”قَالَ: وَإِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَفَاضَ الْإِمَامُ وَالنَّاسُ مَعَهُ عَلَى هِينَتِهِمْ حَتَّى يَأْتُوا الْمُزْدَلِفَةَ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَفَعَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ“. گزشتہ سبق میں وقوفِ عرفہ کا ذکر آیا تھا اور اب عرفات سے واپسی کا ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ ”قَالَ“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ“، اور جب سورج غروب ہو جائے، ”أَفَاضَ الْإِمَامُ“، تو امام واپس لوٹے۔ ”أَفَاضَ يُفِيضُ“ کے معنی ہیں واپس لوٹنے کے۔ تو ”أَفَاضَ الْإِمَامُ“، امام واپس لوٹے گا، ”وَالنَّاسُ مَعَهُ“، اور اس حال میں کہ لوگ اس کے ساتھ ہوں، ”عَلَى هِينَتِهِمْ“، اپنے اطمینان پر یعنی آرام سے، ”حَتَّى يَأْتُوا الْمُزْدَلِفَةَ“، یہاں تک کہ وہ مزدلفہ آ جائیں۔ ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَفَعَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ“، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تھے سورج غروب ہو جانے کے بعد۔ ”وَلِأَنَّ فِيهِ إِظْهَارَ مُخَالَفَةِ الْمُشْرِكِينَ“، اور نیز اس لیے کیونکہ اس کے اندر مشرکین کی مخالفت کا اظہار ہے۔ مشرکینِ مکہ جو ہے وہ حج میں سورج غروب ہونے سے پہلے ہی عرفات سے واپس لوٹتے تھے، لہٰذا ان کی مخالفت کی جائے گی اور کب لوٹیں گے؟ سورج غروب ہونے کے بعد۔ ”وَكَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَمْشِي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي الطَّرِيقِ عَلَى هِينَتِهِ“، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چل رہے تھے اپنی سواری پر راستے میں اپنے اطمینان پر یعنی آرام سے۔ ”فَإِنْ خَافَ الزِّحَامَ فَدَفَعَ قَبْلَ الْإِمَامِ وَلَمْ يُجَاوِزْ حُدُودَ عَرَفَةَ أَجْزَأَهُ“. اگر حاجی کو ہجوم کا خوف ہوا، زحام ہجوم بھئی، اگر حاجی کو ہجوم کا خوف ہوا ”فَدَفَعَ قَبْلَ الْإِمَامِ“، تو وہ چل پڑا امام سے پہلے ہی، ”وَلَمْ يُجَاوِزْ حُدُودَ عَرَفَةَ“، اور اس نے تجاوز نہیں کیا عرفات کی حدود سے، ”أَجْزَأَهُ“، تو یہ بھی کافی ہے۔ بھئی یاد رکھیے، عرفات سے واپسی جو ہے وہ سورج غروب ہونے کے بعد ہوگی۔ اگر اس سے پہلے واپس آگیا، اس سے نکل آیا، تو اس صورت میں دم لازم آئے گا۔ تو لہٰذا امام جو ہے سورج غروب ہونے کے بعد واپس چلے گا اور سارے لوگ بھی اس کے ہمراہ ہوں گے۔ اگر کوئی حاجی امام کے روانہ ہونے سے پہلے چل پڑا لیکن حدودِ عرفات سے نہیں نکلا، عرفات کے آخری کنارے پر آ کر ٹھہر گیا عرفات ہی میں، تو بھی کافی ہے بھئی۔ لیکن پہلی صورت افضل ہے کہ کس کے ساتھ چلے؟ امام کے ساتھ چلے، اس سے پہلے نہ چلے بھئی۔ یہ معنی ہے ”فَإِنْ خَافَ الزِّحَامَ“، اگر اس کو ہجوم کا خوف ہوا تو وہ امام کے روانہ ہونے سے پہلے چل پڑا، لیکن اس نے تجاوز نہیں کیا عرفات کی حدود سے یعنی اس سے باہر نہیں نکلا، ”أَجْزَأَهُ“، تو یہ اس کے لیے کافی ہے۔ ”لِأَنَّهُ لَمْ يُفِضْ مِنْ عَرَفَةَ“، اس لیے کیونکہ اب وہ عرفات سے واپس نہیں لوٹا۔ یہ اس کے لیے کافی ہے کیونکہ عرفات سے واپس نہیں لوٹا۔ اگر لوٹ آتا یعنی نکل آتا سورج غروب ہونے سے پہلے، پھر تو کیا لازم آتا؟ پھر تو دم لازم آتا۔ لیکن یہ اس کے اندر ہی ہے ابھی۔ تو لہٰذا یہ عرفات سے واپس نہیں لوٹا۔ ”وَالْأَفْضَلُ أَنْ يَقِفَ فِي مَقَامِهِ كَيْ لَا يَكُونَ آخِذًا فِي الْأَدَاءِ قَبْلَ وَقْتِهَا“، اور افضل یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہی وقوف کرے تاکہ وہ شروع کرنے والا نہ ہو ادا کو اس کے وقت سے پہلے ہی۔ لیکن افضل یہی ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہی ٹھہرا رہے اور جب امام چلے غروب کے بعد تو یہ بھی اس کے ساتھ ہی چلے تاکہ یہ ادا کو اس کے وقت سے پہلے نہ شروع کرنے والا ہو۔ ادا کو؟ ہاں، وقت کیا تھا اس کا؟ غروبِ آفتاب کے بعد بھئی۔ تو غروبِ آفتاب کے بعد تو نکلنا تھا، نکلنا تھا۔ لیکن یہ پہلے ہی چل پڑا اور کہاں آ کر ٹھہر گیا؟ آخری کنارے پر آ کر ٹھہر گیا۔ تو اس نے اگرچہ ابھی ادا تو نہیں کیا یعنی واپسی کا عمل تو کیا تو نہیں لیکن واپسی کا عمل شروع تو کر دیا ہے۔ کیا کر دیا ہے؟ شروع تو کر دیا ہے، اس لیے یہ افضل نہیں ہے۔ بلکہ افضل کیا ہے؟ امام کے ساتھ چلے، اس کے چلنے کے بعد یہ واپسی کے اندر شروع ہو، اس سے پہلے شروع بھی نہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَالْأَفْضَلُ أَنْ يَقِفَ فِي مَقَامِهِ كَيْ لَا يَكُونَ آخِذًا فِي الْأَدَاءِ قَبْلَ وَقْتِهَا“. ”فَلَوْ مَكَثَ قَلِيلًا بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَإِفَاضَةِ الْإِمَامِ لِخَوْفِ الزِّحَامِ فَلَا بَأْسَ بِهِ“. اس کا برعکس بھئی، پہلے تو کیا تھا کہ امام سے پہلے ہی چل پڑا، ایک صورت یہ۔ دوسری صورت یہ کہ امام چل پڑا اور یہ وہیں پر تھوڑی دیر ٹھہرا رہا، تو کیا ایسا جائز ہے یا جائز نہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، اگر ہجوم وغیرہ کا خوف ہے تو اس وجہ سے اگر کچھ تھوڑا سا رک بھی جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔ ”فَلَوْ مَكَثَ قَلِيلًا بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَإِفَاضَةِ الْإِمَامِ لِخَوْفِ الزِّحَامِ فَلَا بَأْسَ بِهِ“، اگر حاجی ٹھہرا رہا تھوڑی دیر غروبِ شمس کے بعد اور امام کے لوٹ جانے کے بعد تھوڑی دیر ٹھہرا رہا ہجوم کے خوف کی وجہ سے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا بَعْدَ إِفَاضَةِ الْإِمَامِ دَعَتْ بِشَرَابٍ فَأَفْطَرَتْ ثُمَّ أَفَاضَتْ“، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، ”بَعْدَ إِفَاضَةِ الْإِمَامِ“، امام کے واپس لوٹنے کے بعد، ”دَعَتْ بِشَرَابٍ“، شراب عربی زبان میں مشروب کو کہتے ہیں۔ تو شراب کسے کہتے ہیں عربی زبان میں؟ مشروب۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے امام کے روانہ ہو جانے کے بعد یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لوٹ جانے کے بعد ”دَعَتْ بِشَرَابٍ“، آپ نے مشروب منگوایا یعنی پانی وغیرہ منگوایا، ”فَأَفْطَرَتْ“، تو آپ نے افطار کیا۔ تو آپ کا روزہ تھا، آپ نے پھر پانی وغیرہ منگوا کر افطار کیا، ”ثُمَّ أَفَاضَتْ“، پھر واپس لوٹیں بھئی۔ تو معلوم ہوا کچھ دیر ٹھہر سکتا ہے اور پھر واپس لوٹ سکتا ہے حاجی۔ ”قَالَ: وَإِذَا أَتَى مُزْدَلِفَةَ فَالْمُسْتَحَبُّ أَنْ يَقِفَ بِقُرْبِ الْجَبَلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْمِيقَدَةُ يُقَالُ لَهُ قُزَحُ“. اور جب حاجی مزدلفہ آ جائے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وقوف کرے اس پہاڑی کے قریب کہ جس پر میقدہ ہے۔ میقدہ کہتے ہیں آتش دان کو۔ ”أَوْقَدَ يُوقِدُ“ کے معنی ہیں آگ جلانا۔ میقدہ جہاں وہ آگ جلائی جاتی تھی، آتش دان تھا۔ بھئی یہ کوئی پہاڑی ہے، وہاں پر جاہلیت کے زمانے میں آگ جلائی جاتی تھی بھئی، تاکہ لوگوں کو مزدلفہ کا پتہ چل جائے اور پھر اس کے بعد خلفاء کے زمانے میں بھی اس پر آگ روشن کی جاتی تھی کیونکہ سارا علاقہ کھلا میدان ہے تو تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے بھئی کہ یہ کون سا مقام ہے۔ تو مستحب یہ ہے کہ وہ حاجی وقوف کرے اس پہاڑ کے نزدیک جس پر آتش دان ہے، جس کو قزح کہتے ہیں۔ قزح غیر منصرف ہے، قزح بر وزنِ عمر، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَفَ عِنْدَ هَذَا الْجَبَلِ وَكَذَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف فرمایا اس پہاڑ کے قریب، اور اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی کے پاس وقوف فرمایا۔ ”وَيَتَحَرَّزُ فِي النُّزُولِ عَنِ الطَّرِيقِ كَيْ لَا يَضُرَّ بِالْمَارَّةِ“، اور بچے حاجی راستے میں اترنے سے۔ راستے میں ہی اتر کر وقوف نہ کر لے، راستے میں قیام کرے گا تو لاکھوں کا مجمع واپس جا رہا ہے، گزرنے والوں کو تکلیف ہوگی۔ لہٰذا راستے سے ہٹ کر وہ قیام کرے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَتَحَرَّزُ فِي النُّزُولِ عَنِ الطَّرِيقِ كَيْ لَا يَضُرَّ بِالْمَارَّةِ“، اور حاجی بچے اترنے میں راستے سے تاکہ وہ تکلیف نہ دے گزرنے والوں کو۔ ”فَيَنْزِلُ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ يَسَارِهِ“، پس وہ اترے بھئی راستے کے دائیں طرف یا بائیں طرف۔ ”وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَقِفَ وَرَاءَ الْإِمَامِ لِمَا بَيَّنَّا فِي الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ“، اور مستحب یہ ہے کہ وہ حاجی امام کے پیچھے وقوف کرے، امام آگے ہو اور وہ پیچھے، امام کے پیچھے وقوف کرے، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی وقوفِ عرفہ میں۔ وہاں بھی ہم نے کہا تھا کہ امام کے پیچھے وقوف کرے، کس لیے؟ تاکہ قبلہ رخ رہے بھئی، کس طرف؟ قبلہ رخ رہے۔ ”قَالَ: وَيُصَلِّي الْإِمَامُ بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ“. صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور امام پڑھائے لوگوں کو مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ۔ عرفات میں ایک اذان اور دو اقامتیں تھیں کیونکہ عصر کی نماز اپنے وقت سے پہلے تھی لہٰذا اس کے لیے الگ اقامت کہی گئی۔ اور یہاں پر تو دوسری نماز عشاء کی ہوگی اور عشاء کی نماز اپنے وقت پر ہے بھئی، تو لہٰذا اس کے لیے دوبارہ اقامت کہنے کی اور لوگوں کو اطلاع دینے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو عرفات سے کب واپس ہوئے؟ سورج غروب ہونے کے بعد، اور کہاں پہنچ گئے؟ مزدلفہ پہنچ گئے۔ تو سورج تو عرفات ہی میں غروب ہو گیا تھا لیکن مغرب کی نماز وہاں نہیں پڑھنی، راستے میں بھی نہیں پڑھنی بلکہ مغرب کی نماز کہاں ادا کریں گے؟ مزدلفہ میں۔ تو یہ دوسرا مقام ہے۔ میں نے بتلایا تھا احناف کے نزدیک صرف دو جگہ جمع بین الصلاتین جائز ہے: ایک عرفات میں اور ایک مزدلفہ میں۔ تو یہ اب اس کا بیان آ گیا۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ: بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ اعْتِبَارًا بِالْجَمْعِ بِعَرَفَةَ“، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ یہ نمازیں ادا کی جائیں گی، قیاس کرتے ہوئے عرفہ میں جمع پر۔ عرفات میں جیسے دو نمازیں جمع کی تھیں اور ایک اذان اور دو اقامتیں تھیں، لہٰذا یہاں بھی ایک اذان اور دو اقامتیں ہوں گی۔ ”وَلَنَا رِوَايَةُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ“، اور ہماری دلیل جو ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کو جمع فرمایا تھا ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ۔ ”وَلِأَنَّ الْعِشَاءَ“، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، ”وَلِأَنَّ الْعِشَاءَ فِي وَقْتِهِ فَلَا يُفْرَدُ بِالْإِقَامَةِ إِعْلَامًا بِخِلَافِ الْعَصْرِ بِعَرَفَةَ“، اور نیز اس لیے کیونکہ عشاء کی نماز تو اپنے وقت کے اندر ہے، لہٰذا اس کو جدا نہیں کیا جائے گا اقامت کے ساتھ یعنی اس کے لیے علیحدہ اقامت نہیں کہی جائے گی اعلاماً لوگوں کو اطلاع دینے کے لیے، بخلاف عرفات میں عصر کی نماز کے، ”لِأَنَّهُ مُقَدَّمٌ عَلَى وَقْتِهِ فَأُفْرِدَ بِهَا لِزِيَادَةِ الْإِعْلَامِ“، کیونکہ وہ نماز تو اپنے وقت پر مقدم ہے لہٰذا اس کو جدا کیا جائے گا اقامت کے ساتھ زیادہ اطلاع دینے کے لیے تاکہ لوگوں کو اچھی طرح اطلاع ہو جائے، کیونکہ وہاں پر نماز کیا تھی؟ وقت سے پہلے تھی، تو لہٰذا اس کے لیے علیحدہ اقامت کہی جائے گی۔ ”وَلَا يَتَطَوَّعُ بَيْنَهُمَا“، اور ان کے درمیان جو ہے وہ امام نفل نہیں پڑھے گا، ”لِأَنَّهُ يُخِلُّ بِالْجَمْعِ“، اس لیے کیونکہ نفلوں کا پڑھنا یہ مخل بالجمع ہوگا، اس سے تو نمازوں کا جمع ہونا اس میں خلل آئے گا بھئی نمازوں کے جمع کرنے میں۔ ”وَلَوْ تَطَوَّعَ أَوْ تَشَاغَلَ بِشَيْءٍ أَعَادَ الْإِقَامَةَ لِوُقُوعِ الْفَصْلِ“، اور اگر امام نے نفل پڑھے یا وہ مشغول ہو گیا کسی اور چیز میں، مثلاً کھانا وغیرہ کھانے لگا، مغرب کی نماز پڑھا دی اور پھر نفل پڑھنے لگا یا کھانا کھانے لگا، ”أَعَادَ الْإِقَامَةَ“، تو اقامت کا اعادہ کرے، ”لِوُقُوعِ الْفَصْلِ“، فصل واقع ہونے کی وجہ سے کیونکہ درمیان میں کیا آ گیا؟ فصل، جدائی آ گئی بھئی۔ ”وَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ كَمَا فِي الْجَمْعِ الْأَوَّلِ“، بھئی یہاں پر کہا کہ اگر امام نفلوں میں یا کسی اور چیز میں مشغول ہوا تو اقامت کا اعادہ کیا جائے گا یعنی عشاء کے لیے پھر علیحدہ اقامت کہی جائے گی۔ اور وہاں پر آیا تھا عرفات میں کہ اگر وہاں نفلوں میں یا کسی اور کام میں مشغول ہوا تو پھر اذان کا اعادہ ہوگا، کس کا؟ اذان کا بھی اعادہ، اقامت تو کہنی ہی تھی، اذان کا بھی وہاں اعادہ ہوگا کیونکہ فصل آ گیا۔ لیکن یہاں صرف کس پر اکتفا کیا گیا؟ صرف اقامت کا اعادہ ہوگا۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: ”وَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ كَمَا فِي الْجَمْعِ الْأَوَّلِ إِلَّا أَنَّا اكْتَفَيْنَا بِإِعَادَةِ الْإِقَامَةِ“، اور مناسب تو یہ تھا کہ وہ اذان کا بھی اعادہ کرے جیسے کہ پہلی جمع یعنی عرفات میں جو جمع تھی اس کے اندر تھا، لیکن ہم نے اکتفا کر لیا اقامت کے اعادہ پر ہی کہ صرف اقامت کا اعادہ کیا جائے گا۔ کس وجہ سے؟ ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِمُزْدَلِفَةَ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ أَفْرَدَ الْإِقَامَةَ لِلْعِشَاءِ“، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز مزدلفہ میں پڑھی، ”ثُمَّ تَعَشَّى“، پھر آپ نے عشاء کا کھانا تناول فرمایا، ”ثُمَّ أَفْرَدَ الْإِقَامَةَ لِلْعِشَاءِ“، پھر آپ نے عشاء کے لیے اقامت کو جدا کیا یعنی اس کے لیے علیحدہ اقامت کہی گئی، اس حدیث کی وجہ سے۔ ورنہ تو قیاس کیا تقاضا کر رہا تھا؟ کہ اذان کا بھی اعادہ ہو، لیکن یہاں صرف کس کے اعادے کا حکم دیا گیا؟ اقامت کے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کا کھانا کھایا تھا مغرب کی نماز کے بعد اور پھر صرف کس کو لوٹانے کا حکم دیا؟ صرف اقامت لوٹائی آپ نے بھئی۔ لیکن علماء لکھتے ہیں صاحبِ ہدایہ کا اس حدیث سے استدلال کرنا اور اس کو بطورِ دلیل کے ذکر کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضیتِ حج کے بعد ایک ہی حج فرمایا ہے بالاتفاق بھئی۔ فرضیتِ حج کے بعد ایک ہی حج ادا فرمایا ہے اور وہ پیچھے روایتِ جابر آ گئی تھی، جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت پیچھے گزر گئی کہ حضور علیہ السلام نے ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع فرمایا۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہی نہیں ہے، لہٰذا اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ہی حج کیا ہے اور وہ روایتِ جابر میں آ گیا، کس طریقے سے کیا؟ ایک اذان اور ایک اقامت۔ اور یہاں پر کیا ذکر آ رہا ہے؟ مغرب کے بعد کھانا کھایا۔ بھئی دوسری دفعہ تو حضور علیہ السلام آئے ہی نہیں بھئی، پھر کیسے کھانا کھایا بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اس حدیث سے استدلال کرنا صاحبِ ہدایہ کا درست نہیں ہے یہاں پر۔ ”وَلَا تُشْتَرَطُ الْجَمَاعَةُ لِهَذَا الْجَمْعِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“، اور جماعت جو ہے وہ شرط نہیں ہے اس جمع کے لیے امام صاحب کے نزدیک۔ بھئی یہ جو جمع ہے، یہ جو جمع ہے مزدلفہ کے اندر مغرب اور عشاء کی نماز، اس کے اندر یاد رکھیے امام کا ہونا بھی شرط نہیں اور اس کے اندر جماعت کا ہونا بھی شرط نہیں۔ کوئی شخص اکیلا بھی نماز پڑھے تو کیا کرے گا؟ مغرب پڑھے گا اور پھر اس کے بعد عشاء پڑھے گا۔ بھئی اس کی کیا وجہ ہے، امام کی شرط کیوں نہیں اور جماعت کی شرط کیوں نہیں؟ کہتے ہیں بھئی وہ جو عرفات میں عصر کو اپنے وقت سے مقدم کیا گیا تھا، وہ خلافِ قیاس تھا۔ اور یہاں تو مغرب کو اپنے وقت سے مؤخر کیا جا رہا ہے، اور جب نماز کو مؤخر اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے بعد میں ادا کرنی پڑے، اس میں طریقہ ہی یہ ہے کہ پہلے وہ پچھلی نماز ادا کی جاتی ہے اور اس کے بعد اگلی نماز ادا کی جاتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ قیاس کے مطابق ہے، لہٰذا اس کے اندر جماعت کی شرط بھی نہیں ہے اور امام کی بھی شرط نہیں۔ یہ معنی ہے ”وَلَا تُشْتَرَطُ الْجَمَاعَةُ لِهَذَا الْجَمْعِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ لِأَنَّ الْمَغْرِبَ مُؤَخَّرَةٌ عَنْ وَقْتِهَا“، اور جماعت کی شرط نہیں ہوگی اس جمع بین الصلاتین کے لیے امام صاحب کے نزدیک، اس لیے کیونکہ مغرب جو ہے اس کو مؤخر کیا گیا ہے اپنے وقت سے۔ ”بِخِلَافِ الْجَمْعِ بِعَرَفَةَ لِأَنَّ الْعَصْرَ مُقَدَّمٌ عَلَى وَقْتِهِ“، بخلاف جمع بین الصلاتین عرفات کے اندر جو تھی، کیونکہ اس کے اندر تو عصر اپنے وقت پر مقدم تھی۔ ”وَمَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ فِي الطَّرِيقِ لَمْ تُجْزِهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ“، اور جس نے مغرب کی نماز راستے میں پڑھ لی۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ سورج کہاں غروب ہو چکا؟ عرفات۔ اور سورج غروب ہونے کے بعد واپس چلنا ہے، مغرب کی نماز وہاں نہیں پڑھنی اور راستے میں بھی نہیں پڑھنی بلکہ کہاں پڑھنی ہے؟ مزدلفہ آ کر۔ تو اگر کوئی وہاں راستے میں مغرب کی نماز پڑھ لیتا ہے یا عرفات ہی میں مغرب کی نماز پڑھ لیتا ہے تو طرفین رحمہما اللہ یعنی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نماز اس کے لیے کافی نہیں، تو یہاں آ کر پھر اس کو وہ نماز لوٹانا پڑے گی فجر طلوع ہونے سے پہلے پہلے۔ فجر طلوع ہونے سے پہلے پہلے اس کو یہ نماز اور اگر فجر طلوع ہو گئی پھر لوٹانے کی ضرورت نہیں بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ فِي الطَّرِيقِ لَمْ تُجْزِهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى وَعَلَيْهِ إِعَادَتُهَا مَا لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ“، اور جس نے مغرب کی نماز راستے میں پڑھ لی تو یہ نماز اس کے لیے کافی نہیں ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، اور اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے جب تک کہ فجر طلوع نہ ہو جائے۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: يُجْزِيهِ وَقَدْ أَسَاءَ“، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نماز اس کے لیے کافی ہے، اور تحقیق اس شخص نے برا کیا۔ کیوں؟ کیونکہ سنت کی مخالفت کی، اس لیے برا عمل کیا۔ لیکن بہرحال نماز اپنے وقت کے اندر پڑھی ہے سورج غروب ہونے کے بعد، لہٰذا نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ جیسے فجر کا وقت جب فجر طلوع ہو جائے، اس میں بالاتفاق پھر نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں بھئی، تو یہاں بھی اسی طرح وہ نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يُجْزِيهِ“، یہ اس کے لیے کافی ہے، ”وَقَدْ أَسَاءَ“، اور تحقیق اس نے برا کیا کہ سنت کی مخالفت کی۔ ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا صَلَّى بِعَرَفَاتٍ“، اور اسی اختلاف پر ہے جب اس حاجی نے مغرب کی نماز عرفات میں پڑھ لی۔ تو طرفین کے نزدیک فجر سے پہلے پہلے اعادہ واجب، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ نماز اس کے لیے کافی ہو گئی۔ دلیل، کہتے ہیں: ”لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ أَدَّاهَا فِي وَقْتِهَا فَلَا يَجِبُ إِعَادَتُهَا كَمَا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ“، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ اس نے مغرب کی نماز کو ادا کیا ہے اپنے وقت کے اندر، لہٰذا اس پر اس نماز کو لوٹانا واجب نہیں جیسے کہ طلوعِ فجر کے بعد بالاتفاق اس کو لوٹانا واجب نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ طرفین بھی فرماتے ہیں اگر فجر طلوع ہو گئی اس نے نہ لوٹایا تو بعد میں پھر لوٹانے کی ضرورت نہیں، معلوم ہوا اس کے لیے وہ نماز کافی ہو گئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں اس نے نماز اپنے وقت پر ادا کی ہے، اگرچہ سنت کی مخالفت کی ہے لیکن بہرحال یہ نماز اس کے لیے کافی ہو جائے گی، جیسے طلوعِ فجر کے بعد یہی نماز اس کے لیے کافی ہو جاتی تھی تو پہلے بھی یہ نماز اس کے لیے کافی ہو جائے گی۔ ”إِلَّا أَنَّ التَّأْخِيرَ مِنَ السُّنَّةِ فَيَصِيرُ مُسِيئًا بِتَرْكِهِ“، مگر یہ کہ مؤخر کرنا سنت ہے تو یہ شخص جو ہے برا عمل کرنے والا ہوا سنت چھوڑنے کی وجہ سے۔ ”وَلَهُمَا مَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِأُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي طَرِيقِ الْمُزْدَلِفَةِ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، مَعْنَاهُ: وَقْتُ الصَّلَاةِ“. طرفین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ راستے میں جب مزدلفہ آ رہے تھے تو حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور علیہ السلام سے نماز کا ذکر فرمایا مغرب کی نماز کے بارے میں، کہ نماز نہ پڑھ لیں؟ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”الصَّلَاةُ أَمَامَكَ“، نماز تمہارے آگے ہے۔ نماز تمہارے آگے ہے۔ طرفین فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ نماز کا وقت تمہارے آگے ہے۔ نماز کا وقت تمہارے آگے ہے کیونکہ نماز تو آگے نہیں ہو سکتی، نماز تو اس کا اپنا فعل ہے اور کسی کا اپنا فعل اس کے آگے نہیں ہوتا۔ اس کے ہاں نماز کا وقت آگے ہو سکتا ہے یا نماز کی جگہ آگے ہو سکتی ہے، اس کے سامنے ہو سکتی ہے، لیکن اس کا اپنا فعل اس کے سامنے نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا یہاں کس معنی میں ہوا؟ ”الصَّلَاةُ أَمَامَكَ“ کا کیا معنی ہوا؟ ”وَقْتُ الصَّلَاةِ أَمَامَكَ“، کہ نماز کا وقت تمہارے سامنے ہے یعنی آگے ہے۔ تو حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ نماز کا وقت تمہارے آگے ہے۔ معلوم ہوا ابھی نماز کا وقت آیا ہی نہیں، معلوم ہوا کہ نماز کو مؤخر کرنا واجب ہے۔ کیونکہ ابھی جب وقت ہی نہیں آیا وقت آگے ہے تو معلوم ہوا مؤخر کرنا بھی واجب ہے۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مزدلفہ کے راستے میں فرمایا: ”الصَّلَاةُ أَمَامَكَ“، نماز تمہارے آگے ہے، ”مَعْنَاهُ وَقْتُ الصَّلَاةِ“، اس کا معنی جو ہے نماز کا وقت ہے کہ وہ تمہارے آگے ہے۔ ”وَهَذَا إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ التَّأْخِيرَ وَاجِبٌ“، اور یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ مؤخر کرنا واجب ہے، ”وَإِنَّمَا وَجَبَ لِيُمْكِنَهُ الْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِالْمُزْدَلِفَةِ“، اور یہ واجب اس لیے ہے تاکہ ممکن ہو اس کے لیے جمع کرنا دونوں نمازوں کا مزدلفہ کے اندر، ”فَكَانَ عَلَيْهِ الْإِعَادَةُ مَا لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ“، تو اس شخص پر نماز کا اعادہ واجب ہے جب تک فجر طلوع نہیں ہوتی، ”لِيَصِيرَ جَامِعًا بَيْنَهُمَا“، تاکہ یہ شخص بھی ان دو نمازوں کو جمع کرنے والا ہو جائے۔ یہ اعادہ اس پر کیوں واجب ہے طرفین فرماتے ہیں؟ کیونکہ مقصد کیا ہے؟ دونوں جماعتوں کا جمع کرنا ہے تو لہٰذا اس پر اعادہ واجب ہے مزدلفہ پہنچ کر مغرب کی نماز پھر لوٹائے تاکہ اسی وقت کے اندر مغرب اور عشاء کا جمع کرنا پایا جائے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ“، بھئی طرفین فرماتے تھے کہ اگر فجر طلوع ہو گئی تو پھر اس نماز کے اعادے کی ضرورت نہیں جو راستے میں پڑھی ہے یا عرفات میں، وہی اس کے لیے کافی ہو جائے گی۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں: بھئی اس پر یہ نماز کا اعادہ کیوں واجب تھا؟ تاکہ دونوں نمازوں کو وہ جمع کر لے عشاء کے وقت میں، کہاں پر؟ مزدلفہ میں۔ اور فجر سے پہلے پہلے دونوں کا جمع کرنا تو ممکن ہے، فجر سے پہلے اعادہ کرے گا تو دونوں نمازیں کیا ہو جائیں گی؟ اس وقت کے اندر جمع ہو جائیں گی۔ لیکن فجر کی جب طلوع ہو گئی اب تو عشاء کا وقت نکل گیا لہٰذا اب جمع کی صورت نہ رہی، لہٰذا اس لیے ہم نے وہاں پر کہا کہ وہی نماز اس کے لیے کافی ہو گئی۔ لیکن جب تک جمع کرنا ممکن ہے اس وقت تک اس پر اعادہ بھی واجب ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُمْكِنُهُ الْجَمْعُ فَسَقَطَتِ الْإِعَادَةُ“، اور جب فجر طلوع ہو جائے تو اس کے لیے وہ جمع بین الصلاتین ممکن نہ رہا تو اعادہ اس پر سے ساقط ہو گیا۔ ”قَالَ: وَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ يُصَلِّي الْإِمَامُ بِالنَّاسِ الْفَجْرَ بِغَلَسٍ“. غلس کہتے ہیں صبح کی تاریکی بھئی۔ رات کے آخری حصے کی تاریکی کو غلس کہتے ہیں۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور جب فجر طلوع ہو جائے، بھئی یہ رات کہاں گزاری؟ مزدلفہ میں۔ یاد رکھیے یہ رات یہاں گزارنا ہمارے نزدیک واجب ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ”وَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ يُصَلِّي الْإِمَامُ بِالنَّاسِ الْفَجْرَ بِغَلَسٍ“، اور جب فجر طلوع ہو گئی تو امام لوگوں کو نماز پڑھائے فجر کی تاریکی میں ہی۔ ویسے تو ہمارے ہاں کیا مستحب کیا ہے عند الاحناف کہ فجر کی نماز جب روشنی ہو جائے پھر ادا کی جائے گی، لیکن اس دن مزدلفہ کے اندر یہ فجر کی نماز تاریکی میں ادا کی جائے گی۔ وجہ اس کی یہ کہ فجر کی نماز کے بعد وقوفِ مزدلفہ کرنا ہے یعنی پھر اللہ کے دربار میں کھڑا ہونا ہے اور دعائیں کرنی ہیں، ذکر وغیرہ کرنا ہے۔ تو فجر کی نماز جلدی پڑھی جائے گی تو وقوف کا وقت ملے گا، اگر دیر سے پڑھی جائے گی پھر تو وقوف کا وقت نہیں ملے گا۔ اور پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے واپس بھی روانہ ہونا ہے۔ تو اگر فجر کی نماز تاریکی میں ہوگی تو وقوف کا وقت ملے گا، ورنہ تو پھر وقوف کا وقت نہیں ملے گا۔ تو کہتے ہیں جب فجر طلوع ہو جائے تو امام لوگوں کو فجر کی نماز تاریکی میں ہی پڑھائے گا۔ ”لِرِوَايَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ صَلَّاهَا يَوْمَئِذٍ بِغَلَسٍ“، بوجہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی تھی اس دن تاریکی میں۔ ”وَلِأَنَّ فِي التَّغْلِيسِ دَفْعَ حَاجَةِ الْوُقُوفِ فَيَجُوزُ كَتَقْدِيمِ الْعَصْرِ بِعَرَفَةَ“، اور نیز اس لیے کہ تاریکی کے اندر ادا کرنے میں وقوف کی حاجت کو پورا کرنا ہے، ”وَلِأَنَّ فِي التَّغْلِيسِ“، اس لیے کیونکہ تاریکی میں ادا کرنے میں، ”دَفْعَ حَاجَةِ الْوُقُوفِ“، وقوف کی حاجت کو پورا کرنا ہے، ”فَيَجُوزُ كَتَقْدِيمِ الْعَصْرِ بِعَرَفَةَ“، تو جائز ہے جیسے کہ عصر کو مقدم کرنا تھا عرفات میں۔ عرفات میں بھی بھئی عصر کی نماز کو مقدم کیا گیا تھا تاکہ وقوف کی حاجت پوری ہو جائے، وقوف کے لیے وقت مل جائے، تو یہاں پر بھی جلدی ادا کی جائے گی تاکہ وقوفِ مزدلفہ کے لیے وقت مل جائے۔ ”ثُمَّ وَقَفَ وَوَقَفَ مَعَهُ النَّاسُ فَدَعَا“، پھر اس کے بعد امام وقوف کرے گا فجر کی نماز کے بعد اور وقوف کریں گے اس کے ساتھ لوگ، ”فَدَعَا“، تو پھر وہ امام کیا کرے؟ دعا کرے گا۔ ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَفَ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ يَدْعُو“، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف فرمایا اس مقام پر اس حال میں کہ آپ دعا فرما رہے تھے، ”حَتَّى رُوِيَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا: فَاسْتُجِيبَ لَهُ دُعَاؤُهُ لِأُمَّتِهِ حَتَّى الدِّمَاءِ وَالْمَظَالِمِ“، یہاں تک کہ روایت کیا گیا ہے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں کہ قبول کر لی گئی حضور علیہ السلام کی دعا اپنی امت کے لیے یہاں تک کہ ناحق قتلوں اور ظلموں کے بارے میں بھی۔ عرفات کے اندر باقی دعائیں اللہ نے قبول فرمائی تھیں، البتہ ناحق قتل اور ناانصافی اور ظلم کرنے والے کے بارے میں دعا قبول نہیں فرمائی تھی، لیکن یہاں مزدلفہ کے اندر حضور علیہ السلام نے جب پھر دعائیں کیں اور ان کے لیے بھی پھر دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں بھی دعا قبول فرما لی اور حضور علیہ السلام کی امت میں سے جو ناحق قتل کرنے والے ہیں اور ظلم کرنے والے ہیں لیکن ہیں اہلِ ایمان میں سے، ان کی بھی بخشش کا اللہ نے وعدہ فرمایا بھئی، ان کی بخشش کا بھی اللہ نے اعلان فرما دیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”ثُمَّ هَذَا الْوُقُوفُ وَاجِبٌ عِنْدَنَا“، پھر یہ وقوف ہمارے نزدیک واجب ہے بھئی، واجب ہے۔ ”وَلَيْسَ بِرُكْنٍ“، رکن نہیں ہے۔ رکن وہ تو فرض ہے بھئی، فرض ہوتا ہے اور اس کے بغیر تو حج ہوتا ہی نہیں اگر وہ رہ جائے۔ لیکن یہ رکن نہیں ہمارے نزدیک وقوفِ مزدلفہ بلکہ واجب ہے۔ تو کہتے ہیں: پھر یہ وقوف واجب ہے ہمارے نزدیک، ”وَلَيْسَ بِرُكْنٍ“، اور یہ رکن نہیں ہے، ”حَتَّى لَوْ تَرَكَهُ بِغَيْرِ عُذْرٍ يَلْزَمُهُ الدَّمُ“، یہاں تک کہ اگر حاجی نے چھوڑ دیا اس وقوفِ مزدلفہ کو بغیر کسی عذر کے تو اس پر دم لازم ہوگا یعنی ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی۔ ہاں، عذر کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے پھر دم بھی نہیں آئے گا بھئی، آگے دلیل آ رہی ہے بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّهُ رُكْنٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ}“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وقوفِ مزدلفہ رکن ہے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ}، اور تم لوگ اللہ کا ذکر کرو مشعرِ حرام میں۔ مشعرِ حرام جو ہے یہ مزدلفہ کو کہتے ہیں، تو قرآن میں اللہ کیا فرما رہے ہیں: {فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ}، تم لوگ ذکر کرو اللہ کا مشعرِ حرام کے پاس یعنی مزدلفہ میں۔ ”وَبِمِثْلِهِ يَثْبُتُ الرُّكْنِيَّةُ“، اور اس قسم کے قول سے جو ہے وہ رکنيت ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کیا فرما رہے ہیں: ”فَاذْكُرُوا اللهَ“، کہ تم کیا کرو وہاں پر؟ اللہ کا ذکر کرو، اور امر آیا امر، اور امر وجوب اور فرضیت کے لیے آتا ہے۔ وجوب اور فرضیت، اور ذکر تبھی ہوگا جب وقوف کیا جائے۔ ذکر تبھی ہوگا مشعرِ حرام میں جب کیا کیا جائے؟ وقوف کیا جائے، تو یہ ذکر موقوف ہو گیا وقوف پر۔ معلوم ہوا وقوف فرض ہے، کیونکہ وقوف ہوگا تو ذکر ہو سکتا ہے، وقوف نہیں تو ذکر بھی نہیں۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ وقوفِ مزدلفہ فرض ہے، یہ رہ جائے تو حج ہی نہیں ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لیکن حق یہ ہے مولانا، علماء بھی لکھتے ہیں کہ یہ صاحبِ ہدایہ سے یہاں تسامح ہوا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وقوفِ مزدلفہ رکن نہیں ہے بلکہ سنت ہے۔ ہمارے نزدیک تو واجب ہے اور ان کے نزدیک سنت ہے بھئی، سنت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِمِثْلِهِ يَثْبُتُ الرُّكْنِيَّةُ“، اور اس قسم کے حکم سے رکنيت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ حکم آیا نا ”فَاذْكُرُوا اللهَ“ تم اللہ کا ذکر، تو اس قسم کے حکم سے رکنيت ثابت ہوتی ہے، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کی۔ ”وَلَنَا مَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ بِاللَّيْلِ“، اور ہماری دلیل وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ“، آپ نے آگے بھیج دیا اپنے اہل میں سے جو ضعیف تھے، ان کو آگے بھیج دیا یعنی منیٰ روانہ کر دیا، ”بِاللَّيْلِ“، رات کے وقت ہی۔ حضور علیہ السلام نے اپنے اہل و عیال میں سے جو ضعیف اور کمزور تھے ان کو رات ہی رات میں کدھر روانہ فرما دیا؟ منیٰ روانہ فرما دیا۔ اگر یہ وقوفِ مزدلفہ رکن ہوتا، فرض ہوتا، تو حضور علیہ السلام ایسا نہ کرتے، کیونکہ فرض کو تو کسی عذر کی وجہ سے بھی نہیں چھوڑا جا سکتا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ واجب تو ہے اس کو عذر کی وجہ سے انہوں نے یہ آپ کو بتلائیں گے چھوڑ سکتے ہیں، لیکن رکن کو تو نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تو ہماری دلیل وہ حدیث ہے کہ حضور علیہ السلام نے ”قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ بِاللَّيْلِ“، کہ آپ نے آگے بھیج دیا اپنے اہل میں سے جو کمزور تھے ان کو رات کے وقت ہی، ”وَلَوْ كَانَ رُكْنًا لَمَا فَعَلَ ذَلِكَ“، اور اگر یہ وقوف رکن ہوتا تو حضور علیہ السلام ایسا نہ فرماتے یعنی ان کو رات ہی کے وقت نہ بھیجتے۔ ”وَالْمَذْكُورُ فِيمَا تَلَا الذِّكْرُ وَهُوَ لَيْسَ بِرُكْنٍ بِالْإِجْمَاعِ“. یہاں سے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر فرمایا تھا؟ ”فَاذْكُرُوا اللهَ“، کہ اللہ حکم دے رہے ہیں ذکر کرنے کا اور یہ ذکر تبھی ہو سکتا ہے جب کیا کیا جائے؟ وقوف کیا جائے، تو لہٰذا معلوم ہوا وقوف رکن ہے، فرض ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی آیت میں ہے ”فَاذْكُرُوا اللهَ“، تم اللہ کا ذکر کرو، اور بالاجماع یہ ذکر فرض نہیں یہاں پر۔ بالاجماع یہاں پر ذکر فرض نہیں، تو جب ذکر فرض نہیں تو ذکر جس چیز پر موقوف ہے یعنی وقوفِ عرفہ وہ بطریقِ اولیٰ فرض نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَذْكُورُ فِيمَا تَلَا الذِّكْرُ وَهُوَ لَيْسَ بِرُكْنٍ بِالْإِجْمَاعِ“، اور مذکور اس آیت کے اندر جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے تلاوت فرمایا اس میں ذکر مذکور ہے، اور وہ تو بالاجماع رکن نہیں ہے۔ ”وَإِنَّمَا عَرَفْنَا الْوُجُوبَ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اچھا بھئی، اے احناف! تم نے کہا کہ وقوفِ مزدلفہ واجب ہے، اس کی کیا دلیل ہے؟ اس کا بھی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا عَرَفْنَا الْوُجُوبَ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: مَنْ وَقَفَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ وَقَدْ كَانَ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ“، کہ ہم نے وجوب کو جانا حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: جس نے وقوف کیا ہمارے ساتھ اس موقف میں، اس وقوف کی جگہ میں، ”وَقَدْ كَانَ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ“، اس حال میں کہ وہ لوٹ چکا ہے اس سے پہلے عرفات سے یعنی مغرب کے بعد کہاں سے آیا تھا؟ عرفات سے آیا تھا، اور پھر اس نے ہمارے ساتھ وقوف کر لیا، ”فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ“، تو تحقیق اس کا حج پورا ہو گیا۔ یہاں تک ہے حدیث بھئی، تو تحقیق اس کا حج پورا ہو گیا۔ ”عَلَّقَ بِهِ تَمَامَ الْحَجِّ“، حضور علیہ السلام نے اس پر حج کے پورا ہونے کو معلق فرمایا۔ اس سے کیا ہو جائے گا؟ جس نے وقوفِ مزدلفہ کر لیا اور اس سے پہلے وہ کہاں سے ہو کر آیا ہے؟ عرفات سے، تو اس کا حج پورا ہو گیا، تو حضور علیہ السلام نے حج کے پورا ہونے کو اس وقوف پر معلق فرمایا، ”وَهَذَا يَصْلُحُ أَمَارَةً لِلْوُجُوبِ“، اور یہ صلاحیت رکھتی ہے وجوب کی علامت ہونے کی۔ یہ تعلیق جو حج کے پورا ہونے کا کس پر معلق کیا گیا؟ وقوفِ مزدلفہ پر، یہ اس بات کی صلاحیت رکھتی ہے یہ چیز ہمیں بتلا دیتی ہے معلوم ہوا یہ واجب ہے، کیونکہ حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ جس نے یہ کر لیا اس کا حج پورا ہو گیا، معلوم ہوا کہ یہ ضروری ہے۔ کیا ہے؟ ضروری ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ضروری ہے، اور رکن تو ہو نہیں سکتا کیونکہ رکن کے لیے تو کیا چاہیے؟ قطعی دلیل چاہیے، اور یہ حدیث کیا ہے؟ خبرِ واحد ہے، اور خبرِ واحد کے ذریعے وجوب تو ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا ہم نے بھی کیا ثابت کر دیا؟ وجوب ثابت کر دیا، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا يَصْلُحُ أَمَارَةً لِلْوُجُوبِ غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَرَكَهُ بِعُذْرٍ“، اور یہ تعلیق جو ہے یعنی اس پر حج کے پورا ہونے کو معلق کرنا، یہ صلاحیت رکھتا ہے وجوب کی علامت ہونے کی۔ ”غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَرَكَهُ بِعُذْرٍ“، علاوہ اس کے کہ اگر اس نے اس کو کسی عذر کی وجہ سے چھوڑ دیا، حاجی نے وقوفِ مزدلفہ کو عذر کی وجہ سے چھوڑ دیا، ”بِأَنْ يَكُونَ بِهِ ضَعْفٌ“، بایں صورت کہ اس کو وہ اس کو ضعف تھا، کمزوری تھی یعنی ضعیف تھا، ”أَوْ عِلَّةٌ“، یا اس کو کوئی بیماری تھی، مرض تھا، ”أَوْ كَانَتِ امْرَأَةً تَخَافُ الزِّحَامَ“، یا وہ ایسی عورت تھی جس کو ہجوم کا خوف تھا، ”لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“، تو ان پر کچھ نہیں ہے یعنی ان پر دم وغیرہ لازم نہیں ہوگا۔ ”لِمَا رَوَيْنَا“، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور علیہ السلام نے اپنے اہل و عیال میں سے جو ضعیف تھے ان کو رات ہی کو واپس منیٰ بھیج دیا تھا بھئی۔ ”قَالَ: وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ إِلَّا وَادِيَ مُحَسِّرٍ لِمَا رَوَيْنَا مِنْ قَبْلُ“. صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور مزدلفہ جو ہے وہ سارا کا سارا موقف ہے یعنی جہاں بھی وقوف کرنا چاہے وقوف کر سکتا ہے، ”إِلَّا وَادِيَ مُحَسِّرٍ“، سوائے وادیِ محسر کے، ”لِمَا رَوَيْنَا مِنْ قَبْلُ“، بوجہ اس حدیث کے جس کو ہم نے پہلے روایت کر دیا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ عرفات سارا کا سارا موقف ہے اور بطنِ عُرَنَہ سے جدا رہو، اور مزدلفہ سارا کا سارا موقف ہے اور وادیِ محسر سے جدا رہو، اس حدیث کی وجہ سے۔ ”قَالَ: فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَفَاضَ الْإِمَامُ وَالنَّاسُ حَتَّى يَأْتُوا مِنًى“. صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: پس جب سورج طلوع ہو جائے تو لوٹے گا امام اور لوگ بھی، یہاں تک کہ وہ منیٰ آ جائیں گے۔ جب سورج طلوع ہو جائے بھئی! میں نے آپ کو کیا بتلایا؟ سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہوں گے بھئی، سورج طلوع ہونے سے پہلے۔ تو صاحبِ قدوری تو فرما رہے ہیں جب سورج طلوع ہو جائے پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف چلیں گے۔ تو آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ صاحبِ قدوری کا قول صحیح نہیں ہے، سورج طلوع ہونے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے تھے، ہاں البتہ خوب روشنی ہو گئی تھی، سورج تو طلوع نہیں ہوا تھا لیکن خوب روشنی ہو گئی تھی۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ عَصَمَهُ اللهُ: هَكَذَا وَقَعَ فِي نُسَخِ الْمُخْتَصَرِ وَهَذَا غَلَطٌ“، عبدِ ضعیف کہتا ہے، مراد صاحبِ ہدایہ ہیں کہ اللہ کا کمزور بندہ جو ہے ”عَصَمَهُ اللهُ“، اللہ اس کی حفاظت فرمائے، وہ کہتا ہے: ”هَكَذَا وَقَعَ فِي نُسَخِ الْمُخْتَصَرِ“، اسی طرح مختصر القدوری کے نسخوں میں آیا ہے، ”وَهَذَا غَلَطٌ“، اور یہ غلط ہے۔ ”وَالصَّحِيحُ إِذَا أَسْفَرَ أَفَاضَ الْإِمَامُ وَالنَّاسُ“، اور صحیح یہ ہے: ”إِذَا أَسْفَرَ“، جب روشنی ہو جائے، ”أَفَاضَ الْإِمَامُ وَالنَّاسُ“، تو واپس لوٹے گا امام اور لوگ بھی، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ“، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے تھے سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی۔ حضور علیہ السلام روانہ ہوئے تھے سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی بھئی، تو حضور علیہ السلام سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہوئے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آگے اب یہ دسویں ذی الحجہ آ گئی، عید کا دن آ گیا، اس دن کیا کیا کرنا ہے وہ کل پھر انشاء اللہ پڑھیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔