سبق نمبر۔39 الباب الثالث في تقديم و التأخير. من المعلوم أنه لا يمكن النطق بأجزاء الكلام دفعة واحدة، بل لا بد من تقديم بعض الأجزاء و تأخير البعض. وليس شيء منها في نفسه أولى بالتقدم من الآخر، لاشتراك جميع الألفاظ من حيث هي ألفاظ في درجة الاعتبار. یہ تیسرا باب ہے بھئی تقديم اور تاخير کے بیان میں۔ کس کے بیان میں؟ تقديم اور تاخير کے بیان میں۔ پہلا باب آپ نے پڑھا خبر اور انشاء کے بیان میں تھا۔ دوسرا باب ذکر اور حذف کے نکات بیان ہوئے تھے اس کے اندر۔ اور یہ تیسرے باب میں اب تقديم و تاخير کو بیان کریں گے بھئی، تقديم اور تاخير کو۔ اور یہ علم المعانی آپ پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے پڑھا تھا کہ اس میں آٹھ ابواب آئیں گے بھئی۔ تو یہ تیسرا باب آج ہم شروع کر رہے ہیں، اس میں تقديم اور تاخير بیان کر رہے ہیں۔ بھئی دیکھیے، ہم جب بھی کلام کرتے ہیں، ہمارا کلام لفظوں سے مرکب ہوتا ہے۔ مثلاً، میں کہتا ہوں "زيد قائم"۔ اب "زيد قائم" میں "زيد" بھی ایک لفظ ہے اور اسی طرح "قائم" بھی ایک لفظ ہے۔ اور یہ بات تو ظاہر ہے، سب کو علم ہے کہ تمام الفاظ کو اکٹھا زبان سے ادا نہیں کیا جا سکتا۔ جب میں نے آپ کو قیامِ زید کی خبر دینی ہے، تو ضروری ہوگا کہ میں ایک لفظ کو، مجھے مقدم کرنا پڑے گا اور دوسرے کو مؤخر کرنا پڑے گا۔ اگرچہ یہاں بعض اوقات تو کلام میں بہت سے الفاظ ہوتے ہیں، اب یہاں صرف دو لفظ ہیں: "زيد" اور "قائم"۔ لیکن میں دونوں پر اکٹھا ایک ہی آن میں، ایک ہی لمحے میں، بعینہٖ ایک وقت دونوں پر میں تلفظ کر ہی نہیں سکتا۔ ایک وقت میں تو ایک ہی لفظ پر تلفظ ہو سکتا ہے، اور پھر اس کے بعد ہی دوسرے لفظ پر تلفظ ہو سکتا ہے۔ تو جب ایک ہی آن کے اندر، ایک ہی وقت کے اندر لفظوں پر اکٹھا تکلم نہیں ہو سکتا، ان کو زبان سے ادا نہیں کیا جا سکتا، تو لازمی بات ہے کسی لفظ کو مقدم کرنا پڑے گا اور کسی لفظ کو مؤخر کرنا پڑے گا بھئی، مؤخر کرنا پڑے گا۔ اب جس لفظ کو آپ مقدم کر رہے ہیں، اس کے لیے کوئی داعی چاہیے کس وجہ سے آپ نے اس لفظ کو مقدم کیا۔ اور دوسرے لفظ کو آپ مؤخر کر رہے ہیں، تو اس کے لیے داعی چاہیے کس وجہ سے آپ نے اس کو مؤخر کیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ لہٰذا، ایک لفظ کو مقدم کرنا پڑے گا اور باقی کو مؤخر کرنا پڑے گا۔ لیکن جس کو مقدم کر رہے ہیں اس کے لیے کوئی نقطہ چاہیے، کوئی کوئی وہاں نقطہ ہو، کوئی داعی ہو جو اس بات کی طرف دعوت دے کہ اس لفظ کو مقدم ہونا چاہیے۔ ورنہ دیکھنے میں تو سارے لفظ ہی ہیں بھئی۔ "زيد قائم"، "زيد" بھی لفظ، "قائم" بھی لفظ ہے بھئی۔ تو یہ "زيد" کو مقدم کیوں کیا؟ اور یہ "قائم" کو مؤخر کیوں کیا؟ اس کے لیے کوئی داعی ہونا چاہیے، بغیر داعی کے نہیں، ورنہ تو سارے کیا ہیں؟ لفظ آپس میں برابر ہیں بھئی۔ لفظ ہونے "زيد" بھی کیا ہے؟ ایک لفظ ہے۔ "قائم" بھی کیا ہے؟ ایک لفظ ہے۔ تو بھئی آپ نے "زيد" کو مقدم کیوں کیا؟ کوئی نقطہ چاہیے، بغیر نقطے کے نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے، یہی بات بیان کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: "الباب الثالث في تقديم و التأخير"، یہ تیسرا باب ہے تقديم اور تاخير کے بیان میں۔ "من المعلوم"، یہ معلوم باتوں میں سے ہے "أنه لا يمكن النطق"، کہ ممکن نہیں ہے تکلم کرنا۔ "النطق" کا معنی ہے تکلم کرنا، بولنا۔ یہ معلوم باتوں میں سے ہے کہ ممکن نہیں ہے بولنا "بأجزاء الكلام"، کلام کے اجزاء کو "دفعة واحدة"، ایک ہی مرتبہ میں۔ کیا بتلا رہے ہیں یہ؟ کہ یہ معلوم باتوں میں سے ہے کہ کلام کے اجزاء پر ایک ہی مرتبہ میں تکلم کرنا ممکن نہیں۔ ان سب کو ہم ایک ہی وقت میں زبان سے ادا نہیں کر سکتے، یہ معلوم اور ظاہر سی بات ہے۔ "بل لا بد من تقديم بعض الأجزاء و تأخير البعض"، بلکہ ضروری ہے بعض اجزائے کلام کو مقدم کرنا اور بعض اجزاء کو مؤخر کرنا، پھر ہی تکلم ہو سکے گا کہ بعض کو آپ مقدم کر دیں اور بعض کو مؤخر کر دیں۔ "وليس شيء منها في نفسه أولى بالتقدم من الآخر"، "أولى"، "أولى" کا کیا معنی ہوتا ہے؟ زیادہ لائق۔ "أولى بالتقدم"، مقدم ہونے کے زیادہ لائق۔ عبارت پر نظر ہے بھئی؟ "أولى بالتقدم" کا کیا معنی؟ مقدم ہونے کے زیادہ لائق۔ تو دیکھیے، ترجمہ: "وليس شيء منها في نفسه"، اور ان میں سے کوئی بھی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے "أولى بالتقدم"، یعنی مقدم ہونے کے زیادہ لائق نہیں ہے "من الآخر"، دوسرے کے مقابلے میں۔ بھئی، آپ کلام کرنے لگے ہیں، اب کلام آپ کا، آپ کا کلام کس سے مرکب ہے؟ الفاظ سے، اس میں کئی الفاظ آئیں گے۔ اب ان میں اگر آپ دیکھیں تو ہر ایک لفظ ہے، کوئی بھی دوسرے پر سے زیادہ مقدم ہونے کے لائق نہیں۔ "زيد" بھی لفظ، "قائم" بھی کیا ہے؟ لفظ۔ تو جب دونوں لفظ ہیں، تو لفظ ہونے کی حیثیت سے تو دونوں برابر ہیں۔ کسی ایک کو بھی مقدم کیا جائے اور دوسرے کو مؤخر، ایک کو ترجیح دیتے ہوئے مقدم کیا جائے تو یہ درست نہیں ہے بھئی، کیونکہ یہ بھی لفظ ہے اور "قائم"، "زيد" بھی جیسے لفظ ہے اور "قائم" بھی کیا ہے؟ تو صرف ان کی ذات پر اگر نظر کی جائے، تو ان کی ذات کے اعتبار سے کوئی ایک بھی زیادہ لائق نہیں ہے کہ اس کو دوسرے پر کیا کر دیا جائے؟ مقدم کر دیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وليس شيء منها في نفسه أولى بالتقدم من الآخر لاشتراك جميع الألفاظ من حيث هي ألفاظ في درجة الاعتبار"، بوجہ شریک ہونے تمام الفاظ کے، اس وجہ سے کہ تمام الفاظ کیا ہیں؟ شریک ہیں۔ کس چیز میں شریک ہیں بھئی؟ کہتے ہیں: "من حيث هي ألفاظ"، اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہیں؟ الفاظ ہیں۔ سارے اس بات میں تو سب شریک ہیں۔ "زيد" بھی لفظ، "قائم" بھی لفظ، تو لفظ ہونے میں تو سب شریک ہیں۔ "من حيث"، اس حیثیت سے "هي ألفاظ"، یہ الفاظ ہیں "في درجة الاعتبار"، کس میں؟ درجہِ اعتبار۔ آپ نے صرف کس چیز کا اعتبار کیا؟ صرف لفظ ہونے کا، باقی چیزوں کو نہیں دیکھنا ابھی، صرف کس چیز کا اعتبار کر رہے ہیں؟ لفظ ہونے کا اعتبار کر رہے ہیں۔ بھئی، بعد میں ایک کو آپ مبتدا بناتے ہیں، ایک کو خبر بناتے ہیں، یا کوئی اور داعی آ جاتا ہے جس کی وجہ سے آپ مقدم کرتے ہیں، پھر تو آپ نے اور چیزوں کی بھی رعایت رکھ لی، اور چیزوں کے اعتبار ابھی نہیں کرنا، اس سے قطع نظر۔ درجہِ اعتبار کے صرف کس چیز کا اعتبار کر رہے ہیں آپ؟ لفظ ہونے کا، جیسے پہلا لفظ، دوسرا بھی لفظ، تیسرا آئے گا وہ بھی لفظ، چوتھا آئے گا وہ بھی کیا ہوگا؟ لفظ۔ تو لفظ ہونے کے اعتبار سے تو سارے برابر ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے پر مقدم ہونے کے زیادہ لائق نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے۔ دیکھیے دوبارہ ترجمہ: "وليس شيء منها في نفسه أولى بالتقدم من الآخر لاشتراك جميع الألفاظ من حيث هي ألفاظ في درجة الاعتبار"، اور ان میں سے کوئی ایک چیز بھی اپنی ذات کے اعتبار سے وہ مقدم ہونے کے زیادہ لائق نہیں ہے دوسرے کے مقابلے میں، اس وجہ سے کہ شریک ہیں تمام الفاظ اس حیثیت سے کہ یہ الفاظ ہیں "في درجة الاعتبار"، کس چیز میں؟ درجہِ اعتبار میں۔ تو اس میں یہ سارے شریک ہیں۔ "لاشتراك جميع الألفاظ في درجة الاعتبار"، کہ تمام الفاظ شریک ہیں۔ کس چیز میں شریک ہیں؟ درجہِ اعتبار میں، یعنی آپ نے کس چیز کا اعتبار کیا ہے؟ لفظ ہونے کا اعتبار کیا ہے، اس میں تو سارے شریک ہیں اور اور نقطوں سے قطع نظر، اور چیزوں سے، اس میں سارے الفاظ شریک ہیں، "من حيث هي ألفاظ"، اس حیثیت سے کہ یہ الفاظ ہیں بھئی۔ "فلا بد من تقديم هذا على ذاك من داع يوجبه"، پس ضروری ہوا، "فلا بد"، پس ضروری ہے "من تقديم هذا"، اس لفظ کو مقدم کرنا، یعنی کوئی ایک لفظ جس کو آپ مقدم کر رہے ہیں، تو ضروری ہے اس ایک کو مقدم کرنے کے لیے "على ذاك"، اس دوسرے لفظ پر "من داع"، کسی ایسے داعی کا ہونا "يوجبه"، أي "يثبته"، جو کیا کرے اس کو؟ ثابت کرے۔ تو "يوجب" کس معنی میں ہے؟ "يثبت" کے معنی میں ہے، "أوجب يوجب"، "يثبت" کے معنی میں عبارتوں میں استعمال ہوتا رہتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "فلا بد من تقديم هذا على ذاك من داع يوجبه"، پس ضروری ہوا اس لفظ کو مقدم کرنا اس دوسرے لفظ پر کسی ایسے داعی کی وجہ سے جو اس کو ثابت کرے۔ کس کو ثابت کرے؟ اس کی یہ تقديم کو، جو اس کے مقدم ہونے کو ثابت کرے۔ بھئی، دیکھیے دو لفظ ہیں آپ کے پاس، تو ایک لفظ کو آپ مقدم کر رہے ہیں، تو اس مقدم جس کو آپ کر رہے ہیں، اس کے لیے کوئی ایسا داعی ہونا چاہیے جو اس کے مقدم ہونے کو ثابت کرے۔ ایسا داعی ہو جو آپ کو کیا بتلائے کہ اس لفظ کو کیا ہونا چاہیے؟ مقدم ہونا چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ مؤخر ہونا چاہیے۔ یہ معنی ہے "فلا بد من تقديم هذا على ذاك من داع يوجبه"، لہٰذا ضروری ہوا اس لفظ کو مقدم کرنے کے لیے دوسرے لفظ پر کسی ایسے داعی کا ہونا "يوجبه"، جو اس کو ثابت کرے۔ "فمن الدواعي"، تو ان دواعی میں سے، یعنی تقديم کے دواعی میں سے، وہ چیزیں، وہ نکات جو تقديم کی جن کی وجہ سے کسی لفظ کو مقدم کیا جاتا ہے، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو آپ کے پاس کلام، آپ کلام ذکر کرنے لگے ہیں، وہ کئی الفاظ سے مرکب ہے، اب کسی لفظ کو مقدم کرنا پڑے گا اور باقیوں کو کیا کرنا پڑے گا؟ مؤخر۔ تو تقديم کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ کوئی داعی چاہیے۔ اب وہ دواعی مختلف ہیں، کیا کیا دواعی ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے کسی لفظ کو مقدم ذکر کیا جاتا ہے کلام کے اندر، اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "فمن الدواعي"، ان دواعی میں سے، کون سے دواعی میں سے؟ تقديم کے دواعی میں سے جو ہے: "التشويق إلى المتأخر"، شوق، "تشويق" کا معنی ہے شوق دلانا، رغبت دلانا۔ "التشويق إلى المتأخر"، وہ جو مؤخر بعد میں آنے والا ہے، جو مؤخر ہے، اس کی طرف شوق دلانا۔ پہلے ایک لفظ کو مقدم کر دیا، کیوں مقدم کر دیا؟ جو بعد میں آنے والا لفظ ہے، اس کی طرف آپ سننے والے کو رغبت دلا رہے ہیں، شوق دلا رہے ہیں۔ پہلا لفظ سنتے ہی اس کے دل میں دوسرا لفظ سننے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آئی؟ نقطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک لفظ کو کیوں مقدم کیا جاتا ہے؟ اس لفظ کو مؤخر بھی کیا جا سکتا تھا، لیکن اس لفظ کو آپ نے مقدم کر دیا، کیوں مقدم کیا؟ تاکہ سننے والے کو آپ شوق دلائیں، وہ خود ہی اس کے دل میں طلب پیدا ہو جائے اگلے آنے والے لفظ کی۔ اور جب طلب پیدا ہو جائے گی، پہلا لفظ سنتے ہی اس کے دل میں شوق اور طلب پیدا ہوئی، کس چیز کی طلب؟ آگے آنے والے لفظوں کی طلب پیدا ہوئی، تو جب شوق اور طلب کے بعد اگلے لفظ آ جائیں گے، تو وہ اس کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائیں گے، کیونکہ یہ ظاہر سی بات ہے، بغیر شوق اور بغیر طلب کے جو الفاظ وہ سنے گا، جو بات وہ سنے گا، جو اس کے ذہن میں آئے گی، وہ اسی طرح جلدی نکل بھی جائے گی، کیونکہ وہ بغیر شوق اور بغیر طلب کے ہے۔ لیکن جب شوق اور طلب کے بعد ایک چیز اسے حاصل ہوگی، اب وہ جلدی ذہن سے نہیں نکلے گی۔ ایک تو ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گی اور پھر ذہن سے جلدی نہیں نکلے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض اوقات کسی لفظ کو کیا کیا جاتا ہے؟ مقدم کیا جاتا ہے۔ مقدم کرنے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ کہ سننے والے کو شوق دلایا جائے، کس چیز کا شوق دلایا جائے؟ جو آگے بات، جو لفظ بعد میں آ رہے ہیں، ان کا شوق، یعنی جن کو آپ نے جن لفظوں کو آپ نے مؤخر کر دیا ہے، ان کا اس کے دل میں شوق پیدا کر دیا جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: "التشويق إلى المتأخر"، شوق دلانا اس لفظ کی طرف جو مؤخر ہے "إذا كان المتقدم مشعراً بغرابة"، جس وقت کہ متقدم، آگے ہونے والا، جس لفظ کو آپ نے کیا کیا ہے؟ آگے کیا ہے، مقدم کیا ہے۔ جبکہ وہ مقدم لفظ "مشعراً"، "أشعر يشعر" کا معنی ہے خبر دینا، اطلاع دینا۔ جبکہ آگے ہونے والا لفظ جو ہے، وہ خبر دے رہا ہو "بغرابة"، کسی انوکھے پن کی۔ "غرابت" کہتے ہیں انوکھا ہونا، عجیب ہونا۔ جبکہ مقدم ہونے والا لفظ جو ہے، وہ انوکھے ہونے کی خبر دے رہا ہو۔ توجه ہے سبق کی طرف؟ بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے؟ ایک لفظ کو مقدم کیا جاتا ہے، کیوں مقدم کیا جاتا ہے؟ کیونکہ آپ سننے والے کو، یعنی مخاطب کو رغبت دلانا چاہتے ہیں بعد والے لفظ کی، اور یہ کس وقت ہوگا؟ "إذا كان المتقدم مشعراً بغرابة"، جبکہ مقدم ہونے والا لفظ جو ہے، وہ خبر دے رہا ہو کسی انوکھی چیز کی، انوکھا ہونے کی خبر دے رہا ہو، کس چیز کی؟ کہ آگے ایک انوکھی بات آنے والی ہے۔ یہ کس کے اندر آ گیا؟ جس کو آپ نے مقدم کیا، اسی کے، اسی میں کیا آیا؟ کہ آگے ایک انوکھی بات، اسی سے اندازہ ہو گیا، پہلے لفظوں کو سنتے ہی اندازہ ہو گیا کہ آگے کوئی انوکھی بات آنے والی ہے۔ جب پہلے لفظوں کو سنتے ہی سننے والے کو اندازہ ہو گیا، اس کو پتہ لگ گیا آگے کوئی انوکھی بات آنے والی ہے، تو اب اس کی آنکھیں کھل جائیں گی، کان کھڑے ہو جائیں گے، دماغ متوجہ ہو جائے گا کہ کیا انوکھی چیز آگے آنے والی ہے؟ اب جب اس کے دل میں طلب ہوئی، شوق پیدا ہو گیا، ذہن متوجہ ہو گیا، اب جب اگلے لفظ آئیں گے، وہ خوب اچھی طرح اس کے دل میں بیٹھ جائیں گے، بات اچھی طرح اس کو سمجھ میں آ جائے گی اور دیر تک اس کے ذہن میں رہے گی۔ نقطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے "إذا كان المتقدم مشعراً بغرابة"، جبکہ مقدم ہونے والا لفظ وہ خبر دے رہا ہو انوکھا ہونے کی "نحو"، مثال کے طور پر، دیکھیے مثال سے وضاحت ہوگی بھئی: "والذي حارت البرية فيه"، اور وہ چیز کہ حیران ہے، "حارت البرية" حیران، "برية" مخلوق کو کہتے ہیں بھئی، "والذي"، اور وہ چیز "حارت البرية"، کہ حیران ہے مخلوق "فيه"، اس کے بارے میں۔ "والذي"، اب اب دیکھیے بھئی، انہوں نے کیا کہا؟ اس نقطے کو بھی ذہن میں رکھنا اور پھر اس مثال پر بھی ہم منطبق کرتے ہیں، کیسے۔ نقطہ کیا تھا، داعیِ تقديم پہلا کیا ذکر کیا؟ شوق دلانا بعد والے لفظ کی طرف، اور کیسے شوق دلانا؟ کہ جو مقدم لفظ ہوا ہے، وہ انوکھا ہونے کی خبر دے رہا ہے۔ اب جب میں نے کہا: "والذي حارت البرية فيه"، اور وہ چیز جس کے بارے میں مخلوق، جس کے بارے میں تمام مخلوق حیران ہے۔ دیکھیے، فوراً آپ کی بھی توجہ ہو گئی کہ بھئی آگے کیا بات آنے والی ہے؟ کیونکہ اس کے اندر ہی بتلا دیا گیا: وہ چیز جس کے بارے میں ساری مخلوق حیران ہے، دیکھا، ساری مخلوق حیران ہے، دیکھو معلوم ہوا آگے جو بات آ رہی ہے وہ کوئی انوکھی ہے، جبھی تو سارے حیران ہو رہے ہیں اس کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو مقدم الفاظ تھے، انہوں نے آگے آنے والے لفظوں کا شوق پیدا کر دیا سننے والے کے دل میں، اور شوق کس طرح پیدا کیا؟ کیونکہ انہی لفظوں نے آگے، انہی لفظوں سے آپ کو پتہ چل گیا، آگے کوئی انوکھی چیز آنے والی ہے۔ کس طرح انہی لفظوں سے پتہ چلا کہ انوکھی چیز آن، انوکھی بات آنے والی ہے؟ اسی کے اندر لکھا: "حارت البرية فيه"، جس کے بارے میں تمام مخلوق حیران ہے، جب سارے حیران ہیں معلوم ہوا کوئی انوکھی ہی چیز ہے بھئی، انوکھی ہی بات ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شاعر کہتا ہے: "والذي حارت البرية فيه"، اور وہ چیز کہ حیران ہے ساری مخلوق "فيه"، اس کے اندر، "حيوان مستحدث من جماد"، ایک ایسا حیوان ہے "مستحدث"، "مستحدث" جو پیدا ہونے والا ہے "من جماد"، کس سے؟ جمادات، بے جان چیز سے۔ بھئی، یہ کچھ چیزیں، کچھ چیزیں ہیں، ان کو حیوانات کہا جاتا ہے، کچھ چیزیں ہیں، ان کو نباتات کہا جاتا ہے، کچھ چیزیں ہیں، ان کو جمادات کہا جاتا ہے۔ حیوانات تو آپ بھی جانتے ہیں، یہ انسان، یہ چ، چرند، پرند، یہ جانور جو ہیں، یہ پرندے ہیں، یہ سارے کیا ہیں؟ حیوانات ہیں جن میں زندگی اور شعور وغیرہ آپ کے دکھائی دیتا ہے، جو حرکت وغیرہ کرتے آپ کو دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سارے کیا ہیں؟ حیوانات۔ اور دوسری طرف ان کے مقابلے میں ہیں: درخت، پودے، گھاس وغیرہ، ان کو کیا کہتے ہیں؟ نباتات، ان کو نباتات کہا جاتا ہے، درخت، پودے وغیرہ۔ اور ان کے علاوہ جو باقی چیزیں ہیں، وہ جمادات کہلاتی ہیں، بے جان چیزیں بھئی، پتھر وغیرہ، یہ سب چیزیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جماد سے مراد کیا ہے؟ بے جان چیز بھئی، جماد۔ حَیَوَانٌ تو کہتے ہیں وہ ایک ایسا حیوان ہے مُسْتَحْدَثٌ مِنْ جَمَادِ جو پیدا ہونے والا ہے بے جان چیز سے۔ وَالَّذِي حَارَتِ الْبَرِيَّةُ فِيْهِ اور وہ چیز کہ حیران ہے ساری مخلوق اس کے بارے میں حیوانٌ مُسْتَحْدَثٌ مِنْ جَمَادِ، وہ ایک ایسا حیوان ہے جو پیدا ہونے والا ہے جمادات سے یعنی بے جان چیزوں سے۔ یہاں بھئی وہ حیوان، حیوان سے مراد ہے انسان بھئی۔ اور انسان جب وہ آخرت میں قیامت کے روز اللہ تعالی تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا فرمائیں گے اور پھر اپنے اعمال کا جواب دینا پڑے گا۔ نیک لوگ جنت میں چلے جائیں گے اہل ایمان بھئی اور کفار اور مشرکین کو کہاں ڈال دیا جائے گا؟ جہنم کے اندر۔ تو یہ آخرت میں جو اللہ کا عظیم نظام جس میں انسانوں، تمام انسانوں کو کیا کیا جائے گا؟ دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ تو اس کا شاعر ذکر کر رہا ہے کہ وہ ایک ایسا حیوان جو پیدا ہونے والا ہے جمادات سے، یعنی آخرت میں جب انسان کو پیدا کیا جائے گا کس سے؟ جمادات، بے جان چیز سے، یعنی مٹی سے۔ انسان تو کیا ہو چکا؟ تمام انسان تو مر چکے اور گل کر مٹی بن چکے، پھر اس مٹی اور بے جان چیز سے اللہ تعالی اس کو دوبارہ پیدا فرما دیں گے۔ تو یہ ایک ایسی چیز ہے، یہ حیوان، یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ساری مخلوق کیا ہے؟ حیران ہے بھئی۔ چنانچہ اسی لیے اہل ایمان اس کو تسلیم کرتے ہیں، مانتے ہیں اور اہل کفر اور اہل شرک اس کو نہیں مانتے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک چیز جب مٹی ہو جائے، زمین کے ساتھ بالکل مل جائے، ختم ہو جائے، نیست و نابود ہو جائے، یہ کیسے ہو سکتا ہے دوبارہ اس کو وجود ملے گا اور دوبارہ اس میں روح ڈالی جائے گی؟ یہ ممکن ہی نہیں ہے وہ کہتے ہیں۔ تو دیکھیے یہ حیرت کی بات ہے جبھی تو اس کے اندر کیا ہوئے؟ انسانوں کے دو گروہ بن گئے، کچھ اس کو تسلیم کرتے ہیں، کچھ اس کو تسلیم نہیں کرتے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ وہ آخرت کی زندگی کی طرف اشارہ ہے اور یہ شاعر کے ماقبل کے اشعار سے اس کا اندازہ ہوتا ہے بھئی، اس کے اندر اس نے یہ بات تفصیل سے ذکر کی ہے۔ تو کہتا ہے وَالَّذِي حَارَتِ الْبَرِيَّةُ فِيْهِ اور وہ ذات کہ وہ چیز جو کہ حیران ہے مخلوق اس کے بارے میں حیوانٌ مُسْتَحْدَثٌ مِنْ جَمَادِ، ایک ایسا حیوان ہے جو پیدا ہونے والا ہے بے جان چیز سے۔ تو مقامِ استشہاد کیا ہے؟ وَالَّذِي حَارَتِ الْبَرِيَّةُ فِيْهِ ترکیب کیا ہوگی بھئی؟ الَّذِي اس میں موصول، حَارَتِ الْبَرِيَّةُ فِيْهِ یہ سارا جملہ اس کا صلہ۔ موصول صلہ مل کر مبتدا اور آگے حیوانٌ مُسْتَحْدَثٌ مِنْ جَمَادِ یہ کیا ہے اس کی؟ خبر۔ تو یہاں پر مبتدا یہ اسمِ موصول اس کو مقدم کیا گیا اور کیوں مقدم کیا گیا؟ کیونکہ شاعر آگے آنے والی خبر جو تھی حیوانٌ مُسْتَحْدَثٌ وغیرہ اس کی طرف سننے والوں کو رغبت دلا رہا ہے اور کیوں رغبت دلا، کیسے رغبت دلا رہا ہے؟ کیونکہ یہ جو مبتدا ہے الَّذِي حَارَتِ الْبَرِيَّةُ فِيْهِ، یہ خبر دے رہا ہے کہ آگے ایک انوکھی بات آنے والی ہے، ایک انوکھی بات ذکر ہونے والی ہے، کیونکہ اسی کے اندر کیا ذکر کر دیا گیا؟ حَارَتِ الْبَرِيَّةُ، ساری مخلوق اس میں کیا ہے؟ حیران ہے، معلوم ہوا کوئی انوکھی ہی بات ہے بھئی اور اسی کا آگے ذکر آ رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَتَعْجِيْلُ الْمَسَرَّةِ اَوِ الْمَسَاءَةِ نَحْوُ: اَلْعَفْوُ عَنْكَ صَدَرَ بِهِ الْاَمْرُ اَوِ الْقِصَاصُ حَكَمَ بِهِ الْقَاضِيْ. وَتَعْجِيْلُ الْمَسَرَّةِ اَوِ الْمَسَاءَةِ، مسرت کہتے ہیں خوشی کو، خوشی۔ اور مساءت کہتے ہیں تکلیف، غم اور دکھ کو بھئی۔ تو دواعیِ تقديم ذکر ہو رہے ہیں، بعض اوقات کسی لفظ کو مقدم کیا جاتا ہے، اس کے مقدم ہونے میں کیا نقطہ آتا ہے؟ تعجیل المسرة، اپ دوسرے کو یعنی سننے والے کو جلدی خوشی دینا چاہتے ہیں، تعجیل کا معنیٰ جلدی کرنا۔ تو آپ اس کو جلدی خوشی دینا چاہتے ہیں بھئی، اس لفظ کو اگر مؤخر کر دیں پھر بھی اس کو خوشی ہوگی، لیکن پھر آخر میں جا کے خوشی ہوگی، آپ اس کو جلدی خوشی دینا چاہتے ہیں تو اس لفظ کو ہی آپ مقدم کر دیتے ہیں۔ مثلاً دیکھیے، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا کہیں مقدمہ چل رہا ہے، مقدمہ چل رہا ہے بھئی۔ اب وہ اس سلسلے میں بڑی پریشانی میں مبتلا ہے کہ پتہ نہیں اس مقدمے سے میری جان چھوٹتی ہے یا اس کے اندر مجھے سزا ہوتی ہے۔ اب آپ کو اطلاع ملی کہ اس کے معافی کا اعلان ہو گیا ہے، اب یہی خبر آپ اس کو جا کر سناتے ہیں۔ تو آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں، عدالت نے آپ کی معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ عدالت نے آپ کی معافی کا اعلان، اب دیکھیے عدالت نے یہ لفظ آپ شروع میں لے کر آئے اور آپ کی معافی اس کو آخر میں لے کر آئے، اب بھی جب بات پوری سنے گا وہ یقیناً خوش ہو جائے گا بھئی کہ اس کی معافی کا اعلان ہو گیا ہے، لیکن یہی خوشی آپ اس کو جلدی دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اب آپ 'آپ کی معافی' اس لفظ کو مقدم کر دیتے ہیں، 'آپ کی معافی' کا اعلان عدالت نے کر دیا ہے۔ تو دیکھو کس لفظ کو مقدم کیا؟ 'آپ کی معافی'۔ اب اس لفظ کو مقدم کیا، اس لفظ کو سنتے ہی جیسے ہی وہ پہلا لفظ سنتا ہے 'آپ کی معافی'، وہ اس سے نیک فالی مراد لیتا ہے، پہلے ہی لفظ اس کے کان میں جو پڑے وہ کیا تھے؟ 'آپ کی معافی'۔ وہ کہ یہ تو شروع میں ہی اچھے لفظ آ گئے، تو وہ نیک فالی مراد لیتا ہے، یقیناً آگے بھی اچھی ہی بات آنے والی ہے، تو وہ پہلے سے ہی خوش ہو جاتا ہے اور پھر بات پوری ہوتی ہے تو واقعی آگے خوشی کی بات ہوتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے آپ، آپ یوں کہیں۔ عدالت نے آپ کی معافی کا اعلان کر دیا ہے، اب آپ نے مقدم کیا یا مؤخر کیا؟ مؤخر کیا۔ خوش اب بھی وہ ہوگا، لیکن آپ اس کو جلدی خوش کرنا چاہتے ہیں تو جلدی خوش کرنے کے لیے کیا کریں؟ 'آپ کی معافی' یعنی اس اچھے لفظ کو مقدم کر دیں جو خوش کن لفظ ہے، جو خوش کر دینے والا لفظ ہے۔ تو اس سے تعجیلِ مسرت ہو، جلدی آپ نے اس کو خوشی دے دی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جلدی خوشی ہو گئی۔ دیکھیے، وَتَعْجِيْلُ الْمَسَرَّةِ اور جلدی خوش کرنے کے لیے، خوشی دینے کے لیے، اَوِ الْمَسَاءَةِ یا مساءت کہتے ہیں تکلیف بھئی، یا جلدی کسی کو تکلیف دینے کے لیے۔ اس کا عکس کر لیں، اب ایک خبر ہے آپ اپنے کسی مخالف کو دینا چاہتے ہیں، مخالف کو، مثلاً وہ مقدمہ چل رہا ہے اور اس میں عدالت نے اس کے خلاف قصاص کا فیصلہ کر دیا، مثلاً قتل کا کوئی مقدمہ تھا کہ اب یہ جس شخص، جس کا، جس نے قتل کیا تھا اس کو بھی کیا کیا جائے؟ قتل کیا جائے۔ اب دیکھیے، اب آپ اس کو یہ بھی کہہ سکتے ہیں اس کو تکلیف دینا چاہتے ہیں کہ عدالت نے قصاص کا فیصلہ کر دیا ہے۔ لیکن اب اس صورت میں قصاص کا لفظ آخر میں ہے، اب بھی وہ غم میں تو مبتلا ہوگا لیکن جب پوری بات سنے گا تب غم میں مبتلا ہوگا اور سنانے والا کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس کو جلدی تکلیف دینا چاہتا ہے تو وہ قصاص کے لفظ کو مقدم کر دیتا ہے کہ قصاص کا فیصلہ عدالت نے کر دیا ہے۔ اب دیکھیے، قصاص، شروع میں جیسے ہی لفظ آئے گا کہ وہ سنے گا کہ یہ تو اچھا لفظ شروع میں نہیں آیا، تو بد فالی مراد لے گا کہ یقیناً آگے آگے کوئی بری ہی خبر آنے والی ہے اور پھر آگے واقعی بری خبر آ گئی۔ تو وہ پہلے لفظ کو سنتے ہی بد فالی مراد لیتے ہوئے غمزدہ ہو جاتا ہے۔ کیا ہو جاتا ہے؟ یا دوسری مثال لے لیجیے، مثلاً آپ کسی کو اطلاع دیتے ہیں اور اسے کہتے ہیں: اَلسَّفَّاحُ فِيْ دَارِ صَدِيْقِكَ. سفاح کہتے ہیں خونریز، بہت خون بہانے والا آدمی بھئی، یا یوں کہیں بہت بڑا قاتل کہہ لیں، تو آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اَلسَّفَّاحُ، وہ بڑا خونریز آدمی جو ہے فِيْ دَارِ صَدِيْقِكَ، آپ کے دوست کے گھر میں ہے۔ یہ اَلسَّفَّاحُ کو آپ نے مقدم کیا، کیوں؟ کیونکہ اس لفظ کے اندر یہ اچھے معنیٰ والا لفظ ہے یا برے معنیٰ ہے اس کا؟ اس کا برا معنیٰ ہے، تو یہ آپ نے اَلسَّفَّاحُ کو کیوں مقدم کیا؟ کیونکہ آپ سننے، جو سن رہا ہے، جو مخاطب ہے اس کو جلدی تکلیف دینا چاہتے ہیں۔ آپ اس کو یوں کہہ دیں: فِيْ دَارِ صَدِيْقِكَ السَّفَّاحُ، آپ کے دوست کے گھر میں ہے وہ بڑا خونریز آدمی، اس صورت میں بھی وہ غمزدہ ہوگا کہ میرے ساتھی کے گھر وہ شخص آیا ہے، لیکن آپ اس کو جلدی تکلیف دینا چاہتے ہیں تو کیا کریں گے؟ اَلسَّفَّاحُ کو مقدم کر دیں۔ تو مؤخر کر دیں تکلیف پھر بھی، لیکن سنانے والا کیا چاہتا ہے؟ صرف تکلیف یا جلدی تکلیف دینا چاہتا ہے؟ وہ جلدی تکلیف دینا چاہتا ہے تو اس لفظ کو مقدم کر دیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنیٰ ہے: وَتَعْجِيْلُ الْمَسَرَّةِ اَوِ الْمَسَاءَةِ، اور جلدی خوش کرنے کے لیے، خوشی دینے کے لیے، اَوِ الْمَسَاءَةِ، یا جلدی تکلیف دینے کے لیے، نَحْوُ مثال کے طور پر: اَلْعَفْوُ عَنْكَ صَدَرَ بِهِ الْاَمْرُ، آپ کی جو معافی ہے صَدَرَ بِهِ الْاَمْرُ، صادر ہو گیا ہے اس کا حکم، آپ کی معافی اس کا حکم صادر ہو گیا ہے یعنی اس کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ تو کس کی مثال ہے؟ تعجیلِ مسرت کی، یہاں پر اَلْعَفْوُ عَنْكَ، آپ کی معافی، دیکھو اس لفظ کو مقدم کر دیا گیا، اگرچہ یوں بھی کہا جا سکتا تھا: صَدَرَ الْاَمْرُ بِالْعَفْوِ عَنْكَ. صَدَرَ الْاَمْرُ بِالْعَفْوِ عَنْكَ، یوں بھی کہا جا سکتا تھا، لیکن آپ جلدی خوشی دینا چاہتے تھے اس لیے آپ نے اَلْعَفْوُ عَنْكَ کو کیا کر دیا؟ مقدم کر دیا۔ اَوِ الْقِصَاصُ حَكَمَ بِهِ الْقَاضِيْ، یہ تعجیلِ مساءت کی مثال ہے، اَلْقِصَاصُ حَكَمَ بِهِ الْقَاضِيْ، قصاص کا فیصلہ کر دیا ہے اس کا قاضی نے۔ اب قصاص کو مقدم کیا، کیوں مقدم کیا؟ تعجیلِ مساءت کے لیے، جلدی تکلیف دینے کے لیے، ورنہ یوں بھی کہا جا سکتا تھا: حَكَمَ الْقَاضِيْ بِالْقِصَاصِ، قاضی نے فیصلہ کر دیا قصاص، لیکن سنانے والا جلدی تکلیف دینا چاہتا تھا اس لیے اَلْقِصَاصُ لفظ کو مقدم کر دیا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہاں بات یہ یاد رکھنا بھئی، ایک لفظ سننے سے کوئی خوش نہیں ہوتا، آپ نے ایک لفظ کو مقدم کر دیا اَلْعَفْوُ عَنْكَ، آپ کی معافی، بھئی جب تک کوئی بات پوری نہ ہو دوسرا کیسے خوش ہوگا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ دیکھیے، توجہ سے سننا بھئی بڑی گہری بات کرنے لگا ہوں۔ دیکھیے، آپ جب کسی کو کہتے ہیں 'آپ کی معافی'، ابھی تو بات ہی نہیں پوری ہوئی، ابھی تو بات ہی پوری نہیں ہوئی اور جب بات پوری ہوگی تو کوئی دوسرا خوش ہوتا ہے، بات پوری ہوگی تو پھر ہی غمزدہ ہوتا ہے۔ تو صرف اَلْقِصَاصُ، صرف اس لفظ میں خوش کر دینے والی یا غمزدہ کر دینے والی بات نہیں، صرف 'آپ کی معافی' ویسے تو اس میں کوئی خوش کرنے والی بات نہیں کیونکہ ابھی بات ہی پوری نہیں ہوئی، دیکھو یہی جملہ ہے، میں کہتا ہوں کسی کو: آپ کی معافی کا اعلان نہیں ہوا۔ اب بتاؤ، یہ اچھی خبر ہے، بری خبر ہے؟ بری خبر، تو صرف 'آپ کی معافی' یہ تو ضروری نہیں آگے اچھی خبر آئے، جب بات پوری ہوگی پھر ہی دوسرا خوش ہوگا یا کیا ہوگا؟ غمزدہ، لیکن یہاں کیا ذکر کیا جا رہا ہے کتاب میں؟ ایک لفظ کو مقدم کرتے ہیں، کیوں مقدم کیا جاتا ہے؟ جلدی خوش کرنے، بھئی ایک لفظ سے تو کبھی کوئی جلدی نہیں خوش ہوتا، جب تک بات پوری نہ ہو جائے، بات پوری ہوگی تو پتہ چلے گا یہ اچھی خبر ہے یا بری خبر ہے۔ جیسے وہ اَلْقِصَاصُ تھا، اَلْقِصَاصُ صرف ایک اَلْقِصَاصُ، اس کے کیا خبر تھی؟ قصاص کا قاضی نے فیصلہ کر دیا ہے، اسی میں اگلی خبر دوسری بنا لو، قصاص کی معافی کا اعلان ہو گیا ہے۔ دیکھو وہی خبر کیا بن گئی؟ اچھی بن گئی، خوشی والی بن گئی۔ تو لہذا جب تک بات پوری، توجہ ہے سبق کی طرف؟ جب بات پوری ہوگی دوسرا تبھی خوش ہوگا، اگر خوش کر، پھر اس جب پوری بات وہ سن لے گا، مبتدا بھی سن لے گا اور خبر بھی یا یوں کہیں مسند اور مسند الیہ دونوں کو سن لے گا پھر وہ، پھر بات پوری ہوگی، اب وہ اچھی خبر ہوئی تو اس پہ وہ خوش ہو جائے گا، وہ غم والی خبر ہوئی تو اس پر کیا ہوگا وہ؟ غمزدہ ہو جائے گا۔ لیکن یہاں کیا کہا جا رہا ہے؟ نقطہ کیا بیان ہو رہا ہے؟ ایک لفظ کو مقدم کیا جاتا ہے دوسرے کو جلدی خوش کرنے کے لیے یا دوسرے کو جلدی غمزدہ کرنے کے لیے، حالانکہ ایک لفظ اس میں تو ابھی بات ہی پوری نہیں ہے۔ میں نے مثال ذکر کر دی، مثلاً صرف ایک مثال کو ذہن میں رکھیں: 'آپ کی معافی'، آگے دونوں طرح کی خبر آ سکتی ہے یا نہیں؟ خوشی والی بھی، غم والی بھی۔ پہلی صورت خوشی والی کیسے بنے گی؟ آپ کی معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے، یہ اب خوشی والی خبر، اور اسی میں غم والی خبر بھی ہو سکتی ہے: آپ کی معافی، اس کا اعلان قاضی نے نہیں کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی میں، تو لہذا جب تک بات پوری نہیں ہوگی تو اس وقت تک دوسرا خوش یا غمزدہ نہیں، جب بات پوری ہو جائے گی اب وہ خوشی والی بات ہوگی تو اس پر وہ خوش ہو جائے گا، غم والی بات ہوگی تو اس پر غمزدہ۔ تو صرف ایک لفظ سے ابھی پوری بات کا، پوری بات کا پتہ نہیں چلتا، تو پھر یہاں کیسے بھئی تعجیلِ مسرت کہتے ہیں؟ تو یاد رکھنا یہ میں اسی لیے نیک فالی اور بد فالی کا لفظ بار بار بول رہا تھا کہ سامع سننے والا جو ہے اس کے سامنے جب پہلا لفظ آتا ہے، ابھی بات پوری تو نہیں ہوئی لیکن ایک لفظ آ گیا، وہ لفظ کیسا ہے؟ وہ لفظ اچھا ہے، اَلْعَفْوُ عَنْكَ، آپ کی معافی، تو وہ اس سے نیک فالی مراد لیتا ہے، اچھا شگون مراد لیتا ہے کہ شروع میں اتنا اچھا لفظ آیا، امید ہے آگے بھی کیا ہوگا؟ اچھی ہی بات آئے گی اور پھر واقعی آگے بھی اچھی ہی بات آ گئی، فرض کریں صورت یہ ہے۔ تو یہاں یہ جو خوش ہوا ایک لفظ سے وہ کس بناء پر؟ نیک فالی مراد لیے، کیونکہ بات ابھی نہیں پوری ہوئی، بات کا تو پتہ آخر میں جا کر چلے گا جب دوسرا لفظ بھی آ جائے گا، تو یہ جو جلدی خوش ہوتا ہے وہ کس بناء پر ہوتا ہے؟ نیک فالی مراد لیتا ہے کہ یقیناً آگے اچھی بات آنے والی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا دوسرا غمزدہ ہوتا ہے: اَلْقِصَاصُ حَكَمَ بِهِ الْقَاضِيْ، تو یہ اَلْقِصَاصُ سنتے ہی وہ دوسرا غمزدہ ہوتا ہے، کیوں غمزدہ ہوتا ہے؟ ابھی تو بات پوری نہیں ہوئی، لیکن غمزدہ کیوں ہوا؟ بد فالی مراد لیتا ہے، شروع میں اتنا برا لفظ آ گیا، معلوم ہوا آگے بھی کوئی اچھی بات آنے والی نہیں ہے، کوئی بری ہی بات آنے والی ہے۔ یا آپ نے کسی کو کہا: اَلسَّفَّاحُ فِيْ دَارِ صَدِيْقِكَ، اس نے جیسے ہی سنا اَلسَّفَّاحُ، بہت خونریز آدمی، اس نے فوراً بد فالی لی اس سے کہ بس شروع میں اتنا برا لفظ آیا کلام کے تو یقیناً آگے بھی کوئی بری ہی بات آنے والی ہے۔ تو یہاں جو تعجیلِ مسرت اور تعجیلِ مساءت وہ کس وجہ سے ہے؟ نیک فالی اور بد فالی کی وجہ سے ہے، خود ابھی بات تو پوری نہیں ہوئی بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنیٰ ہے: وَتَعْجِيْلُ الْمَسَرَّةِ اَوِ الْمَسَاءَةِ، اور جلدی خوش کرنے کے لیے، خوشی دینے کے لیے، اَوِ الْمَسَاءَةِ، یا تکلیف دینے کے لیے، نَحْوُ: اَلْعَفْوُ عَنْكَ صَدَرَ بِهِ الْاَمْرُ، کہ آپ کی معافی، صادر ہو گیا ہے اس کا حکم۔ اَوِ الْقِصَاصُ حَكَمَ بِهِ الْقَاضِيْ، قصاص کا فیصلہ کر دیا ہے اس کا قاضی نے۔ وَكَوْنُ الْمُتَقَدِّمِ مَحَطَّ الْاِنْكَارِ وَالتَّعَجُّبِ، اور متقدم یعنی مقدم ہونے والا لفظ جو ہے اس کا محط الانکار اور تعجب ہونا۔ وَكَوْنُ الْمُتَقَدِّمِ مَحَطَّ الْاِنْكَارِ وَالتَّعَجُّبِ، وَكَوْنُ الْمُتَقَدِّمِ مَحَطَّ، یہ کون کے لیے خبر ہے بھئی، تو اس کو منصوب پڑھنا: وَكَوْنُ الْمُتَقَدِّمِ مَحَطَّ الْاِنْكَارِ وَالتَّعَجُّبِ، کہ متقدم یہ جو لفظ مقدم ہوا ہے وہ انکار، محط بھئی، محط اس میں ظرف کا صیغہ ہے۔ حط يحط کے معنیٰ اترنا، کسی جگہ نازل ہونا، تو محط کہتے ہیں اترنے کی جگہ، نازل ہونے کی جگہ، یوں کہیں اسٹیشن بھئی، محط کا کیا معنیٰ ہے؟ اسٹیشن۔ اچھا یہ تو لفظی ترجمہ، اور ایک ہے محط الکلام، محط الکلام یہ استعمال ہوتا ہے کتابوں میں، محط الکلام کہتے ہیں کلام کا جو مرکزی نقطہ ہوتا ہے یعنی جس پر کلام کا مدار ہوتا ہے، یوں کہیے۔ محط الکلام کسے کہتے ہیں؟ جس پر کلام کا دارومدار ہوتا ہے، کلام کے اندر جو مرکزی چیز ہوتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ محط الکلام، کلام کی مرکزی چیز، کلام کا جس پر مدار ہے۔ جی، اب دیکھیے بھئی، نقطہ یہ بیان ہو رہا ہے، بعض اوقات کسی لفظ کو مقدم کیا جاتا ہے، کیوں؟ کوئی شخص ایک کلام کرتا ہے اور اس کلام کے اندر انکار ہے، کیا ہے؟ انکار یا اس کلام کے اندر تعجب ہے، تعجب کا اظہار کر رہے ہیں اپ ایک چیز پر، تو وہ جو انکار، وہ جو تو اس میں اپ ایک لفظ کو مقدم کر دیتے ہیں۔ کیوں مقدم کرتے ہیں؟ کیونکہ یہ جو اپ انکار کر رہے ہیں، یہ جو اپ تعجب کر رہے ہیں اس کا مدار اس مقدم پر ہے، اس کا مدار کس پر ہے؟ یہ تعجب کس وجہ سے ہے؟ یہ جو لفظ شروع میں مقدم کیے اس، یہ جو مفہوم ادا کر رہے ہیں اس کی وجہ سے کیا ہے؟ انکار ہے بھئی۔ دیکھئے مثال سے خوب وضاحت ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: "أَبَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ تَنْخَدِعُ بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ؟" ہمزہ استفہام کا: "أَبَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ؟" کیا طویل تجربے کے بعد، لمبے تجربے کے بعد تَنْخَدِعُ، اپ دھوکہ کھا جاتے ہیں؟ "انخدع" کا کیا معنی؟ دھوکہ کھانا۔ تَنْخَدِعُ، اپ دھوکہ کھا جاتے ہیں بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ؟ زخارف، زیب و زینت کی چیزیں۔ زخارف کسے کہتے ہیں؟ زیب و زینت کی چیزیں، یوں بلکہ یوں کہیے، چمکتی ہوئی چیزیں جن سے انسان دھوکہ کھا جاتا ہے۔ اچھا، "أَبَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ تَنْخَدِعُ بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ؟" کیا طویل تجربے کے بعد اپ دھوکہ کھا جاتے ہیں ان زیب و زینت کی چیزوں سے؟ یا یوں کہیں ان چمکتی ہوئی چیزوں سے؟ اپ نے کسی شخص سے کیا کہا؟ کیا اتنے لمبے تجربے کے بعد اپ چمکتی ہوئی چیزوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں؟ سوال پر نظر ہے؟ دیکھیے، اب اپ نے کیا کہا؟ کیا اپ اتنے طویل تجربے کے بعد چمکتی ہوئی چیزوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں؟ یہ استفہام ہے اور ہے استفہامِ انکاری، یعنی اپ کو چمکتی ہوئی چیزوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے، اپ سوال پوچھ نہیں رہے بلکہ دراصل یہاں کیا کر رہے ہیں؟ انکار کر رہے ہیں کہ اپ کو چمکتی ہوئی چیزوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے بھئی، یا اپ تعجب کا اظہار کر رہے ہیں، تعجب کا، کہ طویل تجربے کے بعد بھی اپ چمکتی ہوئی چیزوں سے دھوکہ کھا جاتے؟ تو یہ اپ کیا کر رہے ہیں؟ اپنے تعجب کا اظہار کر رہے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو یہاں پر اب کئی لفظ تھے، ان میں سے جس چیز کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں یا جس چیز کی وجہ سے اپ تعجب کر رہے ہیں اس لفظ کو اپ مقدم کر دیتے ہیں۔ دیکھیے، "أَبَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ"، دیکھیے یہاں تین چار چیزیں ہیں، تین چیزیں ہیں اس جملے میں: "بَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ" تجربة، جیم ساکن ہے، را کے نیچے کسرہ ہے بھئی، "أَبَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ" پہلی چیز یہ، طویل تجربے کے بعد، کتنی چیزیں ہیں کلام میں؟ تین۔ طویل تجربے کے بعد یہ پہلی چیز، "تَنْخَدِعُ" یہ دوسری چیز، اپ دھوکہ کھا جاتے ہیں، "بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ" ان چمکتی ہوئی چیزوں سے، یہ تین چیزیں ہیں، کتنی چیزیں ہیں کلام میں؟ تین چیزیں ہیں، پہلی کیا؟ "بَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ" اتنے لمبے تجربے کے بعد، یہ پہلی چیز، دوسری چیز، توجہ ہے سبق کی طرف؟ دوسری چیز کیا؟ "تَنْخَدِعُ" اپ دھوکہ کھا جاتے ہیں، یہ دوسری چیز، تیسری چیز کیا؟ "بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ" ان چمکتی ہوئی چیزوں سے۔ اب اپ جس وجہ سے انکار اور تعجب کر رہے ہیں اس کو مقدم کر دیں گے ان تینوں میں سے، اگر اپ کا تعجب اس لیے ہے، اپ کا انکار اس وجہ سے ہے، اپ کو حیرت کیوں ہو رہی ہے؟ کہ لمبے تجربے کے بعد یہ مخاطب کیسے دھوکہ کھا گیا؟ کس کے بعد؟ لمبے تجربے کے بعد دھوکہ کیسے کھا گیا؟ تو یہاں حیرت کس وجہ سے ہے؟ لمبے تجربے کے بعد دھوکہ کھانے پر حیرت، لہذا "بَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ" اس کو مقدم کر دیا۔ اور اگر اپ کو حیرت ہے چمکتی ہوئی چیز سے دھوکہ کھانے پر، لمبے تجربے کی بات نہیں بلکہ حیرت کس وجہ سے ہے اپ کو؟ کہ چمکتی ہوئی چیز سے اس نے کیسے دھوکہ کھا لیا؟ تو اب اپ یوں کہیں گے، جس پر تعجب کا مدار ہے یا انکار کا مدار ہے اس کو مقدم کریں گے، اب یوں کہیں گے: "أَبِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ تَنْخَدِعُ بَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ؟" توجہ ہے؟ اب میں نے کس کو مقدم کیا ہمزہ کے بعد؟ "بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ"، "أَبِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ" اور اگے "تَنْخَدِعُ" پھر لایا اور "بَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ" کو اخر میں لے گئے، اب کیا سوال ہوا؟ کیا اپ ان چمکتی ہوئی چیزوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں لمبے تجربے کے بعد؟ اب انکار اور تعجب کا باعث کیا ہے؟ ہاں، یہ چمکتی ہوئی چیزوں سے دھوکہ کھانا، اسی لیے اپ نے اس کو مقدم کیا۔ اور اگر صرف دھوکہ کھانے پر ہی اپ کو حیرت ہے کہ دھوکہ کھایا کیسے اپ نے؟ تو پھر اپ یوں کہیں گے: "أَتَنْخَدِعُ بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ بَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ؟" نظر ہے جملے پر؟ اگر یہی، اب اس کتاب کے جملے پر ذرا نظر رکھو، مجھے بتائیے، مجھے حیرت ہوئی ہے ایک ادمی کے دھوکہ کھانے پر، نفسِ دھوکہ کھانے پر، میں کیسے کہوں گا؟ کس لفظ کو لاؤں گا ہمزہ کے بعد؟ "تَنْخَدِعُ" کو، سمجھ میں ایا بھئی؟ یوں کہوں گا: "أَتَنْخَدِعُ بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ بَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ؟" یہ ہمزہ کے بعد "تَنْخَدِعُ" لفظ ایا، اس لفظ کو اپ نے مقدم کر دیا، معلوم ہوا اپ کے انکار اور تعجب کا مدار "تَنْخَدِعُ" دھوکہ کھانے پر اپ کو حیرت ہوئی، دھوکہ کیسے کھا لیا اپ نے؟ اور اگر میں انکار کر رہا ہوں اور تعجب کر رہا ہوں چمکتی ہوئی چیز سے دھوکہ کھانے پر، اب میں کیسے کہوں گا؟ "أَبِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ"، دیکھو اب میں کس کو مقدم کر دوں گا؟ "بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ" کو مقدم کر دوں گا، یہ اس کا مقدم ہونا ہی بتلا دے گا کہ معلوم ہوا کہ مجھے حیرت کس وجہ سے ہے؟ چمکتی ہوئی چیز سے دھوکہ کھانے پر، چمکتی ہوئی چیز سے دھوکہ کھانے پر۔ اور اگر مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ لمبے تجربے کے بعد تم نے کیسے دھوکہ کھایا؟ نفسِ دھوکہ کھانے پر حیرت نہیں، دھوکہ تو ہر ایک کھا لیتا ہے، بات کیا ہے لمبے، اتنے لمبے تجربے کے بعد کیسے دھوکہ کھایا؟ تو اب میں کیسے کہوں گا؟ "أَبَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ"، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ معلوم ہوا کہ جس پر کلام کا مدار ہے، کلام کا مرکزی نقطہ ہے، یعنی مثلاً یہاں پر جو انکار اور تعجب کا جو جس پر مدار ہے اس کو کیا کریں گے؟ مقدم کر دیں گے بھئی، بات سمجھ میں اگئی سب کو اچھی طرح؟ یہ معنی ہے: "وَکَوْنُ الْمُتَقَدِّمِ مَحَطَّ الْاِنْکَارِ وَالتَّعَجُّبِ نَحْوُ أَبَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ تَنْخَدِعُ بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ" "وَکَوْنُ الْمُتَقَدِّمِ" اور مقدم لفظ جو ہے اس کا ہونا، کیا ہونا اس کا؟ "مَحَطَّ الْاِنْکَارِ وَالتَّعَجُّبِ" تعجب اور انکار کا مدار، کہ وہ مقدم لفظ کیا ہے؟ انکار اور تعجب کا مدار ہے، اسی پر مدار ہے انکار اور تعجب کا، "نَحْوُ" مثال کے طور پر: "أَبَعْدَ طُولِ التَّجْرِبَةِ تَنْخَدِعُ بِهٰذِهِ الزَّخَارِفِ؟" کیا لمبے تجربے کے بعد اپ دھوکہ کھا جاتے ہیں ان چمکتی ہوئی، ان زیب و زینت کی چیزوں سے؟ جی، چوتھا نقطہ بیان ہو رہا ہے: "وَّسُلُوْکُ سَبِیْلِ التَّرَقِّیْ اَیِ الْاِئْتِیَانُ بِالْعَامِّ اَوَّلًا ثُمَّ الْخَاصِّ بَعْدَہٗ" "وَّسُلُوْکُ سَبِیْلِ التَّرَقِّیْ" اور ترقی کے راستے پر چلنا، سلوک کا معنی چلنا، سبیل: راستہ۔ ترقی کے راستے پر چلنا، بھئی بعض اوقات اپ کیا کرتے ہیں کلام کے اندر ایک لفظ کو مقدم کر دیتے ہیں، کیوں مقدم کرتے ہیں؟ کیونکہ اپ ترقی کے راستے پر چل رہے ہیں، چلنا چاہتے ہیں، یعنی پہلے عام کو لانا چاہتے ہیں پھر اس کے بعد خاص کو لانا چاہتے ہیں، پھر اس کے بعد اس سے زیادہ خاص کو لانا چاہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں ائی؟ یعنی یوں کہیں، ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف اپ ترقی کر رہے ہیں کلام کے اندر بھئی، کلام کے اندر اپ کیا کر رہے ہیں؟ اپ کے پاس تین چار لفظ ہیں، تین چار چیزیں ہیں، ایک ذرا ادنیٰ درجے کی، ایک متوسط درجے کی، ایک اعلیٰ درجے کی، اب اپ کلام میں تینوں کو ذکر کر سکتے ہیں، جس طرح چاہیں ذکر کر دیں، لیکن بلاغت کا نقطہ یہ ہے کہ اپ پہلے کس کو لے کر ائیں؟ ادنیٰ کو، پھر اس سے اعلیٰ، پھر اس سے اعلیٰ تاکہ ترقی کے راستے پر، ترقی کے طریقے پر ذکر ہو جائے، کس طریقے پر ذکر ہو جائے؟ ترقی کے طریقے پر، سب سے پہلے کس کو ذکر کر دیں؟ ادنیٰ کو، پھر اس کے بعد اعلیٰ، تو دیکھو ترقی ہوئی یا نہیں ہوئی؟ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف کلام کے اندر ترقی، پھر اس کے بعد اس سے اعلیٰ، دیکھو یہ اپ ترقی کے راستے پر کہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف چلتے جا رہے ہیں اپ بھئی، اس کو کہتے ہیں "سُلُوْکُ سَبِیْلِ التَّرَقِّیْ"، ترقی کے راستے پر چلنا، یعنی کلام کے اندر، کلام کے اندر ترقی کے راستے پر چلنا۔ خود بتلا رہے ہیں کیا معنی ہے "سُلُوْکُ سَبِیْلِ التَّرَقِّیْ"؟ "اَیِ الْاِئْتِیَانُ بِالْعَامِّ اَوَّلًا ثُمَّ الْخَاصِّ بَعْدَہٗ"، یعنی لانا عام کو پہلے، "ثُمَّ الْخَاصِّ بَعْدَہٗ" اس کے بعد خاص کو لے کر انا۔ پہلے کس کو لانا؟ ایک عام کو، ایسا لفظ جس میں عموم ہے، "ثُمَّ الْخَاصِّ بَعْدَہٗ" اس کے بعد خاص لفظ، یعنی ایسا لفظ جس میں خصوص ہے۔ دیکھیے مثال سے وضاحت ہو گی۔ بھئی اپ علمِ بلاغت پڑھ رہے ہیں، علمِ بلاغت، اور علمِ بلاغت کے اندر اپ نے پڑھا کہ کلامِ بلیغ اس کلام کو کہتے ہیں جو فصیح بھی ہو، یرحمک اللہ، جو فصیح بھی ہو اور مقتضائے حال کے مطابق بھی ہو۔ فصیح بھی ہو اور بلاغت ہے نا، بلیغ کلام کسے کہتے ہیں؟ جو مقتضائے حال کے مطابق بھی ہو۔ اور ایک ہے فصیح، فصیح کلام کس کو کہتے تھے؟ فصیح کلام وہ اپ نے پڑھا جس میں وہ پیچھے کئی عیوب ذکر ہوئے تھے، وہ ان عیبوں میں سے کوئی عیب اس کلام کے اندر نہ ہو اس کو کیا کہتے تھے؟ فصیح کہتے تھے بھئی، یا ذہن میں ایا بھئی؟ ہاں وہ کلام فصیح کہلاتا تھا۔ اور ایک ہے کلامِ صحیح بھئی، کلامِ صحیح کسے کہتے ہیں؟ جو عربی قوانین کے مطابق ہو، یعنی مبتدا خبر وغیرہ سارے کیا ہوں اس کے اندر؟ موجود ہیں اور نحوی قانون کے مطابق ہے تو اس کو کہیں گے کلامِ صحیح۔ اور اگر وہ عربی قوانین کے مطابق نہیں تو وہ کلامِ صحیح سرے سے ہے ہی نہیں، اور یہاں بلاغت کے اندر غیر صحیح کلام یعنی غلط کلام کی گنجائش تو ہے ہی نہیں، سب سے پہلے کلام کو صحیح ہونا چاہیے، اس کے بعد وہ فصیح بھی ہونا چاہیے جس میں وہ عیوب جو ذکر ہوئے ان میں سے کوئی عیب نہ پایا جائے، تو کلام صحیح بھی ہو یعنی تمام قوانین کے مطابق ہو، پھر وہ فصیح بھی ہو کہ اس میں وہ جو عیب ذکر ہوئے وہ عیب اس کے اندر نہ ہوں، پھر اس کے بعد یہ فصیح کلام مقتضائے حال کے مطابق بھی ہو تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ بلیغ کہلائے گا، تو تین لفظ اگئے ہمارے پاس، ایک ہے لفظِ صحیح، ایک ہے لفظِ فصیح، ایک ہے لفظِ بلیغ بھئی، اب ان تینوں کو میں اپنے کلام کے اندر ذکر کرنا چاہتا ہوں، کیا کرنا چاہتا ہوں؟ کلام میں ذکر کرنا چاہتا ہوں، تو کہنے والا کسی طرح بھی تینوں کو ذکر کر دے، لیکن بلاغت کا طریقہ کیا ہے؟ پہلے ادنیٰ، پھر اعلیٰ، پھر اس سے اعلیٰ، یا یوں کہو پہلے عام، پھر اس سے جو زیادہ جو خاص ہے، پھر اس کے بعد جو اس سے زیادہ خاص ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی، میرے پاس یہ چار کلام پڑے ہیں، کتنے؟ چار نہیں تین، میرے پاس یہ تین کلام میرے سامنے رکھے ہوئے ہیں، نظر ارہے ہیں ساروں کو؟ ہاں بطورِ مثال کے، یہ تین کلام ہیں میرے سامنے بھئی، یہ تینوں صحیح ہیں، یہ تینوں کیا ہیں؟ صحیح کلام ہیں۔ لیکن ان میں سے یہ والے دو کلام ان میں وہ عیب بھی نہیں جو وہ جو پانچ چھ عیب پیچھے ذکر ہوئے تھے، تو یہ دو فصیح بھی ہیں۔ اور وہ جو تیسرا ہے اس میں ایک عیب پایا جا رہا ہے، تو وہ صحیح تو ہے لیکن فصیح نہیں، صحیح اس لیے کیونکہ عربی قوانین کے مطابق ہے، لیکن کوئی ایسا لفظ اس میں اگیا جو زبان پر ثقیل ہے مثلاً، صورت سمجھ میں اگئی؟ اب عربی قانون کے تو مطابق ہے کلام تو صحیح ہے لیکن فصیح نہیں، جبکہ یہ باقی دو کلام کیا ہیں؟ فصیح ہیں یعنی ان میں کوئی عیب بھی نہیں ہے ان چھ سات عیبوں میں سے۔ اچھا، اس کے بعد ان دو فصیح کلاموں میں سے ایک کلام جو فصیح ہے وہ مقتضائے حال کے بھی مطابق ہے، لیکن دوسرا مقتضائے حال کے مطابق نہیں ہے، تو جو مقتضائے حال کے مطابق ہے وہ بلیغ بھی ہوا، وہ کیا ہوا؟ بلیغ بھی ہوا۔ اب اپ مجھے بتائیے، اس تین کلاموں میں بلیغ کتنے ہیں؟ ایک، اچھا، اور فصیح کتنے ہیں؟ دو فصیح ہیں، اور صحیح کتنے ہیں؟ تینوں صحیح ہیں، تو بتائیے عموم کس میں زیادہ ہے؟ صحیح سب سے زیادہ عام ہے کہ ہو سکتا ہے ایک کلام نہ بلیغ ہو نہ فصیح ہو لیکن کیا ہو؟ صحیح ہو، جیسے ان میں ایک کلام تھا۔ لیکن کوئی کلام فصیح ہو یا بلیغ ہو اور صحیح نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے کبھی؟ نہیں، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا، جو فصیح ہوگا وہ بھی صحیح ہوگا، جو بلیغ ہوگا وہ بھی کیا ہوگا؟ صحیح ہوگا۔ اچھا، معلوم ہوا سب سے زیادہ عموم کس کے اندر؟ صحیح کے اندر، اس کے بعد اس خاص جو ہے خصوص، وہ کس کے اندر ہے؟ فصیح کے اندر، تین میں سے کتنے فصیح تھے؟ دو فصیح تھے، اس سے زیادہ پھر خصوص کس کے اندر؟ بلیغ میں، کیونکہ بلیغ کلام جو ہے وہ صحیح بھی ہونا چاہیے اور فصیح بھی ہونا چاہیے، لہذا ہر بلیغ فصیح ہوگا، لیکن ہر فصیح بلیغ نہیں، ابھی اپ نے دیکھا ایک کلام کیا ہے؟ صحیح بھی ہے، فصیح بھی ہے، لیکن بلیغ نہیں، تو فصیح کے لیے بلیغ ہونا ضروری نہیں، لیکن بلیغ کے لیے فصیح ہونا ضروری ہے۔ معلوم ہوا سب سے زیادہ عام کون سا؟ صحیح، اس سے کم عام کون سا؟ فصیح، یعنی وہ خاص ہے اس کے مقابلے میں، اور سب سے زیادہ خاص کون؟ بلیغ ہے، بلیغ۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ اب میں کلام کے اندر ان تینوں کو ذکر کرنا چاہتا ہوں، تو کون کون سے تین لفظ ذکر کرنا چاہتا ہوں؟ صحیح بھی، بلیغ بھی اور فصیح بھی، تو کس کو، کسی ایک کو مقدم کرنا پڑے گا اور کسی ایک کو مؤخر، تو یہاں پر ترقی کے طریقے پر ذکر کیا جائے گا، اور کس طریقے پر؟ اولاً پہلے کس کو ذکر کریں گے؟ ادنیٰ، سب سے ادنیٰ کون ہے ان میں؟ صحیح، اس سے اعلیٰ کون؟ فصیح، اس سے اعلیٰ؟ بلیغ، لہذا یوں کہوں گا: "هٰذَا کَلَامٌ صَحِیْحٌ فَصِیْحٌ بَلِیْغٌ"، "هٰذَا کَلَامٌ صَحِیْحٌ فَصِیْحٌ بَلِیْغٌ"، یہ ہے دیکھو ترقی کا طریقہ، یعنی ادنیٰ، پہلے ادنیٰ کو ذکر کیا جائے، پھر اس سے اعلیٰ کو اور پھر اس سے اعلیٰ کو ذکر کیا جائے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں اگئی؟ دیکھیے: "وَّسُلُوْکُ سَبِیْلِ التَّرَقِّیْ" اور داعیِ تقديم کیا ہوگا؟ ترقی کے راستے پر چلنا، "اَیِ الْاِئْتِیَانُ بِالْعَامِّ اَوَّلًا ثُمَّ الْخَاصِّ بَعْدَہٗ" یعنی عام کو پہلے اولاً لے کر انا پھر اس کے بعد خاص کو لے کر انا، "لِاَنَّ الْعَامَّ اِذَا ذُکِرَ بَعْدَ الْخَاصِّ لَا یَکُوْنُ لَہٗ فَاۤئِدَةٌ" اس لیے کیونکہ عام جو ہے جب اس کو خاص کے بعد ذکر کر دیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کس کو؟ بھئی ترقی کا طریقہ کیا ہے کلام کے اندر؟ ادنیٰ کو پہلے ذکر کیا جائے اور اعلیٰ کو بعد میں، لہذا کس کو مقدم کریں گے؟ عام کو مقدم کریں گے یا خاص کو؟ عام کو مقدم کریں گے، توجہ ہے بھئی؟ عام مقدم اور خاص مؤخر، اس کا عکس نہیں کریں گے، اگر عام کو مؤخر کر دیا اور خاص کو مقدم کر دیا پھر کوئی فائدہ ہی نہیں لانے کا۔ کیسے؟ اگر میں کیا کہوں: "هٰذَا کَلَامٌ بَلِیْغٌ فَصِیْحٌ صَحِیْحٌ"، اس طرح کہتا ہوں تو لانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں، اپ نے میرے سامنے ایک جملہ کہا تھا میں نے آپ کا جملہ سنتے ہی کہا، هذا—یہ جو آپ کا کلام ہے اس کی طرف میں نے اشارہ کیا، میں نے کہا: هذا كلام صحيح فصيح بليغ۔ لیکن اس کے بجائے اگر میں کیا کہوں؟ هذا كلام بليغ فصيح صحيح۔ میں نے کیا کیا؟ عكس—یعنی خاص کو پہلے ذکر کیا، بليغ کو، اس سے کم جو خاص تھا، فصيح، اس کے بعد ذکر کیا، یعنی عام کو، اور اس سے زیادہ جو عام تھا اس کو سب سے آخر۔ اب یہ عام لانے کا فائدہ ہی کوئی نہیں۔ ذرا پہلے والی صورت بناؤ، دیکھو۔ بھئی، ایک کلام صحیح ہو، تو کیا اس کا فصیح ہونا ضروری ہے؟ نہیں! اور ایک کلام فصیح ہو، تو کیا اس کا بلیغ ہونا ضروری ہے؟ نہیں، یہ بھی ضروری نہیں۔ لہٰذا، جب میں نے کہا، پہلے جب میں نے کہا تھا: هذا كلام صحيح—جب صحیح کہا تھا، تو کیا اس صحیح سے پتہ چلا تھا کہ وہ فصیح ہے یا نہیں؟ اس میں تو دونوں احتمال تھے۔ لہٰذا، آگے جب آیا: فصيح—یک نیا فائدہ حاصل ہوا کہ صحیح ہونے کے ساتھ ساتھ یہ کلام کیا ہے؟ فصیح بھی ہے۔ پھر کیا فصیح کے لیے بلیغ ہونا ضروری ہے؟ فصیح کے لیے تو بلیغ ہونا ضروری نہیں ہے، اگر وہی فصیح مقتضائے حال کے مطابق ہے تو بلیغ ہے، اگر مقتضائے حال کے مطابق نہیں تو بلیغ نہیں! لہٰذا، فصیح کہا، تو بلیغ کا پتہ نہیں۔ لہٰذا، اب جب میں بلیغ کا لفظ لاؤں گا، تو ایک اور فائدہ حاصل ہو جائے گا کہ معلوم ہوا یہ جو فصیح کلام ہے، یہ مقتضائے حال کے بھی مطابق ہے۔ تو دیکھو، ہر لفظ سے نیا نیا فائدہ آتا جائے گا، جب آپ ترقی کے طریقے پر چلیں گے۔ صحیح سے فصیح کا پتہ نہیں تھا، فصیح کا لفظ آیا اس سے فصیح کا پتہ چل گیا۔ پھر اس کے بعد بلیغ ہونے کا بھی پتہ نہیں تھا، اگلا لفظ بلیغ آیا تو کس کا پتہ چل گیا؟ بلیغ کا پتہ چل گیا۔ لیکن اگر آپ اس کا عکس کریں، پھر دیکھو وہ سارے یہ ترتیب ہی خراب ہو جائے گی۔ مثلاً، میں کیا کہتا ہوں؟ هذا كلام بليغ فصيح صحيح—اب جب میں نے کہہ دیا بلیغ، شروع میں ہی لے آیا، تو بلیغ کسے کہتے ہیں؟ جو صحیح بھی ہو اور فصیح بھی ہو۔ تو اس بلیغ کے اندر ہی صحیح بھی آگیا، بلیغ کے اندر ہی فصیح بھی آگیا، بلیغ کے اندر ہی مقتضائے حال کے جو مطابق ہو تینوں چیزیں آگئیں۔ تو اسی کے اندر فصیح آیا یا نہیں آیا؟ آیا! اور کیا آیا؟ صحیح بھی آیا! اب جب میں آگے فصیح لاتا ہوں، کوئی نیا فائدہ ہوا؟ نہیں، وہ تو بلیغ سے ہی پتہ چل گیا تھا، بلیغ کہتے ہی اس کو ہیں جو فصیح بھی ہو۔ اور صحیح بھی ہو۔ تو لہٰذا، آگے جب فصیح لے کر آیا، اس کا لانا بیکار ہوا، کوئی فائدہ نہیں اس کے لانے کا۔ اس کے بعد آخر میں، میں صحیح لے کر آیا، کوئی فائدہ ہوا؟ نہیں، بلیغ سے کیا پتہ چل گیا تھا؟ صحیح بھی ہے، بلیغ ہی سے پتہ چل گیا تھا صحیح بھی ہے اور فصیح بھی ہے۔ لہٰذا، اس صورت میں جب پہلے خاص کو ذکر کر دیا جائے اور پھر عام کو لایا جائے، تو عام کے لانے کا کوئی فائدہ نہیں! لیکن اگر عام کو پہلے لایا جائے اور اس کے بعد خاص کو لایا جائے، تو پھر کیا ہوگا؟ فائدہ ہوگا، سننے والے کو ہر لفظ، ہر لفظ سے نیا نیا فائدہ ہوتا چلا جائے گا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یہی بات ذکر کر رہے ہیں: لأن العام إذا ذكر، ذكر بعد الخاص—اسی لیے کیونکہ عام جب اس کو ذکر کر، ذکر کیا جائے خاص کے بعد، کس کو؟ عام کو! کس کے بعد؟ خاص کے بعد! تو یہ ترتیب ترقی کا طریقہ ہے یا عکس ہے یہاں؟ عکس ہے! تو عام کو پہلے ذکر کیا اس کے بعد خاص کو ذکر کیا، فلا يكون له فائدة—تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ نحو—مثال کے طور پر بھئی، اب مثال ذکر کر رہے ہیں سلوک سبيل الترقي کی بھئی: هذا، هذا الكلام صحيح فصيح بليغ—تو دیکھو، صحیح پہلے ہے، بعد میں فصیح آیا، نیا فائدہ حاصل ہوا، پھر بلیغ آیا، تو نیا فائدہ حاصل ہوا! فإذا قلت—اگر، پس جب آپ نے یہ کہا، اب دیکھو عکس کریں گے: فإذا قلت فصيح بليغ—ہاں! جب آپ نے کہا فصيح—صرف ایک ہی ترتیب بدل رہے ہیں، میں نے تو ساروں کی ترتیب بدل دی تھی، کیا کیا تھا؟ بلیغ کو پہلے، فصیح کو اس کے بعد، اور صحیح، صحیح کو اس کے بعد! یہ صرف ایک لفظ ہی سمجھا رہے ہیں، کہتے ہیں اگر آپ یوں کہیں: فصيح بليغ—بھئی، پورا جملہ کریں اس کو: هذا الكلام فصيح بليغ—یوں آپ نے کہا، لا تحتاج إلى ذكر صحيح—اب بلیغ کے بعد یہ محتاج نہیں ہے صحیح کے ذکر کا! توجه ہے؟ میں نے کیا کہا؟ هذا الكلام فصيح صحيح، فصيح بليغ—اب آخر میں صحیح بڑھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جب فصیح کہہ دیا، تو فصیح سے ہی پتہ چل گیا کہ یہ کیا ہے؟ صحیح ہے! یہ معنی ہے کہ فإذا قلت—جب آپ نے کہا فصيح بليغ—تو لا تحتاج إلى ذكر صحيح—تو یہ محتاج نہیں ہے صحیح کے ذکر کا، ولا فصيح—اور نہ فصیح کے ذکر کا! وإذا قلت—اور جب آپ یوں کہیں: بليغ—میں صرف یہ کہتا ہوں: هذا الكلام بليغ—جب بلیغ کہہ دیا، اب نہ تو صحیح کہنے کی ضرورت آگے اور نہ فصیح آگے کہنے کی ضرورت ہے اس کے بعد، کیونکہ بلیغ وہ ہوگا جو صحیح بھی ہو اور جو فصیح بھی ہو۔ یہ معنی وإذا قلت—اور جب آپ نے کہا: بليغ، أي هذا الكلام بليغ—صرف اتنا آپ نے کہا، تو یہ لا تحتاج إلى ذكر صحيح—یہ محتاج نہیں ہے صحیح کے ذکر کا، ولا فصيح—اور نہ فصیح کے ذکر کا محتاج ہے بھئی! بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ ومراعاة التركيب الوجودي—اور رعایت رکھنا وجودی ترتیب کی! بھئی، دیکھیے! آپ اپنے کلام کے اندر دو تین چیزوں کو ذکر کرنا چاہتے ہیں، آپ جیسے مرضی ان کو ذکر کریں، کسی ایک کو مقدم کر دیں، کسی ایک کو مؤخر کر دیں، لیکن بلاغت کی رعایت، بلاغت کے اعتبار سے ایک نقطہ یہ کہ بعض اوقات ایک لفظ کو مقدم کیا جاتا ہے کیونکہ خارج کے اندر اور واقعے کے اندر وہ چیز پہلے ہوتی ہے، لہٰذا متکلم بھی اس کا جو لفظ ہے اس کو مقدم کر دیتا ہے، اور ایک چیز واقعے کے اندر مؤخر ہوتی ہے تو متکلم کیا کرتا ہے؟ اس کا جو لفظ ہے اس کو بھی مؤخر کر دیتا ہے۔ جیسے دیکھیے بھئی، انسان جو ہے اس کی زندگی کی مختلف حالتیں ہیں، آپ اس کی زندگی کی حالتوں کو بیان کرنا چاہتے ہیں، تو اس میں مثلاً تین حالتیں: بچہ ہونا—شروع میں انسان کیا ہے؟ بچہ ہے، پھر اس کے بعد جوان ہوتا ہے، تو جوان ہونا دوسری حالت ہے، اور پھر تیسری حالت بوڑھا ہونا، یہ چوتھی حالت ہے۔ تو اب آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں، بھئی دیکھیے، میرے کلام پہ نظر رکھنا! میں بیان کیا کرنا چاہتا ہوں؟ انسانی زندگی کے مختلف ادوار، مختلف حالتیں۔ میں کہتا ہوں: بھئی، انسان کی زندگی کی مختلف حالتیں ہیں، مثلاً بوڑھا ہونا، بچہ ہونا، جوان ہونا—کلام میرا غلط ہے یا صحیح ہے؟ کلام تو میرا صحیح ہے، یہی حالتیں ہیں، لیکن کوئی ترتیب ہے؟ ترتیب نہیں! ترتیب نہیں! خارج میں، انسان پہلے بوڑھا ہوتا ہے کہ پہلے بچہ ہوتا ہے؟ پہلے بچہ! تو خارج کی اور وجود میں جو چیز مقدم تھی، آپ کلام میں بھی اس کو مقدم کر دیتے ہیں، تو جس سے اس میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو آپ کس چیز کی رعایت رکھتے ہیں؟ خارج اور واقعے کی! لہٰذا، خارج اور واقعے کے اعتبار سے ترتیب کی رعایت رکھتے ہوئے آپ مثلاً کیا کہتے ہیں؟ انسان کی زندگی کے مختلف احوال ہیں، مثلاً بچہ ہونا، اس کے بعد جوان ہونا، اور بوڑھا ہونا—دیکھو، اب آپ نے بچہ ہونا اس لفظ کو مقدم کیا، کیوں مقدم کیا؟ کس کی رعایت رکھی؟ خارج اور واقعے کی، یعنی وجود کی رعایت رکھی، یہ مقدم ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ومراعاة التركيب الوجودي—اور رعایت رکھنا وجودی ترتیب کی، یعنی جس طرح وجود میں ترتیب ہے، ایک چیز پہلے ہے اس کو پہلے لانا، جو بعد میں ہے اس کو بعد میں لانا! جیسے بھئی، بھئی دیکھیے، ایک ہے نیند اور ایک ہے اونگھ آنا۔ اونگھ آتی ہے انسان کو، غفلت طاری ہو جاتی ہے، نیند آنے لگتی ہے، تو پہلے نیند آتی ہے یا پہلے اونگھ آتی ہے انسان کو؟ پہلے خارج میں اونگھ آتی ہے، پھر اس کے بعد نیند آیا کرتی ہے۔ چنانچہ، تو اونگھ خارج میں اور وجود میں مقدم، لہٰذا اسی لیے قرآن کے اندر بھی نیند اور اونگھ کا ذکر آیا، تو وہاں پر بھی اونگھ کو نیند پر کیا کر دیا گیا؟ مقدم کر دیا گیا۔ دیکھیے بھئی، نحو—مثال کے طور پر: لا تأخذه سنة ولا نوم—اور نہ تو اس کو اونگھ آتی ہے ولا نوم—اور نہ نیند! یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند آتی ہے! تو سنة لفظ کو مقدم کر دیا گیا نوم پر، اور نقطہ کیا ہے؟ کس کی رعایت رکھی گئی؟ ترتیبِ وجودی کی، یعنی خارج اور واقعے کی ترتیب رکھی گئی، اس کے مطابق۔ چلیے، بس بھئی! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔