سبق نمبر۔42 واما العلم فيؤتى به لإحضار معناه في ذهن السامع باسمه الخاص نحو وإذ يرفع إبراهيم القواعد من البيت وإسماعيل، وقد يقصد به مع ذلك أغراض أخرى كالتعظيم في نحو ركب سيف الدولة. گزشتہ سبق میں ہم نے چوتھا باب شروع کیا تھا تعریف اور تنکیر کے بیان میں۔ یعنی کس مقام پر معرفہ لایا جائے گا، معرفہ لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں اور کس مقام پر نکرہ لایا جائے گا، نکرہ کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں۔ تو صاحب کتاب نے اپ کو بتلایا تھا کہ جب متکلم کا مقصد یہ ہو کہ وہ مخاطب کو یہ بات بتلانا چاہتا ہے کہ کلام کا تعلق کسی معین ذات، کسی معین چیز کے ساتھ ہے تو یہ تعریف کا مقام ہے، اس مقام پر معرفہ لایا جائے اور جب متکلم کی یہ غرض نہ ہو تو وہ تنکیر کا مقام ہے، وہاں نکرہ لایا جائے۔ اور پھر انہوں نے اپ کو معرفہ کی اقسام بتلائی تھیں کہ ضمیر ہے، علم ہے، اسم اشارہ ہے، اسم موصول ہے، معرف باللام ہے، ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف جو ہے وہ بھی معرفہ ہے اور اسی طرح منادیٰ۔ اب ان میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ نکات بیان کرنا شروع کیے تھے، سب سے پہلے ضمیر کا بیان شروع کیا کیونکہ ضمیر جو ہے وہ باقی ان سب سے زیادہ اس میں تعریف ہوتی ہے۔ یاد رکھیے یہ جو معرفہ ہیں ان میں تعریف برابر درجے کی نہیں، بعض میں تعریف زیادہ ہوتی ہے اور بعض میں تعریف دوسروں کے مقابلے میں کم ہے بھئی۔ تو سب سے زیادہ تعریف ان میں سے ضمیر کے اندر ہے بھئی، ضمیر کے اندر۔ سب سے زیادہ تعریف کس کے اندر ہے؟ ضمیر کے اندر ہے بھئی اور پھر ضمیریں بھی تین قسم کی ہیں: مخاطب کی ہے، متکلم کی ہے اور غائب کی ہے۔ ان میں بھی سب سے زیادہ تعریف پھر متکلم کی ضمیر میں ہے بھئی کیونکہ معرفہ کسے کہتے ہیں جس کی انسان کو پہچان ہو، جو متعین ہو۔ اور سب سے زیادہ پہچان انسان کو اپنی ہوتی ہے تو لہذا متکلم کی ضمیر میں سب سے زیادہ تعریف ہے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھیے علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف تمام الفاظ میں سے سب سے زیادہ تعریف لفظ اللہ کے اندر ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چنانچہ امام سیبویہ بھئی جن کی بات علم نحو کے اندر پہاڑ کی طرح مضبوط سمجھی جاتی ہے، ان کو وفات کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا ان سے کہ اپ کے ساتھ اللہ تعالی نے کیا معاملہ فرمایا؟ تو فرمانے لگے کہ اللہ تعالی نے میری مغفرت فرما دی، پوچھا کس بات پر؟ تو فرمانے لگے اس بات پر کہ میں اس بات کا قائل تھا کہ علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف کس کے اندر ہے؟ لفظ اللہ کے اندر ہے بھئی۔ اور سب سے زیادہ تنکیر جو ہے، سب سے زیادہ عموم جو ہے وہ لفظ شیء کے اندر ہے بھئی۔ تو علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف لفظ اللہ میں اور علی الاطلاق سب سے زیادہ تنکیر جو ہے وہ کس کے اندر ہے؟ لفظ شیء کے اندر ہے۔ تو لہذا چونکہ یہ جو معرفہ ذکر ہوئے ان میں سب سے زیادہ تعریف ضمیر کے اندر تھی اس لیے سب سے پہلے اس کو ذکر کیا اور بتلایا کہ ضمیر کو کیوں لایا جاتا ہے کیونکہ وہ مقام جو ہے تکلم کا یا خطاب کا یا غیبت کا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ اختصار بھی مطلوب ہوتا ہے اور اختصار تو ظاہر سی بات ہے ضمیر ہی کے استعمال کی صورت میں ہوگا، کوئی دوسرا اسم وغیرہ استعمال کریں گے تو اتنا اختصار نہیں ہوگا بھئی۔ اس کے بعد انہوں نے اپ کو یہ بات بتلائی تھی کہ اصل تو خطاب کے اندر یہ ہے کہ کسی مشاہد اور معین کے ساتھ ہو، مشاہد ہو جو سامنے ہو اور معین ہو یعنی متعین ہو، اس کے ساتھ خطاب کیا جاتا ہے لیکن کبھی کبھار غیر مشاہد کو بھی مشاہد کے درجے میں اتار کر اس کے ساتھ خطاب کر لیا جاتا ہے کس وجہ سے؟ حضور قلبی کی وجہ سے کہ وہ ذہن کے اندر وہ حاضر ہے، موجود ہے بھئی جیسے ایاک نعبد۔ اور اسی طرح خطاب میں اصل تو یہ ہے کہ وہ کسی معین کو ہونا چاہیے لیکن کبھی کبھار غیر معین کو بھی خطاب کر لیا جاتا ہے جب ارادہ کیا ہو اپنے خطاب کو عام کرنے مقصود ہو بھئی، ہر اس شخص سے جس کے اندر مخاطب بننے کی صلاحیت ہے بھئی۔ واما العلم، اج علم لانے کے فائدے اور اس کے نکات ذکر کریں گے کہ بعض اوقات مسند الیہ کو کس صورت میں مثلاً لایا جاتا ہے؟ مسند الیہ ہے یا مسند ہے یا ان کا جو ان کے جو متعلقات ہیں ان کو معرفہ لایا جاتا ہے اور معرفہ میں سے بھی کس صورت کے اندر لایا جاتا ہے؟ علم کی صورت میں لایا جاتا ہے، اس کے لانے میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں وہ بیان کر رہے ہیں۔ تو ذکر کر رہے ہیں دیکھیے بھئی کتاب میں: واما العلم فیؤتی به لإحضار معناه فی ذہن السامع باسمہ الخاص، اور باقی علم جو ہے تو اس کو لایا جاتا ہے کہ اس کے معنیٰ کو حاضر کیا جائے سننے والے کے ذہن میں اس کے خاص نام کے ساتھ۔ کبھی کبھار مسند الیہ ہے مثلاً مسند الیہ کو کس صورت میں لایا جاتا ہے؟ علم کی صورت میں لایا جاتا ہے، کس وجہ سے؟ کیونکہ متکلم کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کے ذہن میں اس مسند الیہ کو اس کے خاص نام کے ساتھ حاضر کرے، خاص نام کے ساتھ۔ مثلاً زید بطور مثال کے بھئی علم ہے، نام ہے۔ اب زید کے بارے میں اپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں مثلاً کہ وہ کھڑا ہے، اپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: هو قائم، هو قائم، لیکن هو تو عام ہے، زید کے ساتھ خاص نہیں، ہر غائب کے لیے هو کی ضمیر استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح اپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: هذا یا ذلك قائم، اشارہ کس کی طرف ہے؟ زید کی طرف ہے لیکن هذا کے ساتھ تو ہر قریب والی چیز کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے، ذلك کے ذریعے تو ہر دور والی چیز کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے، اپ الذی کے ذریعے بھی اس کو ذکر کر سکتے ہیں لیکن الذی کے ساتھ تو ہر ہر ایک کو کیا جا سکتا ہے اس کو ذکر کیا جا سکتا ہے، تو یہ اس طرح تو باقی جو معرفہ ہیں وہ خاص نہیں لیکن علم جو ہوتا ہے وہ خاص ہوتا ہے۔ مثلاً ایک بچہ پیدا ہوا اس کے والدین نے اس کا نام زید رکھا ہے تو اب جو بھی جب بھی اپ کے سامنے لفظ زید ذکر ہوتا ہے تو وہ اپ کا مخصوص ساتھی ہی اپ کے ذہن میں اتا ہے، کسی دوسرے کا تصور نہیں اتا۔ تو باقی معرفہ جو ہیں وہ خاص نہیں، متعین نہیں کسی ایک کے ساتھ، ہر ایک کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ہاں جب استعمال ہوگا تو کسی معین ہی میں ہوگا، هو کے ذریعے ہر غائب کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے لیکن جب استعمال کیا جائے گا تو کوئی ایک متعین اس سے مراد ہوگا، هذا کے ذریعے ہر مشار الیہ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے لیکن جب استعمال ہوگا تو کسی متعین کے اندر ہوگا، الذی کے ذریعے ہر ایک کا ارادہ کیا جا سکتا ہے کسی مذکر کا لیکن جب استعمال ہوگا تو کسی ایک متعین کے اندر استعمال ہوگا، تو باقی معرفہ جو ہیں وہ عام ہیں، وہ کیا ہیں؟ عام، ہر ایک کے لیے استعمال ہو سلفظوں پر توجہ ہے نہ میرے؟ استعمال ہر ایک کے لیے ہو سکتے ہیں لیکن ہوں گے ایک وقت میں ایک کے لیے یا بعض معین ہوں گے، بعض معین ہی کے لیے بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ لیکن علم جو ہے وہ تو متعین ایک متعین ذات پر ہی دلالت کرتا ہے، اور ذاتوں پر دلالت نہیں کرتا، زید بولیں گے تو زید ہی اپ کے ذہن میں ائے گا، خالد بولیں گے تو خالد ہی اپ کے ذہن میں ائے گا، بکر کہیں گے تو بکر جو اپ کا ساتھی ہے مثلاً وہی اپ کے ذہن میں ائے گا، کوئی تیسرا ساتھی نہیں ائے گا۔ تو لہذا علم کو لایا جاتا ہے کبھی مسند الیہ کو علم کی صورت میں لایا جاتا ہے، میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ صرف یہ مسند الیہ تو ویسے مثال کے طور پر ذکر کر رہا ہوں، چاہے مسند ہو، چاہے مسند الیہ ہو یا ان کے متعلقات ہوں، سب کا یہی حکم ہے بھئی، ان سب کے لانے میں یہی نکات ہو سکتے ہیں۔ جیسے یہاں پر مثلاً مسند الیہ کی مثال میں ذکر کر رہا تھا کہ اپ مسند الیہ کو کس صورت میں لاتے ہیں؟ علم کی صورت میں لاتے ہیں یعنی نام کے ساتھ اس کو ذکر کرتے ہیں، کیوں ذکر کرتے ہیں؟ کیونکہ اپ چاہتے ہیں کہ مخاطب کے ذہن میں اس مسند الیہ کو حاضر کروں اس کے خاص نام کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ اس کے خاص نام کے ساتھ اپ حاضر کرنا چاہتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں اگئی؟ تو کہتے ہیں: واما العلم فیؤتی به لإحضار معناه فی ذہن السامع باسمہ الخاص، اور باقی علم جو ہے تو اس کو لایا جاتا ہے کہ اس کے معنیٰ کو حاضر کیا جائے سننے والے کے ذہن میں اس کے خاص نام کے ساتھ یعنی جس میں اور شرکت وغیرہ نہیں، اور کسی پر وہ لفظ نہیں بولا جاتا علم بلکہ اسی ذات پر بولا جاتا ہے، نحو مثال کے طور پر: وإذ يرفع إبراهيم القواعد من البيت وإسماعيل، اور یاد کیجیے وہ وقت جس وقت کہ بلند کر رہے تھے ابراہیم بیت اللہ کی بنیادوں کو واسماعیل اور اسماعیل علیہما الصلاة والسلام۔ تو یاد کیجیے اے پیغمبر اس وقت کو جس وقت کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جو ہے بیت اللہ کی بنیادوں کو بلند کر رہے تھے یعنی ان کو تعمیر کر رہے تھے۔ تو یہاں پر ابراہیم، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو باقاعدہ نام کے ساتھ ذکر کیا گیا، اسماعیل علیہ السلام ان کو باقاعدہ ان کے نام کے ساتھ، علم کی صورت میں مسند الیہ کو ذکر کیا گیا حالانکہ یہاں پر ضمیر وغیرہ اور چیزیں بھی ذکر ہو سکتی تھیں لیکن ان کو باقاعدہ نام کے ساتھ ذکر کیا گیا کس لیے؟ تاکہ ان کی تاکہ ان کو ان کے خاص نام کے ساتھ سننے والوں کے ذہن میں حاضر کیا جائے بھئی، بات سمجھ میں اگئی؟ اور پھر یہ بھی یاد رکھیے، جو علم ہوتا ہے نا علم، کسی کا نام، یہ اس شخص کے سارے مشخصات پر دلالت کرتا ہے، کس پر؟ مشخصات، مشخصات کہتے ہیں کسی شخص کو، کسی فرد کو ممتاز کر دینے والی صفات۔ مثلاً زید ہے اپ کا ایک ساتھی، زید، جیسے ہی میں نے زید کہا اپ کے ذہن میں اپ کے اس ساتھی کا تصور اگیا اور ساتھ ہی اس کے وہ سارے نمایاں اوصاف بھی اگئے جو اس کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ مثلاً وہ اس طرح کے مخصوص طرح کے کپڑے پہنتا ہے اگر وہ مخصوص کپڑے پہنتا ہے، اس کے اگر مخصوص بال ہیں وہ بھی فوراً اپ کے ذہن میں ا جائیں گے، اگر وہ بہت زیادہ سخی ہے وہ سخاوت بھی اپ کے ذہن میں فوراً ا جائے گی۔ یہ ان سب چیزوں پر دلالت کس نے کی؟ علم نے کی، کس نے؟ علم نے، کیونکہ علم جو ہے وہ کسی صرف اس متعین ذات کے پر نہیں دلالت کرتا بلکہ سارے اس کے مشخصات جو اس کو مشخصات کا کیا معنیٰ؟ اس کے امتیازی اوصاف جو ہیں، نمایاں اوصاف جو ہیں ان سب پر بھی دلالت کرتا ہے بھئی۔ تو چنانچہ یہاں پر جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر کیا گیا باقاعدہ نام کے ساتھ تو ان کے مشخصات بھی ذہن میں اگئے کہ دونوں کون ہیں؟ اللہ کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں اور دونوں باپ بیٹا ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام والد ہیں تو حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کے بیٹے ہیں اور اسی طرح یہ دونوں سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے اباء میں سے ہیں بھئی، کس میں سے ہیں ان کے؟ اباء میں سے ہیں تو یہ سارے اوصاف بھی ساتھ ملحوظ ہو گئے بھئی، بات سمجھ میں اگئی؟ تو کہتے ہیں جی کہ علم جو ہے اس کو لایا جاتا ہے کہ اس کو مسند الیہ کو حاضر کیا جائے سننے والے کے ذہن میں اس کے خاص نام کے ساتھ، وقد يقصد به مع ذلك أغراض أخرى، اور کبھی ارادہ کیا جاتا ہے اس کے ساتھ اور غرضوں کا بھی۔ اس یعنی خاص نام کے ساتھ حاضر کر دینے کے علاوہ اور غرضوں کا بھی ارادہ کیا جاتا ہے، یہ غرض بھی مقصود ہوتی ہے اور ساتھ اور غرض بھی ہوتی ہے علم لانے کی، علم لانے کی بنیادی وجہ تو کیا؟ کہ اس کے خاص نام کے ساتھ اس کو سامع کے ذہن میں حاضر کیا جائے اور تاکہ اس کے سارے مشخصات کیا ہیں وہ بھی ذہن کے اندر ا جائیں بھئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس غرض کے ساتھ ساتھ بعض اوقات اور غرضیں بھی مل جاتی ہیں تو علم کی صورت میں مسند الیہ وغیرہ کو لایا جاتا ہے بھئی، بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے: وقد يقصد به مع ذلك أغراض أخرى، اور کبھی کبھار ارادہ کیا جاتا ہے اس غرض کے ساتھ ساتھ أغراض أخرى اور غرضوں کا بھی، كالتعظيم، جیسے کہ تعظیم ہے، فی نحو: ركب سيف الدولة، جیسے اس مثال کے اندر ہے تعظیم کے لیے ہے، کس میں؟ ركب سيف الدولة، سیف الدولة سوار ہوا۔ سیف الدولة سوار ہوا۔ اب یہاں سیف الدولة اس کو علم کی صورت میں مسند الیہ کو ذکر کیا گیا، ضمیر کی صورت میں نہیں، صرف ركب کہہ دیا جاتا تو اس کے اندر بھی هو ضمیر سیف الدولة کو راجع ہوتی یا اس کو ذلك کے ساتھ ذکر کر دیا جاتا یا اس میں موصول کے ساتھ اس کو ذکر کر دیا جاتا: ركب الذي هو أمير المملكة یا اس طرح اور بھی کسی صورت میں ذکر کیا جا سکتا تھا لیکن یہاں کتنے کس صورت میں ذکر کیا گیا مسند الیہ کو؟ علم کی صورت میں، کیا مقصد تھا؟ ایک تو یہ تاکہ اسے اس کے خاص نام کے ساتھ سامع کے ذہن میں حاضر کیا جائے اور نیز تعظیم کے لیے، کس لیے؟ تعظیم کے لیے اس لیے کیونکہ یہ نام عظمت پر دلالت کر رہا ہے کیونکہ سیف الدولة، سیف کہتے ہیں تلوار کو، الدولة کہتے ہیں حکومت اور مملکت کو، تو سیف الدولة کا معنیٰ ہوا مملکت کی تلوار، حکومت کی تلوار، سلطنت کی تلوار بھئی یعنی وہ اتنا عظیم ادمی ہے کہ سلطنت کے لیے تلوار کی حیثیت رکھتا ہے یعنی سلطنت کا محافظ ہے، اگر مملکت کی طرف کوئی میلی انکھ سے دیکھنے کی جرات کرتا ہے تو یہ اس کو ختم کر دیتا ہے بھئی، بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو یہ سیف الدولة کا کیا معنیٰ ہوا؟ مملکت کی تلوار یعنی وہ مملکت کا محافظ ہے بھئی، تو دیکھیے یہ تعظیم والا معنیٰ تھا تو اس لیے اس میں چونکہ تا اس نام کے اندر عظمت والا معنیٰ تھا تو اس لیے اس کو یہاں پر مسند الیہ کو کس صورت میں ذکر کیا گیا؟ علم کی صورت میں ذکر کیا گیا بھئی، بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو کبھی کبھار وہ غرض تعظیم ہوگی جیسے فی نحو: ركب سيف الدولة اس کے اندر ہے، والإهانة، اور کبھی کبھار جو ہے وہ دوسری غرض اہانت ہوگی اس یعنی پہلے معنیٰ کا عکس، کبھی کبھار مسند الیہ کو علم کی صورت میں ذکر کریں گے کس لیے؟ تعظیم کے لیے اور کبھی کبھار مسند الیہ کو علم کی صورت میں ذکر کریں گے کس لیے؟ اہانت کے لیے بھئی، اہانت کے لیے یوں کہیے بے عزتی کرنے کے لیے، تحقیر کے لیے اور ذلیل کرنے کے لیے، فی نحو جیسے اس مثال کے اندر ہے: ذهب صخر، اب صخر ایک ادمی کا نام ہے، صخر چلا گیا۔ اور صخر عربی زبان میں کہتے ہیں چٹان کو، سخت پتھر کو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صخر کہتے ہیں، تو ذهب صخر، صخر چلا گیا، یہاں پر اب مسند الیہ کو نام کے ساتھ صخر کی صورت میں ذکر کیا گیا حالانکہ ضمیر کی صورت میں بھی ذکر ہو سکتا تھا، اسم اشارہ، اسم موصول یا معرف باللام وغیرہ کی صورت میں بھی ذکر ہو سکتا تھا لیکن علم کی صورت میں ذکر کیا گیا کس لیے؟ اہانت کے لیے بھئی، اہانت کے لیے، اس کیونکہ اس نام کے اندر اہانت والا معنیٰ پایا جا رہا ہے، جب اپ نے کہا ذهب صخر، صخر چلا گیا اور صخر تو کسے کہتے ہیں؟ چٹان اور سخت پتھر کو کہتے ہیں تو گویا اپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ بڑا سخت ادمی جو بڑا ضدی اور سرکش ہے اور ہٹ دھرم ہے وہ چلا گیا بھئی، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ یہاں کس لیے لایا گیا صخر لفظ کو؟ مسند الیہ کو علم کی صورت میں کیوں ذکر کیا گیا؟ اہانت کے لیے کیونکہ اس کے اندر اہانت والا معنیٰ ہے بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سخت پتھر ہے بھئی یعنی بڑا ضدی ہے، بڑا سرکش ہے، بڑا بڑے سخت اخلاق والا ہے، تو صخر کی صورت، علم کی صورت میں ذکر کیا گیا۔ یاد رکھیے یہ جو تعظیم اور اہانت ہے اور اسی طرح جو اگلا نقطہ آ رہا ہے، اس میں وضع اول کا لحاظ ہوتا ہے۔ بھئی ایک ہے وضع اول، ایک ہے وضع ثانی۔ وضع جانتے ہیں یا نہیں؟ وضع کرنا، کیا معنی؟ مقرر کرنا، وضع کا کیا معنی؟ مقرر کرنا۔ بھئی دیکھیے یہ جتنی زبانیں ہیں، ان میں جب کوئی لفظ بولا جاتا ہے، اس لفظ کا وہ معنی ذہن میں آ جاتا ہے، کیونکہ اس لفظ کو اس معنی کے لیے مقرر کیا گیا ہوتا ہے۔ مثلاً کتاب، یہ جو میرے سامنے ہے، اس کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ جسے میں پڑھ رہا ہوں، اسے کیا کہتے ہیں؟ کتاب۔ بھئی یہ اردو زبان میں لفظ کتاب کو اس چیز کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے، لہٰذا جیسے ہی کتاب کہیں، اس کا ذہن میں تصور آ جاتا ہے۔ اسی طرح لکھنے کا جو آلہ ہے، جس چیز کے لیے لکھا جاتا ہے، اس کو اردو زبان میں کیا کہتے ہیں؟ قلم کہتے ہیں۔ تو دیکھو قلم کے لفظ کو مقرر کر دیا گیا ہے اس معنی کے لیے، لہٰذا جب بھی قلم بولتے ہیں، وہی آلہ آپ کے ذہن میں آتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا جیسے لفظ زید ہے، بچہ پیدا ہوتا ہے، ماں باپ اس کا نام زید رکھ دیتے ہیں، تو گویا انہوں نے اس لفظ زید کو اس ذات کے لیے، اس بچے کے لیے متعین کر دیا، یہ ہے وضع۔ یہ کیا ہے؟ وضع۔ تو اب جب بھی زید کا لفظ بولا جائے گا، یہی بچہ جو ہے، یہ ذہن میں آئے گا، کوئی اور دوسرا ذہن میں نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو اعلام ہوتے ہیں، ان میں عموماً وضع ثانی ہوتی ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ وضع ثانی۔ یعنی پہلے تو وہ لفظ کسی اور معنی کے لیے وضع تھا، بعد میں اس شخص کے نام کے طور پر وضع کر دیا گیا، یعنی پہلے تو یہ لفظ کسی اور معنی کے لیے مقرر تھا، اب اس شخص کے لیے، اس کی ذات کے لیے مقرر کر دیا گیا۔ جیسے دیکھیے بھئی، عبداللہ، عبد کا معنی ہے عربی زبان میں غلام اور بندہ، اور لفظ اللہ، وہ ذات باری تعالیٰ کے لیے علم ہے بھئی۔ تو عبداللہ، عربی زبان کے اعتبار سے اس کا ترجمہ کریں تو معنی بنتا ہے اللہ کا بندہ۔ کیا معنی ہے؟ اللہ کا بندہ۔ لیکن ایک بچہ پیدا ہوا، اب اس کے والدین نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا بھئی، عبداللہ رکھ دیا۔ تو دیکھیے، اب جب عبداللہ کہا جائے گا، تو آپ کے ذہن میں اللہ کا بندہ، یہ معنی نہیں آئے گا، بلکہ وہ شخص آپ کے ذہن میں آئے گا۔ حالانکہ اگر یہ معنی ذہن میں آتا، اللہ کا بندہ، پھر تو یہ ساتھی بھی آپ کا اللہ کا بندہ، دوسرا بھی اللہ کا بندہ، تیسرا بھی اللہ کا بندہ، یہ تو سب پر الصادق آ رہا ہے، لیکن جب لفظ عبداللہ بولا جاتا ہے، تو کون آپ کے ذہن میں آتا ہے؟ وہ متعین ساتھی آپ کے ذہن میں آتا ہے، تو دیکھیے یہ ہے وضع ثانی۔ وضع اول، عبد کا لفظ کس لیے وضع تھا؟ غلام کے لیے، اور لفظ اللہ ذات باری تعالیٰ کے لیے علم ہے، لیکن وضع ثانی کے اندر اس سارے مجموعے کو، عبداللہ، اس مرکب کو اٹھا کر کیا کر دیا گیا؟ نام رکھ دیا گیا، تو یہ وضع ثانی ہے، یعنی دوسری مرتبہ اس کو مقرر کیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح دیکھیے سیف الدولہ، سیف تو عربی زبان میں تلوار کو کہتے ہیں، الدولۃ مملکت اور حکومت کو کہتے ہیں، لیکن پھر بعد میں ایک بادشاہ کا نام اور لقب کے، لقب ہوا، یعنی نام ہی کی طرح ہو گیا، اور اب سیف الدولہ کہا جائے تو اس معنی کی طرف ذہن نہیں جاتا، بلکہ کیا ذہن میں آتا ہے؟ فوراً اس بادشاہ کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے۔ صخر، صخر عربی زبان میں پتھر اور چٹان کو کہتے ہیں، لیکن جب ایک آدمی کا نام رکھ دیا گیا جسے آپ جانتے ہیں، تو اب جب بھی صخر بولیں گے، آپ کے ذہن میں اس آدمی کا تصور فوراً آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اعلام میں عموماً کیا ہوتی ہے؟ وضع ثانی۔ اولاً وہ لفظ کسی اور معنی کے لیے مقرر تھا، پھر اس شخص کے لیے مقرر کر لیا گیا، تو یہ ہے وضع ثانی۔ تو یاد رکھیے یہ جو تعظیم اور اہانت وغیرہ کا جو معنی ہے، یہ وضع اول کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ کس اعتبار سے؟ وضع اول کے اعتبار سے ہے، وضع ثانی کے اعتبار سے نہیں۔ وضع ثانی کے اعتبار سے تو سیف الدولہ اس کا نام ہے۔ سیف الدولہ کا مملکت کی تلوار؟ نہیں نہیں، وضع ثانی کے اندر یہ اس کا معنی نہیں، اب تو سیف الدولہ اس آدمی کا باقاعدہ کیا ہے؟ نام ہے۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن اس وضع اول کی طرف نظر کریں تو اس نام کے اندر عظمت والا معنی ہے۔ وضع ثانی کے اعتبار سے نہیں، وضع ثانی کے اعتبار سے تو کیا ہے یہ؟ نام ہے، اب نام کی طرح ہو گیا ہے، لیکن وضع اول کے اعتبار سے اس میں تعظیم والا معنی پایا جاتا ہے۔ تو اس اعتبار سے تعظیم پر یہ دلالت کر رہا ہے۔ تو لہٰذا جب مسند الیہ کو علم کی صورت میں لایا جائے، مسند الیہ کو کبھی علم کی صورت میں لایا جاتا ہے، کس لیے؟ کیونکہ وہ تعظیم پر دلالت کر رہا ہوتا ہے، اور تعظیم پر یہ دلالت وضع ثانی کے اعتبار سے ہوتی ہے یا وضع اول کے اعتبار سے ہوتی ہے؟ وضع اول کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ اسی طرح کہا گیا "ذھب صخرٌ"، صخر چلا گیا، اور یہ کس لیے ذکر کیا گیا مسند الیہ کو علم کی صورت میں؟ اہانت کے لیے، اور اہانت کس معنی کے اعتبار سے، کس وضع کے اعتبار سے؟ وضع ثانی کے اعتبار سے یا وضع اول کے اعتبار سے؟ وضع اول کے اعتبار سے ہے بھئی، کیونکہ وضع ثانی کے اعتبار سے تو وہ صرف نام ہے اور کوئی معنی نہیں اس کا، اس شخص پر دلالت کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو تعظیم اور اہانت والا معنی ہے، یہ کس اعتبار سے ہو گا؟ وضع اول کے اعتبار سے۔ تو یہ اب ضروری نہیں کہ ہر نام کے اندر تعظیم اور اہانت والا معنی ہو گا، ہاں بعض ناموں میں کیا ہو گا؟ تعظیم والا معنی ہو گا، تو آپ بھی بطور تعظیم کے علم کو ذکر کر دیتے ہیں اس معنی کی رعایت رکھتے ہوئے، تو یہ اب علم جو آپ لے کر آئے، یہ اب تعظیم پر بھی دلالت کر رہا ہے، اور بعض اوقات کوئی نام ایسا ہو گا جس میں اہانت والا معنی ہو گا، تو اب آپ مسند الیہ کو علم کی صورت میں لاتے ہیں، کس لیے؟ مقصد کیا ہوتا ہے؟ اہانت کے طور، کس مقصد کے لیے؟ اہانت کے طور پر آپ اس کو ذکر کرتے ہیں، اور یہ تعظیم اور اہانت کس معنی کے اعتبار سے ہوتی ہے؟ معنی اول کے اعتبار سے ہوتی ہے، معنی ثانی کے اعتبار سے نہیں ہوتی بھئی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے دو مثالیں ذکر کر دیں، "کالتَّعْظِیْمِ"، جیسے کہ تعظیم ہے "فِیْ نَحْوِ رَکِبَ سَیْفُ الدَّوْلَۃِ"، سوار ہوا سیف الدولہ، "وَالْإِھَانَۃِ فِیْ نَحْوِ ذَھَبَ صَخْرٌ"، اور اہانت ہے جیسے کہ اس مثال میں "ذھب صخرٌ"۔ تو یہاں ان ناموں میں تعظیم والا معنی تھا، اس لیے ان کو تعظیم کے طور پر متکلم نے ذکر کر دیا، تعظیم کے طور پر، اور دوسرے کو اہانت کے طور پر۔ میں اس سے بہتر مثال ذکر کرتا ہوں بھئی آپ کے لیے: "جَاءَ مُحَمَّدٌ" "وَھَرَبَ اَبُوْ جَھْلٍ"۔ "جاء محمد"، یہ ہے تعظیم کی مثال، اور "ہرب ابو جہل"، یہ ہے اہانت کی مثال۔ "جاء محمد"، اب یہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم کی صورت میں ذکر کیا گیا، یہاں اور بھی طریقے ہو سکتے تھے، ضمیر یا اسم اشارہ یا اسم موصول وغیرہ کی صورت میں، لیکن علم کی صورت میں ذکر کیا گیا، کس لیے؟ تعظیم کے طور پر، اس لیے کیونکہ لفظ محمد جو ہے، وضع اول کے اعتبار سے اس میں تعظیم والا معنی ہے۔ محمد بھئی، ظرف کا صیغہ ہے، تمام حمدوں کے جمع ہونے کی جگہ۔ محمد، کیا معنی؟ حمدوں کے جمع ہونے کی جگہ۔ تو اس نام میں بھی تعظیم والا، وضع اول کے اعتبار سے تعظیم ہے، کہ یہ، یعنی یہ شخص ایسا ہے، یہ ذات ایسی ہے جس میں تمام اوصاف حمد جمع ہیں، جس میں کیا ہیں؟ تمام اوصاف حمد جمع ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اور اہانت کی مثال جیسے میں نے ذکر کی، "ہرب ابو جہل"، بھاگ گیا جہالت والا۔ اب ابو جہل یہ تو نام کی طرح ہو گیا، لیکن معنی اول کے اعتبار سے اس میں اہانت والا معنی ہے بھئی۔ ابو جہل کا کیا معنی؟ جہالت والا، جہالت والا۔ بھئی دیکھیے، عربی میں کہتے ہیں ابو الخیر، اس کا یہ معنی نہیں خیر کا باپ، بلکہ معنی کیا ہے؟ خیر والا۔ اسی طرح ابو الشر کہتے ہیں، یعنی شر والا۔ اسی طرح ابوالحرب کہتے ہیں، حرب جنگ بھئی، ابوالحرب، جنگوں والا۔ تو دیکھو یہ اب کا لفظ آتا ہے کس لیے؟ نسبت بیان کرنے کے لیے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ابوالخیر، ابوالحرب، ابو الشر، یہ مثالیں میں نے ذکر کر دیں۔ ابوالخیر کا کیا معنی؟ خیر والا۔ ابو الشر کا کیا معنی؟ شر والا۔ اور اسی طرح ابو جہل کا کیا معنی؟ جہالت والا بھئی، جہالت والا۔ تو ابو جہل، اب تو علم ہے، ایک معین شخص پر دلالت کر رہا ہے، لیکن معنی اول کے اعتبار سے دیکھیں تو ابو جہل کا عربی زبان میں کیا ترجمہ بنتا ہے؟ جہالت والا، اس اعتبار سے اس میں اہانت والا معنی ہے، تو اس لیے یہاں پر بھی مسند الیہ کو علم کی صورت میں ذکر کیا گیا، اہانت کے کا ارادہ کرتے ہوئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وَالْکِنَایَۃِ عَنْ مَّعْنًی یَّصْلُحُ اللَّفْظُ لَہُ"، اور کنایہ کرنا ایسے معنی سے کہ لفظ اس کی صلاحیت رکھتا ہو، "نَحْوُ"، مثال کے طور پر، "تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ"۔ تبّت، ٹوٹ گئے، یدا، یہ تثنیہ ہے، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، اصل میں تھا یدانِ، پھر نون اضافت سے گر گیا۔ ٹوٹ گئے دونوں ہاتھ ابو لہب کے، وتبّ، اور وہ خود بھی ٹوٹ گیا، ہلاک ہوا بھئی۔ تو یہ عربی زبان میں بطور بددعا کے یہ کلام استعمال ہوتا ہے، ٹوٹ گئے، "تبت یدا ابی لہب"، یعنی ہلاک ہو جائیں دونوں ہاتھ ابو لہب کے، وتبّ، اور وہ خود بھی ہلاک ہو جائے۔ تو دیکھیے یہاں پر "تبت یدا ابی لہب"، ہلاک ہو جائیں دونوں ہاتھ ابو لہب کے، یہاں ابو لہب کے ذریعے کنایہ کیا گیا جہنمی ہونے سے، گویا یوں کہا گیا، ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ جہنمی کے، ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ جہنمی کے بھئی، جہنمی کے۔ تو یہ ابو لہب کے ذریعے کنایہ کیا گیا جہنمی ہونے سے، اور یہ لفظ اس معنی کی صلاحیت رکھتا ہے بھئی، یہ لفظ اس معنی کی... دیکھیے یہی بات بیان کر رہے ہیں: "وَالْکِنَایَۃِ عَنْ مَّعْنًی"، اور کنایہ کرنا، یعنی کسی کبھی کبھار مسند الیہ کو علم کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے، کس لیے؟ مقصد کیا ہوتا ہے؟ کہ اس کے ذریعے کنایہ کیا جاتا ہے ایک ایسے معنی سے، "یَّصْلُحُ اللَّفْظُ لَہُ"، کہ لفظ بھی اس کی صلاحیت رکھتا ہو بھئی، یعنی لفظ میں بھی اس کی صلاحیت ہو کہ وہ کنایہ کیا جا سکے اس سے۔ بھئی سب سے پہلے تو کنایہ سمجھ لیں، میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، پھر ذکر کر دیتا ہوں۔ کنایہ کہتے ہیں ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ کنایہ کسے کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ مثلاً زید لمبے قد والا ہے، زید لمبے قد والا ہے۔ اب اس بات کو میں آپ کے سامنے واضح لفظوں میں کہوں تو یوں کہوں گا جیسے ابھی ذکر کیا، کہ زید لمبے قد والا ہے، اور اسی بات کو اگر میں کنایہ کے رنگ میں مثلاً کرنا چاہتا ہوں، تو میں کہتا ہوں کہ مثلاً زید لمبی قمیص والا ہے، زید لمبی قمیص والا ہے، یا میں یوں کہتا ہوں، زید لمبی حمائل والا ہے۔ حمائل جانتے ہیں یا نہیں؟ پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں، کہ جیسے آج کل آپ دیکھتے ہیں بندوق کو چمڑے کے ساتھ باندھ کر کاندھے سے لٹکایا جاتا ہے، اسی طرح قدیم زمانے میں تلوار کو بھی چمڑے کے ساتھ باندھ کر کاندھے سے لٹکایا جاتا تھا، اور اس چمڑے کو کیا کہتے تھے؟ حمائل کہتے تھے، حمائل کہتے تھے، اور یہ ظاہر سی بات ہے جس آدمی کا قد چھوٹا ہو گا، اس کی حمائل بھی چھوٹی ہو گی، اور جس کا قد لمبا ہو گا، اس کی حمائل بھی لمبی ہو گی۔ اسی طرح جس آدمی کا قد چھوٹا ہو گا، اس کی قمیص بھی چھوٹی ہو گی، اور جس آدمی کا قد لمبا ہو گا، اس کی قمیص بھی لمبی ہو گی۔ اب میں آپ کو کہنا یہ چاہتا ہوں کہ زید لمبے قد والا ہے، اور کہتا کیا ہوں آپ سے؟ جملہ کیا ذکر کرتا ہوں؟ زید لمبی قمیص والا ہے۔ اب لمبی قمیص بتانا نہیں مقصد میرا، بلکہ میں دراصل کیا کہنا چاہ رہا ہوں آپ سے؟ زید لمبے قد والا ہے۔ لفظ تو میں نے لمبی قمیص والے ذکر کیے، لیکن ارادہ کس کا ہے؟ لمبے قد کا، کیونکہ لمبی قمیص کے ساتھ لمبا قد لازم ہے۔ قمیص اسی کی لمبی ہو گی جس کا قد کیا ہو گا؟ لمبا ہو گا، تو لمبی قمیص کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے۔ یا اسی بات کو میں آپ کے سامنے، کون سی بات؟ کہنا کیا چاہتا ہوں آپ سے؟ زید لمبے قد والا ہے، کہنا یہ چاہتا ہوں، اور جملہ کیا بولتا ہوں میں؟ زید لمبی حمائل والا ہے، زید لمبی... تو دیکھیے میں نے ذکر تو حمائل کا کیا، لیکن ارادہ کس کا ہے؟ قد کے لمبا ہونے کو بیان کرنا، اس لیے کیونکہ حمائل جو ہے، لمبی حمائل کے ساتھ لازم ہے قد کا لمبا ہونا، تو ملزوم بول کر میں کس کا ارادہ کر رہا ہوں؟ لازم کا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ میں ذکر کیا کر رہا ہوں؟ زید لمبی قمیص والا ہے، لیکن ارادہ کیا؟ بتلانا کیا چاہتا ہوں آپ کو؟ کہ زید لمبے قد والا ہے بھئی، اور میں کہتا ہوں، زید لمبی حمائل والا ہے، بتلانا کیا چاہتا ہوں دراصل آپ کو میں؟ کہ زید لمبے قد والا ہے۔ تو ایک تو تھا صراحتًہ میں کہتا ہوں، سیدھے لفظوں میں کہتا ہوں، زید لمبے قد والا ہے، یا یوں کہتا ہوں، زید کا قد لمبا ہے۔ لیکن اسی بات کو اگر میں کنائے کے رنگ میں ذکر کروں گا تو یوں کہوں گا، زید لمبی حمائل والا ہے، یا یوں کہوں گا، زید لمبی قمیص والا ہے۔ اب میں قمیص کے لمبا ہونے کا ذکر کروں، یہ میرا ارادہ نہیں، بلکہ ارادہ دراصل وہی ہے کہ زید کا قد لمبا ہے۔ اور یا میں کہتا ہوں زید لمبی حمائل والا ہے، یہ میں حمائل لمبا ہونے کے بارے میں آپ کو نہیں بتانا چاہتا، بلکہ مقصد میرا وہی ہے کہ زید کا قد لمبا ہے، اس کو کہتے ہیں کنایہ، ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، کیونکہ لمبی قمیص کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے، لمبی حمائل کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم، تو ملزوم بول کر، لازم کا ارادہ کرنا، اسے کیا کہتے ہیں؟ کنایہ کہتے ہیں۔ تو دیکھیے میں نے ذکر کیا کیا؟ لمبی قمیص، اور ارادہ کس کا ہے؟ لمبے قد کا۔ تو دیکھو قمیص کا لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ بھئی قمیص تو اس کپڑے کا نام ہے جو سلا ہوتا ہے اور آپ اسے پہنتے ہیں بھئی، لیکن میں وہ کپڑا مراد نہیں لے رہا، بلکہ قمیص کے لفظ سے کیا ارادہ ہے میرا؟ قد کا ارادہ ہے، اسی طرح حمائل، حمائل تو اس چمڑے کا نام ہے جس سے تلوار لٹکائی جاتی ہے، لیکن میں وہ چمڑا مراد نہیں لے رہا، بلکہ میرا ارادہ کس کا ہے؟ قد کا ہے، تو لفظ کو اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال نہیں کر رہا بلکہ غیر موضوع لہ میں استعمال کر رہا ہوں، یعنی جس، جس معنی کے لیے لفظ وضع تھا، قمیص کا لفظ کس لیے وضع تھا؟ وہ جو کپڑا آپ پہنتے ہیں، سلا ہوا کپڑا جو آپ پہنتے ہیں، تو قمیص کا لفظ تو اس کے لیے وضع ہے، قمیص بولتے ہی وہ ذہن میں آتا ہے، تو وہ ہوا معنی موضوع لہ، لیکن میں کس کا ارادہ کر رہا ہوں؟ میں قد کا ارادہ کر رہا ہوں، تو یہ معنی کیا ہوا؟ غیر موضوع لہ، قمیص کا یہ، قد تو معنی نہیں ہے، لیکن میں اس کا یہ معنی مراد لے رہا ہوں۔ اسی طرح حمائل، اس کا معنی موضوع لہ کیا ہے؟ اردو میں یہ کس معنی کے لیے یہ لفظ مقرر کیا گیا ہے؟ وہ، وہ جو چمڑا ہوتا ہے تلوار لٹکانے کا، وہ چمڑا اس کا معنی حقیقی ہوا، کیا ہوا؟ اور تو میں نے جب آپ سے کہا، زید لمبی قمیص والا ہے، تو قمیص بول کر قمیص ہی مراد ہے یا لمبا قد مراد ہے؟ لمبا قد، تو لفظ کو میں نے اپنے معنی حقیقی میں استعمال کیا یا دوسرے معنی میں استعمال کیا؟ دوسرے، تو یوں کہیں گے اس کو، کہ لفظ کو اپنے معنی موضوع لہ میں نہیں استعمال کیا بلکہ کس میں استعمال کیا؟ غیر موضوع لہ میں، ایسے معنی کے لیے لفظ کو استعمال کر لیا جس کے لیے وہ مقرر نہیں، جس کے لیے وہ وضع نہیں، اور اسی طرح جب میں نے کہا، زید لمبی حمائل والا ہے، اب لفظ تو میں نے حمائل کا استعمال کیا، لیکن کیا اسی معنی کے لیے جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا یا دوسرے معنی کے لیے؟ دوسرے معنی کے لیے، تو گویا لفظ کو میں نے استعمال کیا معنی غیر موضوع لہ میں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کنایہ کی کیا تعریف کی؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ یعنی تو اس کے اندر بھی لفظ اپنے معنی غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک اسی طرح ایک استعارہ بھی ہوتا ہے، استعارہ۔ یہ اس کی تفصیل بھی آگے علمِ بیان کے اندر آ جائے گی۔ استعارہ اس میں بھی لفظ اپنے معنی غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً بھئی آپ کا ایک ساتھی کمرے کے اندر آیا اور وہ بڑا بہادر ہے، تو میں کہتا ہوں: شیر آ گیا۔ میں نے کیا کہا؟ شیر آ گیا۔ اب بھئی شیر کا لفظ تو اردو زبان میں وہ جنگلی درندے کے لیے وضع ہے، اس کے لیے مقرر ہے، لیکن میں نے کس کا ارادہ کیا؟ بہادر آدمی کے معنی کا ارادہ کیا۔ حالانکہ شیر کا لفظ تو اس معنی کے لیے وضع نہیں، اس معنی کے لیے مقرر نہیں، تو میں شیر کا لفظ بول کر معنی موضوع لہُ کا ارادہ کر رہا ہوں یا غیر موضوع لہُ کا ارادہ؟ غیر موضوع لہُ کا ارادہ کر رہا ہوں۔ تو استعارہ کے اندر بھی معنی غیر موضوع لہُ کا ارادہ ہوتا ہے، کنایہ کے اندر بھی معنی غیر موضوع لہُ کا ارادہ ہوتا ہے۔ پھر ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ فرق بھی میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ فرق یہ کہ استعارہ کے اندر معنی حقیقی یعنی معنی موضوع لہُ جو ہے اس کا ارادہ صحیح نہیں ہوتا، جبکہ کنایہ کے اندر معنی حقیقی یا یوں کہیے معنی موضوع لہُ کا ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے۔ استعارہ کے اندر؟ معنی استعارہ کہہ لیں یا مجاز کہہ لیں، تو مجاز کے اندر معنی موضوع لہُ کا ارادہ صحیح نہیں ہوتا۔ بھئی دیکھیے آپ کا وہ ساتھی آیا تھا اور بہادر تھا، تو میں نے کیا کہا؟ شیر آ گیا۔ اب یہاں پر شیر کا کیا معنی کیا؟ بہادر آدمی، تو یہ معنی غیر موضوع لہُ ہے، اس کا ارادہ کیا۔ تو یہ استعارہ ہے، یہ مجاز ہے۔ لیکن یہاں پر معنی حقیقی کا ارادہ صحیح نہیں۔ شیر آ گیا۔ اس کا معنی اب یہ کوئی کرے جنگلی درندہ آ گیا، یہ معنی یہاں پر درست بنتے ہی نہیں ہیں کیونکہ آیا انسان ہے یا وہ جنگلی درندہ آیا ہے؟ انسان آیا ہے، تو یہاں وہ جنگلی درندے والا معنی مراد لینا صحیح بنتا ہی نہیں ہے۔ تو یہ فرق ہوا کہ مجاز اور استعارہ جو ہوتا ہے اس کے اندر معنی حقیقی کا ارادہ درست بنتا ہی نہیں ہے، جبکہ کنایہ کے اندر معنی حقیقی یا معنی موضوع لہُ کا ارادہ بھی درست ہوتا ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا تھا کہ زید لمبی قمیص والا ہے، اور ارادہ کس کا؟ لمبے قد والا ہے۔ تو قمیص بول کر قد کا ارادہ کیا۔ لیکن قمیص کا ہی میں ارادہ کروں تو بھی یہ کلام صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ زید لمبی قمیص والا ہے، یہ معنی بھی صحیح۔ اور میں نے کہا تھا زید لمبی حمائل والا ہے، حمائل بول کر کس کا ارادہ کیا؟ قد کا ارادہ کیا میں نے۔ لیکن یہی پر اگر میں حمائل سے حمائل کا ارادہ کروں، تو وہ معنی بھی صحیح بن جائے گا کہ زید کیا ہے؟ لمبی حمائل والا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ارادہ کرتا نہیں ہوں کیونکہ اگر ارادہ حمائل بول کر حمائل ہی کا ارادہ کروں پھر تو یہ کنایہ رہا ہی نہیں، یہ تو پھر اپنے معنی حقیقی میں اور معنی موضوع لہُ میں ہی استعمال ہو گیا۔ حالانکہ کنایہ کسے کہتے ہیں؟ معنی غیر موضوع لہُ میں لفظ کو استعمال کرنا ہے، یعنی ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ کہ کنایہ کنایہ کے اندر بھی لفظ معنی غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے، مجاز اور استعارہ کے اندر بھی لفظ کیا ہے؟ اپنے معنی غیر موضوع لہُ میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن فرق یہ کہ کنایہ کے اندر اگر اسی مقام پر جہاں آپ نے کس کس طریقے سے لفظ کو استعمال کیا ہے؟ کنایہ کے طریقے پر، اسی مقام پر اگر اسی جملے کا معنی حقیقی بھی مراد لینا چاہیں وہ معنی بھی صحیح بنتا ہو گا، جبکہ مجاز اور استعارہ کے اندر اسی مقام پر جہاں پر آپ نے اس کو لفظ کو غیر موضوع لہُ میں استعمال کیا ہے اسی مقام پر اگر آپ معنی موضوع لہُ کا ارادہ کرنا چاہیں تو وہ معنی صحیح نہیں بنتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بات اچھی طرح سمجھ میں آئی کہ نہیں بھئی؟ یہ تفصیل پہلے بھی ذکر ہو چکی تھی، پھر میں نے تفصیل سے ذکر کر دیا۔ تو یہاں پر بھی دیکھیے بھئی، کنایہ کیا گیا ابو لہب سے۔ ابو لہب سے، کس چیز سے کنایہ کیا گیا؟ جہنمی ہونے کا۔ ابو لہب ابو لہب، کیا معنی؟ ابھی میں نے بتایا ابو الخیر کا کیا معنی؟ خیر والا۔ ابو الشر کا کیا معنی؟ شر والا۔ اسی طرح ابو لہب ہے۔ لہب کہتے ہیں آگ کے شعلے کو، تو ابو لہب کا کیا معنی؟ ابو لہب کا کیا معنی ہوا؟ آگ کے شعلوں والا۔ ابو لہب کا کیا معنی ہوا؟ آگ کے شعلوں والا، یعنی ابو الخیر کا کیا معنی تھا؟ خیر والا، یعنی خیر کے ساتھ رہنے والا ہمیشہ، خیر کے ساتھ لازم رہنے والا۔ ابو الشر کا کیا معنی تھا؟ شر والا، یعنی شر کے ساتھ لازم رہنے والا، ہر وقت شر ہی کے ساتھ رہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ابو الحرب کا کیا معنی؟ جنگوں جنگوں والا، یعنی جنگوں کے ساتھ لازم رہنے والا۔ تو یہاں پر بھی ابو لہب کا کیا معنی؟ شعلوں والا، یعنی شعلوں کے ساتھ لازم رہنے والا۔ شعلوں کے ساتھ لازم رہنے والا۔ ابو لہب کا معنی ہوا شعلوں کے ساتھ لازم رہنے والا، تو اس کے ذریعے کنایہ کیا گیا جہنمی ہونے سے۔ کیونکہ جہنمی بھی کیا ہیں؟ شعلوں اور آگ کے ساتھ لازم رہنے والے ہیں جہنم میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ابو لہب اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف دینے میں سب سے پیش پیش رہتے تھے۔ آپ مجمعے کے اندر تقاریر تقریر فرماتے، ان کو دعوت دیتے، توحید کی طرف بلاتے، یہ آپ کو پتھر مار کر لہو لہان کر دیتا اور اور آپ کو تنگ کرنے میں، تکلیف دینے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے بھئی۔ اور چنانچہ بھئی بہت تکلیف دی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور پھر آخر میں ان کا انجام بھی بڑا برا ہوا بھئی۔ سردار لوگوں میں سے تھے یہ، لیکن آخر میں ایسا دانہ وغیرہ ان کو نکلا کہ اس بیماری کے خوف سے کہ کہیں ہمیں نہ لگ جائے، سارے اولاد نے، بیٹوں اور رشتہ داروں نے ان کو ایک الگ جگہ ڈال دیا کہ کسی کو بیماری نہ لگ جائے ان کی اور پھر وہیں پر یہ مر گئے اور پھر کوئی ان کے قریب نہیں جاتا تھا دفنانے کے لیے بھی کہ کہیں ہمیں وہ بیماری نہ لگ جائے اور پھر بدبو جب لاش سے شروع ہو گئی تو حبشی غلاموں کے لیے ان کی لاش کو ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا اور لاٹھی وغیرہ سے انہوں نے کھینچ کر ڈال دیا اس میں اور پھر اوپر پتھر وغیرہ ڈال دیے، تو یہ دنیا کے اندر عبرتناک انجام ہوا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے کی وجہ سے اور آخرت کی سخت ترین سزائیں تو الگ ہیں بھئی۔ تو چنانچہ بھئی اس علماء لکھتے ہیں بھئی کہ نام انسان کو اچھا رکھنا چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نام انسان کو اچھا رکھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی، آپ نے چار چچے پائے اس وقت، چار چچا زندہ تھے۔ دو کے نام اسلامی تھے، وہ اسلام لے آئے؛ دو کے نام غیر اسلامی تھے، وہ اسلام نہیں لائے۔ ابو طالب بھی زندہ تھے لیکن ان کا نام عبدِ مناف تھا اور مناف بت کا نام تھا، عبدِ مناف کا کیا معنی؟ بت کا بندہ، مناف بت کا بندہ، مناف بت کا غلام، اور یہ ابو لہب بھی ان کا نام عبد العزیٰ تھا، عزیٰ بھی بت کا یعنی بت کا غلام۔ تو اور ایک چچا عباس زندہ تھے اور ایک حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما، تو دو چچے تھے ان کے نام غیر اسلامی تھے، وہ کفریہ نام تھے تو وہ کفر پر ان کی موت ہوئی اور دو کے نام اسلامی تھے تو وہ اسلام لے آئے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اصل کرنے والی ذات تو اللہ ہی کی ہے، سب کچھ کرنے والی ذات، لیکن بہرحال نام کا اثر ضرور ہوتا ہے اس لیے علماء کہتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے؟ اولاد کا اچھا نام رکھنا چاہیے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں ابو لہب ذکر کیا گیا اور ابو لہب نام ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا، ان کی کنیت ہے، نام کی طرح ہے اور اس کے ذریعے کنایہ کیا گیا کس چیز سے؟ کس معنی سے؟ جہنمی ہونے سے کہ ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ جہنمی کے، اور ابو لہب کا لفظ اس کی صلاحیت بھی رکھتا ہے کیونکہ ابو لہب کا کیا معنی؟ شعلوں والا، شعلوں کے ساتھ لازم رہنے والا، اور یہ معنی کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ جہنمی کے اندر بھی پایا جا رہا ہے۔ تو ابو لہب کا لفظ ایسا ہے کہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اس سے کنایہ کیا جائے جہنمی ہونے سے۔ کس سے؟ جہنمی ہونے سے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ، ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابو لہب کے، تو گویا کیا کہا گیا؟ ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ جہنمی کے۔ اور پھر یہ بھی اس میں یاد رکھیے بھئی، یہاں پر بھی آپ دیکھ رہے ہیں ابو لہب اس وقت تو کنیت ہے، کنیت ہے، ایک معین ذات پر دلالت کر رہا ہے، لیکن یہ جو کنایہ کیا گیا یہ اس معنی اول کے اعتبار سے ہے، وضع اول کے اعتبار سے ہے کیونکہ وضع اول کے اعتبار سے ابو لہب کا معنی ہے شعلوں والا، وضع ثانی کے اعتبار سے تو وہ نام ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا ابو لہب کا معنی ہوا شعلوں والا، شعلوں والا یعنی شعلوں کے ساتھ رہنے والا، اور اس کے ساتھ جہنمی ہونا لازم ہے۔ اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ بھئی شعلوں کے ساتھ وہی رہے گا جو کون ہو گا؟ جہنمی۔ تو شعلوں کے ساتھ رہنے والے کے ساتھ لازم ہے کیا؟ جہنمی۔ اور کنایہ بھی کسے کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ یہاں پر بھی شعلوں والے کے ساتھ لازم ہے کیا؟ جہنمی ہونا، تو یہ کنایہ کیا گیا ان کے جہنمی ہونے سے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یہ یہ بھی میں نے ذکر کر دیا کہ یہ کنایہ کس معنی کے اعتبار سے ہے؟ معنی اول یا معنی ثانی کے اعتبار سے؟ معنی یعنی وضع اول کے اعتبار سے ہے نہ کہ وضع ثانی کے اعتبار سے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْكِنَايَةِ عَنْ مَعْنًى يَصْلُحُ اللَّفْظُ لَهُ، اور کنایہ کرنا، مسند الیہ کو کبھی کبھار مسند الیہ کو کبھی کبھار علم کی صورت میں لایا جاتا ہے تاکہ کنایہ کیا جائے بھئی، کس سے؟ عَنْ مَعْنًى ایسے معنی سے يَصْلُحُ اللَّفْظُ لَهُ جس کی وہ لفظ صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں کس معنی سے کنایہ کیا گیا؟ جہنمی ہونے سے، اور یہ ابو لہب کا لفظ اس کی صلاحیت بھی رکھتا ہے بھئی۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَأَمَّا اسْمُ الإِشَارَةِ، جی آگے اس میں اشارہ کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ تو یہ دیکھیے انہوں نے کچھ نکات ذکر کر دیے کہ مسند الیہ کو کبھی علم کی صورت میں لایا جاتا ہے اور تاکہ سننے والے کے ذہن میں مسند الیہ کو اس کے خاص نام کے ساتھ حاضر کیا جائے کیونکہ نام جو ہے وہ ذات کے ساتھ ساتھ اس کے جو نمایاں اوصاف ہوتے ہیں ان پر بھی دلالت کرتا ہے، اور نیز کبھی کبھار اس میں لانے کے اندر اور غرضیں بھی ہوتی ہیں علم کی صورت میں مسند الیہ کو لانے کی، مثلاً کبھی تعظیم کا ارادہ ہوتا ہے جبکہ اس نام کے اندر تعظیم والا معنی ہو وضع اول کے اعتبار سے، اور کبھی کبھار اس کے لیے اہانت کا ارادہ کیا جاتا ہے جبکہ اس نام کے اندر اہانت والا معنی پایا جائے وضع اول کے اعتبار سے، اور کبھی اس کے لیے کنایہ کیا جاتا ہے یعنی ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جاتا ہے اور یہ کنایہ کس اعتبار سے ہوتا ہے؟ معنی اول کے اعتبار سے یعنی وضع اول کے اعتبار سے ہوتا ہے جیسے اس مثال کے اندر تھا۔ یہ تو انہوں نے کچھ مثالیں ذکر کر دیں بھئی کہ علم کے لانے میں یہ یہ نکات ہوتے ہیں، اور بھی نکات ہوتے ہیں جو آپ اگلی کتابوں میں پڑھیں گے۔ مثلاً کبھی کبھار مسند الیہ کو علم کی صورت میں لایا جاتا ہے مخاطب کو یہ بتلانے کے لیے کہ اس نام کے اندر بھی بڑی لذت ہے بھئی۔ کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ مسند الیہ کو علم کی صورت میں لایا جاتا ہے مخاطب کو یہ بتلانے کے لیے کہ اس نام کے اندر بھی بڑی لذت ہے بھئی، جیسے آپ اگلی کتابوں میں پڑھیں گے، ایک شاعر کہتا ہے: بِاللَّهِ يَا ظَبَيَاتِ القَاعِ قُلْنَا لَنَا بِاللَّهِ يَا ظَبَيَاتِ القَاعِ قُلْنَا لَنَا لَيْلَايَ مِنْكُنَّ أَمْ لَيْلَا مِنَ البَشَرِ شاعر کہتا ہے: بِاللَّهِ، خدا کے لیے، يَا ظَبَيَاتِ القَاعِ، اے دامنِ کوہ کی ہرنیو، قُلْنَا لَنَا، ہمیں بتاؤ۔ خدا کے لیے اے دامنِ کوہ یعنی پہاڑوں کے بیچ میں رہنے والی، دامنِ کوہ پہاڑوں کے بیچ، تو خدا کے لیے اے دامنِ کوہ کے اندر رہنے والی ہرنیو! قُلْنَا لَنَا، ہمیں بتاؤ، لَيْلَايَ مِنْكُنَّ أَمْ لَيْلَا مِنَ البَشَرِ، لَيْلَايَ، میری لیلیٰ جو ہے، مِنْكُنَّ، وہ تم میں سے ہے، أَمْ لَيْلَا مِنَ البَشَرِ، یا لیلیٰ انسانوں میں سے ہے؟ تو دیکھیے یہ ہرن جو ہے، اس کو عربی زبان میں حسن کے لیے بطورِ ضرب المثل استعمال کیا جاتا ہے بھئی۔ خوبصورتی کے اندر ہرن مشہور ہے، تو شاعر جو ہے وہ اپنی معشوقہ کے حسن و جمال کو بیان کر رہا ہے کہ میری معشوقہ بڑی حسین و جمیل ہے اور اتنی حسین و جمیل ہے کہ مجھے پتہ نہیں چل رہا کہ وہ انسان ہے یا ہرن ہے جو ضرب المثل ہے خوبصورتی کے اندر۔ چنانچہ ان کو پکارتے ہوئے کہ خدا کے لیے اے دامنِ کوہ کی ہرنیو! ذرا ہمیں بتاؤ کہ میری لیلیٰ تم میں سے ہے یا انسانوں میں سے ہے؟ تو دیکھیے یہاں پر شاعر نے کہا: لَيْلَايَ مِنْكُنَّ، میری لیلیٰ تم میں سے ہے، أَمْ لَيْلَا مِنَ البَشَرِ، یا لیلیٰ کس میں سے ہے؟ انسان۔ اب دیکھیے جب ایک دفعہ نام ذکر ہو جائے، دوبارہ نام ذکر نہیں کیا جاتا، لیکن شاعر نے أَمْ لَيْلَا مِنَ البَشَرِ، دوبارہ نام کو ذکر کیا۔ کہنا تو چاہیے تھا: أَمْ هِيَ مِنَ البَشَرِ، ضمیر لانی چاہیے تھی کہ کیا وہ انسانوں میں سے ہے؟ لیکن دوبارہ نام لیلیٰ کو ذکر کیا، دراصل شاعر بتلانا چاہتا ہے کہ یہ نام بھی جو ہے یہ اس نام کے اندر بھی بڑی لذت ہے بھئی۔ شاعر کیا بتلانا چاہتا ہے؟ تو مسند الیہ کو علم کی صورت میں ذکر کیا یہ بتلانے کے لیے کہ اس نام کے اندر بھی بڑی لذت ہے بھئی۔ اچھا بھئی، تو شاعر کیا کہتا ہے؟ بِاللَّهِ يَا ظَبَيَاتِ القَاعِ قُلْنَا لَنَا لَيْلَايَ مِنْكُنَّ أَمْ لَيْلَا مِنَ البَشَرِ، کہ مجھے بتاؤ میری لیلیٰ تم میں سے ہے یا لیلیٰ انسانوں میں سے ہے؟ تو یہاں لَيْلَا مِنَ البَشَرِ کہا حالانکہ کہنا چاہیے تھا هِيَ مِنَ البَشَرِ۔ شاعر دراصل کیا بتلانا چاہتا ہے کہ یہ نام بھی بڑا لذیذ ہے، اس نام کے ذکر میں بھی بڑی لذت ہے، تو اسی لیے اس کو اس نے دوبارہ ذکر کر دیا۔ جیسے اردو ایک شاعر کہتا ہے: کیسے بھول جاؤں اسے انجم، کیسی باتیں کرتے ہو صورت تو پھر صورت ہے، وہ نام بھی اچھا لگتا ہے بھئی چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔