سبق نمبر۔۱۹‏ وَلِكُلِّ جُمْلَةٍ الرُّكْنَانِ مَحْكُومٌ عَلَيْهِ وَمَحْكُومٌ بِهِ، وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ مُسْنَدًا إِلَيْهِ كَالْفَاعِلِ ‏وَنَائِبِهِ وَالْمُبْتَدَأِ الَّذِي لَهُ خَبَرٌ، وَيُسَمَّى الثَّانِي مُسْنَدًا كَالْفِعْلِ وَالْمُبْتَدَأِ الْمُكْتَفِي بِمَرْفُوعِهِ‎.‎ گزشتہ سبق میں ہم نے خبر اور انشاء کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ اور ‏آپ نے پڑھا تھا کہ ہر کلام یا تو وہ خبر ہوگا یا انشاء، دو ہی قسم کا کلام ہے ‏یا خبر ہوگا یا انشاء۔ اور خبر وہ ہے کہ اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا ‏کہا جا سکے۔ اور انشاء وہ ہے کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا ‏جا سکے۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ صدقِ خبر سے مراد یہ ہے کہ خبر واقعے اور ‏خارج کے مطابق ہو۔ اور کذبِ خبر کا معنیٰ یہ ہے کہ خبر واقعے کے اور ‏خارج کے مطابق نہ ہو بھئی، مطابق نہ ہو۔ پھر آپ نے نسبت کے بارے میں بھی پڑھا تھا کہ نسبت جو ہے وہ تین قسم پر ‏ہے: ایک نسبتِ کلامی، ایک نسبتِ ذہنی، اور ایک نسبتِ خارجی۔ وہ نسبت جو ‏کلام میں پائی جائے، وہ نسبتِ کلامی ہے۔ اور وہ نسبت جو ذہن میں موجود ‏ہے، ذہن میں جو ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت کیا گیا یا نفی کی ‏گئی اور جو اسناد کیا گیا، وہ ہے وہ نسبت ہے اور ذہن میں ہے تو اس کا نام ‏کیا ہے؟ نسبتِ ذہنی۔ اور تیسری قسم جو ہے وہ نسبتِ خارجی ہے بھئی۔ تو آپ نے "زيدٌ قائمٌ" کہا، یہ کلام ہے، اس کے اندر جو نسبت ہے، وہ نسبتِ ‏کلامی۔ اور ذہن کے اندر جو آپ نے "زيدٌ قائمٌ" کا تصور کیا اور ذہن میں جو ‏‏"قائمٌ" کی نسبت کی زید کی طرف، یہ نسبتِ ذہنی ہے۔ اور خارج میں زید کے ‏لیے قیام ثابت ہوگا یا ثابت نہیں، تو جو بھی صورت ہوگی، وہ نسبتِ خارجی ‏ہے۔ وہ کیا ہے؟ نسبتِ خارجی ہے۔ تو خارج میں بھی زید کے لیے قیام کا کیا ‏ہوگا؟ ایک وقت میں یا تو اثبات ہوگا یا نفی، تو یہ جو قیام کی زید کی طرف ‏نسبت ہے، یہ نسبتِ خارجی ہے۔ جو بھی ہو، چاہے نفی کی صورت میں ہو، ‏چاہے اثبات کی صورت میں ہو، جو بھی ہو۔ لیکن ہے خارج کے اعتبار سے۔ ‏خارج میں اگر قیام زید کے لیے ثابت تھا، زید کھڑا ہے، تو یہ ہے نسبتِ ‏خارجی کہ زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ اور زید کے لیے اگر خارج میں قیام کی ‏نفی ہے، تو اس وقت قیام کی زید سے نفی ہو رہی ہے خارج کے اندر، یہ ہے ‏نسبتِ خارجی بھئی۔ اور یہ بھی آپ نے پڑھا کہ نسبتِ کلامی اور نسبتِ ذہنی میں فرق صرف ‏اعتباری ہے۔ "زيدٌ قائمٌ" میں نے زبان سے کہا، تو یہ نسبت بعینہٖ لحاظ کہ یہ ‏اس کلام کے اندر ہے، ان لفظوں کے اندر ہے، یہ نسبتِ کلامی۔ اور یہی نسبت ‏بعینہٖ لحاظ کہ یہ ذہن میں موجود ہے، تو یہ کیا ہے؟ نسبتِ ذہنی، نسبتِ ذہنی۔ تو نسبتِ کلامی اور چیز، نسبتِ خارجی اور چیز۔ میں زبان سے کہتا ہوں "زيدٌ ‏قائمٌ"، کیا میرے اس کہنے سے زید پہ کوئی اثر پڑے گا؟ اس کے لیے قیام ‏خارج میں ثابت ہو جائے گا؟ جی؟ نہیں؟ نہیں، یہ نسبتِ کلامی ہے۔ میں زبان ‏سے ۱۰ مرتبہ بھی کہوں "زيدٌ قائمٌ"، وہ بیٹھا ہوا ہے تو بیٹھا ہی ہوا ہے ہر ‏حال میں۔ کوئی اثر پڑا اس پر؟ نہیں، نہیں۔ خارج کے اعتبار سے زید کے لیے ‏قیام ثابت نہیں، لیکن میں زبان سے کیا کہہ رہا ہوں؟ "زيدٌ قائمٌ"۔ تو نسبتِ ‏کلامی اور کلام میں میں بے شک زید کے لیے قیام ثابت کر رہا ہوں، لیکن ‏واقعے میں اور خارج میں زید کے لیے قیام ثابت نہیں ہے اور میرے اس کلام ‏سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اگر قیام خارج میں ثابت تھا تو ثابت رہے ‏گا، یہ میرے کلام کی وجہ سے نہیں ثابت ہوا، وہ خارج میں ہی کھڑا تھا، اس ‏کے لیے قیام ثابت تھا۔ اور اب میں کہتا ہوں "زيدٌ قائمٌ" اور وہ کھڑا نہیں ہے، ‏بیٹھا ہوا ہے، تو بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا، میرے کہنے سے اس کے لیے ‏قیام نہیں ثابت ہو جائے گا، بلکہ خارج میں تو کیا ہے؟ قیام اس سے قیام کی ‏نفی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہاں، بس اب صرف صدق اور ‏کذب کو دیکھا جائے گا۔ اگر میں نے کہا "زيدٌ قائمٌ" اور وہ خارج میں بھی وہ ‏واقعی کھڑا ہے، تو نسبتِ کلامی کس کے مطابق ہو گئی؟ نسبتِ خارجی کے، ‏تو یہ ہے صدقِ خبر بھئی، صدقِ خبر، خبر سچی ہے، خبر کا سچا ہونا۔ اور ‏اگر میں کہتا ہوں "زيدٌ قائمٌ" اور زید تو خارج میں بیٹھا ہوا ہے، تو نسبتِ ‏کلامی نسبتِ خبری کے مطابق نہیں، کلام میں زید کے لیے قیام ثابت ہے اور ‏خارج میں زید سے قیام کی نفی ہے، تو دونوں ایک دوسرے کے مطابق نہ ‏ہوئے۔ تو میری نسبتِ کلامی نسبتِ خارجی کے مطابق نہ ہوئی، تو یہ ہے کذبِ ‏خبر بھئی، یہ کیا ہے؟ کذبِ خبر، خبر کا جھوٹا ہونا۔ آج آپ کو بتلا رہے ہیں: "وَلِكُلِّ جُمْلَةٍ الرُّكْنَانِ"۔ بھئی، اس کو پڑھنا کیسے ہے؟ ‏توجہ سے سننا: "وَلِكُلِّ جُمْلَةٍ الرُّكْنَانِ"۔ اصل میں کیا تھا؟ "وَلِكُلِّ جُمْلَةٍ رُكْنَانِ"۔ ‏‏"جُمْلَةٍ" کے آخر میں تنوین آ رہی تھی اور تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ‏ساکن کا۔ تو "وَلِكُلِّ جُمْلَةٍ"، آخر میں آیا نونِ ساکن، اور آگے آیا "رُكْنَانِ"، را۔ ‏اور را کس میں سے ہے؟ حروفِ یرملون میں سے، تو را سے پہلے کیا آ گیا؟ ‏نونِ ساکن، تو اس نون کو بھی را کر کے را میں ادغام کیا گیا، تو کیا بن گیا؟ ‏‏"وَلِكُلِّ جُمْلَةٍ الرُّكْنَانِ"، را مشدد ہو گئی، نون ختم ہوا، "وَلِكُلِّ جُمْلَةٍ الرُّكْنَانِ"۔ اور ‏ہر جملے کے دو رکن ہیں بھئی، دو رکن ہیں۔ "مَحْكُومٌ عَلَيْهِ وَمَحْكُومٌ بِهِ"، ایک ‏محکومٌ علیہ ہے اور دوسرا محکومٌ بہِ ہے بھئی، محکومٌ بہِ۔ یا یوں کہو دوسرے لفظوں میں، آگے یہ بھی بتائیں گے: ایک ہے مسند الیہ، ‏دوسرا ہے مسند بھئی۔ ایک مسند الیہ اور دوسرا مسند بھئی۔ "مَحْكُومٌ عَلَيْهِ" ‏ترجمے پہ ہی غور کر لو، "مَحْكُومٌ عَلَيْهِ"، محکوم کا کیا معنیٰ؟ حکم لگایا ہوا ‏‏"عَلَيْهِ" اس پر، وہ چیز جس پر کیا کیا گیا ہے؟ حکم لگایا گیا ہے، "زيدٌ قائمٌ"، ‏میں نے کیا کیا؟ زید پر کس چیز کا حکم لگایا؟ قیام کا حکم لگایا کہ زید کے ‏لیے قیام ثابت ہے۔ اگر میں کہوں "زيدٌ جالسٌ"، اب میں نے زید کے لیے کیا ‏ثابت کیا؟ بیٹھنے کو، جلوس کو ثابت کیا، تو زید پر گویا میں نے حکم لگایا ‏جلوس کا، بیٹھنے کا بھئی۔ تو یہ جس پر حکم لگایا جائے، وہ ہے محکومٌ علیہ۔ ‏اور جس چیز کا حکم لگایا گیا، وہ ہے محکومٌ بہِ بھئی، وہ کیا ہے؟ محکومٌ بہِ ‏بھئی۔ ‎"‎وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ مُسْنَدًا إِلَيْهِ"، "مُسْنَدًا" ہے آپ کی کتابوں میں؟ "مُسْنَدًا" کے ساتھ ‏الف جڑا ہوا ہے لکھا ہوا؟ الف ہونا چاہیے بھئی، یہ "مُسْنَدًا" یہ مفعول ہے ‏‏"يُسَمَّى" کے لیے، "وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ مُسْنَدًا"، "مُسْنَدًا إِلَيْهِ"، الف ساتھ لگائیں اور دال ‏پر دو زبر لکھیں بھئی۔ "وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ مُسْنَدًا إِلَيْهِ كَالْفَاعِلِ وَنَائِبِهِ وَالْمُبْتَدَأِ الَّذِي لَهُ ‏خَبَرٌ"۔ تو آپ نے پڑھا کلام کے دو رکن ہیں: ایک رکن، ایک جزو وہ محکومٌ ‏علیہ ہے اور دوسرا جزو کیا ہے؟ محکومٌ بہِ۔ "وَيُسَمَّى الْأَوَّلُ"، اور اول کو، کون ‏اول؟ کون؟ محکومٌ علیہ، تو وہ جو اول یعنی محکومٌ علیہ ہے، اس کو مسند الیہ ‏کہتے ہیں۔ اب اس کی مثالیں ذکر کر رہے ہیں مسند الیہ کی: "كَالْفَاعِلِ" جیسے ‏فاعل، فاعل مسند الیہ ہوتا ہے۔ "وَنَائِبِهِ" اور نائب الفاعل، "وَالْمُبْتَدَأِ الَّذِي لَهُ خَبَرٌ" ‏اور وہ مبتدا "الَّذِي لَهُ خَبَرٌ" کہ جس کی خبر ہوتی ہے، وہ مبتدا جس کی خبر ‏ہوتی ہے۔ تو تین مثالیں ذکر کر دیں مسند الیہ کی: فاعل، نائب الفاعل، اور ‏مبتدا، وہ مبتدا جس کی خبر ہوتی ہے۔ "وَيُسَمَّى الثَّانِي مُسْنَدًا" اور دوسرے کو ‏مسند کہتے ہیں۔ دوسرا کون بھئی؟ ہاں، محکومٌ بہِ، شاباش۔ "كَالْفِعْلِ" جیسے کہ ‏فعل ہے، "وَالْمُبْتَدَأِ الْمُكْتَفِي بِمَرْفُوعِهِ" وہ مبتدا جو اکتفا کرنے والا ہے "بِمَرْفُوعِهِ" ‏اپنے مرفوع پر، وہ مبتدا جو اکتفا کرنے والا ہے اپنے مرفوع پر بھئی۔ اچھا بھئی، یہاں دو باتیں آئیں: ایک تو انہوں نے کہا وہ مبتدا جس کی خبر ‏ہوتی ہے، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں، ہر مبتدا کے لیے کیا آتی ہے؟ خبر آتی ہے۔ ‏آگے ایک اور قسم بیان کی: "وَالْمُبْتَدَأِ الْمُكْتَفِي بِمَرْفُوعِهِ"، وہ مبتدا جو اکتفا کرنے ‏والا ہے اپنے مرفوع پر۔ یہ اگرچہ آپ پڑھ چکے ہیں، لیکن شاید آپ کے ذہن ‏میں نہ ہو بھئی، اس لیے پوری تفصیل میں بیان کر دیتا ہوں، تو طویل نحوی ‏بحث کرنا پڑے گی بھئی۔ اور خوب توجہ سے بیٹھنا، نحوی باتیں ذکر ہوں گی ‏جو آپ کو ترکیب میں بے انتہا کام آئیں گی بھئی۔ تو اب ترکیب آپ کو کروانی ‏پڑے گی، صرف یہ سمجھانے کے لیے کہ "وَالْمُبْتَدَأِ الْمُكْتَفِي بِمَرْفُوعِهِ" سے کیا ‏مراد ہے، کیا کہنا چاہتے ہیں بھئی۔ بھئی دیکھیے، یہ جو مبتدا ہے نہ "الْمُكْتَفِي بِمَرْفُوعِهِ"، وہ مبتدا ہے جس کی خبر ‏کوئی نہیں ہوتی۔ وہ مبتدا ہے جس کی خبر، پیچھے کہا "وَالْمُبْتَدَأِ الَّذِي لَهُ خَبَرٌ"، ‏وہ مبتدا جس کی خبر ہوتی ہے، اسی سے پتہ چل گیا، معلوم ہوا مبتدا کی ایک ‏قسم ایسی بھی ہے جس کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ پتہ چل گیا یا نہیں بھئی؟ جب ‏کہا وہ مبتدا جس کی خبر ہوتی ہے، معلوم ہوا وہ والا مبتدا نہیں مراد جس کی ‏خبر نہیں ہوتی، معلوم ہوا وہ بھی ایک قسم ہے مبتدا کی بھئی۔ تو اب میں طویل ‏بحث کروں گا نحوی بھئی اور آپ نے اس کو خوب توجہ سے سننا ہے، اس ‏سے آپ کو ترکیب میں بے انتہا فائدہ ہوگا، بے انتہا۔ بھئی، جملہ خبریہ سے کرتے ہیں، جملہ خبریہ کے ذریعے سمجھاؤں گا آپ کو ‏بھئی۔ آسان لفظوں میں بھئی، دیکھیے انہوں نے آپ کو کہا کہ کلام کے دو رکن ‏ہیں: ایک محکومٌ بہِ ہے ایک اور ایک محکومٌ علیہ ہے، محکومٌ علیہ۔ چاہے ‏جملہ اسمیہ ہو، چاہے جملہ فعلیہ ہو، اس کے اندر دو جزو ہوتے ہیں: ایک ‏محکومٌ علیہ اور ایک محکومٌ بہِ۔ دوسرے لفظوں میں ایک مسند الیہ ہوتا ہے، ‏ایک مسند ہوتا ہے، ایک مسند بھئی۔ کیسے پتہ چلے گا کہ کون سا مسند الیہ ‏ہے جزو اور کون سا مسند ہے؟ آسان طریقہ یاد رکھنا، آسان طریقہ۔ جملہ فعلیہ ‏ہو یا جملہ اسمیہ، جس کے بارے میں بات کی جائے، وہ ہوتا ہے مسند الیہ ‏یعنی محکومٌ علیہ۔ اور جو بات کی جائے، وہ ہوتی ہے مسند یعنی کہ محکومٌ بہِ۔ ‏کیا کہا میں نے؟ جس کے بارے میں بات کی جائے، وہ ہوتا ہے محکومٌ علیہ ‏اور مسند الیہ، اور جو بات کی جائے، وہ ہوتی ہے مسند اور محکومٌ بہِ، محکومٌ ‏بہِ۔ چاہے جملہ اسمیہ ہو، چاہے جملہ فعلیہ ہو۔ ‎"‎زيدٌ قائمٌ"، زید کھڑا ہے۔ میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے ‏میں، معلوم ہوا زید ہے محکومٌ علیہ اور مسند الیہ۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ‏ہے، یعنی اس پر کھڑے ہونے کا حکم لگایا، یہ کیا ہے؟ مسند، اور دوسرے ‏لفظوں میں کیا ہے؟ محکومٌ بہِ۔ تو معلوم ہوا "زيدٌ قائمٌ" میں مسند الیہ کون؟ زید، ‏جس کے بارے میں بات کی، اور کیا بات کی؟ "قائمٌ"، تو یہ کیا ہے؟ مسند ہے ‏یعنی محکومٌ بہِ ہے بھئی۔ جملہ فعلیہ میں دیکھ لیں: "قامَ زيدٌ"، "قامَ زيدٌ"، زید ‏کھڑا ہوا، کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، زید ہوا مسند الیہ، ‏محکومٌ علیہ۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہوا، تو یہ کیا ہے؟ مسند۔ معلوم ہوا ‏‏"قامَ زيدٌ"، کون مسند الیہ؟ زید، اور مسند کون؟ "قامَ" ہے بھئی۔ بات سمجھ میں ‏آئی؟ جس کے بارے میں بات کی جائے وہ ہوتا ہے مسند الیہ، اور جو بات کی ‏جائے وہ کیا ہوتی ہے؟ مسند ہوتی ہے، مسند ہوتی ہے، چاہے جملہ اسمیہ ہو، ‏چاہے جملہ فعلیہ ہو بھئی، فعلیہ ہو۔ اب آپ مجھے بتائیے بھئی، "ضربَ زيدٌ"، مسند الیہ کون؟ مسند الیہ؟ "زيدٌ"، ‏اور مسند کیا؟ "ضربَ"۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ "ضربَ زيدٌ"، زید نے پٹائی ‏کی، کس کے بارے میں بات کی گئی؟ زید کے بارے میں، وہ مسند، مسند الیہ ‏ہے بھئی، اور کیا بات کی؟ کہ اس نے پٹائی کی ہے، تو یہ "ضربَ" کیا ہے؟ ‏مسند ہے بھئی، ہمیشہ اس طرح اس کو سمجھ لو بھئی۔ تو میں نے آپ کو بتایا جس کے بارے میں بات کی جائے، وہ ہوتا ہے مسند ‏الیہ، اور جو بات کی جائے، وہ ہوتی ہے مسند۔ "زيدٌ قائمٌ"، کون ہے مسند الیہ؟ ‏کس کے بارے میں بات کی؟ زید، تو "زيدٌ" یہ ہے مسند الیہ، اور "قائمٌ" کیا ‏ہے؟ مسند، اور جملہ کون سا؟ یہ جملہ اسمیہ ہے یا جملہ فعلیہ ہے؟ یہ جملہ ‏اسمیہ ہے، اور معلوم ہوا "زيدٌ" ہے مسند الیہ، اور جملہ اسمیہ میں جو مسند الیہ ‏ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبتدا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبتدا۔ اور جو مسند ‏ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبر، معلوم ہوا "زيدٌ" مبتدا ہے اور "قائمٌ" کیا ‏ہے؟ خبر ہے، "قائمٌ" کیا ہے؟ خبر ہے۔ اور جملہ فعلیہ کے اندر "قامَ زيدٌ"، زید کھڑا ہوا، کس کے بارے میں بات کی؟ ‏زید کے بارے میں، تو زید ہوا مسند الیہ، اور کھڑا ہوا، یہ کیا ہے؟ یہ مسند۔ تو ‏‏"قامَ زيدٌ"، معلوم ہوا "قامَ" کیا ہے؟ "قامَ"، فعل تو ہے، ابھی جو مسند، مسند الیہ ‏میں سے کیا ہے؟ "قامَ" مسند ہے، معلوم ہوا فعل مسند ہوتا ہے ہمیشہ، فعل کیا ‏ہوتا ہے؟ اور جو آگے "زيدٌ" کیا ہے اس کا؟ وہ فاعل ہے اس کا، اور تو معلوم ‏ہوا فاعل کیا ہوتا ہے؟ وہ مسند الیہ ہوتا ہے، تو مبتدا بھی ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ ‏مسند الیہ، اور فاعل بھی کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ۔ اسی طرح نائب الفاعل جو ‏ہے، وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ ہوتا ہے بھئی، مسند الیہ ہوتا ہے، نائب ‏الفاعل۔ مثلاً میں کہتا ہوں "ضرِبَ عمروٌ"، عمر کی پٹائی کی گئی، کس کے ‏بارے میں بات کی؟ عمر، تو عمر ہوا مسند الیہ، اور کیا بات کی؟ کہ ان کی ‏پٹائی کی گئی، معلوم ہوا یہ ہے مسند۔ تو "ضرِبَ" کیا ہوا؟ فعل تو ہے، کیا ہوا؟ ‏یہ ہے مسند، اور "عمروٌ" نائب الفاعل کیا ہے؟ مسند الیہ ہے، معلوم ہوا نائب ‏الفاعل کیا ہوتا ہے؟ تو آپ کو یہ پتہ چل گیا: مبتدا بھی کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، ‏فاعل بھی کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، نائب الفاعل بھی کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ ہوتا ‏ہے کیونکہ ان کی بات کی جاتی ہے۔ اور مبتدا کے ساتھ دوسرا حصہ کیا کہلاتا ‏ہے؟ خبر، وہ کیا ہوتا ہے؟ وہ مسند ہوتا ہے، اور اسی طرح فاعل کے ساتھ کیا ‏چاہیے ہوتا ہے؟ فاعل کس چیز کا ہوگا؟ فعل وغیرہ، تو وہ فعل کیا ہوتا ہے؟ ‏فاعل جب مسند الیہ ہوا، تو دوسرا جزو فعل رہ گیا، وہ کیا ہوگا؟ وہ مسند ہوگا، ‏صورت... نائب الفاعل جب مسند الیہ ہے، تو کس چیز کا نائب الفاعل ہے؟ فعل ‏کا ہے نہ، تو وہ فعل کیا ہوگا؟ مسند۔ یہاں تک بات سمجھ سمجھ میں آگئے؟ مبتدا بھی مبتدا کیا ہے؟ مسند الیہ، اور خبر کیا ہے؟ مسند ‏ہے۔ اور فعل اور فاعل میں سے فاعل کیا ہے؟ مسند الیہ، اور فعل کیا ہے؟ ‏مسند ہے۔ فعل اور نائب الفاعل میں سے نائب الفاعل کیا ہے؟ مسند الیہ، اور فعل کیا ہے؟ ‏مسند ہے۔ اچھی طرح پہچان ہو گئی؟ اب اپ مجھے بتائیں گے جملہ میں اپ کے سامنے کہوں اپ بتا سکتے ہیں ‏مسند کیا ہے اور مسند الیہ کیا ہے؟ جی؟ اچھا بتائیے میں اپ کے سامنے ایک ‏جملہ بولتا ہوں۔ وہ کتاب جو اپ پڑھ رہے تھے میری ہے۔ اپ جو کتاب پڑھ رہے تھے وہ ‏میری ہے۔ کس کے بارے میں بات تھی؟ جی؟ صرف کتاب؟ پوری چیز پہچان اس کی کرواؤ۔ وہ کتاب جو اپ پڑھ رہے تھے۔ ‏اس کتاب کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں۔ یہ سارا اس کو جملہ نہ سمجھنا۔ ‏اپ بعض اوقات جملے آخر میں "تھا" یا "ہے" آئے گا، اپ سمجھیں گے شاید ‏جملہ پورا ہو گیا۔ حالانکہ یہ جملہ پورا نہیں۔ میں اپ سے کہتا ہوں: بھئی ابھی اپ جو کتاب پڑھ رہے تھے... یہ کہہ کے ‏میں چپ ہو گیا۔ ابھی اپ جو کتاب پڑھ رہے تھے... اپ کہیں گے بھئی بات تو ‏پوری کرو کیا کرنا ہے اس کو؟ واپس لینا چاہتے ہیں یا میں اپنے پاس رکھوں؟ ‏اپ بتائیں تو سہی۔ بات پوری تھی میری؟ نہیں، ابھی جو اپ کتاب پڑھ رہے ‏تھے... بات پوری نہیں، اب آگے جب میں کہوں گا: وہ میری ہے، اب بات ‏پوری ہو گئی۔ وہ جو میں نے اتنا لمبا کلام کیا: ابھی جو اپ کتاب پڑھ رہے تھے... یہ تو میں ‏صرف اپ کو کتاب کی پہچان کروا رہا تھا کہ دوسری یا تیسری کتاب نہیں ‏مراد بلکہ کون سی کتاب مراد ہے؟ وہ جو اپ پڑھ رہے تھے، وہ میری ہے، یہ ‏میں نے حکم لگا دیا اس پر۔ تو کبھی مبتدا بڑا لمبا ہوگا اس کی پہچان کروانا ہوتی ہے، اپ کو اور چیزوں ‏کا پتہ ہی نہیں۔ زید کا تو ایک نام تھا چھوٹا سا، زید میں نے کہا، فوراً سمجھ ‏گئے کہ فلاں ہمارا ساتھی جس کا نام زید ہے وہ مراد ہے۔ صورت سمجھ میں ‏آگئی؟ بعض اوقات نام چیز کا پتہ ہی نہیں ہوتا یا نام ہوتا ہی نہیں، تو اس کی ‏پہچان کروانے کے لیے کبھی کلام لمبا کرنا پڑتا ہے۔ پھر اس کے بارے میں ‏بات کی جاتی ہے۔ مثلاً دیکھیے، زید کے بارے میں میں کہتا ہوں: زید عالم ہے۔زیدٌ عالمٌ، کتنا ‏مختصر کلام ہے۔ کیونکہ مبتدا بھی لمبا ہو سکتا ہے، خبر بھی لمبی ہو سکتی ‏ہے، وہ اپ نے غور کرنا ہے اس کے اندر کہ کس پر حکم لگایا جا رہا ہے، ‏کس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، وہ حکم مبتدا۔ اور جو بات کی جا ‏رہی ہے وہ کیا ہے؟ خبر ہوگی۔ یہ ہے جملہ اسمیہ میں۔ اور اگر جملہ فعلیہ ہو ‏تو جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے وہ ہے فاعل یا نائب فاعل، اور جو ‏بات کی جا رہی ہے وہ کیا ہے؟ فعل ہے بھئی یعنی مسند ہے۔ اب دیکھیے، میں اس سے بھی لمبا مبتدا لاتا ہوں۔ کل اپ نے جس آدمی کو ‏میرے ساتھ مسجد میں باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا وہ عالم ہے۔ کل اپ نے جس ‏آدمی کو میرے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ دیکھو سارا، یہی صرف یہ ‏کل کو ہٹا دو، جس آدمی کو اپ نے میرے ساتھ مسجد میں باتیں کرتے ہوئے ‏دیکھا تھا۔ بات پوری ہو گئی؟ نہیں، آگے بات آئے گی، بات تو ابھی ہوئی ہی ‏نہیں یہ تو میں نے اس آدمی کی پہچان کروائی ہے، یرحمک اللہ، یہ تو میں نے ‏اس آدمی کی پہچان کروائی ہے کیونکہ اپ کو اس کے نام کا پتہ ہی نہیں۔ ہو ‏سکتا ہے مجھے پتہ ہو، میں ذکر بھی کروں، تو اپ کو پتہ چلے گا؟ کیونکہ اپ ‏کو نام کا پتہ ہی نہیں ہے، اپ نے اس کو صرف دیکھا ہی تھا اور تو اپ ‏جانتے ہی نہیں اس کے بارے بارے میں، تو میں پہچان کروا رہا ہوں اپ کو: ‏جس آدمی کو اپ نے میرے ساتھ مسجد میں باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، پہچان ‏ہو گئی اپ کو، ذہن میں آگیا ہاں وہ آدمی، لیکن بات کیا؟ بات تو آئی نہیں ابھی۔ تو وہ آدمی جس کو اپ نے میرے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا... دیکھو ‏‏"تھا" بھی آگیا، تو یہ تھا، تھے، اور ہے، ہیں وغیرہ ان سے دھوکے میں نہیں ‏پڑھنا بھئی کہ شاید جملہ پورا ہو گیا، نہیں نہیں ایسا نہیں ہو ضروری نہیں ہے۔ ‏زید کھڑا تھا، زید عالم ہے، یہ تو ٹھیک ہے جملہ پورا ہو رہا ہے، لیکن جہاں ‏بھی تھا وغیرہ آجائے یا ہے آجائے اور اپ کہہ دیں فوراً آنکھیں بند کر کے ‏جی جملہ مکمل ہو گیا، ایسا نہیں ہے بھئی۔ جیسے ابھی دیکھو میں نے اتنا لمبا کلام کیا: جس آدمی کو اپ نے میرے ساتھ ‏باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا... "تھا" آگیا، لیکن کلام پورا نہیں، اس سے صرف ‏وہ آدمی اپ کے ذہن میں آیا ہے۔ بات تو میں نے بتائی ہی نہیں اس کے بارے ‏میں، آگے میں کہتا ہوں: وہ عالم ہے، اب بات اپ کو سمجھ میں آگئی۔ صورت ‏سمجھ میں آگئی؟ تو مبتدا کیا ہوا؟ جس آدمی کو اپ نے میرے ساتھ باتیں کرتے ‏ہوئے دیکھا تھا... یہ سارا مبتدا، اس آدمی کے بارے میں میں بات کرنے لگا ‏ہوں، کیا بات کرنے لگا ہوں؟ وہ عالم ہے، یہ خبر آگئی بھئی، خبر آگئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اس طرح بس غور کیا کرو ہر جملے کے اندر، ‏کس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے اور کیا بات کی جا رہی ہے۔ جس کے ‏بارے میں بات کی جا رہی ہے وہ ہوگا مسند الیہ، اور جو بات کی جا رہی ہے ‏وہ کیا ہوگی؟ مسند۔ پھر دیکھو یہ جملہ اسمیہ ہے یا جملہ فعلیہ، جملہ اسمیہ ہو ‏تو جو مسند الیہ اپ کو سمجھ میں آیا جس کے بارے میں بات کی گئی اس کو ‏کہہ دو یہ مبتدا ہے، اور جو بات کی گئی اس کو کیا کہہ دو؟ خبر کہہ دو۔ اور ‏اگر جملہ فعلیہ ہے تو جس کے بارے میں بات کی گئی اس کو فاعل کہیں گے ‏اگر فعل معروف ہو ساتھ، اور نائب الفاعل کہیں گے اگر فعل مجہول ہو۔ اور ‏فعل جو ساتھ ہوگا وہ مسند ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، ترکیب ‏بڑی آسان ہے، ترکیب اچھی طرح سیکھ لیں ہر کتاب کی لذت ہی بڑھ جاتی ‏ہے بھئی، ہر کتاب کی۔ اچھا اور کوئی مثال کریں اس کی بھئی۔ مثلاً دوسری مثال بھئی: کتاب کے ‏صفحہ نمبر 21 پر جو واقعہ اپ کے سامنے آیا وہ بڑا عبرت انگیز ہے۔ بات ‏سمجھ میں آئی کس کے بارے میں بات کی گئی؟ کتاب کے صفحہ نمبر 21 پر ‏جو واقعہ اپ کے سامنے آیا... یہ ہے مسند الیہ، وہ بڑا عبرت انگیز ہے... یہ ‏ہے خبر، یہ کیا ہے؟ خبر ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب کوئی کلام آئے اپ مبتدا اور یا اپ اس میں مسند الیہ اور مسند کو پہچان ‏سکتے ہیں یا نہیں بھئی؟ ہاں انشاءاللہ تھوڑا سا اپ غور کریں گے اپ کو خود ‏پہچان ہو جائے گی بھئی، خود پہچان ہو جائے گی۔ تو مبتدا تو دراصل وہ ایک ‏آدھا لفظ ہی ہوگا، وہ آدمی جسے اپ نے کل میرے ساتھ مسجد میں باتیں کرتے ‏ہوئے دیکھا تھا... تو اس میں مبتدا تو صرف ویسے ہے "وہ آدمی"، لیکن یہ ‏جو ساتھ صفت اور پہچان آرہی ہے یہ بھی مبتدا سے متعلق ہوتی ہے اس لیے ‏میں نے اس سارے کو مبتدا کہا۔ تو "وہ آدمی عالم ہے"، تو وہ آدمی یہ پورا جملہ کیا تھا؟ وہ آدمی جسے اپ نے ‏میرے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا وہ عالم ہے، تو اس میں سے دراصل ‏مبتدا تو صرف کتنا ہے؟ وہ آدمی، ہاں یہ ہے مبتدا، اور "عالم ہے" یہ کیا ہے؟ ‏خبر، لیکن مبتدا کے ساتھ جو اتنی لمبی بات تھی یہ مبتدا کے ساتھ ہی جڑ جاتی ‏ہے اس کی صفت وغیرہ یا کچھ بنے گی یعنی اس میں شامل ہوگی بھئی، ‏صورت سمجھ میں آگئی؟ ہاں تو اس لیے بس دو حصے کرو اپ کو اتنا پتہ چل ‏جائے گا یہ مسند الیہ والا حصہ ہے، یہ کون سا حصہ ہے؟ مسند والا حصہ ہے ‏بھئی، مسند والا حصہ ہے۔ اچھا اب یاد رکھیے بھئی اتنا تو اپ کو پتہ چل گیا کہ مسند الیہ وہ ہے جس کے ‏بارے میں بات کی جائے اور مسند وہ ہے جو بات کی جائے۔ اچھا ایک اور ‏مثال اس کی حل کریں بھئی، اپ مجھے بتائیے کیا مسند الیہ ہے اور کیا مسند ‏ہے؟ "میں نے زید کی پٹائی کی"، "میں نے زید کی پٹائی کی"، کس کے بارے ‏میں بات کی میں نے؟ انا للہ! یاد رکھو یہ دھوکے میں نہ پڑ جانا زید کے ‏بارے، اپ کہیں گے زید کے بارے میں بات کی، نہیں نہیں نہیں۔ یاد رکھیے میں نے اپنے بارے میں بات کی ہے، "میں نے" کیا کیا ہے؟ پٹائی ‏کی ہے، میں نے، اور کس کی کی ہے؟ زید، تو زید مفعول واقع ہو رہا ہے، ‏متکلم خود "میں"، یہ ہے فاعل، یہ ہے مسند الیہ، اور کیا بات کی ہے اپنے ‏بارے میں اس نے؟ پٹائی کرنے کی، وہ ہے مسند۔ تو "میں نے زید کی پٹائی کی ہے"، یہ کبھی بھی نہ کہنا زید کے بارے میں ‏بات ہو رہی ہے، ہاں زید کے ساتھ تو تعلق تو ضرور ہے بات کا، لیکن اصل ‏میں میں اپنے بارے میں بات کر رہا ہوں کہ میں نے کون سا کام سرانجام دیا ‏ہے؟ پٹائی کرنے والا، تو متکلم ہوا متکلم ہوگا مسند الیہ، اور کیا بات کی میں ‏نے اپنے بارے میں؟ پٹائی کرنے کی، تو پٹائی کرنا ہوا مسند بھئی، پٹائی کرنا ‏کیا ہوا؟ مسند۔ اب اپ کہیں گے کہ یہ تو عجیب مسئلہ ہو گیا، اب ہم پہچانیں گے کیسے؟ بھئی ‏آسان سی بات ہے، یاد رکھو مفعول جو آئے گا نا کلام کے اندر اس سے پہلے ‏اردو میں "نے" کا لفظ آئے گا عموماً، کیا آئے گا؟ "نے"، ہاں نے، "میں نے ‏زید کی پٹائی کی ہے"، تو زید سے پہلے کیا لفظ آیا؟ "نے"، تو بس یہ پہچان ‏ہے، نے پہلے آجائے جس سے، معلوم ہوا اس کی بات نہیں ہو رہی، وہ مفعول ‏وغیرہ ہیں، وہ کیا ہے؟ مفعول ہے، تو "میں نے زید کی پٹائی کی"، تو زید سے ‏پہلے کیا اردو ترجمے میں آیا؟ نے کا لفظ، اس نے نے کیا بتایا کہ زید کیا ہے؟ ‏مفعول ہے بھئی معلوم ہوا، مفعول اس پر پٹائی واقع ہوئی ہے،ضربتُ زیدًا، ‏دیکھا؟ ضربتُ، اب اپ سے کوئی پوچھے اس کے اندر مسند الیہ کون؟ مسند ‏کون؟ اپ کو پتہ چل گیا۔ کس کے بارے میں بات کی؟ متکلم نے اپنے بارے میں، معلوم ہوا یہ تا ضمیر ‏جو ہے یہ ہے فاعل، مسند الیہ ہے، اور یہ ضَرَبَ ‏‎ ‎کیا ہے ساتھ جو جڑا ہوا ‏ہے؟ یہ فعل ہے، اور آگے زیدًا اس پر نصب پڑھیں گے کیونکہ وہ کیا بن رہا ‏ہے؟ مفعول واقع ہو رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بس یہ تو یاد رکھنا بھئی، اتنا تو پتہ چل گیا، یہ اب میں چونکہ اردو کی مثالیں ‏دے رہا ہوں اس لیے اپ تھوڑا سا پریشان ہو جاتے ہیں کہ جملہ فعلیہ یا جملہ ‏اسمیہ، عربی میں تو اپ کے سامنے کلام ہوگا، اس کو پہلے تو یہ دیکھ لینا کہ ‏جملہ اسمیہ ہے یا جملہ فعلیہ ہے۔ جملہ اسمیہ ہے تو اس میں اپ کو ایک چاہیے ‏مبتدا، ایک کیا چاہیے؟ خبر۔ کس کو مبتدا بنانا ہے؟ کس کو خبر بنانا ہے؟ اگر ‏ویسے پتہ نہیں چلتا تو اس طریقے سے غور کر لینا: کس کے بارے میں بات ‏کی جا رہی ہے؟ وہ کیا ہوگا؟ مبتدا، اور جو بات کی جا رہی ہے وہ کیا ہوگی؟ ‏خبر ہوگی، خبر ہوگی۔ اور جملہ فعلیہ کے اندر تو معاملہ آسان ہو گیا، اپ کو پتہ چل گیا کہ جو بات ‏کی جاتی ہے وہ ہے فعل، وہ ہے مسند، اور جس کے بارے بارے میں بات کی ‏جاتی ہے وہ ہوتا ہے فاعل یا نائب فاعل ہوتا ہے بھئی، اور یہ بھی اپ کو پتہ ‏ہے کہ مبتدا پر بھی رفع پڑھتے ہیں، خبر پر بھی کیا پڑھتے ہیں؟ رفع، فاعل ‏پر بھی کیا پڑھتے ہیں؟ رفع، نائب الفاعل پر بھی کیا پڑھتے ہیں؟ رفع پڑھتے ‏ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کچھ اندازہ اپ کو عربی کے لفظوں سے ہی ہو جائے گا، کچھ اپ اس ‏طریقے سے ذرا اس میں غور کر لینا، تو اور بات ذہن میں واضح ہو جائے گی ‏بھئی۔ مثلاً میں اپ سے کہتا ہوں فی الدارِ رجلٌ، میں کیا کہتا ہوں؟ فی الدارِ ‏رجلٌ، ‏‎"‎اس گھر میں کوئی آدمی ہے"، "اس گھر میں کوئی آدمی ہے"، اب اپ ‏مجھے بتائیے فی الدارِ رجلٌ، ترجمہ بھی سمجھ میں آگیا: "اس گھر میں کوئی ‏آدمی ہے"، کیا ترکیب ہوگی؟ یہاں "اس گھر میں کوئی آدمی ہے"، یہ تو اردو کے لفظ ہیں، ذرا عربی پہ بھی ‏نظر رکھنا بھئی۔ "اس گھر میں کوئی آدمی فی الدارِ رجلٌ، یہ الدار اس کو مبتدا ‏کبھی بھی نہ سمجھ لینا، اس پر‎ ‎فی‎ ‎داخل ہو رہا ہے بھئی، حرفِ جار، جس پہ ‏حروفِ جارہ داخل ہو جائیں طے ہو گیا یہ تو مبتدا بن ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ ‏تو مجرور ہے، مبتدا تو ہمیشہ مرفوع ہوا کرتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں ‏آگئی بھئی؟ تو یہ، ہاں یہ جار مجرور ہیں، اور جار مجرور متعلق ہوتے ہیں کسی سے، تو ‏یہ کس سے متعلق ہوں گے مثلاً؟ ثابتٌ ہے، آسان ہے ثابتٌ ہر جگہ نکال لیں، ‏ثابتٌ سے متعلق۔ تو ثابتٌ ۔ گویا ثابتٌ فی الدار یہاں آگیا، کیا آگیا؟ ثابتٌ فی الدارِ ‏رجلٌ ۔ اب بتائیے ثابتٌ تو ہم نے نکالا، جملے میں کیا تھا؟ فی الدار رجل ‏‎"‎اس گھر ‏میں کوئی آدمی ہے"، بات پوری ہے یا ادھوری ہے بھئی؟ بات پوری ہے "اس ‏گھر میں کوئی آدمی ہے"، اور دو ہی اسم ہیں یہاں پر، ایک الدار تھا اور ایک ‏رجل تھا، الدار مبتدا بن سکتا ہے؟ وہ نہیں بن سکتا، تو معلوم ہوا کون بنے گا؟ ‏رجلٌ ہی مبتدا بنے گا، اور فی الدار متعلق ہو جاتا ہے ثابتٌ سے، اور یہ کیا بن ‏جائے گا؟ خبرِ مقدم، یہ کیا بن جائے گا؟ خبرِ مقدم بنے گا، تو یہ ہمیشہ یاد ‏رکھنا جار مجرور کبھی بھی مبتدا واقع نہیں ہو سکتے، خبر تو بن سکتے ہیں ‏لیکن مبتدا نہیں، تو فی الدارِ رجلٌ ۔ فی الدارِ آتے ہی اپ کو پتہ چل گیا کہ یہ تو ‏جار مجرور ہے، اور جار مجرور تو کبھی مبتدا نہیں بن سکتا، تو یہ کیا بنے ‏گا؟ خبرِ مقدم، اور رجل کیا بنے گا؟ مبتدائے مؤخر بنے گا بھئی، مؤخر بنے ‏گا۔ تو یہ علامتیں ہیں کچھ اس سے بھی اپ کو فائدہ ہوگا، ذہن میں... یہ تو نہیں کہ ‏اس سے ساری مثالیں اپ کی فوراً حل ہوتی چلی جائیں گی جو میں نے نشانیاں ‏ذکر کیں، لیکن اس سے اپ کو آسانی بڑی ہو جائے گی، جلدی سے اپ پہچان ‏سکیں گے، پھر باقی باتوں کو بھی ساتھ ذہن میں رکھو گے ترکیب فوراً حل ‏ہوتی چلی جائے گی۔ ترکیب بڑی آسان ہے بھئی، ترکیب کا مقصد کیا ہے؟ ایک ‏تو اس سے معنیٰ... ترکیب کے بدلنے سے معنیٰ بدلتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ‏ترکیب سے ترجمہ واضح ہوتا ہے اور نیز اعراب کا پتہ چلتا ہے، اعراب کا، ‏اعراب کا۔ جب میں نے کہا یہ مبتدا ہے، مبتدا کہتے ہی اپ کو پتہ چل گیا اس پہ کون سا ‏اعراب پڑھنا ہے؟ رفع۔ میں نے جیسے ہی کہا یہ فاعل ہے، اپ کو سنتے ہی ‏پتہ چل گیا کیا پڑھنا ہے؟ اس پہ بھی رفع پڑھنا ہے۔ میں نے کہا یہ مفعول بہ ‏ہے، سنتے ہی اپ کو پتہ چل گیا اس پر کیا پڑھنا ہے؟ نصب پڑھنا ہے۔ تو بس ‏عبارت کا حل بڑا آسان ہوتا ہے، ایک ایک لفظ کو دیکھتے جاؤ اور غور کر ‏کے طے کرتے جاؤ یہ کیا ہے؟ یہ مبتدا ہے یا خبر ہے یا فاعل ہے یا مفعول ‏ہے یا اس پہ حرفِ جار داخل ہو رہا ہے، تو جو جو اعراب ہے اس پر لگاتے ‏جائیں اور پھر اس کو روانی سے پڑھ دیں، سارے عبارت حل ہو جاتی ہے ‏بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ہاں یہ تھوڑی سی مشق کی ضرورت ہوتی ہے، بڑی ‏جلدی آسانی سے حل ہو جاتی ہے عبارت بھئی۔ خلاصہ کلام کیا ہوا؟ کہ ہر ‏جملے کے دو رکن ہیں: ایک کو محکوم علیہ یا دوسرے لفظوں میں مسند الیہ ‏کہتے ہیں، اور دوسرے جز کو محکوم بہ اور دوسرے لفظوں میں مسند کہتے ‏ہیں۔ اور یہ بھی اپ نے پڑھا: جس کے بارے میں بات کی جائے وہ ہوگا مسند ‏الیہ، اور جو بات کی جائے وہ ہوگی مسند ہوگی بھئی، مسند۔ اور جملہ اسمیہ ہو تو اس میں مسند الیہ جز جو واقع ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏مبتدا، اور جو حصہ مسند ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبر۔ اور اگر جملہ فعلیہ ہو ‏تو مسند الیہ کا کیا نام ہے؟ فاعل یا نائب الفاعل، اور مسند کا کیا نام ہے؟ فعل۔ ‏معلوم ہوا فعل اس کے لیے فاعل بھی آ سکتا ہے اور نائب الفاعل، فعلِ معروف ‏کے لیے فاعل آئے گا، اور فعلِ مجہول کے لیے نائب الفاعل آئے گا۔ یاد رکھنا ‏ہمیشہ، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فعل آجائے فعلِ معروف اور اس کے لیے فاعل ‏نہ آئے، یا فعلِ مجہول آئے اور اس کے لیے نائب الفاعل نہ آئے، فعل جب بھی ‏آئے گا وہ فوراً فاعل یا نائب الفاعل کا تقاضا کرے گا، کس کا تقاضا کرے گا؟ ‏فاعل یا نائب الفاعل کا تقاضا کرے گا اگر‎...‎ فعلِ معروف ہے، تو وہ فاعل کا تقاضا کرے گا۔ اگر فعلِ مجہول ہے، تو نائب ‏الفاعل کا تقاضا کرے گا، اور جو اس کا فاعل یا نائب فاعل ہو گا، اس پر رفع ‏آئے گا۔ اس پر کیا آئے گا؟ رفع آئے گا، وہ مرفوع ہو گا بھئی، مرفوع ہو گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ والمبتدإ المکتفی بمرفوعہ، جی اس کو ‏سمجھانے کے لیے یہ نحوی بحث شروع کی، لیکن ابھی ہم نصف میں بھی نہیں ‏پہنچے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ابھی بڑی طویل بحث ہے، اور یہ ساری باتیں اگر ‏اپ کے ذہن میں اچھی طرح ہوئیں، تو خوب آسانی سے یہ اپ کو سمجھ میں آ ‏جائے گا، اور ترکیب میں بھی ازحد فائدہ ہو گا بھئی، ازحد فائدہ۔ چلیے بس، ‏هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔