سبق نمبر۔۲۲ الكلام على الخبر. الخبر إما أن يكون جملة فعلية أو اسمية. فالأولى موضوعة لإفادة الحدوث في زمن مخصوص مع الاختصار، وقد تفيد الاستمرار التجددي بالقرائن إذا كان الفعل مضارعاً، كقول طريف: أو كلما وردت عكاظ قبيلة بعثوا إليّ عريفهم يتوسم الكلام على الخبر. خبر پر كلام يعنى خبر کے بارے میں كلام۔ آپ نے پڑھا تھا کہ علم معانی جو ہے وہ آٹھ ابواب اور ایک خاتمے پر مشتمل ہے اور پھر اس کے بعد پہلا باب شروع ہوا تھا خبر اور انشاء کے بارے میں۔ سب سے پہلے چند باتیں خبر و انشاء دونوں کے بارے میں انہوں نے بتائیں۔ اب اس کے بعد خبر کے کو علیحدہ ذکر کر رہے ہیں اور اس کے بعد انشاء کو علیحدہ ذکر کریں گے بھئی علیحدہ۔ تو سب سے پہلے خبر کے بارے میں بتلا رہے ہیں الكلام على الخبر خبر پر كلام يعنى خبر کے بارے میں كلام۔ الخبر إما أن يكون جملة فعلية أو اسمية خبر یا تو جملہ فعلیہ ہوگی یا جملہ اسمیہ۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ جملہ دو قسم پر ہے ایک جملہ فعلیہ ہے اور ایک جملہ اسمیہ۔ جملہ فعلیہ وہ ہے جس کے اندر مسند فعل ہوتا ہے اور مسند الیہ اس کے لیے فاعل یا نائب فاعل آتا ہے بھئی اور جملہ اسمیہ جس کے اندر ایک مبتدا ہوتا ہے اور ایک اس کی خبر ہوتی ہے بھئی جملہ اسمیہ۔ یاد رکھیے یہ جو جملہ فعلیہ ہے اس کو وضع کیا گیا ہے حدوث کے لیے۔ یہ کون سا معنی ادا کرتا ہے؟ حدوث والا معنی ادا کرتا ہے۔ حدوث کا معنی یہ ہے کہ ایک چیز اس کا پہلے وجود نہیں نہ ہو اور پھر اس کا وجود پایا جائے تو اس کو کہتے ہیں حدوث بھئی، کیا کہتے ہیں؟ حدوث کہتے ہیں۔ دیکھیے مثلاً میں کہتا ہوں ضرب زيد زيد نے پٹائی کی۔ تو دیکھو یہ پٹائی زمانہ ماضی میں ہوئی لیکن اس زمانے میں جس میں یہ پٹائی ہوئی اس سے پچھلے زمانے کے اندر وہ پٹائی نہیں تھی اس کا وجود ہی نہیں تھا اور پھر اس سے اگلے زمانے میں اس کا وجود پایا گیا۔ تو پہلے ایک چیز نہ ہو اور پھر پائی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدوث بھئی حدوث۔ اسی کو تجدد بھی کہتے ہیں۔ حدوث اور تجدد کا ایک معنی بھئی۔ حدوث کا کیا معنی؟ کسی چیز کا ہونا پہلے نہ تھی اور پھر پھر پائی جائے، پہلے نہ ہو اور پھر پائی جائے تو اس کو کہتے ہیں حدوث اور تجدد کہتے ہیں حدوث اور تجدد۔ تو جملہ فعلیہ جو ہے یہ حدوث اور تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی یہ بتلاتا ہے کہ ایک چیز جو ہے ایک چیز کا ہونا اس میں بتلایا جاتا ہے۔ ایک چیز کا ہونا بتلایا جاتا ہے کہ پہلے نہیں تھی اور پھر اس کا وجود پایا گیا یا اس کا وجود پایا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ ہے حدوث بھئی اور جملہ اسمیہ جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے ثبوت کے لیے۔ کس کے لیے؟ ثبوت کے لیے۔ مثلاً میں کہتا ہوں زيد قائم یہ جملہ اسمیہ ہے اور جملہ اسمیہ کس کس چیز کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ ثبوت کے لیے۔ دیکھیے اس جملے کے اندر زید پر میں قائم کا حکم لگا رہا ہوں یعنی قیام کو ثابت کر رہا ہوں کس کے لیے؟ زید کے لیے۔ تو دیکھو اس میں ثبوت ہے زید کے لیے کس چیز کا؟ قیام کا۔ تو جملہ اسمیہ جو ہے وہ ثبوت پر دلالت کرتا ہے کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے۔ جیسے زيد قائم زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام ثابت ہے کھڑا ہونا ثابت ہے بھئی۔ تو جملہ فعلیہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث اور تجدد پر اور جملہ اسمیہ کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ ثبوت پر ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے۔ پہلے تھی یا پہلے نہیں تھی اس سے بحث نہیں۔ زيد قائم اس نے صرف اتنا بتایا کہ زید کے لیے قیام ثابت ہے بھئی۔ پہلے تھا یا پہلے نہیں تھا اس سے بات ہی اس نے اس کو اس نے ذکر ہی نہیں کیا۔ صرف کیا بتلایا؟ زید کے لیے قیام ثابت اور جملہ فعلیہ ایک چیز کے ہونے کو بتلاتا ہے اور ہونا کب ہوگا ایک چیز کا؟ جب پہلے نہ ہو۔ ضرب زيد زید نے پٹائی کی۔ کس زمانے میں کی ہے؟ زمانہ ماضی میں لیکن جس زمانے میں بھی کی پٹائی اس سے پچھلے زمانے میں یہ پٹائی تھی؟ یہ نہیں تھی پھر پائی گئی تو یہ پٹائی ہوئی اور اس کا وجود آیا بھئی، وجود آیا۔ مستقبل کا فعل لے لو يضرب زيد زید کیا کرے گا؟ زید پٹائی کرے گا۔ دیکھو پٹائی کر معلوم ہوا ابھی ضرب کا وجود نہیں ہے پھر ضرب آئے گی، یہ پائی جائے گی بھئی تو ضرب ہوگی بھئی۔ تو دیکھو جملہ فعلیہ کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث اور تجدد پر، ایک چیز کے ہونے پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ صرف کیا بتلاتا ہے؟ کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے۔ اس میں ہونے کا اور یا نہ ہونے کا ذکر نہیں ہوتا۔ اس میں ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے کیا ہوگا؟ ثبوت ہوگا یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہوگی بھئی۔ جی تو یہاں تک خلاصہ کلام یہ ہوا کہ جملہ فعلیہ کو وضع کیا گیا ہے۔ وضع کا معنی جانتے ہو بھئی؟ مقرر کرنا مقرر کرنا۔ جیسے بھئی ایک شخص کا بیٹا ہوتا ہے اور وہ اس کا نام زید رکھ دیتا ہے۔ تو دیکھو اس نے لفظ زید کو اپنے اس بیٹے کے لیے مقرر کر دیا۔ تو کوئی بھی نام رکھ سکتا تھا لیکن اس نے مثلاً کیا رکھا؟ زید۔ اب اس کے بیٹے کو سارے کیا کہیں گے؟ زید کہیں گے۔ تو اسی طرح یہ جو جملہ فعلیہ ہے اس کو مقرر کیا گیا اس کو بنایا گیا کس مقصد کے لیے؟ حدوث اور تجدد کے معنی کا فائدہ دینے کے لیے اور جملہ اسمیہ کو کس لیے وضع کیا گیا؟ ثبوت کا معنی کا فائدہ دینے کے لیے۔ ثبوت کا کیا معنی؟ کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے۔ یعنی جو مسند ہے وہ مسند الیہ کے لیے ثابت ہے بھئی ثابت ہے۔ پھر یاد رکھیے یہ جملہ فعلیہ جو ہے اس کے ساتھ کبھی کوئی قرینہ مل جاتا ہے تو پھر یہ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے جبکہ فعل جو ہے وہ فعل مضارع ہو۔ آپ جانتے ہیں فعل ماضی بھی ہو سکتا ہے مضارع بھی ہو سکتا ہے، تو اور بات خبر کی چل رہی ہے امر اور نہی کی بات نہیں کیونکہ وہ تو کس کی قسم میں سے ہیں؟ انشاء کی قسم میں سے ہیں۔ تو جملہ فعلیہ یا تو اس میں کیا آئے گا؟ فعل مضارع ہوگا یا کیا ہوگا؟ فعل ماضی۔ اگر فعل مضارع ہو اور پھر ساتھ کوئی قرینہ بھی بعض اوقات مل جاتا ہے تو وہ وہ جو جملہ ہے وہ وہ حدوث کے ساتھ ساتھ استمرار کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ تو جملہ فعلیہ وضع ہے حدوث اور تجدد کے لیے، لیکن اگر کبھی اس کے ساتھ کوئی قرینہ مل جائے تو یہ حدوث اور تجدد کے ساتھ ساتھ استمرار کا بھی فائدہ دے گا۔ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استمرار کا بھی فائدہ دے گا بھئی، جبکہ فعل فعل مضارع ہو بھئی، فعل کون سا ہو؟ فعل مضارع ہو۔ تو جملہ فعلیہ جب فعل مضارع ہو اور اس کے ساتھ کوئی قرینہ بھی مل جائے تو کبھی کبھار پھر وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استمرار۔ استمرار کا معنی ہے ایک چیز کا مسلسل ہونا، ایک چیز کا مسلسل ہونا۔ بھئی پہلے استمرار نہیں تھا ضرب زيد زید نے پٹائی کی۔ دیکھو اس میں مسلسل ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ مسلسل ہونے کا، زید نے یہ پٹائی کی ہے اور کس زمانے میں کی ہے؟ زمانہ ماضی میں۔ تو اس سے پہلے پٹائی کا وجود نہیں تھا پھر پٹائی ہوئی، پٹائی کا وجود پایا گیا اور پھر ختم بھی ہو گئی گزر بھی گئی۔ تو اس میں استمرار نہیں، لیکن اگر فعل مضارع ہو اور اس کے ساتھ کوئی قرینہ بھی مل جائے، قرینہ کسے کہتے تھے؟ القرينة هو أمر يشير إلى المطلوب، قرینہ وہ چیز ہے جو مطلوب کی طرف اشارہ کر دے۔ جو کیا کر دے؟ اشارہ۔ تو مثلاً آپ ایک فعل مضارع لے کر آئے ہیں اور کوئی چیز وہاں پر کوئی بھی چیز ہو جو یہ بتلا دے کہ اس فعل مضارع کے اندر استمرار ہے تو اس کو قرینہ کہیں گے، کیا کہیں گے؟ اس کو قرینہ کہیں گے بھئی۔ سو استمرار کہتے ہیں ایک چیز کا بار بار ہونا، مسلسل ہونا۔ یہی پٹائی زید اب اگر مسلسل کرتا جا رہا ہے تو اس کو کہیں گے استمرار، کیا کہیں گے؟ استمرار کہیں گے، یعنی استمرار کا گویا کیا معنی ہوا؟ مسلسل بھئی مسلسل، تسلسل کے ساتھ ایک چیز کا ہونا۔ بار بار ہوتے رہنا ایک چیز کا، یہ ہے استمرار بھئی۔ تو خلاصہ کلام کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ کس چیز کے لیے وضع ہے؟ حدوث اور تجدد کے لیے اور کبھی کبھار یہ استمرار کا بھی فائدہ دے گا جبکہ فعل کون سا ہو؟ فعل مضارع ہو بھئی اور استمرار کا کیا معنی ہے؟ مسلسل ہونا، ایک چیز کا بار بار ہونا بھئی، ہوتے رہنا یہ ہے استمرار بھئی۔ اس کے مقابلے میں دوسرا جملہ اسمیہ تھا۔ جملہ اسمیہ کس چیز کے لیے وضع ہے؟ ثبوت کے لیے وضع ہے۔ وہ یہ بتلاتا ہے کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے۔ زيد قائم کیا معنی؟ زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ زيد عالم کیا معنی؟ زید کے لیے عالم ہونا ثابت ہے اس کے لیے علم ثابت ہے بھئی۔ تو جملہ اسمیہ صرف ثبوت کا فائدہ دیتا ہے لیکن کبھی اس کے ساتھ اگر قرینہ مل جائے تو وہ ثبوت کے ساتھ ساتھ دوام کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ کس چیز کا؟ دوام کا بھی۔ جملہ فعلیہ جب فعل مضارع ہو اور قرینہ مل جائے تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استمرار اور جملہ اسمیہ اس کے ساتھ کوئی قرینہ مل جائے تو وہ ثبوت کے ساتھ ساتھ دوام کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ دوام کا معنی بھی ہمیشہ بھئی ہمیشہ۔ دوام کا کیا معنی؟ ہمیشہ ہونا۔ مثلاً دیکھیے بھئی میں آپ سے کہتا ہوں زيد طويل القامة زید لمبے قد والا ہے۔ زید لمبے قد والا، یہ کون سا جملہ زيد طويل القامة؟ جملہ اسمیہ ہے اور جملہ اسمیہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ثبوت کا، تو اس میں بھی زید کے لیے ثابت کیا گیا لمبے قد کو، زید کیا ہے؟ لمبے قد والا ہے۔ لیکن ایک قرینہ ساتھ مل گیا اور اس نے یہاں دوام کا بھی فائدہ دیا۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں ایک آدمی کا قد لمبا ہو تو وہ قد ہمیشہ اس کا لمبا ہی رہتا ہے یا قد کبھی چھوٹا ہو جاتا ہے کبھی لمبا ہو جاتا ہے؟ ہمیشہ ہی لمبا رہتا ہے۔ معلوم ہوا طويل القامة یہ صفت جو زید کے لیے ثابت کی گئی یہ ایسی صفت ہے جب کسی انسان کو حاصل ہوتی ہے تو پھر یہ اس سے جدا نہیں ہوتی بھئی ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے بھئی۔ تو یہ قرینہ خارجیہ اس نے دوام کا بھی فائدہ دے دیا، بتلا دیا کہ یہ صفت طويل القامة جو ہے زید کے لیے ثابت ہے اور کس طریقے پر ثابت ہے؟ دوام کے طریقے پر کہ وہ ہمیشہ اس کا قد کیا ہے؟ دائماً اس کا قد طویل ہی ہے بھئی دائماً بھئی۔ بات مثال سے سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو جملہ فعلیہ جو ہے وہ وضع ہے کس چیز کے لیے؟ حدوث اور تجدد۔ حدوث اور تجدد کا کیا معنی ہے؟ ایک چیز کا ہونا، ایک چیز کا پایا جانا جو پہلے نہیں تھی اب پائی جائے تو وہ ہے حدوث اور حدوث اور تجدد میں نے بتلایا دونوں کا ایک ہی معنی ہے اور جملہ فعلیہ کے ساتھ جب کوئی قرینہ مل جائے تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استمرار کا فائدہ دیتا ہے۔ استمرار کا کیا معنی؟ مسلسل ہونا ایک چیز کا بھئی مسلسل اور جملہ اسمیہ جو ہے وہ کس چیز کے لیے وضع ہے؟ ثبوت کے لیے وضع ہے اور اس کے ساتھ جب کوئی قرینہ مل جائے وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ وہ دوام کا فائدہ دیتا ہے بھئی دوام کا فائدہ دیتا ہے۔ تو زيد قائم میں نے کہا، اس کے اندر دوام پر کوئی قرینہ نہیں ہے کہ یہ قیام ہر وقت زید کے لیے ثابت ہے ایسا نہیں ہے لیکن زيد طويل القامة یہ جملہ جو ہے اس کے اندر ایک قرینہ خارجیہ آیا اس نے ہمیں بتایا کہ یہ صفت جب انسان کو حاصل ہوتی ہے پھر دائماً اس کے ساتھ رہتی ہے موت تک اسی کے ساتھ ہے اس سے جدا نہیں ہوتی بھئی۔ اس قرینہ خارجیہ نے ہمیں بتلایا کہ یہاں طویل القامت ہونے کا ثبوت جو ہے زید کے لیے، یہ کس طریقے پر ہے؟ دوام کے طریقے پر ہے، وہ دائماً طویل القامت ہے بھئی۔ یہ ہے قرینہ بھئی یہ قرینہ اور یہ ہے دوام بھئی۔ تو دو لفظ آ گئے، ایک آیا دوام ایک آیا استمرار۔ دونوں میں فرق سمجھ لیجیے۔ بھئی دوام کا معنی بھی آسان لفظوں میں دوام کا کیا معنی؟ ہمیشہ۔ استمرار کا بھی وہی معنی، مسلسل یا ہمیشہ کہو۔ لیکن فرق ہے ان دونوں میں۔ بھئی طویل القامت، زید کے لیے طویل القامت ہونا ثابت ہے دوام کے طریقے پر۔ دوام، ہمیشہ، یعنی دائماً اس کے ساتھ یہ لمبا قد ہے، ایسا نہیں کہ وہ جدا ہوتا ہے پھر آ جاتا ہے، جدا ہوتا ہے پھر طویل القامت ہو جاتا ہے ایسا نہیں لیکن استمرار، استمرار میں اسی حدوث بار بار حدوث پایا جاتا ہے بار بار ایک چیز کا ہونا۔ مثلاً ضرب کے اندر استمرار کیا ہوگا؟ زید مثلاً ایک آدمی کی مسلسل پٹائی کرتا جا رہا ہے اب آپ کہیں گے زيد يضرب، زید پٹائی کر رہا ہے اور کس طریقے پر ہے؟ استمرار کے طریقے پر ہے۔ دیکھو پٹائی کسے کہتے ہیں؟ مثلاً زید نے سوٹی کے ساتھ یا کسی چیز کے ساتھ دوسرے کو ضرب لگائی، آپ کہیں گے ضرب واقع ہوئی ضرب زيد۔ تو ضرب پہلے نہیں تھی، پائی گئی اور پھر ختم بھی ہو گئی یہ ہے حدوث۔ پہلے نہیں تھی پائی گئی اور پھر ختم، یہ ہوا حدوث۔ پھر وہ دوسری ضرب لگاتا ہے، یہ دوسری ضرب بھی پہلے نہیں تھی، ہوئی اور پھر ختم ہو گئی اس کا حدوث ہوا۔ پھر تیسری ضرب لگاتا ہے، وہ تیسری ضرب ہوئی اور پھر وہ ختم بھی ہو گئی۔ پھر چوتھی ضرب لگاتا ہے، یہ ضرب ہوئی اور پھر ختم بھی ہو گئی۔ تو استمرار کے اندر ایک چیز کا بار بار ہونا پایا جاتا ہے دوام نہیں ہوتا اس کے اندر۔ دوام تو کیا ہے؟ مسلسل ایک چیز ثابت ہے، جدائی ہے ہی نہیں وہاں پر۔ لیکن استمرار میں کیا ہے؟ بار بار ہوتی چلی جا رہی ہے وہ وہی چیز بھئی۔ زید طویل القامت ہے وہاں ایسا نہیں ہے کہ طویل القامت ہے پھر ختم ہوا، پھر طویل القامت ہے پھر ختم ہوا، بار بار طویل القامت ہوتا جا رہا ہے ایسا ہے وہاں پر؟ نہیں، وہاں دوام، مسلسل ہے یعنی ہمیشہ ہے ہر وقت ہے، وہاں ہونا نہیں ہے وہاں مسلسل ثبوت ہے زید کے لیے، مسلسل کیا ہے؟ ثبوت ہے زید کے لیے۔ تو استمرار اور دوام میں فرق سمجھ آیا بھئی؟ استمرار میں کیا ہوگا؟ ایک چیز بار بار ہوگی۔ جبکہ دوام کے اندر بار بار ہونا نہیں بلکہ مسلسل ثبوت ہوگا، دائماً کیا ہوگا؟ ثبوت ہوگا۔ تو یہ دونوں میں فرق ہے۔ لیکن یاد رکھیے یہ ایک دوسرے کی جگہ بھی عام طور پر استعمال ہو جاتے ہیں لیکن ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوں آپ بہرحال سمجھ گئے۔ تو کوئی موقع ہے استمرار کا وہ کہنے والا دوام کہہ دیتا ہے، آپ سمجھ جائیں گے کہ یہ جملہ فعلیہ ہے، جملہ فعلیہ میں تو دوام نہیں ہوتا اس میں تو کیا ہوتا ہے؟ استمرار، لیکن اس نے لفظ دوام ذکر کیا معلوم ہوا دوام بول کر کیا مراد ہے؟ استمرار مراد ہے۔ اور کبھی جملہ اسمیہ ہوگا اس کے ساتھ دوام کا لفظ آنا چاہیے لیکن وہ کیا کہہ دے گا؟ استمرار کہہ دے گا، لیکن آپ سمجھ گئے کہ یہ تو جملہ اسمیہ ہے اور جملہ اسمیہ میں تو استمرار نہیں ہوتا، معلوم ہوا استمرار سے کیا مراد ہے؟ دوام مراد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ایک دوسرے کی جگہ استعمال اور پھر استمرار استمرار مثلاً دونوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے پھر دونوں میں فرق کرتے ہیں۔ فعل کے لیے بھی استمرار کا لفظ بول دیتے ہیں، جملہ اسمیہ میں بھی استمرار کا لفظ بول دیتے ہیں۔ لیکن فعل کے لیے استمرار ہو تو اس کو استمرارِ تجددی کہتے ہیں۔ فعل کے لیے استمرار ہو تو وہ کون سا استمرار ہے؟ استمرارِ تجددی۔ تجدد کا کیا معنی تھا؟ ہونا ایک چیز کا، پہلے نہیں تھی اور پھر پائی گئی۔ ایک چیز کا ہونا اور پایا جانا۔ تو استمرارِ تجددی کا کیا معنی ہوا؟ ایک چیز کا مسلسل ہوتے رہنا، بس یہ ہے استمرارِ تجددی۔ اور دوسرے کو پھر کہتے ہیں جو جملہ اسمیہ کے ساتھ کبھی استمرار استعمال کر لیں تو اسے کہتے ہیں استمرارِ ثبوتی۔ کیا کہتے ہیں؟ استمرارِ ثبوتی کہ ایک چیز تسلسل کے ساتھ ہے لیکن یہ تسلسل تجدد والا ہے یا ثبوت والا ہے؟ ثبوت والا ہے بھئی! تو جملہ اسمیہ کے لیے کیا کہیں گے؟ استمرارِ ثبوتی، اور جملہ فعلیہ کے لیے کیا کہیں گے؟ استمرارِ تجددی کہیں گے بھئی! یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ خلاصۂ کلام پھر سنیں بھئی! جملہ فعلیہ کس کے لیے وضع ہے؟ حدوث اور تجدد، حدوث اور تجدد کا کیا معنی؟ ایک چیز کا ہونا، ایک چیز کا ہونا۔ اور جملہ اسمیہ کس لیے وضع ہے؟ ثبوت کے لیے کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے۔ اور جملہ فعلیہ کے ساتھ جب وہ فعلِ مضارع ہو اور کبھی کوئی قرینہ ساتھ مل جائے تو وہ اس حدوث کے ساتھ ساتھ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استمرار کا بھی، استمرار کا کیا معنی؟ ایک چیز کا بار بار ہونا، مسلسل ہونا۔ اور جملہ اسمیہ وہ ثبوت کے لیے ہے لیکن کبھی کوئی قرینہ مل جائے تو وہ ثبوت کے ساتھ ساتھ دوام کا بھی فائدہ دیتا ہے، اور دوام کا کیا معنی؟ ہمیشہ، ہمیشہ ثبوت ہے اس چیز کا، ہمیشہ بھئی! دیکھیے! اب یہی بات بیان کریں گے بھئی۔ کہتے ہیں: "الْخَبَرُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ جُمْلَةً فِعْلِيَّةً أَوْ اِسْمِيَّةً"، خبر یا تو وہ جملہ فعلیہ ہوگی یا جملہ اسمیہ۔ "فَالْأُولَى مَوْضُوعَةٌ لِإِفَادَةِ الْحُدُوثِ"، فَالْأُولَى أي فَالْجُمْلَةُ الْأُولَى، پہلی قسم کون سی ہے جملے کی؟ جملہ فعلیہ، تو وہ جو پہلا جملہ ہے یعنی جملہ فعلیہ، مَوْضُوعَةٌ اس کو وضع کیا گیا ہے یعنی مقرر کیا گیا ہے لِإِفَادَةِ الْحُدُوثِ، افادہ کا معنی ہے فائدہ دینا، لِإِفَادَةِ الْحُدُوثِ حدوث کا فائدہ دینے کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے "فِي زَمَنٍ مَخْصُوصٍ" کس میں؟ کسی مخصوص زمانے میں۔ بھئی! فعل آپ جانتے ہیں، فعل کے اندر زمانے والا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ صیغہ دیکھتے ہی آپ کو پتہ چل جاتا ہے۔ "ضَرَبَ" کون سا زمانہ پایا گیا؟ ماضی کا زمانہ۔ "يَضْرِبُ" اس کے اندر کون سا؟ یہ مضارع ہے اس میں حال یا استقبال والا معنی ہے۔ تو یہ جملہ فعلیہ ہی کی بات ہو رہی ہے تو اس میں زمانہ ساتھ آئے گا۔ تو کہتے ہیں پہلا جملہ جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے حدوث کا فائدہ دینے کے لیے مخصوص زمانے کے اندر "مَعَ الْإِخْتِصَارِ" ساتھ اختصار کے، ساتھ کس چیز کے؟ کہ پہلا جملہ، جملہ فعلیہ، وہ وضع کیا گیا ہے کہ وہ حدوث کا فائدہ دیتا ہے مخصوص زمانے میں مَعَ الْإِخْتِصَارِ ساتھ اختصار کے، یعنی بات بھی مختصر ہوتی ہے۔ بات بھی کیا ہوتی ہے؟ مختصر ہوتی ہے۔ بھئی دیکھیے! میں نے کہا: "ضَرَبَ زَيْدٌ"، زید نے پٹائی کی۔ کتنے لفظ ہیں اس جملے میں؟ دو لفظ، ضَرَبَ اور زَيْدٌ۔ لیکن زمانے کا آپ کو خود بخود پتہ چل رہا ہے، معلوم ہوا یہ ضرب کس زمانے میں ہوئی ہے؟ ماضی کے زمانے میں، تو دو لفظوں سے بات پوری ہو گئی اور زمانے کا بھی پتہ چل گیا۔ اور یہی بات اگر آپ جملہ اسمیہ میں کہنا چاہتے ہیں تو یوں کہیں گے: "زَيْدٌ ضَارِبٌ فِي الْمَاضِي"، "زَيْدٌ ضَارِبٌ فِي الْمَاضِي"، تو دیکھو! کتنے لفظ آئے؟ چار لفظ آ گئے، زَيْدٌ، ضَارِبٌ اور فِي اور الْمَاضِي، چار لفظ آ گئے۔ بلکہ ضَارِبٌ کے اندر اگر ضمیر کا بھی اعتبار کریں تو پھر پانچ لفظ بن گئے دیکھئے بھئی! ان سے وہی بات جو "ضَرَبَ زَيْدٌ" کے دو لفظوں نے ادا کی تھی، وہی بات چار پانچ لفظوں نے ادا کی جملہ اسمیہ میں۔ تو کس کے اندر اختصار زیادہ ہے؟ جملہ فعلیہ کے اندر بات مختصر ہوتی ہے، اس میں اختصار زیادہ ہے بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے مَعَ الْإِخْتِصَارِ کا بھئی! کہ اختصار ہوتا ہے کلام کے اندر، مخصوص زمانہ بھی پایا جاتا ہے، فعل کی صورت سے ہی، صیغے سے ہی آپ کو زمانے کا پتہ چل جاتا ہے۔ اگر میں مثلاً کہتا ہوں: "يَضْرِبُ زَيْدٌ"، زید پٹائی کر رہا ہے اس وقت بھئی! زمانۂ حال مراد لیتا ہوں، زید پٹائی کر رہا ہے یا پٹائی کرتا ہے۔ اسی بات کو اگر میں جملہ اسمیہ میں کہوں کس طرح کہوں گا؟ "زَيْدٌ ضَارِبٌ فِي الْحَالِ"، "زَيْدٌ ضَارِبٌ فِي الْحَالِ"، زید پٹائی کر رہا ہے زمانۂ حال میں، تو دیکھو! "يَضْرِبُ زَيْدٌ" مختصر کلام، اور "زَيْدٌ ضَارِبٌ فِي الْحَالِ" طویل کلام۔ یا اسی طرح مستقبل کی بات کر لو، "يَضْرِبُ زَيْدٌ" میں مستقبل کا زمانہ مراد لیتا ہوں کہ زید پٹائی کرے گا، اور یہی بات جملہ اسمیہ سے کہنا چاہتا ہوں تو کیسے کہوں گا؟ "زَيْدٌ ضَارِبٌ فِي الْمُسْتَقْبَلِ"، تو دیکھو کتنی لمبی بات کرنا پڑے گی۔ تو اختصار کس کے اندر ہے؟ جملہ فعلیہ میں ہے۔ تو کہتے ہیں: "فَالْأُولَى مَوْضُوعَةٌ لِإِفَادَةِ الْحُدُوثِ فِي زَمَنٍ مَخْصُوصٍ مَعَ الْإِخْتِصَارِ"، تو پہلا جملہ جو ہے یعنی جملہ فعلیہ اس کو وضع کیا گیا ہے حدوث کا فائدہ دینے کے لیے مخصوص زمانے میں مَعَ الْإِخْتِصَارِ ساتھ اختصار کے۔ "وَقَدْ تُفِيدُ الْإِسْتِمْرَارَ التَّجَدُّدِيَّ بِالْقَرَائِنِ"، اور کبھی کبھار یہ جملہ فعلیہ فائدہ دیتا ہے کس چیز کا؟ استمرارِ تجددی کا۔ کیا معنی ہے استمرارِ تجددی؟ ایک چیز کا مسلسل ہونا ایک چیز کا، تو یہ استمرارِ تجددی کا فائدہ دیتا ہے بِالْقَرَائِنِ کس کے ساتھ؟ کس کی وجہ سے؟ قرائن کی وجہ سے۔ "إِذَا كَانَ الْفِعْلُ مُضَارِعاً"، جبکہ فعل کون سا ہو؟ فعلِ مضارع ہو۔ ماضی ہو پھر وہ استمرار کا فائدہ نہیں دے گا، ہاں مضارع ہو اور ساتھ کوئی قرینہ بھی مل جائے تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استمرار کا فائدہ دے گا۔ "كَقَوْلِ طَرِيفٍ"، جیسے طریف شاعر کا قول، اس کا یہ شعر بھئی: أَوَكُلَّمَا وَرَدَتْ عُكَاظَ قَبِيلَةٌ *** بَعَثُوا إِلَيَّ عَرِيفَهُمْ يَتَوَسَّمُ أَوَكُلَّمَا وَرَدَتْ، ورد کے معنی ہوتے ہیں آنے کے، آنا۔ وردت۔ عکاظ ایک جگہ ہے، ایک جگہ کا نام ہے عرب میں جو طائف اور مکہ کے درمیان ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ عکاظ بھئی، عکاظ۔ اچھا بھئی! عکاظ کا ذکر آیا، یاد رکھیے! میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے بھئی، جگہ کا نام ہے۔ اور یہاں پر عربوں کا مشہور و معروف میلا اور بازار سوقِ عکاظ لگا کرتا تھا بھئی! سوقِ عکاظ۔ سوق عربی میں بازار کو کہتے ہیں، تو عرب کے اندر بھئی قدیم زمانے کے اندر کئی مقامات پر سال کے دوران مختلف قسم کے بازار اور میلے لگتے تھے بھئی، بازار اور میلے لگتے تھے، اور ان میں دس میلے سب سے مشہور تھے، پھر ان دس میں بھی سب سے زیادہ شہرت سوقِ عکاظ کو تھی بھئی! تو یہ عربوں کا سب سے بڑا اور سب سے مشہور میلا ہوتا، بازار ہوتا، جس کے اندر عرب تجارتی امور کے لیے اکٹھے ہوتے، ہر طرح کی تجارت اس میں ہوتی تھی، چمڑے کی تجارت ہوتی، جانوروں کی تجارت ہوتی، کپڑوں کی تجارت ہوتی، غلاموں اور باندیوں کی خرید و فروخت ہوتی تھی، تو ہر طرح کی تجارت اس میں کرتے تھے بھئی! جی، اور یہ ذوالقعدہ کے آغاز سے لے کر بیس ذوالقعدہ تک یہ میلا لگتا تھا بھئی! یکم ذوالقعدہ سے لے کر بیس ذوالقعدہ تک یعنی تقریباً بیس دن تک یہ میلا جاری رہتا تھا بھئی بیس دن تک بھئی! اور ذوالقعدہ اشہرِ حرم میں سے ہے، حرمت والے مہینوں میں سے ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ چار مہینے ایسے تھے جن کا عرب بے انتہا احترام کرتے تھے، وہ کون کون سے؟ رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ یہ چار مہینے یہ حرمت والے عرب والے ان کا بے انتہا احترام کرتے تھے بھئی! اور شریعت میں بھی ان کے احترام کو باقی رکھا گیا بھئی! شریعت میں بھی ان کے احترام، تو عرب ان مہینوں کا اتنا زیادہ احترام کرتے تھے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ لوگ کہ جن کے ہاں کسی کو قتل کرنا معمولی سی بات تھی، قتل و غارت اس پر تو وہ لوگ فخر کیا کرتے تھے، ان مہینوں کے اندر اگر کسی کے باپ کا یا بیٹے کا قاتل بھی اس کے سامنے آ جاتا تھا تو وہ اس کو بھی ہاتھ نہیں لگاتا تھا کہ یہ حرمت والا مہینہ ہے، اس کے اندر کسی پر ہاتھ نہیں اٹھانا بھئی! اتنا زیادہ وہ ان مہینوں کا احترام کرتے تھے! تو یہ جو سوقِ عکاظ تھا، یہ عکاظ مقام پر لگا کرتا تھا اور چونکہ حرمت والے مہینوں میں تھا اور ویسے باقی مہینوں کے اندر تو اور بازار وغیرہ جو لگا کرتے تھے ان میں ڈاکوؤں وغیرہ کا خطرہ لگا رہتا، لوگوں کو سفر کر کے آنا پڑتا، راستے میں خطرات ہوتے ہر قسم کے، تو اس وجہ سے ان کی اتنی مقبولیت نہیں تھی جتنی سوقِ عکاظ کی تھی کیونکہ یہ حرمت والے مہینے میں تھا، اس میں ہر شخص آزادی سے آتا تھا اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا تھا بھئی! تو یہ سوقِ عکاظ جو ہے اشہرِ حرم کے اندر لگا کرتا تھا اور چونکہ اس کے اندر کسی قسم کا خوف وغیرہ نہیں ہوتا تھا لوگ آزادانہ اس کے اندر آتے تھے تو لہٰذا یہ عرب کے اندر سب سے زیادہ مقبول تھا، سب سے بڑا یہ ان کا بازار لگتا تھا، اور پھر صرف یہ بازار اور تجارتی امور نہیں بلکہ یہاں پر ہر طرح کے لوگ آتے اور اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے بھئی! شعراء، بڑے بڑے شعراء جو ہیں قبیلوں کے، وہ اپنا اپنا کلام لے کر آتے اور اس کو یہاں پر پیش کرتے تھے بھئی پیش کرتے تھے، چنانچہ شعراء کے مقابلے ہوتے بھئی! اور پھر ان میں سے فیصلہ کرنے والے اچھے اور عمدہ اشعار کو منتخب کرتے اور ردی اشعار کو رد کیا جاتا تھا، چنانچہ اس بازار کا عربوں کی زبان کی نشو و نما میں بھی بہت زیادہ اثر تھا، عربی زبان کو اس سے بے انتہا فائدہ ہوا اور وہ ترقی کرتی چلی گئی بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کا اس کا، اور پھر شعراء آتے ہر طرح کا کلام پیش کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ مشہور سبعہ معلقات، سات قصیدے بھئی عربوں کے، آپ انشاء اللہ اگلے سال یا غالباً اس سے اگلے سال آپ ان کو پڑھیں گے، عرب کے سات مشہور و معروف قصیدے جو عرب کی فصاحت و بلاغت کا شاہکار تھے ان کو بھی اسی بازار کے اندر ایک مخصوص حصے میں لٹکایا گیا تھا تاکہ لوگ آئیں اور دیکھیں کہ عربوں کی فصاحت و بلاغت کس درجے کی ہے بھئی! اور ان کی فصاحت و بلاغت ان قصیدوں کی آج تک مسلم ہے بھئی، اور ہر ایک اس کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ قصیدے فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہیں بھئی! تو وہ سبعہ معلقات بھی اسی بازار کے ایک مخصوص حصے میں لٹکائے گئے تھے۔ تو شعراء کے درمیان بھی مقابلے ہوتے بھئی! اور عرب چونکہ ان کو اللہ نے حافظہ بڑا قوی دیا تھا اور ویسے بھی انسان جو ہیں وہ شعر کے اندر جو کلام ہوتا ہے اس کو ان کا ذہن بڑی جلدی قبول کر لیتا ہے، تو شعراء کے درمیان مقابلے ہوتے اور عمدہ اور اعلیٰ اشعار جو تھے وہ دنوں کے اندر پورے عرب میں پھیل جایا کرتے تھے وہ جو اشعار ان کے ہوتے بھئی دنوں کے اندر۔ شاعر کا وہ لوگ بے انتہا احترام کرتے تھے، شاعر کسی قوم کا بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا بھئی! ساری قوم والے اس کا بے انتہا احترام کرتے تھے، اور پھر وہ شعراء جمع ہوتے یہاں پر اپنے اپنے قصیدے اور اشعار کہتے، ہر شاعر اپنی قوم کے فخر کی باتیں بیان کرتا کہ ہمارے تو یہ یہ کمالات ہیں، ہمارے یہ کمال ہے، ہمارا یہ کمال ہے، ہم اتنے بہادر لوگ ہیں، اتنے جنگجو لوگ ہیں وغیرہ، اس قسم کی صفات وہ اپنے اپنے قوم کی بیان کرتے اور اپنی قوم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے، تو اور پھر وہ اشعار پورے عرب میں مشہور ہو جایا کرتے تھے، چنانچہ لوگ شعراء کا بے انتہا احترام کرتے اپنے اپنے شعراء کا۔ اسی طرح خطباء کے مقابلے بھی ہوتے، خطیب بھی جمع ہوتے اور ہر قبیلے والے اور وہ ان کے درمیان بھی مقابلے ہوتے لیکن شعر کا چرچا نثر کی بہ نسبت زیادہ تھا بھئی شعر کا چرچا۔ اسی بازار میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنیٰ حضرت زید ابن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اسی بازار سے خریدا گیا تھا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے، ان کو غلام بنا کر کسی نے بیچا وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے خریدا گیا، اور پھر بعد میں انہوں نے وہ غلام جو تھا حضور علیہ السلام کو جو ہے تحفے کے طور پر دے دیا، اور پھر حضور علیہ السلام نے ان کو اپنا بیٹا قرار دے دیا، چنانچہ وہ زید ابن محمد کے نام سے مشہور ہوئے بھئی! تو حضرت زید ابن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ بھئی! تو یہ بڑا مشہور و معروف بازار تھا عرب کا بھئی! اور یہ ظهورِ اسلام کے بعد بھی تقریباً سوا سو سال تک لگتا رہا بھئی، ظهورِ اسلام کے بعد بھی۔ ۱۲۹ ہجری میں کہتے ہیں پھر خوارج نے حملہ وغیرہ کیے، اس کے بعد پھر یہ منعقد نہ ہوا بھئی۔ سوقِ عکاظ کے منعقد کرنے میں قریش کا بھی بڑا دخل تھا، لیکن اس کے نگرانِ اعلیٰ اور منتظم جو تھے وہ بنو تمیم والے ہوتے تھے، بنو تمیم عرب کا ایک مشہور و معروف اور بہت بڑا قبیلہ ہے، تو وہ اس کے نگرانِ اعلیٰ ہوتے تھے، اور بنو تمیم کے رئیس کی مجلس بڑی محترم اور عزت والی ہوتی تھی بھئی! اور لوگوں کے درمیان وہاں پر جو جھگڑے وغیرہ ہوتے، جس قسم کا بھی جھگڑا ہوتا چاہے قیمتوں وغیرہ کے اندر جھگڑا ہوتا یا اور کوئی جھگڑا ہوتا تو وہ فیصلے کے لیے اس کے پاس آتے اور اس کے، یہ جو بھی فیصلہ کرتا سارے اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے تھے بھئی! اسے تسلیم کر لیتے تھے۔ تو اس کی مجلس نہایت محترم اور عزت والی شمار ہوتی تھی بھئی! تو یہ بنو تمیم جو تھے وہ اس کے نگرانِ اعلیٰ تھے اس سوقِ عکاظ کے بھئی، سوقِ عکاظ کے۔ چلیے بس ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ۔