درس نمبر۔51 واما الشرط فالتقييد به يكون للاغراض التي تؤديها معاني ادوات الشرط كالزمان في متى وايان، والمكان في اين وانى وحيثما، والحال في كيفما. اطلاق اور تقیید کا باب ہم پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے پڑھا کہ کلام میں ایک مسند ہوتا ہے اور ایک مسند الیہ۔ مسند الیہ جس کی طرف اسناد کیا جائے اور مسند جس کا اسناد کیا جائے یا آسان لفظوں میں یوں کہیے: جس کے بارے میں بات کی جائے وہ ہے مسند الیہ، اور جو بات کی جائے وہ ہے مسند۔ "زید کھڑا ہے"، کس کے بارے میں بات کی گئی؟ زید کے بارے میں، تو زید ہوا مسند الیہ۔ اور کیا بات کی گئی؟ کہ وہ کھڑا ہے، یہ ہے مسند بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب یہ مسند اور مسند الیہ جملے میں یہ تو ضرور ہوں گے، کبھی ان کے متعلقات بھی ساتھ ذکر ہوں گے۔ اگر یہ اکیلے ہیں تو کہیں گے یہ مطلق ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ مطلق ہیں یعنی کوئی قید نہیں۔ اور اگر ان کے ساتھ اور لفظ ہیں تو وہ ان کے لیے قید بنتے ہیں۔ تو اس صورت میں کہیں گے یہ مقید ہیں۔ حکم کیا ہے یہاں پر؟ مقید ہے۔ تو پھر کن کن چیزوں کے ساتھ یہ مقید ہوتے ہیں؟ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مفعولوں کے ساتھ اور اس جیسی جو چیزیں ہیں یعنی حال، تمیز اور استثناء وغیرہ، اور اسی طرح نواسخ، شرط، نفی اور توابع کے ساتھ یہ مقید کیے جاتے ہیں۔ پھر یہ ہر ایک کے ساتھ مقید کرنے کے کیا کیا فائدے ہوتے ہیں، وہ اب الگ الگ ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے مفعولوں کے ساتھ کیوں مقید کیا جاتا ہے وہ بتلایا، پھر اس کے بعد مفعولوں جیسی چیزیں ہیں یعنی حال، تمیز اور استثناء، ان کے ساتھ کیوں مقید کیا جاتا ہے وہ بیان کیا بھئی۔ اور گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ نواسخ کے ساتھ کیوں مقید کیا جاتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی نواسخ کے ساتھ حکم کو وہاں مقید کیا جائے گا جب کہنے والے کی غرض وہ معنی ہو جس کو نواسخ کے الفاظ ادا کر رہے ہیں۔ جب اس کا مقصد وہ معنی ہے جسے نواسخ کے الفاظ ادا کر رہے ہیں، تو اسے نواسخ کے لفظ کو استعمال کرنا پڑے گا کیونکہ وہی معنی اس کا مقصود ہے بھئی۔ جیسے کیا کیا وہ معانی ہو سکتے ہیں؟ جیسے بھئی استمرار ہے، استمرار کے لیے کیا پھر استعمال کرنا پڑے گا؟ کانا وغیرہ، کانا استعمال کرنا پڑے گا۔ یا مخصوص زمانہ بتلانا چاہتے ہیں تو بھی کیا استعمال کرنا پڑے گا؟ کانا۔ اور اسی طرح اگر معین زمانے کے ساتھ مقید کرنا چاہتے ہیں حکم کو، تو بھی کیا استعمال کرنے پڑیں گے؟ افعال ناقصہ استعمال کرنے پڑیں گے۔ اگر معین حالت کے ساتھ مقید کرنا ہو، تو بھی فعل ناقص "ما دام" استعمال کرنا پڑے گا۔ اگر مقاربت کے ساتھ مقید کرنا مقصد ہو، تو پھر کاد، کرب وغیرہ افعال مقاربہ کے ساتھ مقید کرنا پڑے گا۔ اور اگر یقین یا شک کے ساتھ مقید کرنا چاہتے ہیں اپنے کلام کو آپ، تو پھر اس کے لیے افعال قلوب کو استعمال کریں گے۔ لیکن بہرحال یہ ہیں سب قیدیں ہی۔ اصل کلام وہی جو مبتدا اور خبر تھے ان کے داخل ہونے سے پہلے، اس سے مل کر بنے گا اور یہ کیا ہوں گے اس کے لیے؟ قید ہوں گے۔ آج آپ کو یہ شرط کے بارے میں بتلائیں گے کہ کلام کے اندر بعض اوقات شرط ذکر کی جاتی ہے، شرط کے ساتھ اسے مقید کیا جاتا ہے۔ مثلاً دیکھیے! ایک میں بغیر شرط کے آپ سے کہتا ہوں: "آپ کو میں سو روپیہ انعام دوں گا۔" دیکھو کوئی شرط نہیں۔ معلوم ہوا میں ویسے ہی بطور انعام کے آپ کو ایک سو روپیہ دوں گا۔ اس کلام کا اور معنی ہے، اس میں کوئی قید وغیرہ نہیں۔ لیکن اگر اسی کو میں مقید کر دوں، شرط ذکر کر دوں اور یوں کہوں: "اگر آپ امتحان میں کامیاب ہو گئے تو میں آپ کو ایک سو روپیہ انعام دوں گا۔" اب دیکھو بات وہی آ رہی ہے "میں آپ کو ایک سو روپیہ انعام دوں گا"، لیکن اب قید ساتھ آ گئی کہ یہ انعام ویسے نہیں ملے گا، کب ملے گا؟ اگر امتحان میں کامیاب ہو گئے۔ تو دیکھا، یہ شرط جو ہوتی ہے یہ قید ہوا کرتی ہے۔ شرط کیا ہوتی ہے؟ قید ہوتی ہے۔ اسی سے ایک اور فائدہ بھی آپ کو بتلا دوں۔ یاد رکھیے! یہ جو جملہ شرطیہ ہوتا ہے، جملہ شرطیہ، یاد رکھیے ایک تو پہلے اس کا نام، عموماً طلبہ میں رائج یہ ہے، اس کو کہتے ہیں جملہ شرطیہ جزائیہ۔ کیا کہتے ہیں؟ جملہ شرطیہ جزائیہ۔ بھئی یہ جزائیہ کی قید بلاوجہ بڑھا دی۔ جزائیہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ صرف اتنا کہو: یہ جملہ شرطیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ جملہ شرطیہ ہے بھئی۔ بات، صورت سمجھ میں آگئی؟ اور جملہ شرطیہ کہتے ہی اس کو ہیں جس میں شرط اور جزا ہوا کرتے ہیں، دو جز ہوتے ہیں اس جملے کے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا یہ لفظ کبھی بھی استعمال نہ کرو جملہ شرطیہ جزائیہ ہوا۔ آپ جتنی عرب کی قدیم کتابیں، جتنے اٹھائیں گے علماء کی، وہاں آپ کو کہیں بھی نہیں ملے گا کہ جملہ شرطیہ جزائیہ ہے، بلکہ صرف ملے گا: یہ جملہ شرطیہ ہے۔ تو اس کا نام کیا ہے؟ جملہ شرطیہ ہے۔ جملہ شرطیہ ہے۔ پھر اس میں یاد رکھیے کہ جملہ جو ہے، یہ دو قسم پر ہے آپ نے پڑھا۔ ایک جملہ خبریہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اور ایک جملہ انشائیہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے، نہ کہا جا سکے۔ اب جو جملہ شرطیہ ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو جملہ خبریہ کہیں گے یا جملہ انشائیہ کہیں گے؟ تو یاد رکھیے، اس میں اصل جزا ہے۔ بھئی جملہ شرطیہ کے دو جز ہوتے ہیں نا، ایک کو شرط کہتے ہیں، ایک کو کیا کہتے ہیں؟ جزا۔ تو اصل جزا ہے اور یہ جو شرط ہوتی ہے یہ قید ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ قید۔ یہی ابھی تو بیان کر رہے ہیں: "واما الشرط" اور باقی جو شرط، معلوم ہوا شرط قید ہوا کرتی ہے، یہ اصل کلام نہیں ہے۔ اصل کلام وہ جزا ہے۔ اصل کلام کیا ہے؟ جزا۔ تو جزا کے والے جملے پر نظر کرنا، اگر وہ جملہ خبریہ ہوا تو اس جملہ پورے جملہ شرطیہ کو کہیں گے یہ جملہ شرطیہ خبریہ ہے۔ اور اگر جزا انشا ہوئی تو کہیں گے یہ جملہ شرطیہ انشائیہ ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ مثلاً بھئی، اب آپ مجھے بتائیے، یہ جملہ شرطیہ انشائیہ ہے یا خبریہ ہے؟ "ان جاءنی زید فاکرمتہ"، کس پر نظر کی آپ نے؟ "فاکرمتہ" یہ جزا ہے، اور "اکرمتہ" میں اس کا اکرام کروں گا۔ "ان" نے اس کو مستقبل کے معنی میں کر دیا نا، ویسے تو ماضی ہے لیکن معنی کس کا کریں گے؟ "ان جاءنی زید" اگر میرے پاس زید آیا، "فاکرمتہ" تو میں اس کا اکرام کروں گا۔ تو "فاکرمتہ" میں اس کا اکرام کروں گا، یہ آپ خبر دے رہے ہیں۔ اگرچہ مستقبل کی ہے لیکن ہے تو خبر ہی۔ میں اس کا کیا کروں گا؟ اکرام کروں گا۔ تو جزا ہوئی خبریہ، جملہ خبریہ۔ تو پورے جملہ شرطیہ کو ہی کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ خبریہ۔ اور اگر جزا ہوئی انشا، "ان جاءک زید فاضربہ"، اگر تمہارے پاس زید آئے تو اس کی پٹائی کرنا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ انشائیہ، کیونکہ جزا "فاضربہ" یہاں امر آیا اور امر کیا ہے؟ انشا ہے۔ تو معلوم ہوا جزا انشا ہے اور جب جزا انشا ہو تو پورے جملہ شرطیہ کو ہی کیا کہتے ہیں؟ جملہ شرطیہ انشائیہ کہتے ہیں۔ تو شرط قید ہوتی ہے، آپ نے صرف کس کو دیکھنا ہے؟ جزا کو۔ اور جزا خبر ہے تو کہیں گے جملہ شرطیہ خبریہ، اور اگر جزا انشا ہے تو کہیں گے جملہ شرطیہ انشائیہ بھئی، انشائیہ۔ تو دیکھیے! تو شرط قید ہوتی ہے جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، ایک جملہ ہے "میں آپ کو سو روپیہ انعام دوں گا"، یہ مطلق ہے، اس کے اندر کوئی قید نہیں، شرط نہیں۔ لیکن اگر میں کہتا ہوں "اگر آپ امتحان میں کامیاب ہو گئے تو پھر میں آپ کو ایک سو روپیہ انعام دوں گا"، اب یہ انعام دینے والی بات مقید ہو گئی، کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ، کہ اگر امتحان میں کامیاب ہوئے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "واما الشرط"، تو شرط کے ساتھ کلام کو کیوں مقید کیا جاتا ہے؟ وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "واما الشرط فالتقييد به يكون للاغراض التي تؤديها معاني ادوات الشرط"، ادوات شرط کا کیا معنی ہے؟ شرط کے جو آلات ہیں، شرط کے جو کلمات ہیں۔ بھئی دیکھیے! یہاں بیان یہ کر رہے ہیں کہ شرط کے ساتھ حکم کو یا کلام کو کیوں مقید کیا جاتا ہے؟ وہی بات جو پہلے بیان کی۔ نواسخ میں کیا کہا تھا کہ نواسخ کے ساتھ کلام کو کیوں مقید کیا جاتا ہے؟ کیونکہ متکلم کی غرض کیا ہوتی ہے؟ وہ اس معنی کو ادا کرنا چاہتا ہے جو کس کا معنی ہے؟ نواسخ، اسی معنی کو ادا کرنا ہے اور وہ تو نواسخ کا معنی ہے تو نواسخ کا لفظ لانا پڑے گا۔ اسی طرح یہاں پر بھی متکلم کی غرض کیا ہوگی؟ وہ اس معنی کو ادا کرنا چاہتا ہے جو کس کا معنی ہے؟ شرط کا، ادوات شرط۔ جب شرط والا معنی ادا کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے شرط والے ادوات استعمال کرنے پڑیں گے، ان کے ساتھ کلام کو کیا کرنا پڑے گا؟ مقید کرنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: "واما الشرط" اور باقی شرط جو ہے، "فالتقييد به" تو اس کے ساتھ حکم کو مقید کرنا جو ہے، "يكون للاغراض التي" تو یہ ان غرضوں کے لیے ہوگا، "تؤديها معاني ادوات الشرط" جن غرضوں کو شرط کے جو کلمات ہیں ان کے معانی ادا کرتے ہیں۔ جب متکلم کی غرض کیا ہو؟ وہ معنی ہو جس کو کون ادا کرتے ہیں؟ ادوات شرط کے معانی ادا کرتے ہیں، تو پھر ادوات شرط کو استعمال کرنا پڑے گا۔ "كالزمان" جیسے کہ زمانہ ہے، "في متى وايان" متى اور ايان، اب دیکھو یہ فائدے شروع ہو گئے بھئی۔ مثلاً آپ زمانے کے ساتھ اپنے کلام کو مقید کرنا چاہتے ہیں، زمانے کی شرط کے طور، زمانے کو بطور شرط کے ذکر کرنا چاہتے ہیں، تو زمانے کے بطور شرط کے مقید کرنے کے لیے "متى" اور "ايان" ہے تو ان کو استعمال کرنا پڑے گا۔ مثلاً میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں، کیا کہنا چاہتا ہوں؟ "جب آپ بیٹھیں گے تو میں بھی بیٹھوں گا۔" تو دیکھیے، جب آپ بیٹھیں گے، میں جگہ کی بات کر رہا ہوں یا زمانے کی؟ زمانے کی، کہ جس زمانے میں آپ بیٹھیں گے میں بھی اس زمانے میں بیٹھوں گا۔ تو اس کے لیے "متى" استعمال کرنا پڑے گا۔ "متى تجلس اجلس"، جب آپ بیٹھیں گے میں بھی بیٹھوں گا۔ اسی طرح "ايان" ہے، "ايان تجلس اجلس" بھئی، جس وقت آپ بیٹھیں گے میں بھی اس وقت بیٹھوں گا۔ "والمكان" اور مکان جیسے ہے، "في اين وانى وحيثما" اين، انى اور حيثما، یہ مکان اور جگہ کے لیے آتے ہیں۔ پہلا جملہ کیا تھا؟ "آپ جب بیٹھیں گے تو میں بھی بیٹھوں گا"، جب یعنی زمانے کی بات تھی۔ اب اسی کو جگہ کی صورت بنا لیں۔ "آپ جہاں بیٹھیں گے وہاں میں بھی بیٹھوں گا"، تو دیکھو جہاں، جہاں بیٹھیں گے، کس چیز کی بات ہو رہی ہے؟ جگہ کی بات ہو رہی ہے، تو اس کے لیے عربی زبان میں "اين" اور "انى" وغیرہ ہیں۔ "اين تجلس اجلس"، جہاں آپ بیٹھیں گے میں وہاں بیٹھوں گا۔ اسی طرح "انى" ہے اور "حيثما" ہے۔ "والحال" اور اسی طرح حال ہے بھئی، حال کے ساتھ یعنی جس حالت میں آپ بیٹھیں گے میں بھی اسی حالت میں بیٹھوں گا۔ اب یہ جگہ کی بات نہیں ہو رہی، اب زمانے کی بات نہیں ہو رہی، بلکہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ حالت کی، جس حالت میں آپ بیٹھیں گے میں بھی اسی حالت میں بیٹھوں گا، تو اس کے لیے پھر "كيفما" ہے۔ "كيفما تجلس اجلس"، جیسے آپ بیٹھیں گے میں ویسے بیٹھوں گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ "واستيفاء ذلك وتحقيق الفرق بين الادوات يذكر في علم النحو"، استیفاء، استیفاء کا معنی ہے ایک چیز کو پورا پورا لے لینا۔ استیفاء کا معنی؟ پورا لے لینا۔ تو "واستيفاء ذلك" مراد ہے اس کا پورا بیان بھئی۔ کہتے ہیں ہم نے تو اشارہ کر دیا مختصراً کہ زمانے کے لیے متى اور ايان ہیں، مکان کے لیے اين، انى اور حيثما ہیں، اور حال کے لیے كيفما، لیکن "واستيفاء ذلك" اس کا پورا بیان، "وتحقيق الفرق بين الادوات" اور ان ادوات کے درمیان جو فرق ہے اس کی تحقیق جو ہے، "يذكر في علم النحو" اس کو کس میں ذکر کیا جاتا ہے؟ علم نحو میں ذکر کیا جاتا ہے، تو وہاں آپ پڑھ چکے ہوں گے بھئی حروف شرط کے بیان میں بھئی، حروف شرط، یہ جو فعل مضارع کو جو جزم دیتے ہیں، وہاں پر اس کی تفصیلی بحث مذکور ہے۔ کہتے ہیں وہ تفصیلی بحث علم نحو میں ذکر ہوتی ہے۔ "وانما يفرق هاهنا بين ان واذا ولو" اور یہاں پر فرق کیا جائے گا ان، اذا اور لو کے درمیان، "لاختصاصها بمزايا"، مزایا جمع ہے مزیۃ کی اور مزیۃ کا معنی ہوتا ہے فضیلت، فضیلت۔ "لاختصاصها بمزايا" اس وجہ سے کہ ان کا اختصاص ہے ایسی فضیلتوں کے ساتھ، "تعد من وجوه البلاغة" جن کو شمار کیا جاتا ہے بلاغت کی وجہوں میں سے۔ کس میں سے؟ وجوہ بلاغت، بلاغت کے وجوہ میں سے، بلاغت کے طریقوں میں سے اس کو شمار کیا جاتا ہے بھئی، بلاغت کے طریقوں میں۔ بھئی دیکھیے! حروف شرط انہوں نے بہت سے ذکر کر دیے، متى، اين وغیرہ، لیکن بتلا رہے ہیں یہاں ہم مفصل بحث جو ہے ان، اذا اور لو کے بارے میں ذرا تفصیلی بحث کریں گے، اس لیے کہ یہ جو تین لفظ ہیں ان کی خاص فضیلتیں ہیں، ایسی فضیلتیں جن کو بلاغت میں شمار کیا جاتا ہے۔ کس میں سے؟ بلاغت میں شمار کیا جاتا ہے، ان کے یعنی ان کے ساتھ ایسے ایسے نکات ہیں ان کے جس کی وجہ سے ان کو بلاغت میں شمار کیا جاتا ہے۔ باقیوں میں وہ نکات نہیں اس لیے ہم ان میں بحث بھی نہیں کریں گے۔ البتہ ان کے ساتھ ایسی فضیلتیں اور ایسے نکات ان کے ساتھ متعلق ہیں جو کس میں شمار کیے جاتے ہیں؟ علم بلاغت میں، تو اس لیے علم بلاغت میں ان کی تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھیے یہاں آیا "مزايا" اور مزایا ہے نکرہ، اور نکرہ کے بعد "تعد" فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا۔ "لاختصاصها" اس وجہ سے کہ ان کا اختصاص ہے، "بمزايا" ایسی فضیلتوں کے ساتھ، "تعد من وجوه البلاغة" جن کو کس میں سے شمار کیا جاتا ہے؟ بلاغت کے طریقوں میں سے، بلاغت کے وجوہ میں سے ان کو شمار کیا جاتا ہے۔ "فان واذا للشرط في الاستقبال، ولو للشرط في الماضي"، بھئی میری کتاب میں "الماضي" ہے لیکن یہ ماضی درست نہیں بھئی، "ولو للشرط في المضي"، یہاں الف نہیں ہونا چاہیے، باقی اسی طرح۔ "ولو للشرط في المضي"، ماضی اور مضی کا ایک معنی ہے، گزرے ہوئے زمانے کو کہتے ہیں، لیکن اصل کتاب کے اندر "مضي" ہے، ماضی کا لفظ نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی بعض طلبہ کی کتابوں میں ہوگا بھی بھئی، مضی ہے آپ کی کتاب میں؟ ہاں، بعض کتابوں میں مضی کا لفظ ہے تو یہاں اصل کتاب میں مضی ہی ہے بھئی۔ اب یاد رکھیے بھئی! تین حروف ہیں حروف شرط، ان کے بارے میں یہ بحث کریں گے اور تفصیل بیان کریں گے۔ اور تین حروف کون کون سے ہیں؟ ان، اذا اور لو۔ ان میں سے یاد رکھیے، "ان" اور "اذا" یہ جملے کو مستقبل کے معنی میں کر دیتے ہیں، یعنی فعل کو کس معنی میں کر دیتے ہیں؟ بھئی مضارع کے اندر دو معنی ہوتے ہیں، حال بھی اور استقبال بھی، حال اور استقبال۔ تو اس میں موقع و محل کے مطابق کہیں حال والا ترجمہ کیا جاتا ہے، کہیں مستقبل والا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ لیکن جب "ان" اور "اذا" یہ فعل مضارع پر داخل ہو جائیں تو اس کو خاص کر دیں گے مستقبل کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ تو "ان" اور "اذا" آتے ہیں مستقبل کے لیے، اور "لو" آتا ہے زمانہ ماضی کے لیے بھئی، زمانہ ماضی کے لیے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جب "ان" اور "اذا" آتے ہیں مستقبل کے لیے، تو مستقبل کے مناسب کون سا فعل ہے، فعل ماضی یا فعل مضارع؟ فعل مضارع ہے، تو ان کے ساتھ فعل مضارع استعمال ہوگا، ان اور اذا کے ساتھ۔ اور "لو" آتا ہے شرط کے لیے زمانہ ماضی میں، تو زمانہ ماضی کے لیے جب لو ہے تو اس کے ساتھ کیا استعمال ہونا چاہیے، فعل ماضی یا فعل مضارع؟ اس کے ساتھ استعمال بھی پھر فعل ماضی ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا "ان" اور "اذا" یہ داخل ہوں گے فعل مضارع پر اور "لو" یہ داخل ہوگا فعل ماضی پر۔ ان اور لو کس پر داخل ہوں گے؟ ہاں، ان اور اذا داخل ہوں گے فعل مضارع پر اور لو داخل ہوگا فعل ماضی پر بھئی، فعل ماضی پر۔ کیونکہ لفظ جو ہیں وہ معنی کے تابع ہوا کرتے ہیں۔ لفظ کس کے تابع ہوتے ہیں؟ معنی کے تابع ہوتے ہیں، جیسا معنی چاہیے ویسا ہی آپ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تو لفظ تابع ہوتا ہے معنی کے، نہ کہ یہ کہ معنی کس کے تابع ہو؟ لفظ کے بھئی۔ تو آپ نے جس طرح کا معنی ادا کرنا ہے تو اصل مقصود ہے معنی، لفظ اس کے مطابق آپ لے آئیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ان اور اذا کس زمانے کے لیے آتے ہیں؟ مستقبل کے لیے، لہٰذا ان کے ساتھ کیا استعمال ہوگا؟ فعل مضارع۔ اور لو آتا ہے شرط کے لیے زمانہ ماضی میں، تو لو کے ساتھ کون سا فعل استعمال ہوگا؟ فعل ماضی استعمال ہوگا۔ تو یہ ہوا اصل۔ اصل یہ ہے ان اور اذا کے ساتھ مضارع ہونا چاہیے اور لو کے ساتھ کیا ہونا چاہیے؟ ماضی ہونا چاہیے۔ لیکن کبھی کبھار اس کا عکس کریں گے، مضارع کی جگہ مثلاً کیا لے آئیں گے؟ ماضی لائیں گے لیکن وہ کسی نقطے کی وجہ سے ہوگا، بغیر نقطے کے نہیں۔ اگر بغیر نقطے کے لاتے ہیں تو یہ بلاغت کے اعتبار سے آپ درست نہیں کر رہے بھئی۔ تو اصل یہ ہے، ان اور اذا کے ساتھ کیا ہونا چاہیے؟ فعل مضارع۔ لیکن اگر آپ کیا لاتے ہیں؟ فعل ماضی لاتے ہیں، تو کسی نقطے کی بنا پر ہوگا، اس اصل کو آپ چھوڑ رہے ہیں اور دوسری چیز کی طرف جا رہے ہیں تو اس میں کوئی نقطہ چاہیے، کوئی بات ہو، کوئی ایسے کوئی نقطہ ہو تو پھر ہی عدول کریں گے ورنہ عدول کرنا بلاغت کے اعتبار سے صحیح نہیں، صحیح نہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: "فان واذا للشرط في الاستقبال"، پس ان اور اذا جو ہیں وہ شرط کے لیے ہیں فی الاستقبال، زمانہ مستقبل میں، "ولو للشرط في المضي" اور لو جو ہے شرط کے لیے ہے زمانہ ماضی میں، مضی اور ماضی کا معنی ایک ہی ہے، گزشتہ زمانہ۔ "والاصل في اللفظ ان يتبع المعنى" اور اصل لفظ میں یہ ہے کہ وہ معنی کے تابع ہو، لفظ کیا ہونا چاہیے؟ معنی کے تابع ہونا چاہیے، "فيكون فعلا مضارعا مع ان واذا" تو ان اور اذا کے ساتھ فعل مضارع ہوگا، "وماضيا مع لو" بھئی میری کتاب میں "او ماضيا"، او کے بجائے واؤ ہونا چاہیے بھئی۔ کسی کی کتاب میں ہے واؤ بھئی؟ ہاں واؤ ہونا چاہیے، "او ماضيا" نہیں بلکہ "وماضيا" ہونا چاہیے، وماضيا۔ تو کہتے ہیں: "فيكون فعلا مضارعا مع ان واذا" تو فعل مضارع ہوگا ان اور اذا کے ساتھ، "وماضيا مع لو" اور فعل ماضی ہوگا کس کے ساتھ؟ لو کے ساتھ۔ "نحو" مثال کے طور پر، اب دیکھیے مثالیں دیں گے، آپ دیکھیں گے ان اور اذا کے ساتھ فعل مضارع ہے اور لو کے ساتھ فعل ماضی۔ اچھا بھئی، پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ ان اور اذا فعل کو مستقبل کے معنی میں کر دیتے ہیں۔ کس معنی میں کر دیتے ہیں؟ مستقبل کے معنی میں کر دیتے ہیں۔ چاہے یہ ماضی پر ہی کیوں نہ داخل ہو جائیں، ماضی پر ہی کیوں نہ داخل ہو جائیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "ان تضربنی اضربک"، "ان تضربنی اضربک"، اگر تم میری پٹائی کرو گے تو میں بھی تمہاری پٹائی کروں گا۔ دیکھو کون سا زمانہ ہے؟ مستقبل والا، تو "ان تضربنی اضربک"، تو اسی لیے مستقبل کے معنی میں یہ کر دیتے ہیں تو ان کے ساتھ فعل مضارع آئے گا، "ان تضرب"، دیکھو یہ "تضرب" کیا ہے؟ فعل مضارع ہے بھئی۔ جبکہ "لو" جو ہے وہ زمانہ ماضی میں کر دیتا ہے، اگرچہ فعل مضارع پر ہی کیوں نہ داخل ہو جائے پھر بھی کس معنی میں کر دے گا؟ ماضی کے معنی میں کر دے گا۔ مثلاً دیکھیے بھئی: "لو ضربتنی ضربتک"، ترجمے پر نظر رکھنا بھئی، ان کے ساتھ ترجمہ آسان ہے، لو کے ساتھ ذرا مشکل ہوگی۔ "ان تضربنی اضربک" کیا ترجمہ تھا؟ اگر تم میری پٹائی کرو گے، دیکھو زمانہ مستقبل ہے۔ اگر تم میری پٹائی کرو گے تو میں بھی تمہاری پٹائی کروں گا، دیکھو زمانہ مستقبل ہے۔ جبکہ لو میں یہی بات آئے گی تو وہ ماضی والا ترجمہ ہوگا۔ "لو ضربتنی ضربتک"، اگر تو نے میری پٹائی کی ہوتی تو میں بھی تیری پٹائی کرتا۔ "لو ضربتنی لضربتک"، اگر تم نے میری پٹائی کی ہوتی تو میں بھی تمہاری پٹائی کرتا۔ تو دیکھیے، ماضی والا ترجمہ ہے، اگر تم نے میری پٹائی کی ہوتی، کون سا ترجمہ ہے؟ ماضی والا ترجمہ ہے، اور "لضربتک" تو میں نے بھی تمہاری پٹائی کی ہوتی بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو ان اور اذا کس لیے آئیں گے؟ مستقبل کے لیے، جبکہ لو جو ہے وہ کس معنی میں آئے گا؟ ماضی کے معنی میں آئے گا، جیسے مثال ذکر ہو گئی "لو ضربتنی" اگر تو نے میری پٹائی کی ہوتی، "لضربتک" تو میں تمہاری پٹائی کرتا بھئی۔ ترجمے میں فرق سمجھ میں آیا؟ تو ان اور اذا کس معنی میں کر دیتے ہیں؟ مستقبل کے معنی میں، اور لو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ ماضی کے معنی میں، تو لہٰذا لو کے ساتھ فعل ماضی آئے گا اور ان اور اذا کے ساتھ کیا آئے گا؟ فعل مضارع آئے گا۔ تو کہتے ہیں: "نحو" مثال کے طور پر، "وان يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل"، "وان يستغيثوا" اور اگر وہ فریاد کریں گے، "يغاثوا" تو ان کی فریادرسی کی جائے گی، "بماء" ایسے پانی کے ساتھ، "كالمهل"، مہل، مہل کے دو معنی مفسرین حضرات بیان کرتے ہیں۔ مہل کا ایک معنی تو ہے تیل کی تلچھٹ بھئی، تیل کی تلچھٹ۔ بھئی آپ نے اگر کبھی غور کیا ہو، تیل کسی برتن میں ڈالا جائے تو اس برتن کے پیندے میں، نچلے حصے میں وہ جو میل کچیل تیل کا ہوتا ہے وہ جمع ہو جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں تیل کی تلچھٹ بھئی، وہ ہے تلچھٹ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ بعض نے لکھا مہل کا معنی ہے تیل کی تلچھٹ بھئی، وہ جو اس کا میل کچیل ہے۔ اور ایک مہل کا معنی ہے پگھلا ہوا تانبا۔ پگھلا ہوا تانبا، تانبا تو آپ جانتے ہیں بھئی، لوہے کی طرح ایک دھات ہے بھئی وہ پیلے سے رنگ کی، تو یہ جو تانبا ہے یا دھات جو ہوتی ہے اس کو جب خوب گرم کر دیا جائے تو یہ پگھل کر پانی کی طرح ہو جاتا ہے، پھر اس کو بھٹی وغیرہ میں جو صورت دینی ہوتی ہے وہ صورت دے دی جاتی ہے اور پھر ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے تو اسی صورت پر خشک ہو جاتا ہے۔ تو یہ جو مہل کا ایک معنی ہے پگھلا ہوا تانبا، یعنی وہ جو خوب گرم اور پگھلا ہوا پانی کی طرح تانبا ہے اسے بھی مہل کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر اللہ تعالیٰ جہنمیوں کے احوال بیان فرما رہے ہیں کہ "وان يستغيثوا" اور اگر وہ فریاد کریں گے، یعنی جہنمی جہنم میں اگر فریاد کریں گے، "يغاثوا بماء كالمهل" تو ان کی فریادرسی کی جائے گی ایسے پانی کے ساتھ جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا یا جو پگھلے ہوئے تانبے جیسا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی جہنم سے حفاظت فرمائے بھئی۔ تو جہنمی جہنم میں فریاد کریں گے، پیاس کی وجہ سے چیخیں گے چلائیں گے تو ان کی فریادرسی کی جائے گی اور کس چیز کے ساتھ؟ ایسے پانی کے ساتھ جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا یا ایسے پانی کے ساتھ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا بھئی۔ تو یہاں پر مقام استشہاد ہے "يستغيثوا"، ان کے ساتھ کیا آیا؟ "ان يستغيثوا"، فعل مضارع استعمال ہوا ہے بھئی۔ کیا استعمال ہوا؟ فعل مضارع۔ اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریادرسی کی جائے گی ایسے پانی کے ساتھ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا۔ "واذا ترد الى قليل تقنع"، "واذا ترد" اور جب تجھے لوٹایا جاتا ہے، "الى قليل" تھوڑے کی طرف، "تقنع" تو تو قناعت کر لیتا ہے۔ "واذا ترد الى قليل تقنع" اور جب تجھے تھوڑے کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو تو قناعت کر لیتا ہے۔ کیا معنی؟ بھئی یعنی اگر تمہیں تھوڑا دیا جاتا ہے، اللہ کی طرف سے تھوڑا مال دیا جاتا ہے، "تقنع" تو تم کیا کر لیتے ہو؟ قناعت کر لیتے ہو یعنی تم قناعت کرنے والے آدمی ہو، تھوڑے پر اکتفا کرنے والے۔ تو بعض لوگ کیا ہوتے ہیں، اگر ان کو تھوڑا دیا جاتا ہے اللہ کی طرف سے تو وہ شکوہ و شکایت کرتے ہیں، زبان پر شکوے، ہائے اللہ ہمیں تھوڑا مال کیوں دیا، ہمیں غریب کیوں پیدا کیا؟ اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں بھی ان لوگوں میں سے بنائے جو ہر حال میں اللہ کا شکر کرنے والے ہوں بھئی۔ اور اللہ سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرمائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "واذا ترد الى قليل تقنع" اور جب تجھے لوٹایا جاتا ہے تھوڑے کی طرف یعنی تھوڑا مال وغیرہ تجھے دیا جاتا ہے، "تقنع" تو تم کیا کر لیتے ہو؟ قناعت کر لیتے ہو۔ تو مقام استشہاد یہاں پر "واذا ترد"، تو دیکھو اذا آیا اور اذا کے ساتھ کیا آیا؟ فعل مضارع آیا بھئی، فعل مضارع آیا۔ "ولو شاء لهداكم اجمعين"، "ولو شاء" اور اگر اللہ چاہتے، "لهداكم اجمعين" تو البتہ ہدایت دے دیتے تم سب کو۔ تو یہاں لو آیا بھئی، اور لو کے ساتھ کون سا فعل ہونا چاہیے؟ فعل ماضی، تو یہاں پر بھی "شاء" یہ فعل ماضی آیا بھئی۔ اگر اللہ چاہتے، "لهداكم اجمعين" تو تم سب کو ہدایت دے دیتے، دیکھو ترجمہ بھی ماضی والا ہو رہا ہے۔ تو یہاں پر بھئی "واذا ترد الى قليل تقنع"، اذا کے ساتھ میں نے "ترد" اور "تقنع" یہ شرط اور جزا میں فعل مضارع کو میں نے مرفوع پڑھا بھئی، تو آپ یہ نہ کہیں کہ ان کو مجزوم ہونا چاہیے۔ بلکہ یہ مرفوع ہی ہوں گے: "واذا ترد الى قليل تقنع"، اس لیے کیونکہ اذا شرط کے لیے جب استعمال ہوتا ہے تو اس کا جزم دینا شاذ ہے بھئی۔ جزم دینا کیا ہے؟ شاذ ہے۔ یعنی نہایت قلیل ہے، عربوں میں ہم نے نہایت ہی قلیل کوئی ان کا کلام ملا جس میں انہوں نے اذا کی وجہ سے شرط وغیرہ کو جزم دیا ہو۔ عام طور پر یہ جزم، شرط اور جزا کو جزم نہیں دیتا بھئی۔ اور شاذ ہے تو اس کا مطلب ہے آپ نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب ہے آپ ایسا نہیں، جب کسی چیز کے بارے میں بتلا دیا جائے کہ یہ شاذ ہے تو پھر اس کا مطلب ہے معلوم ہوا نہایت ہی قلیل کہیں عربوں نے کیا ہے، اب آپ کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ عام طور پر یہ جو اس کا طریقہ ہے اسی کے مطابق آپ کو استعمال کرنا پڑے گا، اور عام طریقے کے مطابق تو یہ جزم نہیں دیتا، لہٰذا آپ بھی جزم نہیں دیں گے۔ تو اسی لیے میں نے کہا: "واذا ترد الى قليل تقنع"۔ "والفرق بين ان واذا ان الاصل عدم الجزم بوقوع الشرط مع ان والجزم بوقوعه مع اذا"، اب نکات بیان ہو رہے ہیں بھئی۔ انہوں نے آپ کو اصل بتلا دی کہ ان اور اذا مستقبل کے لیے آتے ہیں لہٰذا ان کے ساتھ فعل مضارع استعمال ہوگا، اور لو آتا ہے شرط کے لیے زمانہ ماضی میں تو اس کے لیے فعل ماضی استعمال ہوگا۔ اب فرق بیان کر رہے ہیں کہ کبھی کبھار عدول کیا جائے گا، اصل سے غیر اصل کی طرف، اور وہ کیا نکات ہوں گے ان میں سے اب ایک نقطہ بیان کر رہے ہیں۔ تو نقطہ یہ یاد رکھیے بھئی، یہ آگے بتلا رہے ہیں کہ "ان" جو ہے کہ ان مقام شک میں استعمال ہوتا ہے جہاں شرط کے واقع ہونے میں شک ہو، وہاں ان استعمال کرتے ہیں۔ اور جہاں اس شرط کے واقع ہونے کا یقین ہو وہاں اذا استعمال کرتے ہیں۔ ان کس لیے آئے گا؟ شک کے لیے۔ تو وہ امور جن کے ہونے میں شک ہے وہاں ان استعمال کریں گے، اور وہ امور جن کا ہونا یقینی ہے اس کے لیے کیا استعمال کریں گے؟ اذا استعمال کریں گے۔ اب دیکھیے، عدول کیا جائے گا اس نقطے کی وجہ سے کہ ان آتا ہے شک کے لیے اور اذا آتا ہے یقین کے لیے۔ اب آپ مجھے بتائیے، ایک ہے فعل مضارع یا یوں کہیں ایک ہے زمانہ مستقبل اور ایک ہے زمانہ ماضی۔ مستقبل میں جو چیز ہونی ہوتی ہے اس میں عموماً شک ہوتا ہے، پتہ نہیں ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ جو چیز مستقبل میں ہونی ہے اس کا کوئی یقینی پتہ نہیں کہ ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ لیکن جو چیز ماضی میں ہو، گزر چکی ہو، واقع ہو چکی ہو، اس میں کسی قسم کا شک ہوتا ہے؟ اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہوتا۔ تو زمانہ مستقبل جو ہے اس میں ہونے والی چیزوں میں شک ہے، اور ماضی میں جو چیزیں ہو چکی ہیں ان میں کیا ہے؟ یقین۔ تو ان کس لیے آتا ہے؟ شک کے لیے۔ اور اذا کس لیے آتا ہے؟ یقین کے لیے۔ تو اذا چونکہ یقین کے لیے آتا ہے اور یقین ماضی کے اندر زیادہ ہے کس کی بنسبت؟ مضارع، لہٰذا اذا کے ساتھ فعل ماضی استعمال کیا جائے۔ وہ اصل کو ہم نے چھوڑ دیا، اصل کیا تھا اذا کے ساتھ کیا ہونا چاہیے؟ فعل مضارع، لیکن اس اصل کو چھوڑ دیا، کس نقطے کی بنا پر؟ کیونکہ اذا آتا ہے یقین کے لیے اور یقین کس میں ہوتا ہے؟ ماضی کے اندر، تو لہٰذا اذا کے ساتھ کون سا فعل استعمال کر لیا جاتا ہے؟ ماضی والا۔ اصل تو یہی تھا اس کے ساتھ مستقبل ہونا چاہیے تھا لیکن کس نقطے کی بنا پر ماضی استعمال کیا گیا؟ کیونکہ ماضی کے اندر یقین زیادہ ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ دیکھیے بھئی، اب بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "والفرق بين ان واذا ان الاصل عدم الجزم بوقوع الشرط مع ان" اور فرق ان اور اذا میں یہ ہے کہ اصل جو ہے "عدم الجزم"، جزم کہتے ہیں یقین کو، یقین کا نہ ہونا ہے، کس چیز کا یقین نہیں ہے؟ "بوقوع الشرط" شرط کے واقع ہونے، شرط کے واقع ہونے کا یقین نہ ہونا ہے، "مع ان" کس کے ساتھ؟ ان کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: "ان الاصل عدم الجزم بوقوع الشرط مع ان" کہ اصل جو ہے وہ شرط کے واقع ہونے کا یقین نہ ہونا ہے ان کے ساتھ، "والجزم بوقوعه مع اذا" اور یقین ہونا ہے اس شرط کے واقع ہونے کا اذا کے ساتھ، "ولهذا غلب استعمال الماضي مع اذا" اور اسی وجہ سے فعل ماضی کا استعمال غالب ہے کس کے ساتھ؟ اذا کے ساتھ، "فكان الشرط واقع بالفعل" تو گویا کہ شرط بالفعل ہی واقع ہے، گویا کہ شرط بالفعل ہی واقع ہے، "بخلاف ان" بخلاف کس کے؟ ان کے۔ بھئی دیکھیے! اذا آتا ہے کس کے لیے؟ یقین کے لیے، اور یقین کس میں زیادہ؟ فعل ماضی میں۔ تو لہٰذا اذا کے ساتھ فعل ماضی کو استعمال کر لیا جاتا ہے، گویا کہ شرط واقع ہو ہی چکی ہے، بالفعل ہو ہی چکی ہے۔ شرط بالفعل ہو ہی چکی ہے اس لیے کیونکہ یقین ہے نا، جو چیز یقین ہے تو گویا اس میں تو کسی قسم کا شک نہیں۔ جب یقین ہے تو یقین تو کس میں ہے؟ ماضی، اور ماضی میں جو ایک چیز ہو چکی ہے وہ بالفعل ہو چکی ہے، واقع ہو چکی ہے، اس میں تو کسی قسم کا شک نہیں۔ تو اذا کے ساتھ بھی فعل ماضی استعمال کر دیا جاتا ہے یعنی اس شرط کے ہونے میں بڑا یا اس شرط کا ہونا بڑا یقینی ہے، یوں سمجھو ہو ہی چکی ہے۔ یوں سمجھو، ہونا تو مستقبل میں ہی ہے اس میں، لیکن یوں سمجھو گویا کہ ہو چکی۔ یہ معنی ہے "فكان الشرط واقع بالفعل" تو گویا کہ شرط واقع ہو چکی ہے بالفعل ہی، "بخلاف ان" بخلاف کس کے؟ ان کے، کہ اس میں ایسا نہیں ہے۔ "فاذا قلت" پس جب آپ یوں کہیں: "ان ابرا من مرضي اتصدق بالف دينار"، "ان ابرا من مرضي اتصدق بالف دينار"، اگر میں ٹھیک ہو گیا، برء یبرء کا کیا معنی؟ ٹھیک ہونا، تندرست ہونا۔ "ان ابرا من مرضي" اگر میں تندرست ہو گیا "من مرضي" اپنے مرض سے، "اتصدق بالف دينار" تو میں صدقہ کروں گا ایک ہزار دینار کا۔ تو جب آپ یوں کہیں: "كنت شاكا في البرء"، تو آپ شک کرنے والے ہیں فی البرء، تندرست ہونے میں۔ گویا آپ کو شک ہے۔ جب آپ یہ جملہ، آپ ان استعمال کریں اور ان تو کس لیے آتا ہے؟ شک کے لیے، تو معلوم ہوا آپ کو اپنے تندرست ہونے میں شک ہے، تو پھر یوں کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ "واذا قلت" اور جب آپ یوں کہیں: "اذا برئت من مرضي تصدقت"، جب میں تندرست ہو جاؤں گا اپنے مرض سے، "تصدقت" تو میں صدقہ کروں گا، یعنی ایک ہزار دینار کیا کروں گا؟ صدقہ کروں گا۔ "كنت جازما به" تو آپ اس کا یقین کرنے والے ہیں۔ کس چیز کا؟ تندرست ہونے کا۔ بھئی جب آپ اذا استعمال کر رہے ہیں "اذا برئت من مرضي تصدقت"، تو اذا لائے اور اذا کے ساتھ کیا استعمال کیا؟ فعل ماضی، کیونکہ ماضی کس لیے آتا ہے؟ یقین کے لیے۔ تو گویا آپ کو اپنے ٹھیک ہونے کا یقین ہے کہ آپ تندرست ہو جائیں گے۔ "او كالجازم" یا یقین تو نہیں لیکن یقین جیسا ہی ہے یعنی غالب گمان ہے، کیا ہے؟ غالب گمان بھی کس کے قریب ہوتا ہے؟ یقین کے قریب ہوتا ہے بھئی، یقین کے قریب بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا اگر آپ کو تندرست ہونے میں، اگر آپ ان، آپ نے استعمال کیا معلوم ہوا آپ کو اپنے تندرست ہونے میں شک ہے کہ پتہ نہیں میں ٹھیک ہوتا ہوں یا ٹھیک نہیں ہوتا۔ اور جب آپ اذا اور اس کے ساتھ فعل ماضی استعمال کرتے ہیں تو بلاغت کا نقطہ یہ معلوم ہوا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنے تندرست ہونے کا یقین ہے کہ یقیناً میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ یا یقین تو نہیں لیکن یقین جیسے ہی ہیں آپ، یعنی آپ کا غالب گمان ہے کہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔ فرق سمجھ میں آگیا؟ "وعلى ذلك" اور اسی بنا پر، کس بنا پر؟ کہ ان جو آتا ہے امور مشکوکہ میں آتا ہے اور اذا آتا ہے امور یقینیہ کے لیے، "فالاحوال النادرة تذكر في حيز ان"، حیز کا معنی ہے جگہ، جگہ، مکان۔ تو وہ احوال جو نادر ہوتے ہیں جو کبھی کبھار پیش آتے ہیں، "تذكر في حيز ان" ان کو کہاں پر ذکر کیا جاتا ہے؟ ان کے مقام میں، "والكثيرة في حيز اذا" اور وہ احوال جو کثیر ہیں فی حیز اذا، ان کو کہاں استعمال کیا جاتا ہے؟ اذا کے مقام میں، اذا کے مقام میں۔ بھئی دیکھیے! اتنا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ ان آتا ہے شک کے لیے اور اذا آتا ہے یقین کے لیے۔ تو لہٰذا جہاں شک والا مقام ہوگا وہاں ان آئے گا اور جہاں یقین والا مقام ہوگا وہاں اذا آئے گا۔ اسی میں سے ایک ہے یقین اور شک والے مقام میں سے، وہ احوال جو نادر واقع ہوتے ہیں یعنی کبھی کبھار، یا جو کثیر ہوتے ہیں۔ بھئی وہ احوال جو کبھی کبھار پیش آتے ہیں ان کا ہونا یقینی نہیں، ان کے ہونے میں شک ہے کیونکہ کبھی کبھار پیش آتے ہیں، تو وہ کس کا مقام ہوگا؟ ان کا۔ اور وہ احوال جو کثرت سے پیش آنے والے ہیں تو ان کا ہونا تو یقینی کیونکہ وہ کثرت سے پیش آتے ہیں، تو وہ کس کا مقام ہوگا؟ اذا کا مقام ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے کہ "وعلى ذلك" اور اسی بنا پر، "فالاحوال النادرة تذكر في حيز ان" تو وہ احوال جو نادر ہوتے ہیں ان کو ذکر کیا جاتا ہے ان کی جگہ میں، "والكثيرة في حيز اذا" اور وہ احوال جو کثیر پیش آتے ہیں ان کو ذکر کیا جاتا ہے اذا کی جگہ میں۔ "ومن ذلك قوله تعالى" اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "فاذا جاءتهم الحسنة قالوا لنا هذه وان تصبهم سيئة يطيروا بموسى ومن معه"، "فاذا جاءتهم الحسنة" پس جب آتی ہے ان کے پاس کوئی نیکی یعنی جب ان کو کوئی خیر اور کوئی بھلائی پہنچتی ہے، یہ فرعون اور اس کے جو ساتھی ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جب ان کے پاس کوئی بھلائی آتی ہے، ان کو کوئی خیر پہنچتی ہے، "قالوا لنا هذه" تو وہ کہتے ہیں یہ ہمارے ہی لیے ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ یہ ہمارے ہی لیے ہے، ہم ہی اس کے حقدار تھے، یہ حق ہی ہمارا تھا، یہ ملنی ہی ہمیں چاہیے تھی بھئی۔ سمجھ میں آیا معنی بھئی؟ "وان تصبهم سيئة" اور اگر ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، سیئۃ، برائی بھئی برائی، اگر ان کو کوئی تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے، "يطيروا بموسى" تو وہ بدشگونی کرتے ہیں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ، "ومن معه" اور وہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہیں یعنی ان کے قوم والے جو ان پر ایمان لے کر آئے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ جو فرعون والے، فرعون کے لوگ ہیں، فرعون اور اس کی قوم والے ہیں، یہ ایسے برے لوگ ہیں کہ ان کو جب کوئی بھلائی یا خیر پہنچتی ہے تو بجائے اس کے کہ اس پر شکر ادا کریں، یہ کہتے ہیں کہ یہ تو تھا ہی ہمارا حق، یہ تو ملنا ہی ہمیں چاہیے تھا، ہم ہی اس کے حقدار تھے۔ اور اگر ان کو کبھی کبھار کوئی تکلیف پہنچ جائے تو بھی اس کا ذمہ دار حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو ٹھہراتے ہیں اور ان کے بارے میں بدشگونی کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی نحوست ہے جو ہم پر یہ تکلیف آئی، اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ہم پر یہ تکلیف نہ آتی بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ اب دیکھیے بھئی، یہاں آیا "اذا"، اذا، اور اذا کے ساتھ آیا "جاءتهم" ماضی بھئی، ماضی۔ اور آگے آیا "ان" اور ان کے ساتھ "تصبهم" فعل مضارع آیا بھئی، فعل مضارع۔ اب بات چل رہی ہے کہ وہ احوال جو نادر ہوتے ہیں ان کو ان کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے اور وہ احوال جو کثیر ہوتے ہیں ان کو کس کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے؟ اذا کے ساتھ۔ تو بھئی نیکی کا آنا، خیر کا پہنچنا یہ تو یقینی تھا، اس لیے اس کے ساتھ اذا استعمال کیا گیا: "فاذا جاءتهم" اور فعل ماضی۔ خیر کا پہنچنا کیا تھا؟ یقینی، کیونکہ ہر ہر لمحے میں انسان کو لاکھوں کروڑوں نعمتیں اور بھلائیاں اللہ کی طرف سے مل رہی ہیں جس کا اس کو احساس بھی نہیں ہے بھئی، جس کا اس کو احساس بھی نہیں۔ یہ آنکھوں سے دیکھنا یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، یہ زبان سے چکھنا یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، یہ کانوں سے سننا یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، یہ چلنا پھرنا یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، یہ ہاتھوں کا تندرست ہونا یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، یہ شکل و صورت کا صحیح ہونا یہ بھی کیا ہے؟ اللہ کی نعمت ہے۔ اور اسی طرح، اسی طرح یہ مال وغیرہ کا ملنا یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، اسی طرح اولاد کا ملنا یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، اسی طرح بیوی کا ملنا یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، اسی طرح دوستوں اور ساتھیوں کا ہونا یہ بھی کیا ہے اللہ تعالیٰ کی؟ نعمت ہے، اسی طرح کاروبار وغیرہ کا ہونا یہ بھی کیا ہے اللہ کی؟ نعمت ہے۔ تو یہ سب نعمتیں ہیں، تو یہ یہاں پر آیا "الحسنة"، الحسنۃ، اور الحسنۃ پر الف لام جنسی ہے۔ کیا ہے؟ الف لام جنسی، اور الف لام جنسی وہ ہے جس کے لیے جنس کی طرف اشارہ کیا جائے، اور جنس اس میں تو سارے افراد آ جاتے ہیں، کون آ جاتے ہیں؟ سارے افراد۔ تو الحسنۃ سے کیا مراد ہوئی؟ جنس حسنہ، اور یہ شامل ہوئی تمام افراد حسنہ کو یعنی تمام بھلائیاں اس کے اندر داخل ہو گئیں، اور تمام بھلائیاں وہ کثیر ہیں یا تھوڑی ہیں؟ کثیر ہیں اور ہر ہر لمحے میں یہ خیریں انسان کو مل رہی ہیں اللہ کی طرف سے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو لہٰذا یہ الحسنۃ کثیر الوقوع ہے اور جب کثیر الوقوع ہے تو اس کے ساتھ اذا استعمال کیا گیا کیونکہ جو چیز کثیر ہوتی ہے اس کا ملنا یقینی ہے۔ کیا ہے؟ یقینی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور آگے "وان تصبهم سيئة" اور اگر ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، یہاں پر "سيئة" کو نکرہ ذکر کیا گیا۔ کیا ذکر کیا گیا؟ نکرہ ذکر کیا گیا، اور آپ نے گزشتہ باب کے آخر میں پڑھا تھا کہ مسند الیہ کو بعض اوقات نکرہ ذکر کیا جاتا ہے کس لیے؟ نوع بتلانے کے لیے، کیا بتلانے کے لیے؟ نوع اور قسم بتلانے کے لیے، جیسے وہاں آیا تھا کہ اللہ فرماتے تھے، اللہ کیا فرما رہے تھے کہ ہم نے ہر نوع دابہ کو ایک نوع پانی سے پیدا کیا ہے یعنی ہر دابہ کو اسی قسم کے نطفے سے پیدا کیا ہے، یعنی بکری کو بکری کے نطفے سے پیدا کیا ہے، گائے بیل کو گائے بیل کے نطفے سے پیدا کیا ہے بھئی۔ تو یہاں پر سیئۃ جو آیا نوع بتلانے کے لیے آیا، کیا؟ نوع بتلانے۔ تو "وان تصبهم سيئة" اور اگر ان کو کوئی ایک نوع کی تکلیف پہنچے، ایک نوع کی تکلیف اور مراد اس سے قحط سالی ہے یعنی خوراک، کھانے پینے کی اشیاء کا ختم ہو جانا اور نہ ملنا، یہ ہے قحط بھئی۔ تو ان لوگوں کو، یہ لوگ جو ہیں ایسے برے ہیں اگر ان کو کوئی ایک تکلیف پہنچ جائے جیسے کہ قحط سالی ہے، اب دیکھیے قحط سالی، قحط کا ہو جانا یہ قلیل ہوتا ہے یا کثیر ہوتا ہے؟ کبھی کبھار ہی بھئی ایسا ہوتا ہے کہ قحط ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ، تو کبھی کبھار ہوتا ہے۔ اسی لیے یہاں اس کو اس کے ساتھ ان استعمال کیا گیا بھئی کیونکہ یہ کس میں سے ہے؟ احوال نادرۃ الوقوع میں سے ہے، نادرۃ، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو سیئۃ یہاں نکرہ لایا گیا کس لیے؟ نوع کے لیے، یا یوں کہیں تقلیل کے لیے۔ آپ نے پڑھا تھا کبھی نکرہ کو کس لیے لایا جاتا ہے؟ قلت یا کثرت بتلانے کے لیے، "لفلان مال" ای مال کثیر، "ورضوان من الله اكبر" ای ورضوان قلیل من اللہ اکبر بھئی، مثالیں گزر چکیں گزشتہ سبقوں میں۔ تو یہاں پر سیئۃ تقلیل کے لیے ہے: "وان تصبهم سيئة" اور اگر ان کو تھوڑی سی بھی تکلیف پہنچ جائے، "يطيروا بموسى ومن معه" تو وہ بدشگونی کرنے لگتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اور وہ جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہیں یعنی بنو اسرائیل والے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھیے مقام استشہاد کیا ہے کہ الحسنۃ کے ساتھ اذا لایا گیا کیونکہ الحسنۃ کیا ہے؟ کثیر الوقوع کیونکہ الف لام جنسی ہے، کوئی خاص نیکی نہیں مراد، کوئی خاص خیر نہیں مراد۔ کوئی خاص خیر ہو پھر تو ہو سکتا ہے وہ قلیل ہو۔ بلکہ تمام حسنات اس میں داخل ہو گئیں کیونکہ الف لام جنسی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور سیئۃ کو نکرہ ذکر کیا گیا اس سے خاص نوع یا قلیل سیئۃ مراد ہے یعنی قحط، اور وہ تو قلیل ہے، تو لہٰذا اس کے ساتھ ان استعمال کیا گیا اور حسنہ کے ساتھ اذا۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: "فاذا جاءتهم الحسنة قالوا لنا هذه وان تصبهم سيئة يطيروا بموسى ومن معه" اور جب ان کو کوئی کسی قسم کی کوئی نیکی ان کو پہنچتی ہے، کوئی خیر ان کو ملتی ہے، "قالوا لنا هذه" تو وہ کہتے ہیں یہ ہمارے لیے ہی ہے یعنی یہ ہمارا ہی حق ہے، "وان تصبهم سيئة" اور اگر ان کو کوئی ایک تکلیف پہنچ جائے ایک قسم کی، "يطيروا بموسى ومن معه" تو وہ بدشگونی کرنے لگتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اور وہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہیں۔ اب دیکھیے یہی تشریح اب صاحب کتاب بھی کریں گے جو میں نے بیان کر دی۔ "فلكون مجيء الحسنة محققا" پس اس وجہ سے کہ نیکی کا آنا یقینی ہے، خیر کا آنا یقینی ہے، بھئی ایک ڈیڑھ سطر بعد آ رہا ہے: "ذكر مع اذا"، مل گیا بھئی؟ تو پس نیکی کا آنا یقینی ہونے کی وجہ سے "ذكر مع اذا" اس کو کس کے ساتھ ذکر کیا گیا؟ اذا کے ساتھ۔ درمیان میں تشریح کر دی، نیکی کا آنا یقینی کس طرح ہے؟ نیکی کا آنا، ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ تو نیکی کا آنا یقینی ہونے کی وجہ سے، بھئی یقینی کیوں ہے؟ کہتے ہیں: "اذ المراد بها مطلق الحسنة" اس لیے کیونکہ الحسنۃ سے مراد مطلق حسنہ ہے، کوئی بھی نیکی ہے، "الشامل لانواع كثيرة" جو شامل ہے بہت سی قسموں کو، "كما يفهم من التعريف بال الجنسية" جیسا کہ سمجھ میں آتا ہے اس کو معرف کرنے کے ساتھ الف لام جنسی کے ساتھ، جیسا کہ اس کو معرف کیا گیا۔ "من التعريف بال الجنسية" جیسا کہ مفہوم ہوتا ہے، کس چیز سے مفہوم ہوتا ہے؟ "من التعريف" اس کو معرفہ لانے سے، اور معرفہ کس چیز کے ساتھ لایا گیا اس کو؟ الف لام جنسی، تو الف لام جنسی کے ساتھ اس کو معرفہ لانے سے جو سمجھ میں آتا ہے کہ حسنہ سے کیا مراد ہے؟ مطلق حسنہ مراد ہے، "الشامل لانواع كثيرة" جو بہت سی انواع کو شامل ہے۔ اور بہت سی انواع جب ساری انواع کو یہ شامل ہو گیا تو ہر ہر آن اور ہر ہر لمحے میں نیکیاں پہنچ رہی ہیں اور نعمتیں مل رہی ہیں یعنی انسان کو بھئی؟ ہاں کوئی خاص نیکی ہوتی پھر تو کہہ سکتے تھے، لیکن یہاں تو ساری مراد ہو گئیں، الف لام جنسی مراد لے لیا جو تمام افراد کو، مراد تو جنس ہوتی ہے، مراد تو جنس، لیکن جنس کا وجود خارج میں کس طرح ہوتا ہے؟ اپنے افراد کے ضمن میں ہوتا ہے نا، تو سارے افراد آ گئے اس کے اندر۔ "ذكر مع اذا" تو کہتے ہیں نیکی کے آنا یقینی ہونے کی وجہ سے "ذكر مع اذا" اس کو اذا کے ساتھ ذکر کیا گیا، "وعبر عنه بالماضي" اور اس کو تعبیر کیا گیا فعل ماضی کے ساتھ بھئی، "جاءتهم" فعل ماضی ذکر کیا گیا۔ "ولكون مجيء السيئة نادرا" اور اس وجہ سے کہ برائی کا آنا نادر ہے، آگے ایک سطر بعد آ رہا ہے: "ذكر مع ان"، تو اس کو کس کے ساتھ ذکر کیا گیا؟ ان کے ساتھ۔ بھئی برائی کا آنا نادر کیوں ہے؟ درمیان میں وہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "اذ المراد بها نوع مخصوص" اس لیے کیونکہ برائی سے مراد ایک مخصوص قسم ہے، "كما يفهم من التنكير" جیسا کہ مفہوم ہوتا ہے کس سے؟ تنکیر سے، نکرہ لانے سے کہ سیئۃ کو نکرہ لایا گیا۔ بھئی ایک مخصوص نوع کون سی مراد ہے؟ کہتے ہیں: "وهو الجدب" اور وہ قحط ہے، جدب کس کو کہتے ہیں؟ قحط کو بھئی۔ تو کہتے ہیں اس وجہ سے کہ برائی کا آنا نادر ہے، "ذكر مع ان" اس کو ان کے ساتھ ذکر کیا گیا، "وعبر عنه بالمضارع" اور اس کو مضارع کے ساتھ تعبیر کیا گیا کیونکہ نادر ہے۔ "ففي الآية من وصفهم بانكار النعم وشدة التحامل على موسى عليه السلام ما لا يخفى"، "ففي الآية" تو پس اس آیت میں، آخری سطر میں آ رہا ہے، تو اس آیت میں "ما" وہ چیز ہے، "لا يخفى" جو چھپی ہوئی نہیں۔ عبارت پر نظر رکھنا بھئی، "ففي الآية" تو اس آیت میں "ما" وہ چیز ہے، "لا يخفى" جو چھپی ہوئی نہیں۔ بھئی وہ کیا چیز ہے، یہ "ما" سے کیا مراد ہے؟ وہ چیز ہے جو مخفی نہیں، وہ چیز کیا ہے؟ "ما" کے لیے بیان چاہیے، تو یہ "من وصفهم بانكار النعم وشدة التحامل على موسى عليه السلام" یہ اس "ما" کا بیان ہے۔ "ما" کا بیان "من" کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ تو اس آیت میں وہ چیز ہے جو کسی پر مخفی نہیں ہے یعنی کا یعنی کہ ان کو موصوف کرنا نعمتوں کے انکار کے ساتھ، اور شدت تحامل، تحامل کا معنی ہے ظلم و زیادتی کرنا، اور جو یہ سخت ظلم و زیادتی کرتے تھے "على موسى عليه السلام" موسیٰ علیہ السلام پر۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ بھئی یاد رکھیے، عبارت میں کبھی کبھار "ما" موصولہ لایا جاتا ہے، اور اب اس "ما" کا پھر بیان چاہیے کہ کیا مراد ہے اس سے؟ تو اس کا بیان "من" کے ساتھ کرتے ہیں، اور ترجمہ اس "من" کا "یعنی" کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کس کے ساتھ؟ دیکھیے اب، "ففي الآية ما لا يخفى" تو اس آیت میں وہ چیز ہے جو چھپی ہوئی نہیں، وہ کیا ہے؟ "من وصفهم" یعنی کہ ان کا ان کو موصوف کرنا کہ ان کو موصوف کیا گیا ہے نعمتوں کے انکار کے ساتھ کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں، نعمتوں کا انکار کرتے ہیں، "وشدة التحامل على موسى عليه السلام" اور یہ سخت ظلم و ستم کرتے ہیں، زیادتی کرتے ہیں موسیٰ علیہ السلام پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ تو تھا ایک طریقہ۔ ایک ہے با محاورہ ترجمہ آپ نے اردو میں کرنا ہے، تو یہ "من وصفهم بانكار النعم وشدة التحامل على موسى عليه السلام" یہ کس کا بیان ہے؟ "ما" کا، تو اسی "ما" کی جگہ اس کو اٹھا کر لے جاؤ۔ "ففي الآية"، اب ترجمہ دیکھنا، "ما" کا لفظ نہیں میں لاؤں گا ترجمے میں، تو اس آیت میں ان کو جو موصوف کیا گیا ہے نعمتوں کے انکار کے ساتھ اور موسیٰ علیہ السلام پر ظلم و ستم کے ساتھ، وہ کسی پر مخفی نہیں ہے۔ بھئی پہلے کیا ترجمہ تھا؟ اس آیت میں وہ چیز ہے جو کسی پر مخفی نہیں، وہ چیز کو اٹھا کر سارا بیان یہیں پر لے آؤ کیونکہ وہ اسی کا بیان ہے نا۔ تو اس آیت میں وہ جو ان کو موصوف کیا گیا ہے نعمتوں کے انکار کے ساتھ کہ یہ نعمتوں کا انکار کرنے والے ہیں اور یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر سخت ظلم و ستم کرتے تھے، وہ کسی پر مخفی نہیں ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ تو دیکھیے اس آیت میں ان لوگوں کو موصوف کیا گیا ہے نعمتوں کے انکار کے ساتھ کہ یہ ایسے برے لوگ ہیں نعمتوں کا بھی انکار کرتے ہیں۔ برے لوگ بھی عام طور پر نعمت کو تو مان لیتے ہیں کہ اس کے ساتھ احسان کیا جائے وہ احسان کو مان تو لیتا ہے، یہ اس کو مانتے بھی نہیں ہیں، کہتے ہیں کوئی خیر بھلائی پہنچے تو کہتے ہیں یہ تو تھا ہی ہمارا حق، ملنا ہی ہمیں یہ چاہیے تھا، یہ ہمارا ہی حق تھا بھئی، ہم یہ ایسے لوگ ہیں۔ تو یہ نعمتوں کا انکار کرتے، نعمتوں کو بھی نہیں مانتے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو سخت ظلم و ستم کرتے تھے اس کو اس کے ساتھ بھی ان کو موصوف کیا گیا ہے، کس طرح؟ کہ اور ظلم تو کرتے ہی کرتے ہوں گے، اسی سے اندازہ لگا لو کہ خود ان پر بھی کوئی تھوڑی تکلیف آ جائے تو اس کا ذمہ دار ان کو ٹھہراتے ہیں کہ یہ تکلیف ان لوگوں کی وجہ سے ہے، یہ ان کی نحوست ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنی ہے: "ففي الآية من وصفهم بانكار النعم وشدة التحامل على موسى عليه السلام ما لا يخفى" تو اس آیت میں جو ان کو موصوف کیا گیا ہے نعمتوں کے انکار کے ساتھ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر سخت زیادتی کے کرنے کے ساتھ، وہ کسی پر مخفی نہیں ہے بھئی۔ جی کوئی بات ایسی تو نہیں جو سمجھ میں نہیں آئی؟ ہاں تو اذا کے ساتھ بے شک فعل ماضی آ جائے لیکن ترجمہ مستقبل والا ہی کریں گے کیونکہ یہ بیان کر دیا گیا، کیونکہ ان اور اذا کس لیے آتے ہیں؟ مستقبل کے لیے اور ان کے ساتھ استعمال فعل مضارع ہونا چاہیے، اصل یہی ہے، لیکن اس اصل سے عدول کیا جاتا ہے بعض اوقات اور فعل مضارع کے بجائے فعل ماضی استعمال کر لیتے ہیں، وہ کسی نقطے کی وجہ سے ہوگا جیسے انہوں نے بیان کر دیا، لیکن ترجمہ پھر بھی وہی مستقبل والا ہی رہے گا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔