سبق نمبر۔46‏ واما المحلى بال فيؤتى به اذا كان الغرض الحكاية عن الجنس نفسه، نحو الإنسان حيوان ناطق، وتسمى ال‎ ‎جنسية. او الحكاية عن ‏معهود من افراد الجنس‎.‎ گزشتہ سبق میں الف لام کی اقسام میں نے آپ کو بتلائی تھیں بھئی۔ کہ الف لام جو ہے، وہ دو قسم پر ہے۔ ایک الف لام اسمی اور ایک الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسمِ فاعل اور ‏اسمِ مفعول کے صیغوں پر داخل ہوتا ہے اور یہ دراصل اسمِ موصول ہے۔ یہ حرف ہے ہی نہیں، بلکہ کیا ہے؟ اسمِ موصول ‏ہے، چنانچہ صاحبِ کافیہ جب اسماءِ موصولہ ذکر کرتے ہیں، وہاں پر اس الف لام کو بھی شمار کرتے ہیں۔ تو یہ کیا ہے؟ ‏اسمِ موصول ہے، حرف یعنی الف لام جیسی صورت ہے، لیکن یہ حرف ہے نہیں، یہ اسم ہے اور معرفہ ہے۔ تو یہ الضارب کس معنی میں ہوا؟ الذی یضرب۔ اور المضروب کس معنی میں ہوا؟ الذی یضرب کے معنی میں۔ جبکہ دوسرا ‏الف لام حرفی ہے، الف لام حرفی وہ ہے جو کسی اسم پر داخل ہو کر اسے معرفہ بنا دیتا ہے اور اس الف لام حرفی کے ‏ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ یہ تعبیر ہمیشہ یاد رکھنا، بڑی کام آئے گی آپ کو جگہ جگہ بھئی۔ کہ الف لام حرفی کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ اگر اشارہ کیا جائے کسی چیز کی جنس اور حقیقت ‏کی طرف، تو یہ الف لام جنسی ہے۔ اگر اشارہ ہو افراد کی طرف، تو پھر تمام افراد مراد ہوں گے یا بعض؟ اگر تمام مراد ‏ہیں، تو یہ الف لام استغراقی ہے اور اگر بعض مراد ہیں، تو پھر وہ بعض خارج میں متعین ہوں گے یا متعین نہیں ہوں ‏گے؟ اگر وہ خارج میں متعین ہیں، تو یہ الف لام عہدِ خارجی ہے اور اگر وہ خارج میں متعین نہیں، تو وہ الف لام عہدِ ذہنی ‏ہے بھئی۔ الف لام عہدِ ذہنی۔ اور اس کی مثالیں بھی میں نے ذکر کر دی تھیں بھئی، اب یہی بات صاحبِ کتاب بھی بیان ‏کریں گے، یہی تفصیل بھئی، یہی تفصیل۔ ہاں البتہ اس میں ایک دو باتیں مزید یاد رکھیے بھئی، کہ یہ الف لام حرفی جو ہے، یہ یہ بعض اوقات صرف تحسینِ لفظ ‏کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، لفظ کو حسیں بنانے کے لیے۔ وہاں یہ تعریف کا فائدہ نہیں دیتا، لفظ کو معرفہ نہیں بناتا، ‏بلکہ صرف اس میں حسن پیدا کر دیتا ہے، جیسے زبیر، اس پر الف لام عربی میں آپ پڑھتے ہوں گے، الزبیر، کیا پڑھتے ‏ہیں؟ الزبیر۔ تو زبیر تو نام ہے، نام تو پہلے ہی معرفہ ہوتا ہے اور اس پر جو الف لام آیا وہ اسمی ہے یا حرفی ہے؟ ظاہر ‏سی بات ہے حرفی ہے، کیونکہ اسمِ فاعل اسمِ مفعول کا صیغہ تو نہیں، تو یہ الف لام حرفی ہوا اور الف لام حرفی تو کیا ‏فائدہ دیتا ہے؟ کسی لفظ کو معرفہ بناتا ہے، لیکن یہ لفظ تو پہلے ہی معرفہ تھا کیونکہ علم ہے، نام ہے۔ پھر اس کے لانے ‏کا کیا مقصد ہے؟ تحسینِ لفظ بھئی، کیا مقصد ہے؟ تحسینِ لفظ، لفظ کو حسیں بنانا بھئی، لفظ کو خوبصورت بنانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بھی بعض جگہ آپ ناموں پر الف لام دیکھیں گے، الف لام داخل ہو گا، یہ سب تحسین کے لیے ‏ہیں، جس نام پر بھی، چاہے وہ شہر کا نام ہو، چاہے کسی انسان کا نام ہو، چاہے کسی چیز کا نام ہو، اس پر جب وہ نام ‏ہے، تو وہ تو پہلے سے ہی معرفہ ہے، اس پر جب بھی الف لام آئے گا، وہ کون سا ہو گا؟ ہے تو حرفی ہی، لیکن کس لیے ‏ہے؟ تحسینِ لفظ کے لیے ہے، معرفہ بنانے کے لیے نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا کہ بعض لفظ عربی میں ایسے ہیں کہ ان پر الف لام داخل نہیں کیا جاتا، داخل کرنا جائز نہیں۔ ‏بعض لفظ عربی میں ایسے ہیں کہ ان پر الف لام داخل کرنا جائز نہیں۔ بعض ناموں پر تو الف لام داخل کرتے ہیں تحسین ‏کے لیے، اس کو حسیں بنانے کے لیے، لیکن بعض ناموں پر الف لام کا داخل کرنا جائز ہے ہی نہیں، جیسے آپ لفظ ‏پڑھتے ہیں بھئی مکہ، مکہ، مکہ، مکہ شہر کا نام ہے اور اس پر الف لام نہیں داخل کیا جاتا، چنانچہ آپ جہاں کہیں بھی ‏عبارت میں دیکھیں گے تو مکہ لکھا ہو گا بھئی، مکہ، یعنی اس پر الف لام کبھی نہیں آئے گا بھئی، الف لام کبھی نہیں آئے ‏گا۔ اسی طرح عمر کا لفظ ہے، عمر بھئی، اس پر بھی آپ کو الف لام کہیں نظر نہیں آئے گا، تو یہ بعض لفظوں پر تحسین ‏کے لیے الف لام داخل کیا جاتا ہے اور بعض پر داخل نہیں کیا جاتا بھئی۔ تو اس میں ہمیں عربوں کا استعمال دیکھنا پڑے ‏گا، تلاش و جستجو کرنا پڑے گی کہ اس لفظ پر، اس نام پر عرب الف لام داخل کرتے ہیں یا داخل نہیں کرتے بھئی، داخل ‏نہیں کرتے۔ اور نیز بھئی، کل اس مستثنیٰ کی بحث بھی میں نے کی تھی کہ مستثنیٰ، کسے کہتے ہیں مستثنیٰ؟ مستثنیٰ دو قسم پر ہے، ‏ایک مستثنیٰ متصل اور ایک مستثنیٰ منقطع۔ مستثنیٰ متصل وہ ہے جو پہلے حکم کے اندر، حکم کے اندر داخل تھا اور پھر ‏الاّ کے ذریعے اس کو نکال لیا گیا، یہ کیا ہے؟ مستثنیٰ متصل ہے، اور اگر وہ پہلے سے حکم میں داخل ہی نہیں تھا اور ‏پھر اس کو الاّ کے ساتھ ذکر کیا گیا، تو معلوم ہوا وہ مستثنیٰ منقطع ہے، کیا ہے؟ مستثنیٰ۔ لہٰذا، اب آپ سے کوئی کہے ‏جائنی، جائنی طلبۃ الدرجۃ الرابعۃ، میرے پاس درجہ رابعہ والے طلبہ آئے، الاّ زیداً، سوائے زید کے۔ تو اب آپ کو فوراً پتہ ‏چل جائے گا کہ یہ مستثنیٰ متصل ہے یا مستثنیٰ منقطع ہے۔ کیسے پتہ چلے گا؟ اگر زید بھی انہی درجہ رابعہ والوں میں سے ہے، پھر اس کو الاّ کے ذریعے نکالا گیا ہے ان سے، تو یہ کیا ہوا؟ مستثنیٰ ‏متصل، اور اگر وہ رابعہ والوں میں سے ہے ہی نہیں، وہ تو مثلاً خامسہ میں پڑھتا ہے، تو پھر تو پہلے داخل نہیں تھا، ‏لیکن ویسے الاّ کے بعد ذکر کیا گیا، تو یہ کیا بن جائے گا؟ مستثنیٰ منقطع بن جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا، مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے، یہ کبھی بھی طے نہیں ہو سکتا جب تک آپ کو یہ پتہ نہ ہو کہ یہ مستثنیٰ ماقبل ‏میں داخل تھا یا داخل نہیں تھا۔ اگر داخل تھا مستثنیٰ منہ میں، کون؟ مستثنیٰ، یقینی طور پر آپ کو پتہ ہے کہ یہ مستثنیٰ منہ ‏میں داخل تھا، پھر تو ہمیشہ کیا بنے گا؟ مستثنیٰ متصل، اور اگر یقینی طور پر آپ کو علم ہے کہ یہ ان میں داخل ہی نہیں ‏ہے، لیکن اس کو ذکر کیا جا رہا ہے، تو آپ سمجھ جائیں گے یہ کیا ہے؟ مستثنیٰ منقطع، اور جب تک آپ کو یقینی طور پر ‏پتہ نہیں ہو گا تو آپ کوئی حکم بھی نہیں لگا سکتے، نہ متصل ہونے کا اور نہ منقطع ہونے کا، تو ضروری ہے مستثنیٰ ‏متصل یا منقطع بنانے کے لیے کہ پہلے سے علم ہونا چاہیے کہ یہ ان میں ماقبل میں داخل ہے یا داخل نہیں ہے۔ جی، اب دیکھیے ذرا کتاب پر، صرف ترجمہ ہے بھئی، باقی تفصیل میں بیان کر چکا ہوں۔ کہتے ہیں واما المحلى بال، ‏محلیٰ کا معنی ہے مزین کیا ہوا، یہ حلیۃ سے ہے، حلیۃ، حلیۃ کا معنی ہے زیور، زیور، تو محلیٰ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے، ‏وہ جس کو زیور پہنایا گیا ہو، جس کو زیور پہنایا گیا ہو یعنی مزین کیا گیا ہو، تو محلیٰ بال آیا، وہ جس کو ال کا زیور ‏پہنایا گیا ہے، وہ لفظ جس کو ال کے ساتھ یعنی الف لام کے ساتھ مزین کیا گیا ہے، اس پر الف لام داخل ہوا ہے، یعنی ‏معرف باللام مراد ہے، کیا مراد ہے؟ معرف باللام یعنی جس پر الف لام داخل ہوا ہے۔ کہتے ہیں واما المحلى بال، اور باقی وہ لفظ جو معرف باللام ہے اس کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں وہ بیان کر رہے ‏ہیں۔ بھئی اس لیے، نکات وہی بیان کریں گے جو کل کس میں میں نے بیان کر دیے، کہ اس الف لام کے ذریعے اشارہ کرنا ‏مقصود ہو گا کس کی طرف؟ جنس کی طرف، تو اگر آپ کسی چیز کی جنس کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں تو اس پر ‏الف لام جنسی لے آؤ، اگر آپ کسی چیز کے تمام افراد کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں تو اس پر الف لام استغراقی لے آؤ، ‏اگر آپ کسی چیز کے بعض متعین افراد کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں تو اس پر الف لام عہدِ خارجی کا لے آؤ، اور اگر ‏آپ کسی چیز کے افرادِ غیر متعین کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں تو اس پر الف لام عہدِ ذہنی لے آؤ بھئی۔ سمجھ میں آیا ‏بھئی؟ تو یہ علمِ معانی ہم پڑھ رہے ہیں بھئی، یہ جو نکات بیان ہو رہے ہیں، یہ دراصل مواقع بیان ہو رہے ہیں کہاں کہاں اس ‏طرح یہ لفظ استعمال کرنا ہے۔ کہاں کہاں اس لفظ کو، مثلاً بھئی جیسے اس میں موصول ذکر ہوا، اس میں موصول کیوں ‏لایا جاتا ہے معرفہ کی صورت میں؟ ایک لفظ کو لانا ہے اور پھر آپ اس میں موصول کی صورت میں لاتے ہیں، کیوں ‏لایا جاتا ہے؟ کیا کیا نکات ہوتے ہیں؟ مثلاً ایک نقطہ بیان ہوا کہ آپ مخاطب کے علاوہ باقیوں سے بات کو چھپانا چاہتے ‏ہیں، بات کو، تو لہٰذا جب ایسا موقع آئے، آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مخاطب کے علاوہ باقیوں سے بات کو چھپانا چاہتے ہیں ‏تو اس وقت ایک طریقہ اس میں موصول والا بھی ہے، کس طریقے پر لے آؤ اب اس معرفہ کو؟ اسمِ موصول کی صورت ‏میں لے آؤ، تو یہ نکات دراصل مواقع بیان ہو رہے ہیں کہ کس مقام پر ایسا کرنا ہے، بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں ‏بھئی؟ کیونکہ اس میں علمِ معانی ہے، علمِ معانی میں آپ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کا کلام مقتضائے حال کے مطابق کب ‏ہو گا؟ کیسے ہو گا؟ سمجھ میں آیا ہے بھئی؟ تو اگر مقتضائے حال ایسا ہے کہ مقتضائے حال جہاں بات کو چھپانا مقصود ‏ہے تو یہاں یہ تقاضا کر رہا ہے اس کو کس صورت میں لے آؤ؟ ایک طریقہ اس کا کیا ہے؟ اس میں موصول کی صورت ‏میں لے آؤ وغیرہ، یہ تمام نکات اسی طرح ہیں بھئی، یعنی جس قسم کا نقطہ آپ چاہتے ہیں موقع کے مطابق یا جس طرح کا ‏وہ تقاضا کر رہا ہے اس کے مطابق کلام لے آئیں تو آپ کا کلام کیا ہوا؟ مقتضائے حال کے مطابق ہوا۔ تو کہتے ہیں واما المحلى بال، اور باقی وہ لفظ جس پر الف لام داخل ہوا ہے فيؤتى به اذا كان الغرض الحكاية عن الجنس ‏نفسه، تو اس محلیٰ بال یعنی معرف باللام کو لایا جاتا ہے اذا كان الغرض، جب کہ غرض جو ہو، جب غرض ہو، کس کی ‏غرض ہو؟ متکلم کی غرض ہو، اس کا مقصد کیا ہو؟ الحكاية عن الجنس نفسه، وہ نفسِ جنس سے حکایت کرنا چاہتا ہے، ‏نفسِ جنس کی بات کرنا چاہتا ہے، کس سے؟ یعنی نفسِ جنس، یعنی اس کے افراد نہیں بلکہ جنس مراد کیا لینا ہے وہاں؟ ‏جنس اور حقیقت اور ماہیت مراد لینی ہے، تو جب متکلم کی غرض یہ ہو کہ وہ بات کرنا چاہتا ہے کس کے بارے میں؟ ‏نفسِ جنس، یعنی نفسِ حقیقت کے بارے میں، نفسِ؟ بھئی ایک ہے حقیقت افراد کے ضمن میں اور ایک حقیقت خود ہے، اور ‏متکلم کا کیا ارادہ ہے؟ خود حقیقت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے یا وہ حقیقت جو افراد کے ضمن میں خارج میں پائی ‏جا رہی ہے؟ تو خود حقیقت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے، افراد کی طرف اس کی نظر نہیں ہے، تو یہ موقع ہے کہ ‏الف لام جنسی لے آئیں بھئی اس لفظ پر، بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ بھئی خارج میں جب کسی چیز کے ‏افراد ہیں، انسان کی حقیقت کیا؟ حیوانِ ناطق، تو یہ حقیقت، یہ حقیقت ہر فرد کے ضمن میں موجود ہے یا نہیں؟ ہر انسان کیا ‏ہے؟ حیوانِ ناطق، ہر انسان کی حقیقت حیوانِ ناطق ہے، تو یہاں حیوانِ ناطق یعنی یہ جو حقیقت ہے، ایک ہے خود اپنی ‏ذات کے اعتبار سے حقیقت سے بول کر حقیقت ہی مراد ہو اور ایک ہے حقیقت بول کر فرد مراد ہو، کیا مراد ہو؟ فرد، ‏کیونکہ حقیقت بھی تو خارج میں کس کے ضمن میں پائی جاتی ہے؟ فرد ہی کے ضمن میں پائی جاتی ہے تو وہ بھی ہو ‏سکتا ہے، لیکن یہاں بتلا رہے ہیں اذا كان الغرض الحكاية عن الجنس نفسه، جب خود جنس کی حکایت کرنا مقصد ہو، خود ‏جنس کے بارے میں بات کرنا مقصد ہو۔ یہ معنیٰ معرف باللام جو ہے فيؤتى به، تو اس کو لایا جاتا ہے اذا كان الغرض الحكاية عن الجنس نفسه، جب نفسِ جنس جو ‏ہے اس کے بارے میں بات کرنا مقصود ہو، نحو، مثال کے طور پر، الإنسان حيوان ناطق، انسان کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ‏ہے، کیا معنیٰ؟ یعنی انسان کی جنس اور حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ہے بھئی، وتسمى الجنسية، اور اس کو الجنسية کہتے ‏ہیں، یعنی الف لام جنسی کہتے ہیں بھئی جس کے لیے جنس اور حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے یعنی آپ اس کی بات کرنا ‏چاہتے ہیں جنس اور حقیقت کی، او الحكاية عن معهود من افراد الجنس، یا غرض کیا ہو؟ حکایت کرنا عن معهود، عہد کا ‏معنیٰ ہے متعین، مقرر بھئی، عہد کا کیا معنیٰ؟ بھئی دیکھیے، ابھی گزرا الف لام کے قسمیں، ان میں آیا تھا ایک الف لام ‏عہدِ خارجی اور ایک آیا تھا الف لام عہدِ ذہنی، الف لام عہدِ خارجی کون سا الف لام ہے؟ جس کے لیے اشارہ کیا جائے ‏ایسے افراد کی طرف جو خارج میں متعین ہوں، مقرر ہوں کہ فلاں والے مراد ہیں۔ تو یہ ہے الف لام عہدِ خارجی، اور اگر ‏خارج میں متعین نہیں تو ذہن میں متعین ہے تو وہ الف لام عہدِ ذہنی ہے، ذہنی ہے۔ تو یہ عہدِ ذہنی، عہد، عہد کا معنیٰ ہے ‏مقرر ہونا، مقرر کرنا، عہدِ خارجی، عہد بمعنیٰ معہود کے ہوا، یعنی جو خارجی طور پر مقرر ہیں، متعین ہیں جن کی ‏طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، جیسے میں کہتا ہوں الرجل، الرجل کے ذریعے کیا کروں گا؟ میں کسی متعین رجل کی طرف ‏اشارہ کر رہا ہوں، تو دیکھو یہ متعین ہے، معہود ہے اور خارج میں متعین ہے، معہودِ خارجی ہے، اور تو یہ عہدِ خارجی ‏والا الف لام ہوا، کیونکہ عہد مصدر ہے بھئی، عہد کیا ہے؟ مصدر، اور آپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کبھی اسمِ فاعل کے ‏معنیٰ میں ہوتا ہے اور کبھی اسمِ مفعول کے معنیٰ میں ہوتا ہے بھئی۔ تو معنیٰ ہے او الحكاية عن معهود من افراد الجنس، یا جب متکلم کی غرض جو ہے وہ حکایت کرنا ہو عن معهود کسی متعین ‏کے بارے میں کسی متعین کے بارے میں من افراد الجنس اس جنس کے افراد میں سے۔ جب متکلم کی غرض کیا ہو؟ ‏حکایت کرنا یعنی بات کرنا کس کے بارے میں؟ عن معهود کسی متعین کے بارے میں من افراد الجنس اس جنس کے اگر ‏متکلم ایک جنس کے افراد میں سے کسی متعین فرد کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے تو وہ الف لام عہدِ خارجی لے کر ‏آئے گا۔ میں نے کہا الرجل، اب دیکھیے رجل، رجل جنس ہے، کوئی ایک آدمی، سمجھ میں آیا بھئی؟ رجل جنس ہے اور ‏اس کے ذریعے اس پر جب میں الف لام لے آتا ہوں، الرجل، تو میں کیا کر رہا ہوں دراصل اس الف لام کے ذریعے؟ خارج ‏میں کوئی متعین رجل ہے اس کی طرف اشارہ کر رہا ہوں، تو وہ جو خارج میں رجل ہے وہ ایک متعین فرد ہے اس جنس ‏کے افراد میں سے، وہ بھی تمام مردوں میں سے کیا ہے؟ ایک مرد ہے، تو وہ بھی اس جنس کے افراد میں سے ایک فرد ‏ہے، یہی معنیٰ ہے عن معهود من افراد الجنس، جب مقصد ہو حکایت کرنا کسی ایسے متعین کے بارے میں من افراد الجنس ‏جو اس جنس کے افراد میں سے، تو کسی اس جنس کے افراد میں سے کسی متعین کی حکایت کرنے کے لیے جو ہے ‏معرف باللام کو لایا جائے گا، وعهده، اور اس کا متعین ہونا بھئی اب بتلا رہے ہیں، آپ نے ہمیں کیا بتلایا؟ کہ الف لام جو ہے معرف باللام جس پر الف لام داخل ہوا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ معرف باللام کے بارے میں انہوں نے ‏دو قسمیں بیان کر دیں بھئی، ایک الف لام جنسی ہے اور یہ دوسرا اس کا ابھی نام انہوں نے ذکر نہیں کیا لیکن یہ کون سا ‏ہوا؟ الف لام عہدِ خارجی۔ الف لام عہدِ خارجی ہے، اس کا نام آگے چل کر وہ ذکر کریں گے لیکن ابھی سے تعریف انہوں ‏نے کر دی، تو دو قسمیں بیان کر دیں۔ ایک وہ الف لام جس کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہو؟ جنس کی طرف ہو۔ جنس ‏کی طرف ہو الف لام جنسی ہے، دوسرا وہ الف لام جس کے ذریعے اس جنس کے افراد میں سے کسی متعین فرد کی طرف ‏یا بعض متعین افراد کی طرف اشارہ ہو، وہ الف لام کون سا ہے؟ الف لام عہدِ خارجی ہے۔ اب متعین ہونا کس طرح ہوگا؟ یعنی آپ نے ہمیں یہ بتایا کہ الف لام عہدِ خارجی وہ ہے جس کے ذریعے خارج میں اس ‏جنس کے کسی متعین فرد کی طرف اشارہ کیا جائے۔ 'الرجل' بول کر ایک متعین مرد کی طرف اشارہ کیا گیا تو یہ متعین ‏ہونا کس طرح ہوگا؟ ہمیں کیسے پتہ چلے گا ایک چیز کیا ہے؟ متعین۔ کہتے ہیں بھئی متعین ہونے کا کی کئی صورتیں ‏ہیں۔ بعض اوقات ایک چیز کا ذکر آپ کے سامنے ایک دفعہ آ جائے تو پھر وہ متعین ہو جاتی ہے، جیسے کہ کل میں نے ‏مثال ذکر کی تھی۔ 'جاءنی رجل فاکرمت الرجل'۔ 'جاءنی رجل' میرے پاس ایک آدمی آیا، میں آپ کو ایک بات سنا رہا ہوں، ‏آپ اس موقع پر تو موجود نہیں تھے آپ کو میں وہ بات سنا رہا ہوں۔ تو اب آپ نے نہ اس آدمی کی شکل دیکھی ہے، نہ ‏صورت دیکھی ہے، نہ نام کا پتہ ہے، کسی چیز کا پتہ نہیں لیکن دیکھنا ایک دفعہ ذکر کے بعد وہ خود ہی متعین ہو جائے ‏گا، آپ بھی اس کو جان لیں گے۔ سب پہلے میں نے کیا کہا؟ 'جاءنی رجل امس' کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا 'فاکرمت ‏الرجل' تو میں نے اکرام کیا 'الرجل'۔ 'الرجل' کا کیا ترجمہ کریں گے؟ اس آدمی۔ میں نے اکرام کیا ایک آدمی کا یہ ترجمہ ‏نہیں کرنا، یہ غلط ترجمہ ہے۔ 'فاکرمت الرجل' الف لام کا ترجمہ، الف لام متعین کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ 'فاکرمت الرجل' ‏تو میں نے اکرام کیا، عزت کی اس آدمی کی، آپ سمجھ گئے یعنی اس آدمی سے کون سا آدمی مراد ہے؟ ہاں، جو جس کا ‏ابھی میں نے ذکر کیا، تو جب ایک دفعہ چیز ذکر ہو جائے وہ کیا ہو جاتی ہے؟ متعین ہو جاتی ہے۔ تو تعین کا ایک طریقہ ‏تو یہ ہے، ایک چیز کو پہلے ذکر کر دیا جائے تو وہ کیا ہو جاتی ہے؟ متعین ہو جاتی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کسی چیز کے متعین ہونے کی کہ وہ آپ کے پاس موجود ہے، آپ کے سامنے موجود ہے۔ جیسے ‏‏'یوم'، 'یوم'۔ 'یوم' کا کیا معنی عربی زبان میں؟ کوئی دن، کوئی دن۔ لیکن اسی پر اگر الف لام لے آئیں 'اليوم'۔ 'اليوم' کا کیا ‏ترجمہ کرتے ہیں آپ؟ آج بھئی، آج کا دن یعنی، تو 'آج' اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ بھئی الف لام کے ذریعے تو اشارہ ہوتا ‏ہے کسی متعین چیز کی طرف، تو یہ دن کی طرف کیسے اشارہ کر دیا؟ یہ متعین کیسے ہوا؟ کہتے ہیں بھئی یہ موجود ‏ہے، آپ کے سامنے حاضر ہے یہ دن اس وقت۔ آپ کیا، آپ کے سامنے یہ دن موجود، تو جب کوئی چیز موجود ہے تو بھی ‏وہ متعین ہوتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ آج کا دن تو موجود ہے، باقی کے دن تو اس وقت موجود نہیں، کچھ گزر ‏چکے ہیں، کچھ آنے والے ہیں ابھی، ہاں یہ دن موجود ہے تو لہٰذا یہ متعین ہوا، تو اس کی طرف اشارہ کر دیا 'اليوم' کے ‏ذریعے، یہ والا دن، کون سا؟ یہ جو موجود ہے یعنی جس کا پھر کیا ترجمہ کرتے ہیں؟ آج، آج۔ اور بعض اوقات ایک چیز متعین ہوتی ہے کہ سامع کو اس کا پتہ ہوتا ہے۔ ایک چیز کیسے متعین ہوتی ہے؟ سننے والا جو ‏ہے اس کو علم ہوتا ہے، پہلے سے اس کو پتہ ہوتا ہے تو اس صورت میں بھی الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ ‏کیا جا سکتا ہے، چاہے پہلے ذکر نہ ہوا ہو۔ لیکن پھر بھی سامع کو پہلے سے ہی پتہ ہے تو وہاں پر بھی الف لام کے ‏ذریعے اس کی طرف کیا کیا جا سکتا ہے؟ اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا متعین ہونے کی ‏کتنی صورتیں ذکر کر دیں؟ تین صورتیں، نمبر ایک کیا کہ ایک چیز کا پہلے ذکر، پہلے ذکر ہو چکا ہو تو وہ متعین ہو ‏جاتی ہے۔ دوسری صورت کہ وہ چیز خود کیا ہو؟ حاضر ہو اور موجود ہو تو بھی وہ متعین ہو جاتی ہے۔ تیسری صورت؟ ‏کہ سامع کو اس کے سامع اس کے بارے میں جانتا ہے پہلے سے اس کو علم ہے تو بھی وہ چیز کیا ہے؟ متعین ہے اور ‏اس کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کیا جا سکتا ہے، جیسے دیکھیے خود مثالیں بھی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ‏‏'وعهده اما بتقدم ذكره' اور اس چیز کا متعین ہونا جو ہے یا تو اس کا ذکر مقدم ہونے سے ہوگا کہ اس کا پہلے ذکر ہو چکا ‏ہوگا، 'نحو' مثال کے طور پر 'كما ارسلنا الى فرعون رسولا' اللہ فرماتے ہیں جیسے کہ ہم نے بھیجا فرعون کی طرف ‏‏'رسولا' ایک پیغمبر کو، رسول دیکھو نکرہ آیا، کیا آیا؟ نکرہ آیا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں جیسے ہم نے بھیجا فرعون کی ‏طرف ایک رسول کو 'فعصى فرعون الرسول' تو نافرمانی کی فرعون نے اس پیغمبر کی۔ تو پہلے رسول نکرہ آیا، آگے ‏دیکھیے 'الرسول' الف لام ذکر کیا گیا اس پر، تو اب کیا ترجمہ کریں گے؟ اس رسول، تو نافرمانی کی فرعون نے اس ‏پیغمبر کی، اس رسول کی، یہ اس کا ترجمہ کی، یہ یہ کس چیز کا ترجمہ ہے؟ الف لام کا، اس کے ذریعے اشارہ ہو رہا ‏ہے اور 'الرسول' یہ متعین ہو گیا، کیسے متعین ہوا؟ 'الرسول' کیونکہ پہلے ایک دفعہ 'رسولا' نکرہ اس کا ذکر ہو گیا تھا ‏اور جب چیز ایک دفعہ ذکر ہو جائے تو وہ کیا ہو جاتی ہے؟ متعین ہو جاتی ہے اور جب متعین ہو گئی تو الف لام کے ‏ذریعے اس کی طرف الف لام عہدِ خارجی کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرنا صحیح ہے، بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ‎'‎واِما بحضوره بذاته' یا 'وعهده' یہ مبتدا ہے، اور چیز کا متعین ہونا 'اما بتقدم ذكره' یا تو اس چیز کا ذکر مقدم ہونے کی وجہ ‏سے ہوگا 'واما بحضوره ذاته' یا اس چیز کا مقدم ہونا خود اپنی ذات کے اعتبار سے حاضر ہونے کی وجہ سے ہوگا کہ وہ ‏چیز خود اپنی ذات کے اعتبار سے حاضر ہے، 'نحو' مثال کے طور پر 'اليوم اكملت لكم دينكم'۔ یہ آیت نازل ہوئی حجتہ ‏الوداع کے موقع پر، تو اس موقع پر اللہ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی اور اس دین کے مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا، اللہ ‏فرما رہے ہیں 'اليوم اكملت لكم دينكم' آج اکملت میں نے مکمل کر دیا 'لكم' تمہارے لیے 'دينكم' تمہارے دین کو، آج میں نے ‏تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا یعنی اس کے سارے احکام نازل کر دیے گئے ہیں۔ قرآن مکمل ہوا بھئی، بات ‏سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اب دیکھیے مقامِ استشہاد ہے 'اليوم' آج کے دن، تو اس پر الف لام لایا گیا اور الف لام کے ‏ذریعے وہ جو دن حاضر تھا اس کی طرف اشارہ کیا گیا جو دن موجود تھا، جو دن موجود تھا اس کی طرف اشارہ کیا گیا ‏اور کس وجہ سے وہ دن متعین تھا؟ کیونکہ وہ خود حاضر تھا وہ دن موجود تھا اس وقت بھئی۔ ‎'‎واما بمعرفة السامع له' یا ایک چیز کا متعین ہونا جو ہے سامع کے اس کو جاننے کی وجہ سے ہوگا کہ سننے والا کیا ہے؟ ‏اس کو جانتا ہے، جیسے 'اذ يبايعونك تحت الشجرة'، 'اذ يبايعونك تحت الشجرة' اور جس وقت کے وہ بیعت کر رہے تھے ‏یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، جس وقت کے وہ بیعت کر رہے تھے آپ کی اے محمد 'تحت الشجرة' اس ‏درخت کے نیچے، اس درخت کے نیچے، یہ اس یہ کس کا ترجمہ کر رہا ہوں میں؟ الف لام 'الشجرة' پر جو الف لام آیا ‏کیونکہ اس کے ذریعے کسی متعین چیز کی طرف اشارہ ہو رہا ہے تو اس درخت کے نیچے، اب دیکھیے یہاں تو پیچھے ‏‏'شجرہ' کا کوئی ذکر نہیں آیا۔ پیچھے 'شجرة' لفظ نکرہ ذکر نہیں ہوا، پہلے نکرہ ذکر ہوتا تو پھر معرفہ آتا تو متعین ہوتا، ‏نیز جس وقت یہ آیت نازل ہوئی وہ درخت بھی سامنے حاضر نہیں ہے، وہ تو کہیں مکہ کے پاس درخت تھا اور حضور ‏علیہ السلام مدینہ میں یا کسی مقام پر ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو درخت بھی حاضر نہیں اس وقت، پھر یہاں کیسے متعین ‏ہوا کیسے اس کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کیا گیا؟ متعین کیسے ہوا وہ درخت؟ کیونکہ حضور علیہ السلام جو ‏سامع ہیں، جن سے خطاب کیا جا رہا ہے، جن سے بات کی جا رہی ہے وہ اس درخت کو جانتے ہیں۔ وہ کیا ہیں؟ بھئی اسی ‏درخت کے نیچے بیٹھ کر تو حضور علیہ السلام نے تمام صحابہ سے بیعت لی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب اسی درخت کے ‏ایک در متعین درخت کے نیچے بیعت لی ہے تو حضور علیہ السلام اور بیعت حضور علیہ السلام نے خود لی ہے تو یقیناً ‏آپ اس درخت کو جانتے ہیں کہ یہ فلاں درخت کے نیچے بھئی میں نے بیعت لی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں 'واما بمعرفة السامع له' سامع کو اس کو جاننے کی وجہ سے 'نحو اذ يبايعونك تحت الشجرة' جبکہ وہ بیعت کر ‏رہے تھے آپ کی اس درخت کے نیچے 'وتسمى العهدية' اور اس کو کیا کہتے ہیں الف لام؟ عہدی کہتے ہیں بھئی، الف لام ‏عہدی کہتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ اس کو کیا کہیں گے الف لام عہدِ خارجی کہیں گے۔ معلوم ہوا کسی چیز کے ‏متعین ہونے کی کتنی صورتیں انہوں نے ذکر کر دیں؟ تین صورتیں، پہلی صورت کہ ایک دفعہ اس چیز کا ذکر ہو جائے ‏اس سے بھی وہ کیا ہو جاتی ہے؟ متعین، دوسری صورت کہ وہ چیز خود حاضر ہو تو بھی کیا ہو جاتی ہے؟ متعین، ‏تیسری صورت کہ سامع کیا ہے اس کو جاننے والا ہو تو بھی وہ چیز متعین ہوگی۔ ‎'‎او الحكاية عن جميع افراد الجنس' یا معرف باللام کو لایا جاتا ہے جبکہ اس کے ذریعے غرض جو ہو 'الحكاية عن جميع ‏افراد الجنس' حکایت کرنا ہو جنس کے تمام افراد سے یعنی تمام افراد کے بارے میں بات کرنی ہے، یعنی یوں کہیں تمام ‏افراد کی طرف اشارہ کرنا ہے 'نحو' مثال کے طور پر 'ان الانسان لفي خسر' یقیناً تمام انسان البتہ خسارے میں ہیں۔ یہاں پر ‏الف لام جو آیا وہ کون سا الف لام؟ استغراقی، اور استغراقی کیوں لیا گیا الف لام؟ الف لام جنسی کیوں نہیں بنایا گیا یا عہدِ ‏خارجی کیوں نہیں بنایا گیا؟ وجہ اس کی میں نے ذکر کر دی تھی کہ الف لام استغراقی یہاں بنائیں گے تب ہی آگے جو ‏استثنیٰ ہے 'الا الذين امنوا وعملوا الصالحات' وہ استثنیٰ صحیح ہوگا۔ اگر اس کو الف لام استغراقی نہیں بناتے تو آگے 'الا' ‏کے بعد جو مستثنیٰ ہے اس کے بارے میں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ وہ متصل ہے یا منقطع، لیکن جب یہاں تمام انسان مراد ‏لے لیے گئے اور پھر ان میں سے بعض افراد کو نکال دیا گیا اس حکم سے یعنی خسارے والے حکم سے نکال دیا، کچھ ‏لوگ خسارے میں نہیں ہیں وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں، تو دیکھو ان کو خسارے کے ‏حکم سے نکال دیا گیا تو معلوم ہوا یہ مستثنیٰ کون سا ہے؟ مستثنیٰ متصل ہے متصل۔ 'وتسمى الاستغراقية' اور اس کو کیا ‏کہتے ہیں الف لام؟ استغراقی کہتے ہیں۔ ‎'‎وقد يراد بال' اور کبھی کبھار ارادہ کیا جاتا ہے 'ال' کے ذریعے یعنی الف لام کے ذریعے، کس کیا ارادہ کیا جاتا ہے؟ ‏‏'الاشارة الى الجنس' جنس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے 'في فرد ما' کسی فرد کے ضمن میں، کس کی طرف اشارہ کیا جاتا ‏ہے؟ کسی فرد کے ضمن میں جنس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، 'في فرد ما' فردن آیا نکرہ، یہ یاد رکھیے یہ ہے موصوف ‏اور یہ 'ما' اس کی صفت ہے۔ یہ 'ما' کیا ہے؟ اس کی صفت، تو بعض اوقات کلامِ عرب میں ایسا کیا جاتا ہے، نکرہ کی ‏صفت 'ما' لائی جاتی ہے 'في فرد ما' جیسے یہاں پر آیا تو یہ 'ما' کیا ہے فردن کی صفت۔ بھئی کیوں یہ کس لیے لایا جاتا ‏ہے؟ بھئی دیکھیے نکرہ کے اندر ابہام ہوتا ہے، 'فرد' کا کیا معنی؟ کوئی فرد، کوئی متعین مراد ہے؟ نہیں، نکرہ ہے غیر ‏متعین، 'فردن' کا کیا معنی ہوا؟ کوئی فرد، تو یہ 'فردن' ہے نکرہ اور آگے جو 'ما' آیا وہ بھی ہے نکرہ، تو یہ اس ماقبل کے ‏ابہام میں تاکید پیدا کر دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ تاکید پیدا کر دیتا ہے یا یوں کہیں جیسے بعضوں نے لکھا کہ اس کے ابہام کو ‏میں مزید مبالغہ پیدا کر دیتا ہے، کیا پیدا کر دیتا ہے؟ مزید مبالغہ پیدا کر دیتا ہے، 'فردن' کا معنی ہے کوئی فرد، کوئی فرد، ‏اور 'فرد ما' کا معنی ہے کوئی ایک فرد۔ کوئی اور مبالغہ کر دیا اسی کے اندر، کوئی ایک فرد بھئی، صورت سمجھ میں آ ‏گئی؟ تو جو تعبیر آپ اختیار کرنا چاہیں کہ بعض اوقات نکرہ کی صفت 'ما' لائی جاتی ہے اور نکرہ کے اندر ابہام ہوتا ‏ہے، یہ 'ما' بھی آگے نکرہ آیا اس کے اندر بھی ابہام ہے تو یہ اسی کے ابہام میں تاکید پیدا کر دیتا ہے، اسی کے ابہام کو ‏پکا کر دیتا ہے کہ اس کے اندر کیا ہے؟ ابہام ہے، 'في فرد ما' کسی فرد میں، کسی فرد میں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے ‏بھئی؟ کسی فرد، اسی میں تاکید پیدا کر رہا ہے۔ جی؟ نہیں 'ما' موصولہ نہیں ہے بھئی، 'ما' موصولہ نہیں 'ما' نفی کے لیے ‏بھی آتا ہے، 'ما' اسمِ موصول بھی آتا ہے، 'ما' نکرہ بھی آتا ہے تو یہ نکرہ ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ ‎'‎في فرد ما' انہوں نے کیا کہا؟ 'وقد يراد بال الاشارة الى الجنس في فرد ما' اور کبھی کبھار ارادہ کیا جاتا ہے الف لام کے ‏ذریعے اشارہ کرنے کا، کس کی طرف اشارہ کرنے کا ارادہ کیا جاتا ہے؟ جنس کی طرف، اس جنس کی طرف 'في فرد ما' ‏کسی فرد کے ضمن میں، یعنی اشارہ حقیقت کی طرف ہوتا ہے لیکن وہ حقیقت کسی فرد کے ضمن میں مراد ہوتی ہے، ‏کسی فرد کے ضمن میں مراد ہوتی ہے کیونکہ جو بھی فرد ہے اس وہ اسی حقیقت سے مرکب ہے، اسی حقیقت سے اس کی ‏حقیقت وہی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی دیکھیے، یہ علمائے بلاغت جو ہیں علمائے بلاغت، یہ الف لام کی تقسیم قسمیں تو وہی بناتے ہیں لیکن یہ کہتے ہیں ‏کہ یہ جو الف لام الف لام عہدِ ذہنی جو ہے، یہ الف لام عہدِ ذہنی جو ہے یہ کوئی الگ قسم نہیں ہے، یہ وہی الف لام جنسی ‏ہے۔ یہ کیا ہے؟ وہی الف لام جنسی ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہ علمائے بلاغت کیا کہتے ہیں؟ الف لام عہدِ ذہنی کوئی ‏الگ قسم نہیں ہے، یہ وہی الف لام جنسی ہے گو کل تین قسمیں ہیں، الف لام جنسی، الف لام استغراقی اور الف لام عہدِ ‏خارجی بھئی، عہدِ خارجی، جبکہ الف لام جنسی اور الف لام عہدِ ذہنی یہ ایک ہی چیز ہیں۔ ہاں اسی الف لام جنسی کے ‏ذریعے کبھی نفسِ جنس کی طرف اشارہ ہوگا، کس کی طرف؟ کہ نفسِ جنس کی طرف اشارہ ہوگا اور کبھی اشارہ ہوگا ‏جنس کی طرف کسی فرد کے ضمن میں۔ جنس کی طرف اشارہ ہوگا؟ کسی فرد کے ضمن میں، یعنی مثلاً جیسے میں نے ‏مثال ذکر کی تھی 'الرجل خير من المرأة'۔ 'الرجل' یہ الف لام کون سا؟ جنسی، اس کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ ‏جنسِ رجل کی طرف، جنسِ رجل کی طرف، تو دیکھو یہ الف لام جنسی ہے اور اشارہ ہے نفسِ جنس کی طرف، کسی فرد ‏کی طرف نہیں بلکہ نفسِ یعنی جنسِ رجل وہ اعلیٰ ہے اور افضل ہے جنسِ امراۃ سے، تو اشارہ کس کی طرف ہوا؟ نفسِ ‏جنس کی طرف اشارہ ہوا۔ اور اسی طرح دوسری مثال عہدِ ذہنی کی میں نے ذکر کی تھی 'اخاف ان ياكله الذئب' میں نے ‏بتلایا تھا 'الذئب' پر جو الف لام آیا وہ کون سا ہے؟ عہدِ ذہنی، بلاغت والے کہتے ہیں یہ بھی الف لام جنسی ہی ہے۔ اس کے ‏ذریعے بھی جنس کی طرف اشارہ ہے لیکن نفسِ جنس کی طرف نہیں اشارہ الف لام جنسی میں تو اشارہ کس کی طرف ‏تھا؟ نفسِ جنس کی طرف جنس ہی مراد تھی، یہاں جنس کی طرف اشارہ ہے کسی ایک غیر متعین فرد کے ضمن میں۔ ‏جنس کی طرف اشارہ ہے؟ تو وہاں دیکھو 'ان الانسان' 'الرجل خير من المرأة' وہاں ترجمہ کیا ہوا تھا؟ جنسِ رجل اعلیٰ ہے، ‏نفسِ جنس کی طرف اشارہ تھا، اور یہاں ترجمہ کیا کیا؟ 'اخاف ان ياكله الذئب' مجھے خوف ہے اس کو‏ کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ کوئی ایک بھیڑیا، کوئی بھیڑیا اس کو کھا جائے گا۔ یہ نہیں کہا گیا جن سے بھیڑیا اس کو کھا ‏جائے گی۔ مجھے یہ خوف ہے کہ اس کو جن سے بھیڑیا کھا جائے گی، یہ ترجمہ نہیں کیونکہ ہاں اشارہ تو جنس کی ‏طرف ہے لیکن جنس کس کے ضمن میں؟ کسی غیر متعین فرد کے ضمن میں، کیونکہ جنس کا تو ویسے وجود نہیں ہوتا۔ ‏جنس تو جب بھی خارج میں پائی جائے گی، کس کے ضمن میں ہوگی؟ فرد۔ حیوان ناطق انسان کی حقیقت ہے۔ اپ مجھے ‏کہیں دکھا سکتے ہیں حیوان ناطق حقیقت خارج میں ہو اور کوئی فرد نہ ہو؟ نہیں۔ ہر فرد کے ضمن میں یہ ضرور موجود ‏ہے۔ زید بھی کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ بكر بھی کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ خالد بھی کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ تو یہ حیوان ناطق کا الگ ‏اپنا کوئی وجود ہی نہیں، یہ جب بھی خارج میں پائی جائے گی، کس کے ضمن میں ہوگی؟ کسی فرد کے ضمن میں وہ ‏حقیقت پائی جائے گی، اس کا یعنی کوئی فرد ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں وہ کہتے ہیں بلاغت والے کہ یہ الف لام جنسی جو ہے اور الف لام عہد ذہنی جو ہیں، یہ دراصل وہی الف لام جنسی ‏ہی ہے بھئی۔ ہاں بس، الف لام جنسی اور عہد ذہنی میں صرف اتنا فرق، الف لام جنسی کے اندر اشارہ ہوتا ہے کس کی ‏طرف؟ نفس جنس کی طرف، اور الف لام عہد ذہنی میں بھی الف لام جنسی ہی ہے لیکن اشارہ نفس جنس کی طرف نہیں ‏بلکہ وہ جنس فی فرد ما، کسی فرد کے ضمن میں، یعنی کسی غیر متعین، آسان لفظوں میں یوں کہیے، اس جنس کے کسی ‏غیر متعین فرد کی طرف اشارہ ہوا، لیکن دراصل اشارہ اسی کی جنس کی طرف ہے۔ لیکن کس کے ضمن میں؟ کسی فرد ‏غیر متعین کے ضمن میں، بات سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ بہرحال، یہ تو ان کی تقریر تھی، میں نے آسان تقریر کی وہ اپ یاد ‏رکھیں بھئی کہ الف لام کی کتنی قسمیں بنا لیں؟ چار قسمیں۔ الف لام جنسی، اس کے لیے نفس جنس کی طرف اشارہ ہوتا ‏ہے، الف لام استغراقی، جس کے ذریعے تمام افراد کی طرف اشارہ ہوتا ہے، الف لام عہد خارجی، جس کے ذریعے کسی ‏خارج میں واقعہ کے اندر کوئی متعین جو ہے فرد یا افراد ہیں ان کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور الف لام عہد ذہنی، جس کے ‏ذریعے کسی فرد غیر متعین کی طرف اشارہ ہوتا ہے بھئی۔ نحو، نحو: وَلَقَدْ أَمُرُّ عَلَى اللَّئِيمِ يَسُبُّنِي، فَمَضَيْتُ ثُمَّتَ قُلْتُ لَا يَعْنِينِي۔ بھئی شعر کو اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ وَلَقَدْ أَمُرُّ، مر يمر ‏کے معنی ہوتے ہیں گزرنے کے۔ لئیم کہتے ہیں کمینہ اور گھٹیا، ادنیٰ۔ سب يسب کے معنی ہوتے ہیں گالیاں دینا۔ مضيت، ‏مضى يمضي کے معنی ہوتے ہیں گزر جانے کے۔ لا يعنيني، عنى یعنی کا معنی ہوتا ہے ارادہ کرنا، عنى یعنی کا کیا ‏معنی؟ ارادہ کرنا۔ لفظوں کا معنی سمجھ میں آگیا؟ وَلَقَدْ أَمُرُّ عَلَى اللَّئِيمِ يَسُبُّنِي، اور تحقیق میں گزرتا ہوں کسی ایسے کمینے پر جو مجھے گالیاں دیتا ہے، فَمَضَيْتُ تو میں گزر ‏جاتا ہوں، ثُمَّتَ قُلْتُ پھر میں کہتا ہوں، لَا يَعْنِينِي اس نے میرا ارادہ نہیں کیا۔ بھئی یہ آپ کی کتابوں میں فَمَضَيْتُ ثَمَّ ہے، ثَمَّ ‏نہیں بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے، ثُمَّتَ ہے یہ ثُمَّتَ، اور اس کو لکھا بھی غلط گیا بھئی، آخر میں آخر میں لمبی تا آئے ‏گی، ثُمَّتَ، ثا، میم مشدد، اور آگے تا لمبی والی، الف، با، تا، جو الف، با، تا یہ جو تا جیسے لمبی لکھتے ہیں اس طرح کی ‏لمبی تا لکھنی ہے، ثُمَّتَ۔ لکھ لیا بھئی؟ جیسے تمت لکھتے ہیں اسی طرح ثمّت بھی لکھیں گے بھئی، ثمّت۔ یاد رکھیے بھئی، یہ ثمّت لفظ ہے، ثمّت۔ اور یہ یاد رکھنا ‏یہ وہی ثمّ ہے، حروف عاطفہ آپ نے پڑھے ہیں یا نہیں نحو کے اندر؟ ان میں ایک ثمّ ہے، ثمّ، جو کس لیے آتا ہے؟ ثمّ آتا ‏ہے کس لیے؟ تراخی کے لیے، تراخی کے لیے، یا یوں کہیے تعقیب مع الفصل کے لیے۔ تو ثمّ آتا ہے، مثلاً آپ کہتے ہیں: ‏جاءني زيد ثمّ عمرو، میرے پاس زید آیا ثمّ عمرو پھر عمرو آیا، تو یہ ثمّ حرف عطف ہے۔ یہ وہی ثمّت ہے بھئی، ہاں البتہ ‏اس ثمّ کے آخر میں کبھی کلام عرب میں تا بڑھا دیتے ہیں اور پھر اس کو کیا پڑھتے ہیں؟ ثمّت، ثمّت بھئی، تو یہ وہی ثمّ ‏ہے۔ تو یہ حرف عطف ہے بھئی، ہاں البتہ فرق یہ کہ ثمّ جو تھا اس کے لیے مفرد کا عطف مفرد پر بھی کیا جا سکتا ہے ‏اور جملے کا عطف جملے پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ جاءني زيد ثمّ عمرو، یہ عمرو کا عطف کس پر کیا گیا؟ زید پر، کس ‏کے ذریعے؟ ثمّ کے ذریعے، تو دیکھو مفرد کا عطف مفرد پر کیا گیا۔ اور کبھی جملے کا عطف جملے پر ہوگا اس ثمّ کے ‏ذریعے، ضربت ثمّ اکرمت، ضربت ثمّ، ضربت فعل با فاعل یہ جملہ ہوا، اور اکرمت فعل با فاعل یہ بھی کیا؟ جملہ، تو ‏جملے کا عطف جملے پر، تو ثمّ جو ہے جو بغیر تا کے ہے اس کا اس کے ذریعے مفرد کا عطف مفرد پر بھی کیا جاتا ہے ‏اور جملے کا عطف جملے پر بھی کیا جاتا ہے، لیکن جب اس کے ساتھ تا مل جائے ثمّت، پھر اس کے ذریعے صرف ‏جملے کا عطف جملے پر کرنا جائز ہے، مفرد کا عطف مفرد پر کرنا یہ پھر جائز نہیں، تو یہاں بھی دیکھیے جملے کا ‏عطف جملے پر ہے، فَمَضَيْتُ یہ بھی جملہ، اور قُلْتُ یہ بھی کیا ہے؟ جملہ، تو اس قُلْتُ فعل با فاعل یہ جملہ جو ہے اس کا ‏عطف کیا گیا کس پر؟ مضيت جملے پر بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو شاعر کہتا ہے: وَلَقَدْ أَمُرُّ عَلَى اللَّئِيمِ يَسُبُّنِي، اور تحقیق میں گزرتا ہوں کسی ایسے کمینے پر جو مجھے گالیاں دیتا ہے، ‏فَمَضَيْتُ تو میں گزر جاتا ہوں، ثُمَّتَ قُلْتُ پھر میں کہتا ہوں، لَا يَعْنِينِي کہ اس نے میرا ارادہ نہیں کیا۔ بھئی شاعر دراصل اس ‏شعر کے اندر اپنے حلم اور اپنی بردباری اور اپنی برداشت کی تعریف کر رہا ہے کہ میں بڑا حلیم الطبع شخص ہوں، میں ‏بڑی برداشت کرنے والا آدمی ہوں، کتنی ہی کوئی کتنا ہی مجھے برا بھلا کہہ دے، میں اس کو برداشت کر لیتا ہوں، اس ‏کی پروا ہی نہیں کرتا بھئی، بڑا ہی حلیم الطبع انسان ہوں میں، تو اپنی قوتِ برداشت کی تعریف کر رہا ہے، اپنا کمال بیان ‏کر رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ چنانچہ کیا کہتا ہے؟ وَلَقَدْ أَمُرُّ عَلَى اللَّئِيمِ، اور جب میں کسی ایسے کمینے پر گزرتا ہوں، گھٹیا ‏شخص پر گزرتا ہوں، يَسُبُّنِي جو کیا کرتا ہے؟ مجھے گالیاں دے رہا ہوتا ہے، فَمَضَيْتُ تو میں خاموشی سے گزر جاتا ‏ہوں، ثُمَّتَ قُلْتُ پھر میں کہتا ہوں، یعنی آگے جا کر پھر میں اپنے آپ سے یا اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں، لَا يَعْنِينِي اس کا ‏یہ میرا ارادہ نہیں کر رہا تھا، اس نے میرا ارادہ، یہ مجھے نہیں گالیاں دے رہا تھا، یہ کسی اور کو دے رہا تھا۔ سمجھ میں ‏آیا بھئی؟ اتنا حلیم الطبع انسان ہوں، اتنا حلیم الطبع۔ شعر کا معنی سمجھ میں آگیا؟ اب دیکھیے مقامِ استشہاد ہے یہاں پر اللئيم، یہ اللئيم پر جو الف لام آیا، یہ الف لام عہدِ ذہنی ہے۔ الف لام عہدِ ذہنی، اور الف ‏لام عہدِ ذہنی اس کے ذریعے اس جنس کے کسی ایک فردِ غیر متعین کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا ‏تھا کہ الف لام عہدِ ذہنی جس لفظ پر داخل ہوتا ہے، لفظوں کے اعتبار سے وہ معرفہ بن جاتا ہے، لیکن معنی کے اعتبار ‏سے وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ لفظوں کے اعتبار سے معرفہ، لیکن معنی کے اعتبار سے نکرہ ہی رہتا ہے، اسی لیے أَن يَأْكُلَهُ ‏الذِّئْبُ، یہاں کیا ترجمہ کیا تھا؟ مجھے خوف ہے کہ ان کو کھا لے گا کوئی بھیڑیا، کوئی بھیڑیا، یہ دیکھا؟ یہ نکرہ والا تر، ‏ذئب کا کیا ترجمہ کرتے ہیں آپ؟ کوئی بھیڑیا، اور الذئب کا بھی کیا ترجمہ کیا؟ کوئی بھیڑیا، تو دیکھو معنی کے اعتبار ‏سے اسی طرح نکرہ رہتا ہے۔ یہاں پر بھی لئيم کا معنی ہے کوئی گھٹیا، کوئی کمینہ، اللئيم یہاں الف لام عہدِ ذہنی ہے، اس ‏کا بھی وہی معنی ہوگا کوئی گھٹیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جب میں گزرتا ہوں کسی گھٹیا شخص پر، کسی ادنیٰ شخص پر، ‏صورت سمجھ میں آگئی؟ اور دیکھیے بھئی، جب الف لام عہدِ ذہنی کسی لفظ پر آیا، تو وہ معنی کے اعتبار سے تو نکرہ ہے، لیکن لفظوں کے اعتبار ‏سے وہ معرفہ بن جاتا ہے۔ اللئيم لفظوں کے اعتبار سے کیا ہے؟ معرفہ، اور کوئی لفظ معرفہ ہو اس کی صفت معرفہ ہی ‏لائی جاتی ہے، کوئی صفت، کوئی لفظ نکرہ ہو تو اس کی صفت نکرہ آتی ہے، معرفہ کی صفت معرفہ آتی ہے اور نکرہ ‏کی صفت نکرہ آتی ہے، کس کو دیکھتے ہیں؟ لفظ کو دیکھتے ہیں، معنی کو نہیں دیکھتے، لفظ معرفہ ہے تو صفت بھی ‏معرفہ، لفظ نکرہ ہے تو صفت بھی نکرہ۔ لیکن بعض اوقات معنی کی بھی رعایت رکھ لی جاتی ہے، بعض اوقات معنی ہاں، ‏یہ بھی بعض اوقات معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے، تو یہاں پر اللئيم آیا اور یہ لفظوں کے اعتبار سے معرفہ اور اس کی ‏صفت کیا آنی چاہیے تھی؟ لفظوں کے اعتبار سے معرفہ اس کی صفت آنی چاہیے تھی، لیکن یہ معنی کے اعتبار سے ہے ‏نکرہ، کیونکہ اس کا کیا معنی؟ کوئی گھٹیا، تو معنی کی رعایت رکھتے ہوئے اس کی صفت نکرہ لائی گئی، میں نے آپ ‏کو ضابطہ بتایا تھا، نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ اس کی کیا بنتا ہے؟ صفت، تو اللئيم کے بھی معنی کی یہاں رعایت ‏رکھی گئی اور معنی کے اعتبار سے تو ہے یہ نکرہ، تو نکرہ کے بعد يَسُبُّ فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس ‏کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے ‏آتے ہیں، اسی لیے میں نے ترجمہ کیا: وَلَقَدْ أَمُرُّ عَلَى اللَّئِيمِ يَسُبُّنِي، اور جب میں گزرتا ہوں کسی ایسے کمینے پر، اور تحقیق ‏جب میں گزرتا ہوں کسی ایسے کمینے پر يَسُبُّنِي جو مجھے گالیاں دیتا ہے، فَمَضَيْتُ تو میں گزر جاتا ہوں، ثُمَّتَ قُلْتُ پھر ‏میں کہتا ہوں، لَا يَعْنِينِي اس نے میرا ارادہ نہیں کیا، یہ تو کسی اور کو گالیاں دے رہا تھا۔ شعر کا معنی سمجھ میں آگیا؟ تو ‏یہاں اللئيم لفظ ہے معرفہ، لیکن صفت لائی گئی يَسُبُّنِي کس کی رعایت کرتے ہوئے؟ معنی کی رعایت کرتے ہوئے، کیونکہ ‏معنی کے اعتبار سے اللئيم نکرہ ہی ہے۔ یہاں پر شاعر اپنی بردباری کی تعریف کر رہا ہے، اپنی برداشت کی تعریف کر رہا ہے، اگر اللئيم سے کوئی متعین کمینہ ‏مراد لیں، الف لام عہدِ خارجی لیں، تو پھر قوتِ برداشت معلوم ہوا زیادہ نہیں، کیونکہ پھر تو معنی یہ ہوگا کہ جب میں وہ ‏جو فلاں کمینہ ہے، میں اس پر گزرتا ہوں تو میں اس کی گالیاں برداشت کر لیتا ہوں، یہی معنی بنے گا شعر کا نا؟ معلوم ‏ہوا زیادہ قوتِ برداشت نہیں ہے، صرف اس کی گالیاں برداشت کر سکتا ہے، باقی کسی کی گالیاں برداشت نہیں، لہٰذا کس ‏کے اندر مبالغہ زیادہ؟ کہ اللئيم پر الف لام عہدِ خارجی لیں یا عہدِ ذہنی لیں؟ عہدِ ذہنی کے اندر مبالغہ زیادہ ہے کہ کسی بھی ‏کمینے پر میں گزروں اور وہ مجھے گالیاں دے تو میں اس کی پروا بھی نہیں کرتا بھئی۔ وَإِذَا وَقَعَ الْمُحَلَّى بِأَلْ خَبَرًا أَفَادَ الْقَصْرَ، اور جب واقع ہو معرف باللام خبر ہو کر أَفَادَ الْقَصْرَ تو وہ قصر کا فائدہ دیتا ہے۔ میں ‏نے آپ کو بتلایا تھا حصر، قصر اور تخصیص تینوں کا ایک معنی ہے۔ حصر، قصر اور تخصیص تینوں کا ایک معنی ‏ہے۔ تخصیص میں نے بیان کی تھی کسے کہتے ہیں؟ تخصیص کسے کہتے ہیں؟ کہ اگر مذکور کے لیے، جو ذکر چیز کی ‏گئی، اس کے لیے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقی سب سے اس کی نفی ہے۔ یہ کیا ہے؟ تخصیص، یا اگر مذکور سے ایک ‏چیز کی نفی کی جا رہی ہے تو باقی سب کے لیے کیا ہے؟ اثبات، یہ کیا ہے؟ تخصیص، جیسے دیکھیے بھئی قرآن میں کیا ‏آیا ہے؟ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، یہاں تخصیص ہے، آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، کیا معنی؟ جب ‏اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں، اللہ کے لیے عبادت کا اثبات کرتے ہیں تو باقی سب سے کیا کر دی؟ نفی، کہ معلوم ہوا کسی ‏اور کی ہم عبادت نہیں، یہ ہے تخصیص بھئی، کہ اگر مذکور کے لیے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقی سب سے کیا ہو؟ نفی ‏ہو، یہ ہے تخصیص، یا نفی کی صورت میں اگر مذکور سے ایک چیز کی نفی ہے تو باقی سب کے لیے کیا ہو؟ اثبات ہو، ‏یہ ہے تخصیص بھئی، تو یہاں آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی دیکھیے، جب معرف باللام خبر آ جائے تو وہ بھی ‏تخصیص پیدا کر دیتا ہے۔ دیکھیے، زيد ضارب، زید ہے مبتدا، ضارب ہے اس کی خبر، ترجمہ کیا ہوا؟ زید پٹائی کرنے والا ہے، زيد ضارب، زید ‏پٹائی کرنے والا ہے۔ اب سوال پیدا ہوا کہ عمرو بھی پٹائی کرنے والا ہے یا نہیں؟ بكر بھی ہے یا نہیں؟ یا خالد بھی ہے یا ‏نہیں؟ اس کا کوئی ذکر نہیں اس جملے کے اندر، کیونکہ اس میں صرف اتنا بتایا گیا، زید ہے پٹائی کرنے والا، باقی کوئی ‏ہے یا نہیں اس کو چھیڑا ہی نہیں گیا، لیکن اگر اسی خبر کو بھی معرفہ لایا جائے اور یوں کہا جائے: زيد الضارب، کیا کہا ‏جائے؟ زيد الضارب، اب الضارب خبر بھی معرفہ آ گئی اور خبر معرفہ آئے تو انہوں نے آپ کو بتلا دیا: وَإِذَا وَقَعَ الْمُحَلَّى ‏بِأَلْ خَبَرًا، کہ جب معرف باللام کیا واقع ہو؟ خبر، أَفَادَ الْقَصْرَ، وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ قصر کا، تو اب زيد الضارب، ‏کیا ترجمہ کریں گے؟ زید ہی پٹائی کرنے والا ہے، تخصیص آ گئی۔ اب بتائیے عمرو اور بكر پٹائی کرنے والے ہیں یا ‏نہیں ہیں؟ اب نہیں ہیں، کیونکہ تخصیص آ گئی، زید ہی پٹائی کرنے والا ہے، تو زید کے لیے جب ضارب ہونے کا وصف ‏ثابت ہے تو باقیوں سے اس کی نفی ہے، کیونکہ یہاں تخصیص ہے بھئی، اور تخصیص اسی کو کہتے ہیں کہ ایک مذکور ‏کے لیے ایک چیز کا اثبات ہے تو باقیوں سے نفی، اور اگر مذکور سے ایک چیز کی نفی ہے تو باقیوں کے لیے اثبات ہو۔ ‏بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے وَإِذَا وَقَعَ الْمُحَلَّى بِأَلْ خَبَرًا أَفَادَ الْقَصْرَ، اور جب معرف باللام جو ہے وہ خبر ہو کر واقع ہو، یعنی خبر معرف ‏باللام آ جائے، أَفَادَ الْقَصْرَ، تو وہ قصر کا فائدہ دے گی، قصر، حصر اور تخصیص تینوں کا ایک معنی ہے بھئی، نحو مثال ‏کے طور پر: وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ، هو مبتدا معرفہ، کیونکہ ضمیر معرفہ ہے، الغفور خبر بھی معرفہ آ گئی۔ کیا ترجمہ کریں ‏گے؟ وہی بخشنے والا ہے، تخصیص آ گئی، معلوم ہوا اور کوئی بخشنے والا نہیں، الودود معرفہ آ گئی خبر، کیا معنی؟ ‏وہی محبت کرنے والا ہے، یعنی اللہ کی محبت اتنی کامل درجے کی ہے کہ اس کی محبت کے سامنے کسی اور کی محبت، ‏محبت کہلانے کے لائق بھی نہیں، وہی محبت کرنے والا ہے، یعنی اس کے سامنے گویا کوئی اور محبت کرنے والا ہے ‏ہی نہیں، اللہ اتنی محبت کرتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ، اور وہی بخشنے والا ہے، وہی محبت ‏کرنے والا ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام . ‏