درس نمبر۔52 ولو للشرط في المضي، ولذا يليها الفعل الماضي، نحو: ولو علم الله فيهم خيرا لأسمعهم، ومما تقدم يعلم أن المقصود بالذات من الجملة الشرطية هو الجواب، فإذا قلت: إن اجتهد زيد أكرمته، كنت مخبرا بأنك ستكرمه، ولكن في حال حصول الاجتهاد، لا في عموم الأحوال. گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ کسی کلام کو جب مقید کیا جائے شرط کے ساتھ، تو اس میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، کیا کیا نکات ہوتے ہیں۔ اور بالخصوص صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ اِن، اِذا اور لَو کے بارے میں ہم بحث کریں گے خصوصاً، کیونکہ ان کے ساتھ ایسے نکات کا تعلق ہے، ان نکتوں کو کس میں سے شمار کیا جاتا ہے؟ بلاغت میں سے، اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اِن، اِذا اور لَو تینوں شرط کے لیے آتے ہیں، لیکن اِن اور اِذا جو ہیں وہ خاص ہیں مستقبل کے ساتھ، وہ جس پر بھی داخل ہوں گے جس فعل کو بھی، اس کو مستقبل کے معنی میں کر دیں گے۔ جبکہ لَو ماضی کے لیے آتا ہے، وہ جس فعل پر بھی داخل ہو گا اس کو کس معنی میں کر دے گا؟ ماضی۔ تو چونکہ اِن اور اِذا ہیں مستقبل کے لیے، اور مستقبل والا معنی تو فعل مضارع میں پایا جاتا ہے تو وہ ان کے مناسب ہوا، تو اِن اور اِذا کے ساتھ اصل یہ ہے کہ فعل مضارع استعمال ہونا چاہیے۔ اور لَو آتا ہے زمانہ ماضی کے میں شرط کے لیے، تو لَو کے ساتھ اصل یہ ہے کہ فعل ماضی استعمال ہونا چاہیے۔ تو اِن اور اِذا کے ساتھ فعل مضارع ہو گا، اصل یہ ہے، اور لَو کے ساتھ فعل ماضی ہو گا۔ اور اگر اس سے عدول کیا جائے یعنی مضارع کو چھوڑ کر ماضی کی طرف جائیں یا ماضی کو چھوڑ کر مضارع کی طرف جائیں، تو وہ کسی نکتے کی بنا پر ہو گا، بغیر نکتے کے نہیں ہو گا بھئی، نہیں ہو گا۔ لہٰذا اگر اِن کسی جملے پر داخل ہو جائے، کسی فعل پر، چاہے وہ ماضی ہی کیوں نہ ہو، اِن اور اِذا کسی فعل پر داخل ہو جائیں چاہے وہ فعل ماضی ہی کیوں نہ ہو، وہ اس کو مستقبل کے معنی میں کر دے گا۔ مثلاً: اِن ضربتنی ضربتک، تو دیکھو اِن کس پر داخل ہو رہا ہے؟ ماضی پر، لیکن اس کو بھی یہ مستقبل کے معنی میں کر دے گا۔ اِن ضربتنی، اگر تم میری پٹائی کرو گے، ضربتک، تو میں بھی آپ کی پٹائی کروں گا، دیکھو مستقبل والا ترجمہ۔ اور لَو ماضی کے لیے آتا ہے، مثلاً: لو ضربتنی ضربتک، اگر آپ میری پٹائی کرتے تو میں بھی آپ کی پٹائی کرتا، تو دیکھو یہ ماضی ہے: اگر آپ میری پٹائی کرتے تو میں بھی آپ کی پٹائی کرتا۔ اور تو لَو جو ہے یہ دو فائدے دیتا ہے، ایک تو یہ ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے، نیز یہ نفی کا بھی فائدہ دیتا ہے، کس چیز کا؟ نفی کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ لو ضربتنی ضربتک، دیکھو نفی ہے نہیں، لیکن نفی لَو کی وجہ سے نفی آ جائے گی۔ اب معنی کیا کریں گے؟ اگر آپ میری پٹائی کرتے تو میں بھی آپ کی پٹائی کرتا، زمانہ ماضی کی بات ہو رہی ہے۔ اور بتائیے، اگر آپ میری پٹائی کرتے تو میں بھی آپ کی پٹائی کرتا، پٹائی ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ یہ بتائیے۔ نہیں ہوئی بھئی، جملے سے ہی پتہ چل رہا ہے: اگر آپ پٹائی کرتے تو میں بھی پٹائی کرتا، معلوم ہوا آپ نے پٹائی نہیں کی، اسی لیے میں نے بھی پٹائی نہیں کی بھئی۔ تو لَو نفی کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ تو اب لَو کی تفصیل بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ولو للشرط في المضي، یہاں بھی آپ کی کتابوں میں الماضي لفظ ہے؟ الماضي نہیں ہونا چاہیے، یہاں بھی المضي ہونا چاہیے بھئی، اصل کتاب کے اندر المضي ہے بھئی۔ معنی وہی ہے ماضی وہی۔ ولو للشرط في المضي، اور لَو جو ہے شرط کے لیے آتا ہے زمانہ ماضی میں، ولذا يليها الفعل الماضي، اور اسی کی وجہ، اور اسی وجہ سے اس کے ساتھ ملا ہوتا ہے فعل ماضی، نحو، مثال کے طور پر: ولو علم الله فيهم خيرا، اور اگر اللہ جانتے ان میں کوئی خیر، ان میں کوئی بھلائی، لأسمعهم، تو البتہ ان کو سنوا دیتے۔ اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتے، کوئی خیر جانتے، تو البتہ ان کو سنوا دیتے بھئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شب و روز دعوت میں مشغول ہیں، دین کی طرف، توحید کی طرف لوگوں کو بلا رہے ہیں، اور وہ لوگ جو ہیں وہ ان کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے، تو اللہ فرماتے ہیں: ولو علم الله فيهم خيرا، اگر اللہ ان لوگوں میں کوئی بھلائی جانتے، یہ جو مشرکین ہیں، اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی، لأسمعهم، تو البتہ اللہ ان کو سنوا دیتے، یعنی ان کے دل میں بات اتار دیتے۔ تو سنوانے سے مراد ہے قبولیت والا سنوانا، سنتے تو یہ ہیں، حضور علیہ السلام دعوت تو دیتے ہیں، لیکن یہ اس کو قبول نہیں کرتے، تو سنوانے سے کیا مراد ہے؟ قبولیت والا سنوانا کہ ان کے دل میں بات اتر جائے اور یہ اس کو مان لیں، تسلیم کر لیں اور توحید پر آ جائیں، تو وہ مراد ہے۔ کہ اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتے تو ان کو سنوا دیتے قبولیت والا سنوانا، یعنی یہ پھر راہِ راست پر آ جاتے، لیکن ان لوگوں میں کوئی بھلائی ہے ہی نہیں، اسی لیے اللہ بھی ان کو قبولیت والا سن، نہیں سنواتے بھئی۔ یعنی یہ لوگ گمراہی ہی کو پسند کرتے ہیں، اور جو جس راستے کو پسند کرتا ہے، اللہ اس کو اسی راستے پر چلنے دیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو درست راستے کو پسند کرتا ہے، اللہ اس کو ضرور ہدایت دے دیتے ہیں، اور جو شخص پسند ہی گمراہی کو کرتا ہے تو اللہ بھی اس کو اسی راستے پر جانے دیتے ہیں۔ تو دیکھیے، مقامِ استشہاد ہے: ولو علم، لَو کے ساتھ علم فعل ماضی استعمال ہوا بھئی، کیونکہ لَو کس لیے آتا ہے؟ زمانہ ماضی کے لیے۔ ولو علم الله فيهم خيرا لأسمعهم، اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتے تو البتہ ان کو سنوا دیتے۔ ومما تقدم يعلم أن المقصود بالذات من الجملة الشرطية هو الجواب، بھئی جملہ شرطیہ کے اندر آپ جانتے ہیں دو جز ہوا کرتے ہیں، ایک کو شرط کہتے ہیں اور دوسرے کو جزا کہتے ہیں، اور میں نے کل آپ کو بتلایا تھا کہ شرط اور جزا میں سے اصل کیا ہے؟ جزا ہے، اصل جزا ہے۔ اگر جزا جملہ خبریہ ہو تو اس جملہ شرطیہ کو کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ خبریہ، اور اگر جزا جملہ انشائیہ ہو تو اس جملہ شرطیہ کو کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ انشائیہ۔ تو اصل اس جملہ شرطیہ میں اصل جزا ہوتی ہے، اور شرط اس کے لیے قید ہوا کرتی ہے۔ یہاں قیود کے فائدے بیان ہو رہے ہیں نا، قیدوں کے فائدے، اور شرط کو بھی کس میں شمار کیا؟ قیدوں میں سے، پتہ لگا اصل کلام جزا ہے، شرط صرف اس کے لیے کیا ہے؟ ایک قید ہے بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: ومما تقدم، جو پہلے گزر چکا ہے اس سے، يعلم، یہ بات معلوم ہوئی، أن المقصود بالذات من الجملة الشرطية، کہ وہ چیز جو مقصود بالذات ہوتی ہے یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے وہ جو مقصود ہوتا ہے من الجملة الشرطية جملہ شرطیہ میں سے، هو الجواب، وہ جواب ہوتا ہے یعنی جزا ہوتی ہے۔ جواب سے کیا مراد ہے؟ جزا۔ کہتے ہیں: ومما تقدم يعلم أن المقصود بالذات من الجملة الشرطية هو الجواب، اور وہ بات جو گزر چکی ہے اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ جملہ شرطیہ کے اندر مقصود بالذات جو ہے هو الجواب، وہ کیا ہوتا ہے؟ وہ جواب یعنی جزا ہوتی ہے۔ فإذا قلت، جب آپ نے یوں کہا: إن اجتهد زيد أكرمته، اجتہد کے معنی محنت کرنے کے، إن اجتهد زيد، اگر زید نے محنت کی، أكرمته، تو میں اس کا اکرام کروں گا۔ تو دیکھیے: إن اجتهد، اِن کے ساتھ اجتہد فعل ماضی آیا لیکن معنی کون سا کریں گے؟ مستقبل والا ہی۔ إن اجتهد زيد، اگر زید محنت کرے گا، أكرمته، تو میں اس کا اکرام کروں گا، تو كنت مخبرا، تو آپ اس بات کی خبر دینے والے ہیں، بأنك ستكرمه، کہ آپ عنقریب اس کا اکرام کریں گے۔ آپ کیا خبر دے رہے ہیں؟ کہ آپ عنقریب اس کا اکرام کریں گے۔ تو آپ نے کہا: اگر زید محنت کرے گا تو میں اس کا اکرام کروں گا۔ تو گویا آپ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ آپ کیا کریں گے اس کا؟ اکرام کریں گے۔ بھئی کیسے خبر دے رہے ہیں؟ بھئی وہی بات بیان کر رہے ہیں، دیکھیے: إن اجتهد زيد، یہ کیا ہے؟ یہ شرط ہے، اور أكرمته یہ کیا ہے؟ جزا ہے، یا جس کو وہ جواب کہہ رہے ہیں، یہ جزا ہے۔ تو اس میں اصل کیا ہے اس جملہ شرطیہ کے اندر؟ اصل جزا ہے، اور جزا جملہ خبریہ ہے، جملہ انشائیہ ہے؟ جملہ خبریہ۔ أكرمته، میں اس کا کیا کروں گا؟ اکرام کروں گا، اگرچہ زمانہ مستقبل کے بارے میں ایک بات کر رہے ہیں لیکن خبر دے رہے ہیں، بہرحال انشا نہیں ہے یہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ انشا نہیں ہے، یہ خبر ہے کہ میں اس کا اکرام کروں گا۔ لیکن اکرام کو آپ نے مقید کر دیا إن اجتهد زيد کے ساتھ۔ معلوم ہوا آپ اکرام تمام احوال میں نہیں کریں گے، بلکہ کس حال میں کریں گے؟ اگر اس نے محنت کی، تو پھر میں کیا کروں گا اس کا؟ اکرام کروں گا۔ تو یہ معنی ہے کہ جب آپ یہ کہیں: إن اجتهد زيد أكرمته كنت مخبرا بأنك ستكرمه، تو آپ خبر دینے والے ہیں اس بات کی کہ آپ اس کا عنقریب اکرام کریں گے، ولكن في حال حصول الاجتهاد، لیکن محنت حاصل ہونے کی حالت میں یعنی جب وہ کیا کرے گا؟ محنت کرے گا، لا في عموم الأحوال، نہ کہ تمام احوال میں، عام احوال میں بھئی۔ تو باقی عام احوال مراد نہیں ہیں کیونکہ ساتھ قید ذکر ہے۔ اگر تمام احوال میں آپ اس کا اکرام کرنے کو ذکر کرنا چاہتے، تو پھر إن اجتهد زيد یہ قید ساتھ ذکر نہ کرتے، صرف یہ کہتے: أکرم زیداً، میں کیا کروں گا؟ زید کا اکرام کروں گا، لیکن آپ نے اس کے ساتھ قید بڑھا دی باقاعدہ، تو قید جب بڑھا دی معلوم ہوا صرف اس قید کے پائے جانے کی صورت میں آپ اکرام کریں گے، تمام احوال میں اکرام نہیں کریں گے۔ ويتفرع على هذا، اور اسی پر یہ بات متفرع ہوتی ہے یعنی اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے، أنها تعد خبرية أو إنشائية باعتبار جوابها، کہ جملہ شرطیہ کو خبریہ شمار کیا جائے گا، أو إنشائية، یا انشائیہ شمار کیا جائے گا، باعتبار جوابها، باعتبار اس کے جواب کے یعنی جزا۔ جملہ شرطیہ کو خبریہ کہیں گے یا انشائیہ کہیں گے، کس کے اعتبار سے؟ جزا کے اعتبار سے۔ اگر جزا خبر ہے تو اس کو جملہ شرطیہ خبریہ کہیں گے، اور اگر جزا انشا ہے تو اس کو جملہ شرطیہ انشائیہ کہیں گے، وہی بات جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ وأما النفي فالتقييد به يكون بسلب النسبة على وجه مخصوص مما تفيده أحرف النفي، اور باقی نفی جو ہے، فالتقييد به، تو اس کے ساتھ مقید کرنا یعنی اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ حکم کو مقید کیا جاتا ہے۔ تو وہ کس لیے ہو گا؟ کہتے ہیں: يكون بسلب النسبة، وہ نسبت کو سلب کرنے کی وجہ سے ہو گا، على وجه مخصوص، مخصوص طریقے پر، مما تفيده أحرف النفي، یعنی وہ جس کا فائدہ حروفِ نفی دیتے ہیں۔ وہ جس کا فائدہ کون دیتے ہیں؟ حروفِ نفی۔ بھئی آپ کو بتلا رہے ہیں: نفی کے ساتھ حکم کو تب مقید کیا جائے گا جب متکلم کیا چاہتا ہو؟ نسبت کو سلب کرنا چاہتا ہو۔ سلب کا معنی ہے نفی، نفی۔ جب وہ نسبت کو سلب کرنا چاہتا ہو یعنی نسبت کی نفی کرنا چاہتا ہو۔ مثلاً دیکھیے، میں آپ سے کہتا ہوں: زيد قائم، تو زيد مبتدا، قائم اس کی خبر، تو یہ قائم کی نسبت کس کی طرف کی جا رہی ہے؟ زید کی طرف، تو یہ قائم کی نسبت زید کے لیے ہے یعنی مبتدا کے لیے ہے یعنی زید کے لیے قیام ثابت ہے، زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ کس جملے کے اندر؟ زيد قائم۔ اب اسی پر ذرا حرفِ نفی لے آئیں بھئی، مثلاً آپ "ما" حرفِ نفی اس پر لے آتے ہیں: ما زيد قائما، ما زيد قائما۔ اب اس نے کیا کیا ما نے؟ اس نے اس نسبت کی نفی کر دی جو کس کی طرف تھی؟ زید کی طرف۔ قائم کی نسبت کس کی طرف تھی؟ زید کی طرف، اس حرفِ نفی نے اس نسبت کی نفی کر دی، یعنی کہ قیام زید کے لیے ثابت نہیں ہے، یہ بتلا دیا اس نے۔ قیام زید کے لیے ثابت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ کہ یہ معنی ہے فالتقييد به، نفی کے ساتھ جو مقید کرنا ہے، يكون بسلب النسبة، وہ کس وجہ سے ہو گا؟ نسبت کو سلب کرنے کے لیے ہو گا، نسبت کی نفی کرنے کے لیے ہو گا، معلوم ہوا متکلم، بولنے والا، وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟ وہ نسبت کو مسند الیہ کے لیے ثابت کرنا چاہتا ہے یا اس سے اس کی نفی کرنا چاہتا ہے؟ وہ اس نسبت کی نفی کرنا چاہتا ہے، یعنی زید کے لیے کی طرف جو قیام کی نسبت ہے، اس نسبت کی وہ نفی کرنا چاہتا ہے۔ اور آگے کہا: على وجه مخصوص، ایک مخصوص طریقے پر، ایک مخصوص، بھئی یاد رکھیے، یہ حروفِ نفی آگے جو آ رہے ہیں: لا، ما، اِن، لن، لم، لما، یہ حروفِ نفی یہ جو چھ حروف ہیں، یہ نفی کے لیے آتے ہیں اور ان کی نفی ایک جیسی نہیں، یہ ہر ایک کی نفی الگ قسم کی ہے۔ کوئی کس قسم کی نفی کا فائدہ دیتا ہے، کوئی کس قسم کی نفی کا فائدہ دیتا ہے، وہ آگے خود بیان بھی کریں گے۔ تو ہر ایک ایک مخصوص طریقے پر نفی کرتا ہے نسبت کی۔ ہر ایک کیا کرتا ہے؟ بھئی یہ آتے تو سب نفی کے لیے ہیں، لیکن ہر ایک اپنے مخصوص طریقے کے مطابق نفی کرے گا۔ حرفِ "ما" آئے گا تو وہ اپنے طریقے کے مطابق نفی کرے گا، حرفِ "لا" آئے گا تو وہ اپنے طریقے کے مطابق نفی پیدا کر دے گا، اور مثلاً "لم" آ گیا تو وہ اپنے طریقے کے مطابق کیا کرے گا؟ نفی کر دے گا۔ یہ معنی ہے: على وجه مخصوص، ایک مخصوص طریقے پر، وہ کون سا طریقہ؟ کہتے ہیں: مما تفيده أحرف النفي، وہ جس کا فائدہ حروفِ نفی دیتے ہیں۔ وہ مخصوص طریقہ جس کا فائدہ کون دیتے ہیں؟ حروفِ نفی۔ بھئی ہر ایک اپنے ایک مخصوص طریقے کی نفی کا فائدہ دے رہا ہے، تو اسی طریقے پر نفی بھی ہو گی جس قسم کا آپ حرف کلام کے اندر لے کر آئیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے سارے کا ترجمہ، کہتے ہیں: وأما النفي، باقی نفی جو ہے، فالتقييد به يكون بسلب النسبة على وجه مخصوص، تو اس کے ساتھ مقید کرنا يكون بسلب النسبة، وہ نسبت کو سلب کرنے کی وجہ سے ہو گا یعنی متکلم کیا کرنا چاہتا ہے؟ نسبت کو نسبت کو سلب کرنا چاہتا ہے، نسبت کی نفی کرنا چاہتا ہے، على وجه مخصوص، ایک مخصوص طریقے پر، مما تفيده أحرف النفي، جس کا فائدہ کون دے رہے ہیں؟ وہ حروفِ نفی دے رہے ہیں۔ وهي ستة، اور وہ حروفِ نفی یہ چھ ہیں بھئی: لا، وما، وإن، لا ہے، اور ما ہے، اور اِن، اِن بھی نفی کے لیے آتا ہے، کس لیے آتا ہے؟ نفی کے لیے، اِن بھی استعمال ہوتا ہے۔ ولن، ولم، ولما، یہ سارے کیا ہیں؟ حروفِ نفی ہیں۔ اب بتلا رہے ہیں ہر ایک کی تفصیل کہ ہر ایک کس قسم کی نفی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا نا: علی وجہ مخصوص، مخصوص طریقے پر نفی کرتے ہیں جس کا فائدہ یہ دیتے ہیں، وہ اب کس طرح؟ کہتے ہیں: فلا لنفي، للنفي مطلقا، "لا" جو ہے مطلقاً نفی کے لیے آتا ہے۔ "لا" کس لیے آتا ہے؟ مطلقاً نفی کے لیے آتا ہے، یعنی اس میں زمانے کی قید نہیں ہوتی کہ زمانہ ماضی ہے یا حال ہے یا استقبال ہے، یہ مطلقاً نسبت کی نفی کر دیتا ہے، اس میں زمانے کی قید نہیں ہوتی۔ وما وإن لنفي الحال، اور "ما" اور "اِن" حال کی نفی کے لیے آئیں گے، إن دخلا على المضارع، اگر یہ کس پر داخل ہو جائیں یہ دونوں؟ مضارع پر۔ "ما" اور "اِن"، بھئی دیکھیے، فعل مضارع پر "لا" بھی آ سکتا ہے نفی کے لیے: لا يضرب زيد، اور "ما" بھی آ سکتا ہے: ما يضرب زيد، یا "اِن" بھی آ سکتا ہے: إن يضرب زيد۔ تو یہ جو "لا" اگر آئے گا: لا يضرب زيد، زید کے سے ضرب کی نفی کر دی گئی، لیکن مطلقاً نفی ہے، کیا ہے؟ مطلقاً نفی ہے، یعنی اس میں حال یا استقبال کی قید نہیں ہے کہ صرف حال کی نفی ہو، ایسا نہیں۔ یا صرف کس کی نفی ہو؟ استقبال کی، یہ مطلقاً نفی کر دیتا ہے ایک چیز کی دوسری چیز سے۔ اور "ما" اور "اِن" یہ مضارع پر جب داخل ہوں تو پھر یہ یہ حال کی نفی کریں گے بھئی، حال۔ معلوم ہوا مضارع کے اندر حال والا معنی بھی تھا اور استقبال والا معنی بھی تھا، تو ما يضرب زيد، ما يضرب زيد، اب مضارع کے اندر حال اور استقبال دونوں معنی ہوتے ہیں، لیکن "ما" اور "اِن" آ جائیں تو یہ کس زمانے کے ساتھ معلوم ہوا خاص ہو جائے گا؟ حال کے ساتھ، تو یہ حال کے اندر، زمانہ حال میں نفی کریں گے، مستقبل کی نفی نہیں ہو گی بھئی۔ اور یہ بھی تب ہے جب مضارع کے ساتھ کوئی زمانے کی قید الگ سے موجود نہ ہو۔ اگر زمانے کی قید الگ سے موجود ہوئی فی المستقبل، مثلاً یہ لفظ بھی ساتھ ہوا: ما يضرب زيد في المستقبل، "ما" کس لیے آتا ہے؟ حال کی نفی کے لیے، لیکن یہاں یضرب زید کے ساتھ فی المستقبل کا باقاعدہ لفظ موجود ہے، اب یہ مستقبل ہی والا معنی ادا کرے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، جب کوئی قید وغیرہ نہ ہو تو پھر یہ حال کی نفی کرے گا یعنی زمانہ حال میں زید پٹائی نہیں کر رہا، مستقبل کی بات نہیں ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وما وإن لنفي الحال إن دخلا على المضارع، اور "ما" اور "اِن" جو ہے وہ حال کی نفی کے لیے آتے ہیں اگر یہ دونوں داخل ہو جائیں فعل مضارع پر۔ ولن لنفي الاستقبال، اور "لن" ناصبہ جو ہے یہ استقبال کی نفی کے لیے آتا ہے یعنی زمانہ مستقبل سے میں ایک چیز کی نفی کرتا ہے۔ مثلاً بھئی، فعل مضارع کے اندر حال والا معنی بھی ہوتا ہے اور استقبال والا معنی بھی ہوتا ہے، لیکن جب یہ "لن" ناصبہ اس پر آئے گا: لن يضرب زيد، لن يضرب زيد، اب حال والا ترجمہ نہیں، زید پٹائی نہیں کرتا ہے یا نہیں کر رہا، نہیں، یہ ترجمہ نہیں کریں گے، بلکہ مستقبل کے ساتھ ہی اس کو خاص کر دے گا: لن يضرب زيد، زید پٹائی نہیں کرے گا یا ہرگز نہیں کرے گا، زید ہرگز پٹائی نہیں کرے گا۔ تو دیکھیے، اس نے کس زمانے کے ساتھ خاص کر دیا مضارع کو؟ مستقبل کے ساتھ، یہ معنی ہے ولن لنفي الاستقبال، استقبال کی نفی کے لیے آتا ہے۔ ولم ولما لنفي المضي، اور "لم" اور "لما"، لنفي المضي، یہاں بھی مضی لفظ ہے بھئی اصل کتابوں کے اندر بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے۔ معنی اگرچہ یہی ہے مضی اور ماضی کا ایک معنی۔ اور "لم" اور "لما" زمانہ ماضی کی نفی کے لیے آتے ہیں۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ "لم" مضارع پر داخل ہو تو اس کو کس زمانے کے ساتھ خاص کر دیتا ہے، کس زمانے کا میں بدل دیتا ہے اس کو؟ ماضی کے معنی میں اس کو کر دیتا ہے۔ لم يضرب زيد، کیا معنی؟ زید نے پٹائی نہیں کی، تو دیکھو مضارع میں تو حال اور استقبال والا معنی تھا لیکن "لم" نے اس کو کس معنی میں کر دیا؟ ماضی کے معنی میں کر دیا۔ اسی طرح "لما" بھی ہے بھئی: لما يضرب زيد، یہ بھی اسی طرح جزم دے گا "لم" کی طرح، لما يضرب زيد، تو یہ بھی "لم" کی طرح ہے یعنی مضارع کو ماضی کے معنی میں کر دے گا، کس معنی میں کر دے گا؟ ماضی کے معنی میں کر دے گا۔ تو معلوم ہوا "لم" اور "لما" یہ نفی کس کے ساتھ خاص ہے؟ زمانہ ماضی کے ساتھ۔ ہاں، البتہ پھر ان میں کچھ فرق ہے۔ فرق یہ کہ "لما" جو ہے "لما"، وہ نفی کو کھینچ کر زمانہ حال تک لے آئے گا، یعنی اس کے لیے چیز کی نفی ہو گی زمانہ تکلم تک، بات کرنے تک کا، بات کرنے تک کا جو زمانہ ہے، اس سارے میں وہ نفی کر دے گا۔ مثلاً دیکھیے بھئی، میں کہتا ہوں: لم يضرب زيد، کیا ترجمہ کریں گے؟ زید نے پٹائی نہیں کی، کس زمانے میں؟ زمانہ ماضی میں، پٹائی نہیں۔ صرف اس نے اتنا بتایا: لم يضرب زيد، زید نے زمانہ ماضی میں پٹائی نہیں کی۔ لیکن اگر اس کی جگہ میں "لما" لے آؤں: لما يضرب زيد، اس نے بھی زمانہ ماضی کے اندر نفی کی، لیکن اس نفی کو کھینچ کر تکلم کے زمانہ، زمانہ حال تک لے آئے گا۔ یعنی جس وقت میں یہ جملہ بول رہا ہوں، میں نے کیا جملہ کہا؟ میں آپ کو مثلاً آپ کو ایک بات بتلا رہا تھا اور اس باتیں کرتے کرتے میں نے کہا: لما يضرب زيد، تو "لما" نے بھی ضرب کی زید سے نفی کر دی کہ زمانہ ماضی میں زید نے ضرب نہیں، لیکن مطلقاً نفی زمانہ ماضی میں نہیں کی بلکہ اس نفی کو کھینچ کر اس حال کے زمانے تک لے آیا، یعنی جس وقت میں نے آپ کو یہ بات بتائی، اس وقت تک سارے ماضی کا احاطہ کر کے اس میں نفی کر دی۔ سارے ماضی کا احاطہ کر کے، مثلاً ترجمے میں اب کیا، ترجمے سے آپ کو بات واضح سمجھ میں آئے گی، مثلاً میں نے کہا تھا: لم يضرب زيد، اس کا کیا ترجمہ کیا؟ زید نے پٹائی نہیں کی، معلوم ہوا کس زمانے میں؟ ماضی میں۔ اور "لما" کہوں گا تو وہ حال کے زمانے تک سارے کو گھیر لے گا، سارے میں نفی کر دے گا۔ لما يضرب زيد، اس کا ترجمہ کریں گے: زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی۔ کیا ترجمہ ہوا؟ زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی، یعنی جس وقت میں آپ سے یہ بات کر رہا ہوں، ابھی تک، جب میں نے آپ کو لما يضرب زيد یہ جملہ میں نے اس پر تکلم کیا، یہ جو حال والا زمانہ تھا جس میں میں آپ کو یہ بات بتلا رہا تھا، اس وقت تک سارے پچھلے زمانے کے اندر نفی نے سب کو گھیر لیا۔ یعنی پورا ماضی میں نفی، ماضی میں زید نے پٹائی نہیں کی، اور کب سے کب تک نہیں کی؟ سارے زمانہ ماضی سے لے کر ابھی تک بھئی، اس زمانے تک نفی ہو گئی یعنی ابھی تک اس نے پٹائی، تو دیکھو سارے زمانے ماضی کو اس نے گھیر لیا، اس کے اندر نفی کر دی ضرب کی، کہ ضرب زید کے لیے ثابت نہیں۔ معنی بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ لم يضرب میں یہ بات نہیں تھی، لم يضرب زيد، اس میں صرف اتنا تھا: زید نے زمانہ ماضی میں پٹائی نہیں کی۔ ہو سکتا ہے اس میں پھر کہ ہو سکتا ہے اس میں بھی نفی حال تک ہو، ہو سکتا ہے حال تک نفی نہ ہو، اس میں یہ ضروری نہیں ہے۔ لیکن "لما" کیا کرے گا؟ کس زمانے تک نفی کر دے گا؟ حال تک، ماضی کو اس میں نفی کر لے گا اور یہ نفی گھیر لے گی کہاں تک زمانے کو؟ حال تک یہ نفی آ جائے گی بھئی کہ ابھی تک۔ دوسری، دوسرا فرق یہ "لما" کا "لم" کے ساتھ، کہ "لما" کے ساتھ جس چیز کی نفی کی جائے، اس میں آگے ہونے کی توقع ہوتی ہے، امید ہوتی ہے۔ جب میں نے کہا: لما يضرب زيد، زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی، اسی سے آپ کو ایک بات بھی سمجھ میں آ گئی کہ معلوم ہوا آگے پٹائی ہونے کا امکان ہے، آگے امید ہے۔ زید نے ابھی تک، یہ جملہ آپ اسی شخص سے کہیں گے نا جب آپ کو کیا ہو اس چیز کی؟ امید ہے۔ زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی، معلوم ہوا آگے ہونے کا، آگے ہونے کی امید ہے، آگے پٹائی ہونے کی توقع ہے۔ تو "لما" جو ہے وہ نفی کو کھینچ کر زمانہ حال تک پہنچا دیتا ہے اور نیز "لما" کے ذریعے جو نفی کی جاتی ہے جس چیز کی، آگے زمانے میں اس کی امید اور توقع ہوتی ہے اس کے ہونے کی بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ جبکہ "لم" میں یہ دونوں باتیں ضروری نہیں، یعنی اس میں نفی ہو گی، وہ نفی کرے گا زمانہ ماضی میں، لیکن حال تک اس نفی کا ہونا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے حال تک ہو، ہو سکتا ہے حال تک نہ ہو، دونوں صورتیں اس میں ہو سکتی ہیں یعنی اس میں یہ حال تک نفی کا ہونا ضروری نہیں، جبکہ "لما" میں زمانہ حال تک نفی کا ہونا ضروری ہے۔ نیز "لما" کے اندر جس چیز کی نفی کی گئی ہے، مستقبل میں اس کے ہونے کی توقع ہوتی ہے، لیکن "لم" میں ایسا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے آگے توقع ہو، ہو سکتا ہے آگے توقع نہ ہو، معلوم ہوا اس میں یہ شرط ضروری نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ولم ولما لنفي المضي، "لم" اور "لما" جو ہے زمانہ ماضی کی نفی کے لیے آتے ہیں یعنی زمانہ ماضی میں نفی کے لیے آتے ہیں، إلا أنه بلما ينسحب على زمن التكلم، انسحب ينسحب کے معنی ہوتے ہیں گھسٹنا، یہاں مراد ہے پہنچنا، کیا مراد ہے؟ پہنچنا۔ إلا، مگر یہ کہ، أنه بلما، کہ وہ جو نفی ہے وہ "لما" کے ساتھ، ينسحب على زمن التكلم، وہ پہنچ جاتی ہے تکلم کے زمانے پر یعنی تکلم کے زمانے تک پہنچ جاتی ہے، وہ نفی کہاں تک پہنچ جاتی ہے؟ تکلم کے زمانے تک پہنچ جاتی ہے۔ ويختص بالمتوقع، اور نیز یہ نفی خاص ہوتی ہے اس چیز کے ساتھ جس میں آگے توقع ہوتی ہے بھئی، جس میں آگے کیا ہوتی ہے؟ توقع۔ تو "لما" کیا فائدے دیتا ہے؟ کیا دو فائدے ہیں اس کے؟ ایک تو یہ نفی کو کھینچ کر کہاں تک پہنچا دے گا؟ زمانہ حال کہہ لیں یا زمانہ تکلم کہہ لیں، وہاں تک پہنچا دے گا، دوسرا کیا فائدہ اس کا؟ کہ اس میں جس چیز کی نفی کی گئی ہے، آگے اس کے ہونے کی امید اور توقع ہوتی ہے۔ وعلى هذا، اور اسی بنا پر، فلا يقال، یہ نہیں کہا جائے گا: لما يقم زيد ثم قام، یہ نہیں کہا جائے گا۔ کیا؟ لما يقم زيد ثم قام۔ اس لیے کیونکہ جب آیا لما يقم زيد، اس نے کیا بتلایا؟ کہ زمانہ حال یعنی ابھی تک زید کھڑا نہیں ہوا، کیونکہ "لما" آیا ہے اور یہ نفی کو کہاں تک پہنچا دیتا ہے؟ زمانہ حال، معلوم ہوا ابھی تک زید کھڑا نہیں ہوا، اور آگے آیا ثم قام، پھر وہ کھڑا ہوا، اور قام کون سا صیغہ ہے؟ ماضی، معلوم ہوا زمانہ ماضی میں ہی وہ پھر کھڑا ہوا، تو اس نے تو اس کی نفی کر دی۔ ماقبل میں "لما" تو کیا بتلا رہا تھا کہ قیام کی نفی زید سے ہے کب تک؟ زمانہ حال تک نفی ہے، اور قام نے بتلایا کہ نہیں، نفی نہیں ہے بلکہ ماضی ہی میں کیا ہے؟ کھڑا ہونا بھی اس کے لیے ثابت ہے، تو یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہو گئے بھئی، یہ تو دونوں کلام کے جملے دونوں حصوں میں منافات آ گئی بھئی۔ پہلے لما یقم نے بتایا کہ قیام ابھی تک زید کے لیے ثابت نہیں ہے، اور قام نے بتلایا کہ قیام پہلے زید کے لیے ثابت ہو چکا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں یہ پہلی شرط پوری نہیں ہو رہی، اس لیے یہ کہنا درست نہیں۔ پہلی کیا شرط تھی؟ کہ "لما" کہاں تک پہنچاتا ہے؟ زمانہ حال تک پہنچاتا ہے، اس کی تو یہاں وہ بات پوری نہیں ہو رہی۔ ولا، اور اسی طرح یہ کہنا، یہ بھی نہیں کہا جائے گا: لما يجتمع النقيضان، ابھی تک دو نقیضیں جمع نہیں ہوئیں۔ بھئی ایک ہے نقیض، ایک ہے ضد۔ نقیضان اور ضدان۔ بھئی آپ جانتے ہیں، بعض چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہوتی ہیں، مثلاً: صبح، صبح اس کی ضد ہے شام۔ دن، اس کی ضد کیا ہے؟ رات، یعنی اس کا متضاد۔ دن کی ضد کیا؟ رات، آسمان کی ضد؟ زمین، اچھا، سفید کی ضد؟ سیاہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ان کو کہتے ہیں ضدان، وہ دو چیزیں جو اکٹھی نہ ہو سکیں، جمع نہ ہو سکیں، ان کو ضدان کہتے ہیں۔ رات اور دن ایک دوسرے کی ضد ہیں کیونکہ یہ دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے، ایک ہی زمانے کے اندر، ایک ہی وقت میں دن بھی ہو اور رات بھی ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ دن ہے تو رات نہیں، اور رات ہے تو دن نہیں۔ ایک ہی چیز، ایک ہی جگہ سے، ایک ہی وقت میں سفید بھی ہو اور سیاہ بھی ہو، ایسا نہیں ہو سکتا، جس مقام پر وہ سفید ہے اس مقام پر سیاہ نہیں، اور جس مقام پر سیاہ ہے اس مقام پر سفید نہیں۔ اسی طرح بھئی، صبح اور شام یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، صبح ہے تو وہ شام نہیں اور جو شام ہے تو وہ صبح نہیں۔ سردی اور گرمی ایک دوسرے کی ضد ہیں، سردی ہے تو گرمی نہیں، گرمی ہے تو سردی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھوک، بھوکا ہونا اور پیٹ بھرا ہونا، یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، بھوکا ہے تو پیٹ نہیں بھرا ہوا، اور پیٹ بھرا ہوا ہے تو بھوکا نہیں، یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے، یہ تو ہیں ضدان۔ تو ضدان وہ ہیں جن کا دو کا جمع ہونا ممکن نہ ہو، وہ جمع نہیں ہو سکتیں بھئی۔ اور ایک ہیں نقیضان بھئی، نقیضان۔ نقیضان وہ دو چیزیں جو دو جمع بھی نہیں ہو سکتیں اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتیں، یعنی ایک وقت میں ایک ضرور پائی جائے گی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ ضدان تو وہ دو چیزیں ہیں جو جمع نہیں ہو سکتیں، لیکن دونوں اٹھ سکتی ہیں، ہو سکتا ہے دونوں میں سے ایک بھی نہ پائی جائے۔ مثلاً دیکھیے: سفید اور سیاہ، یہ کیا ہیں؟ ضدان ہیں، تو سفید اور سیاہ یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، یہ دونوں اکٹھے تو نہیں ہو سکتے، یعنی ایک ہی چیز ایک ہی وقت میں سفید بھی ہو اور سیاہ بھی ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہاں، دونوں اٹھ سکتے ہیں، یعنی ہو سکتا ہے وہ چیز نہ سیاہ ہو اور نہ سفید ہو، بلکہ مثلاً سبز رنگ کی ہے۔ تو دیکھو ایک چیز سبز رنگ کی ہے، اب سفید بھی نہیں، سیاہ بھی نہیں، دونوں ہی اٹھ گئے، دونوں ہی اس پر صادق نہیں آ رہے، نہ اس کو ہم سفید کہہ سکتے ہیں، نہ اس کو ہم سیاہ کہہ سکتے ہیں، بلکہ اس کا رنگ تو کیا ہے مثلاً؟ سبز ہے بھئی۔ تو ضدان جمع ہونا ان کا ممکن نہیں، ہاں اٹھنا ممکن ہے، اٹھ جائیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن نقیضان وہ ہوتی ہیں کہ جن کا جمع ہونا بھی ممکن نہ ہو اور ان کا اٹھنا بھی ممکن نہ ہو۔ ان کا اٹھ جانا بھی ممکن نہ ہو۔ جیسے دیکھیے بھئی: انسان، اس کی نقیض ہے لا انسان۔ انسان اور لا انسان۔ دنیا کی کوئی چیز دیکھ لیں، اس میں ان دو میں سے ایک چیز پائی جائے گی، دونوں کہیں بھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں، جو انسان ہے وہ لا انسان نہیں ہے، اور جو لا انسان ہے وہ انسان نہیں ہے۔ ایک ہی چیز انسان بھی ہو اور لا انسان بھی ہو، ایسا ہو ہی نہیں سکتا، تو یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ اور یہ دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے، دنیا کی کوئی چیز دیکھ لیں، یا وہ انسان ہو گی یا لا انسان ہو گی، ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ نہ انسان ہو اور نہ لا انسان ہو۔ یہ کتاب ہے، یہ انسان ہے یا لا انسان؟ یہ لا انسان ہے۔ پہاڑ ہے، انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان ہے۔ زید ہے، انسان ہے یا لا انسان؟ انسان ہے۔ درخت ہے، انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان ہے۔ تو یہ نقیضان ہیں، یہ دونوں اٹھ ہی نہیں سکتیں، یہ ایک ضرور صادق آئے گی دنیا کی ہر چیز پر، کسی بھی چیز کو دیکھ لیں، یا وہ انسان ہو گی یا لا انسان ہو گی، ایسا نہیں ہو سکتا: نہ انسان ہو اور نہ لا انسان ہو، بلکہ کوئی تیسری چیز ہو، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ تو نقیضان وہ ہوتی ہیں جو اکٹھی بھی نہیں ہو سکتیں اور دونوں اٹھ دونوں اٹھ بھی نہیں سکتیں، یعنی یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ دونوں اکٹھی ایک ہی چیز پر صادق آئیں، یہ لفظ یہ دونوں لفظ ایک چیز پر ہی بولے جائیں، ایسا بھی نہیں ہو سکتا، اور دونوں میں سے کوئی ایک بھی نہ بولا جائے کسی چیز پر، ایسا بھی نہیں ہو سکتا، دونوں میں سے ایک ضرور بولنا پڑے گا اس پر کہ وہ انسان ہے یا لا انسان۔ تو ضدان ان دونوں کا اٹھ جانا ممکن ہے کہ ہو سکتا ہے دونوں ہی صادق نہ آئیں، جیسے ایک چیز کا رنگ سبز ہے تو اس پر نہ سفید صادق آ رہا ہے اور نہ سیاہ، نہ اس کو سفید کہہ سکتے ہیں اور نہ سیاہ کہہ سکتے ہیں۔ تو ہاں، جمع تو نہیں ہو سکتے ضدان لیکن اٹھ جانا ممکن ہے، جبکہ نقیضان جمع بھی نہیں ہو سکتے اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے۔ اسی طرح دیکھ لیجیے: قلم اور لا قلم، یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ دنیا کی کوئی چیز آپ دیکھ لیں، یا وہ قلم ہو گی یا لا قلم ہو گی، دونوں اکٹھے بھی نہیں ہو سکتے اور کوئی چیز ایسی ہو جن پر یہ لفظ صادق نہ آئے، دونوں میں سے ایک بھی صادق نہ آئے، ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ کتاب اور لا کتاب، یہ ایک دوسرے کی نقیض ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے: ولا لما يجتمع النقيضان، ابھی تک دو نقیضیں جمع نہیں ہوئیں، کہتے ہیں یہ کہنا بھی درست نہیں ہے، آپ یوں بھی نہیں کہہ سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں دوسری بات نہیں پوری ہو رہی، کیونکہ آپ نے "لما" کے ذریعے نفی کی اور "لما" کیا فائدہ دیتا ہے؟ نفی کو حال تک پہنچا دیتا ہے، تو کیا معنی ہوا؟ ابھی تک کوئی دو نقیضیں اکٹھی نہیں ہوئیں، یہ بات تو ٹھیک ہے، واقعی آج تک کبھی بھی دو نقیضیں اکٹھی نہیں ہوئیں۔ لیکن دوسری بات کیا تھی؟ کہ "لما" کے ذریعے جس چیز کی نفی کی گئی ہے، آگے مستقبل میں اس کے ہونے کی امید ہوتی ہے، وہ یہاں پوری نہیں، نقیضان تو نہ آج تک ماضی میں کبھی جمع ہوئی ہیں، نہ کبھی مستقبل میں جمع ہو سکتی، مستقبل میں بھی وہ جمع نہیں ہو سکتی تو وہاں پر توقع اور امید بھی نہیں ہے جمع ہونے کی، لہٰذا یہاں دوسری بات پوری نہیں، تو "لما" کا استعمال یہاں پر صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں: فلا يقال، پس یہ نہیں کہا جائے گا: لما يقم زيد ثم قام، کیوں نہیں کہا جائے گا؟ کیونکہ اس میں پہلی بات پوری نہیں۔ ولا لما يجتمع النقيضان، اور یہ بھی نہیں کہا جائے گا کیونکہ اس میں دوسری بات پوری نہیں ہے۔ كما يقال، جیسے کہ کہا جائے گا: لم يقم ثم قام، دیکھو وہی جملہ ہے لیکن "لما" کی جگہ "لم" لے آئے، اب آپ کہہ سکتے ہیں: لم يقم، وہ زید مثلاً زمانہ ماضی میں کھڑا نہیں ہوا، ثم قام، پھر زمانہ ماضی ہی میں وہ کھڑا ہو گیا، تو یہ کہنا صحیح ہے بھئی کیونکہ "لما" کے اندر وہ جو چیزوں کا ہونا ضروری نہیں۔ ولما يجتمعا، دو نقیضیں جمع نہیں ہوئیں زمانہ ماضی میں، تو "لم" کے ساتھ نفی کی، یہ بات بالکل صحیح ہے، ماضی میں کبھی دو نقیضیں جمع نہیں ہوئیں، اور نیز یہاں پر توقع بھی نہیں ہے کیونکہ "لم" لے کر آئے، "لم" کے اندر تو توقع نہیں ہوتی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ کہنا صحیح ہے۔ فلما في النفي تقابل قد في الإثبات، تو "لما" جو نفی کے اندر ہے، وہ مقابل ہے اس "قد" کے جو اثبات کے اندر ہے، یعنی "لما" نفی کے اندر وہی کام کرتا ہے جو لفظِ "قد" اثبات میں کرتا ہے۔ بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا ہے: ضرب زيد، زید نے پٹائی کی، کس زمانے میں کی ہے؟ زمانہ ماضی میں۔ یاد رکھیے، زید نے ابھی تھوڑی دیر پہلے پٹائی کی ہو، تو بھی آپ کہہ سکتے ہیں: ضرب زيد، زید نے زمانہ ماضی میں پٹائی کی ہے۔ زید نے دس سال پہلے پٹائی کی تھی، تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں: ضرب زيد، زید نے پٹائی کی، کس زمانے میں؟ زمانہ ماضی میں۔ تو ضرب ویسے عام ہے۔ اور اثبات ہے یا نفی ہے؟ اثبات۔ اسی پر ذرا "قد" لے آئیں: قد ضرب زيد، اب یاد رکھیے، اب ضرب ثابت ہے زید کے لیے لیکن "قد" نے اس کو حال کے قریب کر دیا۔ کس کے قریب کر دیا؟ معلوم ہوا پٹائی زمانہ ماضی میں ہوئی ہے لیکن حال کے قریب ہی ہوئی ہے، ابھی قریب کے زمانے میں ہوئی ہے یہ پٹائی، ہوئی تو ماضی ہی میں ہے لیکن کس زمانے کے قریب ہے؟ حال، تو "قد" کیا کرتا ہے؟ ماضی کو کس کے قریب کر دیتا ہے؟ حال کے قریب کر دیتا ہے۔ اور ترجمے میں بھی فرق پڑے گا: ضرب زيد، اس کا کیا معنی ہے؟ زید نے پٹائی کی، دیکھو آخر میں "ہے" کا لفظ نہیں ہے، زید نے پٹائی کی، بس۔ اور جب کہیں گے: قد ضرب زيد، اب کیا ترجمہ کریں گے؟ اب "ہے" کا لفظ بھی آ جائے گا: زید نے پٹائی کی ہے، مثلاً حال کے قریب آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یہی کام "لما" نفی میں کرتا ہے، نفی میں کرتا ہے۔ مثلاً: لما يضرب زيد، پہلے "لم" کے ساتھ کریں: لم يضرب زيد، زید نے زمانہ ماضی میں پٹائی نہیں کی۔ ہو سکتا ہے کافی وقت گزر چکا ہے جس چیز کی آپ نفی کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے اس کو کافی وقت گزر گیا، سال دو سال پہلے کی بات کر رہے ہیں، تو بھی بات صحیح ہے۔ اور حال کے قریب ہو تب بھی آپ کا نفی کرنا صحیح ہے۔ لیکن جب آپ کہیں گے: لما يضرب زيد، اب جو نفی کر رہے ہیں یہ حال کے قریب ہے یعنی ابھی قریب کے زمانے میں زید نے پٹائی نہیں کی۔ یہ کس صورت میں ہو گا؟ "لما" کی صورت میں۔ تو جیسے "قد" کلامِ مثبت پر داخل ہوتا ہے اور اس کو کس کے قریب کر دیتا ہے؟ حال کے، اسی طرح "لما" جب نفی کے لیے ماضی پر "لما" جب نفی کے لیے استعمال ہو گا تو وہ بھی نفی کو کس کے قریب کر دے گا؟ حال کے قریب کر دے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: فلما في النفي تقابل قد في الإثبات، تو "لما" جو ہے نفی کے اندر وہ مقابل ہے قد کا في الإثبات، کس کے اندر؟ اثبات میں۔ ترجمہ کیسے کریں گے؟ فلما، دیکھیے ترجمہ غور سے سننا، پس وہ "لما" في النفي جو کس میں آتا ہے؟ نفی میں آتا ہے یعنی نفی کے لیے آتا ہے، تقابل قد، وہ مقابل ہے اس "قد" کے، في الإثبات، جو کس میں آتا ہے؟ اثبات میں آتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ وحينئذ يكون منفيها قريبا من الحال، منفيها ہونا چاہیے بھئی، آپ کی کتابوں میں منفياً ہے؟ یہاں ھا ضمیر ہے: منفيها، کسی کتاب میں ہے بھئی منفيها؟ ہاں، بعض کتابوں میں منفيها ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وحينئذ يكون منفيها قريبا من الحال، اور اس وقت اس کا جو منفی ہے، منفيها، اس "لما" کا جو منفی ہے یعنی جس کی اس نے نفی کی ہے، قريبا من الحال، وہ کس کے قریب ہو گا؟ حال کے قریب، یعنی جس چیز کی اس نے نفی کی ہے وہ حال کے قریب ہے، حال کے قریب کسی چیز کی نفی کی جا رہی ہے، قدیم زمانے کی بات نہیں۔ فلا يصح، لہٰذا یہ صحیح نہیں ہو گا یعنی یوں کہنا صحیح نہیں ہو گا: لما يجئ محمد في العام الماضي، لما يجئ محمد في العام الماضي، لما يجئ محمد، بھئی مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام محمد ہے، اب آپ دوسرے کو کہتے ہیں: لما يجئ محمد في العام الماضي، کہتے ہیں یہ آپ کا یہ کہنا صحیح نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کیونکہ اس کلام کا جو پہلا حصہ ہے: لما يجئ محمد، محمد نہیں آیا، اس نے نفی کی، کس زمانے میں کی؟ ماضی، اور کون سی ماضی میں؟ قریب کی یا بعید کے زمانے میں؟ "لما" نفی کو کس کے قریب کر دیتا ہے؟ حال، تو یہ قریب کے زمانہ ماضی کے اندر معلوم ہوا نفی کر رہے ہیں کہ ابھی قریب کے زمانے میں محمد نہیں آیا، اور آگے آخرِ کلام میں آ رہا ہے: في العام الماضي، عام سال کو کہتے ہیں عربی زبان میں، في العام الماضي، گزشتہ سال میں۔ اس نے کیا بتلایا کہ نفی قریب کے زمانے میں ہے یا دور کے زمانے میں ہے؟ دور کے زمانے میں ہے، تو دونوں کلام کے دونوں حصے ایک دوسرے ان میں منافات آ گئی۔ لما يجئ محمد نے بتلایا کہ یہ جو نفی کی جا رہی ہے مجیئت کی، یہ ابھی قریب کے زمانے کی بات ہے بھئی، ابھی قریب کے زمانے میں وہ نہیں آیا، اور في العام الماضي نے بتلایا کہ نفی کس زمانے میں کی جا رہی ہے؟ دور کے، ایک سال پہلے کی بات کی جا رہی ہے کہ اس وقت وہ نہیں آیا تھا، تو ان دونوں میں منافات ہے، لہٰذا یہ کہنا صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔