوتا ہے وہ اپنی چیزوں کا خیال رکھتا ہے، آپ کی گاڑی ہے تو آپ اپنی گاڑی کا خیال رکھتے ہیں بھئی، آپ کا موبائل ہے آپ اس کا خیال رکھتے ہیں تو یہ غلام اور باندی جس کے مملوک ہیں وہ آقا بھی کیا چاہے گا؟ ان کی اصلاح چاہے گا، تو وہ ان کا نکاح کرواتا ہے ان کی اصلاح کی نیت سے تاکہ یہ زنا سے محفوظ ہو جائیں، ورنہ تو اگر یہ زنا میں واقع ہوگئے پھر تو ان پر حد جاری ہوگی اور حد کی وجہ سے تو جان جانے کا بھی خطرہ ہے، تو آقا کو اس لیے شریعت نے نکاح کا حق دیا ہے تاکہ یہ اپنے غلام اور باندی کو ہلاکت سے بچا سکے۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْإِنْكَاحَ إِصْلَاحُ مِلْكِهِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ نکاح کروانا یہ اپنی ملکیت کی اصلاح کرنا ہے ”لِأَنَّ فِيهِ تَحْصِينَهُ عَنِ الزِّنَا“ اس لیے کیونکہ نکاح کروانے میں اپنے غلام کو محفوظ بنانا ہے زنا سے، ”عَنِ الزِّنَا الَّذِي هُوَ سَبَبُ الْهَلَاكِ وَالنُّقْصَانِ“ اس زنا سے جو ہلاکت اور نقصان کا سبب ہے، اس کی وجہ سے حد جاری ہوگی اور پھر غلام کی ہلاکت ہو سکتی ہے یا کوئی اور نقصان ہو سکتا ہے، کوئی اعضا وغیرہ شل ہو سکتے ہیں اس کے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِيهِ تَحْصِينَهُ عَنِ الزِّنَا الَّذِي هُوَ سَبَبُ الْهَلَاكِ وَالنُّقْصَانِ“ اس لیے کیونکہ نکاح کروانے میں اس غلام کو محفوظ بنانا ہے اس زنا سے جو کہ ہلاکت اور نقصان کا سبب ہے، ”فَيَمْلِكُهُ اعْتِبَارًا بِالأَمَةِ“ لہٰذا آقا اس غلام کے نکاح کا بھی مالک ہوگا باندی پر قیاس کرتے ہوئے۔ باندی میں تو بالاتفاق آقا کو اس پر ولایتِ اجبار حاصل ہے تو غلام کو بھی اسی پر قیاس کرتے ہوئے غلام پر بھی آقا کو ولایتِ اجبار حاصل ہوگی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَيَمْلِكُهُ اعْتِبَارًا بِالأَمَةِ“ لہٰذا آقا اس غلام کے نکاح کروانے کا بھی مالک ہوگا باندی پر قیاس کرتے ہوئے۔ ”بِخِلَافِ الْمُكَاتَبِ وَالْمُكَاتَبَةِ“ ہاں بخلاف مکاتب اور مکاتبہ کے، یعنی وہ غلام یا باندی جن سے آقا نے عقدِ کتابت کر لیا ہے، یاد رکھو وہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو آقا کی اجازت وہاں بھی ضروری ہے، آقا کی اجازت کے بغیر ان کے لیے بھی نکاح جائز نہیں، لیکن مکاتب اور مکاتبہ کے اندر آقا ان کی مرضی کے بغیر نکاح نہیں کروا سکتا بلکہ ان کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ کس میں؟ مکاتب اور مکاتبہ میں۔ وجہ یہ کہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عقدِ کتابت کرتے ہی مکاتب جو ہے وہ آزاد آدمی کی طرح ہو جاتا ہے، اب آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا، وہ جائے گا اور جا کر پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، تو یہ مکاتب اور مکاتبہ جو ہیں ان کا حکم آزاد مردوں اور عورتوں والا ہوگیا، لہٰذا آزاد مرد اور عورت کا کوئی جبراً نکاح نہیں کروا سکتا تو ان کا بھی نکاح آقا جبراً ان کی مرضی کے بغیر نہیں کروا سکتا۔ البتہ یہ یاد رکھنا اجازت ان کے لیے بھی ضروری ہے، یہ بھی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتے یہ مکاتب اور مکاتبہ، تو آقا ان کی مرضی سے تو ان کا نکاح کروا سکتا ہے لیکن ان کی مرضی کے خلاف ان کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمُكَاتَبِ وَالْمُكَاتَبَةِ لِأَنَّهُمَا الْتَحَقَا بِالْأَحْرَارِ تَصَرُّفًا“ بخلاف مکاتب اور مکاتبہ کے اس لیے کیونکہ یہ دونوں مل گئے ہیں آزاد لوگوں کے ساتھ تصرف کے اعتبار سے، یعنی جیسے آزاد آدمی کو تصرفات کا اختیار ہوتا ہے مکاتب اور مکاتبہ کو بھی تصرف کا اختیار ہوتا ہے۔ ”لِأَنَّهُمَا الْتَحَقَا بِالْأَحْرَارِ تَصَرُّفًا“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں تصرف کے اعتبار سے آزاد لوگوں کے ساتھ مل گئے ہیں ”فَيُشْتَرَطُ رِضَاهُمَا“ لہٰذا ان دونوں کی رضامندی بھی شرط ہوگی، ان کی رضامندی سے ہی آقا ان کا نکاح کروائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی، حل ہوگیا۔ چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔